بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
جمعرات, 22 نومبر 2012 09:42

غیر اسلامی و غیر انسانی اعمال Featured

Written by  حافظ حماد چاؤلہ (فاضل مدینہ یونیورسٹی)

 ماتم کرنا،رونا پیٹنا،سینہ کوبی وگریبان چاک کرنا،زنجیروں و چھریوں سےاپنےآپ کوزخمی کرنا!

 ماخوذ از کلام الشیخ صالح المنجّد (بمع معمولی ترمیم و اضافہ)

مصیبت و غم ، نوحہ و ماتم کے نام پر رافضی شيعہ جو ماتم کرتے ، روتے پیٹتے ، سینہ کوبی وگریبان چاک کرتے،اوراپنے آپ كو زنجيروں اورچھرياں وغيرہ مارتےہيں،اورتلواروں كےساتھ اپنے، اپنی عورتوں اور بچوں کے سرزخمی كرتےاورخون نكالتےہيں ، ان تمام قبیح و شنیع امور کا دینِ اسلام سے کوئی تعلّق نہیں ، بلکہ یہ سب امورانسانی عزت و شرافت اورصبرپر مشتمل اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام کاموں سے منع فرمایا بلکہ ہر اُس شخص سے براءت و بیزاری کا اظہار فرمایا جو ان کاموں کا ارتکاب کرے ۔

صحیح بخارى و مسلم ميں عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:"جس نے بھى رخسار پيٹے اور گريبان چاك كيا اور جاہليت كى آوازيں لگائيں وہ ہم ميں سے نہيں "صحيح بخارى حديث نمبر ( 1294 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 103 ). "

اور فرمايا: " ميں مصيبت ميں نوحہ كرنے والى، اور بال منڈانے والى اور كپڑے پھاڑنے والى عورت سے برى ہوں"

اور فرمايا: " اگر نوحہ كرنے والى موت سے قبل توبہ نہيں كرتى تو روزِ قيامت وہ اٹھے گى اور اس پر گندھك كى قميص اور خارش كى درع ہو گى"

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت كے ليے اسطرح کی كوئى چيز مشروع و جائز نہيں فرمائى اور نہ ہى اس ماتم كےقريب ہی كچھ مشروع كيا ہے كہ اگر كوئى عظيم مقام و رتبہ والا شخص فوت ہو جائے يا كوئى دوسرا شہيد ہو تو اس كے لیے ماتم کیا جائے یا کوئی اور ايسى خرافات كى جائيں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زندگى ميں كئى ايك كبار صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اجمیعن كى شہادت ہوئى اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم ان كى شہادت پر انتہائی غمزدہ بھى ہوئے مثلا سیدنا حمزہ بن عبد المطلب اور سیدنا زيد بن حارثہ اور سیدنا جعفر بن ابى طالب اور سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم ليكن اس كے باوجود نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كوئى عمل نہيں كيا جو شيعہ رافضی كرتے ہيں، اور اگر اس كام میں خير و بھلائى ہوتى تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس ميں ہم سے سبقت فرماتے.

اور پھر سیدنا يعقوب عليہ السلام نے سينہ كوبى نہيں كى، اور نہ ہى اپنے چہرے كو زخمى كيا، اور نہ خون بہايا، اور نہ ہى اس دن جس ميں يوسف عليہ السلام گم ہوئے تھے تہوار کے طور پر بنايا اور نہ ہى اس روز كو ماتم كے ليے مختص كيا ، بلكہ وہ تو اپنے پيارے اور عزيز بيٹے كو ياد كرتے اور اس كى دورى سے پريشان و غمزدہ ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعائیں فرماتے ، اوريہ ايسى چيز ہے جس كا كوئى بھى انكار نہيں كر سكتا اور كوئى بھى روك نہيں سكتا، بلكہ ممانعت و برائى تو اس ميں ہے جو جاہليت كے امور بطور وراثت کے لے كر اپنائے جائيں جن سے اسلام نے منع كر ديا ہو.

 امّتِ مسلمہ کے معتبر امام و مفسّر حافظ ابن كثير رحمہ اللہ فرماتےہيں: چوتھى صدى ہجرى كے آس پاس بنو بويہ كے دور حكومت ميں رافضى شيعہ اسراف كا شكار ہوئے اور بغداد وغيرہ ميں يوم عاشوراء كے موقع پر ڈھول پيٹے جاتے اور راستوں اور بازاروں ميں ريت وغيرہ پھيلا دى جاتى اور دكانوں پر ٹاٹ لٹكا ديے جاتے، اور لوگ غم و حزن كا اظہار كرتے اور روتے، اور ان ميں سے اكثر لوگ اس رات پانى نہيں پيتے تھے تا كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى موافقت ہو؛ كيونكہ وہ پياسے شہید ہوئے تھے.

پھرعورتيں چہرے کھول كر كے نكلتيں اور اپنے رخسار پيٹتيں اور سينہ كوبى كرتي ہوئىں بازاروں سے ننگے پاؤں گزرتيں اور اسكے علاوہ بھى كئى ايك قبيح قسم كى بدعات اور شنيع خواہشات اور اپنى جانب سے ايجاد كردہ تباہ كن اعمال كرتے، اور اس سے وہ حكومتِ بنو اميہ كو بُرا قرار ديتے كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ ان كے دور حكومت ميں شہید ہوئے تھے۔ديكھيں: البداية والنھاية ( 8 / 220 ).

اور ايك مقام پر لكھتے ہيں:

" ہر مسلمان كو سیدنا حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے شہید ہونے پر غمزدہ ہونا چاہيے كيونكہ سیدناحسين رضى اللہ تعالى عنہ مسلمانوں كے سردار اور علماء صحابہ كرام ميں سے تھے اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے نواسے اور آپ كى اس صاحبزادی كى اولاد ميں سے تھے جو سب صاحبزادیوں سے افضل تھىں ، اور پھر حسين رضى اللہ تعالى عنہ عابد و زاہد اور سخى و شجاعت و بہادرى كا وصف ركھتے تھے.

ليكن رافضی شيعہ جو كچھ كرتے ہيں اور جزع و فزع اور غم كا اظہار جس ميں اكثر طور پر تصنع و بناوٹ اور رياء ہوتى ہے ان كا يہ عمل اچھا نہيں، حالانكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے والد على رضى اللہ تعالى عنہ تو حسين سے افضل تھے انہيں شہيد كيا گيا ليكن وہ اُن کے شہید کیے جانے پر ماتم نہيں كرتے جس طرح وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كےشہید کیے جانے والے دن ماتم كرتے ہيں.

كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے والد على رضى اللہ تعالى عنہ كو چاليس ہجرى سترہ رمضان المبارك جمعہ كے روز اس وقت قتل كيا گيا جب وہ نماز فجر كى ادائيگى كے ليے جا رہے تھے، اور اسى طرح اہلِ سنت كے ہاں سیدنا عثمان رضى اللہ تعالى عنہ على رضى اللہ تعالى عنہ سے افضل ہيں انہيں محاصرہ كر كے ان كے گھر ميں چھتيس ہجرى ماہ ذوالحجہ كے ايامِ تشريق ميں شہيد كيا گيا، اور انہيں رگ رگ كاٹ كر ذبح كيا گيا، ليكن لوگوں نے ان كے قتل كے دن كو ماتم نہيں بنايا.

اور اسى طرح عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ جو كہ عثمان اور على رضى اللہ تعالى عنہما سے افضل ہيں انہيں نماز فجر پڑھاتے ہوئے محراب ميں قرآن مجيد كى تلاوت كرتے ہوئے شہيد كيا گيا ليكن لوگوں نے ان كى موت كے دن كو ماتم كا دن نہيں بنايا.

اور اسى طرح سیدنا ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ ان سے افضل تھے اور لوگوں نے ان كى موت كے دن كو ماتم والا دن نہيں بنايا،

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تو دنيا و آخرت ميں اولادِ آدم كے سردار ہيں آپ كو بھى اسى طرح قبض كيا گيا اور فوت كيا گيا جس طرح پہلے انبياء كو فوت كيا گيا، ليكن كسى ايك نے بھى ان كى وفات كو ماتم نہيں بنايا، کہ وہ ان رافضى جاہلوں كى طرح كريں جس طرح وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے شہید ہونے كے دن خرافات كرتے ہيں...

اس طرح كى مصيبتوں كے وقت سب سے بہتر وہى عمل ہے جو حسين رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے انہوں نے اپنے نانا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى مسلمان كو بھى كوئى مصيبت پہنچى ہو اور وہ مصيبت ياد آئے چاہے وہ پرانى ہى ہو چكى ہو تو وہ نئے سرے سے دوبارہ انا للہ و انا اليہ راجعون پڑھے تو اللہ تعالى اسے اس مصيبت كے پہنچنے والے دن جتنا ہى اجر و ثواب عطا كرتا ہے "

اسے امام احمد اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے " انتہى

ديکھيں: البداية والنھاية ( 8 / 221 ).

 

 

Read 6666 times Last modified on پیر, 10 اکتوبر 2016 21:38