بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
ہفتہ, 26 دسمبر 2015 00:00

کرسمس۔۔۔ شرک کا تہوار

مقرر/مصنف 

کرسمس۔۔۔ شرک کا تہوار

تحرير:حامد كمال الدين

مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ

 

ہر شخص کو معلوم ہے عیسائی، سیدنا عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ ہر سال ۲۵ دسمبر کو یہ اپنے اعتقاد کے مطابق  (نعوذ باللہ)  اللہ کے ہاں بیٹا پیدا ہونے پر خوشیاں مناتے ہیں۔

 کرسمس اللہ تعالیٰ پر ایسا ہی ایک کھلا بہتان ہے یعنی اللہ کے ہاں بیٹا پیدا ہونے کا تہوار؛ ایک ایسی بات جس پر آسمان کانپ اٹھتا ہے اور زمین لرز جاتی ہے۔قرآن شریف میں اِس پر وعید آتی ہے:

’’اور وہ بولے: رحمن بیٹا رکھتا ہے۔ یقیناًتم نے ایک نہایت گھناؤنی بات بول ڈالی۔ قریب ہے کہ آسمان اِس سے پھٹ پڑیں زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ اس لیے کہ انہوں نے رحمٰن کے لیے بیٹا تجویز کر ڈالا۔ رحمن کے تو لائق ہی نہیں کہ اولاد رکھے‘‘۔  (مریم: ۸۸۔۹۲)

پھر بھی اسلام وہ دین ہے جس میں کوئی زبردستی نہیں۔

 دنیا کی زندگیمیںاُنہیں اپنے اِس کفر پر رہنے کی آزادی ہے اور سزا کا ایک دن مقرر ہے۔ ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم اُنہیں اللہ پر ایسا بہتان گھڑنے سے خبردار کریں۔ اپنے نبی ﷺ کا یہ مشن اب ہمیں انجام دینا ہے کہ:

 عیسائی اقوام کو اُن کے اِس شرک پر اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں۔ البتہ ایسی کوئی رواداری ہمارے دین میں نہیں کہ جس وقت وہ اپنے اس بہتان پر خوشیاں منارہے ہوں کہ آج کے دن (نعوذ باللہ) اللہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تھا تو ہم اُن کو مبارک سلامت کہہ کر آئیں اور اُن کی خوشیوں میں شریک ہوں۔ آدمی کی غیرتِ دینی سلامت ہو تو یہ بات خودبخود سمجھ آتی ہے۔

 

فقہاء نے اس چیز کے حرام ہونے پر شریعت سے باقاعدہ دلائل ذکر کئے ہیں:

 

۱۔ قرآن مجید میں رحمن کے بندوں کی صفت بیان ہوئی:

 

وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَاماً (الفرقان: 72) 

’’اور وہ لوگ جو باطل پر حاضر نہیں ہوتے اور کسی بیہودہ چیز پر ان کا گزر ہو تو متانت کے ساتھ گزرتے ہیں‘‘۔

آیت میں جس باطل کا ذکر ہوا:امام  ابن کثیر ودیگر کتب تفسیر نے مفسرین تابعین کی ایک بڑی تعداد کا قول ذکر کیا ہے کہ:

یہ اہلِ جاہلیت کے تہوار ہیں۔ اِس تفسیر کی رو سے ’’عباد الرحمن‘‘ کا شیوہ یہ ٹھہرا کہ وہ ایسی جگہوں کے پاس نہ پھٹکیں جہاں اہل جاہلیت اپنے شرکیہ تہوار منانے میں مگن ہوں۔

 

۲۔ ابو داود، مسند احمد اور ابن ماجہ میں حدیث آتی ہے:

عن ثابت بن ضحاک رضى اللہ عنہ: (نَذَرَ رَجُلٌ عَلیٰ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أنْ یَنْحَرَ إبِلاً بِبُوَانَۃَ) فَقَالَ النَّبِیُّﷺ: (ہَلْ کَانَ فِیْہَا وَثَنٌ مِنْ أوْثَانِ الْجَاہِلِیَّۃِ یُعْبَدُ؟) قَالُوْا: (لا) قَالَ: (فَہَلْ کَانَ فِیْہَا عِیْدٌ مِنْ أعْیَادِہِمْ؟) قَالُوْا: (لا) فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: (أوْفِ بِنَذْرِکَ، فَإنَّہ لا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃٍ أوْ فِیْمَا لا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ۔

دورِ رسالت مآب ﷺمیں ایک آدمی نے نذر مانی کہ وہ بوانہ کے مقام پر اونٹ قربان کرے گا۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا: کیا وہاں پر جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تو نہیں پوجا جاتا تھا؟ صحابہؓ نے عرض کی: نہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: تو کیاوہاں ان کے تہواروں میں سے کوئی تہوار تو منعقد نہیں ہوتا تھا؟ صحابہؓ نے عرض کی: نہیں۔ تب آپ ﷺنے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو کیونکہ ایسی نذر کا پورا کرنا درست نہیں جو معصیت ہو یا جو آدمی کے بس سے باہر ہو۔

اِس حدیث کے ضمن میں علمائے کرام کہتے ہیں: وہ صحابیؓ تو قطعاً کسی بت پر چڑھاوا دینے یا کوئی جاہلی تہوار منانے نہیں جارہا تھا لیکن رسول اللہ ﷺنے اِس بات کی تسلی فرمانا چاہی کہ ماضی میں بھی وہاں نہ تو کوئی بت پوجا جاتا تھا اور نہ کوئی جاہلی تہوار منایا جاتا تھا۔ اس سے واضح ہوا کہ مسلمان کا اِن اشیاء سے دور رہنا شریعت کو کس شدت کے ساتھ مطلوب ہے۔

 

۴۔ فقہاء نے اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے۔

امیر المومنین عمر بن الخطاب رضى اللہ عنہ نے شام کے عیسائیوں کو باقاعدہ پابند فرمایا تھا کہ دار الاسلام میں وہ اپنے تہواروں کو کھلے عام نہیں منائیں گے؛ اور اِسی پرتمام صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین اور فقہاء کا عمل رہا ہے۔ چنانچہ جس ناگوار چیز کو مسلمانوں کے سامنے آنے سے ہی ممانعت ہو، مسلمان کا پہنچ کر وہاں جانا کیونکر روا ہونے لگا؟ اس کے علاوہ کئی روایات سے سیدنا عمر رضى اللہ عنہ کا یہ حکم نامہ منقول ہے:

 لا تَعَلَّمُوْا رَطَانَۃَ الأعَاجِمِ، وَلا تَدْخُلُوْا عَلیٰ الْمُشْرِکِیْنَ فِیْ کَنَاءِسِہِمْ یَوْمَ عِیْدِہِمْ فَإنَّ السُّخْطَۃَ تَنْزِلُ عَلَیْہِمْ۔

’’عجمیوں کے اسلوب اور لہجے مت سیکھو۔ اور مشرکین کے ہاں اُن کے گرجوں میں ان کی عید کے روز مت جاؤ، کیونکہ ان پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے‘‘۔ (اقتضاء الصراط المستقیم از شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ )

 

علاوہ ازیں کافروں کے تہوار میں شرکت اور مبارکباد کی ممانعت پر(چاروں مذاہب) حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ سب متفق ہیں۔

(فقہ حنفی: البحر الرائق لابن نجیم ج ۸، ص ۵۵۵، فقہ مالکی: المدخل لابن حاج المالکی ج ۲ ص ۴۶۔۴۸، فقہ شافعی:مغنی المحتاج للشربینی ج ۴ ص ۱۹۱، الفتاویٰ الکبریٰ لابن حجر الہیتمی ج ۴ ص ۲۳۸۔۲۳۹، فقہ حنبلی:کشف القناع للبہوتی ج ۳ ص ۱۳۱) ۔

 

فقہائے مالکیہ تو اس حد تک گئے ہیں کہ جو آدمی کفر کے تہوار پر ایک تربوز کاٹ دے وہ ایسا ہی ہے گویا اُس نے خنزیر ذبح کر دیا۔ (اقتضاء الصراط المستقیم ص ۳۵۴)

 

کافر کو اُس کے شرک کے تہوار پر مبارکباد دینا کیسا ہے؟

اس پر امام ابن القیم الجوزیؒ لکھتے ہیں:

 ’’یہ ایسا ہی ہے کہ مسلمان اُسے صلیب کو سجدہ کر آنے پر مبارکباد پیش کرے! بلکہ یہ چیز اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے کہ آدمی کسی شخص کو شراب پینے پر یا ناحق قتل پر یا حرام شرمگاہ کے ساتھ بدکاری کرنے پر مبارکباد پیش کرے‘‘۔ (اَحکام اھل الذمہ: ج ۳ ص ۲۱۱)

 

چند اشکالات اور ان کا جواب:

۱۔ ایک اشکال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کرسمس اب کوئی مذہبی تہوار نہیں رہ گیا بلکہ ایک سماجی تہوار بن چکا ہے۔

 

جواب:  مدینہ میں نبی ﷺنے جو جاہلی تہوار ختم کروائے خود اُن کے متعلق ثابت نہیں کہ وہ اہل مدینہ کے کوئی خاص مذہبی تہوار تھے؛ پھر بھی آپؐ نے سب جاہلی تہوار ختم کروادیے۔ دراصل یہ ایک چوردروازہ ہے جو اس وقت کھلوایا جارہا ہے۔جس سے ’’کرسمس‘‘ ہی نہیں ’’دیوالی‘‘ کی راہ بھی کھل جائے گی۔ یعنی ہندو ’امن کی آشا‘ کو بھی یہی حجت کام دے جائے گی!

 

۲۔ ایک اشکال یہ کہ شریعت نے ہمیں غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کا جو حکم دیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم کرسمس پر اُن کو مبارک باد پیش کیاکریں اور ان کے ساتھ مل کر کرسمس کیک کاٹیں!

 

جواب:  ذمیوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کے ساتھ پیش آنے کا یقیناًشریعت میں حکم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ذمیوں کے ساتھ حسن سلوک رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیھم سے بہتر کون کرسکتا ہے؟ جبکہ رسول اللہ اﷺاور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیھم سے کرسمس ایسے کسی تہوار میں شرکت کرنا یا مبارک باد دے کر آنا نہ تو ثابت ہے اور نہ ہی (نعوذ باللہ) اس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ اِس کے برعکس، صحابہ رضوان اللہ علیھم سے یہ ثابت ہے کہ دورِ عمررضی اللہ عنہ میں جب نئی اقوام داخلِ اسلام ہوئیں تو مسلمانوں کو کفار کے تہواروں میں شرکت سے ممانعت فرمائی گئی، جیساکہ اوپر سیدناعمررضی اللہ عنہ کا حکم نامہ ذکر ہوا۔ پس ذمیوں کے ساتھ حسن سلوک کا جو حکم ہے لامحالہ وہ عام دنیوی معاملات میں ہے نہ کہ ان کے کفریہ شعائر میں شرکت اور شمولیت۔

Read 1617 times Last modified on ہفتہ, 04 نومبر 2017 14:12
More in this category: « عید کی سنتیں