بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

منگل, 09 جنوری 2018 14:13

ہماری غذائیں اورمشروبات اورغیرمسلم مصنوعات

مقرر/مصنف  --

ہماری غذائیں اور مشروبات اور غیر مسلم مصنوعات

  انسانی جسم کے لئے غذا کی اہمیت

غذا ہماری بنیادی ضرورت ہے ، بغیر کھانے اور پینے کے کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا ، اسی لئے اللہ ربّ العزت نے ہماری اس بنیادی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے نہ صرف ہمیں کھانے اور پینے کا حکم دیا ہے جیسا کہ فرمان الہی ہے :

’’ {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ} [الأعراف: 31]

 ترجمہ: اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بیشک وہ بےجا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘

بلکہ اللہ رب العزت نے شریعت اسلامی میں کھانے پینے کی اشیاء اور آداب کے تعلق سے وہ عمدہ اصول بیان فرمائے ہیں جن کو اپنا کر ہم مضر صحت چیزوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اور اس کے ساتھ ساتھ غذا حاصل کرنے کے تمام درست اور جائز طریقوں کی انتہائی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے ، جیسا کہ زراعت جو کہ غذا حاصل کرنے کا انتہائی اہم اور ضروری طریقہ ہے اس کے متعلق کئی احادیث میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے توجہ دلائی ہے ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :

’’ لا يغرس المسلم غرسا ولا يزرع زرعا فيأكل منه إنسان ولا دابة ولا شيء إلا كانت له صدقة‘‘[1]

ترجمہ: ’’جب بھی مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی اگاتا ہے پھر اس سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو اگانے والے مسلمان کو صدقہ کا اجر ملتا ہے ‘‘

اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان مبارک ہے :

’’إذا قامت الساعة وبيد أحدكم فسيلة فإن استطاع ألا يقوم حتى يغرسها فليفعل‘‘ [2]

ترجمہ:’’اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں بیج ہو تو اگر وہ اس بات کی قوت رکھتا ہو کہ اٹھنے سے پہلے اسے زمین میں بو دے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے زمین میں بو دے‘‘۔

اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسب حلال کی طرف خاص توجہ دلائی ہے تاکہ معاش و معیشت کا معاملہ درست انداز میں چلتا رہے ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :

’’ ما أكل أحد طعاما قط خيرا من أن يأكل من عمل يده ، وإن نبي الله داود كان يأكل من عمل يده‘‘ [3]

ترجمہ: ’’کسی بھی شخص کا بہترین کھانا جو اس نے کھایا ہے وہ کھانا ہے جو اس نے اپنے ہاتھ سے کمایا ہے ، اور اللہ کے نبی داود u اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے‘‘

 اسلام میں غذا کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان پاکیزہ چیزیں کھائے جو اسے اعمال صالحہ کرنے کے لئے قوت فراہم کریں اور خبائث و مضر صحت چیزوں سے بچے جو اس کے جسم کو یا عقل کو نقصان پہنچانتی ہیں  یا تزکیہ نفس میں حائل ہوتی ہیں، اسی لئے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالی نے طعام اور اعمال صالحہ کا ایک ساتھ تذکرہ فرمایا ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلّٰهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ} [البقرة: 172]

ترجمہ :’’ اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو‘‘

 اسی طرح خاص طور پر انبیاء و رسولوں سے مخاطب ہو کر فرمایا :

 { يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ } [المؤمنون: 51]

 ترجمہ : ’’ اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو‘‘

 گویا کہ پاکیزہ چیزیں کھانے کا نیک عمل کرنے سے گہرا تعلق ہے ، اور یہ بات یقیناً کسی سے مخفی نہیں کہ انسان جو بھی غذا اپنےمعدہ میں اتارتا ہے اس غذا کا اس کے جسم ، عقل اورنفس پر گہر ااثر پڑتا ہے ، اسی لئے اسلام میں وہ تمام چیزیں حلال ہیں جو پاکیزہ اور انسانی جسم کے لئے مفید ہیں ، اور ایسی تمام چیزیں حرام ہیں جو ناپاک ہیں ، اور انسانی جسم کے لئے نقصان دہ ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ } [الأعراف: 157]

 ترجمہ: ’’ اور (نبی  صلی اللہ علیہ وسلم ) پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں‘‘۔

  ایک بنیادی اصول :

اسلام میں کھانے اور پینے کے تعلق سے بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر چیز کھانا اور پینا جائز ہے سوائے ان چند چیزوں کے جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہو، اسے علماء یوں بیان کرتے ہیں کہ اشیاء میں اصل یہ ہے کہ وہ جائز ہیں جب تک کہ کسی چیز کے حرام ہونے کی قرآن و حدیث سے دلیل نہ آ جائے ۔ اس اصول کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ :

 {هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا} [البقرة: 29]

 ترجمہ:’’ وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لئے پیدا کیں‘‘۔

 یعنی زمین میں موجود تمام چیزیں انسان کے لئے حلال و جائز ہیں تاآنکہ اس کے متعلق حرمت کا حکم صادر ہوجائے ، اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"أعظم المسلمين جرما من سأل عن شيء لم يحرم فحرم من أجل مسألته"[4]

ترجمہ: ’’ مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جس نے ایسی چیز کے متعلق سوال کیا جو حرام نہ تھی لیکن اس کے پوچھنے پر وہ چیز حرام کردی گئی‘‘

اس حدیث سے بھی یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اصلاً تمام چیزیں حلال ہیں جن میں سے بعض کے متعلق حرمت کا حکم جاری ہوا ہے۔

اور حلال و حرام کے حوالہ سے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ اسلام نے صرف ان چیزوں کو ہم پر حرام کیا ہے جو کسی بھی طرح خبیث ہوں ، یعنی ضرر اور نقصان پہنچانے والی ، چاہے وہ نقصان بدن کا ہو، عقل کا ہویا نفس کا ہو، ہر نقصان دینے والی چیز کو اسلام نے ہم پر حرام کردیا ہے ، یہ اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دین اس خالق کی طرف سے ہے جس نے ہمیں تخلیق کیا اور وہ خوب جانتا ہے کہ کیا چیز ہمارے لئے فائدہ مند ہے اور کیا چیز نقصان دہ ہے۔

اسلام میں حرام کردہ غذائیں اور مشروبات :

ہماری غذا دو قسم کی ہے : حیوانی اور نباتاتی۔

(۱) نباتاتی غذا: جہاں تک نباتاتی غذا کا تعلق ہے تو اس میں ہر قسم کی غذا حلال ہے جب تک کہ وہ کوئی مضر صحت چیز نہ ہو۔

(2) حیوانی غذا: حیوان دو طرح کے ہوتے ہیں :1 بری ۔(خشکی والے)2بحری (سمندری)

(1)ایسے بری (خشکی کے ) جانورجو حرام ہیں:

جو غیر اللہ کے لئے ذبح کیا گیا ہو

وہ جانور جو غیراللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو وہ حرام ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ} [البقرة: 173]

 ترجمہ:’’اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کر دیا ہے‘‘۔

اسی طرح وہ جانور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ، چاہے کسی اور کا نام نہ بھی لیا جائے ، اس جانور کا گوشت بھی حرام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

{وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ } [الأنعام: 121]

ترجمہ: ’’ اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے‘‘۔

اس حوالہ سے یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ جس قصاب سے گوشت لیا جائے تو اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ مشرک تو نہیں ہے ؟ ، یا پھر وہ ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کا نام لیتا ہے یا نہیں ؟ اور اگر مرغی یا جانور خود ذبح کروائے تو قصاب کو خاص تاکید کرے کہ وہ اس پر اللہ کا نام لے، اور سب سے بہتر تو یہ ہے کہ خود ہی جانور کو ذبح کیا جائے۔ اور اگر کسی قصاب کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ مشرک ہے تو اس سے گوشت ہرگز نہ خریدیں کیوں کہ مشرک کاذبیحہ حلال نہیں ہے۔

البتہ اگر علم نہیں کہ اس گوشت پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں تو اگر آپ کسی مسلم معاشرہ میں ہیں جہاں زیادہ تر افراد مسلمان ہیں اور ذبح کا کام بھی عموماًوہی کرتے ہیں تو پھر آپ وہ گوشت خرید سکتے ہیں اور کھاتے وقت اللہ کا نام لے کر کھائیں ، جیسا کہ صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  سے مروی ہے کہ: ’’صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا کہ : کچھ لوگ (مدینہ کے باہر سے ) ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں (بیچنے کے لئے ) ہمیں نہیں پتا کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ،تو کیا ہم وہ گوشت کھا سکتے ہیں ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: تم خود اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ‘‘ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ صحابہ کرام کو یہ خدشہ اس وجہ سے تھا کہ گوشت لانے والے اکثر افراد نو مسلم تھے اور انہیں احکامات کا زیادہ علم نہیں تھا‘‘ [5]اور اگر آپ ایسے علاقہ میں ہیں جہاں غیرمسلم کی تعداد زیادہ ہے تو اگر غیر مسلم اہل کتاب ہیں یعنی عیسائی یا یہودی ہیں تو آپ وہ گوشت کھاسکتے ہیں بشرطیکہ وہ جانور شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہو، کیونکہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہےاگر شرعی طریقہ سے ذبح کیا جائے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ } [المائدة: 5]

ترجمہ:’’ آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں ۔ اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے ‘‘۔

 اور اگر غیر مسلم اہل کتاب کے علاوہ ہیں تو وہ گوشت کھانا حرام ہے۔

  مردار

مردار سے مراد وہ حلال جانور ہے جو بغیر شرعی ذبح کے مر جائے۔مردار کے حرام ہونے کی حکمت یہ ہے کہ اکثر مردار جانور کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوکر مرتے ہیں ، اگر مردار کا گوشت کھایا جائے تو وہ بیماری کھانے والے کو بھی لگ سکتی ہے ، پھر مردار جانور جب مرتا ہے تو اس کا خون بہتا نہیں ہے بلکہ جسم میں ہی رہ جاتا ہے اور دوران خون بند ہونے کے بعد یہ رکا ہوا خون جانور کے جسم میں مختلف خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مختلف مقامات پر مردار کو حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ  کا فرمان ہے :

{ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ } [البقرة: 173]

ترجمہ:’’اس نے تم پر مرا ہوا جانور حرام کر دیا ہے‘‘۔

ہماری بد نصیبی ہے کہ ہمارے معاشرے میں نام نہاد مسلمان اپنی ایمانی کمزوری اور خوف الہٰی نا ہونے کے سبب ایسے گھناؤنے کاروباروں میں ملوث ہیں کہ غیر مسلم ایمان نہ ہونے کے باوجود صرف انسانیت کے ناتے ہی اس کاروبار سے نفرت کرتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مردار جانوروں کا گوشت بیچتے ہیں ، اور عموما ہوٹل مالکان جانتے بوجھتے ا ن سے یہ مضر صحت حرام گوشت خرید کر اپنے ہوٹلوں پر پکاکر گاہکوں کو کھلاتے بھی ہیں۔ ایسا گوشت جو نہ صرف مضر صحت ہے بلکہ مسلمان پر حرام بھی ہے وہ انجانے میں مسلمانوں کو کھلایا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔اسی لئے ہمیں خود اس معاملہ میں انتہائی احتیاط برتتے ہوئے عموما گھر کے کھانے پر اکتفاء کرنا چاہئے ، اور اگر باہر کھانا ہو تو ایسی چیز کھانی چا•ہئے جس میں شک نہ رہے مثلامچھلی وغیرہ، اور گوشت کھانا ہو تو صرف ایسی جگہ سے کھانا چاہئے جس کے بارے میں ہمیں یقین ہو کہ یہاں پر گوشت حلال مل سکے گا۔

   خنزیر

اللہ تعالیٰ نے خنزیر کے گوشت کو نہ صرف قطعی حرام قرار دیا ہے ، بلکہ اس کے گوشت کو ناپاک بھی قرار دیا ہے ، اللہتعالیٰ کا فرمان ہے :

 { قُلْ لَّآ أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ} [الأنعام: 145]

ترجمہ: ’’کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا۔ بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سُور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں‘‘۔

سُور ایک ایسا قبیح جانور ہے کہ اگر کوئی سلیم الفطرت شخص اسے دیکھے تو یقینا بغیر کسی دلیل کے بھی وہ اس کو گوشت کو مضر صحت قرار دینے پر مجبور ہوگا، یہ جانور ہر طرح کی غلاظت کو بڑے شوق سے کھاتا ہے  اور اس کے اندر بے حیائی اور بے غیرتی کے اوصاف بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ سور کاصرف گوشت ہی حرام نہیں بلکہ وہ مکمل سراپا نجس اور حرام ہے، اس کا گوشت ، چربی ، ہڈیاں اور کھال وغیرہ سب حرام اور ناپاک ہیں ۔ سور کے گوشت اور چربی میں جو جراثیم پائے جاتے ہیں ،اور یہ جراثیم انسانی صحت کو جو نقصان پہنچاتے ہیں آج کے جدید سائنسی دور میں یہ بات اب کسی سے مخفی نہیں رہی ۔ہمارے لئے صرف اللہ کاحکم کافی ہے جو حکیم وعلیم ہے اور اپنی مخلوق کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے اور اپنے اسی علم کی روشنی میں اس نے ہمارے لئے حلال و حرام مقرر فرمائے ہیں ۔

   درندے

ہر وہ جانور جس کی کچلیاں (وہ نوکیلے دانت جو سامنے کے چار دانتوں کے بعد آتے ہیں )ہوں اور وہ شکار کرتا ہو تو اسے کھانابھی حرام ہے ، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: ’’ہر وہ شکاری جانور جس کی کچلیاں ہوں اسے کھانا حرام ہے‘‘[6]۔اس میں شیر ، چیتے ، سمیت تمام درندے شامل ہیں ، اور کتے کا گوشت بھی اسی اصول کی رو سے حرام ہے۔

   پالتو گدھا

پالتو گدھے کا گوشت بھی حرام ہے ، حدیث میں آتا ہے کہ خیبر والے دن نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے منادی نے یہ صدا لگائی :’’بے شک اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمادیا ہے‘‘[7]

   جلالۃ

اس سے مراد ایسا جانور ہے جو ویسے تو حلال ہو لیکن اس کی غذا کا اکثر حصہ نجس چیزوں پر مشتمل ہو ، تو ایسے جانور کا گوشت اس وقت تک حلال نہیں جب تک کہ اسے کسی جگہ باندھ کر کم ازکم تین دن تک پاکیزہ کھانا نہ کھلادیا جائے ۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ : نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جلالہ کے گوشت اور دودھ سے منع فرمایا ہے ‘‘[8]۔

یہاں پر ایک بات بہت اہم ہے کہ ہمارے ہاں کی فارمی مرغیوں کے حوالہ سے بعض شکوک وشبہات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ان مرغیوں کی غذا میں خون اور مردار جانور کی چربی یا سور کے گوشت کے کچھ اجزاء ملائے جاتے ہیں ، اگر یہ بات درست ہے تو پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ اجزاء مرغی کی فیڈ میں کتنے فیصد موجود ہیں ، اگر مرغی کی فیڈ میں ان اجزاء کی کثرت ہے تو پھر مرغی کاحکم بھی جلالہ والا ہی ہے کہ اس کا گوشت کھانا حرام ہے ، لیکن اگر فیڈ میں ان اجزاء کی کثرت نہیں ہے اور پانچ یا دس فیصد تک ہی ہیں باقی دانے وغیرہ ہیں تو پھر اس مرغی کا حکم جلالہ کا نہیں ہوگا ۔واللہ اعلم

   شکاری پرندے

ایسے پرندے جن کے پنجے ہوں اور وہ شکار کرتے ہوں تو ان کا گوشت بھی حرام ہے۔حدیث ہے کہ : ’’نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایسے تمام پرندوں کو کھانے سے منع فرمایا ہے جن کے پنجے ہوں اور وہ شکار کرتے ہوں‘‘[9]۔

   ہر وہ چیز جو ضرر رساں ہو

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :’’نہ ضرر پہنچاؤ نہ ضرر اٹھاؤ‘‘[10]، یعنی جانتے بوجھتے کسی ایسی چیز کا استعمال جو انسان کو نقصان پہنچاتی ہو اس کا ستعمال کرنا حرام ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

{وَلَا تُلْقُوْا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ}[البقرة: 195]ترجمہ: ’’ اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘


 

لہٰذا ہر وہ چیز جو انسان کو نقصان پہنچائے وہ حرام ہے ، مثلا سگریٹ نوشی ، نسوار اور گٹکا وغیرہ جو کہ انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے ان چیزوں کا استعمال مذکورہ بالا اصول کی روشنی میں حرام ہے ۔

(2)سمندری جانور:

تمام بحری جانور حلال ہیں ، جیسے مچھلی ، جھینگا وغیرہ ۔ اسی طرح بحری جانور اگر مرجائے تو بھی حلال ہے ، البتہ ایسا بحری جانور جو خشکی پر بھی رہتا ہو جیسے کچھوا وغیرہ تو اس کے حوالہ سے اختلاف ہے کہ اگر وہ مر جائے تو کیا وہ حلا ل ہے یا نہیں ؟ احتیاط اسی میں ہے کہ اسے نہ کھایا جائے۔

اسلام میں حرام کردہ مشروبات

ایسے تمام مشروبات جن میں نشہ ہو وہ حرام ہیں ، چاہے کم ہوں یا زیادہ ۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے : ہر نشہ آور چیز حرام ہے ‘‘[11]، اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :

 ’’ہر وہ چیز جو زیادہ تعداد میں پی لینے پر نشہ دے تو اس کا کم پینا بھی حرام ہے ‘‘[12]۔

لہٰذا ہر وہ چیز جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ ہمارے ہاں ہوٹلوں وغیرہ پر عموما شیشہ پینے کا رواج ہے جو کہ نشہ آور چیز ہے ، اسی طرح سیگریٹ جو کہ تمباکو سے بنا ہے وہ بھی حرام ہے کیونکہ تمباکو کی زیادہ تعداد نشہ آور ہوتی ہے ۔

ہمارے جدید کھانے اور مشروبات

آج کا دور ، جدید دور ہے ، ہر معاملہ میں بہت سی تبدیلیاں آچکی ہیں ، اسی طرح کھانے پینے کے معاملات میں بھی بہت سی تبدیلیاں آچکی ہیں ۔ آج کل زیادہ تر افراد باہر کھانا پسند کرتے ہیں ، گھروں میں جو کھانے پکائے جاتے ہیں ان میں بازاری مصالحوں کا استعمال کیا جاتا ہے ، فاسٹ فوڈ بکثرت کھایا جاتا ہے ، پیک فوڈ بھی گھروں میں استعمال کئے جاتے ہیں ، بچے عموماً بسکٹس ، چپس اور چاکلیٹس وغیرہ کھانا پسند کرتے ہیں۔ مشروبات میں ہم عموماً پیپسی ، کوک اور دیگر مصنوعی مشروبات کا بکثرت استعمال کرتے ہیں ۔

 خلاصہ یہ ہے کہ آج کل ہماری خوراک کے بیشتر اجزا ء باہر کی چیزوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو کہ ہماری نظروں کے سامنے تیار نہیں ہوتے یا ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں کون سی اور کیسی چیزیں استعمال کی گئی ہیں، اور اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ کھانے پینے کی یہ اشیاء ، یا ان کے مصالحہ جات تیار کرنی والی کمپنیاں عموما ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوتی ہیں جو کہ غیر مسلموں کی ملکیت ہیں ، اور غیر مسلموں کے ہاں حلال اور حرام کا کوئی فرق موجود نہیں ہے۔

ایسی صورتحال میں دو چیزوں کا علم بہت ضروری ہے:

1اسلام میں غیر مسلم مصنوعات کا کیا حکم ہے:

عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو اسلام نے غیر مسلم مصنوعات کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے ،البتہ اگر ان کا تعلق کھانے پینے سے ہے تو اس کا معاملہ الگ ہے ، لیکن عام اشیاء مثلا لباس ، جوتے ، دیگر استعمال کی چیزوں پر کوئی پابندی نہیں ہے سوائے ان پابندیوں کے جو مسلم مصنوعات کے حوالہ سے بھی ضروری ہیں ، یعنی لباس میں خواتین کا موٹا لباس ہونا ، جسم کا مکمل چھپ جانا، برتنوں میں سونے چاندی کے برتن کا نہ ہونا، جوتوں وغیرہ میں حرام جانور کی کھال کا نہ ہونا، اور اسی طرح کی دیگر وہ تمام شرائط جن کا تعلق مسلم یا غیر مسلم سے نہیں بلکہ اشیاء اور ان کی بناوٹ سے ہے ان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

جہاں تک کھانے پینے کی اشیاء کا تعلق ہے تو جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ اگر ان اشیاء کا تعلق نباتات سے ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، لیکن اگر ان اشیاء کا تعلق حیوانات سے ہے تو پھر اس میں کم از کم تین چیزوں کا ضرور علم ہونا چاہئے:

   وہ حیوان حلا ل ہے یا حرام ہے؟

   اگر وہ حیوان حلال ہے تو اس کا ذبح کرنے والا مسلمان یا اہل کتاب میں سے ہے یا پھر غیر مسلم اور غیر اہل کتاب میں سے ہے۔ اگر مسلمان ہے یا اہل کتاب میں سے ہے تو اس کاذبیحہ حلا ل ہے ، اور اگر غیر مسلم ہے اور اہل کتاب میں سے بھی نہیں ہے تو اس کا ذبیحہ حرام ہے۔

   اگر اس کو ذبح کرنے والا مسلمان ہے یا اہل کتاب میں سے ہے تو کیا اسے شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے ، یا اسے کرنٹ کے ذریعہ یا ہتھوڑے کے ذریعہ (Stunning) یا کسی اور غیر شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے؟۔

ان تمام معلومات کا حصول ضروری ہے اور یہ نہایت ہی دشوار معاملہ ہے کیونکہ اس قسم کی معلومات آسانی سے دستیاب نہیں ہوتیں ، بہرحال ایک اندازہ ضرور ہے کہ جو گوشت ان کھانے پینے کی اشیاء میں استعمال ہوتا ہے اگر وہ یورپ یا امریکا سے ہے تو اس میں غالب امکان یہی ہے کہ اسے ذبح کرنے والا مسلمان یا اہل کتاب میں سے ہوگا ،اور اگر وہ گوشت چین ، روس جیسے ممالک سے ہے تو اس میں غالب امکان یہی ہے کہ اسے ذبح کرنے والا شخص غیر مسلم ہوگا اور اہل کتاب میں سے بھی نہیں ہوگا۔ جہاں تک شرعی طریقہ سے ذبح کرنے کا معاملہ ہے تو اس حوالہ سے عرب علماء کی تحقیق کے مطابق اور جیسا کہ معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ صالح الفوزان نے اپنی مشہور کتاب ’’کتاب الاطعمہ ‘‘ میں بھی تحریر کیا ہے کہ زیادہ تر مذبح خانوں میں (یعنی یورپ اور امریکا میں ) غیر شرعی طریقے رائج ہیں  اور جہاں پر شرعی طریقہ سے ذبح کیا جارہا ہے ان میں بھی کافی معاملات میں شبہات موجود ہیں، اسی لئے انہوں نے اس گوشت سے جو غیر مسلم ممالک سے درآمد کیا جارہا ہے(خصوصا برازیل سے ) پر پابندی لگانے اور عام مسلمانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ کھانے پینے کی ایسی تمام اشیاء جو گوشت پر مشتمل ہیں یا ان کے بنانے میں گوشت کا استعمال ہوا ہے تو اگر وہ چین ، روس وغیرہ جیسے غیر مسلم ممالک سے ہیں تو ان کا استعمال حرام ہے ، اور اگر وہ یورپ یا امریکا سے درآمد کی گئی ہیں تو بھی ان میں شبہ ہے اور ان کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ، سوائے یہ کہ کسی خاص پروڈکٹ کے حوالہ سے معلوم ہوجائے کہ اس میں حلال گوشت کا استعمال ہے جسے شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے۔

(2)اجزائے ترکیبی  (Food Additives) اور (E Numbers):

 بہت مناسب ہوگا کہ اگر ہم کم ازکم اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی بھی چیز استعمال کرنے سے پہلے اس کے پیکٹ پر لکھے اجزائے ترکیبی (Food Additives)پڑھ لیں، یا کسی اور طریقہ سے اس کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں اچھی طرح چھان بین کرلیں اور اس بات کا یقین کرلیں کہ اس کے تمام اجزائے ترکیبی حلال ہیں ۔ آج کل جتنی اشیاء مارکیٹ میں آرہی ہیں ان سب کے اجزائے  ترکیبی (Food Additives)حلال نہیں ہوتے ، بلکہ کتنی ہی ایسی کھانے پینے کی اشیاء ہیں جن کے اجزائے ترکیبی حلال نہیں ہیں اور ہم اس بارے میں علم نہیں رکھتے، خصوصا غیر مسلم مصنوعات جیسے بسکٹس، چپس ، چاکلیٹس وغیرہ میں عموماً اجزائے ترکیبی کے حرام ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ، ابھی حال ہی میں ملائیشیا میں ایک معروف چاکلیٹ Cadbury پر اسی حوالہ سے پابندی لگائی گئی تھی کہ اس میں سور کا DNA پایا گیا تھا، اور یہ چاکلیٹ ہمارے ہاں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے!۔اشیاء کے اجزائے ترکیبی میں مختلف عناصر شامل کئے جاتے ہیں اور انہیں ایک خاص کوڈ دیا جاتا ہے ، جسے E code کہتے ہیں ، جو عناصر مختلف اشیاء کے بنانے میں استعمال ہوتے ہیں ان کے مصادر حلال بھی ہوسکتے ہیں اور حرام بھی ، مثال کے طور پر ایک عنصر جسے ’’Gelatin‘‘ کہا جاتا ہے اسے نباتات سے بھی نکالا جاتا ہے اور گائے کی ہڈیوں سے اور سور سے بھی نکالا جاتا ہے اور بعض ممالک میں مردار کی ہڈیوں سے بھی نکالا جاتا ہے ، یہ جیلاٹن مختلف اشیاء مثلا جیلی، ببل گم ، ٹوتھ پیسٹ اور صابن وغیرہ کے علاوہ اور بہت سی اشیاء میں استعمال کیا جاتا ہے ، اگر یہ جیلاٹن حلال ذرائع سے حاصل کی جائے تو حلال ہے اور اگر حرام ذرائع سے حاصل کی جائے تو حرام ہے ۔

جو اجزائے ترکیبی (Food Additives) مختلف اشیاء میں استعمال ہوتے ہیں ان کی تعداد تقریبا 1500 ہے اور انہیں 100 سے لے کر 1599 تک مختلف E Numbers دئیے گئے ہیں۔ ان اجزائے ترکیبی میں سے کچھ حلال ہیں اور کچھ حرام ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو کبھی حلال ذرائع سے حاصل کئے جاتے ہیں اور کبھی حرام ذرائع سے ۔ جو اجزائے ترکیبی(Food Additives) حرام ہیں یا کبھی حرام ہوتے ہیں ، ان کی حرمت کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ سور سے حاصل کئے جاتے ہیں یا مردار سے یا پھر ان میں الکوحل کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ تقریبا سو کے لگ بھگ ہیں ،ان اجزائے ترکیبی کی تفصیل اور ان کے نمبرز درج ذیل ہیں:

 

                    E Numbers                 Name       Family

1                 E101        Vitamins G              Yellow dyes

2                 E101i      Riboflavin                 Yellow dyes

3                 E101ii     Riboflavin 5'-phosphate      Yellow dyes

4                 E101iii   Riboflavin de Bacillus subtilis            Yellow dyes


 

5                 E101a      Vitamin B2              Yellow dyes

6                 E120        Cochineal                 Red dyes

7                 E140        Chlorophyll              Green Dyes

8                 E141        Copper complexes of chlorophylls    Green Dyes

9                 E141i      Copper complexes of chlorophylls    Green Dyes

10              E141ii     Sodium and potassium salts of copper complexes of chlorophylls                 Green Dyes

11              E160f      Food orange 7        Orange dyes

12              E161a     Flavoxanthin           Yellow dyes

13              E161b     Lutéin     Yellow dyes

14              E161bi   Tagetes erecta Lutéines       Yellow dyes

15              E161bii  Extracts of Tagetes                 Yellow dyes

16              E161C    Cryptoxanthin         Yellow dyes

17              E161d     Rubixanthin             Yellow dyes

18              E161e     Violaxanthin           Yellow dyes

19              E161f      Rhodoxanthin         Yellow dyes

20               E161g     Canthaxanthin        Orange dyes

21              E161h     Zéaxanthin               Orange Red dyes

22               E161hi   Zeaxanthin synthesis             Orange Red dyes

23              E161hii  Zeaxanthin rich extract from Tagetes erecta    Orange Red dyes

24               E162        Red beet Red dyes

25              E163        Anthocyanin            Red dyes

26              E163ii    Grape Skin Extract                  Red dyes

27              E163iii   Blackcurrant Extract              Red dyes

28              E163iv   Dye purple corn     Red dyes

29              E163v     Dye red cabbage   Red dyes

30              E170        Carbonate de calcium            White Dyes


 

31              E170i      Carbonate de calcium            White Dyes

32              E170ii     Calcium bicarbonate              White Dyes

33              E304        Ascorbyl palmitate                 Antioxidants

34              E322        Lécithin Emulsifiers

35              E322i       Lecithin Emulsifiers

36              E322ii     Lecithin partially hydrolyzed                Emulsifiers

37              E334        Tartaric acid            Acidity regulator

38              E335        Tartrate de sodium                   Acidity regulator

39              E336        Tartrate de potassium            Acidity regulator

40               E336i      Tartrate mono potassium     Acidity regulator

41              E336ii    Tartrate di potassium             Acidity regulator

42               E337        Tartrate de potassium sodium               Acidity regulator

43              E353        Metatartaric acid  Acidity regulator

44               E354        Tartrate de calcium                 Acidity regulator

45              E387        Oxystéarin                Antioxidants

46              E431        Polyoxyethene (40) stearate                 Emulsifiers

47              E432        Polysorbate 20       Emulsifiers

48              E433        Polysorbate 80       Emulsifiers

49              E434        Polysorbate 40       Emulsifiers

50              E435        Polysorbate 60       Emulsifiers

51              E436        Polysorbate 65      Emulsifiers

52              E462        Ethyl cellulose      Emulsifiers

53              E470        Salts of fatty acids (having for basic calcium, magnesium, potassium, sodium)                    Emulsifiers

54              E470i       Calcium salts of fatty acids, sodium and potassium         Acidity regulator

55              E470ii     Magnesium salts of fatty acids             Emulsifiers

56              E471        Monostearate          Emulsifiers

57              E472a      Acétoglycérides   Emulsifiers

58              E472b      Lactoglycérides    Emulsifiers


 

59              E472c      Citroglycérides     Emulsifiers

60              E472d      Tartaric acid esters of mono- and di glycerides of fatty acids       Emulsifiers

61              E472e      And diacetyltartaric esters monoacétyltartriques mono- and diglycerides of fatty acids                    Emulsifiers

62              E472f       Mixed acetic and tartaric acid esters of mono- and diglycerides of fatty acids                    Emulsifiers

63              E472g      Monoglycérides succinyles                   Emulsifiers

64              E473        Sugar esters            Emulsifiers

65              E473a      Sucrose oligoesters type I and type II                  Emulsifiers

66              E474        Sugar glycerides  Emulsifiers

67              E475        Polyglycerol esters of fatty acids        Emulsifiers

68              E476        Polyricinoléate of Polyglycerol           Emulsifiers

69              E477        Propylene glycol polyricinoleate       Emulsifiers

70              E478        Esters of glycerol and propylene - glycol lactylated of fatty acids                 Emulsifiers

71              E479        Oxidized soya bean oil by heating with mono- and diglycerides of fatty acids                    Emulsifiers

72              E481        Stéaroyllactylate de sodium                   Emulsifiers

73              E481i      Stéaryl de sodium lactylé    Emulsifiers

74              E481ii     Oléyl de sodium lactylé       Emulsifiers

75              E482        Stéaroyllactate de calcium Emulsifiers

76              E482i       Stéaryl de calcium lactylé  Emulsifiers

77              E482ii     Oléyl de calcium lactylé      Emulsifiers

78              E483        Tartrate de stéaryle                 Various

79              E484        Citrate de stéaryle                    Emulsifiers


 

80              E491        Monostearate of sorbitane  Emulsifiers

81              E492        Tristearate of sorbitane         Emulsifiers

82              E493        Monolaurate of sorbitane    Emulsifiers

83              E494        Monooleate of sorbitane      Emulsifiers

84              E495        Monopalmitate of sorbitane                   Emulsifiers

85              E570        Stearic acid              Acidifies

86              E572        Magnesium stearate               Thickeners

87              E620        Glutamic acid         Enhancers

88              E627        Guanylate de Sodium            Enhancers

89              E630        Inosinic acid           Enhancers

90              E631        Disodium inosinate                Enhancers

91              E632        Inosinate dipotassique          Enhancers

92              E633        Inosinate de calcium              Enhancers

93              E634        Ribonucleotide calcium       Enhancers

94              E635        Ribonucléotide On                  Enhancers

95              E640        Glycine  Enhancers

96              E900        Diméthicone           Emulsifiers

97              E900a      Polydimethylsiloxane           Emulsifiers

98              E900B     Méthylphényl polysiloxane                   Emulsifiers

99              E904        Shellac resin           Various

100            E912        Ester of montanic acid           Various

101           E920        Lcystéine derivatives            Various

102            E441        Gelatin   Thickeners

103           E519        Copper II sulphate                   Various

104            E542        Phosphate d'os       Acidifies

 

یہ اجزائے ترکیبی اگر کسی چیز میں پائے جائیں تو اسے کھانے یا پینے میں استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔

آخر میں اللہ  تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ہمیشہ حلا ل اور پاکیزہ کھانے اور پینے کی توفیق عطا فرمائے۔انہ ولی التوفیق

 

 



[1] حیح مسلم : کتاب المساقات، باب فضل الغرس والزرع

[2] مسند احمد : مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ

[3] صحیح بخاری: کتاب البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ

[4] صحیح بخاری :کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب مایکرہ من کثرۃ السؤال

[5] صحیح بخاری: کتاب البیوع، باب من لم یر الوسواس ونحوھا من الشبھات

[6] صحیح مسلم: کتاب الصید والذبائح باب تحریم اکل کل ذی ناب

[7] صحیح بخاری:کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر

[8] جامع ترمذی: کتاب الأطعمۃ، باب ماجاء فی اکل لحوم الحلالۃ

[9] صحیح مسلم: کتاب الصید والذبائح و مایؤکل من الحیوان

[10] سنن ابن ماجہ  کتاب الأحکام، باب من بنی فی حقہ یضرہ بجارہ

[11] صحیح بخاری: کتاب المغازی، باب بعث ابی موسیٰ و معاذ

[12] سنن ابو داود: کتاب الأشربۃ ، باب النھی عن المسکر

Read 373 times
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

ہماری غذائیں اور مشروبات اور غیر مسلم مصنوعات

  انسانی جسم کے لئے غذا کی اہمیت

غذا ہماری بنیادی ضرورت ہے ، بغیر کھانے اور پینے کے کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا ، اسی لئے اللہ ربّ العزت نے ہماری اس بنیادی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے نہ صرف ہمیں کھانے اور پینے کا حکم دیا ہے جیسا کہ فرمان الہی ہے :

’’ {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ} [الأعراف: 31]

 ترجمہ: اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بیشک وہ بےجا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘

بلکہ اللہ رب العزت نے شریعت اسلامی میں کھانے پینے کی اشیاء اور آداب کے تعلق سے وہ عمدہ اصول بیان فرمائے ہیں جن کو اپنا کر ہم مضر صحت چیزوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اور اس کے ساتھ ساتھ غذا حاصل کرنے کے تمام درست اور جائز طریقوں کی انتہائی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے ، جیسا کہ زراعت جو کہ غذا حاصل کرنے کا انتہائی اہم اور ضروری طریقہ ہے اس کے متعلق کئی احادیث میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے توجہ دلائی ہے ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :

’’ لا يغرس المسلم غرسا ولا يزرع زرعا فيأكل منه إنسان ولا دابة ولا شيء إلا كانت له صدقة‘‘[1]

ترجمہ: ’’جب بھی مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی اگاتا ہے پھر اس سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو اگانے والے مسلمان کو صدقہ کا اجر ملتا ہے ‘‘

اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان مبارک ہے :

’’إذا قامت الساعة وبيد أحدكم فسيلة فإن استطاع ألا يقوم حتى يغرسها فليفعل‘‘ [2]

ترجمہ:’’اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں بیج ہو تو اگر وہ اس بات کی قوت رکھتا ہو کہ اٹھنے سے پہلے اسے زمین میں بو دے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے زمین میں بو دے‘‘۔

اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسب حلال کی طرف خاص توجہ دلائی ہے تاکہ معاش و معیشت کا معاملہ درست انداز میں چلتا رہے ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :

’’ ما أكل أحد طعاما قط خيرا من أن يأكل من عمل يده ، وإن نبي الله داود كان يأكل من عمل يده‘‘ [3]

ترجمہ: ’’کسی بھی شخص کا بہترین کھانا جو اس نے کھایا ہے وہ کھانا ہے جو اس نے اپنے ہاتھ سے کمایا ہے ، اور اللہ کے نبی داود u اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے‘‘

 اسلام میں غذا کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان پاکیزہ چیزیں کھائے جو اسے اعمال صالحہ کرنے کے لئے قوت فراہم کریں اور خبائث و مضر صحت چیزوں سے بچے جو اس کے جسم کو یا عقل کو نقصان پہنچانتی ہیں  یا تزکیہ نفس میں حائل ہوتی ہیں، اسی لئے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالی نے طعام اور اعمال صالحہ کا ایک ساتھ تذکرہ فرمایا ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلّٰهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ} [البقرة: 172]

ترجمہ :’’ اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو‘‘

 اسی طرح خاص طور پر انبیاء و رسولوں سے مخاطب ہو کر فرمایا :

 { يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ } [المؤمنون: 51]

 ترجمہ : ’’ اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو‘‘

 گویا کہ پاکیزہ چیزیں کھانے کا نیک عمل کرنے سے گہرا تعلق ہے ، اور یہ بات یقیناً کسی سے مخفی نہیں کہ انسان جو بھی غذا اپنےمعدہ میں اتارتا ہے اس غذا کا اس کے جسم ، عقل اورنفس پر گہر ااثر پڑتا ہے ، اسی لئے اسلام میں وہ تمام چیزیں حلال ہیں جو پاکیزہ اور انسانی جسم کے لئے مفید ہیں ، اور ایسی تمام چیزیں حرام ہیں جو ناپاک ہیں ، اور انسانی جسم کے لئے نقصان دہ ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ } [الأعراف: 157]

 ترجمہ: ’’ اور (نبی  صلی اللہ علیہ وسلم ) پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں‘‘۔

  ایک بنیادی اصول :

اسلام میں کھانے اور پینے کے تعلق سے بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر چیز کھانا اور پینا جائز ہے سوائے ان چند چیزوں کے جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہو، اسے علماء یوں بیان کرتے ہیں کہ اشیاء میں اصل یہ ہے کہ وہ جائز ہیں جب تک کہ کسی چیز کے حرام ہونے کی قرآن و حدیث سے دلیل نہ آ جائے ۔ اس اصول کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ :

 {هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا} [البقرة: 29]

 ترجمہ:’’ وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لئے پیدا کیں‘‘۔

 یعنی زمین میں موجود تمام چیزیں انسان کے لئے حلال و جائز ہیں تاآنکہ اس کے متعلق حرمت کا حکم صادر ہوجائے ، اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"أعظم المسلمين جرما من سأل عن شيء لم يحرم فحرم من أجل مسألته"[4]

ترجمہ: ’’ مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جس نے ایسی چیز کے متعلق سوال کیا جو حرام نہ تھی لیکن اس کے پوچھنے پر وہ چیز حرام کردی گئی‘‘

اس حدیث سے بھی یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اصلاً تمام چیزیں حلال ہیں جن میں سے بعض کے متعلق حرمت کا حکم جاری ہوا ہے۔

اور حلال و حرام کے حوالہ سے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ اسلام نے صرف ان چیزوں کو ہم پر حرام کیا ہے جو کسی بھی طرح خبیث ہوں ، یعنی ضرر اور نقصان پہنچانے والی ، چاہے وہ نقصان بدن کا ہو، عقل کا ہویا نفس کا ہو، ہر نقصان دینے والی چیز کو اسلام نے ہم پر حرام کردیا ہے ، یہ اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دین اس خالق کی طرف سے ہے جس نے ہمیں تخلیق کیا اور وہ خوب جانتا ہے کہ کیا چیز ہمارے لئے فائدہ مند ہے اور کیا چیز نقصان دہ ہے۔

اسلام میں حرام کردہ غذائیں اور مشروبات :

ہماری غذا دو قسم کی ہے : حیوانی اور نباتاتی۔

(۱) نباتاتی غذا: جہاں تک نباتاتی غذا کا تعلق ہے تو اس میں ہر قسم کی غذا حلال ہے جب تک کہ وہ کوئی مضر صحت چیز نہ ہو۔

(2) حیوانی غذا: حیوان دو طرح کے ہوتے ہیں :1 بری ۔(خشکی والے)2بحری (سمندری)

(1)ایسے بری (خشکی کے ) جانورجو حرام ہیں:

جو غیر اللہ کے لئے ذبح کیا گیا ہو

وہ جانور جو غیراللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو وہ حرام ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ} [البقرة: 173]

 ترجمہ:’’اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کر دیا ہے‘‘۔

اسی طرح وہ جانور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ، چاہے کسی اور کا نام نہ بھی لیا جائے ، اس جانور کا گوشت بھی حرام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

{وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ } [الأنعام: 121]

ترجمہ: ’’ اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے‘‘۔

اس حوالہ سے یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ جس قصاب سے گوشت لیا جائے تو اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ مشرک تو نہیں ہے ؟ ، یا پھر وہ ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کا نام لیتا ہے یا نہیں ؟ اور اگر مرغی یا جانور خود ذبح کروائے تو قصاب کو خاص تاکید کرے کہ وہ اس پر اللہ کا نام لے، اور سب سے بہتر تو یہ ہے کہ خود ہی جانور کو ذبح کیا جائے۔ اور اگر کسی قصاب کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ مشرک ہے تو اس سے گوشت ہرگز نہ خریدیں کیوں کہ مشرک کاذبیحہ حلال نہیں ہے۔

البتہ اگر علم نہیں کہ اس گوشت پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں تو اگر آپ کسی مسلم معاشرہ میں ہیں جہاں زیادہ تر افراد مسلمان ہیں اور ذبح کا کام بھی عموماًوہی کرتے ہیں تو پھر آپ وہ گوشت خرید سکتے ہیں اور کھاتے وقت اللہ کا نام لے کر کھائیں ، جیسا کہ صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  سے مروی ہے کہ: ’’صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا کہ : کچھ لوگ (مدینہ کے باہر سے ) ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں (بیچنے کے لئے ) ہمیں نہیں پتا کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ،تو کیا ہم وہ گوشت کھا سکتے ہیں ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: تم خود اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ‘‘ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ صحابہ کرام کو یہ خدشہ اس وجہ سے تھا کہ گوشت لانے والے اکثر افراد نو مسلم تھے اور انہیں احکامات کا زیادہ علم نہیں تھا‘‘ [5]اور اگر آپ ایسے علاقہ میں ہیں جہاں غیرمسلم کی تعداد زیادہ ہے تو اگر غیر مسلم اہل کتاب ہیں یعنی عیسائی یا یہودی ہیں تو آپ وہ گوشت کھاسکتے ہیں بشرطیکہ وہ جانور شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہو، کیونکہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہےاگر شرعی طریقہ سے ذبح کیا جائے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ } [المائدة: 5]

ترجمہ:’’ آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں ۔ اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے ‘‘۔

 اور اگر غیر مسلم اہل کتاب کے علاوہ ہیں تو وہ گوشت کھانا حرام ہے۔

  مردار

مردار سے مراد وہ حلال جانور ہے جو بغیر شرعی ذبح کے مر جائے۔مردار کے حرام ہونے کی حکمت یہ ہے کہ اکثر مردار جانور کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوکر مرتے ہیں ، اگر مردار کا گوشت کھایا جائے تو وہ بیماری کھانے والے کو بھی لگ سکتی ہے ، پھر مردار جانور جب مرتا ہے تو اس کا خون بہتا نہیں ہے بلکہ جسم میں ہی رہ جاتا ہے اور دوران خون بند ہونے کے بعد یہ رکا ہوا خون جانور کے جسم میں مختلف خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مختلف مقامات پر مردار کو حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ  کا فرمان ہے :

{ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ } [البقرة: 173]

ترجمہ:’’اس نے تم پر مرا ہوا جانور حرام کر دیا ہے‘‘۔

ہماری بد نصیبی ہے کہ ہمارے معاشرے میں نام نہاد مسلمان اپنی ایمانی کمزوری اور خوف الہٰی نا ہونے کے سبب ایسے گھناؤنے کاروباروں میں ملوث ہیں کہ غیر مسلم ایمان نہ ہونے کے باوجود صرف انسانیت کے ناتے ہی اس کاروبار سے نفرت کرتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مردار جانوروں کا گوشت بیچتے ہیں ، اور عموما ہوٹل مالکان جانتے بوجھتے ا ن سے یہ مضر صحت حرام گوشت خرید کر اپنے ہوٹلوں پر پکاکر گاہکوں کو کھلاتے بھی ہیں۔ ایسا گوشت جو نہ صرف مضر صحت ہے بلکہ مسلمان پر حرام بھی ہے وہ انجانے میں مسلمانوں کو کھلایا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔اسی لئے ہمیں خود اس معاملہ میں انتہائی احتیاط برتتے ہوئے عموما گھر کے کھانے پر اکتفاء کرنا چاہئے ، اور اگر باہر کھانا ہو تو ایسی چیز کھانی چا•ہئے جس میں شک نہ رہے مثلامچھلی وغیرہ، اور گوشت کھانا ہو تو صرف ایسی جگہ سے کھانا چاہئے جس کے بارے میں ہمیں یقین ہو کہ یہاں پر گوشت حلال مل سکے گا۔

   خنزیر

اللہ تعالیٰ نے خنزیر کے گوشت کو نہ صرف قطعی حرام قرار دیا ہے ، بلکہ اس کے گوشت کو ناپاک بھی قرار دیا ہے ، اللہتعالیٰ کا فرمان ہے :

 { قُلْ لَّآ أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ} [الأنعام: 145]

ترجمہ: ’’کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا۔ بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سُور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں‘‘۔

سُور ایک ایسا قبیح جانور ہے کہ اگر کوئی سلیم الفطرت شخص اسے دیکھے تو یقینا بغیر کسی دلیل کے بھی وہ اس کو گوشت کو مضر صحت قرار دینے پر مجبور ہوگا، یہ جانور ہر طرح کی غلاظت کو بڑے شوق سے کھاتا ہے  اور اس کے اندر بے حیائی اور بے غیرتی کے اوصاف بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ سور کاصرف گوشت ہی حرام نہیں بلکہ وہ مکمل سراپا نجس اور حرام ہے، اس کا گوشت ، چربی ، ہڈیاں اور کھال وغیرہ سب حرام اور ناپاک ہیں ۔ سور کے گوشت اور چربی میں جو جراثیم پائے جاتے ہیں ،اور یہ جراثیم انسانی صحت کو جو نقصان پہنچاتے ہیں آج کے جدید سائنسی دور میں یہ بات اب کسی سے مخفی نہیں رہی ۔ہمارے لئے صرف اللہ کاحکم کافی ہے جو حکیم وعلیم ہے اور اپنی مخلوق کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے اور اپنے اسی علم کی روشنی میں اس نے ہمارے لئے حلال و حرام مقرر فرمائے ہیں ۔

   درندے

ہر وہ جانور جس کی کچلیاں (وہ نوکیلے دانت جو سامنے کے چار دانتوں کے بعد آتے ہیں )ہوں اور وہ شکار کرتا ہو تو اسے کھانابھی حرام ہے ، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: ’’ہر وہ شکاری جانور جس کی کچلیاں ہوں اسے کھانا حرام ہے‘‘[6]۔اس میں شیر ، چیتے ، سمیت تمام درندے شامل ہیں ، اور کتے کا گوشت بھی اسی اصول کی رو سے حرام ہے۔

   پالتو گدھا

پالتو گدھے کا گوشت بھی حرام ہے ، حدیث میں آتا ہے کہ خیبر والے دن نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے منادی نے یہ صدا لگائی :’’بے شک اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمادیا ہے‘‘[7]

   جلالۃ

اس سے مراد ایسا جانور ہے جو ویسے تو حلال ہو لیکن اس کی غذا کا اکثر حصہ نجس چیزوں پر مشتمل ہو ، تو ایسے جانور کا گوشت اس وقت تک حلال نہیں جب تک کہ اسے کسی جگہ باندھ کر کم ازکم تین دن تک پاکیزہ کھانا نہ کھلادیا جائے ۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ : نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جلالہ کے گوشت اور دودھ سے منع فرمایا ہے ‘‘[8]۔

یہاں پر ایک بات بہت اہم ہے کہ ہمارے ہاں کی فارمی مرغیوں کے حوالہ سے بعض شکوک وشبہات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ان مرغیوں کی غذا میں خون اور مردار جانور کی چربی یا سور کے گوشت کے کچھ اجزاء ملائے جاتے ہیں ، اگر یہ بات درست ہے تو پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ اجزاء مرغی کی فیڈ میں کتنے فیصد موجود ہیں ، اگر مرغی کی فیڈ میں ان اجزاء کی کثرت ہے تو پھر مرغی کاحکم بھی جلالہ والا ہی ہے کہ اس کا گوشت کھانا حرام ہے ، لیکن اگر فیڈ میں ان اجزاء کی کثرت نہیں ہے اور پانچ یا دس فیصد تک ہی ہیں باقی دانے وغیرہ ہیں تو پھر اس مرغی کا حکم جلالہ کا نہیں ہوگا ۔واللہ اعلم

   شکاری پرندے

ایسے پرندے جن کے پنجے ہوں اور وہ شکار کرتے ہوں تو ان کا گوشت بھی حرام ہے۔حدیث ہے کہ : ’’نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایسے تمام پرندوں کو کھانے سے منع فرمایا ہے جن کے پنجے ہوں اور وہ شکار کرتے ہوں‘‘[9]۔

   ہر وہ چیز جو ضرر رساں ہو

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :’’نہ ضرر پہنچاؤ نہ ضرر اٹھاؤ‘‘[10]، یعنی جانتے بوجھتے کسی ایسی چیز کا استعمال جو انسان کو نقصان پہنچاتی ہو اس کا ستعمال کرنا حرام ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

{وَلَا تُلْقُوْا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ}[البقرة: 195]ترجمہ: ’’ اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘


 

لہٰذا ہر وہ چیز جو انسان کو نقصان پہنچائے وہ حرام ہے ، مثلا سگریٹ نوشی ، نسوار اور گٹکا وغیرہ جو کہ انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے ان چیزوں کا استعمال مذکورہ بالا اصول کی روشنی میں حرام ہے ۔

(2)سمندری جانور:

تمام بحری جانور حلال ہیں ، جیسے مچھلی ، جھینگا وغیرہ ۔ اسی طرح بحری جانور اگر مرجائے تو بھی حلال ہے ، البتہ ایسا بحری جانور جو خشکی پر بھی رہتا ہو جیسے کچھوا وغیرہ تو اس کے حوالہ سے اختلاف ہے کہ اگر وہ مر جائے تو کیا وہ حلا ل ہے یا نہیں ؟ احتیاط اسی میں ہے کہ اسے نہ کھایا جائے۔

اسلام میں حرام کردہ مشروبات

ایسے تمام مشروبات جن میں نشہ ہو وہ حرام ہیں ، چاہے کم ہوں یا زیادہ ۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے : ہر نشہ آور چیز حرام ہے ‘‘[11]، اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :

 ’’ہر وہ چیز جو زیادہ تعداد میں پی لینے پر نشہ دے تو اس کا کم پینا بھی حرام ہے ‘‘[12]۔

لہٰذا ہر وہ چیز جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ ہمارے ہاں ہوٹلوں وغیرہ پر عموما شیشہ پینے کا رواج ہے جو کہ نشہ آور چیز ہے ، اسی طرح سیگریٹ جو کہ تمباکو سے بنا ہے وہ بھی حرام ہے کیونکہ تمباکو کی زیادہ تعداد نشہ آور ہوتی ہے ۔

ہمارے جدید کھانے اور مشروبات

آج کا دور ، جدید دور ہے ، ہر معاملہ میں بہت سی تبدیلیاں آچکی ہیں ، اسی طرح کھانے پینے کے معاملات میں بھی بہت سی تبدیلیاں آچکی ہیں ۔ آج کل زیادہ تر افراد باہر کھانا پسند کرتے ہیں ، گھروں میں جو کھانے پکائے جاتے ہیں ان میں بازاری مصالحوں کا استعمال کیا جاتا ہے ، فاسٹ فوڈ بکثرت کھایا جاتا ہے ، پیک فوڈ بھی گھروں میں استعمال کئے جاتے ہیں ، بچے عموماً بسکٹس ، چپس اور چاکلیٹس وغیرہ کھانا پسند کرتے ہیں۔ مشروبات میں ہم عموماً پیپسی ، کوک اور دیگر مصنوعی مشروبات کا بکثرت استعمال کرتے ہیں ۔

 خلاصہ یہ ہے کہ آج کل ہماری خوراک کے بیشتر اجزا ء باہر کی چیزوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو کہ ہماری نظروں کے سامنے تیار نہیں ہوتے یا ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں کون سی اور کیسی چیزیں استعمال کی گئی ہیں، اور اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ کھانے پینے کی یہ اشیاء ، یا ان کے مصالحہ جات تیار کرنی والی کمپنیاں عموما ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوتی ہیں جو کہ غیر مسلموں کی ملکیت ہیں ، اور غیر مسلموں کے ہاں حلال اور حرام کا کوئی فرق موجود نہیں ہے۔

ایسی صورتحال میں دو چیزوں کا علم بہت ضروری ہے:

1اسلام میں غیر مسلم مصنوعات کا کیا حکم ہے:

عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو اسلام نے غیر مسلم مصنوعات کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے ،البتہ اگر ان کا تعلق کھانے پینے سے ہے تو اس کا معاملہ الگ ہے ، لیکن عام اشیاء مثلا لباس ، جوتے ، دیگر استعمال کی چیزوں پر کوئی پابندی نہیں ہے سوائے ان پابندیوں کے جو مسلم مصنوعات کے حوالہ سے بھی ضروری ہیں ، یعنی لباس میں خواتین کا موٹا لباس ہونا ، جسم کا مکمل چھپ جانا، برتنوں میں سونے چاندی کے برتن کا نہ ہونا، جوتوں وغیرہ میں حرام جانور کی کھال کا نہ ہونا، اور اسی طرح کی دیگر وہ تمام شرائط جن کا تعلق مسلم یا غیر مسلم سے نہیں بلکہ اشیاء اور ان کی بناوٹ سے ہے ان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

جہاں تک کھانے پینے کی اشیاء کا تعلق ہے تو جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ اگر ان اشیاء کا تعلق نباتات سے ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، لیکن اگر ان اشیاء کا تعلق حیوانات سے ہے تو پھر اس میں کم از کم تین چیزوں کا ضرور علم ہونا چاہئے:

   وہ حیوان حلا ل ہے یا حرام ہے؟

   اگر وہ حیوان حلال ہے تو اس کا ذبح کرنے والا مسلمان یا اہل کتاب میں سے ہے یا پھر غیر مسلم اور غیر اہل کتاب میں سے ہے۔ اگر مسلمان ہے یا اہل کتاب میں سے ہے تو اس کاذبیحہ حلا ل ہے ، اور اگر غیر مسلم ہے اور اہل کتاب میں سے بھی نہیں ہے تو اس کا ذبیحہ حرام ہے۔

   اگر اس کو ذبح کرنے والا مسلمان ہے یا اہل کتاب میں سے ہے تو کیا اسے شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے ، یا اسے کرنٹ کے ذریعہ یا ہتھوڑے کے ذریعہ (Stunning) یا کسی اور غیر شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے؟۔

ان تمام معلومات کا حصول ضروری ہے اور یہ نہایت ہی دشوار معاملہ ہے کیونکہ اس قسم کی معلومات آسانی سے دستیاب نہیں ہوتیں ، بہرحال ایک اندازہ ضرور ہے کہ جو گوشت ان کھانے پینے کی اشیاء میں استعمال ہوتا ہے اگر وہ یورپ یا امریکا سے ہے تو اس میں غالب امکان یہی ہے کہ اسے ذبح کرنے والا مسلمان یا اہل کتاب میں سے ہوگا ،اور اگر وہ گوشت چین ، روس جیسے ممالک سے ہے تو اس میں غالب امکان یہی ہے کہ اسے ذبح کرنے والا شخص غیر مسلم ہوگا اور اہل کتاب میں سے بھی نہیں ہوگا۔ جہاں تک شرعی طریقہ سے ذبح کرنے کا معاملہ ہے تو اس حوالہ سے عرب علماء کی تحقیق کے مطابق اور جیسا کہ معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ صالح الفوزان نے اپنی مشہور کتاب ’’کتاب الاطعمہ ‘‘ میں بھی تحریر کیا ہے کہ زیادہ تر مذبح خانوں میں (یعنی یورپ اور امریکا میں ) غیر شرعی طریقے رائج ہیں  اور جہاں پر شرعی طریقہ سے ذبح کیا جارہا ہے ان میں بھی کافی معاملات میں شبہات موجود ہیں، اسی لئے انہوں نے اس گوشت سے جو غیر مسلم ممالک سے درآمد کیا جارہا ہے(خصوصا برازیل سے ) پر پابندی لگانے اور عام مسلمانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ کھانے پینے کی ایسی تمام اشیاء جو گوشت پر مشتمل ہیں یا ان کے بنانے میں گوشت کا استعمال ہوا ہے تو اگر وہ چین ، روس وغیرہ جیسے غیر مسلم ممالک سے ہیں تو ان کا استعمال حرام ہے ، اور اگر وہ یورپ یا امریکا سے درآمد کی گئی ہیں تو بھی ان میں شبہ ہے اور ان کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ، سوائے یہ کہ کسی خاص پروڈکٹ کے حوالہ سے معلوم ہوجائے کہ اس میں حلال گوشت کا استعمال ہے جسے شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے۔

(2)اجزائے ترکیبی  (Food Additives) اور (E Numbers):

 بہت مناسب ہوگا کہ اگر ہم کم ازکم اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی بھی چیز استعمال کرنے سے پہلے اس کے پیکٹ پر لکھے اجزائے ترکیبی (Food Additives)پڑھ لیں، یا کسی اور طریقہ سے اس کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں اچھی طرح چھان بین کرلیں اور اس بات کا یقین کرلیں کہ اس کے تمام اجزائے ترکیبی حلال ہیں ۔ آج کل جتنی اشیاء مارکیٹ میں آرہی ہیں ان سب کے اجزائے  ترکیبی (Food Additives)حلال نہیں ہوتے ، بلکہ کتنی ہی ایسی کھانے پینے کی اشیاء ہیں جن کے اجزائے ترکیبی حلال نہیں ہیں اور ہم اس بارے میں علم نہیں رکھتے، خصوصا غیر مسلم مصنوعات جیسے بسکٹس، چپس ، چاکلیٹس وغیرہ میں عموماً اجزائے ترکیبی کے حرام ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ، ابھی حال ہی میں ملائیشیا میں ایک معروف چاکلیٹ Cadbury پر اسی حوالہ سے پابندی لگائی گئی تھی کہ اس میں سور کا DNA پایا گیا تھا، اور یہ چاکلیٹ ہمارے ہاں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے!۔اشیاء کے اجزائے ترکیبی میں مختلف عناصر شامل کئے جاتے ہیں اور انہیں ایک خاص کوڈ دیا جاتا ہے ، جسے E code کہتے ہیں ، جو عناصر مختلف اشیاء کے بنانے میں استعمال ہوتے ہیں ان کے مصادر حلال بھی ہوسکتے ہیں اور حرام بھی ، مثال کے طور پر ایک عنصر جسے ’’Gelatin‘‘ کہا جاتا ہے اسے نباتات سے بھی نکالا جاتا ہے اور گائے کی ہڈیوں سے اور سور سے بھی نکالا جاتا ہے اور بعض ممالک میں مردار کی ہڈیوں سے بھی نکالا جاتا ہے ، یہ جیلاٹن مختلف اشیاء مثلا جیلی، ببل گم ، ٹوتھ پیسٹ اور صابن وغیرہ کے علاوہ اور بہت سی اشیاء میں استعمال کیا جاتا ہے ، اگر یہ جیلاٹن حلال ذرائع سے حاصل کی جائے تو حلال ہے اور اگر حرام ذرائع سے حاصل کی جائے تو حرام ہے ۔

جو اجزائے ترکیبی (Food Additives) مختلف اشیاء میں استعمال ہوتے ہیں ان کی تعداد تقریبا 1500 ہے اور انہیں 100 سے لے کر 1599 تک مختلف E Numbers دئیے گئے ہیں۔ ان اجزائے ترکیبی میں سے کچھ حلال ہیں اور کچھ حرام ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو کبھی حلال ذرائع سے حاصل کئے جاتے ہیں اور کبھی حرام ذرائع سے ۔ جو اجزائے ترکیبی(Food Additives) حرام ہیں یا کبھی حرام ہوتے ہیں ، ان کی حرمت کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ سور سے حاصل کئے جاتے ہیں یا مردار سے یا پھر ان میں الکوحل کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ تقریبا سو کے لگ بھگ ہیں ،ان اجزائے ترکیبی کی تفصیل اور ان کے نمبرز درج ذیل ہیں:

 

                    E Numbers                 Name       Family

1                 E101        Vitamins G              Yellow dyes

2                 E101i      Riboflavin                 Yellow dyes

3                 E101ii     Riboflavin 5'-phosphate      Yellow dyes

4                 E101iii   Riboflavin de Bacillus subtilis            Yellow dyes


 

5                 E101a      Vitamin B2              Yellow dyes

6                 E120        Cochineal                 Red dyes

7                 E140        Chlorophyll              Green Dyes

8                 E141        Copper complexes of chlorophylls    Green Dyes

9                 E141i      Copper complexes of chlorophylls    Green Dyes

10              E141ii     Sodium and potassium salts of copper complexes of chlorophylls                 Green Dyes

11              E160f      Food orange 7        Orange dyes

12              E161a     Flavoxanthin           Yellow dyes

13              E161b     Lutéin     Yellow dyes

14              E161bi   Tagetes erecta Lutéines       Yellow dyes

15              E161bii  Extracts of Tagetes                 Yellow dyes

16              E161C    Cryptoxanthin         Yellow dyes

17              E161d     Rubixanthin             Yellow dyes

18              E161e     Violaxanthin           Yellow dyes

19              E161f      Rhodoxanthin         Yellow dyes

20               E161g     Canthaxanthin        Orange dyes

21              E161h     Zéaxanthin               Orange Red dyes

22               E161hi   Zeaxanthin synthesis             Orange Red dyes

23              E161hii  Zeaxanthin rich extract from Tagetes erecta    Orange Red dyes

24               E162        Red beet Red dyes

25              E163        Anthocyanin            Red dyes

26              E163ii    Grape Skin Extract                  Red dyes

27              E163iii   Blackcurrant Extract              Red dyes

28              E163iv   Dye purple corn     Red dyes

29              E163v     Dye red cabbage   Red dyes

30              E170        Carbonate de calcium            White Dyes


 

31              E170i      Carbonate de calcium            White Dyes

32              E170ii     Calcium bicarbonate              White Dyes

33              E304        Ascorbyl palmitate                 Antioxidants

34              E322        Lécithin Emulsifiers

35              E322i       Lecithin Emulsifiers

36              E322ii     Lecithin partially hydrolyzed                Emulsifiers

37              E334        Tartaric acid            Acidity regulator

38              E335        Tartrate de sodium                   Acidity regulator

39              E336        Tartrate de potassium            Acidity regulator

40               E336i      Tartrate mono potassium     Acidity regulator

41              E336ii    Tartrate di potassium             Acidity regulator

42               E337        Tartrate de potassium sodium               Acidity regulator

43              E353        Metatartaric acid  Acidity regulator

44               E354        Tartrate de calcium                 Acidity regulator

45              E387        Oxystéarin                Antioxidants

46              E431        Polyoxyethene (40) stearate                 Emulsifiers

47              E432        Polysorbate 20       Emulsifiers

48              E433        Polysorbate 80       Emulsifiers

49              E434        Polysorbate 40       Emulsifiers

50              E435        Polysorbate 60       Emulsifiers

51              E436        Polysorbate 65      Emulsifiers

52              E462        Ethyl cellulose      Emulsifiers

53              E470        Salts of fatty acids (having for basic calcium, magnesium, potassium, sodium)                    Emulsifiers

54              E470i       Calcium salts of fatty acids, sodium and potassium         Acidity regulator

55              E470ii     Magnesium salts of fatty acids             Emulsifiers

56              E471        Monostearate          Emulsifiers

57              E472a      Acétoglycérides   Emulsifiers

58              E472b      Lactoglycérides    Emulsifiers


 

59              E472c      Citroglycérides     Emulsifiers

60              E472d      Tartaric acid esters of mono- and di glycerides of fatty acids       Emulsifiers

61              E472e      And diacetyltartaric esters monoacétyltartriques mono- and diglycerides of fatty acids                    Emulsifiers

62              E472f       Mixed acetic and tartaric acid esters of mono- and diglycerides of fatty acids                    Emulsifiers

63              E472g      Monoglycérides succinyles                   Emulsifiers

64              E473        Sugar esters            Emulsifiers

65              E473a      Sucrose oligoesters type I and type II                  Emulsifiers

66              E474        Sugar glycerides  Emulsifiers

67              E475        Polyglycerol esters of fatty acids        Emulsifiers

68              E476        Polyricinoléate of Polyglycerol           Emulsifiers

69              E477        Propylene glycol polyricinoleate       Emulsifiers

70              E478        Esters of glycerol and propylene - glycol lactylated of fatty acids                 Emulsifiers

71              E479        Oxidized soya bean oil by heating with mono- and diglycerides of fatty acids                    Emulsifiers

72              E481        Stéaroyllactylate de sodium                   Emulsifiers

73              E481i      Stéaryl de sodium lactylé    Emulsifiers

74              E481ii     Oléyl de sodium lactylé       Emulsifiers

75              E482        Stéaroyllactate de calcium Emulsifiers

76              E482i       Stéaryl de calcium lactylé  Emulsifiers

77              E482ii     Oléyl de calcium lactylé      Emulsifiers

78              E483        Tartrate de stéaryle                 Various

79              E484        Citrate de stéaryle                    Emulsifiers


 

80              E491        Monostearate of sorbitane  Emulsifiers

81              E492        Tristearate of sorbitane         Emulsifiers

82              E493        Monolaurate of sorbitane    Emulsifiers

83              E494        Monooleate of sorbitane      Emulsifiers

84              E495        Monopalmitate of sorbitane                   Emulsifiers

85              E570        Stearic acid              Acidifies

86              E572        Magnesium stearate               Thickeners

87              E620        Glutamic acid         Enhancers

88              E627        Guanylate de Sodium            Enhancers

89              E630        Inosinic acid           Enhancers

90              E631        Disodium inosinate                Enhancers

91              E632        Inosinate dipotassique          Enhancers

92              E633        Inosinate de calcium              Enhancers

93              E634        Ribonucleotide calcium       Enhancers

94              E635        Ribonucléotide On                  Enhancers

95              E640        Glycine  Enhancers

96              E900        Diméthicone           Emulsifiers

97              E900a      Polydimethylsiloxane           Emulsifiers

98              E900B     Méthylphényl polysiloxane                   Emulsifiers

99              E904        Shellac resin           Various

100            E912        Ester of montanic acid           Various

101           E920        Lcystéine derivatives            Various

102            E441        Gelatin   Thickeners

103           E519        Copper II sulphate                   Various

104            E542        Phosphate d'os       Acidifies

 

یہ اجزائے ترکیبی اگر کسی چیز میں پائے جائیں تو اسے کھانے یا پینے میں استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔

آخر میں اللہ  تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ہمیشہ حلا ل اور پاکیزہ کھانے اور پینے کی توفیق عطا فرمائے۔انہ ولی التوفیق

 

 



[1] حیح مسلم : کتاب المساقات، باب فضل الغرس والزرع

[2] مسند احمد : مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ

[3] صحیح بخاری: کتاب البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ

[4] صحیح بخاری :کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب مایکرہ من کثرۃ السؤال

[5] صحیح بخاری: کتاب البیوع، باب من لم یر الوسواس ونحوھا من الشبھات

[6] صحیح مسلم: کتاب الصید والذبائح باب تحریم اکل کل ذی ناب

[7] صحیح بخاری:کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر

[8] جامع ترمذی: کتاب الأطعمۃ، باب ماجاء فی اکل لحوم الحلالۃ

[9] صحیح مسلم: کتاب الصید والذبائح و مایؤکل من الحیوان

[10] سنن ابن ماجہ  کتاب الأحکام، باب من بنی فی حقہ یضرہ بجارہ

[11] صحیح بخاری: کتاب المغازی، باب بعث ابی موسیٰ و معاذ

[12] سنن ابو داود: کتاب الأشربۃ ، باب النھی عن المسکر