بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
پیر, 25 جون 2018 13:38

غیر اسلامی تہوار شرعی میزان میں

مقرر/مصنف  ابو ریان المدنی

غیر اسلامی تہوار شرعی میزان میں

                                                            ابوریان المدنی

انسانیت کی دنیا وآخرت میں کامیابی کا ضامن دین اسلام ہے ۔ اور اس کی آفاقی تعلیمات کا محور منافع کا حصول اور مفاسد کا ازالہ ہے ۔ اسلام نے ان اسباب وذرائع کو اختیار کرنے کا حکم اور ترغیب دی ہے چاہے جس سے انسان کے  دین، جان ومال یا اس کی عزت و آبرو اور سوچ وعقل محفوظ رہ سکے۔ اسی  طرح ان  تمام نقصان دہ امور سے منع فرمایا ہے جو   اس کے ایمان ، جان و مال یا اس کی عزت و آبرو اور سوچ و عقل کو نقصان دیں۔اس سب  کا اعلیٰ و ارفع ترین ھدف اللہ رب العالمین کی رضا، اس کی خوشنودی اور اس کی لازوال نعمت اور فضل عظیم جنت کا حصول ہے جس کیلئے باری جل وعلا  جن و انس کو پیدا کیاہے ، فرمان باری تعالیٰ ہے :

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذاریات: 56)

’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیاہے کہ وہ میری عبادت کریں‘‘

چنانچہ دین اسلام کی تعلیمات میںکئی مقامات پر ان دو اصولوںکی طرف واضح اشارہ موجودہے، مثال کے طور پر شراب اور جوئے کی حرمت کی وجہ قرآن کریم میں اس انداز سے بیان ہوئی کہ یہ دشمنی ، نفرت پھیلانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے بھی روکتےہیں جیساکہ سورۂ مائدہ میں ہے ۔

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ   (المائدہ: 90)

’’ اے ایمان والو! یہ شراب اور یہ جوا یہ آستانے اور پانسے سب گندے شیطانی کام ہیں لہذا ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاسکو‘‘  ۔

نیز فرمایا:

اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوة ِ   ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ   (المائدہ: 91 )

’’ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو‘‘؟

کفا ر جو کہ اسلام اور اہل اسلام کے بد ترین دشمن ہیں، وہ مقابلے میں اپنے باطل اور کفرپر مبنی دین کو  اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لیے بھر پور جد و جہد اور کو شش کر رہے ہیں جس میں رفتہ رفتہ شدت آتی جارہی ہے ۔  لہٰذا روز اول سے ہی شیطان اپنی پوری طاقت ، زبردست وسائل اور منظم گروہوں اور چیلوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ان کے دین اسلام جسے قرآن کریم میں صراط مستقیم (سیدھی راہ) سے تعبیر کیا گیاہے ، سے ہٹانے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا چلا آرہاہے اور تا قیامت بتقاضۂ ابتلاءبشریت یہ سلسلہ جاری رہے گا۔  چنانچہ قرآن کریم نے شیطان اور اس کے اختیار کئے جانے والے تمام ہتھکنڈوں اور اس کے دھو کے میں آئے ہوئے لوگوں ، قوموں کی نشانیاں اور صفات و علامات اور ان کا دنیامیں بھیانک انجام اور آخرت میں بد ترین سزا کو بھی بیان کر دیا تاکہ ہدایت کے متلاشی عبرت پکڑ کر اُن کے راستے پر چلنے سے گریز کریں اور دنیا و آخرت کے خسارے اور تباہ کاریوںسے بچ جائیں۔ایسے گروہوں وا قوام کا قرآن کریم میں بالعموم کفار و مشرکین اور بالخصوص یہود و نصاریٰ کے طور پر ذکر کیاگیاہے اور اس حقیقت کو بھی قرآن کریم نےواضح طور پر بیان کیا ہےکہ یہود ونصاریٰ مسلمانوں سے اس وقت تک راضی نہیں ہو سکتے جب تک وہ ان کی ملت ، دین ، تہذیب و ثقافت کو نہ اپنا لیں فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ  وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ (البقرۃ:120)

’’ اور یہود و نصاریٰ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت تک کبھی خوش نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ ان کے دین کی پیروی نہ کرنے لگیں‘‘

ن قوموں کی چالیں کتنی خطرناک ہیں اس کا اندازہ آپ اس امرسے لگا سکتے ہیں کہ اللہ رب اللعالمین نے ہر نماز اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کو پڑھنا لازم قرار دیا ہے اور یہ وہ سورت ہے جس کے اختتام پر ’’غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ کا تذکرہ ہے ۔ صحیح حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’المغضوب علیھم‘‘ سے مراد یہودی اور’’ الضالین‘‘ سے مراد عیسائی ہیں۔اور ان ہی سے بچنے کی ہمیں تلقین کی گئی ہے کیونکہ یہ ہمیشہ اہل اسلام کیلئے شر ہی سوچتے ہیں خیر نہیں ۔ اسلام اور مسلمان سے نسبت رکھنی والی ہر شے کا وجودان کیلئے ناقابل برداشت ہے چاہے وہ قرآن کریم ہو یا دیگرشعائر اسلام جن میں  حدود اللہ، شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ، بیت المقدس پر حملہ ، یا حرمین کے حوالے سے ان کے خطرناک عزائم الغرض  (وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُھُمْ اَكْبَرُ) سورۃ آل عمران آیت 118)

’’ اور جو کچھ وہ اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے ہیں وہ اس سےشدید تر ہے‘‘۔

 کفار کی جنگ کاایک اہم حصہ نظریاتی  جنگ ہے جو وہ مسلمانوں سے مختلف محاذوں پرمختلف انداز سے  لڑ رہے ہیں ۔ جس کے ذریعے وہ ہمارے افکار، عقائد،دینی وثقافتی اقدار کو ٹارگٹک رہے ہیں ۔ کفر کے نظریاتی ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار غیر اخلاقی تہوار ہیں جو اپنی تاثیر، فساد اور نقصانات و بگاڑ کے اعتبار سے مسلمانوں کو وہ نقصان دے رہے ہیں جو کہ شاید وہ عسکری جنگ کے ذریعے بھی نہ پہنچا سکے ہوں ۔ماضی میں ان تہواروں کا دائرہ محدود ہونے اور پھر مسلمانوں کی دین پر استقامت اور غلبہ و قوت کے اعتبار سے امت مسلمہ پر ان کا اثر انتہائی قلیل اور کمزرور تھا ،مگر آج معاملہ برعکس ہوجانے کی وجہ سے اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے۔

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود      یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

زیر نظر مضمون کفار کے غیر اسلامی تہواروں کی شرعی حیثیت، ان کے مفاسد و اضرار اور امت مسلمہ پر اس کے اثرات اور ان  کے  نقصانات و مفاسدکو شرعی و منطقی دلائل کے ساتھ ضبطِ تحریر میں لایا گیاہے۔

غیر اسلامی تہواروں کی حرمت کے اسباب :

 ذیل میں سب سے پہلے میں غیر اسلامی تہواروں کی حرمت کے ان اسباب کو بیان کیا جاتا ہے ،جن کے پیش نظر ایسے تمام تہوار حرام قرار پاتے ہیں۔

پہلا سبب : ایمان کی حفاظت

سب سے بنیادی اور کلیدی وجہ  جس کی بنا پر ان تہواروں کو منانا حرام ہے، وہ ایمان کی حفاظت ہے ۔یعنی ایمان کے ضائع ہو نے یا کھوجانے کے خدشے کی وجہ سے ان کفار کی نقالی اور ان کے تہوار منانے کو شریعت نے حرام قرار دیا۔ لہذابحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ہم ایسے تمام امور سے دور رہیں جوہمیں ایمان سے دور  اور کفر کے قریب کردیں،جیسا کہ اللہ تعالیٰ  کا فرمان ہے:

وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ  (سورۃ المائدۃ آیت نمبر 5)

’’اور جس نے بھی ایمان کے بجائے کفر اختیار کیا، اس کا عمل برباد ہوگیا اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمانی تقاضوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے  کفار کی راہ کا انتخاب تمام اعمال کے ضائع  ہونے اور آخرت کے خسارہ کا سبب بن سکتا ہے۔ ایمان کی اللہ ارحم الراحمین کے ہاں کتنی اہمیت ہے اس کا انداز ہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے مگر ایمان سے محرومی (جو کہ سب سے بڑا فتنہ ہے) کو انسانی جان کے قتل سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا ہے جیسا کہ سورۃ بقرۃ آیت نمبر 217 میں ہے کہ

 ( وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ )

 اور فتنہ انگیزی قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔

 کفار کی بھی سب بڑی خواہش، کوشش اور سازش یہی ہے کہ اہل ایمان کو اسلام سے کفر کی طرف لوٹا دیں اگرچہ اس کے لیے انہیں قتال و خونریزی ہی کیوں نہ کرنی پڑے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

 (وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا)

( سورۃ البقرۃ آیت نمبر217)

’’اور یہ لوگ تو ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے۔ حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کر دیں‘‘

  اس آیت میں کفار کی مسلمانوں کے بارے میں گھناؤنی سوچ کی قلعی کھولی گئی ہے کہ جو قوم اگر طاقت رکھےتو ہمیں اسلام سے کفر کی طرف پھیرنے کے لیے جنگ و قتال سے بھی گریز نہ کرےجس کے مظاہر دنیا بھر میں دیکھے بھی جارہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جس چیز پر عالمی طور پر توجہ دی گئی وہ اپنے بے ہودہ و فرسودہ تہواروں کو مسلمانوں میں عام کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ مسلم امت اپنی دینی غیرت و حمیت سے یکسر محروم ہوجائے۔اور ایسا ہی ہوا کہ مسلمانوں کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ اور ہر محاذ پر پوری قوت، بھرپور طاقت کے ساتھ انتہائی منظم و مربوط پلاننگ کے ساتھ کفر و شرک، الحاد و لادینیت، اباحیت اور نفس پرستی جیسے فتنوں کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اور مسلمان قوم اس دلدل میں اس قدرپھنستی چلی جارہی  ہے کہ  سال کے 365 دنوں میں سے شاید ہی کوئی دن ہو کہ جس  دن کسی نہ کسی نام پر کوئی نہ کوئی تہوار یا یاد گار دن نہ منائی جائے!حتی کہ بعض مرتبہ ایک دن میں دو دو تہوار منائے جاتے ہیں اور اس کے لیے کھیل و تفریح، سیاحت و ثقافت، کلچر و آرٹ، فلاحی اور سماجی سر گرمیوں کے نام پر ہر تہوار کو ترقی و روشن خیالی، جدت و ضرورت، حقوق سے آگہی و شعور کے خوشنما الفاظ اور فحاشی و موسیقی پر کشش انداز میں منایاجاتا ہےاور اس کی ترویج میںمیڈیا بھی خوب حصہ ڈالتا ہے۔ جس کا  لازمی نتیجہ یہ نظر آرہا ہے کہ آج کا نام نہاد مسلمان اپنے دین سے دور بلکہ باغی ہوتا جارہا ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اہل کفر کے تہوار منانا مسلمان کے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں اس لئے شریعت نے انہیں ناجائز اور حرام قرار دیاہے۔

دوسرا سبب:غیر مسلموں کے تہوار منانا اسلام کے عقیدہ ’’ الولاء والبراء ‘‘ کے منافی ہے ۔

ولاء اور براء سے مراد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کیلئےکسی سے  محبت،دوستی اور رشتہ داری کے تعلقات استوار کریں ۔اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ہی دشمنی قائم کریں ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ ۭ اُولٰۗىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ۭ وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا   ۭ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ    ۭ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ  (المجادلہ:22؀ۧ)

ترجمہ:جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ۔ آپ کبھی انہیں ایسا نہ پائیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی لگائیں جو اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مخالفت کرتے ہوں، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی یا کنبہ والے ہوں، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح کے ذریعہ انہیں قوت بخشی ہے۔ اللہ انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہی اللہ کی جماعت ہے۔ سن لو! اللہ کی جماعت  کے لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں ‘‘

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَاۗءَ  ۚوَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ      (المائدۃ: 57؀)

’’اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے اور کافروں میں سے ایسے لوگوں کو دوست نہ بناؤ، جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی مذاق بنا رکھا ہے اور اگر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘

یہاں اللہ تعالی نے کفار سے دوستی رکھنے سے منع فرمادیا ہےاور آخر میں اس عمل کو تقویٰ کی علامت قرار دیا ہےاور ایمان کا حصہ بتلایا۔لہذا کفار کے تہوار منانا جہاں کفار سے مداہنت (نرم رویہ) کو جنم دیتی ہے وہاں یہ کفار سے دلی محبت کے ساتھ ان سے دوستی کی طرف لے جانے کا ایک بڑا ذریعہ ہے جو کہ عقیدہ الولاء والبراء کے منافی ہے اور اگر یہ دوستی حدود و قیود سے آزاد کر دی جائے تو پھر یہ ایک مسلمان کو اسلام سے کفر کی طرف لے کر جاسکتی ہے جیساکہ قرآن کریم میں ہے کہ :

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ ۠ وَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا  (النساء:  89؀)

’’وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ جیسے وہ خود ہوئے ہیں تاکہ سب برابر ہوجائیں ۔ لہذا ان میں سے کسی کو آپ دوست نہ بناؤ تاآنکہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو جہاں انہیں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو ۔ اور ان میں سے کسی کو بھی آپ نا دوست یا مددگار نہ بناؤ‘‘

اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ کا فروں کے ساتھ میل جول اور ان کی نقالی، ان سے دوستی کا تصور اور ان کی عادات و رسومات کی تقلیدکا تصور تو وہاں آتاہے جہاں آپس میں ہمدردی اور خیر خواہی (دلی چاہت) موجود ہو جبکہ مومن کی دوستی اور قلبی محبت کے مستحق صرف اور صرف مومنین ہی ہو سکتے ہیں۔ جیساکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُوْنَ  (سورۃ مائدہ آیت 55)

’’(اے ایمان والو!) تمہارے دوست صرف اللہ ، اس کا رسول اور ایمان لانے والے ہیں جو نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکنے والے ہیں‘‘

تیسرا سبب: غیر اسلامی تہواروں میں شرکت نفس پرستی ، خواہش پرستی کا عنصر پیدا کرتی ہے ۔

ان تہواروں میں ایک خرابی یہ ہے کہ ان میں مشغولیت سے نفس پرستی ،خواہش پرستی کا عنصر انسان  میں بڑھتا جاتا ہےجس سے شریعت نے روکا ہےکیونکہ خواہش پرستی رفتہ رفتہ دین سے دوری کا سبب بن جاتی ہے۔  شریعت کے مقابلہ میں نفس کی پیروی کرنا ایسی خطرناک بیماری ہے کہ یہ انسان کو  نہ صرف دین سے دور کر دیتی ہے بلکہ بعض حالات میں ضعف اعتقاد علم اور عمل کے اعتبار سے کمزور اور بے حس و بے خوف کردیتی ہے اور ایسے شخص سے حرام و حلال، جائزو نا جائز کی تمییزختم ہوجاتی ہے اور وہ  بظاہر نام کا مسلمان رہ جاتاہے جبکہ حقیقت میں خواہشات کا پجاری بناچکا ہوتاہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جنہوں نے اپنے نفس کو الہ (معبود) کا درجہ و مقام دیا ہوا ہے جیسا کہ سورۃ الجاثیہ آیت نمبر 23 میں اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ

’’بھلا آپ نے اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو الٰہ بنا رکھا ہے‘‘

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے آخری زمانہ کے حوالے سے پیش گوئی کی ایک کیفیت یوں بیان فرمائی کہ لوگوں میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہوجائے گی  چنانچہ فرمان نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے :

لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ، يَسْتَحِلُّونَ الحِرَ وَالحَرِيرَ، وَالخَمْرَ وَالمَعَازِفَ، ۔[1]

میری امت کے کچھ لوگ زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال کر لیں گے۔

بہرحال ان خواہش پرست کفار کی چاہت یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بھی اسی آگ کا ایندھن بنادیں جس میں وہ جلیں گے (اعاذنا اللہ منہا ) جیسا کہ سورۃ نساء آیت نمبر27  میں اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

وَيُرِيْدُ الَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِيْلُوْا مَيْلًا عَظِيْمًا     

اور جو لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور تک چلے جاؤ۔

 شہوات کی پیروی کرنے والے جس جال میں مسلمانوں کوالجھا کر ان کے دین و ایمان کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں وہ جال تہواروں و رسومات کاجال ہے (اعاذنا اللہ منہ)

چوتھا سبب: اسلام گناہوں کی درجہ بندی میں  علانیہ گناہوں کو برائیوں کی بدترین صورت سمجھتاہے ۔

 اسلام نے جس طرح نیکیوں کی ادئیگیمیں چند کیفیات اور صورتوں میں زیادہ اجر عطا فرماتاہے ۔فیت مثال کے طور نماز جسے اگر کوئی شخص پہلے وقت میں ادا کرنے کے ساتھ اگر انفرادی طور پر ادا کرے گا تو اس کا اجر اس نماز سے کم ہوگا جو اس نے باجماعت ادا کی ہوگی جیساکہ کہ حدیث میں ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشادفرمایا :

فَضْلُ صَلاَةِ الجَماعة عَلَى صَلاَةِ الوَاحِدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً ۔[2]

اکیلے نماز ادا کرنےکے مقابلہ میں با جماعت نماز ادا کرنا پچیس درجے افضل ہے۔

 اس میں جو حکمت پوشیدہ نظر آتی ہے اجتماعی شکل میں اللہ کے ہاں عاجزی و انکساری کا اظہار  ایک روح پرور ماحول اور فضا پیدا ہوتی ہے وہیں دیگر لوگوں کو اس سے ایسی نیکیوں کی ترغیب بھی ملتی ہے  ۔اسی طرح بدی کی سزا یا گناہ کی قباحت بھی اس کے مرتبہ اور کیفیت اور معاشرہ پر اس کے اثرات کے اعتبار سے ہے یعنی اگر گناہ انفرادی طور پر یا محدود پیمانے اور مخفی انداز میں ہے تو بعض مرتبہ ایسے گناہ پر سزا کے ہونے والے اثرات کم ہونے کی وجہ سے صرف ترہیب دی جاتی ہے۔ اگر گناہ اپنے ذاتی اور صفاتی اعتبار سے اجتماعی اور وسیع پیمانے اور فخریہ اور اعلانیہ ہونے کے ساتھ دوسری برائیوں کی ترویج اور حوصلہ افزائی اور پھر مزید برائیوں اور منکرات کا سبب بھی ہوتو شریعت اس گناہ پر نہ صرف اس کی سخت سزا (چاہے وہ جسمانی اعتبار سے ہو یا آفات و بلاؤں کی شکل یا پھر دنیامیں اس شخص کی نیکیاں ضائع اور آخرت میں جہنم کے عذاب کی وعید ملے )بلکہ اس گناہ کی طرف لے جانے والے اسباب وذرائع سے بھی روکتی اور حوصلہ شکنی کرتی ہے، مثال کے طور پر زنا جیسا قبیح و شنیع فعل شریعت نے اس کو حرام کرنے کے ساتھ اس کے ممکنہ اسباب اور مقدمات  (یعنی اس کی طرف لے جانے والے اعمال) کو بھی حرام کر دیا ،جیسےغیر محرم عورتوں کی طرف دیکھنا یاان کے ساتھ خلوتاختیار کرنا وغیرہ ۔اسی لیے قرآن کریم میں زنا کے قریب لے جانے والے اعمال چاہے وہ ظاہری ہون یا مخفی ان سے ہمیں روک دیا گیا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام آیت : 151 میں ہے:

 وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ  

’’اور یہ کہ بے حیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ یہ کھلی ہوں یا چھپی ہوں‘‘

 کفار کے یہ غیر اسلامی اور غیر اخلاقی تہوار بھی کئی ایک برائیوں اور فساد کا سبب  ہیں، اسلیے شریعت نے ہمیں ان کی نقالی اور تشبیہہ سے روکا ہے کہ یہ جہاں اجتماعی برائیوں کا فخریہ اور اعلانیہ اظہار ہیں وہاں یہ دوسری برائیوں ،منکرات کو قوت دینے اور معاشرے پر اثر انداز ہونے کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں۔

پانچواں سبب:غیر اسلامی تہواروں کو اپنانا ذہنی غلامی کا اعتراف ہے ۔

کسی بھی ظالم قوم یا ملک و ریاست کی دوسرے ملک پر جارحیت کی ایک اہم اور بنیادی ہتھیار یہ ہے کہ  اس میں بسنے والی قوم کو ذہنی و جسمانی اعتبار سے غلام بنادیا جائے تاکہ اس ملک اور اس کے وسائل سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ اور کوئی بھی غیرت مند قوم یہ نہیں چاہے گی کہ وہ ذہنی یا جسمانی طور پر محکوم ہوں۔ اسی طرح مسلمان قوم کی دینی و اسلامی غیرت و حمیت کا تقاضہ ہے کہ ہم کسی طور دوسری اقوام کی محکومیت نہ ہی جسمانی طور پر قبول کریں اور نہ ہی ان کی تہذیب یا تہواروں کو اختیار کرکے ذہنی محکومیت قبول کریں۔اصل غلامی ذہنی غلامی ہے، یہی در اصل پھر انسان کو جسمانی غلامی پر آمادہ اور قائل کر لیتی ہے آج اس ذہنی غلامی ہی کے اثرات و نقصانات ہیں کہ ہمارا سسٹم، روایات،عادات ہمارا انداز ، ہمارا لباس سب کفار کی تقلید کا عکس نمایان نظر آتاہے۔

لہٰذااسلام کی ان  تہواروں کو منانے سے روکنے کی اہم اور بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اس قبیح ، مذموم تہواروں کی آڑ میں یہ ہمیں جسمانی غلام تو نہیں بناسکتے مگر وہ اس کے ذریعے ہمیں متاثر کر کے ذہنی غلام بنانا چاہتے ہیں جو کہ جسمانی غلامی سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور اسی ذہنی غلامی کا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے امت مسلمہ پر یہود و نصاری کی طرف سے مسلط ہونے کا خد شہ ظاہر کیا تھا جیساکہ حدیث میں ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ»، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ: اليَهُودَ، وَالنَّصَارَى قَالَ :فَمَن ۔[3]

’’ تم لوگ ضروراپنے سے پہلی امتوں نقش قدم پر چلوگے (یہاں تک کہ) اگر وہ دو ہاتھ چلیں گے  تو تم بھی دو ہاتھ چلوگے وہ ایک ہاتھ چلیں گے تو تم بھی ایک ہاتھ چلوگےوہ ایک بالشت چلیں گے تو تم بھی ایک بالشت چلوگے حتی کہ اگر وگوہ کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم بھی داخل ہوگے، صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا پہلی امتوں سے آپ کی مراد یہودو نصاری ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا تو اور کون!؟۔‘‘

کفار کے پے در پے فکری حملے مسلمانوں کو اپاہج کرنے کیلئے ہی کئے جارہے ہیں اور یہ  غیر اسلامی تہوار ہمارے معاشرے کی سوچ کو بالعموم اور اسلامی تعلیمات و اقدار اور تہذیب سے نا آشناقوم کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ذہنوں کو کتنا آلودہ اور پراگندہ کررہے ہیں ۔ اور کس قدر ان کے خیالات اور افکارکفار و مشرکین کے تہواروں کے اسیر اور ذہنی غلامی قبول کر کے انتہائی سطحی اور محدود ہونے کے ساتھ منفی ہوچکے ہیں کہ کوئی بھی عمل چاہے اس کا تعلق اسلام کے عقائد و ایمانیات کے ساتھ کیوں نہ ہو، یا وہ کوئی اہم واجب اور حقوق کی ادائیگی ہو یا اخلاق اور شرم و حیا سے اس کا مضبوط اورگہرا تعلق بھی ہو مگر اس کے چھوڑنے یا چھوٹ جانے سے چاہے اس کی بنیاد کچھ بھی ہو ان کے ہاں کوئی معنی اور اہمیت نہیں رکھتامگر اس کے بر عکس کفار کی عادات اور روایات ، تہوار اور رسومات ہمارے خوشی کے مظاہرے یا غم کے مواقع پر بھی چھوٹ جائے تو اسے یہ نادان طبقہ اپنی جہالت اور پسماندگی کے ساتھ اپنے لیے شرمندگی اور عار تصور کرتاہے   ۔

یہ کیسی دردمندانہ بات ہے کہ ہم اپنی معاشر تی زندگی میں کفار کے عمل سے اس قدر متاثر ہوچکے ہیں کہ ان کی فر سودہ ، گھٹیااور چھوٹے پن کی علامت کسی حرکت و انداز چاہےوہ ذرہ برابر کیوں نہ ہو اسے کرنا کوئی معرکہ گردانتے ہیں، اور اسلام کی اعلی اقدار ، بلند سوچ اور وسیع نظری کی حامل کوئی ایمان کی علامت پر مبنی  اصولی بات یا ضروری عمل جو نفع اور مصلحت کے اعتبار اجتماعی فائدہ ہی کیوں نہ دیتی ہو ہم اسے غیر ضروری اور معمولی گردانتے ہوئے نظر انداز کر دیتے ہیں! نتیجتاًکفار کے کلچر کی نقالی اور تہواروں اور رسومات کی تقلیدکے بغیر آج ہمیں ہمارا نظام فرسودہ ،تعلیم غیر معیاری ،نصاب ادھورا ،کھیل و تفریح بے مزہ ،شادیاںسادہ و بے رونق ، لباس بوسیدہ ، بے ڈھنگ انداز غیر سنجیدہ افکار خیالات پسماندہ غرض کہ ہر چیز اور عمل جو کفار و مشرکین بالخصوص ہندوانہ عادات، روایات اور رسومات کے لایعنی و بے فائدہ و بے قاعدہ امتزاج اختلاط کے بغیر ادھورا و ناقص اور بے رنگ نظر آتاہے ۔یہاں  اس کی ایک مثال انگریزی زبان  کی ہم لے سکتے ہیں کہ ہم اپنی مادری زبان کے بعد اگر کسی زبان کو ترجیحی بنیادوں پرسیکھنے کی کو شش کرتے ہیں تو وہ عربی زبان نہیں بلکہ انگریزی ہوتی ہے ۔ آخر کیوں؟ ایسافرق اور بحران کس لیے ؟ہمارے  معاشرے کی ایک بزرگ تر بیت یافتہ ، دیندار ، متحرک اور ذمہ دار شخص جو بچپن سے ہی اچھے ماحول سے وابستہ ہووہ اور ایسا شخص جو  قرآن کریم کا دس فیصد ترجمہ اور عربی زبان کا دسواں حصہ بھی نہ جانتاہوگاخود کو برتر وبہتر سمجھے گا اور معاشرہ بھی اسے کوالیفائیڈ تصور کرے گا ۔ یہ سب مغرب کے بوسیدہ وناکارہ معاشرے کا اثر ہے جو ہماری ثقافت میں نظر آتاہے ؟

اہل کفر کی ثقافت کے پھیلاؤ کا بنیادی سبب انڈین اور مغربی فلمیں ڈرامے اور ان کے کلچر کی ہمارے ہر چوراہے پر موجودگی ہے۔

بہرحال غیر مسلم اقوام کی تمام اقسام کی محکومیت و غلامی سے محفوظ رہنے کا واحد طریقہ ا اللہ کی توحید اور اس کے تقاضوںپر عمل کرتے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری ہے۔

مختصرایہ کہ یہی وہ مفاسد اور محرومیاں اور فکری عمل کی زوال پذیری ،ذہنی و فکری غلامی ،منفی سوچ اور جمود وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے ایسے اعمال کو ناجائز قرار دیاہے ۔

غیر مسلموں کے مختلف تہواروں کے مفاسد کا جائزہ:

بعون اللہ و توفیقہ غیر اسلامی تہواروں کو منانے اور اپنانے سے ممانعت کے اسباب  اور اس کے مفاسد و اثرات کے بعداب ہم ان تہواروں کے شرعی و اخلاقی مفاسد و اضرار کو ان شاءاللہ دلائل شرعیہ اور عقلیہ کے ذریعے ثابت کریں گے ویسے تو کفار و مشرکین کے تہواروں کی کثرت کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید ان کی تعدادسال کے تین سو پینسٹھ دنوں سے بھی زیادہ ہو، مگر ہم صرف چار تہواروں کو بطور مثال کے ذکر کریں گے۔ یہ وہ تہوار ہیں جو کہ امت مسلمہ بالعموم  ہمارے پاکستانی اور معاشرے کابالخصوص نہ صرف حصہ بنتے جارہے ہیں بلکہ اس میں مضر و منفی اثرات اور نقصانات دیگر تہواروں کے مقابلےمیں کافی زیادہ  ہیں،ان تہواروں  کی تفصیل ملاحظہ ہو۔

ویلنٹائن ڈے: 

یہ ایک ایسا تہوار ہے کہ جس دن نوجوان لڑکے ،لڑکیاں ایک دوسرے کو محبت کے پیغام دیتے ہیں اورتحائف کا تبادلہ کیا جاتا ہے،رقص و سرور کی محفلیں قائم کی جاتی ہیں، جوکہ سراسر مغرب سے مسلمان اقوام کی طرف منتقل ہوا ہے۔ویلنٹائن ڈے کے نام پر فحاشی و عریانی اور آوارگی کی آگ کو ایندھن فراہم کرنے والی یہ گھٹیا رسم اور تہوار منانے والی قوم کی اولادیں دوسروں کو کیا محبت کاپیغام دیں گی جو حقیقی طورپرخود  اس سے محروم ہوں ۔ ایک نامعلوم باپ کے تصور کے ساتھ جنم لینے والی قوم کے یہ افرادجانوروں سے تو محبت کریں اور انہیں ہر دم اپنے ساتھ رکھیں لیکن اپنے والدین کو بڑھاپے میں اولڈہوم میں لاوارث چھوڑنے والےحقیقی پیار و محبت کے اصولوں سے ناآشنا، محروم تکلفات اور مصنوعیت کاشکار یہ اجنبی مرد و عورت سال میں ایک مرتبہ جس غیر اسلامی ، غیر فطری ، غیر اخلاقی اور شرم و حیا سے عاری تہوار کو مناتے ہیں،اسے ویلنٹائن ڈے کہتے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کی تاریخی حیثیت:

اس قبیح و مذموم تہوار کہ جس نے مغربی معاشرے کی فحش و بدنام تہذیب کی کوکھ سے جنم لیا ،ہر سال فروری کےمہینے کی چودہ تاریخ کو منایا جاتا ہے۔جس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نامی رومی پادری کو ایک راہبہ سے عشق ہوگیااور عیسائی روایات کے مطابق راہبوں اور راہبات کا آپس میں نکاح ممنوع تھا اور اس عشق کے نشے میں مدہوش راہب نے اپنی اخلاقی حد سے تجاوز کرتے ہوئے راہبہ کو اپنی جنسی خواہشات کے جال میں پھنسانے کے لیے ایک من گھڑت اور جھوٹی کہانی کچھ یوں سنائی کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ چودہ فروری کا دن ایساہے کہ اگر اس میں کوئی راہب اور راہبہ بغیر نکاح کے آپس میں جنسی تعلقات استوار کرلیں تو کوئی مضائقہ نہیں، راہبہ نے اس پر یقین کرتے ہوئے اس کے ساتھ اپنا منہ کالا کرلیا۔[4]

 اس خود ساختہ محبت پر مبنی تہوار مرد و عورت کے جنسی جذبات اور خواہشات کو بر انگیختہ کرنے والے لوازمات اور ناپاک جنسی عزائمو بے ہودہ خیالات کے تصورات کے ساتھ ا س قبیح مظہر/قبیح عمل کو بظاہرآپس میں پھولوں کے تبادلہ کی آڑ میں منایا جاتا ہے ۔

 ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت:

 ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت اور اس کی مزید برائیوں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

1-سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس کے منانے میں کفار سے تشبیہ اور ان کی تقلید ہے جوکہ شرعاً ممنوع اور حرام ہے اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہےکہ:

"مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ "[5]

’’جس نے کسی قوم سے مشابہت کی تو وہ ان میں سے ہے‘‘

2-اس تہوار کو مناناحیا کے منافی ہےاور اس تہوار کی بنیادین ہی نہ صرف   مسلمان بلکہ انسان کی فطری ، اخلاقی اور مثبت شرم وحیا جو کہ تقوی کے لباس کا اہم حصہ ہےیہ بے ہودہ تہواراس صفت سے  انسان کوعسری کردیتا ہے   اور  یہ ایمان کے لیے بھی خطرہ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ " [6]

’’حیا ایمان کا حصہ ہے‘‘

بہرحال  انسان کو برائیوں، منکرات، بے حیائی اور اخلاق رذیلہ سے روکنے والی رکاوٹ اور حد فاصل ، مضبوط آہنی دیوار ،صفتِ حیا ہی ہے ۔ جس کے کھو جانےکے بعد انسان سیئات و منکرات بالخصوص اخلاقی برائیوں کا مرتکب ہوجاتا ہے ، جیساکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد مبارک ہے:

"إِذَا لَمْ تَسْتَحْي فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " [7]

’’جب تم میں حیا نہ رہے توپھر جو چاہو کرو‘‘

3-  اس تہوار کیتیسری قباحت یہ ہے کہ جہاں ایک طرف اس کے منانے سے فحاشی و عریانی ، جنسی آزاوارگی کا خود ایک مظہر ہےتو دوسری طرف یہ قبیح و مذموم صفت زنا جیسے گھناؤنے فعل کی طرف لے جانے کا ایک بہت بڑا سبب بھی ہے قرآن کریم میں اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

"وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ "  (الانعام :151)

’’اور یہ کہ بے حیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ یہ کھلی ہوں یا چھپی ہوں‘‘

اور اسی طرح وہ لوگ جو ایک طرف اس تہوار کو اگرچہ نہیں بھی مناتے ہوں مگر وہ اس کی ترویج و انتشار کا معاشرے میں بالخصوص اگر ایمان والوں میں فحاشی کا سبب بن رہے ہوں اور وہ اس کو پسند بھی کرتے ہیںتو ایسے لوگوں کے لیے نہ صرف آخرت بلکہ دنیا میں بھی عذاب ہے جیساکہ سورۃ النور کی آیت:19 میں اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ  ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ  ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ

’’جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کے لئے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ اور (اس کے نتائج کو) اللہ ہی بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔‘‘

4- اس تہوار کے منانے میں فضول خرچی اور مال مصرف کا ناجائز اور غلط استعمال ہے کیونکہ اس تہوار کو منانے والے بعض اوقات بہت سے مالی حقوق جوکہ ان کے اہل خانہ کی طرف سے ان پر واجب الاداء ہوتے ہیں اس  مد سے ضروری رقم کو اس مذموم تہوار کے لوازمات و تقاریب اور تحائف و دیگر غیر ضروری اشیاء پر ضائع کر دیتے ہیں اور ایسی فضول خرچی سے اسلام نے ہمیں سختی سے روکا ہے اللہ رب ا لعالمین کافر مان ہے :

]ِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا[ ((بنی اسرائیل:27)

 ’’کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے۔‘‘

اور اس مال کے تصرف اور استعمال کے بارے میں قیامت کے روز سوال کیا جائے گا۔

بسنت:

دوسراتہوار بسنت کا تہوار ہےجو ہمارے معاشرے میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا چلا جا رہا ہے یہ وہ ہندوانہ تہوار ہےجوکہ ہرعیسوی سال کے فروری کے مہینے میں گستاخ ِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی یاد میں پتنگ بازی کر کے منایا جاتا ہےجو کہ اس تہوار کی اصل بنیاد ہے اگرچہ منانے والوں کی اکثریت شاید اس حقیقت سے واقف نہ ہو۔

اسلامی اقدار کی دھجیاں بکھیرنے والا ہندوانہ کلچراور روایات کا حامل یہ تہوار دراصل ہندوستان کا ہتھیار بھی ہے ،سب سے زیادہ جانی نقصان اسی تہوار سے  ہی ہمارےمعاشرے کو پہنچتا ہے ، جو ہمارے خلاف اس کی یک طرفہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے ،جس میں پتنگ بازی ہلڑ بازی، بے پناہ فائرنگ، چیخ و چنگاڑنا،کانوں کے پر دے پھاڑ میوزک ، شراب وکباب اور رقص و سرور کی محفلیں اس مذموم تہوار  کا لازمی حصہ اور جزء لاینفک تصور کی جاتی ہیں۔

تاریخی حیثیت:

تاریخی پس منظر کے اعتبار سے ایک کثیر الاشاعت روزنامے کی رپورٹ کے مطابق دوسو برس قبل لاہور کے ایک ہندوطالب نے رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان اقدس میں گستاخی کی جرأت کرتے ہوئے شتم طرازی کی، چنانچہ جرم ثابت ہونے پر مغلیہ دور کے قاضی نے اسے موت کی سزاسنائی چونکہ اس نے خود بھی اقرار جرم کرلیا تھا تو فیصلہ پر عمل در آمد کے نتیجے میں اسے پھانسی پر چڑھایاگیا اور ہندؤں نے اس واقعہ کو ایک یادگار کے طور پر بسنت کا نام دے کر پتنگ بازی کے تہوار اور رسم سے منسوب کردیا۔ (بحوالہ روزنامہ نوائے وقت 4 فروری 1994)

 ایساگستاخانہ واقعہ اور قبیح پس منظر رکھنے والی یہ ہندو انہ فضول رسم جو ایسی مخرب الاخلاق عادت ہے جو پتنگ اڑانے کے ساتھ اس محفل میں شریک لوگوں کی عقل اور شرم و حیا کو بھی اڑادیتی ہےبلکہ نشہ کی مانند اس تماشے کے لیےغربت اور مہنگائی کی چکی میں پسی اور بحران زدہ معیشت کے بوجھ تلے دبی ہوئی اس قوم کے کروڑوں روپے اس تہوار کی جلتی بھٹی میں پُھونک دئیے جاتے ہیں۔

شرعی حیثیت:

جہاں تک کہ اس کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے تو اسے منانا قطعی طور پر جائز نہیں بلکہ حرام اور ایک خطرناک ترین عمل ہے کیونکہ ایک طرف یہ خالصتاً ہندوانہ رسم ہے اور مشرکین کا شعار ہے اور کفار و مشرکین کے رسم و رواج کی مشابہت اسلام میں حرام ہے، جیساکہ حدیث میں آتاہے:

"وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ "   [8]

’’اور جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے‘‘

نیز دوسری طرف رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں ایک گستاخانہ واقعہ کا پس منظر بھی رکھتی ہے۔ اس کے حرام اور ناجائز ہونے کے لیے اتنا ہی کا فی تھا کہ یہ غیروں کا تہوار ہے لیکن گستاخی کی اس نسبت نے اس کے خبث میں اور اضافہ کر دیا ہے، ایک مسلمان کے لیے اس تہورا کو انتہائی قابل نفرت  اور ناقابل تصور ہونا چاہیے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کچھ نام نہاد دانشور، مفکر، سیاست دان اور فنکار اس کو بھی تفریح کا نام دیتے ہیں اور کبھی اسے موسم سے منسوب کرنے کی کو شش لاحاصل کرتے نظر آتے ہیں لہٰذا اس ہندوانہ رسم وتہوار ’’بسنت ‘‘ کو دنیا کی واحد ہندو ازم کی علمبردار ریاست ہندوستان کے اسکولوں کے نصاب میں بطور کہانی کے شامل کیاگیا ہے اور پھر کیوں کر اس تہوار کو مسلمان ہونے کے ناطے منایا جاسکتا ہے؟

 جس قوم اور ملک کی طرف یہ تہوار منسوب ہے اس کی تاریخ صدیوں سے مسلمانوں کے خلاف جنگ ان کی نسل کشی، سازشوں، ظلم و زیادتی اور تباہی و بر بادی بالخصوص قرآن کریم ، شعائر اسلام اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی جیسے واقعات سے بھری پڑی ہے بلکہ آج تک یہ سلسلہ جاری ہے، کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور ناجائز تسلط اور وہاں کے لوگوں کے جان ومال عزت و آبرو کا لٹیرا دشمن پاکستان سے ایک سے زائد جنگیں لڑنے والاہمارے وجود کے خاتمے کے درپے اور بے چین عیار و مکار ہندو ہمیں زمین سے لگائے اور ہم اس کا پھریرا(پتنگ)ہوا میں اڑا کر اس کا گھٹیا تہوار منائیں۔۔۔۔؟ کشمیر و پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں کھلا کھلم خطرناک و ناپاک عزائم رکھنے والا ہمارے خلاف اپنی دولت کو فوجی طاقتکے اضافے اور ہمارے خلاف جنگی مہم جوئی میں خرچ کرے اور فکری شر پسند عناصر ہمیں اپنی دولت کو ان کے تہواروں میں صرف و خرچ کرنے کی باتیں کریں۔

دوسری قباحت  :قیمتی جانوں کا ضیاع

بسنت جو کہ دوسرے تہواروں و رسموں سے منفرد رکھتی ہے کہ ہر سال سب سے زیادہ جانی نقصان بسنت کے منانے سے ہوتا ہے اور بلا مبالغہ بیسیوں افراد پتنگ کی ڈوریوں بجلی کی گری و ٹوٹی تاروں کے  کرنٹ لگنے، چھتوں سے گرنے ،پتنگیں لوٹتے ہوئے گاڑیوں سے ٹکرانے، ٹھوکر لگنے اور دیگر وجوہات کی بنا پرہلاک و زخمی ہو جاتے ہیں۔ لہذا یہ تہوار ہندوانہ و کافرانہ ہونے کے ساتھ ظالمانہ، مجرمانہ، وحشیانہ اور سفاکانہ بھی ہے جس کے منانے سے انسان اپنی اور دوسروں کی جانوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ ہلاکت میں دھکیلتا ہے جبکہ اللہ ارحم الراحمین کا فرمان مبارک ہے کہ :

[  وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ]     (البقرۃ آیت 195)

 اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

تیسری قباحت:مسلمانوں اور پڑیسیوں کو ایذاء و تکلیف دینا

 ایک اچھے مومن مسلمان کے اوصاف حمیدہ میں سے ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ ہر ایسے عمل سے دور  بھی رہتا ہے کہ جس پر چلنے سے اس کے کسی مسلمان بھائی بالخصوص پڑوسی کو کوئی تکلیف یا پریشانی لاحق ہو، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ:

"اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"

حقیقی مسلمان (تو) وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

مگر بسنت کا یہ تخریبی تہوار ان اخلاقی اصولوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتا ہےشور شرابہ، بد تمیز میوزک ، بجلی کے فیڈر کا بار بار ٹرب ہونا، سب سے بڑھ کر کسی کی جان کو پتنگ کی ڈوریوں سے خطرے میں ڈالنا ، راستہ بند کرنا، گھر میں مریضوں، بچوں کو پریشان کرنا اور بہت کچھ مفاسد بلا واسطہ یا بالواسطہ اس بسنت کے تہوار کےنتائج ہوتے ہیں، جو اس علاقے میں رہنے والے مکینوں کو اذیت کی صورت میں سہنے پڑتے ہیں۔ان نقصانات کی موجودگی میں اس تہوار کو منانا کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور نہ ہی یہ کھیل و تفریح کی اس طرح کوئی صورت بنتی ہے۔

چوتھی قباحت:اموال واسباب کا ضیاع

 اس تہوار کے منانے سے مالی اعتبار سے اپنے آپ اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ قومی اداروں کی املاک جو کہ قوم کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے کی تخریب و ضیاع کا سبب بھی بنتی ہے، مثال کے طور پر بسنت پر لائٹنگ کر کے بجلی کا غیر ضروری استعمال کرنا یا چوری کی بجلی سےبرقی آلات  روشن کرنا پھر پتنگ بازی کے نتیجے میںبجلی کے  فیڈروں کا ٹرپ ہونا اور پھر رونما ہونے والے حادثات جو بجلی کی تاروں پتنگوں کو لوٹنے اور ڈوریوں کے پھرنے سے یا سے اڑانے سے پیش آتے ہیں ان جانی و مالی نقصان کی تلافی کے لیے خرچ کی جانے والی رقم جو کہ کروڑوں میں بنتی ہے یہ ہماری انفرادی و اجتماعی آمدنی اور ملکی خزانے اور معیشت پر منفی اثر پہنچانے کے ساتھ کفران نعمت بھی ہے جس کی سزا ہمیں مہنگائی، غربت، بے برکتی، آفتوں اور بحرانوں، دشمنوں کے خوف کی صورت میں مل رہی ہے اللہ رب العالمین کی دی ہوئی سب سے بڑی نعمت ایمان اور پھر امن و عافیت، صحت و دولت آزادی و خود مختاری ان سب کی یہ ناشکری اور ناقدردانی ہی ہے کہ جسے ہم بسنت اور اس جیسے تہوار رسومات منا کر اس کا اظہار کر رہے ہیں لگتا ہے ہمارا حشر بھی (نعوذ باللہ) گزشتہ ان اقوام  جیسا نہ ہوجن کا تذکرہ قرآن کریم میں یوں بیان ہوا:

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ (النحل:112)

’’ اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے۔ جو امن و چین سے رہتی تھی اور ہر طرف سے اس کا رزق اسے بفراغت پہنچ رہا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کا مزا یہ چکھایا کہ ان پر بھوک اور خوف (کا عذاب) مسلط کردیا‘‘

 بسنت تہوار کی شرعی حیثیت دلائل واقعات کے تجزئیے کے بعد بالکل واضح ہو گئی کہ یہ منافع اور دینی مصلحتوں کے اعتبار سے معصیت اور فساد کی علامت ہے لہذا اس کا منانا ناجائز اور غلط ہے۔

 ہیپی نیو ائیر:نئے سال کی مبارکباد

اس  عالم میں بسنے والے تمام لوگ اپنی جنس کے اعتبار سےبشر اور انسان ہیں مگر دین اور مذہب کے اعتبار سے اپنی الگ الگ پہچان اور شناخت رکھتے ہیں اوران کے  نظام زندگی کے لیے وضع کیے گئے قوانین و ضوابط اور طریقہ کار جداگانہ اور مختلف ہیں لیکن ان سب نظاموں میں سب سے بہتر کامیاب، معتدل و جامع اور کائناتی و فطری تقاضوں کے عین مطابق اور مناسب نظام دین اسلام کا نظام ہے جو اپنے ماننے والوں کو زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے اور اسلامی نظام کی شقیں اور اجزاء دیگر نظاموں کی شقوں پر امتیازی و انفرادی خصوصیت اور برتری بھی رکھتی ہیں ان میں سے ایک نظام الاوقات بھی ہے جو اپنے دنوں مہینوں اور سالوں کے اعتبار سے نہ صرف منفرد ہے بلکہ اپنی تاریخ کے اعتبار سے سب سے قدیم اور اول بھی ہے اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

[ اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ  ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ڏ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ


كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً   ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ ]  (التوبۃ آیت 36)

جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس دن سے اللہ کے نوشتہ کے مطابق اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہی ہے، جن میں چار مہینے حرمت والے ہیں ۔ یہی مستقل ضابطہ ہے۔ لہذا ان مہینوں میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو، جیسے وہ تم سے مل کر لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔

نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایک طرف ہم اسلام کی روشن تعلیمات کی پر نور اور دلبہار حسین وادی سے دور نکل کر جہالت کی تاریکیوں و اندھیروں کے صحراؤں میں بھٹک رہے ہیں تو دوسری طرف ہم مغرب کی سیاہ تہذیب کے رنگوں کی سیاہی سے اپنے دل و دماغ کی روشنی کو مدہم کر چکے ہیں ۔نتیجتاً ہمارے معاشرے کی اکثریت اس بات کا سرے سےاسلامی سال اور اس کے مہینوں کے ناموں کے بارے میں علم ہی نہیں رکھتی چہ جائیکہ کہ تمام تر معاملات میں اسی کو اپنانے کی کوشش کی جائے اور اس کے برعکسعیسائیوں  کے سال اور مہینوں کے مطابق ہمارے معاملات گزر رہے ہیں۔

   نیو ہیپی ائیر کے نام سے ہر سال کے اختتام پر اکتیس دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی شب کو نئے سال کے آغاز پر جو تہوار کے نام پر پاگل پن کا مظاہرہ ہوتا ہے اسے نیو ہیپی ائیر کہتے ہیں۔ یہ تہوار اور خوشی کم اور کفار کی غلامی، بے حیا اور بے پرواہ ہونے کا اظہار اور علامت زیادہ نظر آتی ہے ۔جس میں شرم و حیا کی تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے اور اخلاق و آداب کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے، شور شرابہ، اوٹ پٹانگ حرکتیں، ناچ گانے اچھل کود کرتے ہوئے ،یہ نادان لڑکے اور لڑکیاں آزادانہ اور مخلوط ماحول میں میوزک پر رقص کرتے  ہوئے جہالت اور حیوانیت کا ثبوت دیتے نظر آتے ہیں۔

ہیپی نیو ائیرمنانے کے مفاسد:

  عقل و اخلاق سے ماوراء اس تماشے کے مفاسد اور نقصانات کی بات کریں تو وہ چیدہ چیدہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔

پہلانقصان : اس تہوار کے منانے کا پہلا نقصان یہ ہے کہ یہ سراسر کفار مغرب کی ایک لایعنی بھونڈی قسم کی تقلید اور مشابہت ہے بلکہ سمجھ میں نہ آنے والی، فضول حرکتوں میں سے ایک ہے ،جس کے بارے میں محسن ِانسانیت مصلح الامۃ رحمۃ للعالمین نے ارشاد فرمایا تھا کہ کفار کی تقلید اور مشابہت کے اندھے پن پر مبنی، عقل سے ماوراء ایسے مظاہر دیکھنے کو ملیں گے کہ بالفرض بغیر کسی وجہ کے اگر وہ گو کے بل میں داخل ہو جائیں گے تو میری امت کے بھٹکے ہوئے لوگ بغیر سوچے سمجھے یہ عمل بھی کر بیٹھیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ:

"لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بَاعًا بِبَاعٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، وَشِبْرًا بِشِبْرٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ فِيهِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: «فَمَنْ إِذًا"[9]

تم لوگ ضرور اپنے سے پہلے امتوں کے نقش قدم پر چلو گے (یہاں تک کہ) اگر وہ دو ہاتھ چلیں گے تو تم بھی دو ہاتھ چلو گے وہ ایک ہاتھ چلیں گے تو تم ایک ہاتھ چلو گے وہ ایک بالشت چلیں گے تو تم بھی ایک بالشت چلو گے حتی کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم بھی داخل ہو گے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ پہلی امتوں سے آپ کی مراد یہود و نصاری ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا تو اور کون؟

 حدیث کے مفہوم کے مطابق کفار کی تقلید اور اندھا دھند بغیر سوچی سمجھی کی جانے والی نقالی میں اسلام کا نام لینے والے دعویدار مسلمان شرم وحیا کے ساتھ اس بات کو بھی نظر انداز کر دیں گے کہ یہ چیز عقل کے خلاف ہے بلکہ انسانیت کے لیے مضر اور ناقابل برداشت ہے اور اس پرمستزاد یہ کہ عین شیطانیت، حیوانیت اور وحشی و جنسی دردنگی کی علامت ہے۔

دوسرا مفسد: اس تہوار کے منانے کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ جن برائیوں اور فحش حرکات کا ارتکاب اس میں کیا جاتا ہے وہ گناہ کبیرہ اور حد سے تجاوز کرتی ہوئی ایک خطرناک نشانی ہونے کے ساتھ مہلک اثرات سے بھرپور ہمارے اس اسلامی معاشرہ کے لیے زہر قاتل بھی ہے کہ جس میں اجتماعی طور پر اعلانیہ و فخریہ انداز میں ایک دوسرے کو ترغیب دے کر ساحل سمندر اور دوسرے تفریحی مقامات پر ان برائیوں و منکرات کے لیے بلایا جاتا ہے اور ایسی رسومات و تہوار میں تعاون کرنا یا شرکت کرنا اور کسی بھی طرح سے اس کا حصہ بننا حرام ہے۔

فرمان باری تعالی ٰہے :

[  ۘوَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۠ ](المائدہ: 2)

 ’’نیکی اور خدا ترسی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، ااور گناہ اور سرکشی کے کاموں میں تعاون نہ کرو ‘‘

 نیکی کا تقاضہ اور تقوی کی علامت یہ ہے کہ گناہ و زیادتی کے کا موں میں کسی کا ساتھ نہ دیاجائے۔

تیسرانقصان :

وہ یہ ہے کہ دوسرے تہواروں سے قدرے مختلف ہے وہ یہ کہ احتساب نفس کے بجائے اترانا اور بے پرواہ ہونا۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کی تخلیق کا مقصد اپنی عبادت بجالانابتایا ہے،اور اسی عبودیت کے امتحان لینے کے لیے اس پر کچھ ذمہ داریاں اور فرائض و نواہی سونپے گئے ہیں،اور چونکہ لفظِ عبودیت ، بندگی، عاجزی و انکساری اور تذلل کے ساتھ اپنی خامیوں و نقص کا اقرار اور کمی و کوتاہی کا اعتراف اور نفس میں افراط و تفریط میں پڑنے کے یقین کا مفہوم بھی رکھتاہے لہٰذا فرائض کی ادائیگی اس پر  ثابت قدمی اختیار کرنا اللہ ارحم الراحمین کا ہر حال میں شکر اداکرتے رہنا  پھر اعمال صالحہ کی قبولیت کی دعااور امید رکھنا ااور اپنے عمل کو ضائع ہونے سے بچانا اور اسی طرح نواہی و منکرات اور مکروہات کے ارتکاب پرہوجانےوالی زیادتی و نقصان پر احتساب نفس کرتے ہوئے توبہ و رجوع کرنا اور کمزور ی نقص پر عاجزی و انکسار ی اور اپنی عملی کوتاہیوں پر فکر مند ہونا اسلام نے اسے ایمان والوں کی علامت و اوصاف قرار دیا ہے جبکہ اس کے برعکس عبودیت (بندگی) کے مفہوم کے منافی عمل نیو ہیپی ائیرمنانے والےلوگوں کا مقصد زندگی کو ضائع کرنا اور وقت کو برباد کرنا اور اپنی جوانی کو لغو اور فضول خواہشات کے پیچھے چلانے اور صحت اورفراغت کو غلط استعمال کرنے پر منحصرہوتا ہے ،یہ تہوار منانے والے کمی و کوتاہی اور نقص و کمزوری کا اعتراف کرنا تو در کنار بلکہ غفلت و لاپرواہی پر اترانے اور ڈھٹائی کے ساتھ فخر کرتے ہوئے اعجاب کا شکار نظر آتےہیں یعنی گزشتہ سال کے بارہ مہینوں میں ہونے والی غلطیوں، برائیوں پر نہ انہیں کوئی پشیمانی ہے نہ ہی نیکیوں میںکمی اور گناہوں میں اضافے پر کوئی ندامت ہے اور نہ ہی اس کے برے انجا م کے ڈر کی کوئی پریشانی ہے اور نہ ہی زندگی کا ایک قیمتی سال کم ہونے اور آخرت کی زندگی کے قریب قریب آنے پر انہیں کوئی غم و فکر لاحق ہےیہ ان نعمتوں میں سے ایک ہےکہ جس کی اکثر لوگ ناقدری کرکے گھاٹے میں رہتے ہیںجیساکہ حدیث میں ہے کہ :

" نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ "  [10]

’’دو نعمتیں ایسی ہیں(کہ) اکثر لوگ (ان کے غلط استعمال کی وجہ سے) گھاٹے میں رہتے ہیں صحت اور فراغت‘‘

اپریل فول:

اپریل فول  کا حیران کن اور منفی پہلو جسے جان کر ہر سچائی پسند، مثبت سوچ رکھنے والے، معتدل مزاج ، باشعور اور سنجیدہ شخص کو یقینی حیرت ہوگی کہ اس قبیح و مذموم تہوار جس پر اس کی بنیاد ہے اس کی اساس منافقانہ خصلت کی علامت دوغلے پن کی نشانی اور شرمندہ کردینے والی منفی صفت اور بد ترین خامی صرف جھوٹ پر قائم ہے ، یعنی اگر کوئی شخص اس تہوارکو مناتے وقت جھوٹ نہ بولے تو یہ تہوار منایا ہی نہیں جاسکتا حالانکہ دیکھا جائے تو زمانہ قدیم و حدیث کے ہر مہذب ، باوقار معاشرے میں بلکہ تمام ادیان و مذاہب میں یہ ایک ناپسندیدہ فعل تصور کیا جاتاہے، لیکن چونکہ کفار اور مشرکین بالخصوص مغربی کلچر کی خرابی اور فسادیہی ہے کہ خوشی یا کھیل کاموقع ہو یا کوئی رسم و تہوار کی بات ہو تو اخلاقی حدود اگر پامال ہوتی ہوں باہمی عزت و احترام وحقوق کی نفی بھی ہوتی ہو پاگلوں اورجانورں جیسی حرکتیں کر کے کسی کو ذہنیکوفت  ہی کیوں نہ ہوتی ہوکسی بیمار شخص کے آرا م میں خلل ہی کیوں نہ پڑتاہو یا کسی کا جانی و مالی نقصان ہی کیوں نہ ہوجائےتو ان کے یاں کوئی عار کی بات نہیں اس کے مقابلے میں اسلام کی روشن وجامع اور اپنے مقاصد و محاسن کے لحاظ سے کامل حکمتوں اور مصلحتوں سے بھر پور آفاقی تعلیمات کی خوبیاں اور اچھائیاں اپنی مثال آپ ہیں اسلام انسانی زندگی کے ہر شعبہ کا نہ صرف احاطہ کرتاہے بلکہ زندگی کے ہر مرحلہ اور موقع چاہے وہ خوشی کا ہو یا غمی کا اس کی نہ صرف درست راہنمائی کرتا ہے بلکہ اس کے لیے ایسے اصول و ضوابط وضع کرتاہے کہ جن کی حدود میں رہ کر وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں سے عہدہ بر ہو سکتاہےچاہے وہ حقوق اللہ میں سے ہوں یا حقوق العباد میں سے فطری خواہشات وارادات کی جائز و مباح تکمیل ہو ، کھیل و تفریح ہو یا ہنسی مذاق ایسی تمام خوشیوں اور صحت مندانہ سرگرمیوں کواسلام اخلاق و اعتدال باہمی احترام ، سچائی اور تکلیف و اذیت ، جانی و مالی نقصان کے اسباب ووجوہات سے مبرا ایک دائرے میں لاتاہے تو کفار کے تہوار کے مظاہر ان زریں اصولوں کو جزوی یا کلی اعتبارسے پامال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپریل فول انہی تہواروں میں سے ایک ہے کہ ہنسی مزاح اور تفریح کے نام پر جھوٹ بولنا ان کے ہاں گویا کہ یہ کوئی اخلاقی برائی ہی نہیں اسی لیے اسے اہل کفر نے باقاعدہ تہوار کی شکل دے کر اسے نہ صرف ایک معاشرتی برائی بنالیا بلکہ اپنی انفرادی و اجتماعی منفی و سطحی سوچ بھی دنیا پر آشکا ر کردی کہ ان کے ہاں تہذیب اور روشن خیالی اسی چیز کا نام ہےاور جہاں تک اس کی باقاعدہ رسمی تعریف کی بات کی جائے تو ہر عیسوی سال یکم اپریل کو منائے جانےوالے اسکفریہ  تہوار کی تعریف ، بی۔ ایم ۔ ای پریکٹیل ڈکشنری کے مطابق اپریل فول کا مطلب دوسروں کو احمق بنانے کی رسم ہے۔

 

 تاریخی حیثیت:

تاریخی اعتبار سےیہ تہوارتقریبا ڈیڑھ سوسال پرانا ہے جس کا پس منظر یہ ہےکہ 31 مارچ 1846ء کو ایک انگریزی اخبار ایفنج سٹار نے اپنی اشاعت میں اعلان کیا کہ کل یکم اپریل کو فلاں شہر کے زرعی فارم میں گدھوں کی نمائش کا میلہ لگے گا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی ،کافی دیر انتظار کے بعد تھک ہار کر جب انہوں نے پوچھنا شروع کیا کہ میلہ کب شروع ہو گا تو انہیں بتایا گیا کہ جو گدھوں کی نمائش دیکھنے میلہ میں تشریف لائے ہیں درحقیقت وہی لوگ گدھے ہیں،

 اورجہاں تک اس کی حرمت اور قباحت کی بات کہی جائے تو کم ازکم پانچ وجوہات کی بناءپریہ تہوار منانا حرام اور باعث گناہ ہے۔

1-اس تہوار کی اصل اور بنیاد جھوٹ پر مبنی ہے اور جھوٹ بولنے کو شریعت اسلامیہ نے حرام قرار دیا ہے جیساکہ حدیث میں ہے:

 }إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى البِرِّ، وَإِنَّ البِرَّ يَهْدِي إِلَى الجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا. وَإِنَّ الكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الفُجُورِ، وَإِنَّ الفُجُورَ يَهْدِي إِلَى  النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا ۔[11]

بلاشبہ جھوٹ نافرمانی کی طرف لے جاتاہے اور نافرمانی جہنم کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور یقیناً آدمی جھو ٹ بولتارہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں وہ جھوٹا لکھ دیا جاتاہے۔

1-اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جھوٹ حرام ہونے کے ساتھ برائی اور جہنم کی طرف لے جانے والا مذموم عمل اور ایک اہم سبب بھی ہے ۔

2-دوسری وجہ یہ ہے کہ آدمی جھوٹ بول کر اپنے مسلمان بھائی کی بے توقیری اور شرمندگی کا باعث بنتاہے اور ایسابھی ممکن ہے کہ وہ اس کی ساکھ کو متاثر اور خراب کرنے اور اس کی ذہنی ومالی پریشانی کا باعث اور سبب بھی بن سکتاہے ۔ جبکہ مسلمان کی اہم خوبی اور وصف جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان مبارک سے یہ بیان ہوا  ہے کہ:

"المسلم مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ "[12]

بہترین مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔

تو ایک غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ اور دوسروں کے لیے پریشانی اور اذیت کی منفی سوچ رکھنے والاشخص تواسے تفریح کا نام دے سکتاہے مگر ایک اچھے مسلمان اور ہمدرد انسان کی ہر گز یہ صفت نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک ایسی برائی کا حصہ بنے جس سے ارد گرد کے ماحول میںبے چینی کی کیفیت اور غلط فہمیوں کی فضا اور عزت نفس کے مجروح ہونےکا خدشہ  عمل جھوٹ سے اس کی کوئی نسبت اور تعلق کو ظاہر کرے۔

3-تیسری وجہ اس حرمت  و ناپسند یدگی کہ یہ ہے کہ جھوٹ بول کر کسی کو خوش فہمی یاغلط فہمی ، دھوکہ یافریب میں ڈال کر بعض اوقات اسے کسی اہم وضروری اور ذمہ داری والے بالخصوص فوری قابل عمل کا م سے دور یا موخر یا تبدیل کراکے اس کی کسی ایسے غیر اہم کا م کی طرف دھیان اور توجہ پھیر دی جاتی ہے کہ جوصرف اور صرف خیالی ، تصوراتی ہوتاہے ۔ وقت کی بربادی ، ذہنی اذیت و تکلیف کے ساتھ پیسوں کے ضیاع اور لوگوں کی آپس میں ناراضگی اور دوری کا سبب بھی بنتاہے مثال


 کے طور پر کسی مہمان کے آنے یا کسی حادثہ کے ہوجانے یا کسی چیز کے کھو جانے کی جھوٹی خبر اگر کسی شخص کی دی جائے تو کتنی غلط فہمیاں ، پریشانیاں مال اور وقت کے نقصان کی ممکنہ صورتیں سامنے آسکتی ہیں یہ ہر سنجیدہ اور داناشخص بالخصوص جو ایسے واقعات کو سن چکایا اس سے گزر چکا ہے اچھی طرح اور وہ جانتا ہے کہ ایسے جھوٹے عمل کو ہر گز برداشت نہیں کرے گا تو یہ سب باتیں دھوکہ کے زمرے میں بھی آتی ہیں اور دھوکہ دینے والا شخص نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان کے زمرے میں آتاہے : (من غش فلیس منا)

جس نےدھوکہ کیا تو وہ ہم میں سے نہیں

4-چوتھی وجہ اس فضول تہوار کیحرمت  یہ ہے کہ اسلام کے مخالف جتنے بھی ادیان و مذاہب اور نظریات و افکار ہیں وہ حقیقت اور سچائی کے بر عکس باطل اور جھوٹ پر مبنی ہیں ۔کفار اور مشرکین کے توحید و رسالت اسلام و ایمان کے ارکان اور قرآن کریم سے متعلق جو بھی اور جتنے بھی باطل اور کفریہ عقائد ہیں ان کو قرآن کریم نے جھوٹ اور اس قبیح صفت سے متصف لوگوں کو جھوٹا کہا ہے جوکہ ان کی رگوں اور نسوں میں سرائیت کر چکاہے اور ان کی زندگی کا حصہ بلکہ اصول بننے کے ساتھ ایسے تہوار کے طور پر مناتے ہوئے اس کا بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے بر ملا اظہار کرنے سے بھی نہیں کتراتے اور یہی کفار و مشرکین کی منفی عادات و رویئے  ہیں کہ جس کی بناءپر ہمیں انکی مشابہت سے منع کیا گیاہے جیساکہ حدیث میں ہے کہ :

"من تشبہ بقوم فہو منہ"

جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت کی تو وہ ان ہی میں سے ہے ۔

5-پانچویں وجہ اس کیحرمت کی یہ ہے کہ اپریل فول جس صفت کی بنیاد پر یہ فرسودہ اور سطحی خیالات اور بوسیدہ عمارت قائم ہے یہ در اصل حقیقت کے متضاد جہاں ظاہر ی خرابی کی بد ترین شکل ہے وہاں یہ انسان کی باطنی منفی صفت کی ایک نشانی اور علامت بھی ہے اور عمل اور نیت کے اس متضاد یعنی ظاہری و باطنی فرق کو شریعت نے نفاق سے تعبیر کیا ہے کہ دل کی سوچ اور خواہش اور ارادہ کچھ ہو اور عملی اعتبار سے انسان کچھ اور ظاہر کرے ایسی دوغلی پا لیسی اور دو رخی پن کی کیفیت کے حامل  شخص کو شریعت نے منافقانہ عمل قرار دیا ہے نفاق اور منافق کی یہ علامت نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان کے مطابقسے واضح ہوتی ہے۔

 آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ 

منافق کی تین نشانیاں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ۔[13]

لہٰذ ا انسان کی یہ پوشیدہ قبیح خصلت جو اس کے لیے انتہائی خطر ناک اور سنگین امر ہے اور اس کی صورت ظاہری اعتبار سے اس وقت دوسرے پرواضح ہوتی ہے کہ جب ہو بات کرتے وقت غلط بیانی کرتاہے تو پھر کیونکر جھوٹ اور نفاق کی طرف لے کر جانے والی یہ رسم اور گھٹیا تہوار اور کفری و صلیبی شعار اپریل فول کو منایا جائےجو جھوٹ بولنے والی جھوٹی قوم کے جھوٹ پر مبنی خیالات و افکار اور حرکات و الفاظ کا مجموعہ اور مظہر ہو لہٰذا یہ کسی مسلمان کے نہ صرف لائق اور زیبا ہے اور نہ ہی کبھی اپنے اور کسی مسلمان بھائی کے لیے اس بات کو پسند جرے گاکہ علم انسانیت کے لیے سچائی پر مبنی دین اور نظام کی عظیم نعمت اور دولت سے سرشار کے مقابلہ میں کفار اور اہل باطل کے اس تہوار کو مناکر ان کے نے ہودہ اور فرسودہ نظام کو اہل اسلام میں پنپنے کا کوئی ذریعہ بنے۔

آخرمیں اس موضوع سے متعلق ضمناً یہ بات بھی بیان کرنا اہم اور ضروری ہے کہ اسلامی تہوار جیسے عید الفطر ، عید الاضحی اور اسی طرح خوشیوں کے مختلف مظاہر و مواقع جو اپنی ذات اور اصل کے اعتبار سے مباح و مشروع ہوںوہاں ہمیں ایسے تمام امور و عادات سے اجتناب اور دوری برتنی چاہیے جوکہ غیر اسلامی تہوار کا حصہ یا اس کے مشابہہ ہوں کاور اسی طرح خودساختہ تہواروں کو اسلامی نام دینے یا اسلام کی طرف منسوب  کرنے اور اسے منانے کی سختی سے مخالفت اور حوصلہ شکنی کریں چاہے وہ خوشی کے نام پر ہوں یا غمی کی آڑ میں بپا کیے جائیں جو خواہشات نفسی ، فحاشی و عریانی ، فرائض سے دوری، کفار و مشرکین کی نقالی یا ان سے مداہنت اور اندھی تقلید ، تعصب ، فرقہ پرستی ، قوم پرستی ، غلو، خودساختہ محبت ، جھوٹ، جہالت، فضول خرچی کے ساتھ صحابہ و اہل بیت سے بغض و نفرے اور ان کی شان میں گستاخی اور مسلمانوں کی کمزوری و نتشار اور دین سے دوری با لخصوص اسلامی حدود و شعائر کی تعظیم و احترام کے منافی امور کا سبب علامت یا اس کا بالواسطہ یا بلا واسطہ ذریعہ ہوں۔

اس مضمون کا حاصل بحث اور خلاصہ قارئین اور ہراس شخص سے جو مسلمانوں سے ہمدردی اور تڑپ رکھنے والے سے گزارش کی شکل میں یہ ہے کہ کفار و مشرکین بالخصوص یہود و نصاریٰ اور ہنود کی جنگ مسلمانوں کے ساتھ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ ، بالواسطہ بلاواسطہ جاری ہے اور یہ فکری جنگ بڑے پیمانے وسیع نیٹ ورک ، مکمل منصوبے اور تمام تر وسائل کے بھرپور استعمال کے ساتھ شعوری اور غیر شعوری انداز میں نظام زندگی کے ہر شعبہ میں میڈیا ، بشمول انٹرنیٹ ا خبارات ڈراموں، فلموں اور فحاشی و عریانی کے ہتھیاروں کے ساتھ فرسودہ تہواروں، رسموں، تعلیم و آرٹ، سیاحت ، کھیل و تفریح کی آڑ میں لڑی جارہی ہے جس کا اولین مقصد اور اہم ہدف اور ٹارگٹ اہل اسلام کو ایمانی دولت سے محروم کرنا ہے اور اسی طرح اسلامی تعلیمات کی حقیقت کو مسخ کرنا اور مسلمانوں کی دینی سوچ ، حمیت و غیرت کو مٹانا ، دفاعی ، عسکری، سیاسی ومعاشی میدان اور محاذ میں ان کی قوت اور طاقت کو تباہ کرنا اور انہیں غیرمؤثر، کمزور اور کھوکھلا بنانا ہے۔

جہاں تک کہ ان کے تہواروں اور رسموں کی مشترکہ قباحت کی بات کی جائے چاہے وہ کوئی سے بھی اور کسی بھی نام سے ہوں تو سوائے چندکے ان کی  اجتماعی خرابیاں یہ ہیں کہ ان میں کفار و مشرکین سے مشابہت، مال اوروقت کا ضیاع اور بربادی فحاشی و عریانی کے پھیلاؤ کا سبب ہونے کے ساتھ کفار کی فتنہ انگیز سازشوں سے ان کا ضرور بلاواسطہ یا بالواسطہ تعلق ہوتا ہے جو ہمارے لیے بالخصوص ہمارے گھرانے کے افراد کے لیے دینی و دنیاوی اعتبار سے سراسر نقصان اور خسارے کا باعث ہے۔ اللہ ارحم الرحمین ذوالجلال والاکرام ہمیں اسلام کی مصالح و خیر وبھلائی کی حکمتوں بھری سنہری تعلیمات کو جاننے سمجھنے اور عمل پیرا ہونے کے ساتھ اس کی نشر و اشاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین والحمد للہ رب العالمین

 

 



[1] صحيح البخاري :کتاب الاشربہ

[2] صحيح البخاري :کتاب التفسیر، باب قولہ ان قران الفجر کان مشہودا

[3] صحيح البخاري

[4] بحوالہ: غیر اسلامی تہوار بے حیائی کا بازار، صفحہ:37

[5] سنن أبي داود:كتاب اللباس ,باب في لباس الشهرة

[6] سنن النسائي:كتاب الايمان وشراعه با ب ذ كر شعب الايمان

[7] مسند أبي داود الطيالسي2/ 15

[8] سنن ابی داود :کتاب اللباس، باب فی لباس الشهرة

[9]  سنن ابن ماجه کتاب الفتن

[10] صحيح البخاري :كتاب الرقائق باب لا عيش ال عيش الاخرة

[11] صحيح البخاري :كتاب الادب, باب قول اللّٰه تعالیٰ.....

[12] صحيح البخاري : كتاب الايمان,باب المسلم من ....

[13] صحيح البخاري:كتاب الايمان ,باب علامة المنافق

Read 81 times
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

غیر اسلامی تہوار شرعی میزان میں

                                                            ابوریان المدنی

انسانیت کی دنیا وآخرت میں کامیابی کا ضامن دین اسلام ہے ۔ اور اس کی آفاقی تعلیمات کا محور منافع کا حصول اور مفاسد کا ازالہ ہے ۔ اسلام نے ان اسباب وذرائع کو اختیار کرنے کا حکم اور ترغیب دی ہے چاہے جس سے انسان کے  دین، جان ومال یا اس کی عزت و آبرو اور سوچ وعقل محفوظ رہ سکے۔ اسی  طرح ان  تمام نقصان دہ امور سے منع فرمایا ہے جو   اس کے ایمان ، جان و مال یا اس کی عزت و آبرو اور سوچ و عقل کو نقصان دیں۔اس سب  کا اعلیٰ و ارفع ترین ھدف اللہ رب العالمین کی رضا، اس کی خوشنودی اور اس کی لازوال نعمت اور فضل عظیم جنت کا حصول ہے جس کیلئے باری جل وعلا  جن و انس کو پیدا کیاہے ، فرمان باری تعالیٰ ہے :

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذاریات: 56)

’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیاہے کہ وہ میری عبادت کریں‘‘

چنانچہ دین اسلام کی تعلیمات میںکئی مقامات پر ان دو اصولوںکی طرف واضح اشارہ موجودہے، مثال کے طور پر شراب اور جوئے کی حرمت کی وجہ قرآن کریم میں اس انداز سے بیان ہوئی کہ یہ دشمنی ، نفرت پھیلانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے بھی روکتےہیں جیساکہ سورۂ مائدہ میں ہے ۔

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ   (المائدہ: 90)

’’ اے ایمان والو! یہ شراب اور یہ جوا یہ آستانے اور پانسے سب گندے شیطانی کام ہیں لہذا ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاسکو‘‘  ۔

نیز فرمایا:

اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوة ِ   ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ   (المائدہ: 91 )

’’ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو‘‘؟

کفا ر جو کہ اسلام اور اہل اسلام کے بد ترین دشمن ہیں، وہ مقابلے میں اپنے باطل اور کفرپر مبنی دین کو  اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لیے بھر پور جد و جہد اور کو شش کر رہے ہیں جس میں رفتہ رفتہ شدت آتی جارہی ہے ۔  لہٰذا روز اول سے ہی شیطان اپنی پوری طاقت ، زبردست وسائل اور منظم گروہوں اور چیلوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ان کے دین اسلام جسے قرآن کریم میں صراط مستقیم (سیدھی راہ) سے تعبیر کیا گیاہے ، سے ہٹانے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا چلا آرہاہے اور تا قیامت بتقاضۂ ابتلاءبشریت یہ سلسلہ جاری رہے گا۔  چنانچہ قرآن کریم نے شیطان اور اس کے اختیار کئے جانے والے تمام ہتھکنڈوں اور اس کے دھو کے میں آئے ہوئے لوگوں ، قوموں کی نشانیاں اور صفات و علامات اور ان کا دنیامیں بھیانک انجام اور آخرت میں بد ترین سزا کو بھی بیان کر دیا تاکہ ہدایت کے متلاشی عبرت پکڑ کر اُن کے راستے پر چلنے سے گریز کریں اور دنیا و آخرت کے خسارے اور تباہ کاریوںسے بچ جائیں۔ایسے گروہوں وا قوام کا قرآن کریم میں بالعموم کفار و مشرکین اور بالخصوص یہود و نصاریٰ کے طور پر ذکر کیاگیاہے اور اس حقیقت کو بھی قرآن کریم نےواضح طور پر بیان کیا ہےکہ یہود ونصاریٰ مسلمانوں سے اس وقت تک راضی نہیں ہو سکتے جب تک وہ ان کی ملت ، دین ، تہذیب و ثقافت کو نہ اپنا لیں فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ  وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ (البقرۃ:120)

’’ اور یہود و نصاریٰ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت تک کبھی خوش نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ ان کے دین کی پیروی نہ کرنے لگیں‘‘

ن قوموں کی چالیں کتنی خطرناک ہیں اس کا اندازہ آپ اس امرسے لگا سکتے ہیں کہ اللہ رب اللعالمین نے ہر نماز اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کو پڑھنا لازم قرار دیا ہے اور یہ وہ سورت ہے جس کے اختتام پر ’’غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ کا تذکرہ ہے ۔ صحیح حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’المغضوب علیھم‘‘ سے مراد یہودی اور’’ الضالین‘‘ سے مراد عیسائی ہیں۔اور ان ہی سے بچنے کی ہمیں تلقین کی گئی ہے کیونکہ یہ ہمیشہ اہل اسلام کیلئے شر ہی سوچتے ہیں خیر نہیں ۔ اسلام اور مسلمان سے نسبت رکھنی والی ہر شے کا وجودان کیلئے ناقابل برداشت ہے چاہے وہ قرآن کریم ہو یا دیگرشعائر اسلام جن میں  حدود اللہ، شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ، بیت المقدس پر حملہ ، یا حرمین کے حوالے سے ان کے خطرناک عزائم الغرض  (وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُھُمْ اَكْبَرُ) سورۃ آل عمران آیت 118)

’’ اور جو کچھ وہ اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے ہیں وہ اس سےشدید تر ہے‘‘۔

 کفار کی جنگ کاایک اہم حصہ نظریاتی  جنگ ہے جو وہ مسلمانوں سے مختلف محاذوں پرمختلف انداز سے  لڑ رہے ہیں ۔ جس کے ذریعے وہ ہمارے افکار، عقائد،دینی وثقافتی اقدار کو ٹارگٹک رہے ہیں ۔ کفر کے نظریاتی ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار غیر اخلاقی تہوار ہیں جو اپنی تاثیر، فساد اور نقصانات و بگاڑ کے اعتبار سے مسلمانوں کو وہ نقصان دے رہے ہیں جو کہ شاید وہ عسکری جنگ کے ذریعے بھی نہ پہنچا سکے ہوں ۔ماضی میں ان تہواروں کا دائرہ محدود ہونے اور پھر مسلمانوں کی دین پر استقامت اور غلبہ و قوت کے اعتبار سے امت مسلمہ پر ان کا اثر انتہائی قلیل اور کمزرور تھا ،مگر آج معاملہ برعکس ہوجانے کی وجہ سے اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے۔

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود      یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

زیر نظر مضمون کفار کے غیر اسلامی تہواروں کی شرعی حیثیت، ان کے مفاسد و اضرار اور امت مسلمہ پر اس کے اثرات اور ان  کے  نقصانات و مفاسدکو شرعی و منطقی دلائل کے ساتھ ضبطِ تحریر میں لایا گیاہے۔

غیر اسلامی تہواروں کی حرمت کے اسباب :

 ذیل میں سب سے پہلے میں غیر اسلامی تہواروں کی حرمت کے ان اسباب کو بیان کیا جاتا ہے ،جن کے پیش نظر ایسے تمام تہوار حرام قرار پاتے ہیں۔

پہلا سبب : ایمان کی حفاظت

سب سے بنیادی اور کلیدی وجہ  جس کی بنا پر ان تہواروں کو منانا حرام ہے، وہ ایمان کی حفاظت ہے ۔یعنی ایمان کے ضائع ہو نے یا کھوجانے کے خدشے کی وجہ سے ان کفار کی نقالی اور ان کے تہوار منانے کو شریعت نے حرام قرار دیا۔ لہذابحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ہم ایسے تمام امور سے دور رہیں جوہمیں ایمان سے دور  اور کفر کے قریب کردیں،جیسا کہ اللہ تعالیٰ  کا فرمان ہے:

وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ  (سورۃ المائدۃ آیت نمبر 5)

’’اور جس نے بھی ایمان کے بجائے کفر اختیار کیا، اس کا عمل برباد ہوگیا اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمانی تقاضوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے  کفار کی راہ کا انتخاب تمام اعمال کے ضائع  ہونے اور آخرت کے خسارہ کا سبب بن سکتا ہے۔ ایمان کی اللہ ارحم الراحمین کے ہاں کتنی اہمیت ہے اس کا انداز ہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے مگر ایمان سے محرومی (جو کہ سب سے بڑا فتنہ ہے) کو انسانی جان کے قتل سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا ہے جیسا کہ سورۃ بقرۃ آیت نمبر 217 میں ہے کہ

 ( وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ )

 اور فتنہ انگیزی قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔

 کفار کی بھی سب بڑی خواہش، کوشش اور سازش یہی ہے کہ اہل ایمان کو اسلام سے کفر کی طرف لوٹا دیں اگرچہ اس کے لیے انہیں قتال و خونریزی ہی کیوں نہ کرنی پڑے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

 (وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا)

( سورۃ البقرۃ آیت نمبر217)

’’اور یہ لوگ تو ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے۔ حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کر دیں‘‘

  اس آیت میں کفار کی مسلمانوں کے بارے میں گھناؤنی سوچ کی قلعی کھولی گئی ہے کہ جو قوم اگر طاقت رکھےتو ہمیں اسلام سے کفر کی طرف پھیرنے کے لیے جنگ و قتال سے بھی گریز نہ کرےجس کے مظاہر دنیا بھر میں دیکھے بھی جارہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جس چیز پر عالمی طور پر توجہ دی گئی وہ اپنے بے ہودہ و فرسودہ تہواروں کو مسلمانوں میں عام کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ مسلم امت اپنی دینی غیرت و حمیت سے یکسر محروم ہوجائے۔اور ایسا ہی ہوا کہ مسلمانوں کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ اور ہر محاذ پر پوری قوت، بھرپور طاقت کے ساتھ انتہائی منظم و مربوط پلاننگ کے ساتھ کفر و شرک، الحاد و لادینیت، اباحیت اور نفس پرستی جیسے فتنوں کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اور مسلمان قوم اس دلدل میں اس قدرپھنستی چلی جارہی  ہے کہ  سال کے 365 دنوں میں سے شاید ہی کوئی دن ہو کہ جس  دن کسی نہ کسی نام پر کوئی نہ کوئی تہوار یا یاد گار دن نہ منائی جائے!حتی کہ بعض مرتبہ ایک دن میں دو دو تہوار منائے جاتے ہیں اور اس کے لیے کھیل و تفریح، سیاحت و ثقافت، کلچر و آرٹ، فلاحی اور سماجی سر گرمیوں کے نام پر ہر تہوار کو ترقی و روشن خیالی، جدت و ضرورت، حقوق سے آگہی و شعور کے خوشنما الفاظ اور فحاشی و موسیقی پر کشش انداز میں منایاجاتا ہےاور اس کی ترویج میںمیڈیا بھی خوب حصہ ڈالتا ہے۔ جس کا  لازمی نتیجہ یہ نظر آرہا ہے کہ آج کا نام نہاد مسلمان اپنے دین سے دور بلکہ باغی ہوتا جارہا ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اہل کفر کے تہوار منانا مسلمان کے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں اس لئے شریعت نے انہیں ناجائز اور حرام قرار دیاہے۔

دوسرا سبب:غیر مسلموں کے تہوار منانا اسلام کے عقیدہ ’’ الولاء والبراء ‘‘ کے منافی ہے ۔

ولاء اور براء سے مراد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کیلئےکسی سے  محبت،دوستی اور رشتہ داری کے تعلقات استوار کریں ۔اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ہی دشمنی قائم کریں ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ ۭ اُولٰۗىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ۭ وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا   ۭ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ    ۭ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ  (المجادلہ:22؀ۧ)

ترجمہ:جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ۔ آپ کبھی انہیں ایسا نہ پائیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی لگائیں جو اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مخالفت کرتے ہوں، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی یا کنبہ والے ہوں، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح کے ذریعہ انہیں قوت بخشی ہے۔ اللہ انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہی اللہ کی جماعت ہے۔ سن لو! اللہ کی جماعت  کے لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں ‘‘

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَاۗءَ  ۚوَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ      (المائدۃ: 57؀)

’’اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے اور کافروں میں سے ایسے لوگوں کو دوست نہ بناؤ، جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی مذاق بنا رکھا ہے اور اگر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘

یہاں اللہ تعالی نے کفار سے دوستی رکھنے سے منع فرمادیا ہےاور آخر میں اس عمل کو تقویٰ کی علامت قرار دیا ہےاور ایمان کا حصہ بتلایا۔لہذا کفار کے تہوار منانا جہاں کفار سے مداہنت (نرم رویہ) کو جنم دیتی ہے وہاں یہ کفار سے دلی محبت کے ساتھ ان سے دوستی کی طرف لے جانے کا ایک بڑا ذریعہ ہے جو کہ عقیدہ الولاء والبراء کے منافی ہے اور اگر یہ دوستی حدود و قیود سے آزاد کر دی جائے تو پھر یہ ایک مسلمان کو اسلام سے کفر کی طرف لے کر جاسکتی ہے جیساکہ قرآن کریم میں ہے کہ :

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ ۠ وَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا  (النساء:  89؀)

’’وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ جیسے وہ خود ہوئے ہیں تاکہ سب برابر ہوجائیں ۔ لہذا ان میں سے کسی کو آپ دوست نہ بناؤ تاآنکہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو جہاں انہیں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو ۔ اور ان میں سے کسی کو بھی آپ نا دوست یا مددگار نہ بناؤ‘‘

اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ کا فروں کے ساتھ میل جول اور ان کی نقالی، ان سے دوستی کا تصور اور ان کی عادات و رسومات کی تقلیدکا تصور تو وہاں آتاہے جہاں آپس میں ہمدردی اور خیر خواہی (دلی چاہت) موجود ہو جبکہ مومن کی دوستی اور قلبی محبت کے مستحق صرف اور صرف مومنین ہی ہو سکتے ہیں۔ جیساکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُوْنَ  (سورۃ مائدہ آیت 55)

’’(اے ایمان والو!) تمہارے دوست صرف اللہ ، اس کا رسول اور ایمان لانے والے ہیں جو نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکنے والے ہیں‘‘

تیسرا سبب: غیر اسلامی تہواروں میں شرکت نفس پرستی ، خواہش پرستی کا عنصر پیدا کرتی ہے ۔

ان تہواروں میں ایک خرابی یہ ہے کہ ان میں مشغولیت سے نفس پرستی ،خواہش پرستی کا عنصر انسان  میں بڑھتا جاتا ہےجس سے شریعت نے روکا ہےکیونکہ خواہش پرستی رفتہ رفتہ دین سے دوری کا سبب بن جاتی ہے۔  شریعت کے مقابلہ میں نفس کی پیروی کرنا ایسی خطرناک بیماری ہے کہ یہ انسان کو  نہ صرف دین سے دور کر دیتی ہے بلکہ بعض حالات میں ضعف اعتقاد علم اور عمل کے اعتبار سے کمزور اور بے حس و بے خوف کردیتی ہے اور ایسے شخص سے حرام و حلال، جائزو نا جائز کی تمییزختم ہوجاتی ہے اور وہ  بظاہر نام کا مسلمان رہ جاتاہے جبکہ حقیقت میں خواہشات کا پجاری بناچکا ہوتاہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جنہوں نے اپنے نفس کو الہ (معبود) کا درجہ و مقام دیا ہوا ہے جیسا کہ سورۃ الجاثیہ آیت نمبر 23 میں اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ

’’بھلا آپ نے اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو الٰہ بنا رکھا ہے‘‘

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے آخری زمانہ کے حوالے سے پیش گوئی کی ایک کیفیت یوں بیان فرمائی کہ لوگوں میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہوجائے گی  چنانچہ فرمان نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے :

لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ، يَسْتَحِلُّونَ الحِرَ وَالحَرِيرَ، وَالخَمْرَ وَالمَعَازِفَ، ۔[1]

میری امت کے کچھ لوگ زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال کر لیں گے۔

بہرحال ان خواہش پرست کفار کی چاہت یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بھی اسی آگ کا ایندھن بنادیں جس میں وہ جلیں گے (اعاذنا اللہ منہا ) جیسا کہ سورۃ نساء آیت نمبر27  میں اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

وَيُرِيْدُ الَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِيْلُوْا مَيْلًا عَظِيْمًا     

اور جو لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور تک چلے جاؤ۔

 شہوات کی پیروی کرنے والے جس جال میں مسلمانوں کوالجھا کر ان کے دین و ایمان کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں وہ جال تہواروں و رسومات کاجال ہے (اعاذنا اللہ منہ)

چوتھا سبب: اسلام گناہوں کی درجہ بندی میں  علانیہ گناہوں کو برائیوں کی بدترین صورت سمجھتاہے ۔

 اسلام نے جس طرح نیکیوں کی ادئیگیمیں چند کیفیات اور صورتوں میں زیادہ اجر عطا فرماتاہے ۔فیت مثال کے طور نماز جسے اگر کوئی شخص پہلے وقت میں ادا کرنے کے ساتھ اگر انفرادی طور پر ادا کرے گا تو اس کا اجر اس نماز سے کم ہوگا جو اس نے باجماعت ادا کی ہوگی جیساکہ کہ حدیث میں ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشادفرمایا :

فَضْلُ صَلاَةِ الجَماعة عَلَى صَلاَةِ الوَاحِدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً ۔[2]

اکیلے نماز ادا کرنےکے مقابلہ میں با جماعت نماز ادا کرنا پچیس درجے افضل ہے۔

 اس میں جو حکمت پوشیدہ نظر آتی ہے اجتماعی شکل میں اللہ کے ہاں عاجزی و انکساری کا اظہار  ایک روح پرور ماحول اور فضا پیدا ہوتی ہے وہیں دیگر لوگوں کو اس سے ایسی نیکیوں کی ترغیب بھی ملتی ہے  ۔اسی طرح بدی کی سزا یا گناہ کی قباحت بھی اس کے مرتبہ اور کیفیت اور معاشرہ پر اس کے اثرات کے اعتبار سے ہے یعنی اگر گناہ انفرادی طور پر یا محدود پیمانے اور مخفی انداز میں ہے تو بعض مرتبہ ایسے گناہ پر سزا کے ہونے والے اثرات کم ہونے کی وجہ سے صرف ترہیب دی جاتی ہے۔ اگر گناہ اپنے ذاتی اور صفاتی اعتبار سے اجتماعی اور وسیع پیمانے اور فخریہ اور اعلانیہ ہونے کے ساتھ دوسری برائیوں کی ترویج اور حوصلہ افزائی اور پھر مزید برائیوں اور منکرات کا سبب بھی ہوتو شریعت اس گناہ پر نہ صرف اس کی سخت سزا (چاہے وہ جسمانی اعتبار سے ہو یا آفات و بلاؤں کی شکل یا پھر دنیامیں اس شخص کی نیکیاں ضائع اور آخرت میں جہنم کے عذاب کی وعید ملے )بلکہ اس گناہ کی طرف لے جانے والے اسباب وذرائع سے بھی روکتی اور حوصلہ شکنی کرتی ہے، مثال کے طور پر زنا جیسا قبیح و شنیع فعل شریعت نے اس کو حرام کرنے کے ساتھ اس کے ممکنہ اسباب اور مقدمات  (یعنی اس کی طرف لے جانے والے اعمال) کو بھی حرام کر دیا ،جیسےغیر محرم عورتوں کی طرف دیکھنا یاان کے ساتھ خلوتاختیار کرنا وغیرہ ۔اسی لیے قرآن کریم میں زنا کے قریب لے جانے والے اعمال چاہے وہ ظاہری ہون یا مخفی ان سے ہمیں روک دیا گیا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام آیت : 151 میں ہے:

 وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ  

’’اور یہ کہ بے حیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ یہ کھلی ہوں یا چھپی ہوں‘‘

 کفار کے یہ غیر اسلامی اور غیر اخلاقی تہوار بھی کئی ایک برائیوں اور فساد کا سبب  ہیں، اسلیے شریعت نے ہمیں ان کی نقالی اور تشبیہہ سے روکا ہے کہ یہ جہاں اجتماعی برائیوں کا فخریہ اور اعلانیہ اظہار ہیں وہاں یہ دوسری برائیوں ،منکرات کو قوت دینے اور معاشرے پر اثر انداز ہونے کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں۔

پانچواں سبب:غیر اسلامی تہواروں کو اپنانا ذہنی غلامی کا اعتراف ہے ۔

کسی بھی ظالم قوم یا ملک و ریاست کی دوسرے ملک پر جارحیت کی ایک اہم اور بنیادی ہتھیار یہ ہے کہ  اس میں بسنے والی قوم کو ذہنی و جسمانی اعتبار سے غلام بنادیا جائے تاکہ اس ملک اور اس کے وسائل سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ اور کوئی بھی غیرت مند قوم یہ نہیں چاہے گی کہ وہ ذہنی یا جسمانی طور پر محکوم ہوں۔ اسی طرح مسلمان قوم کی دینی و اسلامی غیرت و حمیت کا تقاضہ ہے کہ ہم کسی طور دوسری اقوام کی محکومیت نہ ہی جسمانی طور پر قبول کریں اور نہ ہی ان کی تہذیب یا تہواروں کو اختیار کرکے ذہنی محکومیت قبول کریں۔اصل غلامی ذہنی غلامی ہے، یہی در اصل پھر انسان کو جسمانی غلامی پر آمادہ اور قائل کر لیتی ہے آج اس ذہنی غلامی ہی کے اثرات و نقصانات ہیں کہ ہمارا سسٹم، روایات،عادات ہمارا انداز ، ہمارا لباس سب کفار کی تقلید کا عکس نمایان نظر آتاہے۔

لہٰذااسلام کی ان  تہواروں کو منانے سے روکنے کی اہم اور بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اس قبیح ، مذموم تہواروں کی آڑ میں یہ ہمیں جسمانی غلام تو نہیں بناسکتے مگر وہ اس کے ذریعے ہمیں متاثر کر کے ذہنی غلام بنانا چاہتے ہیں جو کہ جسمانی غلامی سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور اسی ذہنی غلامی کا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے امت مسلمہ پر یہود و نصاری کی طرف سے مسلط ہونے کا خد شہ ظاہر کیا تھا جیساکہ حدیث میں ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ»، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ: اليَهُودَ، وَالنَّصَارَى قَالَ :فَمَن ۔[3]

’’ تم لوگ ضروراپنے سے پہلی امتوں نقش قدم پر چلوگے (یہاں تک کہ) اگر وہ دو ہاتھ چلیں گے  تو تم بھی دو ہاتھ چلوگے وہ ایک ہاتھ چلیں گے تو تم بھی ایک ہاتھ چلوگےوہ ایک بالشت چلیں گے تو تم بھی ایک بالشت چلوگے حتی کہ اگر وگوہ کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم بھی داخل ہوگے، صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا پہلی امتوں سے آپ کی مراد یہودو نصاری ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا تو اور کون!؟۔‘‘

کفار کے پے در پے فکری حملے مسلمانوں کو اپاہج کرنے کیلئے ہی کئے جارہے ہیں اور یہ  غیر اسلامی تہوار ہمارے معاشرے کی سوچ کو بالعموم اور اسلامی تعلیمات و اقدار اور تہذیب سے نا آشناقوم کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ذہنوں کو کتنا آلودہ اور پراگندہ کررہے ہیں ۔ اور کس قدر ان کے خیالات اور افکارکفار و مشرکین کے تہواروں کے اسیر اور ذہنی غلامی قبول کر کے انتہائی سطحی اور محدود ہونے کے ساتھ منفی ہوچکے ہیں کہ کوئی بھی عمل چاہے اس کا تعلق اسلام کے عقائد و ایمانیات کے ساتھ کیوں نہ ہو، یا وہ کوئی اہم واجب اور حقوق کی ادائیگی ہو یا اخلاق اور شرم و حیا سے اس کا مضبوط اورگہرا تعلق بھی ہو مگر اس کے چھوڑنے یا چھوٹ جانے سے چاہے اس کی بنیاد کچھ بھی ہو ان کے ہاں کوئی معنی اور اہمیت نہیں رکھتامگر اس کے بر عکس کفار کی عادات اور روایات ، تہوار اور رسومات ہمارے خوشی کے مظاہرے یا غم کے مواقع پر بھی چھوٹ جائے تو اسے یہ نادان طبقہ اپنی جہالت اور پسماندگی کے ساتھ اپنے لیے شرمندگی اور عار تصور کرتاہے   ۔

یہ کیسی دردمندانہ بات ہے کہ ہم اپنی معاشر تی زندگی میں کفار کے عمل سے اس قدر متاثر ہوچکے ہیں کہ ان کی فر سودہ ، گھٹیااور چھوٹے پن کی علامت کسی حرکت و انداز چاہےوہ ذرہ برابر کیوں نہ ہو اسے کرنا کوئی معرکہ گردانتے ہیں، اور اسلام کی اعلی اقدار ، بلند سوچ اور وسیع نظری کی حامل کوئی ایمان کی علامت پر مبنی  اصولی بات یا ضروری عمل جو نفع اور مصلحت کے اعتبار اجتماعی فائدہ ہی کیوں نہ دیتی ہو ہم اسے غیر ضروری اور معمولی گردانتے ہوئے نظر انداز کر دیتے ہیں! نتیجتاًکفار کے کلچر کی نقالی اور تہواروں اور رسومات کی تقلیدکے بغیر آج ہمیں ہمارا نظام فرسودہ ،تعلیم غیر معیاری ،نصاب ادھورا ،کھیل و تفریح بے مزہ ،شادیاںسادہ و بے رونق ، لباس بوسیدہ ، بے ڈھنگ انداز غیر سنجیدہ افکار خیالات پسماندہ غرض کہ ہر چیز اور عمل جو کفار و مشرکین بالخصوص ہندوانہ عادات، روایات اور رسومات کے لایعنی و بے فائدہ و بے قاعدہ امتزاج اختلاط کے بغیر ادھورا و ناقص اور بے رنگ نظر آتاہے ۔یہاں  اس کی ایک مثال انگریزی زبان  کی ہم لے سکتے ہیں کہ ہم اپنی مادری زبان کے بعد اگر کسی زبان کو ترجیحی بنیادوں پرسیکھنے کی کو شش کرتے ہیں تو وہ عربی زبان نہیں بلکہ انگریزی ہوتی ہے ۔ آخر کیوں؟ ایسافرق اور بحران کس لیے ؟ہمارے  معاشرے کی ایک بزرگ تر بیت یافتہ ، دیندار ، متحرک اور ذمہ دار شخص جو بچپن سے ہی اچھے ماحول سے وابستہ ہووہ اور ایسا شخص جو  قرآن کریم کا دس فیصد ترجمہ اور عربی زبان کا دسواں حصہ بھی نہ جانتاہوگاخود کو برتر وبہتر سمجھے گا اور معاشرہ بھی اسے کوالیفائیڈ تصور کرے گا ۔ یہ سب مغرب کے بوسیدہ وناکارہ معاشرے کا اثر ہے جو ہماری ثقافت میں نظر آتاہے ؟

اہل کفر کی ثقافت کے پھیلاؤ کا بنیادی سبب انڈین اور مغربی فلمیں ڈرامے اور ان کے کلچر کی ہمارے ہر چوراہے پر موجودگی ہے۔

بہرحال غیر مسلم اقوام کی تمام اقسام کی محکومیت و غلامی سے محفوظ رہنے کا واحد طریقہ ا اللہ کی توحید اور اس کے تقاضوںپر عمل کرتے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری ہے۔

مختصرایہ کہ یہی وہ مفاسد اور محرومیاں اور فکری عمل کی زوال پذیری ،ذہنی و فکری غلامی ،منفی سوچ اور جمود وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے ایسے اعمال کو ناجائز قرار دیاہے ۔

غیر مسلموں کے مختلف تہواروں کے مفاسد کا جائزہ:

بعون اللہ و توفیقہ غیر اسلامی تہواروں کو منانے اور اپنانے سے ممانعت کے اسباب  اور اس کے مفاسد و اثرات کے بعداب ہم ان تہواروں کے شرعی و اخلاقی مفاسد و اضرار کو ان شاءاللہ دلائل شرعیہ اور عقلیہ کے ذریعے ثابت کریں گے ویسے تو کفار و مشرکین کے تہواروں کی کثرت کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید ان کی تعدادسال کے تین سو پینسٹھ دنوں سے بھی زیادہ ہو، مگر ہم صرف چار تہواروں کو بطور مثال کے ذکر کریں گے۔ یہ وہ تہوار ہیں جو کہ امت مسلمہ بالعموم  ہمارے پاکستانی اور معاشرے کابالخصوص نہ صرف حصہ بنتے جارہے ہیں بلکہ اس میں مضر و منفی اثرات اور نقصانات دیگر تہواروں کے مقابلےمیں کافی زیادہ  ہیں،ان تہواروں  کی تفصیل ملاحظہ ہو۔

ویلنٹائن ڈے: 

یہ ایک ایسا تہوار ہے کہ جس دن نوجوان لڑکے ،لڑکیاں ایک دوسرے کو محبت کے پیغام دیتے ہیں اورتحائف کا تبادلہ کیا جاتا ہے،رقص و سرور کی محفلیں قائم کی جاتی ہیں، جوکہ سراسر مغرب سے مسلمان اقوام کی طرف منتقل ہوا ہے۔ویلنٹائن ڈے کے نام پر فحاشی و عریانی اور آوارگی کی آگ کو ایندھن فراہم کرنے والی یہ گھٹیا رسم اور تہوار منانے والی قوم کی اولادیں دوسروں کو کیا محبت کاپیغام دیں گی جو حقیقی طورپرخود  اس سے محروم ہوں ۔ ایک نامعلوم باپ کے تصور کے ساتھ جنم لینے والی قوم کے یہ افرادجانوروں سے تو محبت کریں اور انہیں ہر دم اپنے ساتھ رکھیں لیکن اپنے والدین کو بڑھاپے میں اولڈہوم میں لاوارث چھوڑنے والےحقیقی پیار و محبت کے اصولوں سے ناآشنا، محروم تکلفات اور مصنوعیت کاشکار یہ اجنبی مرد و عورت سال میں ایک مرتبہ جس غیر اسلامی ، غیر فطری ، غیر اخلاقی اور شرم و حیا سے عاری تہوار کو مناتے ہیں،اسے ویلنٹائن ڈے کہتے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کی تاریخی حیثیت:

اس قبیح و مذموم تہوار کہ جس نے مغربی معاشرے کی فحش و بدنام تہذیب کی کوکھ سے جنم لیا ،ہر سال فروری کےمہینے کی چودہ تاریخ کو منایا جاتا ہے۔جس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نامی رومی پادری کو ایک راہبہ سے عشق ہوگیااور عیسائی روایات کے مطابق راہبوں اور راہبات کا آپس میں نکاح ممنوع تھا اور اس عشق کے نشے میں مدہوش راہب نے اپنی اخلاقی حد سے تجاوز کرتے ہوئے راہبہ کو اپنی جنسی خواہشات کے جال میں پھنسانے کے لیے ایک من گھڑت اور جھوٹی کہانی کچھ یوں سنائی کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ چودہ فروری کا دن ایساہے کہ اگر اس میں کوئی راہب اور راہبہ بغیر نکاح کے آپس میں جنسی تعلقات استوار کرلیں تو کوئی مضائقہ نہیں، راہبہ نے اس پر یقین کرتے ہوئے اس کے ساتھ اپنا منہ کالا کرلیا۔[4]

 اس خود ساختہ محبت پر مبنی تہوار مرد و عورت کے جنسی جذبات اور خواہشات کو بر انگیختہ کرنے والے لوازمات اور ناپاک جنسی عزائمو بے ہودہ خیالات کے تصورات کے ساتھ ا س قبیح مظہر/قبیح عمل کو بظاہرآپس میں پھولوں کے تبادلہ کی آڑ میں منایا جاتا ہے ۔

 ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت:

 ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت اور اس کی مزید برائیوں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

1-سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس کے منانے میں کفار سے تشبیہ اور ان کی تقلید ہے جوکہ شرعاً ممنوع اور حرام ہے اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہےکہ:

"مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ "[5]

’’جس نے کسی قوم سے مشابہت کی تو وہ ان میں سے ہے‘‘

2-اس تہوار کو مناناحیا کے منافی ہےاور اس تہوار کی بنیادین ہی نہ صرف   مسلمان بلکہ انسان کی فطری ، اخلاقی اور مثبت شرم وحیا جو کہ تقوی کے لباس کا اہم حصہ ہےیہ بے ہودہ تہواراس صفت سے  انسان کوعسری کردیتا ہے   اور  یہ ایمان کے لیے بھی خطرہ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ " [6]

’’حیا ایمان کا حصہ ہے‘‘

بہرحال  انسان کو برائیوں، منکرات، بے حیائی اور اخلاق رذیلہ سے روکنے والی رکاوٹ اور حد فاصل ، مضبوط آہنی دیوار ،صفتِ حیا ہی ہے ۔ جس کے کھو جانےکے بعد انسان سیئات و منکرات بالخصوص اخلاقی برائیوں کا مرتکب ہوجاتا ہے ، جیساکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد مبارک ہے:

"إِذَا لَمْ تَسْتَحْي فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " [7]

’’جب تم میں حیا نہ رہے توپھر جو چاہو کرو‘‘

3-  اس تہوار کیتیسری قباحت یہ ہے کہ جہاں ایک طرف اس کے منانے سے فحاشی و عریانی ، جنسی آزاوارگی کا خود ایک مظہر ہےتو دوسری طرف یہ قبیح و مذموم صفت زنا جیسے گھناؤنے فعل کی طرف لے جانے کا ایک بہت بڑا سبب بھی ہے قرآن کریم میں اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

"وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ "  (الانعام :151)

’’اور یہ کہ بے حیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ یہ کھلی ہوں یا چھپی ہوں‘‘

اور اسی طرح وہ لوگ جو ایک طرف اس تہوار کو اگرچہ نہیں بھی مناتے ہوں مگر وہ اس کی ترویج و انتشار کا معاشرے میں بالخصوص اگر ایمان والوں میں فحاشی کا سبب بن رہے ہوں اور وہ اس کو پسند بھی کرتے ہیںتو ایسے لوگوں کے لیے نہ صرف آخرت بلکہ دنیا میں بھی عذاب ہے جیساکہ سورۃ النور کی آیت:19 میں اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ  ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ  ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ

’’جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کے لئے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ اور (اس کے نتائج کو) اللہ ہی بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔‘‘

4- اس تہوار کے منانے میں فضول خرچی اور مال مصرف کا ناجائز اور غلط استعمال ہے کیونکہ اس تہوار کو منانے والے بعض اوقات بہت سے مالی حقوق جوکہ ان کے اہل خانہ کی طرف سے ان پر واجب الاداء ہوتے ہیں اس  مد سے ضروری رقم کو اس مذموم تہوار کے لوازمات و تقاریب اور تحائف و دیگر غیر ضروری اشیاء پر ضائع کر دیتے ہیں اور ایسی فضول خرچی سے اسلام نے ہمیں سختی سے روکا ہے اللہ رب ا لعالمین کافر مان ہے :

]ِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا[ ((بنی اسرائیل:27)

 ’’کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے۔‘‘

اور اس مال کے تصرف اور استعمال کے بارے میں قیامت کے روز سوال کیا جائے گا۔

بسنت:

دوسراتہوار بسنت کا تہوار ہےجو ہمارے معاشرے میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا چلا جا رہا ہے یہ وہ ہندوانہ تہوار ہےجوکہ ہرعیسوی سال کے فروری کے مہینے میں گستاخ ِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی یاد میں پتنگ بازی کر کے منایا جاتا ہےجو کہ اس تہوار کی اصل بنیاد ہے اگرچہ منانے والوں کی اکثریت شاید اس حقیقت سے واقف نہ ہو۔

اسلامی اقدار کی دھجیاں بکھیرنے والا ہندوانہ کلچراور روایات کا حامل یہ تہوار دراصل ہندوستان کا ہتھیار بھی ہے ،سب سے زیادہ جانی نقصان اسی تہوار سے  ہی ہمارےمعاشرے کو پہنچتا ہے ، جو ہمارے خلاف اس کی یک طرفہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے ،جس میں پتنگ بازی ہلڑ بازی، بے پناہ فائرنگ، چیخ و چنگاڑنا،کانوں کے پر دے پھاڑ میوزک ، شراب وکباب اور رقص و سرور کی محفلیں اس مذموم تہوار  کا لازمی حصہ اور جزء لاینفک تصور کی جاتی ہیں۔

تاریخی حیثیت:

تاریخی پس منظر کے اعتبار سے ایک کثیر الاشاعت روزنامے کی رپورٹ کے مطابق دوسو برس قبل لاہور کے ایک ہندوطالب نے رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان اقدس میں گستاخی کی جرأت کرتے ہوئے شتم طرازی کی، چنانچہ جرم ثابت ہونے پر مغلیہ دور کے قاضی نے اسے موت کی سزاسنائی چونکہ اس نے خود بھی اقرار جرم کرلیا تھا تو فیصلہ پر عمل در آمد کے نتیجے میں اسے پھانسی پر چڑھایاگیا اور ہندؤں نے اس واقعہ کو ایک یادگار کے طور پر بسنت کا نام دے کر پتنگ بازی کے تہوار اور رسم سے منسوب کردیا۔ (بحوالہ روزنامہ نوائے وقت 4 فروری 1994)

 ایساگستاخانہ واقعہ اور قبیح پس منظر رکھنے والی یہ ہندو انہ فضول رسم جو ایسی مخرب الاخلاق عادت ہے جو پتنگ اڑانے کے ساتھ اس محفل میں شریک لوگوں کی عقل اور شرم و حیا کو بھی اڑادیتی ہےبلکہ نشہ کی مانند اس تماشے کے لیےغربت اور مہنگائی کی چکی میں پسی اور بحران زدہ معیشت کے بوجھ تلے دبی ہوئی اس قوم کے کروڑوں روپے اس تہوار کی جلتی بھٹی میں پُھونک دئیے جاتے ہیں۔

شرعی حیثیت:

جہاں تک کہ اس کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے تو اسے منانا قطعی طور پر جائز نہیں بلکہ حرام اور ایک خطرناک ترین عمل ہے کیونکہ ایک طرف یہ خالصتاً ہندوانہ رسم ہے اور مشرکین کا شعار ہے اور کفار و مشرکین کے رسم و رواج کی مشابہت اسلام میں حرام ہے، جیساکہ حدیث میں آتاہے:

"وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ "   [8]

’’اور جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے‘‘

نیز دوسری طرف رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں ایک گستاخانہ واقعہ کا پس منظر بھی رکھتی ہے۔ اس کے حرام اور ناجائز ہونے کے لیے اتنا ہی کا فی تھا کہ یہ غیروں کا تہوار ہے لیکن گستاخی کی اس نسبت نے اس کے خبث میں اور اضافہ کر دیا ہے، ایک مسلمان کے لیے اس تہورا کو انتہائی قابل نفرت  اور ناقابل تصور ہونا چاہیے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کچھ نام نہاد دانشور، مفکر، سیاست دان اور فنکار اس کو بھی تفریح کا نام دیتے ہیں اور کبھی اسے موسم سے منسوب کرنے کی کو شش لاحاصل کرتے نظر آتے ہیں لہٰذا اس ہندوانہ رسم وتہوار ’’بسنت ‘‘ کو دنیا کی واحد ہندو ازم کی علمبردار ریاست ہندوستان کے اسکولوں کے نصاب میں بطور کہانی کے شامل کیاگیا ہے اور پھر کیوں کر اس تہوار کو مسلمان ہونے کے ناطے منایا جاسکتا ہے؟

 جس قوم اور ملک کی طرف یہ تہوار منسوب ہے اس کی تاریخ صدیوں سے مسلمانوں کے خلاف جنگ ان کی نسل کشی، سازشوں، ظلم و زیادتی اور تباہی و بر بادی بالخصوص قرآن کریم ، شعائر اسلام اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی جیسے واقعات سے بھری پڑی ہے بلکہ آج تک یہ سلسلہ جاری ہے، کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور ناجائز تسلط اور وہاں کے لوگوں کے جان ومال عزت و آبرو کا لٹیرا دشمن پاکستان سے ایک سے زائد جنگیں لڑنے والاہمارے وجود کے خاتمے کے درپے اور بے چین عیار و مکار ہندو ہمیں زمین سے لگائے اور ہم اس کا پھریرا(پتنگ)ہوا میں اڑا کر اس کا گھٹیا تہوار منائیں۔۔۔۔؟ کشمیر و پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں کھلا کھلم خطرناک و ناپاک عزائم رکھنے والا ہمارے خلاف اپنی دولت کو فوجی طاقتکے اضافے اور ہمارے خلاف جنگی مہم جوئی میں خرچ کرے اور فکری شر پسند عناصر ہمیں اپنی دولت کو ان کے تہواروں میں صرف و خرچ کرنے کی باتیں کریں۔

دوسری قباحت  :قیمتی جانوں کا ضیاع

بسنت جو کہ دوسرے تہواروں و رسموں سے منفرد رکھتی ہے کہ ہر سال سب سے زیادہ جانی نقصان بسنت کے منانے سے ہوتا ہے اور بلا مبالغہ بیسیوں افراد پتنگ کی ڈوریوں بجلی کی گری و ٹوٹی تاروں کے  کرنٹ لگنے، چھتوں سے گرنے ،پتنگیں لوٹتے ہوئے گاڑیوں سے ٹکرانے، ٹھوکر لگنے اور دیگر وجوہات کی بنا پرہلاک و زخمی ہو جاتے ہیں۔ لہذا یہ تہوار ہندوانہ و کافرانہ ہونے کے ساتھ ظالمانہ، مجرمانہ، وحشیانہ اور سفاکانہ بھی ہے جس کے منانے سے انسان اپنی اور دوسروں کی جانوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ ہلاکت میں دھکیلتا ہے جبکہ اللہ ارحم الراحمین کا فرمان مبارک ہے کہ :

[  وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ]     (البقرۃ آیت 195)

 اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

تیسری قباحت:مسلمانوں اور پڑیسیوں کو ایذاء و تکلیف دینا

 ایک اچھے مومن مسلمان کے اوصاف حمیدہ میں سے ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ ہر ایسے عمل سے دور  بھی رہتا ہے کہ جس پر چلنے سے اس کے کسی مسلمان بھائی بالخصوص پڑوسی کو کوئی تکلیف یا پریشانی لاحق ہو، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ:

"اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"

حقیقی مسلمان (تو) وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

مگر بسنت کا یہ تخریبی تہوار ان اخلاقی اصولوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتا ہےشور شرابہ، بد تمیز میوزک ، بجلی کے فیڈر کا بار بار ٹرب ہونا، سب سے بڑھ کر کسی کی جان کو پتنگ کی ڈوریوں سے خطرے میں ڈالنا ، راستہ بند کرنا، گھر میں مریضوں، بچوں کو پریشان کرنا اور بہت کچھ مفاسد بلا واسطہ یا بالواسطہ اس بسنت کے تہوار کےنتائج ہوتے ہیں، جو اس علاقے میں رہنے والے مکینوں کو اذیت کی صورت میں سہنے پڑتے ہیں۔ان نقصانات کی موجودگی میں اس تہوار کو منانا کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور نہ ہی یہ کھیل و تفریح کی اس طرح کوئی صورت بنتی ہے۔

چوتھی قباحت:اموال واسباب کا ضیاع

 اس تہوار کے منانے سے مالی اعتبار سے اپنے آپ اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ قومی اداروں کی املاک جو کہ قوم کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے کی تخریب و ضیاع کا سبب بھی بنتی ہے، مثال کے طور پر بسنت پر لائٹنگ کر کے بجلی کا غیر ضروری استعمال کرنا یا چوری کی بجلی سےبرقی آلات  روشن کرنا پھر پتنگ بازی کے نتیجے میںبجلی کے  فیڈروں کا ٹرپ ہونا اور پھر رونما ہونے والے حادثات جو بجلی کی تاروں پتنگوں کو لوٹنے اور ڈوریوں کے پھرنے سے یا سے اڑانے سے پیش آتے ہیں ان جانی و مالی نقصان کی تلافی کے لیے خرچ کی جانے والی رقم جو کہ کروڑوں میں بنتی ہے یہ ہماری انفرادی و اجتماعی آمدنی اور ملکی خزانے اور معیشت پر منفی اثر پہنچانے کے ساتھ کفران نعمت بھی ہے جس کی سزا ہمیں مہنگائی، غربت، بے برکتی، آفتوں اور بحرانوں، دشمنوں کے خوف کی صورت میں مل رہی ہے اللہ رب العالمین کی دی ہوئی سب سے بڑی نعمت ایمان اور پھر امن و عافیت، صحت و دولت آزادی و خود مختاری ان سب کی یہ ناشکری اور ناقدردانی ہی ہے کہ جسے ہم بسنت اور اس جیسے تہوار رسومات منا کر اس کا اظہار کر رہے ہیں لگتا ہے ہمارا حشر بھی (نعوذ باللہ) گزشتہ ان اقوام  جیسا نہ ہوجن کا تذکرہ قرآن کریم میں یوں بیان ہوا:

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ (النحل:112)

’’ اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے۔ جو امن و چین سے رہتی تھی اور ہر طرف سے اس کا رزق اسے بفراغت پہنچ رہا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کا مزا یہ چکھایا کہ ان پر بھوک اور خوف (کا عذاب) مسلط کردیا‘‘

 بسنت تہوار کی شرعی حیثیت دلائل واقعات کے تجزئیے کے بعد بالکل واضح ہو گئی کہ یہ منافع اور دینی مصلحتوں کے اعتبار سے معصیت اور فساد کی علامت ہے لہذا اس کا منانا ناجائز اور غلط ہے۔

 ہیپی نیو ائیر:نئے سال کی مبارکباد

اس  عالم میں بسنے والے تمام لوگ اپنی جنس کے اعتبار سےبشر اور انسان ہیں مگر دین اور مذہب کے اعتبار سے اپنی الگ الگ پہچان اور شناخت رکھتے ہیں اوران کے  نظام زندگی کے لیے وضع کیے گئے قوانین و ضوابط اور طریقہ کار جداگانہ اور مختلف ہیں لیکن ان سب نظاموں میں سب سے بہتر کامیاب، معتدل و جامع اور کائناتی و فطری تقاضوں کے عین مطابق اور مناسب نظام دین اسلام کا نظام ہے جو اپنے ماننے والوں کو زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے اور اسلامی نظام کی شقیں اور اجزاء دیگر نظاموں کی شقوں پر امتیازی و انفرادی خصوصیت اور برتری بھی رکھتی ہیں ان میں سے ایک نظام الاوقات بھی ہے جو اپنے دنوں مہینوں اور سالوں کے اعتبار سے نہ صرف منفرد ہے بلکہ اپنی تاریخ کے اعتبار سے سب سے قدیم اور اول بھی ہے اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

[ اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ  ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ڏ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ


كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً   ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ ]  (التوبۃ آیت 36)

جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس دن سے اللہ کے نوشتہ کے مطابق اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہی ہے، جن میں چار مہینے حرمت والے ہیں ۔ یہی مستقل ضابطہ ہے۔ لہذا ان مہینوں میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو، جیسے وہ تم سے مل کر لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔

نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایک طرف ہم اسلام کی روشن تعلیمات کی پر نور اور دلبہار حسین وادی سے دور نکل کر جہالت کی تاریکیوں و اندھیروں کے صحراؤں میں بھٹک رہے ہیں تو دوسری طرف ہم مغرب کی سیاہ تہذیب کے رنگوں کی سیاہی سے اپنے دل و دماغ کی روشنی کو مدہم کر چکے ہیں ۔نتیجتاً ہمارے معاشرے کی اکثریت اس بات کا سرے سےاسلامی سال اور اس کے مہینوں کے ناموں کے بارے میں علم ہی نہیں رکھتی چہ جائیکہ کہ تمام تر معاملات میں اسی کو اپنانے کی کوشش کی جائے اور اس کے برعکسعیسائیوں  کے سال اور مہینوں کے مطابق ہمارے معاملات گزر رہے ہیں۔

   نیو ہیپی ائیر کے نام سے ہر سال کے اختتام پر اکتیس دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی شب کو نئے سال کے آغاز پر جو تہوار کے نام پر پاگل پن کا مظاہرہ ہوتا ہے اسے نیو ہیپی ائیر کہتے ہیں۔ یہ تہوار اور خوشی کم اور کفار کی غلامی، بے حیا اور بے پرواہ ہونے کا اظہار اور علامت زیادہ نظر آتی ہے ۔جس میں شرم و حیا کی تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے اور اخلاق و آداب کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے، شور شرابہ، اوٹ پٹانگ حرکتیں، ناچ گانے اچھل کود کرتے ہوئے ،یہ نادان لڑکے اور لڑکیاں آزادانہ اور مخلوط ماحول میں میوزک پر رقص کرتے  ہوئے جہالت اور حیوانیت کا ثبوت دیتے نظر آتے ہیں۔

ہیپی نیو ائیرمنانے کے مفاسد:

  عقل و اخلاق سے ماوراء اس تماشے کے مفاسد اور نقصانات کی بات کریں تو وہ چیدہ چیدہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔

پہلانقصان : اس تہوار کے منانے کا پہلا نقصان یہ ہے کہ یہ سراسر کفار مغرب کی ایک لایعنی بھونڈی قسم کی تقلید اور مشابہت ہے بلکہ سمجھ میں نہ آنے والی، فضول حرکتوں میں سے ایک ہے ،جس کے بارے میں محسن ِانسانیت مصلح الامۃ رحمۃ للعالمین نے ارشاد فرمایا تھا کہ کفار کی تقلید اور مشابہت کے اندھے پن پر مبنی، عقل سے ماوراء ایسے مظاہر دیکھنے کو ملیں گے کہ بالفرض بغیر کسی وجہ کے اگر وہ گو کے بل میں داخل ہو جائیں گے تو میری امت کے بھٹکے ہوئے لوگ بغیر سوچے سمجھے یہ عمل بھی کر بیٹھیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ:

"لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بَاعًا بِبَاعٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، وَشِبْرًا بِشِبْرٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ فِيهِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: «فَمَنْ إِذًا"[9]

تم لوگ ضرور اپنے سے پہلے امتوں کے نقش قدم پر چلو گے (یہاں تک کہ) اگر وہ دو ہاتھ چلیں گے تو تم بھی دو ہاتھ چلو گے وہ ایک ہاتھ چلیں گے تو تم ایک ہاتھ چلو گے وہ ایک بالشت چلیں گے تو تم بھی ایک بالشت چلو گے حتی کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم بھی داخل ہو گے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ پہلی امتوں سے آپ کی مراد یہود و نصاری ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا تو اور کون؟

 حدیث کے مفہوم کے مطابق کفار کی تقلید اور اندھا دھند بغیر سوچی سمجھی کی جانے والی نقالی میں اسلام کا نام لینے والے دعویدار مسلمان شرم وحیا کے ساتھ اس بات کو بھی نظر انداز کر دیں گے کہ یہ چیز عقل کے خلاف ہے بلکہ انسانیت کے لیے مضر اور ناقابل برداشت ہے اور اس پرمستزاد یہ کہ عین شیطانیت، حیوانیت اور وحشی و جنسی دردنگی کی علامت ہے۔

دوسرا مفسد: اس تہوار کے منانے کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ جن برائیوں اور فحش حرکات کا ارتکاب اس میں کیا جاتا ہے وہ گناہ کبیرہ اور حد سے تجاوز کرتی ہوئی ایک خطرناک نشانی ہونے کے ساتھ مہلک اثرات سے بھرپور ہمارے اس اسلامی معاشرہ کے لیے زہر قاتل بھی ہے کہ جس میں اجتماعی طور پر اعلانیہ و فخریہ انداز میں ایک دوسرے کو ترغیب دے کر ساحل سمندر اور دوسرے تفریحی مقامات پر ان برائیوں و منکرات کے لیے بلایا جاتا ہے اور ایسی رسومات و تہوار میں تعاون کرنا یا شرکت کرنا اور کسی بھی طرح سے اس کا حصہ بننا حرام ہے۔

فرمان باری تعالی ٰہے :

[  ۘوَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۠ ](المائدہ: 2)

 ’’نیکی اور خدا ترسی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، ااور گناہ اور سرکشی کے کاموں میں تعاون نہ کرو ‘‘

 نیکی کا تقاضہ اور تقوی کی علامت یہ ہے کہ گناہ و زیادتی کے کا موں میں کسی کا ساتھ نہ دیاجائے۔

تیسرانقصان :

وہ یہ ہے کہ دوسرے تہواروں سے قدرے مختلف ہے وہ یہ کہ احتساب نفس کے بجائے اترانا اور بے پرواہ ہونا۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کی تخلیق کا مقصد اپنی عبادت بجالانابتایا ہے،اور اسی عبودیت کے امتحان لینے کے لیے اس پر کچھ ذمہ داریاں اور فرائض و نواہی سونپے گئے ہیں،اور چونکہ لفظِ عبودیت ، بندگی، عاجزی و انکساری اور تذلل کے ساتھ اپنی خامیوں و نقص کا اقرار اور کمی و کوتاہی کا اعتراف اور نفس میں افراط و تفریط میں پڑنے کے یقین کا مفہوم بھی رکھتاہے لہٰذا فرائض کی ادائیگی اس پر  ثابت قدمی اختیار کرنا اللہ ارحم الراحمین کا ہر حال میں شکر اداکرتے رہنا  پھر اعمال صالحہ کی قبولیت کی دعااور امید رکھنا ااور اپنے عمل کو ضائع ہونے سے بچانا اور اسی طرح نواہی و منکرات اور مکروہات کے ارتکاب پرہوجانےوالی زیادتی و نقصان پر احتساب نفس کرتے ہوئے توبہ و رجوع کرنا اور کمزور ی نقص پر عاجزی و انکسار ی اور اپنی عملی کوتاہیوں پر فکر مند ہونا اسلام نے اسے ایمان والوں کی علامت و اوصاف قرار دیا ہے جبکہ اس کے برعکس عبودیت (بندگی) کے مفہوم کے منافی عمل نیو ہیپی ائیرمنانے والےلوگوں کا مقصد زندگی کو ضائع کرنا اور وقت کو برباد کرنا اور اپنی جوانی کو لغو اور فضول خواہشات کے پیچھے چلانے اور صحت اورفراغت کو غلط استعمال کرنے پر منحصرہوتا ہے ،یہ تہوار منانے والے کمی و کوتاہی اور نقص و کمزوری کا اعتراف کرنا تو در کنار بلکہ غفلت و لاپرواہی پر اترانے اور ڈھٹائی کے ساتھ فخر کرتے ہوئے اعجاب کا شکار نظر آتےہیں یعنی گزشتہ سال کے بارہ مہینوں میں ہونے والی غلطیوں، برائیوں پر نہ انہیں کوئی پشیمانی ہے نہ ہی نیکیوں میںکمی اور گناہوں میں اضافے پر کوئی ندامت ہے اور نہ ہی اس کے برے انجا م کے ڈر کی کوئی پریشانی ہے اور نہ ہی زندگی کا ایک قیمتی سال کم ہونے اور آخرت کی زندگی کے قریب قریب آنے پر انہیں کوئی غم و فکر لاحق ہےیہ ان نعمتوں میں سے ایک ہےکہ جس کی اکثر لوگ ناقدری کرکے گھاٹے میں رہتے ہیںجیساکہ حدیث میں ہے کہ :

" نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ "  [10]

’’دو نعمتیں ایسی ہیں(کہ) اکثر لوگ (ان کے غلط استعمال کی وجہ سے) گھاٹے میں رہتے ہیں صحت اور فراغت‘‘

اپریل فول:

اپریل فول  کا حیران کن اور منفی پہلو جسے جان کر ہر سچائی پسند، مثبت سوچ رکھنے والے، معتدل مزاج ، باشعور اور سنجیدہ شخص کو یقینی حیرت ہوگی کہ اس قبیح و مذموم تہوار جس پر اس کی بنیاد ہے اس کی اساس منافقانہ خصلت کی علامت دوغلے پن کی نشانی اور شرمندہ کردینے والی منفی صفت اور بد ترین خامی صرف جھوٹ پر قائم ہے ، یعنی اگر کوئی شخص اس تہوارکو مناتے وقت جھوٹ نہ بولے تو یہ تہوار منایا ہی نہیں جاسکتا حالانکہ دیکھا جائے تو زمانہ قدیم و حدیث کے ہر مہذب ، باوقار معاشرے میں بلکہ تمام ادیان و مذاہب میں یہ ایک ناپسندیدہ فعل تصور کیا جاتاہے، لیکن چونکہ کفار اور مشرکین بالخصوص مغربی کلچر کی خرابی اور فسادیہی ہے کہ خوشی یا کھیل کاموقع ہو یا کوئی رسم و تہوار کی بات ہو تو اخلاقی حدود اگر پامال ہوتی ہوں باہمی عزت و احترام وحقوق کی نفی بھی ہوتی ہو پاگلوں اورجانورں جیسی حرکتیں کر کے کسی کو ذہنیکوفت  ہی کیوں نہ ہوتی ہوکسی بیمار شخص کے آرا م میں خلل ہی کیوں نہ پڑتاہو یا کسی کا جانی و مالی نقصان ہی کیوں نہ ہوجائےتو ان کے یاں کوئی عار کی بات نہیں اس کے مقابلے میں اسلام کی روشن وجامع اور اپنے مقاصد و محاسن کے لحاظ سے کامل حکمتوں اور مصلحتوں سے بھر پور آفاقی تعلیمات کی خوبیاں اور اچھائیاں اپنی مثال آپ ہیں اسلام انسانی زندگی کے ہر شعبہ کا نہ صرف احاطہ کرتاہے بلکہ زندگی کے ہر مرحلہ اور موقع چاہے وہ خوشی کا ہو یا غمی کا اس کی نہ صرف درست راہنمائی کرتا ہے بلکہ اس کے لیے ایسے اصول و ضوابط وضع کرتاہے کہ جن کی حدود میں رہ کر وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں سے عہدہ بر ہو سکتاہےچاہے وہ حقوق اللہ میں سے ہوں یا حقوق العباد میں سے فطری خواہشات وارادات کی جائز و مباح تکمیل ہو ، کھیل و تفریح ہو یا ہنسی مذاق ایسی تمام خوشیوں اور صحت مندانہ سرگرمیوں کواسلام اخلاق و اعتدال باہمی احترام ، سچائی اور تکلیف و اذیت ، جانی و مالی نقصان کے اسباب ووجوہات سے مبرا ایک دائرے میں لاتاہے تو کفار کے تہوار کے مظاہر ان زریں اصولوں کو جزوی یا کلی اعتبارسے پامال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپریل فول انہی تہواروں میں سے ایک ہے کہ ہنسی مزاح اور تفریح کے نام پر جھوٹ بولنا ان کے ہاں گویا کہ یہ کوئی اخلاقی برائی ہی نہیں اسی لیے اسے اہل کفر نے باقاعدہ تہوار کی شکل دے کر اسے نہ صرف ایک معاشرتی برائی بنالیا بلکہ اپنی انفرادی و اجتماعی منفی و سطحی سوچ بھی دنیا پر آشکا ر کردی کہ ان کے ہاں تہذیب اور روشن خیالی اسی چیز کا نام ہےاور جہاں تک اس کی باقاعدہ رسمی تعریف کی بات کی جائے تو ہر عیسوی سال یکم اپریل کو منائے جانےوالے اسکفریہ  تہوار کی تعریف ، بی۔ ایم ۔ ای پریکٹیل ڈکشنری کے مطابق اپریل فول کا مطلب دوسروں کو احمق بنانے کی رسم ہے۔

 

 تاریخی حیثیت:

تاریخی اعتبار سےیہ تہوارتقریبا ڈیڑھ سوسال پرانا ہے جس کا پس منظر یہ ہےکہ 31 مارچ 1846ء کو ایک انگریزی اخبار ایفنج سٹار نے اپنی اشاعت میں اعلان کیا کہ کل یکم اپریل کو فلاں شہر کے زرعی فارم میں گدھوں کی نمائش کا میلہ لگے گا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی ،کافی دیر انتظار کے بعد تھک ہار کر جب انہوں نے پوچھنا شروع کیا کہ میلہ کب شروع ہو گا تو انہیں بتایا گیا کہ جو گدھوں کی نمائش دیکھنے میلہ میں تشریف لائے ہیں درحقیقت وہی لوگ گدھے ہیں،

 اورجہاں تک اس کی حرمت اور قباحت کی بات کہی جائے تو کم ازکم پانچ وجوہات کی بناءپریہ تہوار منانا حرام اور باعث گناہ ہے۔

1-اس تہوار کی اصل اور بنیاد جھوٹ پر مبنی ہے اور جھوٹ بولنے کو شریعت اسلامیہ نے حرام قرار دیا ہے جیساکہ حدیث میں ہے:

 }إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى البِرِّ، وَإِنَّ البِرَّ يَهْدِي إِلَى الجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا. وَإِنَّ الكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الفُجُورِ، وَإِنَّ الفُجُورَ يَهْدِي إِلَى  النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا ۔[11]

بلاشبہ جھوٹ نافرمانی کی طرف لے جاتاہے اور نافرمانی جہنم کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور یقیناً آدمی جھو ٹ بولتارہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں وہ جھوٹا لکھ دیا جاتاہے۔

1-اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جھوٹ حرام ہونے کے ساتھ برائی اور جہنم کی طرف لے جانے والا مذموم عمل اور ایک اہم سبب بھی ہے ۔

2-دوسری وجہ یہ ہے کہ آدمی جھوٹ بول کر اپنے مسلمان بھائی کی بے توقیری اور شرمندگی کا باعث بنتاہے اور ایسابھی ممکن ہے کہ وہ اس کی ساکھ کو متاثر اور خراب کرنے اور اس کی ذہنی ومالی پریشانی کا باعث اور سبب بھی بن سکتاہے ۔ جبکہ مسلمان کی اہم خوبی اور وصف جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان مبارک سے یہ بیان ہوا  ہے کہ:

"المسلم مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ "[12]

بہترین مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔

تو ایک غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ اور دوسروں کے لیے پریشانی اور اذیت کی منفی سوچ رکھنے والاشخص تواسے تفریح کا نام دے سکتاہے مگر ایک اچھے مسلمان اور ہمدرد انسان کی ہر گز یہ صفت نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک ایسی برائی کا حصہ بنے جس سے ارد گرد کے ماحول میںبے چینی کی کیفیت اور غلط فہمیوں کی فضا اور عزت نفس کے مجروح ہونےکا خدشہ  عمل جھوٹ سے اس کی کوئی نسبت اور تعلق کو ظاہر کرے۔

3-تیسری وجہ اس حرمت  و ناپسند یدگی کہ یہ ہے کہ جھوٹ بول کر کسی کو خوش فہمی یاغلط فہمی ، دھوکہ یافریب میں ڈال کر بعض اوقات اسے کسی اہم وضروری اور ذمہ داری والے بالخصوص فوری قابل عمل کا م سے دور یا موخر یا تبدیل کراکے اس کی کسی ایسے غیر اہم کا م کی طرف دھیان اور توجہ پھیر دی جاتی ہے کہ جوصرف اور صرف خیالی ، تصوراتی ہوتاہے ۔ وقت کی بربادی ، ذہنی اذیت و تکلیف کے ساتھ پیسوں کے ضیاع اور لوگوں کی آپس میں ناراضگی اور دوری کا سبب بھی بنتاہے مثال


 کے طور پر کسی مہمان کے آنے یا کسی حادثہ کے ہوجانے یا کسی چیز کے کھو جانے کی جھوٹی خبر اگر کسی شخص کی دی جائے تو کتنی غلط فہمیاں ، پریشانیاں مال اور وقت کے نقصان کی ممکنہ صورتیں سامنے آسکتی ہیں یہ ہر سنجیدہ اور داناشخص بالخصوص جو ایسے واقعات کو سن چکایا اس سے گزر چکا ہے اچھی طرح اور وہ جانتا ہے کہ ایسے جھوٹے عمل کو ہر گز برداشت نہیں کرے گا تو یہ سب باتیں دھوکہ کے زمرے میں بھی آتی ہیں اور دھوکہ دینے والا شخص نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان کے زمرے میں آتاہے : (من غش فلیس منا)

جس نےدھوکہ کیا تو وہ ہم میں سے نہیں

4-چوتھی وجہ اس فضول تہوار کیحرمت  یہ ہے کہ اسلام کے مخالف جتنے بھی ادیان و مذاہب اور نظریات و افکار ہیں وہ حقیقت اور سچائی کے بر عکس باطل اور جھوٹ پر مبنی ہیں ۔کفار اور مشرکین کے توحید و رسالت اسلام و ایمان کے ارکان اور قرآن کریم سے متعلق جو بھی اور جتنے بھی باطل اور کفریہ عقائد ہیں ان کو قرآن کریم نے جھوٹ اور اس قبیح صفت سے متصف لوگوں کو جھوٹا کہا ہے جوکہ ان کی رگوں اور نسوں میں سرائیت کر چکاہے اور ان کی زندگی کا حصہ بلکہ اصول بننے کے ساتھ ایسے تہوار کے طور پر مناتے ہوئے اس کا بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے بر ملا اظہار کرنے سے بھی نہیں کتراتے اور یہی کفار و مشرکین کی منفی عادات و رویئے  ہیں کہ جس کی بناءپر ہمیں انکی مشابہت سے منع کیا گیاہے جیساکہ حدیث میں ہے کہ :

"من تشبہ بقوم فہو منہ"

جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت کی تو وہ ان ہی میں سے ہے ۔

5-پانچویں وجہ اس کیحرمت کی یہ ہے کہ اپریل فول جس صفت کی بنیاد پر یہ فرسودہ اور سطحی خیالات اور بوسیدہ عمارت قائم ہے یہ در اصل حقیقت کے متضاد جہاں ظاہر ی خرابی کی بد ترین شکل ہے وہاں یہ انسان کی باطنی منفی صفت کی ایک نشانی اور علامت بھی ہے اور عمل اور نیت کے اس متضاد یعنی ظاہری و باطنی فرق کو شریعت نے نفاق سے تعبیر کیا ہے کہ دل کی سوچ اور خواہش اور ارادہ کچھ ہو اور عملی اعتبار سے انسان کچھ اور ظاہر کرے ایسی دوغلی پا لیسی اور دو رخی پن کی کیفیت کے حامل  شخص کو شریعت نے منافقانہ عمل قرار دیا ہے نفاق اور منافق کی یہ علامت نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان کے مطابقسے واضح ہوتی ہے۔

 آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ 

منافق کی تین نشانیاں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ۔[13]

لہٰذ ا انسان کی یہ پوشیدہ قبیح خصلت جو اس کے لیے انتہائی خطر ناک اور سنگین امر ہے اور اس کی صورت ظاہری اعتبار سے اس وقت دوسرے پرواضح ہوتی ہے کہ جب ہو بات کرتے وقت غلط بیانی کرتاہے تو پھر کیونکر جھوٹ اور نفاق کی طرف لے کر جانے والی یہ رسم اور گھٹیا تہوار اور کفری و صلیبی شعار اپریل فول کو منایا جائےجو جھوٹ بولنے والی جھوٹی قوم کے جھوٹ پر مبنی خیالات و افکار اور حرکات و الفاظ کا مجموعہ اور مظہر ہو لہٰذا یہ کسی مسلمان کے نہ صرف لائق اور زیبا ہے اور نہ ہی کبھی اپنے اور کسی مسلمان بھائی کے لیے اس بات کو پسند جرے گاکہ علم انسانیت کے لیے سچائی پر مبنی دین اور نظام کی عظیم نعمت اور دولت سے سرشار کے مقابلہ میں کفار اور اہل باطل کے اس تہوار کو مناکر ان کے نے ہودہ اور فرسودہ نظام کو اہل اسلام میں پنپنے کا کوئی ذریعہ بنے۔

آخرمیں اس موضوع سے متعلق ضمناً یہ بات بھی بیان کرنا اہم اور ضروری ہے کہ اسلامی تہوار جیسے عید الفطر ، عید الاضحی اور اسی طرح خوشیوں کے مختلف مظاہر و مواقع جو اپنی ذات اور اصل کے اعتبار سے مباح و مشروع ہوںوہاں ہمیں ایسے تمام امور و عادات سے اجتناب اور دوری برتنی چاہیے جوکہ غیر اسلامی تہوار کا حصہ یا اس کے مشابہہ ہوں کاور اسی طرح خودساختہ تہواروں کو اسلامی نام دینے یا اسلام کی طرف منسوب  کرنے اور اسے منانے کی سختی سے مخالفت اور حوصلہ شکنی کریں چاہے وہ خوشی کے نام پر ہوں یا غمی کی آڑ میں بپا کیے جائیں جو خواہشات نفسی ، فحاشی و عریانی ، فرائض سے دوری، کفار و مشرکین کی نقالی یا ان سے مداہنت اور اندھی تقلید ، تعصب ، فرقہ پرستی ، قوم پرستی ، غلو، خودساختہ محبت ، جھوٹ، جہالت، فضول خرچی کے ساتھ صحابہ و اہل بیت سے بغض و نفرے اور ان کی شان میں گستاخی اور مسلمانوں کی کمزوری و نتشار اور دین سے دوری با لخصوص اسلامی حدود و شعائر کی تعظیم و احترام کے منافی امور کا سبب علامت یا اس کا بالواسطہ یا بلا واسطہ ذریعہ ہوں۔

اس مضمون کا حاصل بحث اور خلاصہ قارئین اور ہراس شخص سے جو مسلمانوں سے ہمدردی اور تڑپ رکھنے والے سے گزارش کی شکل میں یہ ہے کہ کفار و مشرکین بالخصوص یہود و نصاریٰ اور ہنود کی جنگ مسلمانوں کے ساتھ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ ، بالواسطہ بلاواسطہ جاری ہے اور یہ فکری جنگ بڑے پیمانے وسیع نیٹ ورک ، مکمل منصوبے اور تمام تر وسائل کے بھرپور استعمال کے ساتھ شعوری اور غیر شعوری انداز میں نظام زندگی کے ہر شعبہ میں میڈیا ، بشمول انٹرنیٹ ا خبارات ڈراموں، فلموں اور فحاشی و عریانی کے ہتھیاروں کے ساتھ فرسودہ تہواروں، رسموں، تعلیم و آرٹ، سیاحت ، کھیل و تفریح کی آڑ میں لڑی جارہی ہے جس کا اولین مقصد اور اہم ہدف اور ٹارگٹ اہل اسلام کو ایمانی دولت سے محروم کرنا ہے اور اسی طرح اسلامی تعلیمات کی حقیقت کو مسخ کرنا اور مسلمانوں کی دینی سوچ ، حمیت و غیرت کو مٹانا ، دفاعی ، عسکری، سیاسی ومعاشی میدان اور محاذ میں ان کی قوت اور طاقت کو تباہ کرنا اور انہیں غیرمؤثر، کمزور اور کھوکھلا بنانا ہے۔

جہاں تک کہ ان کے تہواروں اور رسموں کی مشترکہ قباحت کی بات کی جائے چاہے وہ کوئی سے بھی اور کسی بھی نام سے ہوں تو سوائے چندکے ان کی  اجتماعی خرابیاں یہ ہیں کہ ان میں کفار و مشرکین سے مشابہت، مال اوروقت کا ضیاع اور بربادی فحاشی و عریانی کے پھیلاؤ کا سبب ہونے کے ساتھ کفار کی فتنہ انگیز سازشوں سے ان کا ضرور بلاواسطہ یا بالواسطہ تعلق ہوتا ہے جو ہمارے لیے بالخصوص ہمارے گھرانے کے افراد کے لیے دینی و دنیاوی اعتبار سے سراسر نقصان اور خسارے کا باعث ہے۔ اللہ ارحم الرحمین ذوالجلال والاکرام ہمیں اسلام کی مصالح و خیر وبھلائی کی حکمتوں بھری سنہری تعلیمات کو جاننے سمجھنے اور عمل پیرا ہونے کے ساتھ اس کی نشر و اشاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین والحمد للہ رب العالمین

 

 



[1] صحيح البخاري :کتاب الاشربہ

[2] صحيح البخاري :کتاب التفسیر، باب قولہ ان قران الفجر کان مشہودا

[3] صحيح البخاري

[4] بحوالہ: غیر اسلامی تہوار بے حیائی کا بازار، صفحہ:37

[5] سنن أبي داود:كتاب اللباس ,باب في لباس الشهرة

[6] سنن النسائي:كتاب الايمان وشراعه با ب ذ كر شعب الايمان

[7] مسند أبي داود الطيالسي2/ 15

[8] سنن ابی داود :کتاب اللباس، باب فی لباس الشهرة

[9]  سنن ابن ماجه کتاب الفتن

[10] صحيح البخاري :كتاب الرقائق باب لا عيش ال عيش الاخرة

[11] صحيح البخاري :كتاب الادب, باب قول اللّٰه تعالیٰ.....

[12] صحيح البخاري : كتاب الايمان,باب المسلم من ....

[13] صحيح البخاري:كتاب الايمان ,باب علامة المنافق