بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

پیر, 25 ستمبر 2017 14:18

جدید ٹیکنالوجی کے ہمارے معاشرہ پر اثرات

Written by 

جدید ٹیکنالوجی کے ہمارے معاشرہ پر اثرات

عثمان صفدر[1]

(1) اسلام میں علم کی اہمیت

مغربی مفکرین کے لئے یہ بات ناقابل یقین ہوگی کہ دین میں دنیاوی علم کی گنجائش بھی ہوسکتی ہے، یا دین میں دنیاوی علم کی کوئی اہمیت ہوگی، کیونکہ اہل مغرب جس دین سے واقف ہیں اس کی سب سے معتبر کتاب بائبل میں وہ یہ پڑھتے ہیں کہ آدم  علیہ السلام  کو جنت میں جس درخت کے قریب جانے سے منع کیا گیا تھا وہ علم و معرفت کا درخت تھا ، اور جب آدم  علیہ السلام  نے اس درخت کا پھل کھا لیا اور ان کی بصیرت میں اضافہ ہوگیا تو اللہ تعالی ان پر ناراض ہوا اور انہیں جنت سے بے دخل کردیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل یورپ دو صدیوں تک اسی کشمکش میں مبتلا رہے کہ ان سائنسی علوم و فنون کو سیکھا جائے یا انہیں گناہ سمجھ کر رد کردیا جائے، کیونکہ ان کےمذہبی رہنماؤں نے ان علوم کو گناہ قرار دیا تھا ، اور جو بھی ان علوم کی طرف متوجہ ہوتا تو اسے کلیسا کی طرف سے عبرتناک سزا دی جاتی، اس کا منطقی رد عمل یہ ہوا کہ  اہل مغرب نے مذہب کو چند رسومات کی شکل میں گرجا گھر کی چار دیواری تک محدود کردیا اور زندگی کے باقی تمام شعبہ جات یعنی سیاست، ثقافت، رسوم ورواج اور علوم وفنون کو دین و مذہب سے جدا کردیا ۔

لیکن دین اسلام کی تو ابتداء ہی ’’اقرأ‘‘سے ہے ، قرآن مجید کی 570 آیات میں اللہ تعالی نے دنیا پر غور وفکر کی دعوت دی :

[اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ] [آل عمران:190]

’’ بیشک آسمان و زمین کی تخلیق اور رات ودن کے پھرنے میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

[وَمِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ           ؀] [الروم:22]

ترجمہ: اور اس (اللہ ) کی آیات میں زمین و آسمان کی تخلیق اور تمہاری زبان اور رنگوں کا مختلف ہونا ہے، بیشک اس میں علم والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرامین میں بھی تحصیل علم کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے، سنن ابن ماجہ کی حسن حدیث ہے کہ :طلب علم ہر مسلمان پر فرض ہے"۔ اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :

"تَدَاوَوْا؛ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنَزِّلْ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً, عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَھلَهُ مَنْ جَھلَهُ" [2]

ترجمہ:’’مرض کی دوا کا اہتمام کیا کرو، کیونکہ اللہ تعالی نے ہر بیماری کے لئے دوا رکھی ہے، جس نے جان لیا سو جان لیا ، جو لاعلم رہا سو لاعلم رہا‘‘۔ اس حدیث میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے طب کوبھی علم قرار دیا۔

تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اسلام دراصل پانچ چیزوں کی حفاظت کے لئے نازل ہوا جسے اصطلاح میں ضروریات خمسہ کہا جاتا ہے، یعنی : دین ، جان ، عزت ، مال اور عقل۔ان پانچ چیزوں کی حفاظت کے لئے دنیاوی علم کی اہمیت یقینا کسی اہل دانش سے مخفی نہ ہوگی۔

غرضیکہ اسلام نہ صرف جدید دنیاوی و سائنسی علوم کی اپنے اندر گنجائش رکھتا ہے بلکہ اہل اسلام کو اس کی اہمیت سے باخبر بھی کرتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج کی تمام ٹیکنالوجی کا بنیادی سہرامسلمان سائنسدانوں ہی کے سر بندھتا ہے۔

آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں یہ جدید ٹیکنا لوجی کا دور ہے، اور ٹیکنالوجی کی اہمیت سے کوئی باشعور شخص انکار نہیں کرسکتا، انسانی زندگی کا کوئی شعبہ اس ٹیکنالوجی سے خالی نہیں رہا، چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا کھیل کا ، زراعت ہو یا صنعت و تجارت ، طب کا شعبہ ہو یا میدان جنگ ہو،لباس، کھانا، سفر ، سواری،رہن سہن غرضیکہ صبح بستر سے اٹھنے سے لے کر دوبارہ بستر پر جانے تک انسان ٹیکنالوجی میں گھرا ہے ۔

اس ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو تو بہت آسان بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے ہماری طرز زندگی پر بڑے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں ، ہماری سوچ وفکر، گفتگو، تہذیب و ثقافت کو بدل کررکھ دیا ہے، یہ اثرات مثبت بھی ہیں اور منفی بھی ہیں۔

(2) جدید ٹیکنالوجی کے مثبت اثرات

ٹیکنالوجی دنیا میں آئی اور اس نے انسان کو اپنا عادی بنا لیا، اب انسان ٹیکنالوجی کا عادی ہو چکا ہے اور اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے لئے آسانی ڈھونڈتا رہا ہے اور اس مقصد کے لئے طرح طرح کی نئی ٹیکنالوجی تیار کر لی۔ہماری زندگی میں ایجادات کا سلسلہ جاری ہے روزانہ بیسیوں چیزیں ایسی دیکھنے میں آتی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات مثلاً زراعت، توانائی، تجارت، سفر اور رابطوں کے لئے ٹیکنالوجی نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر زرعی پیداوار کے لئے زرعی مشینری، توانائی کے حصول کےلئے جدید نیوکلر، شمسی اور ہوا کی توانائی کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔انسان نے زمین سے اپنے سفر کا سلسلہ گھوڑے اور خچر سے شروع کیا اور اب جدید دور میں گاڑی، ریل گاڑی اور ہوائی جہاز پر سفر کر رہا ہے۔جدید دور کے انٹرنیٹ نے برقی پیغامات یعنی ای میل اور چیٹ کے ذریعے پیغام رسانی کو آسان بنا دیا ہے اور اس طرح انسانوں کے درمیان دوریاں ختم ہو گئی ہیں۔ انسان دنیا میں کہیں بھی بیٹھا ہو، اپنے کسی بھی عزیز سے ای میل اور چیٹنگ اور وائس چیٹ کے ذریعے بات چیت کر سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی نے دوریوں اور فاصلوں کوختم کر دیا ہے۔ موبائل فون جدید دور کی اہم ٹیکنالوجی ہے۔ دور حاضر کی اس جدیدٹیکنالوجی نے انسانی رابطوں کے سلسلے کو آسان بنا دیا ہے اور مسلمان کے لئے   صلہ رحمی اور رشتہ داری نبھانا ، دور دراز کے رشتہ داروں کے حالات سے باخبر رہنا آسان ہوگیا ہے۔

انسان نے کمپیوٹرٹیکنالوجی کو ایجاد کر کے اپنے بیشتر مسائل کوحل کر لیا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں کمپیوٹر اہم جز بن گیا ہے۔اکیسویں صدی کی زندگی میں کمپیوٹر بہت اہمیت رکھتاہے۔ حساب کتاب، ڈیزائننگ، اردو اور انگلش ٹائپنگ، موبائل، ویب اور دیگرسوفٹ ویئرز نے متعدد معاملات کو آسان بنا دیا ہے، سوفٹ ویئرز کے آنے سے پہلے ان معاملات کوحل کرنے میں بہت مشکلات پیدا ہوتی تھیں۔

اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی بدولت گھر بیٹھے کاروباری لین دین بھی آسان ہو گئی ہے۔ یونیورسٹیز میں ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن تعلیم کا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، اب جو لوگ کاروبار کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ آن لائن تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ دینی تعلیم کے میدان میں بھی ٹیکنالوجی نے بہت سہولیات فراہم کی ہیں، بہت سی کتب ڈیجیٹل موڈ میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جن تک رسائی پہلے عام طالب علم کے لئے نہایت مشکل تھی، بہت سی قیمتی کتب کا ذخیرہ ، احادیث کی تخریج،اور اہم علماء کے آڈیو ، ویڈیو دروس بآسانی انٹرنیٹ سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

(3) جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ آج اقوام عالم میں سب سے بڑا اور مؤثرہتھیار میڈیا ہےجس کی ہر گھر تک رسائی جدید ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے۔میڈیا جس میں ٹیلی ویژن کے چینلز ، اخبارات، ویب سائٹس شامل ہیں ، ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہے جس سے پوری قوم کے افکار ونظریات متزلزل کئے جاسکتے ہیں، ان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

اس بات سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ میڈیا کا ایک بہت بڑا حصہ ان ہاتھوں میں ہے جو اسلامی حدود و قیود ، آداب ، ضوابط سے ناواقف ہیں ، بلکہ اسلام کےنام سے خار کھاتے ہیں اور ہمہ وقت اسلامی اقدار اور اخلاق کے پرخچہ اڑانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں، اور اپنی ان کوششوں کی بدصورتی کو ’’روشن خیالی‘‘ اور ’’آزادی اظہار رائے‘‘ جیسے خوبصورت ناموں کے پیچھے چھپانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔

ہمارے بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد جن میں لڑکیوں کی اکثریت ہے کا زیادہ تر وقت ٹیلی  ویژن یا کمپیوٹر کے سامنے گزرتا ہے، اکثر مائیں اپنے بچوں کی تربیت سے جان چھڑانے کی خاطر انہیں ٹیلی ویژن پر کارٹون دکھانے میں مشغول کردیتی ہیں، اکثر نوجوان لڑکے لڑکیوں کے پاس موبائل فون، سمارٹ فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ وغیرہ موجود ہیں ، اور بدقسمتی سے اکثر والدین اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کی موبائل فون وغیرہ پر کیا مصروفیات ہیں ؟،اور ان کی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب کوئی سانحہ ہوجاتا ہے۔

ٹیلی ویژن میں دکھائے جانے والے کارٹونز اور فلموں میں ایسے کردار بنائے جاتے ہیں جو اسلامی عقائد سے بالکل متضاد ہوتے ہیں ، دیوی دیوتاؤں کی تصوراتی دنیا ، انہیں ایسے مافوق الفطرت کردار میں دکھایا جاتا ہے جن کی مرضی سے دنیا چلتی ہے، ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جو اسلامی اقدار کے منافی ہوتی ہے اور بچوں اور نوجوانوں کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور پھر وہ ویسی ہی زبان استعمال کرتے ہیں، ایسے اخلاق باختہ مناظر ہوتے ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کی حیا اور شرم کو مٹا کر رکھ دیتے ہیں ، اور پھر جب سارا دن یہ بچے اور نوجوان ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر پر یہ سب کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں تو ان کا کردار بھی ویسا ہی ہوتا ہے، پھر وہ والدین کو کسی خاطر میں نہیں لاتے، اپنی مرضی اور چاہت پر مصر ہوتے ہیں ، اطاعت اور فرمانبرداری کی حس مر چکی ہوتی ہے تو والدین کو شکایت ہوتی ہے کہ ہماری اولاد فرمانبردار نہیں !۔ اس معاملہ میں سب سے بڑے قصور وار وہ والدین ہیں جو یہ نہیں سمجھتے کہ ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر دراصل وقت گزاری کا ذریعہ نہیں بلکہ بچے کی ذہنی تربیت کا سب سے بڑا استاد ہے، بچہ جو کچھ ٹیلی ویژن میں دیکھتا ہے وہ ویسا ہی کرنے کی کوشش کرتا ہے، اگر اس نے اپنے بڑوں کے ساتھ وقت گزارا ہوتا، اپنے والدین کے ساتھ زیادہ تر وقت رہتا ، ان کی باتیں سنتا سمجھتا تو آج یقینا ان والدین کو یہ شکایت نہ ہوتی۔

انٹرنیٹ کے متعلق چند چشم کشا حقائق:

1 پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تین کروڑ سے متجاوز ہے۔

2 انٹرنیٹ صارفین میں مرد وں اور خواتین کا تناسب 70-30 کا ہے، یعنی پاکستان میں تقریبا ایک کروڑ خواتین انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں۔

380 فیصد انٹرنیٹ صارفین دن میں اوسطا دو سے تین گھنٹے انٹرنیٹ پر صرف کرتے ہیں۔

4 سوشل ویب سائٹس کے صارفین قریبا ایک کروڑ ہیں۔

5 سوشل ویب سائٹس کے صارفین میں سے دو تہائی صارفین 25 سال سے کم عمر ہیں۔[3]

ان حقائق سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کم عمر لڑکے اور لڑکیوں کی کتنی بڑی تعداد اپنا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ پر صرف کرتی ہے، اور انٹرنیٹ سے وہ سب کچھ سیکھتے ہیں جو انہیں اپنے والدین سے سیکھنا چاہئے، ان کی سوچ ، فکر، طرز گفتگومیں انٹرنیٹ کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔

  انٹرنیٹ کے چند بڑے نقصانات:

انٹرنیٹ کے یقینا بہت سے فوائد ہیں جن سے کسی کو انکار نہیں ، لیکن اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں جس سے کوئی نظریں نہیں چرا سکتا، بچوں کو انٹرنیٹ فراہم کردینا اور پھر ان کی نگرانی نہ کرنا ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہماری نوجوان نسل کی حیا کا جنازہ نکال دیا ہے۔ بچوں کی نگرانی کرنے کا ہرگز بھی یہ مقصد نہیں ہے کہ ان پربلاوجہ شک کیا جائے ، بلکہ اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بچے کو معلوم ہو کہ مجھے ہر چیز کی آزادی حاصل نہیں ۔ انٹرنیٹ کے بڑے نقصانات میں سے چند درج ذیل ہیں:

(1) عقائد میں بگاڑ اور فساد

انٹرنیٹ کے صارف کے سامنے ایک پوری دنیا کھلی ہے، وہ جو چاہے دیکھ سکتا ہے سن سکتا ہے پڑھ سکتا ہے، ہزاروں لاکھوں ویب سائٹس تک اس کی رسائی ہے، اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے دشمنان اسلام نے مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو تبدیل کرنے کا سب سے آسان اور مؤثر ذریعہ انٹرنیٹ ہی کو بھرپور استعمال کیا ہے، کسی بھی سرچ انجن میں لفظ’’GOD‘‘لکھتے ہی ہزاروں عیسائی ویب سائٹس سامنے آجاتی ہیں، اسی طرح یہودی دعوتی ویب سائٹس کی بھی مختلف زبانوں جیسے انگلش، عربی، جرمن وغیرہ میں بھرمار ہے ، ایک اندازہ کے مطابق صرف ایک مہینہ میں ان یہودی اور اسرائیلی ویب سائٹس کے زائرین کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔جہاں تک دیگر مذاہب باطلہ کی بات ہے تو ان کی بھی بےشمار دعوتی ویب سائٹس موجود ہیں ، جن میں قادیانی ، منکرین حدیث، کذاب

  مدعی نبوت جیسے یونس کذاب جس نے ہالینڈ میں نبوت کا جھوٹا دعوی کیا ہے کی ویب سائٹ موجود ہے، اسی طرح ملعون گوہر شاہی کے خلیفہ اور ماننے والوں کی ویب سائٹس بھی موجود ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ شیطانی مذہب کے پیروکار جو کہ تمام ادیان کے انکاری ہیں اور کفروالحاد کے داعی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت اور عفت وحیا ، اور محرمات کے ساتھ نکاح نہ کرنے کی پابندی کو لغو قرار دیتے ہیں ، برہنہ رہنے ، ہر قسم کی برائی کرنے اور شیطان کی عبادت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں ، ایسے شیطان کے پجاریوں کی ویب سائٹس بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔

مسلم نوجوان جو عموما ویسے بھی بدقسمتی سے اسلامی عقائد سے مکمل آگاہ نہیں اور دین سے بیزار ہےوہ ان ویب سائٹ کا براہ راست نشانہ ہے، کتنے ہی مسلم نوجوان اس قسم کی ویب سائٹس کا وزٹ کرکے اور ان کا لٹریچر پڑھ کر گمراہ ہوچکے ہیں، واللّٰہ المستعان۔

اسی طرح یہ معاملہ بھی نظر میں آتا ہے کہ بہت سے ایسے افراد دین اسلام کے احکامات ، نازک اور اہم مسائل کے بارے میں بحث ومباحثہ کرتے ہیں جو دین کا صحیح علم نہیں رکھتے ، یہ انٹرنیٹ پر مفتی کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں اور بغیر علم کے فتوے دیتے چلے جاتے ہیں ، امام البانی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں : ’’ایسے نوجوانوں کی کتنی کثرت ہوچکی ہے جو بالکل جاہل مطلق ہونے کے باوجود مسلمانوں کے اہم معاملات پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں ، اس سے میرے لئے یہ بات مزید پختہ ہوگئی ہے کہ اب وہ زمانہ ہے جس میں قیامت کی نشانیاں واضح ہونا شروع ہوچکی ہیں جن میں سے ایک نشانی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان میں ہے کہ : ایسا زمانہ آئے گا جس میں’’  رویبضہ  ‘‘ بات کیا کریں گے، صحابہ  رضی اللہ عنہم  نے پوچھا : اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ! یہ رویبضہ کون ہیں ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: وہ جاہل شخص جو مسلمانوں کے اہم معاملات پر (علم نہ ہونے کے باجود) بات کرے۔

(2)  جھوٹ بیانی اور فحش گوئی

سوشل ویب سائٹ پر ہزاروں لاکھوں اکاؤنٹس ایسے ہیں جو Fake ہیں ، اور صرف نوجوان لڑکوں یا لڑکیوں کو ورغلانے ، دھوکہ دینے کے لئے بنائے گئے ہیں ، اسی طرح فیس بک وغیرہ پر بات چیت کرتے اور کمنٹس دیتے وقت ایسی بدکلامی اور فحش گوئی کی جاتی ہے کہ کسی سچے مسلمان کی حیاء

  اسے برداشت نہیں کرسکتی، خواتین کے متعلق کمنٹس کرتے یا ان سے بات کرتے وقت ایسے الفاظ کہے جاتے ہیں جو اسلامی اخلاق تو کجا انسانیت کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں ، حیا کی چادر اتار پھینکی جاتی ہے، جبکہ پیارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:گزشتہ نبوتوں سے جو بات لوگوں تک پہنچی ہے وہ یہی ہے کہ : جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو مرضی میں آئے کرتے چلے جاؤ۔اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: حیا ایمان کا حصہ ہے۔

(3)  اخلاقی گراوٹ اور فحاشی و عریانی

انٹرنیٹ پر سوشل ویب سائٹس یعنی ’’فیس بک، ٹوئٹر، گوگل پلس ، آرکٹ‘‘ وغیرہ کے آجانے کے بعد جہاں رابطوں میں سہولت ہوئی ہے وہیں اس کے ذریعہ بہت سے شیطانی راستے بھی کھل چکے ہیں ، اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی انہی سوشل ویب سائٹس پر دوستی ہوتی ہے جو انہیں آہستہ آہستہ گناہ کی طرف مائل کرتی ہے، ان سوشل ویب سائٹس کے آجانے کے بعد کورٹ میرج کے تناسب میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے، صرف اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں سال 2010 میں 250کورٹ میرج ہوئیں ، اور سال 2011 میں یہ تعداد 350 سے متجاوز تھی[4]۔ اختر محمود ایڈوکیٹ اسلام آباد عائلی عدالت کے وکیل ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کورٹ میرج کے لئے آنے والے لڑکے لڑکیوں میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جن کی دوستی ’’فیس بک‘‘ یا ’’ٹوئٹر ‘‘ پر ہوتی ہے، اور پھر کورٹ میرج کے بعد بہت ہی کم ، شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ یہ شادیا ں برقرار رہیں، اسی طرح کئی کیس ایسے بھی ہیں جن میں ایک غیر شادی شدہ لڑکی کسی شادی شدہ مرد سے اس لئے شادی کرلیتی ہے کہ اس لڑکی کا تعلق کسی پسماندہ خاندان سے ہوتا ہے ، اور مرد امیر ہوتا ہے۔[5]

اسی طرح یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ انٹر نیٹ پر فحش مواد کتنی آسانی سے دستیاب ہے ، اور یہ فحش مواد ہماری نوجوان نسل کو اتنی بڑی تباہی کی طرف لے جارہا ہے جس کا شاید ہمیں ابھی اندازہ بھی نہیں ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق انٹرنیٹ پر تقریبا 35 کروڑ ویب سائٹس موجود ہیں ، ان میں

  سے اکثر ویب سائٹ بہت مفید بھی ہیں ، ان ویب سائٹس میں سے فحش مواد والی ویب سائٹ کا تناسب صرف 2 فیصد ہے ، لیکن بہت آسان حساب کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوسکتا ہے کہ 35 کروڑ کا 2 فیصد تقریبا 70 لاکھ بنتا ہے، یعنی انٹرنیٹ پر تقریبا 70 لاکھ فحش مواد کی حامل ویب سائٹس ہیں اور ہر تین منٹ میں ایک نئی فحش ویب سائٹ وجود میں آرہی ہے ، اور یہ جان کر یقینا آپ کو دھچکا لگے گا کہ انٹرنیٹ صارفین میں سے نوے فیصد صارفین ان 2 فیصد ویب سائٹس کا وزٹ کرتے ہیں!{ FR 1762 }۔[6]

اسی لئے دشمنان اسلام نے اس راستہ کو امت مسلمہ کے نوجوان نسل کے اخلاق تباہ کرنے اور حیا و غیرت ختم کرنے کے لئے بھرپور استعمال کیا ہے، اور خاص طور پر ایسے ادارے قائم کئے جہاں پر فحش مواد تیار کیا جاتا ہے اور ان پر کروڑوں ڈالر خرچ کئے اور اسے انٹرنیٹ پر مفت فراہم کیا تاکہ امت مسلمہ بھی اخلاقی اور سماجی سطح پر اس کھائی میں جا گرے جس میں یہ کفار گرے پڑے ہیں ، یقینا اللہ تعالی کا فرمان بالکل سچا ہے:

[ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً] [النساء:89]

ترجمہ: ’’یہ کفار چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کفر کرو جس طرح انہوں نے کفر کیا تاکہ پھر تم سب ایک جیسے ہوجاؤ‘‘۔

اور حد تو یہ ہے کہ بہت سے مسلمان بھی اس کوشش میں ان کفار کے ساتھی بنے ہوئے ہیں ، اور بہت سی ویب سائٹس کی ملکیت نام نہاد مسلمانوں کے پاس ہے، اور امت مسلمہ کے بیٹے اور بیٹیوں کی حیا کے جنازہ کو کندھا دے رہے ہیں ، ایسے ہی افراد کے بارے میں رب تعالی کا فرمان ہے کہ:

[ اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ  ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ  ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ  ] [النور:19]

ترجمہ : ’’بیشک جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے ، اور اللہ تعالی سب کچھ جانتا ہے اور تم علم نہیں رکھتے‘‘۔

(4 ) تنہائی ، اکیلا پن ، اور ادائیگی حقوق میں کوتاہی

انٹرنیٹ اور موبائل استعمال کرنے والے افراد عموما تنہائی پسند بن جاتے ہیں ، سوشل ویب سائٹ پر ان کے ہزاروں دوست ہوتے ہیں ، لیکن حقیقی زندگی میں وہ زیادہ میل جول نہیں رکھتے، اولاد کے پاس والدین کے لئے وقت نہیں ہوتا ، وہ سارا دن کمپیوٹر اور موبائل ، لیپ ٹاپ پر گزارتے ہیں، شوہر کے پاس بیوی کے لئے وقت نہیں بچتا، اکثر خواتین یہ شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ ان کے شوہر گھر آکر بھی ان کے لئے وقت نہیں نکال پاتے، ہر وقت لیپ ٹاپ یا موبائل وغیرہ پر مصروف رہتے ہیں ، ان کے پاس اپنی پرائیویسی نہیں رہتی ، کوئی بات کرنی ہو تو کسی نہ کسی کی کال یا میسج آجاتا ہے، باپ کے پاس اپنی اولاد کے لئے وقت نہیں ، بہن بھائی بھی آپس میں زیادہ بات چیت نہیں کرتے، اور یہ سب کچھ صرف اس لئے ہے ، کہ ہر ایک کے پاس کوئی کوئی نہ ڈیوائس ہے ، کسی کے پاس موبائل ہے تو کسی کے پاس لیپ ٹاپ ہے یا پھر ٹی وی تو موجود ہی ہے!۔

ایک سروےکے مطابق برطانیہ میں 1998 تک 12 سال سے کم عمر بچے اپنی ماں کے ساتھ دن میں کم از کم دس مرتبہ بات کرتے تھے ، جبکہ سال 2010 میں یہ گفتگو سکڑ کر صرف پانچ تک رہ گئی ہے، جبکہ امریکا میں تقریبا تیس فیصد بچے ایسے ہیں جو دن میں زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ اپنے والدین سے بات کرپاتے ہیں اور دس فیصد ایسے ہیں جنہیں دو دن میں ایک مرتبہ اپنے ماں باپ سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے، یا تو والدین کی مصروفیت کی وجہ سے یا پھر بچوں کی مشغولیت کی بنا پر!۔

Save Our Children نامی ایک تنظیم کے مطابق اس جدید ٹیکنالوجی نے ایک ایسی نسل کو جنم دیا ہے جو تنہائی کا شکار ہے اور سماجی تعلقات نبھانا نہیں جانتی، اسی طرح اس تنظیم کے تحت ایک سروے کیا گیا جس میں اساتذہ سے سوالات کئے گئے ، اساتذہ میں سے ستر فیصد کا یہ کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر دیر تک اور طویل وقت صرف کرنے سے طلبہ کی سماجی اور تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں۔[7]

پاکستان میں بھی یہ حالت کوئی بہت اچھی نہیں ہے، اگرچہ اس حوالہ سے کوئی مستند سروے میرے

 علم میں نہیں لیکن ہمارے ہاں بھی والدین اور بچوں کی کم وبیش یہی صورتحال ہے ، بچوں کو کمپیوٹر ، موبائل گیم یا انٹرنیٹ سے فرصت نہیں ، ماں کو ڈراموں سے اور باپ کو اپنی جاب یا پھر موبائل اور انٹرنیٹ کے دوستوں سے۔بچوں کی صحیح تربیت، رشتے داروں سے صلہ رحمی کا معاملہ اور میاں بیوی کے حقوق کی ادائیگی کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے جس سے ہمارا معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ اسلامی روایات اور دینداری سے دور ہوتا جارہا ہے، رشتہ داریاں اور خاندانی نظام ختم ہوتا جارہا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے : ’’قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘[8]، بزرگوں کا ادب مٹ چکا ہے، جبکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: اس شخص کا ہم سے کوئی تعلق نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا ادب نہ کرے‘‘[9]۔

(5)  جسمانی اور نفسیاتی صحت پر اثرات

ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن (WHO) نے بالکل واضح طور پر یہ بات کہی ہے کہ WiFi ، موبائل ، لیپ ٹاپ ، آئی پیڈ کا زیادہ استعمال صحت کے لئے انتہائی خطرہ کا باعث ہے اور اس سے کینسر ، دماغی ٹیومر، Autism (ایک قسم کا دماغی مرض)، شوگر، دائمی تھکاوٹ، تیز بخاراور ڈپریشن جیسی خطرناک بیماریوں کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 1980ء سے جب ٹیکنالوجی کا استعمال شروع ہوا ہے اس وقت سے لے کر آج تک کروڑوں افراد کی صحت ان اشیاء سے متاثر ہوئی ہے اور بیماریوں کا پھیلاؤ بہت تیزی سے بڑھا ہے، یہ یقینا محض ایک اتفاق نہیں ہے کہ آج شوگر کے مریضوں کی تعداد بائیس کروڑ سے زیادہ ہے اور جو کہ ایک اندازہ کے مطابق 2030 تک چالیس کروڑ سے بڑھ جائے گی، پوری دنیا میں بیس کروڑ سے زائد افراد فوڈ الرجی کا شکار ہیں ، یہ تعداد گزشتہ بیس سالوں میں 6000%فیصد بڑھی ہے۔ دنیا میں 80 فیصد لوگ بے خوابی یا نیند کی کمی کا شکار ہیں، صرف امریکا میں تقریبا ایک کروڑ افراد ADHD (Attention Deficit Hypersensitivity Disorder) کے

 مرض کا شکار ہیں ، موبائل کی ریڈی ایشن سے بھی صحت کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے ، ہیڈ فون سے سماعت ، اور سکرین کی ریز سے بصارت متاثر ہوتی ہے اور یہ تمام مسائل اس وقت بڑھ جاتے ہیں جب ان اشیاء کا استعمال کثرت کے ساتھ کیا جائے۔[10]

(4 ) جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرا ت سے بچاؤ کا طریقہ اور علاج

جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات بیان کرنے کا ہرگز بھی یہ مقصد نہیں ہے کہ اس کا استعمال ترک کردیا جائے ، چھری کی تیز دھار سے خود کو محفوظ رکھنے کی نصیحت کرنے والے کا یقینا یہ مقصد نہیں ہوگا کہ چھری کا استعمال روک دیا جائے، بلکہ مقصد صرف یہی ہوگا کہ خود کو نقصان سے محفوظ رکھا جائے، ہمارا بھی یہی مقصد ہے کہ جدید ٹیکنالوجی یقینا انتہائی مفید ہے البتہ اس کے ضرر کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ، اور عقلمند شخص وہی ہے جو مفید چیز کا استعمال کرے اور ضرر سے خود کو بچا کر رکھے۔

جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچنے کے لئے اصل ذمہ داری گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے ، ہر گھر کا ایک سربراہ ہوتا ہے جو گھر کے معاملات میں فیصلہ کا اختیار رکھتا ہے ، وہ والد بھی ہوسکتا ہے اور بڑا بھائی یا کوئی اوربھی، بہرحال جو بھی گھر کا سربراہ ہے اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ گھر کے افراد کو جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچانے کے لئے اقدامات کرے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا} [التحريم: 6]

 ترجمہ : ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچاؤ‘‘

 یعنی یہ گھر کے سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر والوں کی تربیت کا اہتمام کرے، اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

" كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،... وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،[11]

ترجمہ: ’’تم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی نگہبانی کے متعلق پوچھا

 جائےگا۔اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی نگہبانی کے متعلق پوچھا جائے گا‘‘۔

گھر کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کو چاہئے کہ گھر کے کچھ اصول و ضوابط مقرر کریں ، کچھ اہم اصول یہ ہیں:

·  گھر کے تمام افراد کم از کم ایک وقت کا کھانا اکٹھے بیٹھ کر کھائیں ، اور اس وقت تمام ڈیوائسز یعنی ٹی وی ، موبائل ، کمپیوٹر وغیرہ کو بند کردیا جائے ، تاکہ گھر والے ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کر سکیں۔

·    گھر کی تمام ڈیواسز خصوصا وہ ڈیوائس جو بچوں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کے پاس ہو ، جیسے لیپ ٹاپ کمپیوٹر وغیرہ ، ان پر Parental Control کا انتظام کریں اور اس میں ایسے سوفٹ وئیرانسٹال کر دیں جو غلط مواد کی دستیابی کو روک سکے۔

·    کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ کے استعمال کے اوقات مقرر کریں ، خود بھی اس کی پابندی کریں اور بچوں کو بھی اس کا پابند کریں۔

·    بچوں کو لیپ ٹاپ ، کمپیوٹر، آئی پیڈ اور سمارٹ فون وغیرہ کے مفید استعمال کی ترغیب دیں ، ان ڈیوائسز پر ان کی ایسی مصروفیت کا انتظام کریں جو آگے چل کر ان کے کام بھی آئے اور انہیں غلط استعمال کی طرف جانے سے روکے۔

·    صرف انتہائی ضرورت کی صورت میں بچوں کو موبائل لے کردیں۔ اسی طرح ایسی تمام ڈیوائسز جن کی اشد ضرورت نہ ہو اسے گھر میں نہ لائیں۔

·    بچوں ، نوجوان لڑکے لڑکیوں کی دینی تربیت کا خصوصی انتظام کریں ، یہ ایک ایسا پہلو ہے جس کی طرف آپ کی انتہائی توجہ ہونی چاہئے، اگر بچوں کی دینی تربیت نہ کی گئی تو لامحالہ ان کے عقائد و اخلاق میں بگاڑ اور خرابی کا اندیشہ ہے۔

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو عصر حاضرکے فتنوں سے محفوظ فرمائے ۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمدلله رب العالمين

 



[1] مدیر المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی

[2] مسند احمد: 17988

[3] Tribune.com.pk

[4] ڈان نیوز 8 اگست 2011 ،

[5] ڈان نیوز 8 اگست 2011

[6]اسرہ میگزین (عرب امارات) شمارہ نمبر 151

[7] اہرام مصری میگزین جولائی 2007

[8] صحیح بخاری ، صحیح مسلم

[9] جامع ترمذی 1921

[10] Technology health effects. (Matthew Silverstone)

 

[11] صحیح بخاری 893

Read 127 times
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

جدید ٹیکنالوجی کے ہمارے معاشرہ پر اثرات

عثمان صفدر[1]

(1) اسلام میں علم کی اہمیت

مغربی مفکرین کے لئے یہ بات ناقابل یقین ہوگی کہ دین میں دنیاوی علم کی گنجائش بھی ہوسکتی ہے، یا دین میں دنیاوی علم کی کوئی اہمیت ہوگی، کیونکہ اہل مغرب جس دین سے واقف ہیں اس کی سب سے معتبر کتاب بائبل میں وہ یہ پڑھتے ہیں کہ آدم  علیہ السلام  کو جنت میں جس درخت کے قریب جانے سے منع کیا گیا تھا وہ علم و معرفت کا درخت تھا ، اور جب آدم  علیہ السلام  نے اس درخت کا پھل کھا لیا اور ان کی بصیرت میں اضافہ ہوگیا تو اللہ تعالی ان پر ناراض ہوا اور انہیں جنت سے بے دخل کردیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل یورپ دو صدیوں تک اسی کشمکش میں مبتلا رہے کہ ان سائنسی علوم و فنون کو سیکھا جائے یا انہیں گناہ سمجھ کر رد کردیا جائے، کیونکہ ان کےمذہبی رہنماؤں نے ان علوم کو گناہ قرار دیا تھا ، اور جو بھی ان علوم کی طرف متوجہ ہوتا تو اسے کلیسا کی طرف سے عبرتناک سزا دی جاتی، اس کا منطقی رد عمل یہ ہوا کہ  اہل مغرب نے مذہب کو چند رسومات کی شکل میں گرجا گھر کی چار دیواری تک محدود کردیا اور زندگی کے باقی تمام شعبہ جات یعنی سیاست، ثقافت، رسوم ورواج اور علوم وفنون کو دین و مذہب سے جدا کردیا ۔

لیکن دین اسلام کی تو ابتداء ہی ’’اقرأ‘‘سے ہے ، قرآن مجید کی 570 آیات میں اللہ تعالی نے دنیا پر غور وفکر کی دعوت دی :

[اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ] [آل عمران:190]

’’ بیشک آسمان و زمین کی تخلیق اور رات ودن کے پھرنے میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

[وَمِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ           ؀] [الروم:22]

ترجمہ: اور اس (اللہ ) کی آیات میں زمین و آسمان کی تخلیق اور تمہاری زبان اور رنگوں کا مختلف ہونا ہے، بیشک اس میں علم والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرامین میں بھی تحصیل علم کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے، سنن ابن ماجہ کی حسن حدیث ہے کہ :طلب علم ہر مسلمان پر فرض ہے"۔ اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :

"تَدَاوَوْا؛ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنَزِّلْ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً, عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَھلَهُ مَنْ جَھلَهُ" [2]

ترجمہ:’’مرض کی دوا کا اہتمام کیا کرو، کیونکہ اللہ تعالی نے ہر بیماری کے لئے دوا رکھی ہے، جس نے جان لیا سو جان لیا ، جو لاعلم رہا سو لاعلم رہا‘‘۔ اس حدیث میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے طب کوبھی علم قرار دیا۔

تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اسلام دراصل پانچ چیزوں کی حفاظت کے لئے نازل ہوا جسے اصطلاح میں ضروریات خمسہ کہا جاتا ہے، یعنی : دین ، جان ، عزت ، مال اور عقل۔ان پانچ چیزوں کی حفاظت کے لئے دنیاوی علم کی اہمیت یقینا کسی اہل دانش سے مخفی نہ ہوگی۔

غرضیکہ اسلام نہ صرف جدید دنیاوی و سائنسی علوم کی اپنے اندر گنجائش رکھتا ہے بلکہ اہل اسلام کو اس کی اہمیت سے باخبر بھی کرتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج کی تمام ٹیکنالوجی کا بنیادی سہرامسلمان سائنسدانوں ہی کے سر بندھتا ہے۔

آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں یہ جدید ٹیکنا لوجی کا دور ہے، اور ٹیکنالوجی کی اہمیت سے کوئی باشعور شخص انکار نہیں کرسکتا، انسانی زندگی کا کوئی شعبہ اس ٹیکنالوجی سے خالی نہیں رہا، چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا کھیل کا ، زراعت ہو یا صنعت و تجارت ، طب کا شعبہ ہو یا میدان جنگ ہو،لباس، کھانا، سفر ، سواری،رہن سہن غرضیکہ صبح بستر سے اٹھنے سے لے کر دوبارہ بستر پر جانے تک انسان ٹیکنالوجی میں گھرا ہے ۔

اس ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو تو بہت آسان بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے ہماری طرز زندگی پر بڑے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں ، ہماری سوچ وفکر، گفتگو، تہذیب و ثقافت کو بدل کررکھ دیا ہے، یہ اثرات مثبت بھی ہیں اور منفی بھی ہیں۔

(2) جدید ٹیکنالوجی کے مثبت اثرات

ٹیکنالوجی دنیا میں آئی اور اس نے انسان کو اپنا عادی بنا لیا، اب انسان ٹیکنالوجی کا عادی ہو چکا ہے اور اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے لئے آسانی ڈھونڈتا رہا ہے اور اس مقصد کے لئے طرح طرح کی نئی ٹیکنالوجی تیار کر لی۔ہماری زندگی میں ایجادات کا سلسلہ جاری ہے روزانہ بیسیوں چیزیں ایسی دیکھنے میں آتی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات مثلاً زراعت، توانائی، تجارت، سفر اور رابطوں کے لئے ٹیکنالوجی نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر زرعی پیداوار کے لئے زرعی مشینری، توانائی کے حصول کےلئے جدید نیوکلر، شمسی اور ہوا کی توانائی کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔انسان نے زمین سے اپنے سفر کا سلسلہ گھوڑے اور خچر سے شروع کیا اور اب جدید دور میں گاڑی، ریل گاڑی اور ہوائی جہاز پر سفر کر رہا ہے۔جدید دور کے انٹرنیٹ نے برقی پیغامات یعنی ای میل اور چیٹ کے ذریعے پیغام رسانی کو آسان بنا دیا ہے اور اس طرح انسانوں کے درمیان دوریاں ختم ہو گئی ہیں۔ انسان دنیا میں کہیں بھی بیٹھا ہو، اپنے کسی بھی عزیز سے ای میل اور چیٹنگ اور وائس چیٹ کے ذریعے بات چیت کر سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی نے دوریوں اور فاصلوں کوختم کر دیا ہے۔ موبائل فون جدید دور کی اہم ٹیکنالوجی ہے۔ دور حاضر کی اس جدیدٹیکنالوجی نے انسانی رابطوں کے سلسلے کو آسان بنا دیا ہے اور مسلمان کے لئے   صلہ رحمی اور رشتہ داری نبھانا ، دور دراز کے رشتہ داروں کے حالات سے باخبر رہنا آسان ہوگیا ہے۔

انسان نے کمپیوٹرٹیکنالوجی کو ایجاد کر کے اپنے بیشتر مسائل کوحل کر لیا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں کمپیوٹر اہم جز بن گیا ہے۔اکیسویں صدی کی زندگی میں کمپیوٹر بہت اہمیت رکھتاہے۔ حساب کتاب، ڈیزائننگ، اردو اور انگلش ٹائپنگ، موبائل، ویب اور دیگرسوفٹ ویئرز نے متعدد معاملات کو آسان بنا دیا ہے، سوفٹ ویئرز کے آنے سے پہلے ان معاملات کوحل کرنے میں بہت مشکلات پیدا ہوتی تھیں۔

اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی بدولت گھر بیٹھے کاروباری لین دین بھی آسان ہو گئی ہے۔ یونیورسٹیز میں ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن تعلیم کا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، اب جو لوگ کاروبار کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ آن لائن تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ دینی تعلیم کے میدان میں بھی ٹیکنالوجی نے بہت سہولیات فراہم کی ہیں، بہت سی کتب ڈیجیٹل موڈ میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جن تک رسائی پہلے عام طالب علم کے لئے نہایت مشکل تھی، بہت سی قیمتی کتب کا ذخیرہ ، احادیث کی تخریج،اور اہم علماء کے آڈیو ، ویڈیو دروس بآسانی انٹرنیٹ سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

(3) جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ آج اقوام عالم میں سب سے بڑا اور مؤثرہتھیار میڈیا ہےجس کی ہر گھر تک رسائی جدید ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے۔میڈیا جس میں ٹیلی ویژن کے چینلز ، اخبارات، ویب سائٹس شامل ہیں ، ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہے جس سے پوری قوم کے افکار ونظریات متزلزل کئے جاسکتے ہیں، ان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

اس بات سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ میڈیا کا ایک بہت بڑا حصہ ان ہاتھوں میں ہے جو اسلامی حدود و قیود ، آداب ، ضوابط سے ناواقف ہیں ، بلکہ اسلام کےنام سے خار کھاتے ہیں اور ہمہ وقت اسلامی اقدار اور اخلاق کے پرخچہ اڑانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں، اور اپنی ان کوششوں کی بدصورتی کو ’’روشن خیالی‘‘ اور ’’آزادی اظہار رائے‘‘ جیسے خوبصورت ناموں کے پیچھے چھپانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔

ہمارے بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد جن میں لڑکیوں کی اکثریت ہے کا زیادہ تر وقت ٹیلی  ویژن یا کمپیوٹر کے سامنے گزرتا ہے، اکثر مائیں اپنے بچوں کی تربیت سے جان چھڑانے کی خاطر انہیں ٹیلی ویژن پر کارٹون دکھانے میں مشغول کردیتی ہیں، اکثر نوجوان لڑکے لڑکیوں کے پاس موبائل فون، سمارٹ فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ وغیرہ موجود ہیں ، اور بدقسمتی سے اکثر والدین اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کی موبائل فون وغیرہ پر کیا مصروفیات ہیں ؟،اور ان کی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب کوئی سانحہ ہوجاتا ہے۔

ٹیلی ویژن میں دکھائے جانے والے کارٹونز اور فلموں میں ایسے کردار بنائے جاتے ہیں جو اسلامی عقائد سے بالکل متضاد ہوتے ہیں ، دیوی دیوتاؤں کی تصوراتی دنیا ، انہیں ایسے مافوق الفطرت کردار میں دکھایا جاتا ہے جن کی مرضی سے دنیا چلتی ہے، ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جو اسلامی اقدار کے منافی ہوتی ہے اور بچوں اور نوجوانوں کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور پھر وہ ویسی ہی زبان استعمال کرتے ہیں، ایسے اخلاق باختہ مناظر ہوتے ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کی حیا اور شرم کو مٹا کر رکھ دیتے ہیں ، اور پھر جب سارا دن یہ بچے اور نوجوان ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر پر یہ سب کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں تو ان کا کردار بھی ویسا ہی ہوتا ہے، پھر وہ والدین کو کسی خاطر میں نہیں لاتے، اپنی مرضی اور چاہت پر مصر ہوتے ہیں ، اطاعت اور فرمانبرداری کی حس مر چکی ہوتی ہے تو والدین کو شکایت ہوتی ہے کہ ہماری اولاد فرمانبردار نہیں !۔ اس معاملہ میں سب سے بڑے قصور وار وہ والدین ہیں جو یہ نہیں سمجھتے کہ ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر دراصل وقت گزاری کا ذریعہ نہیں بلکہ بچے کی ذہنی تربیت کا سب سے بڑا استاد ہے، بچہ جو کچھ ٹیلی ویژن میں دیکھتا ہے وہ ویسا ہی کرنے کی کوشش کرتا ہے، اگر اس نے اپنے بڑوں کے ساتھ وقت گزارا ہوتا، اپنے والدین کے ساتھ زیادہ تر وقت رہتا ، ان کی باتیں سنتا سمجھتا تو آج یقینا ان والدین کو یہ شکایت نہ ہوتی۔

انٹرنیٹ کے متعلق چند چشم کشا حقائق:

1 پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تین کروڑ سے متجاوز ہے۔

2 انٹرنیٹ صارفین میں مرد وں اور خواتین کا تناسب 70-30 کا ہے، یعنی پاکستان میں تقریبا ایک کروڑ خواتین انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں۔

380 فیصد انٹرنیٹ صارفین دن میں اوسطا دو سے تین گھنٹے انٹرنیٹ پر صرف کرتے ہیں۔

4 سوشل ویب سائٹس کے صارفین قریبا ایک کروڑ ہیں۔

5 سوشل ویب سائٹس کے صارفین میں سے دو تہائی صارفین 25 سال سے کم عمر ہیں۔[3]

ان حقائق سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کم عمر لڑکے اور لڑکیوں کی کتنی بڑی تعداد اپنا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ پر صرف کرتی ہے، اور انٹرنیٹ سے وہ سب کچھ سیکھتے ہیں جو انہیں اپنے والدین سے سیکھنا چاہئے، ان کی سوچ ، فکر، طرز گفتگومیں انٹرنیٹ کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔

  انٹرنیٹ کے چند بڑے نقصانات:

انٹرنیٹ کے یقینا بہت سے فوائد ہیں جن سے کسی کو انکار نہیں ، لیکن اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں جس سے کوئی نظریں نہیں چرا سکتا، بچوں کو انٹرنیٹ فراہم کردینا اور پھر ان کی نگرانی نہ کرنا ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہماری نوجوان نسل کی حیا کا جنازہ نکال دیا ہے۔ بچوں کی نگرانی کرنے کا ہرگز بھی یہ مقصد نہیں ہے کہ ان پربلاوجہ شک کیا جائے ، بلکہ اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بچے کو معلوم ہو کہ مجھے ہر چیز کی آزادی حاصل نہیں ۔ انٹرنیٹ کے بڑے نقصانات میں سے چند درج ذیل ہیں:

(1) عقائد میں بگاڑ اور فساد

انٹرنیٹ کے صارف کے سامنے ایک پوری دنیا کھلی ہے، وہ جو چاہے دیکھ سکتا ہے سن سکتا ہے پڑھ سکتا ہے، ہزاروں لاکھوں ویب سائٹس تک اس کی رسائی ہے، اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے دشمنان اسلام نے مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو تبدیل کرنے کا سب سے آسان اور مؤثر ذریعہ انٹرنیٹ ہی کو بھرپور استعمال کیا ہے، کسی بھی سرچ انجن میں لفظ’’GOD‘‘لکھتے ہی ہزاروں عیسائی ویب سائٹس سامنے آجاتی ہیں، اسی طرح یہودی دعوتی ویب سائٹس کی بھی مختلف زبانوں جیسے انگلش، عربی، جرمن وغیرہ میں بھرمار ہے ، ایک اندازہ کے مطابق صرف ایک مہینہ میں ان یہودی اور اسرائیلی ویب سائٹس کے زائرین کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔جہاں تک دیگر مذاہب باطلہ کی بات ہے تو ان کی بھی بےشمار دعوتی ویب سائٹس موجود ہیں ، جن میں قادیانی ، منکرین حدیث، کذاب

  مدعی نبوت جیسے یونس کذاب جس نے ہالینڈ میں نبوت کا جھوٹا دعوی کیا ہے کی ویب سائٹ موجود ہے، اسی طرح ملعون گوہر شاہی کے خلیفہ اور ماننے والوں کی ویب سائٹس بھی موجود ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ شیطانی مذہب کے پیروکار جو کہ تمام ادیان کے انکاری ہیں اور کفروالحاد کے داعی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت اور عفت وحیا ، اور محرمات کے ساتھ نکاح نہ کرنے کی پابندی کو لغو قرار دیتے ہیں ، برہنہ رہنے ، ہر قسم کی برائی کرنے اور شیطان کی عبادت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں ، ایسے شیطان کے پجاریوں کی ویب سائٹس بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔

مسلم نوجوان جو عموما ویسے بھی بدقسمتی سے اسلامی عقائد سے مکمل آگاہ نہیں اور دین سے بیزار ہےوہ ان ویب سائٹ کا براہ راست نشانہ ہے، کتنے ہی مسلم نوجوان اس قسم کی ویب سائٹس کا وزٹ کرکے اور ان کا لٹریچر پڑھ کر گمراہ ہوچکے ہیں، واللّٰہ المستعان۔

اسی طرح یہ معاملہ بھی نظر میں آتا ہے کہ بہت سے ایسے افراد دین اسلام کے احکامات ، نازک اور اہم مسائل کے بارے میں بحث ومباحثہ کرتے ہیں جو دین کا صحیح علم نہیں رکھتے ، یہ انٹرنیٹ پر مفتی کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں اور بغیر علم کے فتوے دیتے چلے جاتے ہیں ، امام البانی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں : ’’ایسے نوجوانوں کی کتنی کثرت ہوچکی ہے جو بالکل جاہل مطلق ہونے کے باوجود مسلمانوں کے اہم معاملات پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں ، اس سے میرے لئے یہ بات مزید پختہ ہوگئی ہے کہ اب وہ زمانہ ہے جس میں قیامت کی نشانیاں واضح ہونا شروع ہوچکی ہیں جن میں سے ایک نشانی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان میں ہے کہ : ایسا زمانہ آئے گا جس میں’’  رویبضہ  ‘‘ بات کیا کریں گے، صحابہ  رضی اللہ عنہم  نے پوچھا : اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ! یہ رویبضہ کون ہیں ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: وہ جاہل شخص جو مسلمانوں کے اہم معاملات پر (علم نہ ہونے کے باجود) بات کرے۔

(2)  جھوٹ بیانی اور فحش گوئی

سوشل ویب سائٹ پر ہزاروں لاکھوں اکاؤنٹس ایسے ہیں جو Fake ہیں ، اور صرف نوجوان لڑکوں یا لڑکیوں کو ورغلانے ، دھوکہ دینے کے لئے بنائے گئے ہیں ، اسی طرح فیس بک وغیرہ پر بات چیت کرتے اور کمنٹس دیتے وقت ایسی بدکلامی اور فحش گوئی کی جاتی ہے کہ کسی سچے مسلمان کی حیاء

  اسے برداشت نہیں کرسکتی، خواتین کے متعلق کمنٹس کرتے یا ان سے بات کرتے وقت ایسے الفاظ کہے جاتے ہیں جو اسلامی اخلاق تو کجا انسانیت کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں ، حیا کی چادر اتار پھینکی جاتی ہے، جبکہ پیارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:گزشتہ نبوتوں سے جو بات لوگوں تک پہنچی ہے وہ یہی ہے کہ : جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو مرضی میں آئے کرتے چلے جاؤ۔اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: حیا ایمان کا حصہ ہے۔

(3)  اخلاقی گراوٹ اور فحاشی و عریانی

انٹرنیٹ پر سوشل ویب سائٹس یعنی ’’فیس بک، ٹوئٹر، گوگل پلس ، آرکٹ‘‘ وغیرہ کے آجانے کے بعد جہاں رابطوں میں سہولت ہوئی ہے وہیں اس کے ذریعہ بہت سے شیطانی راستے بھی کھل چکے ہیں ، اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی انہی سوشل ویب سائٹس پر دوستی ہوتی ہے جو انہیں آہستہ آہستہ گناہ کی طرف مائل کرتی ہے، ان سوشل ویب سائٹس کے آجانے کے بعد کورٹ میرج کے تناسب میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے، صرف اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں سال 2010 میں 250کورٹ میرج ہوئیں ، اور سال 2011 میں یہ تعداد 350 سے متجاوز تھی[4]۔ اختر محمود ایڈوکیٹ اسلام آباد عائلی عدالت کے وکیل ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کورٹ میرج کے لئے آنے والے لڑکے لڑکیوں میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جن کی دوستی ’’فیس بک‘‘ یا ’’ٹوئٹر ‘‘ پر ہوتی ہے، اور پھر کورٹ میرج کے بعد بہت ہی کم ، شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ یہ شادیا ں برقرار رہیں، اسی طرح کئی کیس ایسے بھی ہیں جن میں ایک غیر شادی شدہ لڑکی کسی شادی شدہ مرد سے اس لئے شادی کرلیتی ہے کہ اس لڑکی کا تعلق کسی پسماندہ خاندان سے ہوتا ہے ، اور مرد امیر ہوتا ہے۔[5]

اسی طرح یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ انٹر نیٹ پر فحش مواد کتنی آسانی سے دستیاب ہے ، اور یہ فحش مواد ہماری نوجوان نسل کو اتنی بڑی تباہی کی طرف لے جارہا ہے جس کا شاید ہمیں ابھی اندازہ بھی نہیں ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق انٹرنیٹ پر تقریبا 35 کروڑ ویب سائٹس موجود ہیں ، ان میں

  سے اکثر ویب سائٹ بہت مفید بھی ہیں ، ان ویب سائٹس میں سے فحش مواد والی ویب سائٹ کا تناسب صرف 2 فیصد ہے ، لیکن بہت آسان حساب کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوسکتا ہے کہ 35 کروڑ کا 2 فیصد تقریبا 70 لاکھ بنتا ہے، یعنی انٹرنیٹ پر تقریبا 70 لاکھ فحش مواد کی حامل ویب سائٹس ہیں اور ہر تین منٹ میں ایک نئی فحش ویب سائٹ وجود میں آرہی ہے ، اور یہ جان کر یقینا آپ کو دھچکا لگے گا کہ انٹرنیٹ صارفین میں سے نوے فیصد صارفین ان 2 فیصد ویب سائٹس کا وزٹ کرتے ہیں!{ FR 1762 }۔[6]

اسی لئے دشمنان اسلام نے اس راستہ کو امت مسلمہ کے نوجوان نسل کے اخلاق تباہ کرنے اور حیا و غیرت ختم کرنے کے لئے بھرپور استعمال کیا ہے، اور خاص طور پر ایسے ادارے قائم کئے جہاں پر فحش مواد تیار کیا جاتا ہے اور ان پر کروڑوں ڈالر خرچ کئے اور اسے انٹرنیٹ پر مفت فراہم کیا تاکہ امت مسلمہ بھی اخلاقی اور سماجی سطح پر اس کھائی میں جا گرے جس میں یہ کفار گرے پڑے ہیں ، یقینا اللہ تعالی کا فرمان بالکل سچا ہے:

[ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً] [النساء:89]

ترجمہ: ’’یہ کفار چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کفر کرو جس طرح انہوں نے کفر کیا تاکہ پھر تم سب ایک جیسے ہوجاؤ‘‘۔

اور حد تو یہ ہے کہ بہت سے مسلمان بھی اس کوشش میں ان کفار کے ساتھی بنے ہوئے ہیں ، اور بہت سی ویب سائٹس کی ملکیت نام نہاد مسلمانوں کے پاس ہے، اور امت مسلمہ کے بیٹے اور بیٹیوں کی حیا کے جنازہ کو کندھا دے رہے ہیں ، ایسے ہی افراد کے بارے میں رب تعالی کا فرمان ہے کہ:

[ اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ  ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ  ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ  ] [النور:19]

ترجمہ : ’’بیشک جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے ، اور اللہ تعالی سب کچھ جانتا ہے اور تم علم نہیں رکھتے‘‘۔

(4 ) تنہائی ، اکیلا پن ، اور ادائیگی حقوق میں کوتاہی

انٹرنیٹ اور موبائل استعمال کرنے والے افراد عموما تنہائی پسند بن جاتے ہیں ، سوشل ویب سائٹ پر ان کے ہزاروں دوست ہوتے ہیں ، لیکن حقیقی زندگی میں وہ زیادہ میل جول نہیں رکھتے، اولاد کے پاس والدین کے لئے وقت نہیں ہوتا ، وہ سارا دن کمپیوٹر اور موبائل ، لیپ ٹاپ پر گزارتے ہیں، شوہر کے پاس بیوی کے لئے وقت نہیں بچتا، اکثر خواتین یہ شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ ان کے شوہر گھر آکر بھی ان کے لئے وقت نہیں نکال پاتے، ہر وقت لیپ ٹاپ یا موبائل وغیرہ پر مصروف رہتے ہیں ، ان کے پاس اپنی پرائیویسی نہیں رہتی ، کوئی بات کرنی ہو تو کسی نہ کسی کی کال یا میسج آجاتا ہے، باپ کے پاس اپنی اولاد کے لئے وقت نہیں ، بہن بھائی بھی آپس میں زیادہ بات چیت نہیں کرتے، اور یہ سب کچھ صرف اس لئے ہے ، کہ ہر ایک کے پاس کوئی کوئی نہ ڈیوائس ہے ، کسی کے پاس موبائل ہے تو کسی کے پاس لیپ ٹاپ ہے یا پھر ٹی وی تو موجود ہی ہے!۔

ایک سروےکے مطابق برطانیہ میں 1998 تک 12 سال سے کم عمر بچے اپنی ماں کے ساتھ دن میں کم از کم دس مرتبہ بات کرتے تھے ، جبکہ سال 2010 میں یہ گفتگو سکڑ کر صرف پانچ تک رہ گئی ہے، جبکہ امریکا میں تقریبا تیس فیصد بچے ایسے ہیں جو دن میں زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ اپنے والدین سے بات کرپاتے ہیں اور دس فیصد ایسے ہیں جنہیں دو دن میں ایک مرتبہ اپنے ماں باپ سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے، یا تو والدین کی مصروفیت کی وجہ سے یا پھر بچوں کی مشغولیت کی بنا پر!۔

Save Our Children نامی ایک تنظیم کے مطابق اس جدید ٹیکنالوجی نے ایک ایسی نسل کو جنم دیا ہے جو تنہائی کا شکار ہے اور سماجی تعلقات نبھانا نہیں جانتی، اسی طرح اس تنظیم کے تحت ایک سروے کیا گیا جس میں اساتذہ سے سوالات کئے گئے ، اساتذہ میں سے ستر فیصد کا یہ کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر دیر تک اور طویل وقت صرف کرنے سے طلبہ کی سماجی اور تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں۔[7]

پاکستان میں بھی یہ حالت کوئی بہت اچھی نہیں ہے، اگرچہ اس حوالہ سے کوئی مستند سروے میرے

 علم میں نہیں لیکن ہمارے ہاں بھی والدین اور بچوں کی کم وبیش یہی صورتحال ہے ، بچوں کو کمپیوٹر ، موبائل گیم یا انٹرنیٹ سے فرصت نہیں ، ماں کو ڈراموں سے اور باپ کو اپنی جاب یا پھر موبائل اور انٹرنیٹ کے دوستوں سے۔بچوں کی صحیح تربیت، رشتے داروں سے صلہ رحمی کا معاملہ اور میاں بیوی کے حقوق کی ادائیگی کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے جس سے ہمارا معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ اسلامی روایات اور دینداری سے دور ہوتا جارہا ہے، رشتہ داریاں اور خاندانی نظام ختم ہوتا جارہا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے : ’’قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘[8]، بزرگوں کا ادب مٹ چکا ہے، جبکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: اس شخص کا ہم سے کوئی تعلق نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا ادب نہ کرے‘‘[9]۔

(5)  جسمانی اور نفسیاتی صحت پر اثرات

ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن (WHO) نے بالکل واضح طور پر یہ بات کہی ہے کہ WiFi ، موبائل ، لیپ ٹاپ ، آئی پیڈ کا زیادہ استعمال صحت کے لئے انتہائی خطرہ کا باعث ہے اور اس سے کینسر ، دماغی ٹیومر، Autism (ایک قسم کا دماغی مرض)، شوگر، دائمی تھکاوٹ، تیز بخاراور ڈپریشن جیسی خطرناک بیماریوں کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 1980ء سے جب ٹیکنالوجی کا استعمال شروع ہوا ہے اس وقت سے لے کر آج تک کروڑوں افراد کی صحت ان اشیاء سے متاثر ہوئی ہے اور بیماریوں کا پھیلاؤ بہت تیزی سے بڑھا ہے، یہ یقینا محض ایک اتفاق نہیں ہے کہ آج شوگر کے مریضوں کی تعداد بائیس کروڑ سے زیادہ ہے اور جو کہ ایک اندازہ کے مطابق 2030 تک چالیس کروڑ سے بڑھ جائے گی، پوری دنیا میں بیس کروڑ سے زائد افراد فوڈ الرجی کا شکار ہیں ، یہ تعداد گزشتہ بیس سالوں میں 6000%فیصد بڑھی ہے۔ دنیا میں 80 فیصد لوگ بے خوابی یا نیند کی کمی کا شکار ہیں، صرف امریکا میں تقریبا ایک کروڑ افراد ADHD (Attention Deficit Hypersensitivity Disorder) کے

 مرض کا شکار ہیں ، موبائل کی ریڈی ایشن سے بھی صحت کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے ، ہیڈ فون سے سماعت ، اور سکرین کی ریز سے بصارت متاثر ہوتی ہے اور یہ تمام مسائل اس وقت بڑھ جاتے ہیں جب ان اشیاء کا استعمال کثرت کے ساتھ کیا جائے۔[10]

(4 ) جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرا ت سے بچاؤ کا طریقہ اور علاج

جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات بیان کرنے کا ہرگز بھی یہ مقصد نہیں ہے کہ اس کا استعمال ترک کردیا جائے ، چھری کی تیز دھار سے خود کو محفوظ رکھنے کی نصیحت کرنے والے کا یقینا یہ مقصد نہیں ہوگا کہ چھری کا استعمال روک دیا جائے، بلکہ مقصد صرف یہی ہوگا کہ خود کو نقصان سے محفوظ رکھا جائے، ہمارا بھی یہی مقصد ہے کہ جدید ٹیکنالوجی یقینا انتہائی مفید ہے البتہ اس کے ضرر کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ، اور عقلمند شخص وہی ہے جو مفید چیز کا استعمال کرے اور ضرر سے خود کو بچا کر رکھے۔

جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچنے کے لئے اصل ذمہ داری گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے ، ہر گھر کا ایک سربراہ ہوتا ہے جو گھر کے معاملات میں فیصلہ کا اختیار رکھتا ہے ، وہ والد بھی ہوسکتا ہے اور بڑا بھائی یا کوئی اوربھی، بہرحال جو بھی گھر کا سربراہ ہے اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ گھر کے افراد کو جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچانے کے لئے اقدامات کرے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا} [التحريم: 6]

 ترجمہ : ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچاؤ‘‘

 یعنی یہ گھر کے سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر والوں کی تربیت کا اہتمام کرے، اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

" كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،... وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،[11]

ترجمہ: ’’تم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی نگہبانی کے متعلق پوچھا

 جائےگا۔اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی نگہبانی کے متعلق پوچھا جائے گا‘‘۔

گھر کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کو چاہئے کہ گھر کے کچھ اصول و ضوابط مقرر کریں ، کچھ اہم اصول یہ ہیں:

·  گھر کے تمام افراد کم از کم ایک وقت کا کھانا اکٹھے بیٹھ کر کھائیں ، اور اس وقت تمام ڈیوائسز یعنی ٹی وی ، موبائل ، کمپیوٹر وغیرہ کو بند کردیا جائے ، تاکہ گھر والے ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کر سکیں۔

·    گھر کی تمام ڈیواسز خصوصا وہ ڈیوائس جو بچوں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کے پاس ہو ، جیسے لیپ ٹاپ کمپیوٹر وغیرہ ، ان پر Parental Control کا انتظام کریں اور اس میں ایسے سوفٹ وئیرانسٹال کر دیں جو غلط مواد کی دستیابی کو روک سکے۔

·    کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ کے استعمال کے اوقات مقرر کریں ، خود بھی اس کی پابندی کریں اور بچوں کو بھی اس کا پابند کریں۔

·    بچوں کو لیپ ٹاپ ، کمپیوٹر، آئی پیڈ اور سمارٹ فون وغیرہ کے مفید استعمال کی ترغیب دیں ، ان ڈیوائسز پر ان کی ایسی مصروفیت کا انتظام کریں جو آگے چل کر ان کے کام بھی آئے اور انہیں غلط استعمال کی طرف جانے سے روکے۔

·    صرف انتہائی ضرورت کی صورت میں بچوں کو موبائل لے کردیں۔ اسی طرح ایسی تمام ڈیوائسز جن کی اشد ضرورت نہ ہو اسے گھر میں نہ لائیں۔

·    بچوں ، نوجوان لڑکے لڑکیوں کی دینی تربیت کا خصوصی انتظام کریں ، یہ ایک ایسا پہلو ہے جس کی طرف آپ کی انتہائی توجہ ہونی چاہئے، اگر بچوں کی دینی تربیت نہ کی گئی تو لامحالہ ان کے عقائد و اخلاق میں بگاڑ اور خرابی کا اندیشہ ہے۔

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو عصر حاضرکے فتنوں سے محفوظ فرمائے ۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمدلله رب العالمين

 



[1] مدیر المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی

[2] مسند احمد: 17988

[3] Tribune.com.pk

[4] ڈان نیوز 8 اگست 2011 ،

[5] ڈان نیوز 8 اگست 2011

[6]اسرہ میگزین (عرب امارات) شمارہ نمبر 151

[7] اہرام مصری میگزین جولائی 2007

[8] صحیح بخاری ، صحیح مسلم

[9] جامع ترمذی 1921

[10] Technology health effects. (Matthew Silverstone)

 

[11] صحیح بخاری 893