بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
بدھ, 14 مئی 2014 00:00

فضائل ماہِ رجب سے متعلقہ روایات کی تحقیق وشرعی حیثیت

Written by 

فضائل ماہِ رجب سے متعلقہ روایات کی تحقیق و شرعی حیثیت

 

حافظ محمد یونس اثری  ؔ (مدرّس المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃکراچی)

مراجعہ و زیادات:  حافظ حماد چاؤلہ (مدیر شعبہ دعوت و تبلیغ ، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی)

 

مندرجہ ذیل تحریر میں ایک کتابچہ بنام ’’کفن کی واپسی‘‘ مؤلفہ الیاس قادری (امیر دعوتِ اسلامی پاکستان) میں رجب کی فضیلت کے حوالہ سے ذکر کردہ روایات و حکایات کا علمی رد پیش کیا گیا ہے لیکن یہ فقط اس کتابچہ کا رد نہیں جو اس کتابچہ تک ہی محدودہو بلکہ اس تحریر کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ اس میں ماہِ رجب کی فضیلت اور اس ماہ میں روزے ، نماز ودیگر عبادات و اعمال کی فضیلت کے حوالہ سے بیان کی جانے والی روایات و حکایات کی علمی و عملی حقیقت و حیثیت بھی واضح ہوجائے تاکہ ماہِ رجب کے حوالہ سے جو کچھ مسلمان شریعت و ثواب سمجھ کر کر رہے ہیں ، انہیں ان اعمال کی حقیقت سے مکمل آگاہ کردیا جائے۔

الیاس قادری (امیردعوت اسلامی)   کا کتابچہ بنام’’کفن کی واپسی‘‘ میں ماہ رجب کے فضائل اور اس کے مخصوص اعمال کے متعلق جو احادیث و حکایات ذکرکی گئیں ہیں، حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام روایات یا توشدید ضعیف ہیں یاپھر موضوع ومن گھڑت ہیں، عبادات اور دیگر اعمال صالحہ کی طرف عوام الناس کی ترغیب اچھی بات ہے لیکن اس کیلئے ضعیف وموضوع احادیث کا سہارالینا انتہائی غلط بلکہ مجرمانہ فعل ہے، معلوم ہوا ہے کہ مؤلف کی دیگرکتب بھی اسی باطل روش کا آئینہ دار ہیں، مذکورہ کتابچہ کے متعلق کچھ گذارشات پیش خدمت ہیں۔

[[ ماہِ رجب میں روزے رکھنےکے حوالہ سے بیان کی جانے والی روایات و حکایات کی شرعی حیثیت ]]

’’مسلسل تین ماہ کے روزے رکھنے کی شرعی حیثیت‘‘

موصوف لکھتے ہیں :

’’رجب المرجب کے قدر دانو! تعلیم و تعلم اور کسب حلال میں رکاوٹ نہ ہو ،ماں باپ بھی منع نہ کریں تو جلدی جلدی اور بہت جلدی مسلسل تین ماہ کے یا جس سے جتنے بن پڑیں اتنے روزوں کیلئے کمربستہ ہوجائے۔‘‘(کفن کی واپسی :صفحہ:2)

تبصرہ:

اس عبارت میں موصوف نے بہت زیادہ غلو سے کام لیا ہے، مسلسل تین ماہ کے روزے رکھنے کی ترغیب دلائی ہے ،جو کئی وجوہ سے غلط ہے :

اولاً: نبی ﷺ نے روزوں میں وصال کرنے سےمنع فرمایا۔ (صحیح بخاری :1961 ،صحیح مسلم :1102)

بلکہ نبی ﷺ نے بھی کبھی تین مہینے کے روزے مسلسل نہیں رکھے، دلیل  یہ ہے کہ سیدہ ام سلمۃ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں : کہ نبی ﷺ نے کبھی کسی  پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے ،البتہ رمضان کے ساتھ شعبان کو ملا لیا کرتے تھے ۔(سنن ابوداؤد :2336،سنن نسائی: 2353، مسند احمد :26653،سنن دارمی : 1780،سنن الکبری :7966)

اسی طرح سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے جب سے ہجرت کی آپ نے سوائے رمضان کے کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے ۔  (سنن نسائی :2183  ،مسند احمد :1998 ،شرح السنۃ :1809)

خلاصہ یہ ہےکہ نبی ﷺ کا اپنا معمول بھی یہی تھا کہ آپ نے کبھی تین مہینے کے اکٹھے روزے نہیں رکھے ۔

ثانیاً:نبی ﷺ نے تو شعبان کے بھی آخری ایام کے روزے رکھنے سے روکا۔(سنن ابو داؤد :2337 ،ترمذی :738 ،مصنف عبدالرزق :7316،7325،مصنف ابن ابی شیبۃ :9026) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ  رمضان کے روزوں میں کسی قسم کی سستی یا ضعف نہ آجائے۔

ثالثاً:اس کی کوئی صحیح صریح دلیل بھی نہیں ملتی ۔اور عبادات کی تعیین بغیر کسی صحیح صریح روایت کے کرنا، بالخصوص اس وقت کہ جب وہ دیگر نصوص کے بھی خلاف ہو، یہ بہت بڑی جرأت ہوگی ،اسے نیکی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ یہ چیز مستقبل میں بدعت کا روپ دھار سکتی ہے۔

’’ماہِ رجب کے روزے اور سالوں کا کفارہ‘‘

موصوف نے ایک روایت نقل کی :

’’رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے ،اور دوسرے دن کا روزہ دوسالوں کا اور تیسرے دن کا ایک سال کا کفارہ ہے ،پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے ۔‘‘(کفن کی واپسی :صفحہ :2  ،بحوالہ الجامع الصغیر :5051)

تبصرہ:

موصوف نے اسے الجامع الصغیر کے حوالے سے روایت کیا ہے، اس روایت کو الخلال نے فضائل شھر رجب میں بالسند روایت کیا ہے، وہاں یہ روایت کچھ یوں درج ہے :

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّمَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطلالاينوسِيُّ أَبُو بَكْرٍ الصَّيْدَلانِيُّ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ الْمُقْرِئُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعُقَيْلانِيُّ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانٍ مَوْلَى عُثْمَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِي اللَّه عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْمُ أَوَّلِ يَوْمٍ في رجب كفارة ثلاث سِنِينَ وَالثَّانِي كَفَّارَةُ سَنَتَيْنِ وَالثَّالِثُ كَفَّارَةُ سنةٍ ثُمَّ كُلُّ يومٍ شَهْرٍ.  (فضائل شھر رجب  للخلال: 10)

اس کی سند میں محمد بن عبداللہ سے لے کر ابو عبداللہ العسقلانی تک روات مجھول ہیں ۔لہذا جس روایت میں کئی ایک راوی مجھول ہوں ایسی روایت قابل عمل کیسے ہوسکتی ہے ؟

’’روزوں کی فضیلت کے حوالہ سے ضعیف روایت سے استدلال‘‘

شعب الایمان کے حوالے سے روایت نقل کرتے ہیں :

’’بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی ﷺ ناشتہ کررہے تھے ۔ فرمایا :اے بلال ! ناشتہ کرلو ، عرض کی ، یا رسول اللہ عز و جل و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ! میں روزہ دار ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :ہم اپنی روزی کھارہےہیں اور بلال کا رزق جنت میں بڑھ رہا ہے ۔ اے بلال ! کیا تمہیں خبر ہے کہ جب تک روزے دار کے سامنے کچھ کھایا جائے تب تک اس کی ہڈیاں تسبیح کرتی ہیں ، اسے فرشتے دعائیں دیتے ہیں ۔‘‘ (کفن کی واپسی :4)

تبصرہ:

اولاً:

اس روایت کی سند میں محمدبن عبدالرحمن، راوی ہے جس کی روایت محدثین کی نظر میں قابلِ قبول ہی نہیں،اس کے بارے میں اقوالِ علماء ملاحظہ فرمائیں :

امام ابن عدی:

یہ بقیہ کے مجہول اساتذہ میں سے ہے اور منکر الحدیث ہے ۔ ابو حاتم :متروک الحدیث ،جھوٹ بولتا تھاااور حدیث گھڑتا تھا۔الخلیلی:منکر روایات بیان کرتا تھا ۔

امام العقیلی :

اس کی حدیث منکر ہے اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی متابعت ہے اور یہ مجہول بالنقل ہے ۔

امام المزی :

یہ ضعیف و متروک راویوں میں سے ہے ۔

امام ابن حجر :

محدثین نے اس کو جھوٹا قرار دیا ہے ۔دارقطنی :متروک الحدیث ہے ۔ذهبي :تالف(ہلاک شدہ) ابو الفتح الازدي: جھوٹا ہے اور متروک الحدیث ہے ۔

[تہذیب الکمال :6/410، تقریب التھذیب :2/195، میزان العتدال : 3/592، کتاب الضعفاء :4/1260، الجرح والتعدیل للذھبی :2/439، لسان المیزان :6/281 ]

یہی اس حدیث کی اصل آفت ہے، لہذا یہ روایت موضوع ہے ۔

اب روایت کا درجہ واضح ہوتے ہی اس فضیلت کی شرعی حیثیت واضح ہوگئی ۔

ثانیاً: جب روزوں کی فضیلت کے حوالہ سے قرآن و حدیث میں کئی آیات و صحیح احادیث موجود ہیں تو ضعیف روایات کا سہارا لینے کی کیا ضرورت ہے؟ کیاوہ آیات و صحیح احادیث کافی نہیں؟

’’رجب کے روزے اور قبر کی تکالیف سے نجات کے حوالہ سے روایت کی شرعی حیثیت‘‘

موصوف ایک حکایت لائے ہیں  :

’’بصرہ کی ایک نیک بی بی نے بوقت وفات اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ مجھے اس کپڑے کا کفن پہنانا جسے پہن کر میں رجب المرجب میں عبادت کیا کرتی تھی ۔ بعد از انتقال بیٹے نے کسی اور کپڑے میں کفنا کر دفنا دیا ۔ جب قبرستان سے گھر آیا تو یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس نے جو کفن دیا تھا وہ گھر میں موجود اور وصیت کردہ کپڑے اپنی جگہ سے غائب تھے ۔ اتنے میں غیب سے آواز آئی ، اپنا کفن واپس لے لو ہم نے اس کو اسی کفن میں کفنایا ہے (جس کی اس نے وصیت کی تھی) جو رجب کے روزے رکھتا ہے ہم اس کو اس کی قبر میں غمگین نہیں رہنے دیتے ۔‘‘(کفن کی واپسی :9)

تبصرہ:

مذکورہ واقعے کی بناء پر ہی موصوف نے اپنے اس رسالے کا نام ’’کفن کی واپسی‘‘ رکھا ہے اوریہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ موصوف کی اکثر کتب کے نام اسی طرز کے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ موصوف قصے، کہانیوں اور ناولوں سے خاصا لگاؤ رکھتے ہیں ،اگر وہ اس لگاؤ کو اپنی ذات تک ہی محدود رکھیں تو الگ مسئلہ ہے، لیکن پوری شریعت کو ناول ہی بنا کے رکھ دینا اور لوگوں کو بھی اس میں مشغول کرکے رکھ دینا  انتہائی غلط کاری ہے ۔

اور جہاں تک اس مذکورہ واقعہ کا معاملہ ہے ، یہ میزان شرعیہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ اس لئے کہ :

اولاً : یہ کوئی حدیث نہیں ، جس کی بنیاد پر کسی شرعی عمل کو ثابت کیا جائے۔

ثانیاً : یہ نصوص شرعیہ کے بھی خلاف ہے ۔کیوں کہ نصوص شرعیہ میں رجب کے روزوں کی کوئی فضیلت ثابت ہی نہیں۔

ثالثاً: یہ ایک ایسی حکایت ہے جس کی کوئی سند تک نہیں کہ جس سے یہی پتہ چل جائے کہ ایسا کوئی واقعہ ہے بھی کہ نہیں اور بلا سند حکایت تو کوئی بھی بنا سکتا ہے ۔پھر ایسی بلا سند حکایات کو بنیاد بنا کر کیسے کسی شرعی عمل کو جاری کیاجاسکتا ہے؟ ۔

رابعا ً: نزھۃ المجالس  نامی کتاب  کہ جس کے حوالہ سے یہ حکایت ذکر کی گئی ہے اس کی حیثیت کا ہے؟ اس کا  ذکر آگے آرہا ہے ۔

’’جنت میں رجب نامی نہر اور رجب میں روزہ رکھنے والے کا اس نہر سے سیراب ہونے کی شرعی حیثیت‘‘

ایک روایت شعب الایمان کے حوالے سے پیش کی گئی:

’’ جنت میں ایک نہر ہے جس کا نام رجب ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جو ماہ رجب میں ایک روزہ رکھے اللہ عز و جل اسے اس نہر سے سیراب فرمائے گا ۔‘‘  (بحوالہ شعب الایمان ،کفن کی واپسی :12)

تبصرہ:

  اس روایت کی سند میں دو راوی مجھول ہیں :

 ایک منصور بن زید اور دوسرا موسی بن عمران مجھول ہیں ۔

بعض نے اس روایت کو موضوع و من گھڑت تک قرار دیا ہے ،تفصیل کے لئے دیکھئے :

(الآثار الموضوعۃ :(59) ،سلسلۃ الضعیفۃ : (4/1898) ،میزان : (4/189) ،المتناھیۃ : (2/912) ،فوائد حدیثیۃ :(161) ۔)

اس حدیث کے حوالے سے اقوال علماء بھی ملاحظہ فرمائیے :

امام ابن الجوزی : لا یصح و فیہ مجاھیل لا ندری من ھم ،(العلل المتناھیۃ :2/912) یعنی : یہ روایت صحیح نہیں اس میں کئی مجھول راوی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہیں ؟

امام ذھبی  :منصور بن یزید حدث عنہ محمد بن المغیرۃفی فضل رجب لا یعرف ، والخبر باطل ۔۔(میزان الاعتدال :1284) یعنی :منصور بن یزید سے محمد بن المغیرۃ رجب کی فضیلت میں غیر معروف باتین بیان کرتا ہے۔ اور یہ خبر باطل ہے ۔

اسی طرح محمد بن مغیرہ بن بسام کے ترجمے میں اس روایت کو باطل قرار دیا ۔(میزان الاعتدال :8664)

تنبیہ : امام ذھبی کی جرح(تنقید) منصور بن یزید پر ہے ،جبکہ سند میں راوی منصور بن زید ہے ،اسی طرح اس سند کے حوالے سے بعض مزید وھم بھی ہیں ،مثلاً یہاں شعب الایمان میں موسی بن عمران ہے، جبکہ فضائل شھر رجب میں موسی بن عمرہے ،ابن حبان رحمہ اللہ اس روایت کو المجروحین میں موسی بن عمیر العنبری کے ترجمے کے تحت لائے ہیں ،جس پر تعلیقات میں امام دارقطنی نے اس پر جو کلام کیا ہے،اس کا خلاصہ یہ ہے:

ابو حاتم (ابن حبان ) سے یہاںموسی بن عمیر کے بارے میں غلطی ہوئی ہے ۔ موسی بن عمیر تین ہیں ،ان میں سے جو عمرمیں سب سے بڑا اور پہلے ہے،وہ موسی بن عمیر العنبری ہے، یہ ثقہ ہے۔

دوسرا موسی بن عمیر، جو انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے یہ ضعیف و مجھول شیخ ہے۔

تیسرا موسی بن عمیر الجعدی ہے ۔۔۔ (تعلیقات الدارقطنی :230) 

الغرض یہ روایت ضعیف ہے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کے بعض طرق کی نشاندہی کرتے ہوئے یہی فیصلہ دیا ہے۔(تبیین العجب :80)

’’رجب کی پہلی رات سمیت پانچ خاص راتوں میں دعاء کی شرعی حیثیت‘‘

الجامع الصغیر کے حوالے سے یہ روایت پیش کی گئی:

 ’’پانچ راتیں ایسی ہیں کہ جس میں دعا رد نہیں کی جاتی (1)رجب کی پہلی رات  (2) پندرہ شعبان  (3) جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات  (4) عید الفطر کی رات  (5) عید الاضحی کی رات ۔ ‘‘   (کفن کی واپسی :13)

تبصرہ:

موصوف نے یہ روایت الجامع الصغیرکے حوالے سے نقل کی اور وہاں یہ روایت تاریخ دمشق کے حوالے سے منقول ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت بھی موضوع  من گھڑت ہے ،اس روایت کی سندمیں بندار راوی ہے ،جس کے بارے میں تاریخ دمشق میں ابن عساکر نے یہ قول نقل کیا ہے :

عبد العزيز النخشبي أنه قال:" لا تسمع منه، فإنه كذاب ".(تاریخ دمشق :10/408 ،2604،میزان الاعتدال :1/362،لسان المیزان :1/113) یعنی عبداالعزیز النخشبی کہتے ہیں کہ بندار سے روایت نہ سنو !یہ انتہائی جھوٹا ہے۔

اسی طرح اس میں ایک اور راوی ابراھیم بن یحی بھی کذاب(انتہائی جھوٹا) ہے،جس پر سند کا اصل مدار ہے ۔ جیسا کہ امام یحی نے بھی اس کے بارے میں یہی کہا ہے کہ یہ کذاب راوی ہے ۔

اسی طرح ابو قعنب  نامی راوی بھی مجھول ہے ۔

’’رجب میں نیکیاں دگنی کئے جانے اور رجب کے مختلف ایام کے روزوں کے مختلف فضائل و فوائد کی شرعی حیثیت‘‘

طبرانی کبیر کے حوالے سے حدیث نقل کرتے ہیں :

’’رجب بہت عظمت والا مہینہ ہے ،اللہ تعالی اس ماہ میں نیکیاں دگنی کردیتا ہے ،جس نے رجب کا ایک روزہ رکھا گویا اس نے ایک سال کے روزے رکھے اور جس نے سات روزے رکھے تو دوزخ کے ساتوں دروازے اس پر بند کردیئے جائیں گے اور اگر کسی نے آٹھ روزے رکھے تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے اور جو دس روزے رکھ لے تو اللہ عز و جل سے جس چیز کو مانگے وہ اسے عطا کرے گا اور جو پندرہ روزے رکھے تو آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے تمہارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اب اپنے اعمال دوبارہ شروع کرو اور جو اس سے بھی زائد روزے رکھے تو اللہ تعالی اس پر مزید کرم فرمائے گا اور ماہ رجب ہی میں اللہ تعالی نے نوح (علیہ السلام ) کو کشتی میں سوار کروایا تو نوح (علیہ السلام )نے خود بھی روزہ رکھا اور اپنے ہم نشینوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔‘‘ (بحوالہ طبرانی کبیر ، کفن کی واپسی :15)

تبصرہ:

یہ روایت موضوع  و من گھڑت ہے ؛اس میں ایک راوی ہےعثمان بن مطر جو  اس روایت کے لئےآفت ہے ۔

اس کے بارے میں محدثین کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں:

امام ابن حبان  : یہ اثبات راویوں سے موضوع روایات بیان کرتا ہے ۔

امام حافظ ابن حجر: اس کے ضعیف ہونے پر امت کا اجماع ہے ۔ (تبیین العجب :97)

امام بخاری : منکر الحدیث (منکر ہے)۔

یحی بن معین :کان ضعیفا ضعیفا (ضعیف ہے ، ضعیف ہے) ۔

علی بن مدینی نےبھی اسے ضعیف جدا (بہت ہی ضعیف)قرار دیا ہے ۔

امام ابو زرعۃ : ضعیف الحدیث(ضعیف ہے)۔ / امام ابوحاتم :ضعیف الحدیث ، منکر الحدیث (ضعیف و منکر ہے)۔/ امام ابوداؤد والنسائی :ضعیف ہے۔

امام ابن عدی : اس کی ساری احایث میں سے بعض مشہور ہیں اور بعض منکر ہیں۔

امام دارقطنی نے بھی اسے الضعفاء والمتروکین میں ذکر کیا ہے ۔امام حاکم: منکر الحدیث قرار دیا ہے ۔

اسی طرح امام ابن الجوزی نے بھی اسے الضعفاء میں ذکر کیا ہے ۔

[تہذیب الکمال :،5/138،تاریخ بغداد :11/278،تاریخ کبیر : 6/213، الضعفاء :3/946، الکامل :2/250، الضعفاء والمتروکین :407، المجروحین :2/99،]

اسی طرح اس کا  روایت کادوسرا راوی عبدالغفور ہے وہ بھی کذاب ہے ۔

 امام ابن حبان کہتے ہیں: یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثقہ راویوں کی طرف منسوب کرکے موضوع و من گھڑت روایات بیان کرتے ہیں اس کی حدیث لکھنا، بیان کرنا جائز نہیں ،البتہ اعتبار (شواہد )کے لئے۔

اما م ہیثمی :یہ متروک ہے ۔

امام یحی بن معین : اس کی حدیث کوئی چیز نہیں ۔

امام بخاری  :اسے محدثین نے چھوڑ دیا ہے ۔

امام ابن عدی : ضعیف و منکر الحدیث ہے ۔

دیکھئے: [میزان الاعتدال ; 2/495، الکامل :1/329]

اسی طرح اس میں ایک راوی عبدالعزیز بن سعید  بھی ہے جومجھول ہے ۔

لطیفہ :

عثمان بن مطر راوی ضعیف ہے ،بقول حافظ ابن حجر اس کے ضعف پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے ،مگر قادری موصوف اسے صحابی سمجھ کر لکھتے ہیں: ’’حضرت سیدنا عثمان بن مطر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ‘‘  (کفن کی واپسی :15)

قارئین کرام آپ اسی  بات سے ہی موصوف قادری  کے مبلغ علم کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

نہ تم سمجھے  نہ ہم  آئے کہیں  سے      پسینہ   پونچھئے  ذرا  جبیں  سے

’’۲۷ویں رجب کاروزہ اور احمد رضا خان‘‘

احمد رضا خان کے حوالے سے لکھا :

’’ فوائد نہاد میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ، رؤف رحیم صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، ستائیس رجب کو مجھے نبوت عطا ہوئی جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کے وقت دعا کرے دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہو ۔‘‘  (بحوالہ فتاوی رضویہ ، کفن کی واپسی :17)

تبصرہ:

موصوف نےیہ فتاویٰ رضویہ سے نقل کیا ہے اور قابلِ تعجب بات یہ ہے کہ خود احمد رضا صاحب نے اس کے متعلق لکھا ہے ،’’اسنادہ منکر‘‘ یعنی اس کی سند منکر ہے ۔(فتاوی رضویہ :حوالہ مذکورہ )ا ب اندازہ لگائیے اس روایت کے منکر ہونے کو احمد رضا خان بھی مان رہے ہیں اور واضح طور پہ لکھ بھی رہے ہیں مگر موصوف نہ جانے کیوں احمد رضا صاحب کے یہ الفاظ کھاگئے!!

ضرورت ہے اللہ کے لئے نادم ہوجا           کر رہا ہے تیرے اغماض کا شکوہ کوئی

’’۲۷ویں رجب کاروزہ اور پانچ سال کے روزوں کا ثواب‘‘

تنزیہ الشریعہ کے حوالےسے روایت نقل کی :

’’حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جو رجب کی ستائیس کا روزہ رکھے اللہ تعالی اس کیلئے ساٹھ مہینوں (پانچ سال ) کے روزوں کا ثواب لکھے گا اور یہ وہ دن ہے جس میں جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام محمد عربی صلی اللہ تعالی علیہ و اٰلہ وسلم کیلئے پیغمبری لے کر نازل ہوئے ۔‘‘(کفن کی واپسی :18)

تبصرہ:

اولاً :یہ روایت موقوف ہے(یعنی یہ رسولﷺ کا فرمان نہیں ہے بلکہ صحابی رضی اللہ عنہ کا قول ہے) ۔

ثانیاً :اس میں شھر بن حوشب نامی راوی اگرچہ صدوق ،حسن الحدیث ہےمگر کثیر الارسال ،والاوھام بھی ہے ۔ اسی طرح شھر بن حوشب سے روایت کرنے والا راوی مطر بن طھمان بھی صدوق ہے ،مگر کثیر الخطاء ہے۔ ابن سعدکہتے ہیں : یہ حدیث میں ضعیف ہے ۔یحی بن سعید، مطر الوراق کی برے حافظے میں ابن ابی لیلی سے تشبیہ دیتے تھے ۔امام ابو زرعہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کو صالح اس انداز میں کہا کہ گویا کہ ان کو لین الحدیث کہہ رہے ہو۔

امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ یہ میرے نزدیک حجت نہیں اور جب یہ کسی حدیث میں اختلاف کرے تو قابلِ حجت نہیں۔

امام نسائی فرماتے ہیں: قوی نہیں ہے ۔

امام ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیالیکن فرمایا یہ کبھی کبھی خطا کرتا ہے ۔

امام عجلی فرماتے ہیں کہ: یہ صدوق ہے ۔

ابن عدی نے اسے ضعفاء میں لاکر اس کی احادیث کی مثالیں دیں اور فرمایا :اس راوی کے ضعف کے باوجو داس کی احادیث کو جمع کیا جائے گا ،اور لکھا جائے گا ۔

امام دارقطنی کہتے ہیں :یہ قوی نہیں ہے ۔امام الساجی کہتے ہیں :  صدوق ہے، وہم کرتا ہے ۔

حافظ امام ابن حجرفرماتے ہیں: صدوق ہے اور بہت زیادہ غلطیاں کرنے والا ہے ۔اور اس کی حدیث عطا بن ابی رباح سے ضعیف ہے ۔

حوالہ جات کے لئے دیکھئے:[تہذیب الکمال :5994،طبقات ابن سعد :،تاريخ الكبير: 7/1752،ضعفاء النسائی : 567 ،ضعفاء العقيلی :213، الجرح والتعديل: 8 /1319 ،الكامل لابن عدی: 3 /140 ،ثقات ابن حبان:435/5، سير أعلام النبلاء:5/ ،452ميزان الاعتدال: 4/ 8587 )]

معلوم ہوا کہ یہ اگرچہ صدوق راوی ہے اور اس کی روایت متابعت وغیرہ میں چل سکتی ہے مگر ساتھ ہی یہ کثیر الخطا بھی ہے ۔

لہذا یہاں ان دونوں راویوں سے خطاء و وہم ہوا ہے اس لئے کہ اولاًیہ صحیح روایات کے خلاف ہے ،ثانیا ًاس روایت کے مقابلے میں انہی سے مروی ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہی ایک اور روایت بھی ہے جس میں ہے کہ اٹھارہ ذوالحجہ کا روزہ ساٹھ مہینوں کے اجر کے برابر ہے ۔(دیکھئے :تاریخ دمشق :8/290)

اس روایت کو بھی کثیر علماء نے ضعیف قرار دے رکھا ہے ۔نیز امام ذھبی نے اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :ھذا حدیث منکر جدا ، بل کذب ، فقد ثبت فی الصحیح ما معناہ : ان صیام شھر رمضان بعشرۃ اشھر ، فکیف یکون صیام یوم واحد یعدل ستین شھرا ؟ ھذا باطل ۔۔۔ (انسان العیون للحلبی: باب حجۃ الوداع ،385/3، کشف الخفاء : حرف المیم ، 2/307،)

یعنی : یہ حدیث بہت زیادہ منکر ہے بلکہ جھوٹ ہے ،جبکہ صحیح روایت میں تو یہ ہے کہ رمضان کا روزہ دس مہینوں کے برابر ہے بھلا کیسے یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک روزہ 60 مہینوں کے روزوں کے برابر ہو۔یہ خبر باطل ہے ۔

تنبیہ : اگرچہ رمضان کے بارے میں یہ روایت بھی ہمیں نہیں ملی، البتہ یہاں تک تو بات مسلم ہے کہ رمضان کی عبادت کا مقام سب سے اعلی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ مذکورہ روایت کو بھی کئی ایک علماء نے ضعیف قرار دے رکھا ہے ،مثلاً:

قال ابو الخطاب :ھذا حدیث لا یصح   (کتاب الباعث لابی شامۃ )  یعنی :یہ حدیث صحیح نہیں ۔

ثالثاً: موصوف نے تنزیہ الشریعہ کا حوالہ دیا ہے، حالانکہ علماء و طلباء بخوبی جانتے ہیں کہ اس کتاب کا موضوع ہی من گھڑت اور معلول روایات کی نشاندہی ہے ۔ اب حوالے میں اس کتاب ہی پر اکتفاء کس بات کی چغلی کھا رہا ہے ،اب دو باتوں میں سے ایک ضرور ہے یا تو موصوف کو دھوکا دینے کی عادت ہوگئی ہے ،یا پھر موصوف بالکل کورے ہیں اور ہر رطب ویابس جمع کرنا ان کا شیوہ ہے۔

ٹوٹیں گے اپنے ہاتھ یا کھولیں گے یہ نقاب

سلطان عشق  کی  یہی  فتح   و  شکست  ہے

’’۲۷ویں رجب کو دن کا روزہ، رات کی عبادت اور سو سال کے روزوں کا ثواب‘‘

شعب الایمان کے حوالے سے روایت نقل کی :

’’ رجب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن روزہ رکھے اور رات کو قیام (عبادت)کرے تو گویا اس نے سو سال کے روزے رکھے اور یہ رجب کی ستائیس تاریخ ہے ۔ اسی دن محمد صلی اللہ تعالی علیہ و اٰلہ وسلم کو اللہ عز وجل نے مبعوث فرمایا۔‘‘ (کفن کی واپسی :18)

تبصرہ :

حسب سابق یہ روایت بھی منکر ہے۔ اس میں ھیاج  نامی راوی  ہے جو شدیدضعیف ہے ۔

محدثین رحمہم اللہ کے اس راوی کی حدیث میں حیثیت کے حوالے سے اقوال و فرامین:

امام ابن حجر فرماتے ہیں: ضعیف ہے اس کا بیٹا خالد بڑی منکر روایات بیان کرتا ہے ۔

امام ابن معین فرماتے ہیں :یہ ضعیف ہے اور کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔

امام ابو داؤد فرماتے ہیں :اسے محدثین نے چھوڑ دیا ہے یہ کچھ بھی نہیں ہے ۔

امام صالح بن محمدفرماتے ہیں:ھیاج منکر الحدیث ہے ،اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی ،البتہ ایک یا دو تین اعتبار (شواہد)کے لئے۔ اور پھرامام حاکم فرماتے ہیں:یہ احادیث جس کے بارے میں امام صالح کا (مذکورہ بالا خیال ہے) اس میں اصل گناہ اس (ھیاج)کے بیٹے خالد کی طرف سے ہے ،اس کا بوجھ اسی پر ہے ۔

 یحی بن احمد بن زیاد الھروی فرماتے ہیں :ھیاج کی احادیث کا انکار اس کے بیٹے خالد کی جہت سے ہے  ۔

امام ابو حاتم فرماتے ہیں:اس کی حدیث لکھی جائے گی اور اس سے حجت(دلیل) نہیں لی جائے گی ۔

امام ابن حبان فرماتے ہیں : یہ مرجیٔ(گمراہ فرقہ مرجئہ میں سے) تھا اورثقات کی طرف منسوب کرکے موضوع روایات بیان کیا کرتا تھا ۔

حوالہ جات کے لئے دیکھئے:[تہذیب الکمال :7/437، تاریخ کبیر :8/124، الجرح والتعدیل :9/138،میزان الاعتدال :4/240، لسان المیزان :9/262، تاریخ بغداد :14/80،تقریب التہذیب :2/331،تبیین العجب ؛117،118]

اسی طرح ھیاج کا بیٹا خالد بھی ضعیف ہے ،جیسا کہ مذکورہ بالا اقوال سے واضح ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت بھی ضعیف ہے ، لہذا اس سے استدلال بھی صحیح  و درست نہیں ۔

’’۲۷ویں رجب کی عبادت و روزہ اور دعاؤں کی قبولیت و سو برس کی نیکیوں کا ثواب‘‘

شعب الایمان کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:

’’ رجب میں ایک رات ہے کہ ا س میں نیک عمل کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے ۔ جو اس میں بارہ رکعت پڑھے ، ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ اور کوئی ایک سورت اور ہر دو رکعت پر التحیات اور آخر میں سلا م پھیرنے کے بعدسو بار سبحان اللہ والحمدللہ و لاالہ الا اللہ واللہ اکبر ،سو بار درود پاک پڑھے اور اپنی دنیا و آخرت سے جس چیز کی چاہے دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالی اس کی سب دعائیں قبول فرمائے گا سوائے اس دعا کے جو گناہ کیلئے ہو ۔ ‘‘ (کفن کی واپسی :19)

تبصرہ:

اس کی سند میں محمد بن فضل نامی راوی ہے ،جس کی ائمہ و محدثین رحمہم اللہ نے تکذیب کی ہے ۔

محدثین رحمہم اللہ کے حدیث میں اس راوی کی حیثیت کے حوالے سے اقوال و فرامین:

امام احمدفرماتے ہیں:اس کی حدیث جھوٹوں والی ہے ۔

امام یحی فرماتے ہیں:اس کی حدیث کو لکھا نہیں جائے گا۔

الفلاس کہتے ہیں:  یہ کذاب راوی ہے ۔

امام ابن ابی شیبہ:نے بھی اسے کذاب قرار دیا ہے ۔

کئی ایک محدثین رحمہم اللہ نے اسے متروک کہا ہے ۔

حوالہ جات کے لئے دیکھئے:

[الجرح و التعدیل:8/56،الضعفاء:4/120،الکامل:6/170،المیزان:6/4،تقریب التہذیب:2/208]

’’حرمت والے مہنینوں میں تین دن جمعرات،جمعہ اور ہفتہ کا روزہ رکھنا‘‘

مجمع الزوائد کے حوالے سے ایک روایت نقل کی :

’’ جس نے ماہ حرام میں تین دن جمعرات ، جمعہ اور ہفتہ کا روزہ رکھا اسکے لئے دو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا ‘‘  (بحوالہ مجمع الزوائد ، کفن کی واپسی :24)

ماہ حرام سے مراد چار ماہ: ذوالقعدہ ،ذوالحجہ،محرم اور رجب ہیں ،ان چاروں مہینوں میں سے جس ماہ میں بھی ان تین دنوں کا روزہ رکھ لیں گے تو ان شاء اللہ عز و جل دو سال کی عبادت کاثواب پائیں گے۔ (کفن کی واپسی :24)

تبصرہ:

اولاً:سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مجمع الزوائد میں محولہ مقام میں جو روایت موجود ہے اس میں دو سا ل کی عبادت کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ وہاں 60 مہینوں کی عبادت کے الفاظ ہیں ۔

ثانیاً : مذکورہ محولہ مقام پر اس روایت کی اسنادی حیثیت کوصاحبِ کتاب علامہ ہیثمی نے خود واضح کر دیا، جسے موصوف نے بیان ہی نہیں کیا ،چنا چہ امام ہیثمی نے جو سند پر بحث کی ہے وہ درج ذیل ہے :

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُوسَى الْمَدَنِيِّ عَنْ مَسْلَمَةَ، وَيَعْقُوبُ مَجْهُولٌ وَمَسْلَمَةُ هُوَ ابْنُ رَاشِدٍ الْحِمَّانِيُّ ; قَالَ فِيهِ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ: مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ. وَقَالَ الْأَزْدِيُّ فِي الضُّعَفَاءِ: لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَأَوْرَدَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ. وَأَبُوهُ رَاشِدُ بْنُ نَجِيحٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ أَخْرَجَ لَهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَالِحُ الْحَدِيثِ. وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ: رُبَّمَا أَخْطَأَ، وَقَالَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ: إِنَّهُ مَجْهُولٌ. وَلَيْسَ كَمَا قَالَ: فَقَدْ رَوَى عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ وَآخَرُونَ۔ (مجمع الزوائد : 5151)

یعنی : طبرانی نے اسے اوسط میں ِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُوسَى الْمَدَنِيِّ عَنْ مَسْلَمَةَ، کے طریق سے بیان کیا ہے اس میں یعقوب مجھول ہے اور مسلمۃ وہ ابن راشد الحمانی ہے جس کے بارے میں ابو حاتم رازی نے کہا ہے کہ یہ مضطرب الحدیث ہے اور ازدی نے الضعفاء میں کہا ہے کہ  اس سے حجت نہیں لی جاتی ۔اور ازدی نے اس کی یہ روایت بھی درج کی ۔اور مسلمہ کا والد راشد بن نجیح ابو محمد الحمانی ہے جس سے امام ابن ماجہ نے روایت کی ہے اور اس کے بارے میں ابو حاتم نے فرمایا کہ یہ صالح الحدیث ہے ،ابن حبان نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کرنے کے بعد لکھا کہ یہ کبھی کبھی خطا کرتا ہے ۔ابن الجوزی نے اسے مجھول قرار دیا ہے ۔حالانکہ یہ مجھول نہیں ہے ،اس سے حماد بن زید ، ابن المبارک  اور ابو نعیم دکین نے روایت لی ہے ۔

قارئین نے ملاحظہ کیا کہ اس روایت کے کتنے راویوں کو خودصاحب ِمجمع الزوائد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔مگریہ سب جانتے ہوئے بھی  بلا دریغ موصوف نے اس روایت کو مجمع الزوائد کے حوالے سے نقل  تو کردیامگراس روایت کے ضعیف ہونے کو بیان کرنے بجائے ایک طرف اس سے استدلال کرتے ہوئے رسولِ اکرم ﷺ پر جھوٹ باندھا (کیونکہ جب اس کا ثبوت ہی رسول اللہﷺ سے ثابت نہیں پھر بھی اسے رسول اللہﷺ سے منسوب کرنا آپﷺ پر جھوٹ باندھنا ہے) اور دوسری طرف حق بات کو امت سے چھپایا جو انتہائی کبیرہ گناہ ہے۔۔۔۔۔۔

بسا آرزو کہ خاک شد

تنبیہ :

جیسا کہ گزر چکا کہ علامہ ہیثمی نے جو روایت ذکر کی ہے، اس میں ساٹھ ماہ کاذکر ہے ،البتہ اس روایت کا حوالہ طبرانی اوسط کا دے کر جس سند پر کلام کیا ہے ،وہ روایت وہی ہے جو الیاس قادری صاحب نے اپنے کتابچہ میں ذکر کی ہے،(کہ ماہ حرام کےتین  دن کے روزوں کی فضیلت دوسال کے برابر ہے )نیز اسے روایت کرنے کے بعد خود امام طبرانی نے اس کی اسنادی حیثیت کی طرف کچھ یوں اشارہ فرمایا: لم یرو ھذا الحدیث عن مسلمۃ  الا یعقو ب تفرد بہ محمد بن یحییٰ ۔(طبرانی اوسط حدیث نمبر :1789)

 یعنی :اس حدیث کو مسلمہ سے یعقوب کے علاوہ کوئی نہیں بیان کرتا ،اور یعقوب سے روایت لینے میں محمد بن یحی متفرد ہیں ۔

v نزھۃ المجالس کے حوالے سے یہ واقعہ لکھتے ہیں :

’’ایک بار حضرت سیدنا عیسی روح اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا گزر ایک جگمگاتے نورانی پہاڑ پر ہوا ۔ آپ علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی عز وجل میں عرض کی ،یا اللہ عز و جل ! اس پہاڑ کو قوت گویائی عطافرما ۔وہ پہاڑ بول پڑا ، یا روح اللہ(علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام ) آپ کیا چاہتے ہیں ؟ فرمایا ، اپنا حال بیان کر ۔پہاڑ بولا : میرے اندر ایک آدمی رہتا ہے  ۔ سیدنا عیسی روح اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام نے بارگاہ الہی عز وجل میں عرض کی ، یا اللہ اس کو مجھ پر ظاہر فرمادے۔ یکایک پہاڑ شق ہوگیا اور اس میں سے چاند سا چہرہ چمکاتے ہوئے ایک بزرگ برآمد ہوئے ۔ انہوں نے عرض کیا ، میں حضرت سیدنا موسی کلیم اللہ (علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام )کا امتی ہوں میں نےاللہ عز و جل سے یہ دعا کی ہوئی ہے کہ وہ مجھے اپنے پیارے محبوب ، نبی  آخری زمان صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم کی بعثت مبارکہ تک زندہ رکھے تاکہ میں انکی زیارت بھی کروں اور ان کی امتی بننے کا شرف بھی حاصل کروں ۔ الحمدللہ عز و جل میں اس پہاڑ میں چھ سو سال سے اللہ کی عبادت میں مشغول ہوں ۔ حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی ، یا اللہ عز و جل ! کیا روئے زمین پر کوئی بندہ اس شخص سے بڑھ کر بھی تیرے یہاں مکرم ہے ؟ ارشاد ہوا ، اے عیسیٰ علیہ السلام ! امت محمدی میں سے جو ماہ رجب کا ایک روزہ رکھ لے وہ میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ مکرم ہے ۔ ‘‘(کفن کی واپسی :26)

تبصرہ :

نزھۃ المجالس کتاب کی حیثیت

 کے بارے میں اہلِ علم میں مشہور ہے کہ اس میں بکثرت ضعیف و موضوع روایات و قصص ہیں چناچہ خود ایک مکتبہ نے اسےمترجم شائع کیا مگراندر والے ٹائیٹل پہ کچھ یوں لکھا ہوا ہے:

اولاً:یہ مشہور کتاب نزہۃ المجالس عجیب و غریب قصص و نادر حکایات  ،امام شافعی کے مذہب کے موافق فقہی مسائل ، موضوع روایات اور بعض صحیح احادیث کے بیش بہا نہایت دلچسپ ذخیرے پر مشتمل ہے ۔ (مطبوعہ سعید ایچ ایم کمپنی ادب منزل پاکستان چوک کراچی )

دیکھئے اس کتاب کا تعارف کرواتے ہوئےخود یہ مذکورہ مکتبہ لکھتا ہے کہ اس کتاب میں بعض صحیح احادیث ہیں اور جب  اس سے پہلے قصص ، موضوع(من گھڑت) روایات کی بات کی تو بعض کا لفظ استعمال نہیں کیا یعنی خود مذکورہ مکتبہ کو بھی یہ بات مسلم ہے کہ اس میں بکثرت ضعیف و موضوع روایات و قصص ہیں اور صحیح روایات بہت ہی کم ہیں ۔

واقعہ کی حیثیت

ثانیاً:اس واقعے کی کوئی سند پیش نہیں کی گئ ،لہذا بلا سندمن گھڑت واقعہ کو کسی نبی کی طرف منسوب کرنابہت بڑا بھتان اور کبیرہ گناہ میں سے  ہے ۔

ثالثا ً : کتبِ رجال کو کھنگال ڈالیئےآپ کو ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی بھی نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم  کا کوئی ایسا صحابی ہو اور اس کا یہ مذکورہ بالا قسم کا واقعہ ہو ۔

خلاصہ کلام

خلاصہ کلام یہ کہ موصو ف الیاس قادری کا یہ کتابچہ ضعیف و موضوعات،من گھڑت روایات، قصے کہانیوں سے مملوء ہے۔ لہذا  اس کتابچہ کی بھی اُن کے دیگر کتابچوں کی طرح کوئی اعتباری حیثیت نہیں۔

نیز رجب کے حوالہ سے کتابچہ میں ذکردہ تمام فضائل کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔

اسی طرح اس کتابچہ کے علاوہ بھی عمومی اعتبار سے رجب کی کسی قسم کی عبادت نماز، روزہ وغیرہ کی فضیلت نہ ہی رسولِ اکرمﷺ کے کسی فرمان و عمل سے ثابت ہے کہ جس کا ذکر کسی بھی صحیح روایت میں ہو اور نہ ہی کسی صحابی رسولﷺ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے اور نہ ہی معروف و معتبر ائمہ کرام جیسے ائمہ اربعہ امام ابوحنیفہ،امام مالک،امام شافعی و امام احمد رحم اللہ الجمیع سے اس کی فضیلت میں کچھ ثابت ہے۔

 بلکہ رسول اللہ ﷺ نے  تورمضان کی تیاری کی وجہ سے شعبان کے بھی آخری ایام کے روزے رکھنے سے منع فرمایا۔

موصوف اور اُن جیسوں کی طرح اگر ضعیف روایت سے ہی استدلال کیا جائے تو ایک ضعیف روایت میں تو رجب کے پورے مہینے کے روزوں سے بھی روکا گیا ہے۔(سنن ابن ماجہ :1743، طبرانی الکبیر :10681، شعب الایمان :3/375 ) لیکن موصوف اور اُن جیسوں نے اس روایت کو نہ جانے کیوں اپنی تحریر و تقریر کا حصہ نہیں بنایا؟ کیونکہ ضعیف روایت اگر اُن کے مقصد کے مطابق ہوگی تو اُنہیں قابلِ قبول ہوگی ورنہ وہ اُس کے ضعیف ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے رہیں گے۔

آپ  ہی  اپنی اداؤں  پرغورکریں

ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

 

اللہ کی توفیق و عون سے ماہ رجب کی فضیلت کے  حوالے سے روایات کی حقیقت قارئین کی خدمت میں پیش کی جاچکی ہے،جویا تو موضوع و من گھڑت ہیں یا ضعیف۔

 اب یہاں مناسب ہے کہ سلف صالحین رحمہم اللہ  کے اقوال بھی اس باب میں پیش کردیئے جائیں ۔ جن سے مزید ماہِ رجب، اس کے روزوں ، نمازوں و دیگر عبادات و اعمال کی فضیلت میں موجود روایات کی حقیقت واضح ہوجائے گی ۔

(1)            امام حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لم یرد فی فضل شھر رجب ، ولا فی صیامہ ، ولا فی صیام شئی منہ معین ، ولا فی قیام لیلۃ مخصوصۃفیہ حدیث صحیح یصلح للحجۃو قد سبقنی الی الجزم بذلک الامام ابو اسمٰعیل الھروی الحافظ ، رویناہ عنہ باسناد صحیح ، و کذلک رویناہ عن غیرہ ۔ (تبیین العجب :71)

یعنی :رجب کے مہینے کی فضیلت کے حوالے سےکوئی صحیح روایت وارد نہیں ہوئی اور نہ ہی رجب کے روزوں کے بارے میں ، اور اسے مخصوص روزوں اور قیام کے بارے میں بھی کوئی صحیح روایت وارد نہیں جو حجت کے قابل ہو ۔اور مجھ سے پہلے یہی بات امام ابو اسمعیل  نے کہی ہے جسے ہم نے سند صحیح کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

(2)             امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

و اما الصیام ، فلم یصح فی فضل صوم رجب بخصوصہ شئی عن النبی ﷺ ولا عن الصحابۃ(لطائف المعارف :228)

یعنی :نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ سے رجب کے روزوں سے متعلق کچھ بھی ثابت نہیں۔

(3)             امام عبد اللہ انصاری رحمہ اللہ:

 کے بارے میں آتا ہے :كَانَ عَبْد اللَّهِ الأَنْصَارِيّ لَا يَصُوم رَجَب وَينْهى عَن ذَلِك يَقُول: مَا صَحَّ فِي فضل رَجَب وَفِي صِيَامه عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم شئ(الموضوعات لابن الجوزی :کتاب الصیام ،،2/208المغنی عن الحفظ والکتاب :باب صیام رجب و فضلہ  ،1/371)

یعنی : امام عبداللہ انصاری رجب کے روزے نہیں رکھتے تھے اور اس سے روکتے تھے اور فرمایا کرتے تھے :رجب کی فضیلت اور اس کے روزوں کے حوالے سے کوئی صحیح روایت مروی نہیں ۔

(4)امام علی بن ابراہیم العطاررحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ان ما روی فی فضل صیام رجب ، فکلہ موضوع و ضعیف ، لا اصل لہ  (الفوائد المجموعۃ :392)

یعنی :رجب کے روزوں کے بارے میں جو کچھ مروی ہے وہ سب ضعیف و موضوع ہے ۔

(5) امام  ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

و کل حدیث فی ذکر صوم رجب  و صلوۃ بعض اللیالی فیہ ، فھوکذب مفتری۔  (المنار المنیف :84)

یعنی :رجب اور اس کی بعض راتوں کے قیام کے حوالے سے تمام روایات جھوٹ اور بہتان ہیں ۔

ضروری وضاحت :

ہماری مذکورہ تمام گزارشات سے واضح ہوگیا کہ رجب کے روزوں کی فضیلت اور رجب کی دیگر مخصوص عبادات کسی صحیح حدیث یا اثر سے ثابت نہیں ہیں، البتہ اگر ایک شخص کی مسلسل روزے رکھنے کی کوئی ترتیب بنی ہوئی ہے اور اسی ترتیب میں رجب کا مہینہ بھی آرہا ہے تو اس جہت سے یہ روزے رکھے جاسکتے ہیں ۔

رب کریم ہمیں تمام بدعات ورسومات سے بچا کر توحید و سنت پر کار بند رکھے ۔(آمین )

Read 5013 times Last modified on ہفتہ, 04 نومبر 2017 14:42