بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
ہفتہ, 20 جنوری 2018 05:34

اسلامی معیشت میں زارعت کی اہمیت اور اس سے متعلقہ احکام

Written by  شیخ محمد عمران فیصل

 اسلامی معیشت میں زارعت کی اہمیت اور اس سے متعلقہ احکام!

عمران فیصل[1]

اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے اور شریعت اسلامی انسانی زندگی کےتمام شعبوںمیں رُشدو ہدایت حاصل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے اور اسے معیشت وسیاست کیلئے دوسرے نظاموں سے کچھ بھی مستعار لینے کی ضرورت نہیں،دین کے بارے میں یہ غلط تصور مغربی تہذیب نے دیا ہے کہ یہ صرف اللہ اور بندے  کے باہمی تعلق کا نام ہے اور دنیا کے دیگر معاملات ہمیں انسانی عقل اور تجربے کی کسوٹی پر پرکھ  کرہی بروئے کار لانے چاہئیں۔تاریخ گواہ ہے جب جب انسان نے اس طرح کے نظام بنائے ہیں تواس کے نتیجے میں اس نے انسان کو شخصی استبداد میں مبتلا کیا سرمایہ دارانہ نظام کی صورت میں، اور یا پھر کمیونزم کی صورت میں اسے اسکی ذاتی ملکیت سے ہی محروم کر دیا۔ جبکہ اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : }وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ اُمَّةً وَسَطًا{ (البقرۃ: 143)

 ترجمہ:’’اور ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا‘‘۔ شریعت اسلامی اس معتدل امت کیلئے مکمل نظام زندگی ہےاور بلا شبہ مکمل نظام زندگی پر مشتمل شریعت کیلئے یہ کسی طرح موزوں نہیں تھا کہ وہ زندگی کے اس مخصوص شعبے [معاشی نظام]یا اس کی معاشی اساس’’زراعت‘‘کے بارے میں ہدایات جاری نہ کرے۔     

انہی اہم وجوہ کی بناء پر اکثر سلف صالحین،ائمہ،محدثین،فقہاء نے اس موضوع کو اپنی کتب میں تفصیلاً ذکر کیا ہے۔  ماہرین معاشیات بنیادی طور پر معاشیات Economy  کے تین عامل ذکر کرتے ہیں۔

(1)   زمین Land ،  (2) محنت Worker، (3) سرمایہ Capital ۔

زیر ِنظر مضمون میں راقم نےمعاشی نظام کے انتہائی اہم رکن’’زراعت‘‘سے متعلق احکام بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور اس شعبہ کو مندرجہ ذیل تین فصول میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ قارئین زراعت اور اس کے متعلقہ احکام بآسانی سمجھ سکیں۔

1-    زمین اور اسکی ملکیت

2-    فضائل زراعت

3-    مزارعت کے متعلق احکام

زمین اور اسکی ملکیت

زمین سے مراد سطح زمین ہے اس میں وہ تمام قدرتی وسائل شامل ہیں جن پر انسان محنت کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے اللہ تعالیٰ کافرمان ہےکہ:’’وَلِلهِ مَا فِي السَّمٰوَاتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ‘‘(آل عمران: 109) ’’جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے‘‘۔یعنی دنیا ومافیہامیں جو کچھ ہےوہ اصل میں اللہ ربّ العزت ہی کی ملکیت ہے اور دوسری جگہ فرمایا:’}هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا{(البقرۃ: 29)’’ وہی تو ہے جس نے زمین میں موجود ساری چیزیں تمہاری خاطر پیدا کیں‘‘ ۔

یعنی تمام اشیاء کی خلقت کا مقصد بنی نوع انسان کی معاشی حیات کیلئےسبب فراہم کرنا ہےاور کوئی شئی فی حدذاتہ کسی کی مملوک ِخاص نہیں جب ان سب کو سب کیلئے مباح کردیاتو ان سے فائدہ حاصل کرنے میں انسانوں کے درمیان مزاحمت اور مناقشت شروع ہوئی توپھر اس آیتِ مبارکہ سے راہنمائی کی کہ:

}وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ{(الانعام: 165)

’’وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں نائب بنایااور ایک کے مقابلے میں دوسرےکےدرجےبلندکئےتاکہ جوکچھ اس نےتمہیں دےرکھاہےاسی میں تمہاری آزمائش کرے‘‘۔ ایک جگہ فرمایا:

آمِنُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ وَأَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ  (الحديد: 7)

’’ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمہیں نمائندہ  بنایا ہے ‘‘۔

یعنی حقیقت میں مال و ملکیت اورزمین اور اس میں موجودتمام نعمتیں اورمعدنیات اللہ رب العزت کی ملکیت ہیں اور انسان کی حیثیت اْسمیں ایک وکیل اور نمائندہ کی سی ہے اورپھر شریعتِ اسلامی نےیکسرشخصی ملکیت کاانکار نہیں کیابلکہ اجتماعی مفادات کے پیش نظرایسے قواعد اورطریقےوضع کئے جو انفرادی ملکیت میں اعتدال بھی رکھ سکیں اوراجتماعی مفاد کو کوئی ٹھیس بھی نہ پہنچے اس طرح زمینی اراضی کی بنیادی طور پر دو ہی اقسام بنتی ہیں:

اوّل:ایسی اراضی جو حکومتی ملکیت ہوں۔

دوم:ایسی اراضی جو انفرادی یا شخصی ملکیت ہوں۔

عمومی طور اراضی مملکت مندرجہ ذیل اقسام پر مشتمل ہوتی ہے:

(1)اراضی موات: اراضی موات ایسی بنجر مردہ اور دور افتادہ زمین کو کہا جاتا ہے جسے کسی نے آباد نہ کیا ہو، کتب فقہیہ میں باب احياءالموات میں اس کے متعلقہ احکام ذکر کئے جاتے ہیں،إحياءالموات سے مراد کسی ایسی زمین کو پانی لگانے،زراعت وکاشتکاری یا عمارت تعمیر کرنے کے ذریعے آباد کرنا جو پہلے کسی کی ملکیت نہ ہو؛ ایسی زمین کی آبادکاری کیلئے شریعتِ اسلامی نے سادہ سا اصول بتایا ہے کہ’’من أحيا أرضا ميتة فهي له‘‘جس نےمردہ پڑی بےآبادزمین کو آباد کیا وہ اسی کی ہے۔’’ کوفہ میں پڑی بنجر اور بےآباد زمینوں کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہی رائے تھی ‘‘۔

سیدناعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’من


 أحيا أرضا ميتة فهي له‘‘ ويروى عن عمرو بن عوف عن النبي صلى الله عليه وسلم وقال: "في غير حق مسلم، وليس لعرق ظالم فيه حق" [2]{ FR ’’جس نےمردہ پڑی بےآبادزمین کو آباد کیا وہ اسی کی ہے‘‘۔عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے اس اضافے کے ساتھ مروی ہے کہ:’’ جس نےمردہ پڑی بےآبادزمین کو آباد کیا وہ اسی کی ہے بشرطیکہ وہ پہلے سے کسی مسلمان کی ملکیت نہ ہو اور اس میں ظالم کے پسینہ بہانے کا کوئی حق نہیں‘‘۔

 یعنی کسی اور کی ملکیت میں کاشت کاری کرنے والے کو اس کی محنت کا کوئی صلہ نہیں دیا جائے گااورنہ ہی ملکیت تصور کی جائے گی۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ