بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
ہفتہ, 20 جنوری 2018 05:34

اسلامی معیشت میں زارعت کی اہمیت اور اس سے متعلقہ احکام

مقرر/مصنف  شیخ محمد عمران فیصل

 اسلامی معیشت میں زارعت کی اہمیت اور اس سے متعلقہ احکام!

عمران فیصل[1]

اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے اور شریعت اسلامی انسانی زندگی کےتمام شعبوںمیں رُشدو ہدایت حاصل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے اور اسے معیشت وسیاست کیلئے دوسرے نظاموں سے کچھ بھی مستعار لینے کی ضرورت نہیں،دین کے بارے میں یہ غلط تصور مغربی تہذیب نے دیا ہے کہ یہ صرف اللہ اور بندے  کے باہمی تعلق کا نام ہے اور دنیا کے دیگر معاملات ہمیں انسانی عقل اور تجربے کی کسوٹی پر پرکھ  کرہی بروئے کار لانے چاہئیں۔تاریخ گواہ ہے جب جب انسان نے اس طرح کے نظام بنائے ہیں تواس کے نتیجے میں اس نے انسان کو شخصی استبداد میں مبتلا کیا سرمایہ دارانہ نظام کی صورت میں، اور یا پھر کمیونزم کی صورت میں اسے اسکی ذاتی ملکیت سے ہی محروم کر دیا۔ جبکہ اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : }وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ اُمَّةً وَسَطًا{ (البقرۃ: 143)

 ترجمہ:’’اور ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا‘‘۔ شریعت اسلامی اس معتدل امت کیلئے مکمل نظام زندگی ہےاور بلا شبہ مکمل نظام زندگی پر مشتمل شریعت کیلئے یہ کسی طرح موزوں نہیں تھا کہ وہ زندگی کے اس مخصوص شعبے [معاشی نظام]یا اس کی معاشی اساس’’زراعت‘‘کے بارے میں ہدایات جاری نہ کرے۔     

انہی اہم وجوہ کی بناء پر اکثر سلف صالحین،ائمہ،محدثین،فقہاء نے اس موضوع کو اپنی کتب میں تفصیلاً ذکر کیا ہے۔  ماہرین معاشیات بنیادی طور پر معاشیات Economy  کے تین عامل ذکر کرتے ہیں۔

(1)   زمین Land ،  (2) محنت Worker، (3) سرمایہ Capital ۔

زیر ِنظر مضمون میں راقم نےمعاشی نظام کے انتہائی اہم رکن’’زراعت‘‘سے متعلق احکام بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور اس شعبہ کو مندرجہ ذیل تین فصول میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ قارئین زراعت اور اس کے متعلقہ احکام بآسانی سمجھ سکیں۔

1-    زمین اور اسکی ملکیت

2-    فضائل زراعت

3-    مزارعت کے متعلق احکام

زمین اور اسکی ملکیت

زمین سے مراد سطح زمین ہے اس میں وہ تمام قدرتی وسائل شامل ہیں جن پر انسان محنت کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے اللہ تعالیٰ کافرمان ہےکہ:’’وَلِلهِ مَا فِي السَّمٰوَاتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ‘‘(آل عمران: 109) ’’جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے‘‘۔یعنی دنیا ومافیہامیں جو کچھ ہےوہ اصل میں اللہ ربّ العزت ہی کی ملکیت ہے اور دوسری جگہ فرمایا:’}هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا{(البقرۃ: 29)’’ وہی تو ہے جس نے زمین میں موجود ساری چیزیں تمہاری خاطر پیدا کیں‘‘ ۔

یعنی تمام اشیاء کی خلقت کا مقصد بنی نوع انسان کی معاشی حیات کیلئےسبب فراہم کرنا ہےاور کوئی شئی فی حدذاتہ کسی کی مملوک ِخاص نہیں جب ان سب کو سب کیلئے مباح کردیاتو ان سے فائدہ حاصل کرنے میں انسانوں کے درمیان مزاحمت اور مناقشت شروع ہوئی توپھر اس آیتِ مبارکہ سے راہنمائی کی کہ:

}وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ{(الانعام: 165)

’’وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں نائب بنایااور ایک کے مقابلے میں دوسرےکےدرجےبلندکئےتاکہ جوکچھ اس نےتمہیں دےرکھاہےاسی میں تمہاری آزمائش کرے‘‘۔ ایک جگہ فرمایا:

آمِنُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ وَأَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ  (الحديد: 7)

’’ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمہیں نمائندہ  بنایا ہے ‘‘۔

یعنی حقیقت میں مال و ملکیت اورزمین اور اس میں موجودتمام نعمتیں اورمعدنیات اللہ رب العزت کی ملکیت ہیں اور انسان کی حیثیت اْسمیں ایک وکیل اور نمائندہ کی سی ہے اورپھر شریعتِ اسلامی نےیکسرشخصی ملکیت کاانکار نہیں کیابلکہ اجتماعی مفادات کے پیش نظرایسے قواعد اورطریقےوضع کئے جو انفرادی ملکیت میں اعتدال بھی رکھ سکیں اوراجتماعی مفاد کو کوئی ٹھیس بھی نہ پہنچے اس طرح زمینی اراضی کی بنیادی طور پر دو ہی اقسام بنتی ہیں:

اوّل:ایسی اراضی جو حکومتی ملکیت ہوں۔

دوم:ایسی اراضی جو انفرادی یا شخصی ملکیت ہوں۔

عمومی طور اراضی مملکت مندرجہ ذیل اقسام پر مشتمل ہوتی ہے:

(1)اراضی موات: اراضی موات ایسی بنجر مردہ اور دور افتادہ زمین کو کہا جاتا ہے جسے کسی نے آباد نہ کیا ہو، کتب فقہیہ میں باب احياءالموات میں اس کے متعلقہ احکام ذکر کئے جاتے ہیں،إحياءالموات سے مراد کسی ایسی زمین کو پانی لگانے،زراعت وکاشتکاری یا عمارت تعمیر کرنے کے ذریعے آباد کرنا جو پہلے کسی کی ملکیت نہ ہو؛ ایسی زمین کی آبادکاری کیلئے شریعتِ اسلامی نے سادہ سا اصول بتایا ہے کہ’’من أحيا أرضا ميتة فهي له‘‘جس نےمردہ پڑی بےآبادزمین کو آباد کیا وہ اسی کی ہے۔’’ کوفہ میں پڑی بنجر اور بےآباد زمینوں کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہی رائے تھی ‘‘۔

سیدناعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’من


 أحيا أرضا ميتة فهي له‘‘ ويروى عن عمرو بن عوف عن النبي صلى الله عليه وسلم وقال: "في غير حق مسلم، وليس لعرق ظالم فيه حق" [2]{ FR ’’جس نےمردہ پڑی بےآبادزمین کو آباد کیا وہ اسی کی ہے‘‘۔عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے اس اضافے کے ساتھ مروی ہے کہ:’’ جس نےمردہ پڑی بےآبادزمین کو آباد کیا وہ اسی کی ہے بشرطیکہ وہ پہلے سے کسی مسلمان کی ملکیت نہ ہو اور اس میں ظالم کے پسینہ بہانے کا کوئی حق نہیں‘‘۔

 یعنی کسی اور کی ملکیت میں کاشت کاری کرنے والے کو اس کی محنت کا کوئی صلہ نہیں دیا جائے گااورنہ ہی ملکیت تصور کی جائے گی۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :

’’جس نے کسی ایسی زمین کو بذریعہ تعمیر آباد کیا جو کسی کی نہ ہو وہ اسی کی ہے‘‘،عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ’’اسی کے مطابق عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دوران فیصلے دیئے‘‘۔[3]

سنن ابو داودمیں جابر بن عبداللہ سے بھی مروی ہے کہ:

’’من أعمر أرضاً ليست لأحدٍ فهو أحقٌ‘‘ [4]

 ’’ جس نے کسی ایسی زمین کو آباد کیا جو کسی کی نہ ہو وہ اسی کی ہے‘‘۔

کیابنجر زمین کو آباد کرنے کیلئے حکومت کی اجازت ضروری ہے؟

مولانا حنیف گنگوہی صاحب رقم طراز ہیں کہ:’’جو شخص مردہ زمین کو حاکم کی اجازت سے قابل زراعت بنا لے تو امام صاحب کے نزدیک وہ اسکا مالک ہو جاوے گا،صاحبین کے نزدیک حکمِ حاکم کےبغیر ہی مالک ہو جاتا ہے،ائمہ ثلاثہ کا بھی یہی قول ہے وہ یہ فرماتے ہیں کہ حدیث’’ من أحيا أرضاً ميتةً فهي له‘‘میں اذن وعدمِ اذن کی کوئی قید نہیں،امام صاحب کی دلیل حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے’’ليس للمرء الا ما طابت به نفس امامه‘‘{ FR 213 }اس حدیث کی روایت منقطع ہے اور ایک راوی مکحول نےکسی مجہول راوی سے روایت کی ہے اس بناء پرروایت حجت کے لائق نہیں..[5]

لیکن دورِحاضرمیں حکومت تمام زمینوں کی مالک ہوتی ہے اس لئے حکومت سے اجازت لینا ہی قرین قیاس ہےاور حکومتوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی مستحق لوگوں کیلئےبنجراراضی کی آبادکاری کی ایسی اسکیمیں متعارف کرائے جو وطنِ عزیز کےکروڑوں نادارلوگوں کے پیٹ بھرنے کا سبب بھی ہوں اور ملک کی لاکھوں ایکڑ اراضی کےقابل کاشت بنانے کاباعث بھی۔ مزید تفصیل آگے آئے گی۔ان شاءاللہ

(2)  اراضی اقطاع

حکومتی اراضی سے کچھ حصہ[جاگیر،خواہ زمین ہو یا معدنیات]بعض مستحقین یا مخصوص افراد کوعطا کردیا جائے تو ایسی زمینوں کو اراضی اقطاع کہا جاتا ہے بشرطیکہ یہ اراضی پہلےسے کسی کی ملکیت میں نہ ہو۔

اقطاع ِاراضی کی عہدنبوی علیہ افضل الصلاۃوالسلام میں کئی مثالیں ملتی ہیں :

(1)انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےبحرین میں جاگیریں دینے کا ارادہ کیا تو انصار نے عرض کیا کہ[ہم لوگ نہ لیں گے]جب تک کہ ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی آپ اتنی ہی جاگیر عطا فرمائیں، آپ   صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد دیکھو گے کہ لوگوں کو تم پر ترجیح دی جائے گی، تو اس وقت تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے ملو‘‘۔[6]

اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہےکہ نہ اراضی کادورافتادہ وبنجر[موات] ہونا ضروری ہےاور نہ ہی اس کا حاجت مند ہونا ضروری ہے جسےزمین دی جا رہی ہے۔جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بنجر زمین کاقطعہ ہی کسی مستحق کو دیا جاسکتا ہےان کی دلیل ہے ۔’’إن الله لا يقدس أمة لا يؤخذ للضعيف فيهم حقه‘‘[7]معنی کے لحاظ سے حدیث اگرچہ صحیح ہےلیکن اس حدیث کے راوی یحیٰ نےسیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کو نہیں پایا تھا چنانچہ جیسے حربی اور ابی حاتم نے فرمایا ہےکہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو روایت صحیح تھی۔[8]

(2)  علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:

          ’’ نبی    صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرموت کے علاقے میں انہیں ایک قطعہ زمین عطا کیا‘‘۔[9]

(3)  ابیض بن حمال سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور چاہا کہ نمک کی وہ کان جو مآرب میں تھی جاگیر کے طورپران کو دے دیں تو آپ نے ان کوعطاکر دی ۔ جب وہ چلنے لگے تو مجلس میں سے ایک شخص بولا یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم :’’کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اسے کیا دے دیا؟ آپ نے اس کو نہ ختم ہونے والا پانی دے دیا !چنانچہ یہ سن کر آپ نے اسے واپس لے لیا۔ اس کے بعدانہوں نے آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا کہ پیلو کے درخت کی کو نسی زمین گھیری جائے؟ [جہاں لوگ اور ان کے جانور نہ آسکیں] آپ نے فرمایا جہاں اونٹوں کے قدم نہ پہنچ سکیں۔ [یعنی جو آبادی اور چرا گاہ سے الگ ہو]۔[10]

یہ اقطاع اراضی کی عہد نبوی کی چند مثالیں ہیں ان کےعلاوہ بھی کئی مثالیں موجود ہیں جو اس عمل کے جواز کی واضح دلیل ہیں اوراس کےبعد بھی امام المسلمین لوگوں کو ان کے جذبہء خدمت کو سراہتے ہوئے یا مستحقین کی مالی اعانت کے طورپرزمینیں عطاکیا کرتے تھےلیکن پس منظر میں اقطاع اراضی کا مقصد زمین کی آباد کاری اور زراعت کی افزائش بھی ہوتا تھا۔یہ بعد کے اقطاع اراضی کے نظام سے بالکل مختلف تھا جس میں اچھی اور آباد زمینیں اقرباء میں تقسیم ہوتیں یالوگوں کی وفاداریاں خریدنے کیلئے دی جاتی تھیں،اس قسم کی اقطاع اراضی کے اموی دور سے لیکر ہندوستان میں مغل ادوار تک کے قصے زبالۃالتاريخ میں بھرے پڑے ہیں۔

لیکن دور حاضرمیں وطنِ عزیز کا کیاالمیہ ہے؟یہاں تو عوام کی حکومت عوام پر ہے اور معیشت زبوں حالی  کا شکار ہےپھر بھی آج تک تمام فوجی وسول حکومتیں ان اراضی کی منصفانہ اصلاح و تقسیم میں نا کام نظرآئی ہیں اوردنیا میں جہاں کہیں بھی حکومتیں اراضی کی اصلاحات متعارف کرانے میں ناکام ہوئی ہیں وہاں بے روزگاری، شورش اور خانہ جنگی نے بار بار جنم لیا ہے۔ روس، ویت نام اور چین میں دیہی علاقوں کے عدمِ اطمئنان کی وجہ سے ہی کیمونسٹوں نے حکومتوں کا تختہ اُلٹا تھا۔ ماضی قریب میں سُوڈان، نیپال، زمبابوے، ایل سلواڈور اور پیرو کے تنازعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح زمین کی مِلکیت اور استعمال کا عرصہ نسلی اور طبقاتی تشدد کو ہوا دینے کے لئے استعمال ہو سکتا ہے۔

     پاکستان میں بھی بالکل ایسی ہی صورت حال ہےزمین کی ملکیت نہ ہونا پاکستان کے دیہی علاقوں میں غربت اور بھوک کی بلاشبہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ تقریباً 70 فیصد دیہی آبادی کے پاس اپنی اراضی نہیں ہے اور پاکستان کی کل اراضی کی71فیصد Agricultural Irrigated Land زمین کو قابل کاشت Arable Landبنایاجا سکتا ہے۔جوکہ 1975میں تقریباً6کروڑ84لاکھ پاکستانیوں کیلئے 595.19Million Hectorتھی یعنی کل قابل کاشت اراضی کاصرف 21فیصد اور آج تقریباً 19 کروڑ پاکستانیوں کیلئے 30.20 Million Hectorیعنی کل قابل کاشت اراضی کا صرف 23 فیصدہے۔ اس23فیصد رقبہ کا47فیصدخواص کے پاس ہے اورباقی اراضی اسوقت عوام کی ملکیت ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ برّصغیر ہند میں برطانوی قانون کے تحت نجی جائیداد رکھنے کے حقوق بنیادی طور پر جاگیر داروں کو دیئے گئے تھے جس کا مقصد ان کی حمایت حاصل کرنا تھا اور آزادی ملنے کے بعد بھی پاکستان کی حکومتوں نے جاگیرداروں کے طبقہ اشرافیہ کو نوازنے کے لئے ان قوانین کو برقرار رکھا ہے جن میں سے بہت سے جاگیر دار معروف سیاست دان بن چکے ہیں اِسی لئے اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ملک میں اصلاحاتِ اراضی کی کوششیں غیر مُنظم اور غیر مؤثر ثابت ہوتی رہی ہیں۔[11]

کیاوجہ ہے کہ پاکستان میں دنیا کا بہترین نہری نظامIrrigation System ہےاورپاکستان کے68فیصد علاقوں میں سالانہ برساتAnnual Rain Fall 250ملی میٹر ہے اور24فیصد علاقوں میں سالانہ برسات 500ملی میٹرتک ہوتی ہے اور صوبہ پنجاب وسندھ میں اعلی در جے کی زرعی جامعات اپنی نئی نئی تحقیقات اخبارات میں شائع کراتی رہتی ہیں اوربے زمین ہاریوں میں زمین کی تقسیم،کاشتکار کے حقوق اورسبز انقلاب جیسے موضوع ہمارے’’منتخب کردہ‘‘نمائندوں اورزرائع ابلاغ کے دل پسند نعرے رہے ہیں پھرآج تک اس مسئلہ کےحل میں کوئی پیش رفت کیوں نہ ہو سکی؟

کیونکہ دین اسلام کومکمل نظامِ زندگی کے طور پر نہیں اپنایاگیاجبکہ ربّ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے:

] يٰا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَافَّةً[البقرۃ: 208)

یعنی اہل ایمان کو اللہ عزوجل نے حکم دیا کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ

اس طرح نہ کرو جو باتیں تمہاری مصلحتوں اور خواہشات کے مطابق ہوں ان پر تو عمل کر لو دوسرے حکموں کو نظر انداز کر دو بلکہ صرف اسلام کو مکمل طور پر اپناؤ اور آج کل کے سیکولر ذہن کی تردید بھی کرو جو اسلام کو مکمل طور پر اپنانے کے لئے تیار نہیں بلکہ دین کو عبادت یعنی مساجد تک محدود کرنا اور معاشیات وسیاسیات اور ایوان حکومت سے دین کو نکال دینا چاہتے ہیں۔

ایسے سیکولرذہنوں کیلئے چند گزارشات ہیں ان پر عمل کر کے شایدوطن عزیز کے 1100,0000لوگوں کی بھوک کا کچھ مداوا ہو سکے:

  حاکم ومحکوم کو صحیح معنی میں دین اسلامی کو اپناناہوگا کیونکہ اسلام کا حل ہمیشہ معتدل اصلاحی اورتعمیری ہوتا ہےکیونکہ اگر موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کا حل عوام نے اشتراکیت کے سازباز سے نکالاتو وہ انتقامی اور تخریبی جراثیم کا حامل ہوگا۔

 ایک متقی اور متدین حکومت ایسے موقع پر وقتی قوانین نافذ کرسکتی ہے،اس موضوع میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ  کا دورِخلافت ہمارے لئے نمونہ عمل ہے۔انہوں نے تمام مفتوحہ علاقوں کی اراضی کی پیمائش کرائی جن میں مصر عراق وشام شامل تھے اور صرف عراق کی اراضی30.65 Million Hectorتھی اس میں سے غیر آباد زمینوں کیلئے حکم دیا کہ جو انہیں آباد کرے گا وہی ان کا مالک ہوگااور اگر تین سال آباد نہ کرے گا تو زمین اسکے قبضہ سے نکل جائے گی۔

   غریب لوگوں میں ہی زمین کی مناسب تقسیم کو یقینی بنایا جائےتاکہ ان بے زمین کسانوں کا شمار بھی زکاۃ اور محصولاتِ زراعت ادا کرنے والوں میں سے ہو سکےناکہ سرمایہ دار وں اورسرمایہ دارممالک کو بنجر زمینیں آباد کرنے کے نام پرلاکھوں ایکڑلیز کئے جائیں۔

Real Estate Sector کو بھی حکومتی سطح پر مجبورکیا جائےکہ وہ شہروں کے نزدیک زرعی اراضی کو کنکریٹ کے جنگلات میں تبدیل نہ کریں بلکہ حکومت کے ساتھ مل کر نئے شہروں کی تعمیر کریں جس کی کئی مثالیں مسلمانوں کے عہدِ قدیم سے ملتی ہیں جیسے بصرہ،کوفہ،موصل اورفسطاط وغیرہ۔

اور جبGovernment & Real Estate Sectorبے زمین کسانوں کی مدد کیلئے قدم بڑھائیں توہمارے عام مضاربین Financers کو بھی چاہئے کہ بینکوں کے ائیرکنڈیشنڈ ڈیسک کی مضاربت چھوڑ کراس شعبے میں اپنے محنت کشوں کو ان کے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدددیں اور بابرکت منافع بھی حاصل کریں۔

(3) اراضی ِ اوقاف ومتروکہ وغیرہ

ان میں وہ تمام اراضی شامل ہیں جو رفاہِ عام کےلئے مختلف جوانب سے وقف کی گئی ہوں اور واقفین نے حکومت کو اس پر نگران مقرر کیا ہو۔

اراضی متروکہ مصالح عامۃ الناس جیسے قبرستان وغیرہ کے لئے چھوڑی گئی اراضی کو کہا جاتا ہے انہیں حکومت  نے چھوڑا ہو یا کسی نے ذاتی ملکیت سے متروکہ قرار دیا ہو۔

ایسی صورت میں وہ اراضی حکومت ہی کی ملکیت تصور کی جائیں گی لیکن حاکم ان اراضی کو کسی کی جاگیر میں نہیں دے سکتا۔

انفرادی یا شخصی ملکیت میں موجود اراضی

شریعتِ اسلامی نے ہراس شخصی ملکیت کا احترام کیا ہےجو اس نے جائزاور مشروع طریقہ سے حاصل کی ہو مثلاًمورّث کی میراث سے،یا باہمی خریدوفروخت اور تبادلہ سے،یاسبقت اور پہل کر کے کسی دور افتادہ قطعہ زمین کو آباد کر کے اپنی ملکیت میں لے لے ، یا حاکم نے اسے قطعہ زمین عطا کیا ہو ،یا اسے زمین ہبہ یا وصیّت وغیرہ کے ذریعےاسکی ملکیت میں آئی ہونیز اس طرح کے تمام مباح طریقہ تملیک کو تسلیم کیا ہےاور مالک کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی ملکیت  میں مناسب تصرف کرے اور اس کا یہ عمل دوسروں کی معاشی تنگی کا سبب نہ بن پائے۔ اور شخصی ملکیت میں قبضہ ،ظلم  و جبرا ورغصب کے راستے بالکل بند کر دئیے ہیں۔

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

 ’’ أن أبا سلمة حدثه أنه کانت بينه وبين أناس خصومة فذکر لعائشة رضي الله عنها فقالت يا أبا سلمة اجتنب الأرض فإن النبي صلی الله عليه وسلم قال من ظلم قيد شبر من الأرض طوقه من سبع أرضين"۔[12]

’’ ابوسلمہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے اور چند لوگوں کے درمیان ایک جھگڑا تھا انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  فرمایا کہ ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زمین سے بچو اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے :  ’’جس نے ایک بالشت بھر زمین کسی سے ظلما ًلے لی تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا‘‘۔

امام مسلم کی بھی اسی معنی میں سعید بن زید سے روایت ان الفاظ کے ساتھ  ہے کہ:

 أن أروى خاصمته في بعض داره، فقال: دعوها وإياها، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:"من أخذ شبرا من الأرض بغير حقه، طوقه في سبع أرضين يوم القيامة"اللهم إن كانت كاذبة فأعم بصرها، واجعل قبرها في دارها، قال:" فرأيتها عمياء تلتمس الجدر تقول: أصابتني دعوة سعيد بن زيد، فبينما هي تمشي في الدار مرت على بئر في الدار ، فوقعت فيها، فكانت قبرها ".[13]

’’ ارویٰ نے ان سے گھر کے بعض حصہ کے بارے میں جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا کہ اسے چھوڑ دو اور زمین اسے دے دو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سناہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ جس نے اپنے حق کے بغیر ایک بالشت بھی زمین لی تو اللہ تعالی قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق ڈالیں گے اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے اور اسے اندھا کر دے اور اس کی قبر اس کے گھر میں بنا‘‘ راوی کہتے ہیں کہ’’ میں نےاسے اندھا اور دیواروں کو ٹٹولتے دیکھا اور کہتی تھی مجھے سعید بن زید کی بد دعا پہنچی ہے اس دوران کہ وہ گھر میں چل رہی تھی گھر میں کنوئیں کے پاس سے گزری تو اس میں گر پڑی اور وہی اس کی قبر بن گئی‘‘۔

ایک اور جگہ بیان فرمایا کہ:

’’من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلی سبع أرضين ‘‘۔[14]

’’ جس نے کسی زمین پر ناحق قبضہ کر لیا تو اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا‘‘ ۔

مندر جہ بالا احادیث تمام قسم کے ناجائز قبضہ جات کاانکار کر رہی ہیں حتی کہ حکومت بھی مالک کی مرضی کے بغیر اس کی زمین نہیں خرید سکتی، عہد فاروقی کا قصہ علامہ شبلی نعمانی نے الفاروق میں نقل کیا ہے کہ’’ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع کیلئے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سےان کا مکان خریدنا چاہا جو مسجد کے ساتھ تھا اور توسیع میں رکاوٹ بن رہا تھاسیدناعمر رضی اللہ عنہ نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جائز قیمت دے کر مکان دے دیں۔ لیکن عباس اس بات پر راضی نہ ہوئے اور تنازعہ کی شکل پیدا ہو گئی آخر فریقین’’حکومتِ وقت اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ‘‘ نےابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ثالث مقر کیا تو انہوں نے فیصلہ حکومت کے خلاف دے دیا اور جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے مقدمہ جیت لیا تو انہوں نے وہ مکان بلا قیمت ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مسجد کی توسیع کیلئے دے دیا‘‘۔

ملاحظہ کیجئے مکان حاصل کرنے کیلئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد کتنا پاکیزہ تھا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی اس معاملہ میں انتہائی فراخ دل ثابت ہوئے۔اس مقدمہ سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عام لوگوں کو یہ علم ہو جائے کہ شریعتِ اسلامی میں شخصی ملکیت کا کس قدر تحفظ ہے کہ حکومت وقت بھی اس کی ملکیت اس سے بذریعہ قیمت نہیں خرید سکتی جب تک مالک خود راضی نہ ہو جائے‘‘۔


 

فضائلِ زراعت

اسلام ایک ایسا کامل و مکمل مذہب ہے، جو اپنے پیروکاروں کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ انسانی زندگی کے اس اہم شعبےAgricultureزراعت کے بارے میں راہ نمائی نہ کرتا جس کا آغازہی سے بنی نوع انسان کا تعلق رہاہے،فی الواقع زراعت کی بڑی اہمیت ہے ۔ اگرزراعت نہ کی جائے تو غلہ کی پیداوار نہ ہو سکے جو انسان کی شکم پری کا بڑا ذریعہ ہےاسی لیے قرآن و حدیث میں اس فن کا ذکر بھی آیا ہے:

} أَفَرَأَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُونَ ۔أَأَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ {(الواقعہ: 63، 64)

 ’’ بھلا دیکھو!جو بیج تم بوتے ہوتو اس سے کھیتی تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہم ہیں۔اس سے زیادہ فضیلت اور کیا ہوگی کہ جو بیج ہم زمین میں لگائیں اسےاگانے کو اللہ تعالی اپنی طرف منسوب کیاہے،یہ کام کسان کااللہ پر توکل بھی ثابت کرتا ہے‘‘۔

} وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ {( الاعراف: 10)

 ’’ ہم نے تمہیں زمین میں اختیار دیااور تمہارے لیے اس میں سامان معیشت بنایا۔ مگر تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو‘‘۔

 زمین سے منسوب معیشت میں زراعت سب سے پہلا طریقہ معیشت ہے جو اللہ نے انسان کو عطا  فرمایا ہےاورزمین ربّ الکریم کا انسان پر ایسا عطیہ ہے جس سے بنی نوع انسان کےدوبنیا دی اغراض وابستہ ہیں ایک کاشتکاری یا زراعت اور دوسری رہائش یا سکونت اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے بھی زراعت کی اہمیت و فضیلت سے روشناس کرانے کیلئے آثار وارد ہیں۔

 انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ’’ کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرندہ یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے‘‘۔[15]

 اس حدیث کو امام مسلم نے یوں بیان کیا ہےکہ ’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ام مبشر نامی انصاری صحابیہ کا لگایا ہوا کھجور کا درخت دیکھا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان کوئی درخت لگائے پھر اس سے آدمی یا پرندے یا جانور کھائیں تو یہ سب کچھ اس کی طرف سے صدقہ میں لکھا جاتا ہے‘‘۔[16]

 امام بخاری کی روایت کردہ حدیث میں مزید وسعت کے ساتھ لفظ’’ او يزرع زرعا‘‘بھی موجود ہے یعنی کچھ بھی زراعت کرے چاہےباغ لگائے یا کھیتی کرے۔ تو اس سے جو بھی آدمی، جانور، فائدہ اٹھائیں اس کے مالک کے ثواب میں بطور صدقہ لکھا جاتا ہے۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یعنی اس حدیث میں باغبانی اور زراعت اور زمین کو آباد کرنے کی فضیلت مذکور ہے۔

مگر جو کاروبار فرائض اسلام کی ادائیگی میں حائل ہو، وہ الٹا وبال بھی بن جاتا ہے۔ کھیتی کا بھی یہی حال ہے کہ بیشتر کھیتی باڑی کرنے والے یادِ الٰہی سے غافل اور فرائض اسلام میں سست ہوجاتے ہیں۔ اس حالت میں کھیتی اور اس کے آلات کی مذمت بھی وارد ہے۔

 ابو امامہ باہلی سے مروی ہے کہ انہوں نے ہل اور کچھ کھیتی کے آلات دیکھے، تو کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے:

’’لا يدخل هذا بيت قوم إلا أدخله الله الذل‘‘۔[17]

’’ جس قوم کے گھر میں یہ داخل ہو، اس گھر میں اللہ ذلت داخل فرماتاہے‘‘۔

بہرحال مسلمان کو دنیاوی کاروبارکے ساتھ ہر حال میں اللہ کو یاد رکھنا اور فرائض اسلام کو ادا کرنا ضروری ہے۔

مزارعت کے متعلق احکام

اسلام کے معاشی نظام کے مثبت معاشی مقاصد میں غربت کا انسداد اور تمام انسانوں کو معاشی جد وجہد کے مساوی مواقع فراہم کرنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام سب کو حصول رزق کے مواقع عطا کرنے اور مثبت طور پر ایسی حکمت عملیاں بنانے کی تاکید کرتا ہے، جس سے غربت وافلاس ختم ہوں اور انسانوں کو ان کی بنیادی ضروریات لازماً حاصل ہوںاور مزارعت و مساقاۃ Sharecropping،Agricultural Tanacy سرمایہ کاری کے ایسے معاہدے ہیں جن سے معاشرے کی پیدا واری صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہےاس لئے مزراعت زراعت کاانتہائی اہم شعبہ ہےجس کے شرعی قوائد وضوابط جاننا بہت ضروری ہے۔

تعریف و مشروعیت مزارعت

مزارعت کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ:

’’ المزارعة، المعاملة على الارض ببعض مايخرج منها".[18]

یعنی مزارعت سے مراد وہ معاملہ یا معاہدہ ہےجو زمین کی پیداوار سے کچھ حصہ پرزمین کی زراعت کیلئے کیا جائے۔

اورالمخابرۃسےبھی یہی مرادہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلمان جب خیبر کے یہودیوں پر غالب آگئے تو رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خیبرکی زمینوں پر مزارعت کا معاہدہ کیا تو اسی کی مناسبت سے اس کا نام مخابرۃ ہو گیاتھا ورنہ دونوں میں اصلاً کوئی فرق نہیں۔

اسی طرح المساقاۃآبپاشیWateringہےاس میں مکمل زراعت نہیں بلکہ پہلےسےموجودکھجوریا دوسرے پھل دار درختوں میں پانی لگاکر کاشتکار مالک زمین سے طے کردہ حصہ وصول کرنےکا معاہدہ کرتا ہے۔

مشروعیتِ مزارعت

مزارعت کے بارے فقہاء کی دو آراء مشہور ہیں:

(1) ابو یوسف،محمد بن حسن ،عامۃالمالکیہ و الشافعیہ اور حنابلہ مزارعت کے جواز کے قائل ہیں۔امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’مزارعت صرف نقود کے عوض درست ہے ‘‘جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کافرمان ہے ’’مزارعت مساقاۃ کے ساتھ جائز ہے علیحدہ نہیں‘‘۔[19]جمہور ائمہ مذاہب اربعہ اورائمہ حدیث کے نزدیک مزارعت [بٹائی،مخابرہ]درست ہے،اختلاف بعض صورتوں میں ہے یا اولویت میں۔

اس رائے کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:

(1)   قیس بن مسلم نے ابو جعفر سے روایت کی ہے کہ:

ترجمہ:’’ مدینہ میں کوئی ایسا مہاجر نہ تھا جو تہائی یا چوتھائی پر کاشت نہ کرتا ہو،علی،سعد بن مالک،عبداللہ بن مسعود،عمر بن عبدالعزیز ، القاسم ،عروۃ،آل ابی بکر،آل عمر،آل علی اور ابن سیرین سب نے مزارعت کی اور عبدالرحمٰن بن اسود فرماتے ہیں کہ میں عبدالرحمٰن بن یزید کے ساتھ مل کر کاشت کاری کرتا تھا،اور عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس شرط پر مزارعت کرائی کہ اگر عمربیج دیں تو پیداوار میں آدھا لیں گے اور اگر وہ[کاشتکار]بیج اپنا استعمال کریں تو وہ اتنا لیں گے۔[20]

اس اثر سے واضح ہوتا ہے صحابہ کرام کی کثیر تعداد مزارعت کی قائل تھی بلکہ ہجرت کی شروعات سے ہی باجازتِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم انصار رضی اللہ عنہم کے ساتھ کاشتکاری کرتے تھے،قاضی شوکانی صحیح کی سابقہ عبارت کے بارے میں فرماتے ہیں :’’ امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ صحابہ اور اہل مدینہ سے کوئی بھی مزارعت کے مخالف نہ تھا‘‘۔[21]

صحیح بخاری ہی میں مروی ہے کہ:

(2) سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انصار نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ ہمارے باغات ہم میں اور ہمارے مہاجربھائیوں میں تقسیم کر دیجئے،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


 

 "لا"، فقال: "تكفونا المئونۃ ونشرككم في الثمرۃ"، قالوا: "سمعنا وأطعنا"[22]

’’نہیں‘‘پھر انصار نے مہاجرین کو مخاطب کر کے کہا آپ باغات میں محنت کریں ہم پیدا وار میں آپ کو شریک کرتے ہیں تو مہاجرین صحابہ نے فرمایا کہ ’’ہمیں منظور ہے‘‘۔

اور یہ معاہدہ انصار اور مہاجرین کے درمیان رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہوا تھااگر جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ اسی مجلس میں انکار کر دیتے بلکہ اس کے بعدجب اسلام غالب آ گیا اور خیبر فتح ہوا توخیبرکی زمینیں اور باغات یہود کو مزارعت کیلئے دئیے گئے ۔

(3)   عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:

 "أن النبي صلى الله عليه وسلم عامل خيبر بشطر ما يخرج منها من ثمر أو زرع".[23]

ترجمہ:  ’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خیبر کی زمینیں نصف پیدا وار پر مزارعت کیلئے دیں۔قائلین مزارعت کی سب سے بڑی دلیل یہی رسول اللہ کا فعل ہے اور چونکہ خود رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر تک اور عہد ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما تک یہی معاملہ رہا تا آنکہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے یہود کو جلا وطن کر دیا‘‘۔

 امام علاءالدین کاسانی الحنفی اس حدیث کے با رے میں تعلیقاً فر ماتے ہیں:’’رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل کم از کم جواز پر دلالت کرتا ہےاور یہی سیدنا علی،ابن مسعود،ابن عباس،عمربن عبدالعزیز،قاسم،عروۃ، زھری، ابن ابی لیلیٰ اور ابن المسیب وغیرہ کا موقف ہے‘‘۔[24]

اس دلیل پر اعتراض میں مانعین کہتے ہیں کہ خیبر کا معاملہ مزارعت کا معاملہ تھا ہی نہیں کیو نکہ خیبر کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے بزور شمشیر فتح کیا تھا لہٰذا خیبرکے یہود مسلمانوں کے غلام تھےآپ  صلی اللہ علیہ وسلم پیداوار کاجو حصہ وصول کرتے تھے وہ بھی آپکا ہی تھا اور جو یہود کو دیتے تھے وہ بھی آپکا ہی تھا۔[25]اور یہ بھی کہا جاتا کہ خیبر کی زمین خراجی تھی۔

 یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ خیبر کا کچھ حصہ تو بزورِ شمشیر فتح ہواتھا اور کچھ حصہ بغیر جنگ کے ہی فتح ہوگیا تھااور مسلمانوں اور یہود کے مابین مصالحت اس بات پر ہوئی تھی کہ تمام زمینیں مسلمانوں کی ملکیت ہوں گی اسی لئےعہد فاروقی میں جب انہیں نکالا گیا توخیبر کی آدھی زمین تو بطور مالِ فیٔ اسلامی مملکت کی تحویل میں آگئی اور باقی مجاہدین اور امہات المومنین وغیرہ میں تقسیم کر دیا گیا اسے کسی طور پربھی خراجی زمین قرار نہیں دیا جاسکتا۔ باقی رہا مزا رعت کا معاملہ تو وہ زمین خراجی تھی یاغیر خراجی سب کا معاملہ مزارعت پر ہی ہوا تھا۔ امہات المومنین رضوان اللہ علیہن اجمعین نے بھی اپنی زمینیں مزارعت پر ہی دیں۔ مانعین مزارعت کی طرف سے کچھ اور بھی اعتراض کر کے اسے مزارعت سے نکالنے کی کوشش کی گئیں ہیں مگر ایسے اعتراض محض برائے اعتراض کئے جا تے ہیں لہٰذاان کا جواب ضروری نہیں۔

(2)امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد زُفر نے مزارعت مساقاۃ ( آبپاشی کیلئے )اور کراء الارض (ٹھیکے پر دینا ) کو منع فرمایا ہے۔[26]

 ہدایہ میں امام صاحب کے اس قول کا استدلال کچھ اس طرح سے کیا گیا ہے کہ:

اور انکی دلیل یہ روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرت سے منع فرمایا ہےجو مزارعت ہی ہے‘‘اور کیونکہ یہ ایسا کرایہ ہے جس میں اجیر کی اجرت اس کےعمل میں سے ادا کی جاتی ہےاس طرح یہ قفیز الطحان جیسا معاملہ ہو جائے گااور کیونکہ اس میں کرائے کی اجرت مجہول یعنی غیر مقدر ہوتی ہے تو یہ ہر طرح سے فاسد ہے،اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ خیبر سے مزارعت کاجو معاملہ کیا تھاوہ بٹائی کے ذریعہ خراج وصول کرنا تھا اورمصالحت اوراحسان میں وہ جائزہے۔[27]

اس استد لال کو ہم تین نکات میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔

1  نہی پر وارد حدیث مبارکہ۔

2  مزارعت کا اجرت پر قیاس ۔

3  اراضی خیبر کو خراجی قراردینا۔

(1) اس حدیث مبارکہ کو امام مسلم نے عبداللہ بن جابرسے روایت کیا ہے ،انکے علاوہ رافع بن خدیج، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین سے[المخابرۃ،المزارعۃ،المساقاۃ اور كراءالأرض وغیرہ]کی ممانعت کی احادیث مروی ہیں اور ان تمام صحابہ سے کوئی نہ کوئی توجیہ بھی وارد ہے۔

سیدناجابررضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم ہی میں اس نہی کی تو جیہ وارد ہےفرماتے ہیں کہ:

أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له أرض فليزرعها، أو ليزرعها أخاه، ولا يكرها".[28]

’’ اگر کسی کے پاس زمین ہے تووہ اسے خود کاشت کرےورنہ کاشت کیلئےاپنے بھائی کو دے دے اور اسے[بٹائی] یا ٹھیکہ پر نہ دے‘‘۔

 یعنی اس زمین پر کسی قسم کا منافع حاصل کرنے کے بجائےازراہ تعاون اپنے غریب بھائی کو دےدےاور اس تعاون کی مثال ہمیں ہجرت کے بعد کے زمانے سے ملتی ہے کہ جب انصار صحابہ نے مہاجرین صحابہ کو زمین دینا چاہی وہ مکمل واقعہ اوپر بیان ہو چکا ہے،اس کے بعد سب سے زیادہ روایت انصاری صحابی سیدنارافع بن خدیج  رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ:

’’كنا أكثر أهل المدينۃ حقلا، وكان أحدنا يكري أرضه، فيقول: هذه القطعۃ لي وهذه لك، فربما أخرجت ذه ولم تخرج ذه، "فنهاهم النبي صلى الله عليه وسلم’’[29]

ترجمہ: ’’اہل مدینہ میں ہمارے کھیت بہت زیادہ تھے ہم زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے، اس شرط پر کہ زمین کے ایک حصہ کی پیداوار زمین کے مالک کے لئے ہو گی، تو کبھی اس حصہ ٔ زمین پر آفت آجاتی اور باقی محفوظ رہتا، چنانچہ اس سبب سے کہ بعض حصہ پر آفت آجاتی اور باقی حصہ محفوظ رہتا، ہم لوگوں کو اس سے منع کیا گیا۔یعنی ان فاسد شروط کی بنا پر مزارعت اور ٹھیکے سے منع کیا گیااسی قسم  کے الفاظ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں:

ترجمہ: رسول اللہ نے فرمایا:’’اگر تم بلامعاوضہ ہی اپنے بھائیوں کوزمین دے دیا کرو تو یہ اس سے اچھا ہے کہ تم اس پر [بٹائی یاکرایہ]وصول کیا کرو‘‘۔

اس عدمِ جواز کی توجیہ میں علماء ایک اور روایت ذکر کرتے ہیں زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج کومعاف فرمائےواللہ میں اس حدیث کو ان سے بہتر جانتا ہوں،واقعہ یہ ہواکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے پا س دو انصاری لڑتے ہوئے آئے تو آپ نے فرمایاکہ: ’’إن كان هذا شأنكم فلا تكروا المزارع‘‘[30]

اگر تمہارا یہی حال ہے توزمین ٹھیکہ پر نہ دیا کرو۔اس روایت میں کراء الارض سے ممانعت کا سبب مذکور ہےاور اسی طرح کی ممانعت تو جیہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع نہیں فرمایا البتہ یہ کہا ہے کہ آپس میں نر می کا برتاؤکیا کرو۔[31]

مندرجہ بالا توجیہات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرے سے ہی مزارعت کی ممانعت وارد نہیں ہوئی بلکہ کچھ غلط اسباب اور فاسد شروط کی بناء پر نبی الرحمہ علیہ الصلاۃوالسلام نے اس سے منع کیا ہےاگر وہ نہ ہوں تو مزارعت جیسے معاہدوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔

(2) مزارعت کا اجرت پر قیاس

اسکا جواب قائلین اس طرح دیتے ہیں کہ مزارعت کا اجرت پر قیاس نہیں بلکہ مزارعت کا مضاربت پر قیاس کیا جانا چاہئےجو إجماع امت سے جائز ہے مزید تفصیل امام ابن قیّم کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ:انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ معاہدے اجارہ کی جنس سے ہیں،کیونکہ اس میں [عوض]اجرت کے بدلے[معوض]عمل ہےاور اجارہ میں عامل کا عمل اور اسکا عوض یعنی اجرت معلوم ہونا ضروری ہے پھر جب انہوں نے اس معاہدے میں عمل اور منافع غیر معلوم پائے تو کہا یہ خلاف قیاس ہے ،یہی انکی غلطی ہے،کیونکہ یہ معاہدے مشارکت کی جنس سے ہیں نہ کہ معاوضتِ محض پر مشتمل ہیں جن میں عمل اور اجرت کا  معلوم ہونا ضروری ہوتا ہے اور مشارکت مواجرت سے الگ ایک قسم ہے۔اسی طرح جنہوں نےمزارعت اور مساقاۃ کو منع کیا ہے انہوں نے یہی سمجھا ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں اجیر[عامل] کی اجرت مجہول ہے اور اسکا انکار کردیا مگرحقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ مزارعت میں عامل اور مالک زمین کے نفع اور نقصان میں شریک ہوتے ہیں اور یہ عین عدل ہےاور ظلم و غررسے انتہائی دور..[32]امام ابو یوسف نے بھی اپنی ’’کتاب الخراج‘‘میں اسی قسم کی توجیہ بیان کی ہےکہ مزارعت کا معاملہ مضاربت کے جیسا ہی ہے،اس طرح قفیز الطحان کا معاملہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ جب وہ اجیر ہی نہیں تو مزارع اپنے عمل سے اپنی اجرت نہیں بلکہ اپنا حصہ وصول کرتا ہے جس پر وہ متفق ہوئے ہیں۔

(3)- اراضی خیبر کا خراجی قراردینا

اراضی خیبر کا خراجی قراردینادرست نہیں جس کی تفصیل اوپر بیان کی جا چکی ہے۔ اورکتبِ فقہ حنفیہ میں امام صاحب کی مما نعت کے با وجودمزارعت کے مفصل احکام مذکور ہیں سیدانور شاہ مرحوم جو حنفی مسلک کے مایہ نازعالم دین ہیں اورانہوں نےمتعدد معرکۃ الآراء مسائل پر کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں، درسِ حدیث کی تقریر کی جامعیت کا اندازہ ’’ فیض الباری ‘‘سے کیا جاسکتا ہے۔ جو صحیح بخاری کی تقریر ہےاور چار ضخیم جلدوں میں شائع ہے، دو مختلف و معارض اقوال میں اپنی قوت استنباط کے زور سے بلاتکلف ایک کو دوسرے پر ترجیح دیدیتے تھے،وہ فیض الباری میں فرماتے ہیں کہ:’’میں صاحب ہدایۃ کی مزارعت کے متعلق روش کو مدت تک نہ سمجھ سکاکہ ایک طرف تو وہ مزارعت کو ابوحنیفہ کے نزدیک ممنوع فرماتے ہیں اور صاحبین اورامام صاحب کا اختلاف نقل کرتے ہیں،جب امام کے نزدیک مزارعت درست ہی نہیں اس اختلاف اور فروع کے ذکرکی کیاضرورت ہے؟‘‘اور دوسری جگہ فرماتےہیں کہ ’’پھر حاوی القدسی سے معلوم ہوا کہ امام صاحب نے مزارعت کو مکروہ سمجھا ہے سختی سے منع نہیں فرمایااسی حوالہ سے مجھے اطمینان ہو گیا‘‘۔[33]


 

 مندرجہ بالا سطور سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کےمزارعت سےمنع کرنے کی بنیادی وجہ باہمی مفادات میں عدم توازن اور محنت کرنے والے کااستحصال ہے اگر کسی کی حق تلفی نہ ہو تو اس معاہدے میں کوئی مضا ئقہ نہیں۔

دیگر مسائل معاہدۂ مزارعت

 مزارعین کی مشارکت:اگر مزارعت میں عامل یعنی مزارع کسی وجہ سےاپنا کام مکمل کرنے سے عاجز ہو تو اپنے ساتھ دوسرے عامل کو شریک کر سکتا ہےاوراسے اپنے حصے سے بٹائی ادا کرےجس پر بھی انکا اتفاق ہو،بشرطیکہ زمین کے مالک نے یہ شرط نہ لگائی ہو کہ صرف اول الذکر عامل ہی کام کرے اگر اس قسم کی شرط ہو تو پھر زمین کے مالک کی اجازت لازمی ہو گی۔[34]

 فسخ معاہدہ مزارعت

اگر فصل تیار ہونے سے پہلےمالک معاہدے کو ختم کرنا چاہے تو وہ مزارع کو مثل نصیب[پیداوار سے اس کے حصے کے برابر ]اداکرے گا،کیونکہ وہی عامل کو کام کرنے سے منع کررہا ہے جس کے عوض مزارع نے اپناحصہ وصول کرناتھایہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا موقف ہے اورجبکہ دیگر علماء کرام کا موقف ہے کہ مثل اجرت ادا کی جائے گی،لیکن اگر مزارع خود ہی معاہدے کو ختم کرنا چاہے تو اس کے لئے پھر پیداوار سے کچھ ادا نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ خود ہی اپنے حق سے دستبردار ہوا ہے بالکل اسی طرح جیسے مضاربت کا عامل منافع ظاہر ہونے سے پہلے ہی الگ ہو جائے تومنافع میں حصہ دار نہیں ہوگا،اور فسخ اگر اس وقت ہو جب فصل پکنے کے قریب ہو تو مالک اور مزارع دونوں اپنا مکمل حصہ وصول کریں گے جس پر انکا اتفاق ہوا تھا اور مزارع اپنا کام مکمل کرےگا،اگرعامل اتنی لا پرواہی کرے کہ پیداوار تباہ ہوجائے تو نقصان کا ذمہ داروہی ہوگا اور اسی پرضمان ہوگی۔

مالک اپنی اراضی فروخت کرنا چاہے تو کیا مزارع کوبھی کچھ مبلغ ادا کرے گا:اگر کچھ مزارع عرصہ دراز سے زمین کاشت کر رہے ہوں اور مالک زمین کو فروخت کرنا چاہے تو مزارعین کو کوئی حق نہیں کہ وہ زمیندار یا نئے خریدارسے کچھ عوض طلب کریں تاکہ ان کا جو ذریعہ معاش ختم ہو گیا ہےاس کی جگہ کوئی اور ذریعہ اختیار کر سکیں کیونکہ زمین کے جانے سے اگر انہیں کوئی ضررپہنچا ہے تو اس میں مالک کی کوئی ذمہ داری نہیں اور کیونکہ ان کی شراکت مزارعت میں تھی ملکیتِ زمین میں نہیں،اور نہ ہی مزارعین زمین خریدنے کیلئے اس فروخت کی منسوخی کا مطالبہ کر سکتے ہیں مگر تعاون باہمی اور اچھے اخلاق کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر صاحب زمین اپنی ملکیت فروخت کرنا چاہے تو اپنے مزارعین سے بھی مشورہ کرے وہ خریدنا چاہیں تو ان سے تعاون کرے اور اگر خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے اور کوئی دوسرا روزگار بھی نہیں رکھتے تو مالی طور پر بھی ان کی معاونت کرے۔

معاہدۂ مزارعت کو عدل پر قائم رکھنے کیلئے علماء نے کچھ شرائط بیان کی ہیں،جن کے اشتراط سےنہ زمیندارکا استحصال ممکن ہو پائے گا اور نہ ہی مزارع کی کسی قسم کی حق تلفی ہوگی وہ شرائط مندرجہ ذیل ہیں :

(1) مزارع اور زمیندار دونوں عاقل بالغ[مکلف]اور مکمل اہلیت کے حامل ہوں، زمیندار زمین کا مالک ہواور مزارع زراعت کر سکتا ہو۔

(2) زمین قابل کاشت ہو تاکہ کاشت کارمحنت کرکے پیداوار میں حصہ دار ہو سکے،مساقاۃ میں پھل دار درختوں کا ہونا ضروری ہے۔

(3) زراعت کی جانے والی فصل اورطریقہ زراعت معلوم ہوں،کیونکہ کچھ فصلیں اور طریقہ کاشت آمدن اور منافع پراثرانداز ہوتے ہیں۔جو بعد میں اختلاف کا سبب بنتے ہیں۔

(4) زراعت کیلئے بیج اورآلات پر دونوں جس طرح متفق ہوں وہی درست ہے ،بس کسی قسم کا بھی ضرروغررنہ پایا جائے۔

(5) پیداوار کی تقسیم فیصدی یاچوتھائی،تہائی،نصف کے طور پر اور تقسیم کا طریقہ کارطے شدہ ہو،مکمل پیداوار سےدونوں کے حصوں کی تقسیم ہو نہ کہ زمین یا فصل کے اعتبار سے حصے الگ الگ کئے جائیں۔مثلاً زمیندار یہ کہے کہ پانی کے قریب والی فصل میری ہوگی اور فلاں قطع زمین کی کاشتکار کے حصہ میں آئے گی یاگندم کی فصل کاشت کار لے اور چاول کی زمیندار لے، اس طرح تقسیم سے احادیث میں منع کیا گیا ہے،کیونکہ ممکن ہےجس قطع کی پیداوار زمیندار چاہ رہا ہو وہاں پیداور اچھی ہوتی ہو اور کاشت کار زمیندار کی باری کی بنسبت اپنی باری زیادہ محنت کرے۔

(6) مدت مزارعت معلوم ہو ،اگر فصل کی مدت مکمل ہونے سے قبل زمیندار کاشت کار کو الگ کرنا چاہے تو مثلِ محنت ادا کرے۔

(7) زمیندار اور کاشتکار دونوں اس معاہدے میں ایک دوسرے کے شریک ہیں نہ ہی زمیندار کاشت کار کواپنا غلام تصورکرے اور نہ ہی کاشتکارغصب کے ذریعے زمین کا مالک بننے کی کوشش کرے۔

خاتمہ

گزشتہ اوراق میں ذکر کردہ آیات واحادیث مبارکہ اور علماء اسلام کی پیش کردہ توجیہات اور تشریحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام کے معاشی نظام میں بنیادی وسائل ِمعیشت میں سے زراعت کو بہت اہمیت دی گئی ہے،اور اسلامی حکومت کا یہ امتیاز رہا ہے کہ اس میں سرکاری اراضی کی انتہائی منصافانہ تقسیم کا طریقہ کار رائج ہو اور ملکیتِ زمین کے حوالے سے خاطر خواہ تشریعی احکام جاری ہوئےجن میں شخصی ملکیت کا احترام بھی ہے اور مزارع یا حکومت وقت کو غصب و انتہاب کی کسی صورت اجازت نہیں دی گئی اس میں نہ قدیم وجدید جاگیر دارانہ نظام جیسی نظیر ملتی ہے کہ جس میں بڑے بڑےزمیندار کاشت کاروں کے جان ومال پر متصرف نظر آئیں اور نہ ہی اشتراکیت کی یہ جھلک نظر آتی ہے کہ جس میں زمیندار کو اس کے حقِ ملکیت سے ہی محروم کر دیا جائے۔علاوہ ازیں معاہدہ مزارعت کی بھی اسی صورت اجازت دی گئی کہ جس میں زمیندار اور کاشتکار کا معاہدہ مزارعت میں دو شریک کاروں کی حیثیت میں سامنے آئیں اگر اس میں بھی افرادامّت کے درمیان بغض اور عداوت اورایک دوسرے کی حق تلفی کی صورت میں اسے بھی ممنوع قراردیا ہے،غرض کہ اسلامی اقتصادی نظام میں معاہدہ مزارعت کا مقصدانفرادی اور اجتماعی تعاون وترابط اورتراحم کو مضبوط کرتا ہےتاکہ مسلمانوں کے درمیان باہمی اخوت اور محبت کا رشتہ قائم رہے اور اسکے لئے اسلامی معاشی نظام کودوسرے نظاموں کو مشرف بالاسلام کرنے یا ان سےکچھ مستعار لینے کی ضرورت نہیں وہ ہر قسم کے زمان و مکان کے لئے صالح اور موزوں ہے بس ضرورت ہے تو اسے نافذ کرنے کی ،کہا جاتا ہے ایک مرتبہ مولانا عبید اللہ سندھی لینن سے ملے اور انہیں اسلامی نظام معیشت لکے بارے میں بتایاتو لینن نے اعتراف کیا یہ واقعی انصاف پر مبنی نظام ہے لیکن مجھے کہیں زمین پر دکھا دیجئے میں اسے قبول کر لوں گا۔

 


 

 



[1] فاضل مدینہ یونیورسٹی ،مدیرشعبہ رفاہی امور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی ۔

[2]صحيح بخاري ، باب من أحيا أرضاً ..: 3/ 106  212

[3] أيضاً  

[4] سنن أبو داود ، كِتَاب الْخَرَاجِ .... :3/ 130

[5] صبح النوری شرح مختصر القدوری2/383

[6] معرفۃ السنن والآثار :9/ 8  3صحيح بخاری ، باب القطائع :3/ 114

[7] لاُم للشافعي : باب اقطاع الوالی :4/ 51

[8] سلسلۃ الأحاديث الضعيفۃ: 14/ 356

[9] سنن أبوداود : باب في إقطاع الأرضين:3/ 173

[10] صحيح ابن حبان:  ذكر ما يستحب للأئمۃ استمالۃ قلوب رعيتهم بإقطاع الأرضين لهم 10/ 351

[11] The World Bank Indicators for Pakistan Land use and The Woodrow Wilson International Center for Scholars.

[12] صحيح بخاری ، باب من ظلم شيئاً من الأرض :3/ 130

[13] صحيح مسلم ، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها: 3/ 1230

[14] صحيح بخاري ، باب من ظلم شيئاً من الأرض :3/ 130

[15] صحيح بخاري:  باب فضل الزرع والغرس إذا أكل منه :3/ 103

[16] صحيح مسلم:  باب فضل الغرس والزرع : 3/ 1188

[17] صحيح بخاری:  باب ما يحذر من عواقب الاشتغال بآلۃ الزرع  أو مجاوزۃ الحد الذي أمر به :3/ 103

[18] فقه السنۃ :3/ 162

[19] المغني :5/581،   الأم:7/187

[20] صحيح مسلم شرح النووي: باب المساقاۃ والمعاملۃ بجزء من الثمر والزرع 5/453

[21] صحيح بخاری: باب المزارعۃ بالشطر ....3/ 104

[22] نيل الأوطار: باب المزارعۃ بالشطر ونحوه:6/13

[23] صحيح بخاری: باب الشروط في المعاملۃ :3/ 190

[24] صحيح بخاری: باب المزارعۃ بالشطر ونحوه، صحیح مسلم : في المساقاۃ باب المساقاۃ والمعاملۃ بجزء من الثمر والزرع 

[25] بدائع الصنائع: 5/254 ، المغنی: 5/59

[26] نيل الأوطار:6/14

[27] الهدايۃ في شرح بدايۃ المبتدي :كتاب المزارعۃ 4/ 337  ، الأم :4/18

[28] صحيح مسلم، باب كراء الأرض:3/ 1177

[29] صحيح بخاری، باب ما يكره من الشروط في المزارعۃ :3/ 105

[30] سنن أبی داود : باب في المزارعۃ :3/ 257

[31] سنن ترمذی : باب ما جاء فی المزارعۃ

[32] إعلام الموقعين:1/ 290

[33] يض الباری:  2/481

[34] الشرح الكبير وحاشيۃ الدسوقي :3/ 543

یہ مضمون البیان معیشت نمبر میں شائع ہوچکا ہے۔

Read 649 times Last modified on ہفتہ, 20 جنوری 2018 05:40
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

 اسلامی معیشت میں زارعت کی اہمیت اور اس سے متعلقہ احکام!

عمران فیصل[1]

اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے اور شریعت اسلامی انسانی زندگی کےتمام شعبوںمیں رُشدو ہدایت حاصل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے اور اسے معیشت وسیاست کیلئے دوسرے نظاموں سے کچھ بھی مستعار لینے کی ضرورت نہیں،دین کے بارے میں یہ غلط تصور مغربی تہذیب نے دیا ہے کہ یہ صرف اللہ اور بندے  کے باہمی تعلق کا نام ہے اور دنیا کے دیگر معاملات ہمیں انسانی عقل اور تجربے کی کسوٹی پر پرکھ  کرہی بروئے کار لانے چاہئیں۔تاریخ گواہ ہے جب جب انسان نے اس طرح کے نظام بنائے ہیں تواس کے نتیجے میں اس نے انسان کو شخصی استبداد میں مبتلا کیا سرمایہ دارانہ نظام کی صورت میں، اور یا پھر کمیونزم کی صورت میں اسے اسکی ذاتی ملکیت سے ہی محروم کر دیا۔ جبکہ اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : }وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ اُمَّةً وَسَطًا{ (البقرۃ: 143)

 ترجمہ:’’اور ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا‘‘۔ شریعت اسلامی اس معتدل امت کیلئے مکمل نظام زندگی ہےاور بلا شبہ مکمل نظام زندگی پر مشتمل شریعت کیلئے یہ کسی طرح موزوں نہیں تھا کہ وہ زندگی کے اس مخصوص شعبے [معاشی نظام]یا اس کی معاشی اساس’’زراعت‘‘کے بارے میں ہدایات جاری نہ کرے۔     

انہی اہم وجوہ کی بناء پر اکثر سلف صالحین،ائمہ،محدثین،فقہاء نے اس موضوع کو اپنی کتب میں تفصیلاً ذکر کیا ہے۔  ماہرین معاشیات بنیادی طور پر معاشیات Economy  کے تین عامل ذکر کرتے ہیں۔

(1)   زمین Land ،  (2) محنت Worker، (3) سرمایہ Capital ۔

زیر ِنظر مضمون میں راقم نےمعاشی نظام کے انتہائی اہم رکن’’زراعت‘‘سے متعلق احکام بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور اس شعبہ کو مندرجہ ذیل تین فصول میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ قارئین زراعت اور اس کے متعلقہ احکام بآسانی سمجھ سکیں۔

1-    زمین اور اسکی ملکیت

2-    فضائل زراعت

3-    مزارعت کے متعلق احکام

زمین اور اسکی ملکیت

زمین سے مراد سطح زمین ہے اس میں وہ تمام قدرتی وسائل شامل ہیں جن پر انسان محنت کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے اللہ تعالیٰ کافرمان ہےکہ:’’وَلِلهِ مَا فِي السَّمٰوَاتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ‘‘(آل عمران: 109) ’’جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے‘‘۔یعنی دنیا ومافیہامیں جو کچھ ہےوہ اصل میں اللہ ربّ العزت ہی کی ملکیت ہے اور دوسری جگہ فرمایا:’}هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا{(البقرۃ: 29)’’ وہی تو ہے جس نے زمین میں موجود ساری چیزیں تمہاری خاطر پیدا کیں‘‘ ۔

یعنی تمام اشیاء کی خلقت کا مقصد بنی نوع انسان کی معاشی حیات کیلئےسبب فراہم کرنا ہےاور کوئی شئی فی حدذاتہ کسی کی مملوک ِخاص نہیں جب ان سب کو سب کیلئے مباح کردیاتو ان سے فائدہ حاصل کرنے میں انسانوں کے درمیان مزاحمت اور مناقشت شروع ہوئی توپھر اس آیتِ مبارکہ سے راہنمائی کی کہ:

}وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ{(الانعام: 165)

’’وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں نائب بنایااور ایک کے مقابلے میں دوسرےکےدرجےبلندکئےتاکہ جوکچھ اس نےتمہیں دےرکھاہےاسی میں تمہاری آزمائش کرے‘‘۔ ایک جگہ فرمایا:

آمِنُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ وَأَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ  (الحديد: 7)

’’ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمہیں نمائندہ  بنایا ہے ‘‘۔

یعنی حقیقت میں مال و ملکیت اورزمین اور اس میں موجودتمام نعمتیں اورمعدنیات اللہ رب العزت کی ملکیت ہیں اور انسان کی حیثیت اْسمیں ایک وکیل اور نمائندہ کی سی ہے اورپھر شریعتِ اسلامی نےیکسرشخصی ملکیت کاانکار نہیں کیابلکہ اجتماعی مفادات کے پیش نظرایسے قواعد اورطریقےوضع کئے جو انفرادی ملکیت میں اعتدال بھی رکھ سکیں اوراجتماعی مفاد کو کوئی ٹھیس بھی نہ پہنچے اس طرح زمینی اراضی کی بنیادی طور پر دو ہی اقسام بنتی ہیں:

اوّل:ایسی اراضی جو حکومتی ملکیت ہوں۔

دوم:ایسی اراضی جو انفرادی یا شخصی ملکیت ہوں۔

عمومی طور اراضی مملکت مندرجہ ذیل اقسام پر مشتمل ہوتی ہے:

(1)اراضی موات: اراضی موات ایسی بنجر مردہ اور دور افتادہ زمین کو کہا جاتا ہے جسے کسی نے آباد نہ کیا ہو، کتب فقہیہ میں باب احياءالموات میں اس کے متعلقہ احکام ذکر کئے جاتے ہیں،إحياءالموات سے مراد کسی ایسی زمین کو پانی لگانے،زراعت وکاشتکاری یا عمارت تعمیر کرنے کے ذریعے آباد کرنا جو پہلے کسی کی ملکیت نہ ہو؛ ایسی زمین کی آبادکاری کیلئے شریعتِ اسلامی نے سادہ سا اصول بتایا ہے کہ’’من أحيا أرضا ميتة فهي له‘‘جس نےمردہ پڑی بےآبادزمین کو آباد کیا وہ اسی کی ہے۔’’ کوفہ میں پڑی بنجر اور بےآباد زمینوں کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہی رائے تھی ‘‘۔

سیدناعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’من


 أحيا أرضا ميتة فهي له‘‘ ويروى عن عمرو بن عوف عن النبي صلى الله عليه وسلم وقال: "في غير حق مسلم، وليس لعرق ظالم فيه حق" [2]{ FR ’’جس نےمردہ پڑی بےآبادزمین کو آباد کیا وہ اسی کی ہے‘‘۔عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے اس اضافے کے ساتھ مروی ہے کہ:’’ جس نےمردہ پڑی بےآبادزمین کو آباد کیا وہ اسی کی ہے بشرطیکہ وہ پہلے سے کسی مسلمان کی ملکیت نہ ہو اور اس میں ظالم کے پسینہ بہانے کا کوئی حق نہیں‘‘۔

 یعنی کسی اور کی ملکیت میں کاشت کاری کرنے والے کو اس کی محنت کا کوئی صلہ نہیں دیا جائے گااورنہ ہی ملکیت تصور کی جائے گی۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :

’’جس نے کسی ایسی زمین کو بذریعہ تعمیر آباد کیا جو کسی کی نہ ہو وہ اسی کی ہے‘‘،عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ’’اسی کے مطابق عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دوران فیصلے دیئے‘‘۔[3]

سنن ابو داودمیں جابر بن عبداللہ سے بھی مروی ہے کہ:

’’من أعمر أرضاً ليست لأحدٍ فهو أحقٌ‘‘ [4]

 ’’ جس نے کسی ایسی زمین کو آباد کیا جو کسی کی نہ ہو وہ اسی کی ہے‘‘۔

کیابنجر زمین کو آباد کرنے کیلئے حکومت کی اجازت ضروری ہے؟

مولانا حنیف گنگوہی صاحب رقم طراز ہیں کہ:’’جو شخص مردہ زمین کو حاکم کی اجازت سے قابل زراعت بنا لے تو امام صاحب کے نزدیک وہ اسکا مالک ہو جاوے گا،صاحبین کے نزدیک حکمِ حاکم کےبغیر ہی مالک ہو جاتا ہے،ائمہ ثلاثہ کا بھی یہی قول ہے وہ یہ فرماتے ہیں کہ حدیث’’ من أحيا أرضاً ميتةً فهي له‘‘میں اذن وعدمِ اذن کی کوئی قید نہیں،امام صاحب کی دلیل حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے’’ليس للمرء الا ما طابت به نفس امامه‘‘{ FR 213 }اس حدیث کی روایت منقطع ہے اور ایک راوی مکحول نےکسی مجہول راوی سے روایت کی ہے اس بناء پرروایت حجت کے لائق نہیں..[5]

لیکن دورِحاضرمیں حکومت تمام زمینوں کی مالک ہوتی ہے اس لئے حکومت سے اجازت لینا ہی قرین قیاس ہےاور حکومتوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی مستحق لوگوں کیلئےبنجراراضی کی آبادکاری کی ایسی اسکیمیں متعارف کرائے جو وطنِ عزیز کےکروڑوں نادارلوگوں کے پیٹ بھرنے کا سبب بھی ہوں اور ملک کی لاکھوں ایکڑ اراضی کےقابل کاشت بنانے کاباعث بھی۔ مزید تفصیل آگے آئے گی۔ان شاءاللہ

(2)  اراضی اقطاع

حکومتی اراضی سے کچھ حصہ[جاگیر،خواہ زمین ہو یا معدنیات]بعض مستحقین یا مخصوص افراد کوعطا کردیا جائے تو ایسی زمینوں کو اراضی اقطاع کہا جاتا ہے بشرطیکہ یہ اراضی پہلےسے کسی کی ملکیت میں نہ ہو۔

اقطاع ِاراضی کی عہدنبوی علیہ افضل الصلاۃوالسلام میں کئی مثالیں ملتی ہیں :

(1)انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےبحرین میں جاگیریں دینے کا ارادہ کیا تو انصار نے عرض کیا کہ[ہم لوگ نہ لیں گے]جب تک کہ ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی آپ اتنی ہی جاگیر عطا فرمائیں، آپ   صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد دیکھو گے کہ لوگوں کو تم پر ترجیح دی جائے گی، تو اس وقت تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے ملو‘‘۔[6]

اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہےکہ نہ اراضی کادورافتادہ وبنجر[موات] ہونا ضروری ہےاور نہ ہی اس کا حاجت مند ہونا ضروری ہے جسےزمین دی جا رہی ہے۔جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بنجر زمین کاقطعہ ہی کسی مستحق کو دیا جاسکتا ہےان کی دلیل ہے ۔’’إن الله لا يقدس أمة لا يؤخذ للضعيف فيهم حقه‘‘[7]معنی کے لحاظ سے حدیث اگرچہ صحیح ہےلیکن اس حدیث کے راوی یحیٰ نےسیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کو نہیں پایا تھا چنانچہ جیسے حربی اور ابی حاتم نے فرمایا ہےکہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو روایت صحیح تھی۔[8]

(2)  علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:

          ’’ نبی    صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرموت کے علاقے میں انہیں ایک قطعہ زمین عطا کیا‘‘۔[9]

(3)  ابیض بن حمال سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور چاہا کہ نمک کی وہ کان جو مآرب میں تھی جاگیر کے طورپران کو دے دیں تو آپ نے ان کوعطاکر دی ۔ جب وہ چلنے لگے تو مجلس میں سے ایک شخص بولا یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم :’’کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اسے کیا دے دیا؟ آپ نے اس کو نہ ختم ہونے والا پانی دے دیا !چنانچہ یہ سن کر آپ نے اسے واپس لے لیا۔ اس کے بعدانہوں نے آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا کہ پیلو کے درخت کی کو نسی زمین گھیری جائے؟ [جہاں لوگ اور ان کے جانور نہ آسکیں] آپ نے فرمایا جہاں اونٹوں کے قدم نہ پہنچ سکیں۔ [یعنی جو آبادی اور چرا گاہ سے الگ ہو]۔[10]

یہ اقطاع اراضی کی عہد نبوی کی چند مثالیں ہیں ان کےعلاوہ بھی کئی مثالیں موجود ہیں جو اس عمل کے جواز کی واضح دلیل ہیں اوراس کےبعد بھی امام المسلمین لوگوں کو ان کے جذبہء خدمت کو سراہتے ہوئے یا مستحقین کی مالی اعانت کے طورپرزمینیں عطاکیا کرتے تھےلیکن پس منظر میں اقطاع اراضی کا مقصد زمین کی آباد کاری اور زراعت کی افزائش بھی ہوتا تھا۔یہ بعد کے اقطاع اراضی کے نظام سے بالکل مختلف تھا جس میں اچھی اور آباد زمینیں اقرباء میں تقسیم ہوتیں یالوگوں کی وفاداریاں خریدنے کیلئے دی جاتی تھیں،اس قسم کی اقطاع اراضی کے اموی دور سے لیکر ہندوستان میں مغل ادوار تک کے قصے زبالۃالتاريخ میں بھرے پڑے ہیں۔

لیکن دور حاضرمیں وطنِ عزیز کا کیاالمیہ ہے؟یہاں تو عوام کی حکومت عوام پر ہے اور معیشت زبوں حالی  کا شکار ہےپھر بھی آج تک تمام فوجی وسول حکومتیں ان اراضی کی منصفانہ اصلاح و تقسیم میں نا کام نظرآئی ہیں اوردنیا میں جہاں کہیں بھی حکومتیں اراضی کی اصلاحات متعارف کرانے میں ناکام ہوئی ہیں وہاں بے روزگاری، شورش اور خانہ جنگی نے بار بار جنم لیا ہے۔ روس، ویت نام اور چین میں دیہی علاقوں کے عدمِ اطمئنان کی وجہ سے ہی کیمونسٹوں نے حکومتوں کا تختہ اُلٹا تھا۔ ماضی قریب میں سُوڈان، نیپال، زمبابوے، ایل سلواڈور اور پیرو کے تنازعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح زمین کی مِلکیت اور استعمال کا عرصہ نسلی اور طبقاتی تشدد کو ہوا دینے کے لئے استعمال ہو سکتا ہے۔

     پاکستان میں بھی بالکل ایسی ہی صورت حال ہےزمین کی ملکیت نہ ہونا پاکستان کے دیہی علاقوں میں غربت اور بھوک کی بلاشبہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ تقریباً 70 فیصد دیہی آبادی کے پاس اپنی اراضی نہیں ہے اور پاکستان کی کل اراضی کی71فیصد Agricultural Irrigated Land زمین کو قابل کاشت Arable Landبنایاجا سکتا ہے۔جوکہ 1975میں تقریباً6کروڑ84لاکھ پاکستانیوں کیلئے 595.19Million Hectorتھی یعنی کل قابل کاشت اراضی کاصرف 21فیصد اور آج تقریباً 19 کروڑ پاکستانیوں کیلئے 30.20 Million Hectorیعنی کل قابل کاشت اراضی کا صرف 23 فیصدہے۔ اس23فیصد رقبہ کا47فیصدخواص کے پاس ہے اورباقی اراضی اسوقت عوام کی ملکیت ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ برّصغیر ہند میں برطانوی قانون کے تحت نجی جائیداد رکھنے کے حقوق بنیادی طور پر جاگیر داروں کو دیئے گئے تھے جس کا مقصد ان کی حمایت حاصل کرنا تھا اور آزادی ملنے کے بعد بھی پاکستان کی حکومتوں نے جاگیرداروں کے طبقہ اشرافیہ کو نوازنے کے لئے ان قوانین کو برقرار رکھا ہے جن میں سے بہت سے جاگیر دار معروف سیاست دان بن چکے ہیں اِسی لئے اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ملک میں اصلاحاتِ اراضی کی کوششیں غیر مُنظم اور غیر مؤثر ثابت ہوتی رہی ہیں۔[11]

کیاوجہ ہے کہ پاکستان میں دنیا کا بہترین نہری نظامIrrigation System ہےاورپاکستان کے68فیصد علاقوں میں سالانہ برساتAnnual Rain Fall 250ملی میٹر ہے اور24فیصد علاقوں میں سالانہ برسات 500ملی میٹرتک ہوتی ہے اور صوبہ پنجاب وسندھ میں اعلی در جے کی زرعی جامعات اپنی نئی نئی تحقیقات اخبارات میں شائع کراتی رہتی ہیں اوربے زمین ہاریوں میں زمین کی تقسیم،کاشتکار کے حقوق اورسبز انقلاب جیسے موضوع ہمارے’’منتخب کردہ‘‘نمائندوں اورزرائع ابلاغ کے دل پسند نعرے رہے ہیں پھرآج تک اس مسئلہ کےحل میں کوئی پیش رفت کیوں نہ ہو سکی؟

کیونکہ دین اسلام کومکمل نظامِ زندگی کے طور پر نہیں اپنایاگیاجبکہ ربّ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے:

] يٰا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَافَّةً[البقرۃ: 208)

یعنی اہل ایمان کو اللہ عزوجل نے حکم دیا کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ

اس طرح نہ کرو جو باتیں تمہاری مصلحتوں اور خواہشات کے مطابق ہوں ان پر تو عمل کر لو دوسرے حکموں کو نظر انداز کر دو بلکہ صرف اسلام کو مکمل طور پر اپناؤ اور آج کل کے سیکولر ذہن کی تردید بھی کرو جو اسلام کو مکمل طور پر اپنانے کے لئے تیار نہیں بلکہ دین کو عبادت یعنی مساجد تک محدود کرنا اور معاشیات وسیاسیات اور ایوان حکومت سے دین کو نکال دینا چاہتے ہیں۔

ایسے سیکولرذہنوں کیلئے چند گزارشات ہیں ان پر عمل کر کے شایدوطن عزیز کے 1100,0000لوگوں کی بھوک کا کچھ مداوا ہو سکے:

  حاکم ومحکوم کو صحیح معنی میں دین اسلامی کو اپناناہوگا کیونکہ اسلام کا حل ہمیشہ معتدل اصلاحی اورتعمیری ہوتا ہےکیونکہ اگر موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کا حل عوام نے اشتراکیت کے سازباز سے نکالاتو وہ انتقامی اور تخریبی جراثیم کا حامل ہوگا۔

 ایک متقی اور متدین حکومت ایسے موقع پر وقتی قوانین نافذ کرسکتی ہے،اس موضوع میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ  کا دورِخلافت ہمارے لئے نمونہ عمل ہے۔انہوں نے تمام مفتوحہ علاقوں کی اراضی کی پیمائش کرائی جن میں مصر عراق وشام شامل تھے اور صرف عراق کی اراضی30.65 Million Hectorتھی اس میں سے غیر آباد زمینوں کیلئے حکم دیا کہ جو انہیں آباد کرے گا وہی ان کا مالک ہوگااور اگر تین سال آباد نہ کرے گا تو زمین اسکے قبضہ سے نکل جائے گی۔

   غریب لوگوں میں ہی زمین کی مناسب تقسیم کو یقینی بنایا جائےتاکہ ان بے زمین کسانوں کا شمار بھی زکاۃ اور محصولاتِ زراعت ادا کرنے والوں میں سے ہو سکےناکہ سرمایہ دار وں اورسرمایہ دارممالک کو بنجر زمینیں آباد کرنے کے نام پرلاکھوں ایکڑلیز کئے جائیں۔

Real Estate Sector کو بھی حکومتی سطح پر مجبورکیا جائےکہ وہ شہروں کے نزدیک زرعی اراضی کو کنکریٹ کے جنگلات میں تبدیل نہ کریں بلکہ حکومت کے ساتھ مل کر نئے شہروں کی تعمیر کریں جس کی کئی مثالیں مسلمانوں کے عہدِ قدیم سے ملتی ہیں جیسے بصرہ،کوفہ،موصل اورفسطاط وغیرہ۔

اور جبGovernment & Real Estate Sectorبے زمین کسانوں کی مدد کیلئے قدم بڑھائیں توہمارے عام مضاربین Financers کو بھی چاہئے کہ بینکوں کے ائیرکنڈیشنڈ ڈیسک کی مضاربت چھوڑ کراس شعبے میں اپنے محنت کشوں کو ان کے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدددیں اور بابرکت منافع بھی حاصل کریں۔

(3) اراضی ِ اوقاف ومتروکہ وغیرہ

ان میں وہ تمام اراضی شامل ہیں جو رفاہِ عام کےلئے مختلف جوانب سے وقف کی گئی ہوں اور واقفین نے حکومت کو اس پر نگران مقرر کیا ہو۔

اراضی متروکہ مصالح عامۃ الناس جیسے قبرستان وغیرہ کے لئے چھوڑی گئی اراضی کو کہا جاتا ہے انہیں حکومت  نے چھوڑا ہو یا کسی نے ذاتی ملکیت سے متروکہ قرار دیا ہو۔

ایسی صورت میں وہ اراضی حکومت ہی کی ملکیت تصور کی جائیں گی لیکن حاکم ان اراضی کو کسی کی جاگیر میں نہیں دے سکتا۔

انفرادی یا شخصی ملکیت میں موجود اراضی

شریعتِ اسلامی نے ہراس شخصی ملکیت کا احترام کیا ہےجو اس نے جائزاور مشروع طریقہ سے حاصل کی ہو مثلاًمورّث کی میراث سے،یا باہمی خریدوفروخت اور تبادلہ سے،یاسبقت اور پہل کر کے کسی دور افتادہ قطعہ زمین کو آباد کر کے اپنی ملکیت میں لے لے ، یا حاکم نے اسے قطعہ زمین عطا کیا ہو ،یا اسے زمین ہبہ یا وصیّت وغیرہ کے ذریعےاسکی ملکیت میں آئی ہونیز اس طرح کے تمام مباح طریقہ تملیک کو تسلیم کیا ہےاور مالک کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی ملکیت  میں مناسب تصرف کرے اور اس کا یہ عمل دوسروں کی معاشی تنگی کا سبب نہ بن پائے۔ اور شخصی ملکیت میں قبضہ ،ظلم  و جبرا ورغصب کے راستے بالکل بند کر دئیے ہیں۔

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

 ’’ أن أبا سلمة حدثه أنه کانت بينه وبين أناس خصومة فذکر لعائشة رضي الله عنها فقالت يا أبا سلمة اجتنب الأرض فإن النبي صلی الله عليه وسلم قال من ظلم قيد شبر من الأرض طوقه من سبع أرضين"۔[12]

’’ ابوسلمہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے اور چند لوگوں کے درمیان ایک جھگڑا تھا انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  فرمایا کہ ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زمین سے بچو اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے :  ’’جس نے ایک بالشت بھر زمین کسی سے ظلما ًلے لی تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا‘‘۔

امام مسلم کی بھی اسی معنی میں سعید بن زید سے روایت ان الفاظ کے ساتھ  ہے کہ:

 أن أروى خاصمته في بعض داره، فقال: دعوها وإياها، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:"من أخذ شبرا من الأرض بغير حقه، طوقه في سبع أرضين يوم القيامة"اللهم إن كانت كاذبة فأعم بصرها، واجعل قبرها في دارها، قال:" فرأيتها عمياء تلتمس الجدر تقول: أصابتني دعوة سعيد بن زيد، فبينما هي تمشي في الدار مرت على بئر في الدار ، فوقعت فيها، فكانت قبرها ".[13]

’’ ارویٰ نے ان سے گھر کے بعض حصہ کے بارے میں جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا کہ اسے چھوڑ دو اور زمین اسے دے دو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سناہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ جس نے اپنے حق کے بغیر ایک بالشت بھی زمین لی تو اللہ تعالی قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق ڈالیں گے اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے اور اسے اندھا کر دے اور اس کی قبر اس کے گھر میں بنا‘‘ راوی کہتے ہیں کہ’’ میں نےاسے اندھا اور دیواروں کو ٹٹولتے دیکھا اور کہتی تھی مجھے سعید بن زید کی بد دعا پہنچی ہے اس دوران کہ وہ گھر میں چل رہی تھی گھر میں کنوئیں کے پاس سے گزری تو اس میں گر پڑی اور وہی اس کی قبر بن گئی‘‘۔

ایک اور جگہ بیان فرمایا کہ:

’’من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلی سبع أرضين ‘‘۔[14]

’’ جس نے کسی زمین پر ناحق قبضہ کر لیا تو اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا‘‘ ۔

مندر جہ بالا احادیث تمام قسم کے ناجائز قبضہ جات کاانکار کر رہی ہیں حتی کہ حکومت بھی مالک کی مرضی کے بغیر اس کی زمین نہیں خرید سکتی، عہد فاروقی کا قصہ علامہ شبلی نعمانی نے الفاروق میں نقل کیا ہے کہ’’ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع کیلئے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سےان کا مکان خریدنا چاہا جو مسجد کے ساتھ تھا اور توسیع میں رکاوٹ بن رہا تھاسیدناعمر رضی اللہ عنہ نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جائز قیمت دے کر مکان دے دیں۔ لیکن عباس اس بات پر راضی نہ ہوئے اور تنازعہ کی شکل پیدا ہو گئی آخر فریقین’’حکومتِ وقت اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ‘‘ نےابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ثالث مقر کیا تو انہوں نے فیصلہ حکومت کے خلاف دے دیا اور جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے مقدمہ جیت لیا تو انہوں نے وہ مکان بلا قیمت ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مسجد کی توسیع کیلئے دے دیا‘‘۔

ملاحظہ کیجئے مکان حاصل کرنے کیلئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد کتنا پاکیزہ تھا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی اس معاملہ میں انتہائی فراخ دل ثابت ہوئے۔اس مقدمہ سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عام لوگوں کو یہ علم ہو جائے کہ شریعتِ اسلامی میں شخصی ملکیت کا کس قدر تحفظ ہے کہ حکومت وقت بھی اس کی ملکیت اس سے بذریعہ قیمت نہیں خرید سکتی جب تک مالک خود راضی نہ ہو جائے‘‘۔


 

فضائلِ زراعت

اسلام ایک ایسا کامل و مکمل مذہب ہے، جو اپنے پیروکاروں کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ انسانی زندگی کے اس اہم شعبےAgricultureزراعت کے بارے میں راہ نمائی نہ کرتا جس کا آغازہی سے بنی نوع انسان کا تعلق رہاہے،فی الواقع زراعت کی بڑی اہمیت ہے ۔ اگرزراعت نہ کی جائے تو غلہ کی پیداوار نہ ہو سکے جو انسان کی شکم پری کا بڑا ذریعہ ہےاسی لیے قرآن و حدیث میں اس فن کا ذکر بھی آیا ہے:

} أَفَرَأَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُونَ ۔أَأَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ {(الواقعہ: 63، 64)

 ’’ بھلا دیکھو!جو بیج تم بوتے ہوتو اس سے کھیتی تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہم ہیں۔اس سے زیادہ فضیلت اور کیا ہوگی کہ جو بیج ہم زمین میں لگائیں اسےاگانے کو اللہ تعالی اپنی طرف منسوب کیاہے،یہ کام کسان کااللہ پر توکل بھی ثابت کرتا ہے‘‘۔

} وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ {( الاعراف: 10)

 ’’ ہم نے تمہیں زمین میں اختیار دیااور تمہارے لیے اس میں سامان معیشت بنایا۔ مگر تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو‘‘۔

 زمین سے منسوب معیشت میں زراعت سب سے پہلا طریقہ معیشت ہے جو اللہ نے انسان کو عطا  فرمایا ہےاورزمین ربّ الکریم کا انسان پر ایسا عطیہ ہے جس سے بنی نوع انسان کےدوبنیا دی اغراض وابستہ ہیں ایک کاشتکاری یا زراعت اور دوسری رہائش یا سکونت اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے بھی زراعت کی اہمیت و فضیلت سے روشناس کرانے کیلئے آثار وارد ہیں۔

 انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ’’ کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرندہ یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے‘‘۔[15]

 اس حدیث کو امام مسلم نے یوں بیان کیا ہےکہ ’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ام مبشر نامی انصاری صحابیہ کا لگایا ہوا کھجور کا درخت دیکھا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان کوئی درخت لگائے پھر اس سے آدمی یا پرندے یا جانور کھائیں تو یہ سب کچھ اس کی طرف سے صدقہ میں لکھا جاتا ہے‘‘۔[16]

 امام بخاری کی روایت کردہ حدیث میں مزید وسعت کے ساتھ لفظ’’ او يزرع زرعا‘‘بھی موجود ہے یعنی کچھ بھی زراعت کرے چاہےباغ لگائے یا کھیتی کرے۔ تو اس سے جو بھی آدمی، جانور، فائدہ اٹھائیں اس کے مالک کے ثواب میں بطور صدقہ لکھا جاتا ہے۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یعنی اس حدیث میں باغبانی اور زراعت اور زمین کو آباد کرنے کی فضیلت مذکور ہے۔

مگر جو کاروبار فرائض اسلام کی ادائیگی میں حائل ہو، وہ الٹا وبال بھی بن جاتا ہے۔ کھیتی کا بھی یہی حال ہے کہ بیشتر کھیتی باڑی کرنے والے یادِ الٰہی سے غافل اور فرائض اسلام میں سست ہوجاتے ہیں۔ اس حالت میں کھیتی اور اس کے آلات کی مذمت بھی وارد ہے۔

 ابو امامہ باہلی سے مروی ہے کہ انہوں نے ہل اور کچھ کھیتی کے آلات دیکھے، تو کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے:

’’لا يدخل هذا بيت قوم إلا أدخله الله الذل‘‘۔[17]

’’ جس قوم کے گھر میں یہ داخل ہو، اس گھر میں اللہ ذلت داخل فرماتاہے‘‘۔

بہرحال مسلمان کو دنیاوی کاروبارکے ساتھ ہر حال میں اللہ کو یاد رکھنا اور فرائض اسلام کو ادا کرنا ضروری ہے۔

مزارعت کے متعلق احکام

اسلام کے معاشی نظام کے مثبت معاشی مقاصد میں غربت کا انسداد اور تمام انسانوں کو معاشی جد وجہد کے مساوی مواقع فراہم کرنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام سب کو حصول رزق کے مواقع عطا کرنے اور مثبت طور پر ایسی حکمت عملیاں بنانے کی تاکید کرتا ہے، جس سے غربت وافلاس ختم ہوں اور انسانوں کو ان کی بنیادی ضروریات لازماً حاصل ہوںاور مزارعت و مساقاۃ Sharecropping،Agricultural Tanacy سرمایہ کاری کے ایسے معاہدے ہیں جن سے معاشرے کی پیدا واری صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہےاس لئے مزراعت زراعت کاانتہائی اہم شعبہ ہےجس کے شرعی قوائد وضوابط جاننا بہت ضروری ہے۔

تعریف و مشروعیت مزارعت

مزارعت کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ:

’’ المزارعة، المعاملة على الارض ببعض مايخرج منها".[18]

یعنی مزارعت سے مراد وہ معاملہ یا معاہدہ ہےجو زمین کی پیداوار سے کچھ حصہ پرزمین کی زراعت کیلئے کیا جائے۔

اورالمخابرۃسےبھی یہی مرادہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلمان جب خیبر کے یہودیوں پر غالب آگئے تو رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خیبرکی زمینوں پر مزارعت کا معاہدہ کیا تو اسی کی مناسبت سے اس کا نام مخابرۃ ہو گیاتھا ورنہ دونوں میں اصلاً کوئی فرق نہیں۔

اسی طرح المساقاۃآبپاشیWateringہےاس میں مکمل زراعت نہیں بلکہ پہلےسےموجودکھجوریا دوسرے پھل دار درختوں میں پانی لگاکر کاشتکار مالک زمین سے طے کردہ حصہ وصول کرنےکا معاہدہ کرتا ہے۔

مشروعیتِ مزارعت

مزارعت کے بارے فقہاء کی دو آراء مشہور ہیں:

(1) ابو یوسف،محمد بن حسن ،عامۃالمالکیہ و الشافعیہ اور حنابلہ مزارعت کے جواز کے قائل ہیں۔امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’مزارعت صرف نقود کے عوض درست ہے ‘‘جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کافرمان ہے ’’مزارعت مساقاۃ کے ساتھ جائز ہے علیحدہ نہیں‘‘۔[19]جمہور ائمہ مذاہب اربعہ اورائمہ حدیث کے نزدیک مزارعت [بٹائی،مخابرہ]درست ہے،اختلاف بعض صورتوں میں ہے یا اولویت میں۔

اس رائے کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:

(1)   قیس بن مسلم نے ابو جعفر سے روایت کی ہے کہ:

ترجمہ:’’ مدینہ میں کوئی ایسا مہاجر نہ تھا جو تہائی یا چوتھائی پر کاشت نہ کرتا ہو،علی،سعد بن مالک،عبداللہ بن مسعود،عمر بن عبدالعزیز ، القاسم ،عروۃ،آل ابی بکر،آل عمر،آل علی اور ابن سیرین سب نے مزارعت کی اور عبدالرحمٰن بن اسود فرماتے ہیں کہ میں عبدالرحمٰن بن یزید کے ساتھ مل کر کاشت کاری کرتا تھا،اور عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس شرط پر مزارعت کرائی کہ اگر عمربیج دیں تو پیداوار میں آدھا لیں گے اور اگر وہ[کاشتکار]بیج اپنا استعمال کریں تو وہ اتنا لیں گے۔[20]

اس اثر سے واضح ہوتا ہے صحابہ کرام کی کثیر تعداد مزارعت کی قائل تھی بلکہ ہجرت کی شروعات سے ہی باجازتِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم انصار رضی اللہ عنہم کے ساتھ کاشتکاری کرتے تھے،قاضی شوکانی صحیح کی سابقہ عبارت کے بارے میں فرماتے ہیں :’’ امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ صحابہ اور اہل مدینہ سے کوئی بھی مزارعت کے مخالف نہ تھا‘‘۔[21]

صحیح بخاری ہی میں مروی ہے کہ:

(2) سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انصار نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ ہمارے باغات ہم میں اور ہمارے مہاجربھائیوں میں تقسیم کر دیجئے،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


 

 "لا"، فقال: "تكفونا المئونۃ ونشرككم في الثمرۃ"، قالوا: "سمعنا وأطعنا"[22]

’’نہیں‘‘پھر انصار نے مہاجرین کو مخاطب کر کے کہا آپ باغات میں محنت کریں ہم پیدا وار میں آپ کو شریک کرتے ہیں تو مہاجرین صحابہ نے فرمایا کہ ’’ہمیں منظور ہے‘‘۔

اور یہ معاہدہ انصار اور مہاجرین کے درمیان رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہوا تھااگر جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ اسی مجلس میں انکار کر دیتے بلکہ اس کے بعدجب اسلام غالب آ گیا اور خیبر فتح ہوا توخیبرکی زمینیں اور باغات یہود کو مزارعت کیلئے دئیے گئے ۔

(3)   عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:

 "أن النبي صلى الله عليه وسلم عامل خيبر بشطر ما يخرج منها من ثمر أو زرع".[23]

ترجمہ:  ’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خیبر کی زمینیں نصف پیدا وار پر مزارعت کیلئے دیں۔قائلین مزارعت کی سب سے بڑی دلیل یہی رسول اللہ کا فعل ہے اور چونکہ خود رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر تک اور عہد ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما تک یہی معاملہ رہا تا آنکہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے یہود کو جلا وطن کر دیا‘‘۔

 امام علاءالدین کاسانی الحنفی اس حدیث کے با رے میں تعلیقاً فر ماتے ہیں:’’رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل کم از کم جواز پر دلالت کرتا ہےاور یہی سیدنا علی،ابن مسعود،ابن عباس،عمربن عبدالعزیز،قاسم،عروۃ، زھری، ابن ابی لیلیٰ اور ابن المسیب وغیرہ کا موقف ہے‘‘۔[24]

اس دلیل پر اعتراض میں مانعین کہتے ہیں کہ خیبر کا معاملہ مزارعت کا معاملہ تھا ہی نہیں کیو نکہ خیبر کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے بزور شمشیر فتح کیا تھا لہٰذا خیبرکے یہود مسلمانوں کے غلام تھےآپ  صلی اللہ علیہ وسلم پیداوار کاجو حصہ وصول کرتے تھے وہ بھی آپکا ہی تھا اور جو یہود کو دیتے تھے وہ بھی آپکا ہی تھا۔[25]اور یہ بھی کہا جاتا کہ خیبر کی زمین خراجی تھی۔

 یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ خیبر کا کچھ حصہ تو بزورِ شمشیر فتح ہواتھا اور کچھ حصہ بغیر جنگ کے ہی فتح ہوگیا تھااور مسلمانوں اور یہود کے مابین مصالحت اس بات پر ہوئی تھی کہ تمام زمینیں مسلمانوں کی ملکیت ہوں گی اسی لئےعہد فاروقی میں جب انہیں نکالا گیا توخیبر کی آدھی زمین تو بطور مالِ فیٔ اسلامی مملکت کی تحویل میں آگئی اور باقی مجاہدین اور امہات المومنین وغیرہ میں تقسیم کر دیا گیا اسے کسی طور پربھی خراجی زمین قرار نہیں دیا جاسکتا۔ باقی رہا مزا رعت کا معاملہ تو وہ زمین خراجی تھی یاغیر خراجی سب کا معاملہ مزارعت پر ہی ہوا تھا۔ امہات المومنین رضوان اللہ علیہن اجمعین نے بھی اپنی زمینیں مزارعت پر ہی دیں۔ مانعین مزارعت کی طرف سے کچھ اور بھی اعتراض کر کے اسے مزارعت سے نکالنے کی کوشش کی گئیں ہیں مگر ایسے اعتراض محض برائے اعتراض کئے جا تے ہیں لہٰذاان کا جواب ضروری نہیں۔

(2)امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد زُفر نے مزارعت مساقاۃ ( آبپاشی کیلئے )اور کراء الارض (ٹھیکے پر دینا ) کو منع فرمایا ہے۔[26]

 ہدایہ میں امام صاحب کے اس قول کا استدلال کچھ اس طرح سے کیا گیا ہے کہ:

اور انکی دلیل یہ روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرت سے منع فرمایا ہےجو مزارعت ہی ہے‘‘اور کیونکہ یہ ایسا کرایہ ہے جس میں اجیر کی اجرت اس کےعمل میں سے ادا کی جاتی ہےاس طرح یہ قفیز الطحان جیسا معاملہ ہو جائے گااور کیونکہ اس میں کرائے کی اجرت مجہول یعنی غیر مقدر ہوتی ہے تو یہ ہر طرح سے فاسد ہے،اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ خیبر سے مزارعت کاجو معاملہ کیا تھاوہ بٹائی کے ذریعہ خراج وصول کرنا تھا اورمصالحت اوراحسان میں وہ جائزہے۔[27]

اس استد لال کو ہم تین نکات میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔

1  نہی پر وارد حدیث مبارکہ۔

2  مزارعت کا اجرت پر قیاس ۔

3  اراضی خیبر کو خراجی قراردینا۔

(1) اس حدیث مبارکہ کو امام مسلم نے عبداللہ بن جابرسے روایت کیا ہے ،انکے علاوہ رافع بن خدیج، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین سے[المخابرۃ،المزارعۃ،المساقاۃ اور كراءالأرض وغیرہ]کی ممانعت کی احادیث مروی ہیں اور ان تمام صحابہ سے کوئی نہ کوئی توجیہ بھی وارد ہے۔

سیدناجابررضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم ہی میں اس نہی کی تو جیہ وارد ہےفرماتے ہیں کہ:

أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له أرض فليزرعها، أو ليزرعها أخاه، ولا يكرها".[28]

’’ اگر کسی کے پاس زمین ہے تووہ اسے خود کاشت کرےورنہ کاشت کیلئےاپنے بھائی کو دے دے اور اسے[بٹائی] یا ٹھیکہ پر نہ دے‘‘۔

 یعنی اس زمین پر کسی قسم کا منافع حاصل کرنے کے بجائےازراہ تعاون اپنے غریب بھائی کو دےدےاور اس تعاون کی مثال ہمیں ہجرت کے بعد کے زمانے سے ملتی ہے کہ جب انصار صحابہ نے مہاجرین صحابہ کو زمین دینا چاہی وہ مکمل واقعہ اوپر بیان ہو چکا ہے،اس کے بعد سب سے زیادہ روایت انصاری صحابی سیدنارافع بن خدیج  رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ:

’’كنا أكثر أهل المدينۃ حقلا، وكان أحدنا يكري أرضه، فيقول: هذه القطعۃ لي وهذه لك، فربما أخرجت ذه ولم تخرج ذه، "فنهاهم النبي صلى الله عليه وسلم’’[29]

ترجمہ: ’’اہل مدینہ میں ہمارے کھیت بہت زیادہ تھے ہم زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے، اس شرط پر کہ زمین کے ایک حصہ کی پیداوار زمین کے مالک کے لئے ہو گی، تو کبھی اس حصہ ٔ زمین پر آفت آجاتی اور باقی محفوظ رہتا، چنانچہ اس سبب سے کہ بعض حصہ پر آفت آجاتی اور باقی حصہ محفوظ رہتا، ہم لوگوں کو اس سے منع کیا گیا۔یعنی ان فاسد شروط کی بنا پر مزارعت اور ٹھیکے سے منع کیا گیااسی قسم  کے الفاظ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں:

ترجمہ: رسول اللہ نے فرمایا:’’اگر تم بلامعاوضہ ہی اپنے بھائیوں کوزمین دے دیا کرو تو یہ اس سے اچھا ہے کہ تم اس پر [بٹائی یاکرایہ]وصول کیا کرو‘‘۔

اس عدمِ جواز کی توجیہ میں علماء ایک اور روایت ذکر کرتے ہیں زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج کومعاف فرمائےواللہ میں اس حدیث کو ان سے بہتر جانتا ہوں،واقعہ یہ ہواکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے پا س دو انصاری لڑتے ہوئے آئے تو آپ نے فرمایاکہ: ’’إن كان هذا شأنكم فلا تكروا المزارع‘‘[30]

اگر تمہارا یہی حال ہے توزمین ٹھیکہ پر نہ دیا کرو۔اس روایت میں کراء الارض سے ممانعت کا سبب مذکور ہےاور اسی طرح کی ممانعت تو جیہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع نہیں فرمایا البتہ یہ کہا ہے کہ آپس میں نر می کا برتاؤکیا کرو۔[31]

مندرجہ بالا توجیہات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرے سے ہی مزارعت کی ممانعت وارد نہیں ہوئی بلکہ کچھ غلط اسباب اور فاسد شروط کی بناء پر نبی الرحمہ علیہ الصلاۃوالسلام نے اس سے منع کیا ہےاگر وہ نہ ہوں تو مزارعت جیسے معاہدوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔

(2) مزارعت کا اجرت پر قیاس

اسکا جواب قائلین اس طرح دیتے ہیں کہ مزارعت کا اجرت پر قیاس نہیں بلکہ مزارعت کا مضاربت پر قیاس کیا جانا چاہئےجو إجماع امت سے جائز ہے مزید تفصیل امام ابن قیّم کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ:انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ معاہدے اجارہ کی جنس سے ہیں،کیونکہ اس میں [عوض]اجرت کے بدلے[معوض]عمل ہےاور اجارہ میں عامل کا عمل اور اسکا عوض یعنی اجرت معلوم ہونا ضروری ہے پھر جب انہوں نے اس معاہدے میں عمل اور منافع غیر معلوم پائے تو کہا یہ خلاف قیاس ہے ،یہی انکی غلطی ہے،کیونکہ یہ معاہدے مشارکت کی جنس سے ہیں نہ کہ معاوضتِ محض پر مشتمل ہیں جن میں عمل اور اجرت کا  معلوم ہونا ضروری ہوتا ہے اور مشارکت مواجرت سے الگ ایک قسم ہے۔اسی طرح جنہوں نےمزارعت اور مساقاۃ کو منع کیا ہے انہوں نے یہی سمجھا ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں اجیر[عامل] کی اجرت مجہول ہے اور اسکا انکار کردیا مگرحقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ مزارعت میں عامل اور مالک زمین کے نفع اور نقصان میں شریک ہوتے ہیں اور یہ عین عدل ہےاور ظلم و غررسے انتہائی دور..[32]امام ابو یوسف نے بھی اپنی ’’کتاب الخراج‘‘میں اسی قسم کی توجیہ بیان کی ہےکہ مزارعت کا معاملہ مضاربت کے جیسا ہی ہے،اس طرح قفیز الطحان کا معاملہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ جب وہ اجیر ہی نہیں تو مزارع اپنے عمل سے اپنی اجرت نہیں بلکہ اپنا حصہ وصول کرتا ہے جس پر وہ متفق ہوئے ہیں۔

(3)- اراضی خیبر کا خراجی قراردینا

اراضی خیبر کا خراجی قراردینادرست نہیں جس کی تفصیل اوپر بیان کی جا چکی ہے۔ اورکتبِ فقہ حنفیہ میں امام صاحب کی مما نعت کے با وجودمزارعت کے مفصل احکام مذکور ہیں سیدانور شاہ مرحوم جو حنفی مسلک کے مایہ نازعالم دین ہیں اورانہوں نےمتعدد معرکۃ الآراء مسائل پر کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں، درسِ حدیث کی تقریر کی جامعیت کا اندازہ ’’ فیض الباری ‘‘سے کیا جاسکتا ہے۔ جو صحیح بخاری کی تقریر ہےاور چار ضخیم جلدوں میں شائع ہے، دو مختلف و معارض اقوال میں اپنی قوت استنباط کے زور سے بلاتکلف ایک کو دوسرے پر ترجیح دیدیتے تھے،وہ فیض الباری میں فرماتے ہیں کہ:’’میں صاحب ہدایۃ کی مزارعت کے متعلق روش کو مدت تک نہ سمجھ سکاکہ ایک طرف تو وہ مزارعت کو ابوحنیفہ کے نزدیک ممنوع فرماتے ہیں اور صاحبین اورامام صاحب کا اختلاف نقل کرتے ہیں،جب امام کے نزدیک مزارعت درست ہی نہیں اس اختلاف اور فروع کے ذکرکی کیاضرورت ہے؟‘‘اور دوسری جگہ فرماتےہیں کہ ’’پھر حاوی القدسی سے معلوم ہوا کہ امام صاحب نے مزارعت کو مکروہ سمجھا ہے سختی سے منع نہیں فرمایااسی حوالہ سے مجھے اطمینان ہو گیا‘‘۔[33]


 

 مندرجہ بالا سطور سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کےمزارعت سےمنع کرنے کی بنیادی وجہ باہمی مفادات میں عدم توازن اور محنت کرنے والے کااستحصال ہے اگر کسی کی حق تلفی نہ ہو تو اس معاہدے میں کوئی مضا ئقہ نہیں۔

دیگر مسائل معاہدۂ مزارعت

 مزارعین کی مشارکت:اگر مزارعت میں عامل یعنی مزارع کسی وجہ سےاپنا کام مکمل کرنے سے عاجز ہو تو اپنے ساتھ دوسرے عامل کو شریک کر سکتا ہےاوراسے اپنے حصے سے بٹائی ادا کرےجس پر بھی انکا اتفاق ہو،بشرطیکہ زمین کے مالک نے یہ شرط نہ لگائی ہو کہ صرف اول الذکر عامل ہی کام کرے اگر اس قسم کی شرط ہو تو پھر زمین کے مالک کی اجازت لازمی ہو گی۔[34]

 فسخ معاہدہ مزارعت

اگر فصل تیار ہونے سے پہلےمالک معاہدے کو ختم کرنا چاہے تو وہ مزارع کو مثل نصیب[پیداوار سے اس کے حصے کے برابر ]اداکرے گا،کیونکہ وہی عامل کو کام کرنے سے منع کررہا ہے جس کے عوض مزارع نے اپناحصہ وصول کرناتھایہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا موقف ہے اورجبکہ دیگر علماء کرام کا موقف ہے کہ مثل اجرت ادا کی جائے گی،لیکن اگر مزارع خود ہی معاہدے کو ختم کرنا چاہے تو اس کے لئے پھر پیداوار سے کچھ ادا نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ خود ہی اپنے حق سے دستبردار ہوا ہے بالکل اسی طرح جیسے مضاربت کا عامل منافع ظاہر ہونے سے پہلے ہی الگ ہو جائے تومنافع میں حصہ دار نہیں ہوگا،اور فسخ اگر اس وقت ہو جب فصل پکنے کے قریب ہو تو مالک اور مزارع دونوں اپنا مکمل حصہ وصول کریں گے جس پر انکا اتفاق ہوا تھا اور مزارع اپنا کام مکمل کرےگا،اگرعامل اتنی لا پرواہی کرے کہ پیداوار تباہ ہوجائے تو نقصان کا ذمہ داروہی ہوگا اور اسی پرضمان ہوگی۔

مالک اپنی اراضی فروخت کرنا چاہے تو کیا مزارع کوبھی کچھ مبلغ ادا کرے گا:اگر کچھ مزارع عرصہ دراز سے زمین کاشت کر رہے ہوں اور مالک زمین کو فروخت کرنا چاہے تو مزارعین کو کوئی حق نہیں کہ وہ زمیندار یا نئے خریدارسے کچھ عوض طلب کریں تاکہ ان کا جو ذریعہ معاش ختم ہو گیا ہےاس کی جگہ کوئی اور ذریعہ اختیار کر سکیں کیونکہ زمین کے جانے سے اگر انہیں کوئی ضررپہنچا ہے تو اس میں مالک کی کوئی ذمہ داری نہیں اور کیونکہ ان کی شراکت مزارعت میں تھی ملکیتِ زمین میں نہیں،اور نہ ہی مزارعین زمین خریدنے کیلئے اس فروخت کی منسوخی کا مطالبہ کر سکتے ہیں مگر تعاون باہمی اور اچھے اخلاق کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر صاحب زمین اپنی ملکیت فروخت کرنا چاہے تو اپنے مزارعین سے بھی مشورہ کرے وہ خریدنا چاہیں تو ان سے تعاون کرے اور اگر خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے اور کوئی دوسرا روزگار بھی نہیں رکھتے تو مالی طور پر بھی ان کی معاونت کرے۔

معاہدۂ مزارعت کو عدل پر قائم رکھنے کیلئے علماء نے کچھ شرائط بیان کی ہیں،جن کے اشتراط سےنہ زمیندارکا استحصال ممکن ہو پائے گا اور نہ ہی مزارع کی کسی قسم کی حق تلفی ہوگی وہ شرائط مندرجہ ذیل ہیں :

(1) مزارع اور زمیندار دونوں عاقل بالغ[مکلف]اور مکمل اہلیت کے حامل ہوں، زمیندار زمین کا مالک ہواور مزارع زراعت کر سکتا ہو۔

(2) زمین قابل کاشت ہو تاکہ کاشت کارمحنت کرکے پیداوار میں حصہ دار ہو سکے،مساقاۃ میں پھل دار درختوں کا ہونا ضروری ہے۔

(3) زراعت کی جانے والی فصل اورطریقہ زراعت معلوم ہوں،کیونکہ کچھ فصلیں اور طریقہ کاشت آمدن اور منافع پراثرانداز ہوتے ہیں۔جو بعد میں اختلاف کا سبب بنتے ہیں۔

(4) زراعت کیلئے بیج اورآلات پر دونوں جس طرح متفق ہوں وہی درست ہے ،بس کسی قسم کا بھی ضرروغررنہ پایا جائے۔

(5) پیداوار کی تقسیم فیصدی یاچوتھائی،تہائی،نصف کے طور پر اور تقسیم کا طریقہ کارطے شدہ ہو،مکمل پیداوار سےدونوں کے حصوں کی تقسیم ہو نہ کہ زمین یا فصل کے اعتبار سے حصے الگ الگ کئے جائیں۔مثلاً زمیندار یہ کہے کہ پانی کے قریب والی فصل میری ہوگی اور فلاں قطع زمین کی کاشتکار کے حصہ میں آئے گی یاگندم کی فصل کاشت کار لے اور چاول کی زمیندار لے، اس طرح تقسیم سے احادیث میں منع کیا گیا ہے،کیونکہ ممکن ہےجس قطع کی پیداوار زمیندار چاہ رہا ہو وہاں پیداور اچھی ہوتی ہو اور کاشت کار زمیندار کی باری کی بنسبت اپنی باری زیادہ محنت کرے۔

(6) مدت مزارعت معلوم ہو ،اگر فصل کی مدت مکمل ہونے سے قبل زمیندار کاشت کار کو الگ کرنا چاہے تو مثلِ محنت ادا کرے۔

(7) زمیندار اور کاشتکار دونوں اس معاہدے میں ایک دوسرے کے شریک ہیں نہ ہی زمیندار کاشت کار کواپنا غلام تصورکرے اور نہ ہی کاشتکارغصب کے ذریعے زمین کا مالک بننے کی کوشش کرے۔

خاتمہ

گزشتہ اوراق میں ذکر کردہ آیات واحادیث مبارکہ اور علماء اسلام کی پیش کردہ توجیہات اور تشریحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام کے معاشی نظام میں بنیادی وسائل ِمعیشت میں سے زراعت کو بہت اہمیت دی گئی ہے،اور اسلامی حکومت کا یہ امتیاز رہا ہے کہ اس میں سرکاری اراضی کی انتہائی منصافانہ تقسیم کا طریقہ کار رائج ہو اور ملکیتِ زمین کے حوالے سے خاطر خواہ تشریعی احکام جاری ہوئےجن میں شخصی ملکیت کا احترام بھی ہے اور مزارع یا حکومت وقت کو غصب و انتہاب کی کسی صورت اجازت نہیں دی گئی اس میں نہ قدیم وجدید جاگیر دارانہ نظام جیسی نظیر ملتی ہے کہ جس میں بڑے بڑےزمیندار کاشت کاروں کے جان ومال پر متصرف نظر آئیں اور نہ ہی اشتراکیت کی یہ جھلک نظر آتی ہے کہ جس میں زمیندار کو اس کے حقِ ملکیت سے ہی محروم کر دیا جائے۔علاوہ ازیں معاہدہ مزارعت کی بھی اسی صورت اجازت دی گئی کہ جس میں زمیندار اور کاشتکار کا معاہدہ مزارعت میں دو شریک کاروں کی حیثیت میں سامنے آئیں اگر اس میں بھی افرادامّت کے درمیان بغض اور عداوت اورایک دوسرے کی حق تلفی کی صورت میں اسے بھی ممنوع قراردیا ہے،غرض کہ اسلامی اقتصادی نظام میں معاہدہ مزارعت کا مقصدانفرادی اور اجتماعی تعاون وترابط اورتراحم کو مضبوط کرتا ہےتاکہ مسلمانوں کے درمیان باہمی اخوت اور محبت کا رشتہ قائم رہے اور اسکے لئے اسلامی معاشی نظام کودوسرے نظاموں کو مشرف بالاسلام کرنے یا ان سےکچھ مستعار لینے کی ضرورت نہیں وہ ہر قسم کے زمان و مکان کے لئے صالح اور موزوں ہے بس ضرورت ہے تو اسے نافذ کرنے کی ،کہا جاتا ہے ایک مرتبہ مولانا عبید اللہ سندھی لینن سے ملے اور انہیں اسلامی نظام معیشت لکے بارے میں بتایاتو لینن نے اعتراف کیا یہ واقعی انصاف پر مبنی نظام ہے لیکن مجھے کہیں زمین پر دکھا دیجئے میں اسے قبول کر لوں گا۔

 


 

 



[1] فاضل مدینہ یونیورسٹی ،مدیرشعبہ رفاہی امور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی ۔

[2]صحيح بخاري ، باب من أحيا أرضاً ..: 3/ 106  212

[3] أيضاً  

[4] سنن أبو داود ، كِتَاب الْخَرَاجِ .... :3/ 130

[5] صبح النوری شرح مختصر القدوری2/383

[6] معرفۃ السنن والآثار :9/ 8  3صحيح بخاری ، باب القطائع :3/ 114

[7] لاُم للشافعي : باب اقطاع الوالی :4/ 51

[8] سلسلۃ الأحاديث الضعيفۃ: 14/ 356

[9] سنن أبوداود : باب في إقطاع الأرضين:3/ 173

[10] صحيح ابن حبان:  ذكر ما يستحب للأئمۃ استمالۃ قلوب رعيتهم بإقطاع الأرضين لهم 10/ 351

[11] The World Bank Indicators for Pakistan Land use and The Woodrow Wilson International Center for Scholars.

[12] صحيح بخاری ، باب من ظلم شيئاً من الأرض :3/ 130

[13] صحيح مسلم ، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها: 3/ 1230

[14] صحيح بخاري ، باب من ظلم شيئاً من الأرض :3/ 130

[15] صحيح بخاري:  باب فضل الزرع والغرس إذا أكل منه :3/ 103

[16] صحيح مسلم:  باب فضل الغرس والزرع : 3/ 1188

[17] صحيح بخاری:  باب ما يحذر من عواقب الاشتغال بآلۃ الزرع  أو مجاوزۃ الحد الذي أمر به :3/ 103

[18] فقه السنۃ :3/ 162

[19] المغني :5/581،   الأم:7/187

[20] صحيح مسلم شرح النووي: باب المساقاۃ والمعاملۃ بجزء من الثمر والزرع 5/453

[21] صحيح بخاری: باب المزارعۃ بالشطر ....3/ 104

[22] نيل الأوطار: باب المزارعۃ بالشطر ونحوه:6/13

[23] صحيح بخاری: باب الشروط في المعاملۃ :3/ 190

[24] صحيح بخاری: باب المزارعۃ بالشطر ونحوه، صحیح مسلم : في المساقاۃ باب المساقاۃ والمعاملۃ بجزء من الثمر والزرع 

[25] بدائع الصنائع: 5/254 ، المغنی: 5/59

[26] نيل الأوطار:6/14

[27] الهدايۃ في شرح بدايۃ المبتدي :كتاب المزارعۃ 4/ 337  ، الأم :4/18

[28] صحيح مسلم، باب كراء الأرض:3/ 1177

[29] صحيح بخاری، باب ما يكره من الشروط في المزارعۃ :3/ 105

[30] سنن أبی داود : باب في المزارعۃ :3/ 257

[31] سنن ترمذی : باب ما جاء فی المزارعۃ

[32] إعلام الموقعين:1/ 290

[33] يض الباری:  2/481

[34] الشرح الكبير وحاشيۃ الدسوقي :3/ 543

یہ مضمون البیان معیشت نمبر میں شائع ہوچکا ہے۔