بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

منگل, 19 ستمبر 2017 16:15

ثقافت: اہلِ حق کو پھرمعرکہ درپیش ہے

Written by 

 اہلِ حق کو پھرمعرکہ درپیش ہے

 اس وقت دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے ، جو کل ناممکن نظر آتاتھا آج ممکناتی طور پر وجود پاچکاہے ۔ امن وجنگ سب کے طور طریقے بدل چکے ہیں۔  ہر قوم دوسری قوم کو نظریاتی مات دینے پہ تلی ہوئی ہے۔ اس میں کوئی اثر انداز ہے اور کوئی اثر پذیر ۔ علامہ ابن خلدون نے خوب کہا کہ

’’المغلوب مولع بالاقتداء بالغالب،فی شعاره وزيه،ونحلته وسائر احواله وعوائده‘‘

’’ مغلوب قوم ہمیشہ غالب قوم کے بھیس ، نشانات ، لباس ، مذہب ، عادات واطوار اور طور طریقوں کی دلدادہ ہوتی ہے ‘‘

پھر اس مرعوبیت کی وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’المغلوب یری ان غلب الغالب لیس بعصبية ولا قوة بأس ، وانما بما انتحله من العوائد والمذاهب ‘‘[1]’’کیونکہ مغلوب یہ سمجھتاہے کہ غالب آنے والا مجھ پر کسی قوت وطاقت وعصبیت کی بنا پر غالب نہیں آیا بلکہ اس کے غالب ہونے کی وجہ وہ عادات وتقالید اور وہ مذھب ہے جس کا وہ پیرو کار ہے ‘‘۔

بعینہ یہی حال اس وقت ان اسلامی ممالک کاہے جہاں مغربی استعمار رہاہے ۔جن میں بالخصوص ذکر بر صغیر پاک وہند کا آتاہے ۔ یہاں سے انگریز اپنے لاؤولشکر لےکر تو روانہ ہوگیا اور ہمیں اس دھوکے میں رکھ گیا کہ تم لوگ آزاد ہو ۔ مگر نظریاتی طور پر یہ اس قوم کو ایسے جھال میں پھانس گیا کہ ہم آزاد ہونے کے بعد بھی غلام ہیں ۔ ہمارے معاشرے کا نہ لباس اپنا ہے ، نہ زبان ، نہ تہوار اپنے ہیں نہ تعلیم وتہذیب سب کچھ ادھار لیے بیٹھے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے پاس پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  اعلیٰ وارفع تہذیب وثقافت لیکر آئے تھے اور فرمایا تھا کہ

’’قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ،‘‘[2]

 یعنی:میں تم کو ایسی صاف ہموار زمین پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کے دن اور رات برابر ہیں ، اس سے وہ ہٹے گا جو ہلاک ہونے والا ہوگا، جو تم میں سے زندہ رہے گا وہ عنقریب شدید اختلاف دیکھے گا تم پر میرا طریقہ اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کا طریقہ لازم ہے اس کو دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا اور تم پر اطاعت امیر لازم ہے خواہ وہ حبشی غلام ہو کیونکہ مومن نکیل ڈالے اونٹ کی طرح ہوتا ہے جیسے چلایا جاتا اطاعت کرتا ہے۔

اب جاہلیت جدیدہ ( مغربی  اور ہندوتہذیب ) کی اساسیات اور اسلامی تعلیمات کا تقابل کر کے دیکھیں تویہ حقیقت خود ہی آشکار ہوجاتی ہے کہ انسانیت کی فلاح اسلامی تہذیب وثقافت کو اپنائے بغیر ممکن نہیں ۔ موجودہ تہذیب کا سب سے پر لطف نعرہ خواتین کے حقوق کا ہے ۔ اور حقیقت میں دیکھا جائے تو جدید تہذیب وثقافت نے عورت کو ایک پروڈکٹ بنانے سے زیادہ کوئی حق نہیں دیا ۔ جتنے بھی عالمی قوانین بنے وہ محض عورت کو گھر کی چار دیوار سے نکالنے اور اسے سجا کر پیش کرنے سے آگے نہ بڑھ سکے ۔ عورت کے ساتھ ظلم صدیوں سے ہوتا آیا ۔ دنیا بھر کے قوانین نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا کہ کسی طرح عورت پر ہونے والے ظلم اور اس سے ناروا برتاؤ کے آگے بند باندھے جائیں ۔ جیسے زمانہ جاہلیت میں بچی کو پیدائش کے بعد زندہ درگور کردیا جاتاتھا ، اسی طرح کی رسم ہندوستان میں رائج رہی اور ہندوستانی تہذیب میں بیٹی کی ولادت کے فورا بعد اسے مارڈالنے کی رسم جاری تھی ۔ اٹھارہویں صدی اور انیسویں صدی کے ابتدا کا ادب پڑھ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران وہاں کے معاشرہ نے بیوہ عورتوں کی دوسری شادی پر جو کڑی پابندیاں لگا رکھی تھیں وہ اس وقت بھی ہمارے نام نہاد مسلمان معاشرے میں زور وشور سے جاری وساری ہے ۔ یہاں بھی لڑکی کی پیدائش اور بیوہ کی شادی کوبرا جانا جاتاہے ۔

48،1847کے دورانیہ میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی حاکمیت وسیع تر ہوتی جارہی تھی اور اس کا سکہ اور دھاک بھی ہندوستان کے غالب علاقوں پر بیٹھ چکی تھی ۔ اس وقت انہوں نے ہندوستان کی چند فرسودہ رسموں کو بذریعہ آئین کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے ۔ اسی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے ایک ہندوستانی مصنف سیدتفضل حسین خان نے ۔ معالجات شافیہ ۔ کتاب لکھی

 جس میں ہندوستان کی قبیح رسومات کی بیخ کنی کی اور 1847 میں حکومت کی جانب سے ان رسومات کے خاتمہ کیلئے کی جانے والی کاوشوں کا تذکرہ بھی کیا اور بالآخر معترف ہوئے کہ کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوسکیں ۔

معالجات شافیہ سے اقتباس ملاحظہ ہو :

 ’’ متعدد علاقوں میں حاکموں نے کوشش کی کہ لڑکیوں کے قتل کی رسم کو ختم کیا جائے اور یہ حکم بھی دیا کہ جو کوئی لڑکیوں کو قتل کرے گا وہ قید ہوگا اور مال واسباب اس کا بحق ِ حکومت ضبط ہوگا ۔ ‘‘ پھر حکمرانوں کے چند اچھے اقدامات کا ذکر کرنے کے بعد رقمطراز ہیں ’’ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ احکام کارگر ہوسکیں گے ؟

ہر عدالت کا دستور یہ ہے کہ استغاثہ اور شہادت کے بغیر سزا نہیں دیتی ، لہٰذا لوگ [3]اب خوفِ حاکم سے بہت احتیاط کرتے ہیں ، مبادا بیٹی کے قتل کی اطلاع حاکم تک پہنچے تو خرابی لازم ہے ، اس واسطے اب اس قوم میں لڑکیوں کی ولادت بہت خفیہ مقام میں ہوتی ہے جہاں کوئی مدعی یا گواہ نہیں مل سکتا۔ یہ صورت حال جاری رہی تو یہ لوگ ہمیشہ اپنی لڑکیوں کو قتل کرتے رہیں گے اور کسی عدالت میں جرم ثابت نہیں ہوسکے گا۔  بعض حاکموں نے علاقہ داروں کو حکم دیا ہے کہ تم لوگ خبر گیری کرو ۔ ان لوگوں نے ہر جگہ چوکیدار مقرر کیے ہیں ، لیکن یہ سب امور بیرونی ہیں ۔ حاکموں نے یہ حکم نہیں دیا کہ گھروں کے اندرونی اور خفیہ امور کی خبرداری کرو، لہٰذا بیرونی تدبیر کیا کام آوے گی ؟ ۔

اب گورنمنٹ نے گزٹ آگرہ ، مؤرخہ4مئی 1847ء عیسوی جاری کیا ہے جو دیوان جے پور کے خط پر مشتمل ہے اور عبارت اس کی یہ ہے : ’’ہم دیکھتے ہیں کہ اس کام میں ایک قباحت یہ ہے کہ فرقہ بھاٹ اور چارن کے بہت سے شخص تنگ معاش ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر ان کی لڑکیوں کی شادی کا اہتمام ان کے مرتبے کے مطابق نہ ہوگا تو عزت میں بٹہ لگے گا ، لہٰذا وہ ہر طرح کا خطرہ مول لیتے ہیں ۔ جب تک انسداد اس کا نہ ہوگا لڑکیوں کی ہلاکت ترک ہونے کی صورت ممکن نہیں ‘‘۔آخر میں مصنف نے حکومت کی طرف سے اس رسم کے خاتمے کیلئے جو آرڈی ننس جاری کیا اس کا تذکرہ کیا  ہے جس میں یہ قرار دیا گیا کہ ہر شخص اپنی آمدنی کا صرف آٹھواں حصہ شادی میں صرف کرسکتاہے اس سے زائد کسی کو روا نہ ہوگا ۔ اور ااس آرڈی ننس میں اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ ’’ اب یقین کامل ہے کہ آئندہ لڑکیاں ضائع نہ کی جایا کریں گی اور برابر والوں کے درمیان شادیاں ہوا کریں گی کیونکہ جب سالانہ آمدنی کا صرف آٹھواں حصہ شادی پر صرف کرنے کی قید لگادی گئی ہے تو کسی کو اندیشہ ہتک کا نہیں رہے گا اور کوئی شخص اس کو بار بھی نہ سمجھے گا ‘‘۔[4]

لڑکیوں کی پیدائش کو برا سمجھنے اور ان کے ناحق قتل کے حوالے سے اس وقت عالمی قوانین بھی موجود ہیں لیکن وہ قوانین اتنے زیادہ مؤثر نہیں کیونکہ جس قانون میں للہیت نہیں وہ لوگوں پر ظاہری تو چند پابندیاں لگا سکتے ہیں لیکن انسان کی روحانی تربیت اور جرم کو جڑ سے ختم نہیں کرسکتے ۔اس لئے کہ  ایک قطعی اور حتمی بات یہ ہے کہ جب تک بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا نہیں ہوتا ، یوم آخرت پر اس کا ایمان صحیح نہیں ہوتا اس وقت تک ان تمام فرسودہ رسومات کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔

معاشرہ سے عورت پر جرائم وظلم کے خاتمے کیلئے اس وقت ملکی وعالمی قوانین کی حیثیت سے جو اقدامات کئے جارہے ہیں یا کئے جاچکے ہیں ان سے کہیں زیادہ بہتر ، اعلیٰ وارفع تعلیمات اسلام نے دی ہیں ۔

لڑکیوں کے قتل کی ممانعت کرتے ہوئے رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

 { وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيْرًا}  [الإسراء: 31]

ترجمہ: اور مفلسی کے اندیشہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ۔ انھیں اور خود تمہیں بھی رزق ہم دیتے ہیں۔ انھیں قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

نیز فرمایا:

{وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ      ۝ ۽بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ        } [التكوير: 8، 9]

ترجمہ: اور زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گاکہ وہ کس جرم میں ماری گئی تھی؟

نکاح میں آسانی پیدا کرنے کے لئے شریعت نے متعدد احکامات بیان فرمادئے ۔ عورت کو پردہ کے زیور سے آراستہ کیا تاکہ اس کی عفت وعصمت محفوظ رہے ۔ پھر بچیوں کی تربیت اور ان کی نگہداشت کرنے والے کےلئے جو ترغیبات دیں انہیں پڑھنے کے بعد انسان کا دل خود ہی اسے اس عمل پر ابھارتاہے ۔ اور پھر محرم اور غیر محرم کے اصول وضع کرکے حفاظت وصیانت کا ایسا اہتمام کیا کہ نہ ایسا کوئی انسانی فکر کا تراشیدہ قانون کرسکتاہے اور نہ عمل کرواسکتاہے ۔

اب ہمارے مسلمانوں کو وہ اعلیٰ وارفع تہذیب پسند نہ آئی اور بقول ابن خلدون فکری طور پر غالب کی عادات ، تقالید ، اور رہن سہن ، رسم ورواج کو اپنی زندگی میں رائج کرلیا ۔ اور پھر اسی جاہلیۃ الاولیٰ کی جانب پلٹ گئے ۔ اس وقت سب سے خطرناک معرکہ مسلمانوں کو فکری غلامی سے آزادی دلانے کا ہے ۔اس وقت ہماری قوم ہندو اور مغرب کی ثقافت وتہذیب سے اتنی متاثر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ۔ سہ ماہی البیان کی اس خصوصی اشاعت کا مقصد بھی اس اسلامی ثقافت کا احیاء اور اس کی    یا دہانی مقصود ہے کہ کاش ہماری یہ قوم اللہ کے دشمنوں کے اصل ہتھیار اور اس کی اصل چال کو سمجھ سکے ۔

ثقافت کیا ہے؟

ثقافت یا کلچر سے کیا مراد ہے ؟

ثقافت سے مراد کسی قوم یا طبقے کی تہذیب ہے۔ اہل علم نے ثقافت کی تعریف یہ مقرر کی ہے کہ ’’ثقافت اکتسابی یا ارادی یا شعوری طرز عمل کا نام ہے‘‘۔ اکتسابی طرز عمل میں ہماری وہ تمام عادات ، افعال ، خیالات اور رسوم اور اقدار شامل ہیں جن کو ہم ایک منظم معاشرے یا خاندان کے رکن کی حیثیت سے عزیز رکھتے ہیں یا ان پرعمل کرتے ہیں یا ان پر عمل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم ثقافت یا کلچر کی کوئی جامع و مانع تعریف آج تک نہیں ہوسکی۔[5]

نیز یہ بھی کہا گیا کہ ’’ ثقافت کسی معاشرے میں موجود ان رسم و رواج اور اقدار کے مجمع کو کہا جاتا ہے جن پر اسکے تمام افراد مشترکہ طور پر عمل کرتے ہوں‘‘۔

کلچر کی ہیئت وتعریف بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر جمیل جالبی رقمطراز ہیں :’’ کلچر اس کُل کانام ہے جس میں مذہب وعقائد ، علوم اور اخلاقیات ، معاملات اور معاشرت ، فنون وہنر ، رسم ورواج ، افعال ارادی اور قانون ، صرفِ اوقات اور وہ ساری عادتیں شامل ہیں جن کا انسان معاشرے کے ایک رکن کی حیثیت سے اکتساب کرتاہے اور جن کے برتنے سے معاشرے کے متضاد ومختلف افراد اور طبقوں میں اشتراک ومماثلت، وحدت اور یکجہتی پیدا ہوجاتی ہے جن کے ذریعے انسان کو وحشیانہ پن اور انسانیت میں تمیز پیدا ہوجاتی ہے ۔ کلچر میں زندگی کے مختلف مشاغل ، ہنر اور علوم وفنون کو اعلیٰ درجہ پر پہنچانا ، بری چیزوں کی اصلاح کرنا ، تنگ نظری اور تعصب کو دور کرنا ، غیرت وخوداری ، ایثار ووفاداری پیدا کرنا ، معاشرت میں حسن ولطافت ، اخلاق میں تہذیب ، عادات میں شائستگی ، لب ولہجہ میں نرمی ، اپنی چیزوں ، روایات اور تاریخ کو عزت اور قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھنا اور ان کو بلندی پر لے جانا بھی شامل ہے ‘[6]

ثقافت اور مذہب :

اس وقت مسلمانوں میں کافی حد تک غیر اسلامی تہوار در آنے کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ثقافت کو مذہب سے الگ چیز سمجھا جاتاہے ۔ اس لئے سادہ لوح مسلمانوں کی اکثریت بسنت ، ویلنٹائن ڈے ، اپریل فول وغیرہ کو مذھبی نہیں بلکہ ثقافتی تہوار سمجھتی ہے ۔ اور اسی کو بنیاد بناکر ثقافتی تہواروں میں ہر وہ کام ہوتاہے جسے کوئی برے سے برا شخص بھی مذہبی عمل نہیں کہہ سکتا۔ لہٰذا عامۃ الناس اور چند نام نہاد دانشوروں کے ہاں جو مذہب اور ثقافت کے دو الگ الگ خانے ہیں ،یہی وہ بنیادی غلطی اور غلط تصور ہے کہ جب تک اس کا ازالہ نہیں ہوتا انسان کا نقطہ نظر صحیح نہیں ہوسکتا ۔ مذہب اور کلچر کا تعلق بہت گہرا ہے لیکن اس بات کا انحصار اس مذہب اور کلچر کو ماننے والوں پر ہے کہ وہ کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں مثلا یورپ کا جدید ذہن رکھنے ولا شخص بھی مذہب کو کلچر کا عنصر سمجھتاہے ، یعنی اس کے نزدیک کلچر ایک برتر شے ہے ۔لہٰذا ان کے ہاں اگر مذہب اور کلچر میں تصادم ہو تووہ اہل مغرب مذہب کو نظر انداز کردیں گے اور کلچر کو اس پر ترجیح دیں گے ۔

’’یورپ کے لوگوں کی اکثریت اب بھی عیسائیت کو اپنا مذہب قرار دیتی ہے مگر یورپی معاشرے میں بہت سے قوانین ، اقدار اور سماجی ادارے ایسے ہیں جن کا وجود عیسائیت کی تعلیمات سے لگا نہیں کھاتا چونکہ عرصہ قدیم سے یہ اس معاشرے میں موجود ہیں لہٰذا وہ انہیں اپنے کلچر کا حصہ سمجھتے ہوئے خیرباد کہنے کو تیار نہیں ۔[7]

مثلا جسم فروشی ، شراب نوشی ، بے نکاح جنسی تعلقات وغیرہ یہ سب عیسائی مذہب میں ویسا ہی گناہ ہیں جیسے اسلام میں مگر یورپ وامریکہ میں Prostitution ، کو ایک مستقل سماجی ادارہ کی حیثیت حاصل ہے ۔ مے نوشی اور زنا اس معاشرہ کا کلچر بن چکا ہے لہٰذا وہ لوگ اسے آئینی تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں ۔

ہندو مت میں تقریبا ہر عمل کو مذہبی درجہ دیا جاتاہے اس لئے وہاں رقص ، گانا بجانا ، انواع واقسام کی موسیقی بھی مذہب کا درجہ رکھتی ہے ۔ ان کے ہاں ہر رسم تقریبا مذہب کا درجہ رکھتی ہے ۔ ہندوؤں کے ہاں جیسے خداؤں کی تعداد ان گنت ہے اسی طرح وہ اپنے معاشرے میں رائج ہر عمل کو مذہب کا درجہ دے دیتے ہیں ۔ اور جسے انہوں نے مذہب کا درجہ نہ دیا ہو اسے منانے میں عار محسوس کرتے ہیں۔ جو دوسرے معاشروں سے برآمد کی گئی ثقافتی اقدار ہیں وہ انہیں اپنے متصادم تصور کرتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ رقص ، موسیقی ، ناچ گانے کو تقدس عطا کرنے والے ہندو معاشرے میں وہاں کا مذہبی طبقہ ویلنٹائن ڈے منانے کی اجازت نہیں دیتا ، کیونکہ یہ خالصتاً یورپی اور درآمد شدہ تہوار ہے ۔ ہندوستان میں نیشنل اِزم (قومیت) کا بہت پر چار کیا جاتا ہےجو محض کھوکھلا نعرہ ہے۔ وہ میڈیا اور فلموں، ڈراموں کے ذریعے ، سب اچھا ہے ، کا مظاہر ہ کرکے جمہوریت او ر قومیت کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے ہر پرو گرام ، ہر ڈرامہ اور ہر فلم میں ہندو مذہب کا کھلم کھلا پر چا ر ہو تا ہے اور ہزاروں سال پرانی برھمو سماج کی تہذیب کی نمائندگی کی جاتی ہے۔ اس سے ہر ذی شعور اندازہ کرسکتاہے کہ ہندو اپنی تہذیب وثقافت کے ساتھ جنون کی حد تک منسلک ہیں ۔ ہندو قوم درآمدی ثقافت کی بیخ کنی کرتی ہے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ۔ حتی کہ مسلمانوں نے وہاں ہزار سال سے زائد عرصہ حکومت کی ،اب بھی وہاں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں جنہوں نے وہاں کے تہذیب وتمدن   کو ترقی دی، سنوارا مگر آج بھی ہندو کا خیال مسلمان قوم اور حکمرانوں کے بارے میں یہ ہے کہ مسلمانوں کے معاملے میں ان کے بچو ں کو پر تھوی راج، چوہان، ٹی وی ڈرامے جیسے افکار کی روشنی میں پروان چڑھا یا جاتا ہے کہ ہندو ستان سونے کی چڑیا تھی یہاں ڈاکو لو گ اسے لوٹنے کے لیے آتے تھے ۔ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہاں تو پانچ ذات پات کے لو گ بستے تھے ۔ تین ذاتوں کے پاس تو جینے کا حق بھی نہیں تھا ۔ انسانیت سسک سسک کر اور بلک بلک کر تڑپ رہی تھی ۔ اور پھر انہی ڈاکوؤں نے یہ ظلم کا طلسم توڑا اور ہندوستان کو ایک اکائی میں پر و دیا ۔ اور نیچ ذات کے لوگوں کو بھی انسان ہونے کا احساس ملا اور وہ بھی دوسری اقوام کے برابر ہوگئے۔ ہر مذہب کے نمائندے کو اپنے اپنے انداز میں عبادت و پو جا کا کھلا اختیار بھی انہی ڈاکوؤں نے دیا ۔ ستی کی رسم کو بھی مسلمانوں نے ختم کر وایا ۔ کیونکہ یہ ہندؤوں کے مذہب کا حصہ تھا اور وہ انگریز جس کی پو جا کا درس دیا جا تا ہے اس نے آتے ہی ستی کی رسم پر پابندی لگا دی۔ پھر بھی ہندو ستان قومیت اور جمہوریت کے نا م پر ہند و انہ ذہنیت کو پروان چڑھانے میں بیش بہا کام کر رہا ہے ۔ کیونکہ یہ ان کا نظریہ حیات ہے ، مکاری ، عیاری اور جھوٹ و فریب ان کا ہتھیار ہے ۔ ان کی ثقافت میں جہاں بدن کے چھپانے کا کوئی اصول نہیں۔ وہیں سچ بولنے کا بھی کوئی رواج نہیں ۔ یہی ان کی تہذیب ، ثقافت اور کلچر ہے ۔

اسلا م کا تصور ثقافت :

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے وہ اپنے ماننے والوں کو ایک مرکزی نظامِ حیات اور نظامِ اخلاق  و اقدار دیتاہے اور پھر تمام اقوال وافعال رسوم ورواج الغرض مکمل انسانی زندگی کو اسی نظام حیات اور نظامِ اقدار سے منضبط کرتاہے ۔ اسلام ہر ثقافت اور تہذیب کو اپنی افکار وتعلیمات کے مطابق پروان چڑھتے دیکھنا چاہتاہے ۔ اسلام کا جامع مفہوم ’’سلامتی ‘‘ہے۔ اس لئے وہ ہر کام میں سلامتی کے پہلو کو برتر رکھتاہے ۔

’’ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ثقافت کو اپنے اندر ضم کرنا چاہتاہے ۔ اسلام میں مذہب اور ثقافت کا تعلق بے حد واضح ہے ، یہاں مذہب کو ایک برتر خدائی حکم کی حیثیت سے ہر اس ثقافتی عمل کو مسترد کرنے کا اختیار ہے جو اس کے بنیادی تصور سے متصادم ہو ۔ اسلامی تصور کے مطابق مذہب کلچر کا محض   ایک جزو نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک ایسا برتر نظام ہے جو ثقافت کو اپنے تقاضوں کے مطابق ڈھالتااور تشکیل دیتاہے!![8]

اسلام نے ہر عمل کو عقیدہ وایمانیات سے مربوط کیا ہے ۔جو اس پر عمل درآمد کو آسان بنا دیتاہے ۔ بندے کے دل میں اللہ کا خوف جگہ بنالے تو دنیا کی بڑی سے بڑی لالچ اور طمع بھی اس کے ایمان وعمل کو متزلزل نہیں کرسکتی ۔

اسلامی نقطہ نظر سے ثقافت کی تعریف :

اسلام کے اسی بنیادی فلسفہ کو سامنے رکھتے ہوئے اہل علم نے اسلامی ثقافت کی جو تعریف بیان کی ہے وہ یہ کہ :

"مجموعة المعارف والمعلومات النظرية ، والخبرات العلمية المستمدة من القرآن الكريم والسنة النبوية، التي يكتسبها الإنسان ، ويحدد على ضوءها طريقة تفكيره ، ومنهج سلوكه في الحياة "[9]

’’ نظریاتی معارف ومعلومات اور علمی تجربات کا وہ مجموعہ جنہیں قرآن وسنت سے اخذکیا گیا ہے ۔ جسے انسان اکتساب کرتاہے ، اور اس کی روشنی میں اپنی سوچ کا طریقہ کار اور اپنی زندگی کے منہج وسلوک کا انتخاب کرتاہے ۔

 اسلامی ثقافت کی خصوصیات ؟

ہرذی شعور انسان کے ذہن میں یہ سوال ابھر سکتاہے کہ ثقافت میں صرف اسلام ہی کیوں؟ غیروں کے رسوم ورواج اپنانے میں کیا حرج ہے ؟ تو اس کا جوا ب یہ ہے کہ دراصل ثقافت اور کلچر ایسا عمل ہے جس کے فوائد سے انسان اس وقت بہرور ہوسکتاہے جب معاشرے میں ہر ایک کو امن وآشتی نصیب ہو، ہر ایک کی ضروریات پوری ہوں ، ہر انسان اپنے آپ کو محفوظ تصور کرے ، اور ہر انسان ایک نارمل زندگی گذارے اس پر کسی قسم کا نفسیاتی یا ذہنی دباؤ نہ پڑے ،یہ سب چیزیں تب انسان کو

  نصیب ہوسکتی ہیں جب وہ ایسی تہذیب اور ثقافت سے وابستہ ہو جو اسے مطلوبہ ضروریات مہیا کرسکے اور اسے لاحق ہونے والے نقصان سے بچا سکے، تو یہ سب اسلامی ثقافت کو اپنائے بغیر ممکن نہیں ۔

اسلامی ثقافت میں دیگر ثقافتوں کے مقابلے میں جو امتیازات اور خصوصیات پائی جاتی ہیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں :

 اول : اسلامی ثقافت ربانی ثقافت ہے ۔ دنیا میں دیگر جتنی بھی ثقافتیں ہیں وہ انسانی ذہن کی تراشیدہ ہیں۔ اسلامی ثقافت کے اصول قرآن وسنت واجماع امت سے لئے گئے ہیں جن میں سراسر فلاح ہی فلاح ہے ۔ اس میں توحید باری جل وعلا کی جانب دعوت بھی دی گئی ہے ۔ اور مکارم اخلاق ، حقد اروں کو حق دینے ، ظلم کو ختم کرنے ، صلہ رحمی ، اور ہر قسم کی بھلائی کے پھیلانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے ۔ اسلامی ثقافت انسان کو اللہ کی عبودیت کا رنگ چڑھا دیتی ہے

{صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ۡ وَّنَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ   ١٣٨؁} [البقرة: 138]

ترجمہ: (نیز ان سے کہہ دو کہ : ہم نے) اللہ کا رنگ (قبول کیا) اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے۔ اور ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا خوف ہی وہ بنیادی چیز ہے جو انسان کو ظلم اور کسی کی حق تلفی سے روکتی ہے جب اللہ کے خوف سے دل عاری ہوجائیں تو پھر انسان ہی حیوان بن جاتاہے اور ایسے اعمال کا مرتکب ہوتاہے جسے عقول سلیمہ ناپسند کرتی ہیں ۔

دوم : اسلامی ثقافت انسانی فطرت سے مطابقت رکھتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ جس نے انسان کو پید افرمایاہے وہٰ انسانی طبیعت اور فطرت سے بخوبی واقف ہے ۔ اور جانتاہے کہ کونسی چیز انسانی طبیعت کے موافق ہے اور کون سی نہیں ، انسان کو اگر آزاد چھوڑ دیا جائے تو اس میں موجود حیوانیت اس پر غالب آجاتی ہے اور ایسے معاملات بجا لاتاہے جومعاشرے میں موجود دیگر افراد کی حق تلفی اور تکلیف کا باعث بنتے ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی اسی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے اسے ایک بنا بنایا نظام عطافرمایا تاکہ اس کیلئے معاشرے میں اعتدال اور توازن قائم رکھنا ممکن ہوسکے ۔

جیسے شہوت ہے : اللہ تعالیٰ نے جہاں زنا سے منع فرمایا وہاں چار تک شادیوں کی بھی اجازت دی تاکہ انسانی فطری ضرورت بھی پوری ہو اور وہ بے راہ روی سے بھی محفوظ رہے ۔

مال ہے : انسان فطری طور پر اس کی حرص رکھتاہے اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کو حرام طریقوں سے حصول مال سے روکا وہیں اسے حلال راہ بھی دکھا دی اس سے انسان کا اپنا مال بھی پاک رہا اور دیگر لوگ بھی مالی زیادتی سے محفوظ رہے اور حق تلفی سے بچ گئے ۔

سوم : اس میں شمول بھی پایا جاتاہے اور کمال بھی ۔اسلامی ثقافت میں یہ بھی خاصیت ہے کہ اس کے قواعد وضوابط مکمل اور تاقیامت ہیں ،نیز معاشرے کے ہر فرد اور ہر پہلو پر اس میں ہدایات دی گئی ہیں ۔ انسان کا نجی معاملہ ہو ، یا اس ماحول میں بسنے والے افراد کا ، چاہے وہ انسان ہوں ، حیوان ہوں ، نباتات ہوں ، یا جمادات ہر ایک کیلئے شریعت نے قواعد وضع کررکھے ہیں ۔ نیز انسانوں کے باہمی حقوق کا بھی اس میں احاطہ کردیاگیاہے ۔

چہارم : توازن اور اعتدال پر مبنی ثقافت ہے ۔اسلامی ثقافت میں توازن اور اعتدال بدرجہ اتم پایا جاتاہے ، انسان سے متعلق جیسا کہ بیان ہوا کہ وہ مادیت ، حیوانیت ، اور روحانیت سے مرکب ہے ۔ پھر اس میں افراد ، جماعتیں ، کنبے ، قبیلے بستے ہیں ۔ ان سب کو برابر برابر حقوق دینا ، ان کی ضروریات کا لحاظ رکھنا ، اور انسانی نفس کے مادہ، حیوانیت اور روحانیت میں اعتدال پیدا کرنا ان سب کی مصلحتوں کا لحاظ رکھنا یہ شریعت اسلامیہ کا ہی کمال ہے ۔ اسلام نے نہ تو اتنا ریاضت وزھد پر ترغیب دی ہے کہ انسان دنیا کو ہی بھول جائے اور نہ اتنا دنیا کی جانب جھکنے کی اجازت دی ہے کہ مقصد ، مدعیٰ اور ھدف ہی دنیا رہ جائے اور انسان  اور حیوان میں کوئی فرق ہی نظر نہ آئے ۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

[وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ                 ؀] [القصص: 77]

ترجمہ: جو مال و دولت اللہ نے تجھے دے رکھا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کرو اور دنیا میں بھی اپنا حصہ فراموش نہ کرو اور لوگوں سے ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ تمہارے ساتھ

 بھلائی کی ہے۔ اور ملک میں فساد پیدا کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

پنجم : ہر دور اور ہر عصر سے مطابقت رکھتی ہے ۔ اسلامی ثقافتی تعلیمات محض زمانہ قدیم سے تعلق نہیں رکھتی ۔ جیسا کہ بعض نام نہاد مسلمان بھی مغرب کی اندھی تقلید میں کہتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اسلامی اصول ثقافت وطرز معاشرت پیش کی جائے تو کہتے ہیں کہ آپ ہمیں پتھر کے دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں ۔ اور یہ بات کہتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے اکابر ، اسلاف بلکہ دو جہاں کے سردار جانب محمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم  اسی دور میں تھے جس دور کو یہ طعن وتشنیع کا نشانہ بناتے ہیں والعیاذ باللہ ۔ بلکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسی دور کو سب سے بہترین دور قرار دیا اور فرمایا:

"خير أمتي قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونھم ثم إن بعدكم قوما يشهدون ولا يستشھدون ويخونون ولا يؤتمنون وينذرون ولا يوفون ويظهر فيھم السمن" [10]

یعنی:میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد متصل ہوں گے۔ پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد متصل ہوں گے عمران بیان کرتے ہیں کہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قرن کے بعد دو مرتبہ قرن فرمایا تھا یا تین مرتبہ۔ پھر ارشاد فرمایا تمہارے بعد کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بغیر طلب و خواہش کے گواہی دیں گے۔ وہ خیانت کریں گے اور امین نہ بنائے جائیں گے۔ وہ نذر مانیں گے اور اپنی نذر کو پورا نہ کریں گے اور یہ لوگ بہت فربہ ہوں گے۔

ایک سچے مسلمان کو بلاشک وریب اس بات کو تسلیم کرنا چاہئے کہ سب سے بہترین دور میرے پیارے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کا دور تھا جسے یہ لوگ پتھر سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اور وہ دور عقائد ، اخلاق ، اقدار ،عمل، غرض ہر جہت سے اعلیٰ وارفع دور تھا ۔ مگر اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے مراد یہ بھی نہیں کہ آپ مٹی کے گھر بنالیں ، مٹکوں میں پانی پینے لگ جائیں ، لکڑی سے آگ جلائیں ۔ یہ مادی چیزیں ہیں اس میں تطور اور ترقی پر اسلام روک نہیں لگاتا الا کہ اس میں کوئی شرعی محظور نہ پایا  جائے ۔ لیکن اسلام نے ہمیں ایسی ثقافت دی ہے جو ایک مثالی ثقافت ہے جو ہر زمانہ اور ہر ماحول سے مطابقت رکھتی ہے ۔

ششم : عالمی ثقافت ہے۔ اسلامی ثقافت کے ابتدائی امتیازات میں ذکر کیا گیاہے کہ یہ ربانی ثقافت ہے جو الٰہ العالمین کی جانب سے متعین کردہ ہے ۔ جس کی مرضی کے بغیر زمین پر پتہ بھی نہیں گرسکتا۔ اس لئے عالم انسانی کی تمام مشکلات کا حل اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں پنہا ہے ۔ جو نہ تو کسی خاص ملک ، نہ کسی خاص قوم وقبیلے کی ثقافت سے لیا گیاہے بلکہ رب اللعالمین کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہے جس کی نظر میں عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر ، سیاہ کو سفید پر اور سفید کو سیاہ پر کوئی فضیلت نہیں الا تقویٰ کی بنیاد پر ۔ لہٰذا اسلامی ثقافت ہی وہ واحد ثقافت ہے جس کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی زمانہ یا علاقے سے تعلق نہیں رکھتی اور نہ ہی وہ کسی زمانہ یا علاقے کا اثر قبول کرتی ہے۔ دنیا کا عمومی قاعدہ ہے کہ تہذیبیں آپس میں مل کر ایک دوسرے کا اثر لیتی ہیں لیکن اسلامی ثقافت ایسی نہیں اس کے اصول قواعد اور رہنمائی کے ضابطے چودہ سوسال پہلے بھی وہی تھے اور آج بھی وہی ہیں ۔ لہٰذا اسی بنیاد پر وہ عالمی ثقافت ہے ۔ مغربی ثقافت ایک علاقائی اور قومی ثقافت ہے ،ہندو ثقافت ، چائنی ثقافت یہ سب قومی اور علاقی حدوں تک محدود ہیں جبکہ اسلامی ثقافت ایسی ہے جو ان زماں ومکاں کی حدود سے آزاد ہے جس ملک میں مسلمان پائے جائیں گے وہ اس ثقافت کو اپنائیں گے اور اپنے ماحول سے موافق پائیں گے۔ انہیں وہاں خالص اسلامی ثقافت پر عمل پیرا ہونے میں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی ۔

ہماری ثقافت پر اثر انداز ہونے والے بنیادی عوامل

1: تعلیم : تعلیم سے قوموں کے معمار تیار ہوتے ہیں ۔ تعلیمی بنیادوں پر تربیت اور تزکیہ پانے والی قومیں بام عروج کو چھوتی ہیں ۔ مگر ہمارے تعلیمی ماحول کی حالت اب یہ ہوچکی ہےکہ وہاں پڑھنے والا بظاہر مسلم ہوتا ہے لیکن اس کی فکر اور روح غیر مسلموں کی اسیر ہوچکی ہوتی ہے  ۔ بقول اقبال :

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خود کو

ہو جائے جو ملائم تو جدھر چاہئے ادھر موڑ

 موجودہ تعلیم مادی حوس پیدا کررہی ہے نہ کہ مہذیب وشائستہ قوم ۔ اس کا نظارہ کرناہے تو ہیپی نیوایئر نائٹ ، یا کرکٹ مقابلے میں جیت کے موقع پر ہمارے یونیورسٹی وکالجز کی نوجوان طبقہ بشمول مرد وزن کی حرکات دیکھ لیجئے خود احساس ہوجائے گاکہ جدید تعلیم سے آراستہ قوم کتنی مہذب وشائستہ ہے ۔ ایک عرصہ پہلے ایک خبر الارمنگ نیوز کے طور پر چلائی گئی کہ گرفتار بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسی سنگین نوعیت کی وارداتوں میں ملوث گرفتار 25 ملزمان پوسٹ گریجویٹ ہیں جن میں مکینیکل انجینئرز اور بی ایس سی کمپیوٹر سائنسرز بھی شامل ہیں یہ تمام ملزمان امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں بھوک، بیروزگاری وغیرہ ان کا مسئلہ نہیں۔

ہمارا شُتر بے مہار مادر پدر آزاد نظام تعلیم ہمیں اور کہاں تک لے جائے گا اور کب تعلیم تعلیم کی مالا جپنے والے صاحبان اقتدار و اختیار کو تعلیم کے تربیتی پہلوئوں کی اہمیت کا احساس و ادراک ہو گا۔ جب سے استعمار نے اسلامی سرزمین پر قدم رکھا ہے اس وقت سے مسلمانوں کو بالعموم اور پاک وہند کے مسلمانوں کو بالخصوصایجوکیشن وار کا سامنا ہے یہ جنگ تعلیم کے ہتھیاروں سے لڑی جا رہی ہے جس میں میڈیا سے لیکر دینی و دنیوی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شرح خواندگی کے ساتھ ساتھ شرح جرائم میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

زیرک سامراجی قوتیں جسموں کی قید کی بجائے دل و دماغ اور روحوں کو مقید کرنے کا جال تعلیم کو بنا کر ہمیں شکار کر رہی ہیں۔

آج ہمارا مقصدِ تعلیم نوکری، بزنس یا صرف دنیاوی ترقی ہی رہ گیاہے؟ اور یہ علم ہمیں سانپ بن کرڈس رہاہے؟

’’ مغربی افکار و نظریات کا چربہ یہ نظام تعلیم ہمیں مایوسیوں میں دھکیل رہا ہے۔ نظریاتی احساس کمتری کا شکار بنا کر ہماری قومی و ملی اقدار کو نگل رہا ہے لہٰذا ہمیں اپنے علم و دانش کے بہترین ماخذ قرآن و سُنت کی روشنی میں اپنے اسلاف کی مدد سے اپنے نظام تعلیم، نصاب تعلیم کو ارفع اعلیٰ پاکیزہ نظریات سے مزین کر کے بامقصد اور اپنی معاشرتی، قومی علمی اقدار اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی بازپُرس اور کامیاب ادارہ بنانے کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں  کی سرپرستی اور محاسبہ خصوصاً خالصتاً کاروباری سوچ کے حامل نام نہاد شہرت اور کمپنی کی مشہوری کیلئے بوٹی مافیا، رٹا اور دوسرے اوچھے حربے اختیار کرنے والے تعلیمی اداروں پر کڑی نظر رکھنی ہو گی اس کیلئے علماء کرام ، باشعور والدین اور سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنے کیلئے میدان عمل میں آنا ہو گا۔

 ہم ایک زندہ و پائندہ قوم بننے سے قاصر رہیں گے کیونکہ آج کے فرعون کو کالج کی سوجھ گئی ہے شاید اس نے اکبر مرحوم کا یہ شعر پڑھ لیا ہے … ؎

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا ۔۔۔ افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی [11]

2: میڈیا: میڈیا کی رسائی اس وقت ہر گھر تک ہے، اور جس نہج پر اس وقت ہمارا میڈیا کام کر رہا ہے اس کی فتنہ پردازی کسی سے مخفی نہیں ۔ لوگوں کی ذہن سازی اور اور فکری ناہمواری کا سبب میڈیا ہی ہے ۔ بچہ ہو یا نوجوان ، خاتون ہو یا مرد چھوٹا ہو یا بڑا سب فلموں ، ڈراموں ، اور میڈیا پر نمودار ہونے والے نام نہاد دانشوروں کے ترانے پڑھتے ہیں ۔ میڈیا ایک صنعت ہے اور صنعتیں مسیحائی نہیں کرتیں ،یہ اس اصول پر کام کرتاہے کہ سب جائز ہے ۔ اگر معاشرے کی بہتری مقصود ہے تو میڈیا کو لگام دینا ضروی ہے ۔

3 : ادبی کلچر: ہمارا ادبی کلچر بھی زیادہ تر عاشقی ومعشوقی کے سوا نامکمل سمجھا جاتاہے ۔ ناول ، ڈائجسٹ ، روزنامچے سب ہی ایک ڈگر پر چل رہے ہیں ۔

4 : زبان۔ قوم کی زندگی زبان کے بل بوتے پر ہے ۔ ہماری قوم اس وقت مستعار زبان استعمال کر رہی ہے ۔ انگریزی کی اہمیت کو اتنا اجاگر کیا جاچکاہے ہر فرد بغیر اس کے اپنی زندگی کو نامکمل سمجھتا ہے ۔ ہمیں جہاں عربی زبان کو اہمیت دینی چاہئے تھی وہاں انگریزی کو دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس کا تعلق قرآن وحدیث کے بجائے انگریزی ادب سے جڑا ۔ جس سے ان کی عادا وتقالید   ہمارے رگ وریشے میں رچ بس گئیں کیونکہ عربی مثل مشہور ہے کہ ’’كل إناء بما فيه ينضح ‘‘ برتن میں جو ہوتاہے اس سے نکلتا بھی وہی کچھ ہے ۔

 

5 : عورت

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ’’ فإن أول فتنة بني إسرائيل في النساء‘‘

’’ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتیں تھیں ‘‘۔

عورت کو بظاہرمعمولی سمجھا جاتا ہے لیکن یہ معاشرہ کی ایک ایسی اکائی ہے کہ یہ معاشرہ کو بنا بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی ۔ معاشرے کی بناوٹ میں کلیدی کردار خاندان کا ہوتاہے اور خاندان میں بھی بات سمٹ کرمرد اور عورت تک محصور ہوجاتی ہے۔ کیونکہ عورت اجیال کی مربیہ ہوتی ہے ۔ اور مرد اس میں اس کا ساتھ دیتاہے ۔ دین اسلام نے عورتوں کے مقابلے میں مردوں کو بلادست بنایاہے اور اس کی معقول اور اعلیٰ وجوہات بھی بیان فرمائی ہیں ۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

{اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ۭ } [النساء: 34]

ترجمہ: مرد عورتوں کے جملہ معاملات کے ذمہ دار اور منتظم ہیں اس لیے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اور اس لیے بھی کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں ۔

قرآنی حکم آنے کے بعد کسی مومن کیلئے یہ روا نہیں رہتا کہ وہ اس سے متعلق کوئی اعتراض کرے مگر ہمارے ہی اسلامی معاشروں میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی بالادستی کو چیلنج کیا جاتاہے ۔ حالانکہ یہ چیلنج صراحۃ قرآن کریم اور احادیث نبویہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلاف ہے مگر پھر بھی نام نہاد دانشور ۔۔۔۔ اور معاشرہ کی بعض عورتیں بھی اسے ظلم سے تعبیر کرتے ہیں والعیاذ باللہ

عورتوں کی فطری کمزوری اور توہم پرستی کا حال الطاف حسین حالی نے اپنی کتاب ’’مجالس النساء ‘‘ میں بہت خوبصورت پیرائے میں بیان کیاہے ۔ جو یقینا صنف نازک کی فطرت کا بہترین عکاسی کرتاہے جسے ہم مختصرا یہاں بیان کرتے ہیں کہ ایک بڑھیا عورت اپنی بیٹی کو نصیحت کرتے ہوئے کہتی ہے ۔ ’’ جسے دیکھو اسے اس کے سوا کچھ نہیں آتا کہ چار سرجوڑ کر بیٹھ گئیں اور زمانے کی برائی کرنی شروع کی ۔ کوئی ساس نند کا جھینکنا جھینکتی ہے ۔ کوئی دیورانی جھٹانی کا دکھڑا روتی ہے ۔ کوئی بہو پر زہر اُگلتی ہے۔ کوئی خاوند کا صبر سمیٹتی ہے ۔ کوئی کسی کی شادی کو نام دھرتی ہے ۔ کوئی کسی کے جہیز پر ہنستی ہے ۔ کوئی  کسی کی ذات میں عیب نکالتی ہے ۔۔۔۔اس کے سوا مزاجوں کا وہ حال ہے کہ جو ذرا سی تیز مزاج ہیں وہ تو چلتی ہوا سے لڑتی ہیں۔  بات اس طرح کرتی ہیں جیسے کسی نے پتھر دے مارا ۔ میاں سے بات بات میں اُڑنیچ نکالنی ۔ بچّوں کو خواہی نخواہی کوسنا ۔ نوکروں سے ناحق الجھنا۔‘‘

اس وقت معاشرے کی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے تاکہ وہ آئندہ نسلوں کی مربیہ بنیں اور قوم فتنوں سے محفوظ رہ سکے۔

بے جا تکلفات کا در آنا

  الغرض ہمارا معاشرہ اس وقت ہندستانی فرسودہ روایات اور مغربی تہذیب کا چربہ بن چکا ہے۔جسے ہم زوال کہیں گے عروج نہیں کیونکہ زوال پذیر معاشرے کی سب سے بڑی پہچان اُس کے فرسودہ رسم ورواج ہوتے ہیں جو سارے کے سارے بے تکے ، فضول اور جہالت کی کھلی دلیل ہوتے ہیں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان میں نئی نئی شاخیں پھوٹتی رہتی ہیں اور لوگوں کی زندگیاں الجھن میں مبتلا ہوتی رہتی ہیں ۔ اور زندگی ایک عذاب جیسی بن جاتی ہے ایسی ہی زندگی کا نقشہ ’’ رفاہ اخلاق ‘‘ کے مصنف نے بہت بہترین انداز سے کھینچا ہےیہ کتاب انیسویں صدی کےا ختتام پر لکھی گئی اس لئے اس میں قدیم ہندی طرز کے جملے ہیں جو بظاہر کچھ ثقیل مگر ہیں بہت دلچسپ اقتباس ملاحظہ کیجئے ۔ لکھتے ہیں :’’ اکثر ہندوستانی آدمی اپنی پابندئ رسومِ آبائی سے ایسی آفت ومصیبت میں گرفتار ہیں کہ جس کے سبب سے تھوڑی سی عمرِ شیریں ان کی تلخ ہو گئی ہے ۔جو رسمیں اور طریقے شرعا وعقلا ناجائز ہیں ان کو فرض وواجب سمجھ لیا گیاہے ۔ پاس ہو نہ ہو قرض لیں گے ، ادھار کریں گے ، چاہے عزت میں بٹّہ لگے۔  جیلخانہ جانے کی نوبت آئے مگر ضرور فرض ادا ہوجائے ۔ اس میں فرق نہ پڑنے پائے ۔ یہاں لڑکا کیا پیدا ہوتاہے آفت کا سامان ہوتاہے ۔ اپنے پرائے کی بن آتی ہے ۔ بے وقوف بنابنا کر خوب اڑاتے ہیں ۔ بہنیں جدی منزلوں سے نیگ مانگنے آتی ہیں۔  پھوپھیاں علیحدہ کوسوں سے اپنا حق لینے کو پہنچتی ہیں ۔ ہم کرتہ ٹوپی لائے ہیں ۔ برسوں کی آرزو ہے ۔ اب خدا نے یہ دن دکھائے ہیں ۔ ہمارا حق دینا چاہیے۔ بہت دنوں سے چپکے بیٹھے رہے ۔ اب نہ دو گے تو پھر ہمارا کون سا دن ہوگا ۔ اب لیجیے ، سواریوں کا جدا کرایہ دینا پڑتاہے ۔ مہمان داری میں جدا بہت کچھ صرف ہوتاہے ۔ پھر واپسی کے دن

 آئے ، رخصت کیجئے ۔ بھاری جوڑے بنوائیے ۔ دوبارہ کرایہ دینے آئیے ۔ ادھر کمین لوگ دُھویا لاتے ہیں ۔ اس میں بھی انعام ہر ایک کو دیا جانا ضروری ہے ۔ تقاضا ہورہاہے جس قدر دیجئے تھوڑا ہے ۔ سرکار برسوں خدمت کرتے گزارا ہے ۔ آج خوشی نے منہ دکھایا ہے ۔ سب کچھ دیا مگر ان کا منہ سیدھا نہیں ۔ جب لڑکا نہ ہوا تھا ، پیر شہید کی منتیں مان بیٹھے تھے ۔ اب وہ کیونکر نہ کی جائیں ۔ یاران چوری نہ پیران دغابازی مثل مشہور ہے ۔ سیکڑوں روپیہ منّتوں کے لیے چاہیے ۔ میران کا بکرہ ، پیردستگیر کی گیارہویں ۔ میاں معین کی دیگ ۔ کہاں تک کہیے ۔ مسجدوں میں گھی کے چراغ ۔ درگاہوں پر ہاتھی گھوڑے چڑھاتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں لڑکے کو اگر کوئی گھر سے باہر بھی لے گیا تو آفت آئی ۔ ہیں ہیں نظر لگ جائے گی ۔ دودھ کے بال ہیں ۔ منہ میں دودھ بھرا ہے ۔ کوئی دیکھ نہ لے ، دوچار برس کا ہوگیاہے ۔ پیاری پیاری باتیں کرتاہے ، کھیل تماشے کرتا ہے ، کوئی دیکھ سن نہ پائے یا ماں گود میں چڑھائے ہے ۔ بچہ کے پاؤں نہ دُکھنے لگیں اور کوسوں بھیجا تو بہت دور ہے ۔ ہاں جو بڑے جاہل ہیں ، وہ منزلوں کی راہ طے کرکے درگاہوں میں لے جاکر قبر کے سامنے لڑکے کو رکھ دیتے ہیں اور صد ہا روپیہ چڑھاتے ہیں ۔ درگاہ کے تعویذ گنڈے سونے چاندی میں منڈھواکر اس کے گلے میں ڈالتے ہیں ۔ پھر راہ کی مصیبت جھیلتے ہوئے مرپٹ کے گھر پہنچتے ہیں ۔ اگر کسی وجہ سے درگاہ نہ پہنچنا ہوا تو سمجھتے ہیں کہ ابھی یہ فرض باقی ہے ۔ جب تک وہاں نہ ہو آئے گا ، بچے پر سیکڑوں آفتیں رہیں گی ۔ ہائے بے علمی بھی کیا بری بلا ہے ۔ اگر سمجھ ہوتی تو اپنی کمائی ایسے بے فائدہ کاموں میں کیوں صرف کرتے ۔ ‘‘[12]

اسلامی اقدار واطوار پر مبنی معاشرے کی تشکیل عصرِ حاضر میں کیسے ممکن ہے ؟

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ لن يصلح آخر هذه الأمة إلا بما صلح به أولهاـ‘‘

اس امت کے آخر کے لوگوں کی اصلاح بھی اسی چیز سے ہوگی جس سے پہلوں کی اصلاح ہوئی ہے ۔

دور حاضر کے اپنے معاشرے کو ہم اگر شرعی خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے

  امن وآشتی کا گہوارہ بن جائیں ، تو اس کیلئے ہمیں اسی دور اول کا جائزہ لینا ہوگا اس میں سب سے اعلیٰ مثال نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی مدنی معاشرہ کی تشکیل ہے ۔

پیارے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک نئے مدنی معاشرے کی تشکیل سے رہنمائی ضروری ہے :

فرمان باری تعالیٰ ہے :

[لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا            ۝ۭ] [الأحزاب: 21]

ترجمہ: (مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے، جو بھی اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو ۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کے اصحاب کے نزدیک مکہ چھوڑنے کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ مکی لوگوں کے فتنے اور تمسخر سے نجات پائی جائے ۔بلکہ بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایک پر امن علاقے میں صالح معاشرہ تشکیل دیا جائے ۔ جس کیلئے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض قرار پایا تھا کہ وہ اس وطنِ جدید کی تعمیر میں حصّہ لے ۔

یہ یقینی بات تھی کہ اس معاشرے کی تشکیل کے امام قائد اور رہنما رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  تھے ۔ اب دیکھئے کہ ہمارے پیغمبر نے اس معاشرہ کو کیسے تشکیل دیا ۔

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس نئے معاشرے کی تشکیل میں جن بنیادی عوامل کو امتیازی حیثیت دی وہ درجِ ذیل ہیں :

1: مسجد نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعمیر : رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں’’ مسجدمحض ادائے نماز کیلئے نہیں بلکہ یہ ایک یونیورسٹی تھی جس میں مسلمان اسلامی تعلیمات وہدایات کا درس حاصل کیا کرتے تھے ، اور ایک محفل تھی جس میں مدتوں جاہلی کشاکش ونفرت اور ہاہمی لڑائیوں سے دوچار رہنے والے قبائل کے افراد اب میل محبّت سے مل جل رہے تھے ۔ نیز یہ ایک مرکز تھا جہاں سے اس ننھّی سی ریاست کا سارا نظام چلایاجاتاتھا اور مختلف قسم کی مہمیں بھیجی جاتی تھیں ۔ علاوہ ازیں اس کی حیثیت ایک

  پارلیمنٹ کی بھی تھی جس میں مجلس شوریٰ اور مجلسِ انتظامیہ کے اجلاس منعقد ہُوا کرتے تھے‘‘ ۔[13]

اگر ہم اس وقت اپنے معاشرے کو اسلامی خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں تو مسجد کا وہ مقام بحال کیا جانا ضروری ہے جو عہد رسالت میں ہوا کرتھا۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسجد سے زیادہ تعلق رکھنے سے انسان کی ایمانی روح زندہ رہتی ہے ، گناہوں کے بادل سینوں سے چھٹتے چلے جاتے ہیں ، بندہ کا تعلق رب اللعالمین سے مضبوط ہوتاہے ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ’احب البلاد الی اللہ مساجدھا‘‘

’’ زمین پر اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب جگہ مساجد ہیں ‘‘

اس حوالے سے اب چند ماہ پہلے ہی کا واقعہ آپ ملاحظہ کریں کہ جب چند کرائے کے لوگوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا پارلیمنٹ کی بے حرمتی کی تو سب کے دلوں میں پارلیمنٹ کا تقدس جاگ اٹھا ، قلمکاروں نے اس کی مذمت میں اوراق سیاہ کر ڈالے لیکن کتنی ایسی مساجد ہیں جن پر آئے دن حملے ہوتے ہیں ان کا تقدس پامال ہوتاہے لیکن قلم بھی خاموش ہیں زبان بھی کنگ ہے ۔لب بھی سل جاتے ہیں ۔ والی اللہ المشتکی ۔

2: مسلمانوں میں بھائی چارگی کا قیام : رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدنی معاشرے میں مسجد نبوی کی تعمیر کا اہتمام کرکے باہمی اجتماع اور میل ومحبّت کا ایک مرکز قائم کیا وہیں آپ ایک اور عظیم ترین کام انجام دیا جو تاریخ انسانی کا ایک تابناک کارنامہ ہے وہ ہے مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چار ے کا قیام ۔

                علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :’’ پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جناب انس رضی اللہ عنہ کے مکان میں مہاجرین وانصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا ۔ کُل نوّے آدمی تھے ، آدھے مہاجرین اور آدھے انصار ۔ بھائی چارے کی بنیاد یہ تھی کہ ایک دوسرے کے غمخوار ہوں گے ، اور موت کے بعد نسبی قرابتداروں کے بجائے یہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ۔ وراثت کا یہ حکم جنگِ بدر تک قائم رہا ۔ پھر یہ آیت ناز ہوئی کہ

 

{ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا    ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا           ۝} [الأحزاب: 6]

ترجمہ:  اور کتاب اللہ کی رو سے مومنین اور مہاجرین کی نسبت، رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ (ترکہ کے) حقدار ہیں ۔ البتہ اگر تم اپنے دوستوں سے کوئی بھلائی کرنا چاہو (تو کرسکتے ہو) کتاب اللہ میں یہی کچھ لکھا ہوا ہے۔

 تو انصار ومہاجرین میں باہمی توارث کا حکم ختم کردیا گیا لیکن بھائی چارے کا عہد باقی رہا ۔[14]

امام غزالی رحمہ اللہ اس بھائ چارے کے مقصود سے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’ جاہلی عصبیتیں تحلیل ہوجائیں۔ حمیّت وغیرت جو کچھ ہو وہ اسلام کے لیے ہو ۔ نسل ، رنگ اور وطن کے امتیازات مٹ جائیں ۔ بلندی وپستی کا معیار انسانیت وتقویٰ کے علاوہ کچھ اور نہ ہو۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس بھائی چارے کو محض کھوکھلے الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا تھا بلکہ اسے ایک ایسا نافذ العمل عہد وپیمان قرار دیاتھا جو خون اور مال سے مربوط تھا ۔ یہ خالی خولی سلامی اور مبارکباد نہ تھی کہ زبان پر روانی کے ساتھ جاری رہے مگر نتیجہ کچھ نہ ہو بلکہ اس بھائی چارے کے ساتھ ایثار وغمگساری اور مُوَانَسَت کے جذبات بھی مخلوط تھے اور اسی لیے اُس نے اس نئے معاشرے کو بڑے نادر اور تابناک کارناموں سے پُر کردیا تھا ۔‘‘[15]

پیارے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کے قائم کردہ اس بھائی چارے نے ایسی نادر ونایاب مثالیں چھوڑیں کہ آئندہ نسلوں تک اس کی مثال ملنا مشکل ہوگئی ۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرادیا ۔ اس کے بعد جناب سعد رضی اللہ عنہ نے عبد الرحمٰن بن عوف سے کہا :’’ انصار میں میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔  آپ میرا مال دو حصوں میں بانٹ کر ( آدھا لے لیں ) اور میری دو بیویاں ہیں ۔ آپ دیکھ لیں جو زیادہ پسند ہو مجھے بتادیں میں اُسے طلاق دے دوں ،اور عدت گذرنے کے بعد آپ اس  سے شادی کر لیں‘‘۔ جناب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا ، اللہ آپ کے اہل ومال میں برکت دے ۔ آپ لوگوں کا بازار کہاں ہے ؟ لوگوں نے انہیں بنو قینقاع کا بازار بتلادیا ۔ وہ واپس آئے تو ان کے پاس کچھ فاضل پنیر اور گھی تھا ۔ اس کے بعد وہ روزانہ جاتے رہے ۔ پھر ایک دن آئے تو اُن پر زردی کا اثر تھا ۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دریافت فرمایا، یہ کیاہے ؟ انہوں نے کہا میں نے شادی کی ہے ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا، عورت کو مہر کتنا دیا ہے ؟ بولے ایک نَواۃ ( گھٹلی ) کے ہموزن (یعنی کوئی سوا تولہ ) سونا۔‘‘

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا انصار ومہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ کوئی بھی معاشرہ مسلمانوں کی باہمی اخوت کے بغیر اسلامی معاشرہ نہیں بن سکتا۔ جب تک ہمارے معاشرے میں قومیت چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو مٹ کر ایک اسلامی اخوت کی لڑی میں پرو نہیں جاتی تب تک اسلامی معاشرے کی تشکیل اور تکمیل ممکن نہیں ۔

بتانِ رنگ و خون کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا

نہ تورانی  رہے  باقی نہ ایرانی نہ افغانی

اقبال اپنے ان چند اشعار میں ہمیں بہت کچھ سمجھا گئے :

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ مسلمان بھی ہو!

3: اسلامی تعاون کا پیمان : پیارے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسلامی بھائی چارے کے قیام کے بعد مدینہ کے باسیوں کے مابین ایک پیمان بھی کرایا جس کے ذریعے ساری جاہلی کشاکش اور قبائلی کشمکش کی بنیاد ڈھادی اور دور جاہلیت کے رسم ورواج کیلئے کوئی گنجائش نہ چھوڑی ۔

یہ عہد وپیمان پندرہ بنیادی دفعات پر مشتمل تھا جسے کتب سیرت میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔[16]

 4: تعمیر معاشرہ میں معنویات کا کردار

کسی بھی معاشرے کا ظاہری رُخ درحقیقت ان معنوی کمالات کا پَرتَو ہوتاہے جس سے اس

 معاشرے کے مکیں بہرہ ور ہوتےہیں ۔ معنویاتی اثر کے بغیر کوئی معاشرہ چاہے کتنے بھی مضبوط تعمیری خطوط پر استوار ہو وہ کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب حکمتِ بالغہ سے مدنی معاشرہ تعمیر کیا اس کی بنیادوں کی مضبوطی میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس معاشرے کے مکینوں کی تعلیم وتربیت ، تزکیہ نفس اور مکارمِ اخلاق کی ترغیب میں مسلسل کوشاں رہتے تھے اور انہیں محبت وبھائی چارگی ، مجدوشرف اور عبادت واطاعت کے آداب برابر سکھاتے اور بتاتے رہتے تھے ۔ اس کی چند مثالیں ملاحظ فرمائیں :

ایک صحابی  رضی اللہ عنہ  نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟ ( یعنی اسلام میں کونسا عمل بہتر ہے ؟) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ تم کھانا کھلاؤ اور شناسا اور غیر شناسا سبھی کو سلام کرو‘‘۔[17]

سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ فرماتے ہیں میں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے جو سب سے پہلی بات فرماتے سنا وہ یہ تھی کہ ’’اے لوگو! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ ، صلہ رحمی کرو ، اور رات جب لوگ سورہے ہوں نماز پڑھو ۔ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے ‘‘۔

ایک حدیث میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:’’ وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور تباہ کاریوں سے مامون ومحفوظ نہ رہے ‘‘۔

اور آپ نے فرمایا:’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ‘‘ ۔

اور فرماتے :’’ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرے جو خود اپنے لیے پسند کرتا ہے ‘‘۔

الغرض آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے نئے معاشرے کو ایسی اعلیٰ اقدار پر استوار کیا کہ وہ معاشرہ آئندہ نسلوں کیلئے نمونہ راہ بن گیا ۔ آج بھی اگر ہم اپنے معاشرہ کو پاکیزہ اور پرامن بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں انہی خطوط پر عمل کرنا پڑے گا جن پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدنی معاشرہ  تعمیر کیا تھا ۔

 سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ جس شخص کو طریقہ اختیار کرنا ہو وہ گذرے ہوئے لوگوں کا طریقہ اختیار کرے کیونکہ زندہ کے بارے میں فتنہ کا اندیشہ ہے ۔ وہ لوگ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے

  ساتھی تھے ۔ اس امت میں سب سے افضل ، سب سے نیک دل ، سب سے گہرے علم کے مالک ، اور سب سے زیادہ بے تکلف ۔ اللہ نے انہیں اپنے نبی کی رفاقت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے منتخب کیا ، لہذا ان کا فضل پہچانو اور ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرو اور جس قدر ممکن ہو ان کے اخلاق اور سیرت سے تمسّک کرو ، کیونکہ وہ لوگ ہدایت کے صراطِ مستقیم پر تھے ۔‘‘ [18]

مسلم قوم کیلئے ان کی ثقافت وتہذیب الغرض ہرحوالے سے ان کا ماضی بہت اہم ہے ۔ ماہرین عمرانیات قوموں کے ماضی کو ان کی یاداشت سے تشبیہ دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں جو قوم اپنا ماضی بھول جائے وہ اپنی یاداشت کھو بیٹھتی ہے ۔ پھر ایسی قوم پر ایک وقت آتاہے ، جب وہ خود قصہ ماضی بن جاتی ہے ۔ اس لئے ماضی سے رہنمائی لینا بہت ضروی ہے ۔ پیارے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیاجو تاریخ کا سب سے زیادہ باکمال اور شرف سے بھرپور معاشرہ تھا ۔اور اُس معاشرے کے مسائل کا ایسا خوشگوار حل نکالا کہ انسانیت نے ایک طویل عرصے تک زمانے کی چکی میں پِس کر اور اتھاہ تاریکیوں میںہاتھ پاؤں مارکر تھک جانے کے بعد پہلی بار چین کا سانس لیا ۔

اس نئے معاشرے کے عناصر ایسی بلند وبالا تعلیمات کے ذریعے مکمل ہوئے جس نے پوری پامردی کے ساتھ زمانے کے ہر جھٹکے کا مقابلہ کرکے اس کا رُخ پھیر دیا اور تاریخ کا دھارا بدل دیا ۔

وآخر دعوانا أن الحمدلله رب العالمين

 



[1] مقدمہ ابن خلدون

[2] سنن ابن ماجۃ : المقدمۃ، باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين

[3] مصنف نے یہاں ایک قوم کا ذکر کیا جسے ہم نے بیان کرنامناسب نہ سمجھا جسے لفظ ’’لوگ ‘‘ میں بدل دیا ہے ۔

[4] معالجات شافیہ بحوالہ کتابیں اپنے آباء کی ۔مصنفہ رضا علی عابدی ص 65.66

[5] http://ur.wikipedia.org/

[6] پاکستانی کلچر ، ص 42

[7] بسنت اسلامی ثقافت اور پاکستان از محمد عطاء اللہ صدیقی ص 40

[8] بسنت اسلامی ثقافت اور پاکستان ص 42

[9] الثقافة الإسلامية تعريفها مصادرها مجالاتها تحدياتها. للأستاذ الدكتور مصطفى مسلم ولأستاذ الدكتورفتحي محمد الزغبي

[10] صحیح بخاری: 3650

[11] http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/24-Sep-2013

[12] کتابیں اپنے آباء کی  از رضا علی عابدی

[13] رحیق المختوم از صفی الرحمن مبارکپوری، ص 255

[14] زاد المعاد 2/56:

[15] فقہ السیرہ ص 140،141

[16] صحیح بخاری: باب اخاء النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  بین المہاجرین والانصار

[17]  ملاحظہ کیجئے رحیق المختوم ص 258،259:

[18] مشکوٰۃ ۔ 1/ 32

Read 121 times
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

 اہلِ حق کو پھرمعرکہ درپیش ہے

 اس وقت دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے ، جو کل ناممکن نظر آتاتھا آج ممکناتی طور پر وجود پاچکاہے ۔ امن وجنگ سب کے طور طریقے بدل چکے ہیں۔  ہر قوم دوسری قوم کو نظریاتی مات دینے پہ تلی ہوئی ہے۔ اس میں کوئی اثر انداز ہے اور کوئی اثر پذیر ۔ علامہ ابن خلدون نے خوب کہا کہ

’’المغلوب مولع بالاقتداء بالغالب،فی شعاره وزيه،ونحلته وسائر احواله وعوائده‘‘

’’ مغلوب قوم ہمیشہ غالب قوم کے بھیس ، نشانات ، لباس ، مذہب ، عادات واطوار اور طور طریقوں کی دلدادہ ہوتی ہے ‘‘

پھر اس مرعوبیت کی وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’المغلوب یری ان غلب الغالب لیس بعصبية ولا قوة بأس ، وانما بما انتحله من العوائد والمذاهب ‘‘[1]’’کیونکہ مغلوب یہ سمجھتاہے کہ غالب آنے والا مجھ پر کسی قوت وطاقت وعصبیت کی بنا پر غالب نہیں آیا بلکہ اس کے غالب ہونے کی وجہ وہ عادات وتقالید اور وہ مذھب ہے جس کا وہ پیرو کار ہے ‘‘۔

بعینہ یہی حال اس وقت ان اسلامی ممالک کاہے جہاں مغربی استعمار رہاہے ۔جن میں بالخصوص ذکر بر صغیر پاک وہند کا آتاہے ۔ یہاں سے انگریز اپنے لاؤولشکر لےکر تو روانہ ہوگیا اور ہمیں اس دھوکے میں رکھ گیا کہ تم لوگ آزاد ہو ۔ مگر نظریاتی طور پر یہ اس قوم کو ایسے جھال میں پھانس گیا کہ ہم آزاد ہونے کے بعد بھی غلام ہیں ۔ ہمارے معاشرے کا نہ لباس اپنا ہے ، نہ زبان ، نہ تہوار اپنے ہیں نہ تعلیم وتہذیب سب کچھ ادھار لیے بیٹھے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے پاس پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  اعلیٰ وارفع تہذیب وثقافت لیکر آئے تھے اور فرمایا تھا کہ

’’قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ،‘‘[2]

 یعنی:میں تم کو ایسی صاف ہموار زمین پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کے دن اور رات برابر ہیں ، اس سے وہ ہٹے گا جو ہلاک ہونے والا ہوگا، جو تم میں سے زندہ رہے گا وہ عنقریب شدید اختلاف دیکھے گا تم پر میرا طریقہ اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کا طریقہ لازم ہے اس کو دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا اور تم پر اطاعت امیر لازم ہے خواہ وہ حبشی غلام ہو کیونکہ مومن نکیل ڈالے اونٹ کی طرح ہوتا ہے جیسے چلایا جاتا اطاعت کرتا ہے۔

اب جاہلیت جدیدہ ( مغربی  اور ہندوتہذیب ) کی اساسیات اور اسلامی تعلیمات کا تقابل کر کے دیکھیں تویہ حقیقت خود ہی آشکار ہوجاتی ہے کہ انسانیت کی فلاح اسلامی تہذیب وثقافت کو اپنائے بغیر ممکن نہیں ۔ موجودہ تہذیب کا سب سے پر لطف نعرہ خواتین کے حقوق کا ہے ۔ اور حقیقت میں دیکھا جائے تو جدید تہذیب وثقافت نے عورت کو ایک پروڈکٹ بنانے سے زیادہ کوئی حق نہیں دیا ۔ جتنے بھی عالمی قوانین بنے وہ محض عورت کو گھر کی چار دیوار سے نکالنے اور اسے سجا کر پیش کرنے سے آگے نہ بڑھ سکے ۔ عورت کے ساتھ ظلم صدیوں سے ہوتا آیا ۔ دنیا بھر کے قوانین نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا کہ کسی طرح عورت پر ہونے والے ظلم اور اس سے ناروا برتاؤ کے آگے بند باندھے جائیں ۔ جیسے زمانہ جاہلیت میں بچی کو پیدائش کے بعد زندہ درگور کردیا جاتاتھا ، اسی طرح کی رسم ہندوستان میں رائج رہی اور ہندوستانی تہذیب میں بیٹی کی ولادت کے فورا بعد اسے مارڈالنے کی رسم جاری تھی ۔ اٹھارہویں صدی اور انیسویں صدی کے ابتدا کا ادب پڑھ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران وہاں کے معاشرہ نے بیوہ عورتوں کی دوسری شادی پر جو کڑی پابندیاں لگا رکھی تھیں وہ اس وقت بھی ہمارے نام نہاد مسلمان معاشرے میں زور وشور سے جاری وساری ہے ۔ یہاں بھی لڑکی کی پیدائش اور بیوہ کی شادی کوبرا جانا جاتاہے ۔

48،1847کے دورانیہ میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی حاکمیت وسیع تر ہوتی جارہی تھی اور اس کا سکہ اور دھاک بھی ہندوستان کے غالب علاقوں پر بیٹھ چکی تھی ۔ اس وقت انہوں نے ہندوستان کی چند فرسودہ رسموں کو بذریعہ آئین کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے ۔ اسی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے ایک ہندوستانی مصنف سیدتفضل حسین خان نے ۔ معالجات شافیہ ۔ کتاب لکھی

 جس میں ہندوستان کی قبیح رسومات کی بیخ کنی کی اور 1847 میں حکومت کی جانب سے ان رسومات کے خاتمہ کیلئے کی جانے والی کاوشوں کا تذکرہ بھی کیا اور بالآخر معترف ہوئے کہ کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوسکیں ۔

معالجات شافیہ سے اقتباس ملاحظہ ہو :

 ’’ متعدد علاقوں میں حاکموں نے کوشش کی کہ لڑکیوں کے قتل کی رسم کو ختم کیا جائے اور یہ حکم بھی دیا کہ جو کوئی لڑکیوں کو قتل کرے گا وہ قید ہوگا اور مال واسباب اس کا بحق ِ حکومت ضبط ہوگا ۔ ‘‘ پھر حکمرانوں کے چند اچھے اقدامات کا ذکر کرنے کے بعد رقمطراز ہیں ’’ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ احکام کارگر ہوسکیں گے ؟

ہر عدالت کا دستور یہ ہے کہ استغاثہ اور شہادت کے بغیر سزا نہیں دیتی ، لہٰذا لوگ [3]اب خوفِ حاکم سے بہت احتیاط کرتے ہیں ، مبادا بیٹی کے قتل کی اطلاع حاکم تک پہنچے تو خرابی لازم ہے ، اس واسطے اب اس قوم میں لڑکیوں کی ولادت بہت خفیہ مقام میں ہوتی ہے جہاں کوئی مدعی یا گواہ نہیں مل سکتا۔ یہ صورت حال جاری رہی تو یہ لوگ ہمیشہ اپنی لڑکیوں کو قتل کرتے رہیں گے اور کسی عدالت میں جرم ثابت نہیں ہوسکے گا۔  بعض حاکموں نے علاقہ داروں کو حکم دیا ہے کہ تم لوگ خبر گیری کرو ۔ ان لوگوں نے ہر جگہ چوکیدار مقرر کیے ہیں ، لیکن یہ سب امور بیرونی ہیں ۔ حاکموں نے یہ حکم نہیں دیا کہ گھروں کے اندرونی اور خفیہ امور کی خبرداری کرو، لہٰذا بیرونی تدبیر کیا کام آوے گی ؟ ۔

اب گورنمنٹ نے گزٹ آگرہ ، مؤرخہ4مئی 1847ء عیسوی جاری کیا ہے جو دیوان جے پور کے خط پر مشتمل ہے اور عبارت اس کی یہ ہے : ’’ہم دیکھتے ہیں کہ اس کام میں ایک قباحت یہ ہے کہ فرقہ بھاٹ اور چارن کے بہت سے شخص تنگ معاش ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر ان کی لڑکیوں کی شادی کا اہتمام ان کے مرتبے کے مطابق نہ ہوگا تو عزت میں بٹہ لگے گا ، لہٰذا وہ ہر طرح کا خطرہ مول لیتے ہیں ۔ جب تک انسداد اس کا نہ ہوگا لڑکیوں کی ہلاکت ترک ہونے کی صورت ممکن نہیں ‘‘۔آخر میں مصنف نے حکومت کی طرف سے اس رسم کے خاتمے کیلئے جو آرڈی ننس جاری کیا اس کا تذکرہ کیا  ہے جس میں یہ قرار دیا گیا کہ ہر شخص اپنی آمدنی کا صرف آٹھواں حصہ شادی میں صرف کرسکتاہے اس سے زائد کسی کو روا نہ ہوگا ۔ اور ااس آرڈی ننس میں اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ ’’ اب یقین کامل ہے کہ آئندہ لڑکیاں ضائع نہ کی جایا کریں گی اور برابر والوں کے درمیان شادیاں ہوا کریں گی کیونکہ جب سالانہ آمدنی کا صرف آٹھواں حصہ شادی پر صرف کرنے کی قید لگادی گئی ہے تو کسی کو اندیشہ ہتک کا نہیں رہے گا اور کوئی شخص اس کو بار بھی نہ سمجھے گا ‘‘۔[4]

لڑکیوں کی پیدائش کو برا سمجھنے اور ان کے ناحق قتل کے حوالے سے اس وقت عالمی قوانین بھی موجود ہیں لیکن وہ قوانین اتنے زیادہ مؤثر نہیں کیونکہ جس قانون میں للہیت نہیں وہ لوگوں پر ظاہری تو چند پابندیاں لگا سکتے ہیں لیکن انسان کی روحانی تربیت اور جرم کو جڑ سے ختم نہیں کرسکتے ۔اس لئے کہ  ایک قطعی اور حتمی بات یہ ہے کہ جب تک بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا نہیں ہوتا ، یوم آخرت پر اس کا ایمان صحیح نہیں ہوتا اس وقت تک ان تمام فرسودہ رسومات کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔

معاشرہ سے عورت پر جرائم وظلم کے خاتمے کیلئے اس وقت ملکی وعالمی قوانین کی حیثیت سے جو اقدامات کئے جارہے ہیں یا کئے جاچکے ہیں ان سے کہیں زیادہ بہتر ، اعلیٰ وارفع تعلیمات اسلام نے دی ہیں ۔

لڑکیوں کے قتل کی ممانعت کرتے ہوئے رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

 { وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيْرًا}  [الإسراء: 31]

ترجمہ: اور مفلسی کے اندیشہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ۔ انھیں اور خود تمہیں بھی رزق ہم دیتے ہیں۔ انھیں قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

نیز فرمایا:

{وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ      ۝ ۽بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ        } [التكوير: 8، 9]

ترجمہ: اور زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گاکہ وہ کس جرم میں ماری گئی تھی؟

نکاح میں آسانی پیدا کرنے کے لئے شریعت نے متعدد احکامات بیان فرمادئے ۔ عورت کو پردہ کے زیور سے آراستہ کیا تاکہ اس کی عفت وعصمت محفوظ رہے ۔ پھر بچیوں کی تربیت اور ان کی نگہداشت کرنے والے کےلئے جو ترغیبات دیں انہیں پڑھنے کے بعد انسان کا دل خود ہی اسے اس عمل پر ابھارتاہے ۔ اور پھر محرم اور غیر محرم کے اصول وضع کرکے حفاظت وصیانت کا ایسا اہتمام کیا کہ نہ ایسا کوئی انسانی فکر کا تراشیدہ قانون کرسکتاہے اور نہ عمل کرواسکتاہے ۔

اب ہمارے مسلمانوں کو وہ اعلیٰ وارفع تہذیب پسند نہ آئی اور بقول ابن خلدون فکری طور پر غالب کی عادات ، تقالید ، اور رہن سہن ، رسم ورواج کو اپنی زندگی میں رائج کرلیا ۔ اور پھر اسی جاہلیۃ الاولیٰ کی جانب پلٹ گئے ۔ اس وقت سب سے خطرناک معرکہ مسلمانوں کو فکری غلامی سے آزادی دلانے کا ہے ۔اس وقت ہماری قوم ہندو اور مغرب کی ثقافت وتہذیب سے اتنی متاثر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ۔ سہ ماہی البیان کی اس خصوصی اشاعت کا مقصد بھی اس اسلامی ثقافت کا احیاء اور اس کی    یا دہانی مقصود ہے کہ کاش ہماری یہ قوم اللہ کے دشمنوں کے اصل ہتھیار اور اس کی اصل چال کو سمجھ سکے ۔

ثقافت کیا ہے؟

ثقافت یا کلچر سے کیا مراد ہے ؟

ثقافت سے مراد کسی قوم یا طبقے کی تہذیب ہے۔ اہل علم نے ثقافت کی تعریف یہ مقرر کی ہے کہ ’’ثقافت اکتسابی یا ارادی یا شعوری طرز عمل کا نام ہے‘‘۔ اکتسابی طرز عمل میں ہماری وہ تمام عادات ، افعال ، خیالات اور رسوم اور اقدار شامل ہیں جن کو ہم ایک منظم معاشرے یا خاندان کے رکن کی حیثیت سے عزیز رکھتے ہیں یا ان پرعمل کرتے ہیں یا ان پر عمل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم ثقافت یا کلچر کی کوئی جامع و مانع تعریف آج تک نہیں ہوسکی۔[5]

نیز یہ بھی کہا گیا کہ ’’ ثقافت کسی معاشرے میں موجود ان رسم و رواج اور اقدار کے مجمع کو کہا جاتا ہے جن پر اسکے تمام افراد مشترکہ طور پر عمل کرتے ہوں‘‘۔

کلچر کی ہیئت وتعریف بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر جمیل جالبی رقمطراز ہیں :’’ کلچر اس کُل کانام ہے جس میں مذہب وعقائد ، علوم اور اخلاقیات ، معاملات اور معاشرت ، فنون وہنر ، رسم ورواج ، افعال ارادی اور قانون ، صرفِ اوقات اور وہ ساری عادتیں شامل ہیں جن کا انسان معاشرے کے ایک رکن کی حیثیت سے اکتساب کرتاہے اور جن کے برتنے سے معاشرے کے متضاد ومختلف افراد اور طبقوں میں اشتراک ومماثلت، وحدت اور یکجہتی پیدا ہوجاتی ہے جن کے ذریعے انسان کو وحشیانہ پن اور انسانیت میں تمیز پیدا ہوجاتی ہے ۔ کلچر میں زندگی کے مختلف مشاغل ، ہنر اور علوم وفنون کو اعلیٰ درجہ پر پہنچانا ، بری چیزوں کی اصلاح کرنا ، تنگ نظری اور تعصب کو دور کرنا ، غیرت وخوداری ، ایثار ووفاداری پیدا کرنا ، معاشرت میں حسن ولطافت ، اخلاق میں تہذیب ، عادات میں شائستگی ، لب ولہجہ میں نرمی ، اپنی چیزوں ، روایات اور تاریخ کو عزت اور قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھنا اور ان کو بلندی پر لے جانا بھی شامل ہے ‘[6]

ثقافت اور مذہب :

اس وقت مسلمانوں میں کافی حد تک غیر اسلامی تہوار در آنے کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ثقافت کو مذہب سے الگ چیز سمجھا جاتاہے ۔ اس لئے سادہ لوح مسلمانوں کی اکثریت بسنت ، ویلنٹائن ڈے ، اپریل فول وغیرہ کو مذھبی نہیں بلکہ ثقافتی تہوار سمجھتی ہے ۔ اور اسی کو بنیاد بناکر ثقافتی تہواروں میں ہر وہ کام ہوتاہے جسے کوئی برے سے برا شخص بھی مذہبی عمل نہیں کہہ سکتا۔ لہٰذا عامۃ الناس اور چند نام نہاد دانشوروں کے ہاں جو مذہب اور ثقافت کے دو الگ الگ خانے ہیں ،یہی وہ بنیادی غلطی اور غلط تصور ہے کہ جب تک اس کا ازالہ نہیں ہوتا انسان کا نقطہ نظر صحیح نہیں ہوسکتا ۔ مذہب اور کلچر کا تعلق بہت گہرا ہے لیکن اس بات کا انحصار اس مذہب اور کلچر کو ماننے والوں پر ہے کہ وہ کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں مثلا یورپ کا جدید ذہن رکھنے ولا شخص بھی مذہب کو کلچر کا عنصر سمجھتاہے ، یعنی اس کے نزدیک کلچر ایک برتر شے ہے ۔لہٰذا ان کے ہاں اگر مذہب اور کلچر میں تصادم ہو تووہ اہل مغرب مذہب کو نظر انداز کردیں گے اور کلچر کو اس پر ترجیح دیں گے ۔

’’یورپ کے لوگوں کی اکثریت اب بھی عیسائیت کو اپنا مذہب قرار دیتی ہے مگر یورپی معاشرے میں بہت سے قوانین ، اقدار اور سماجی ادارے ایسے ہیں جن کا وجود عیسائیت کی تعلیمات سے لگا نہیں کھاتا چونکہ عرصہ قدیم سے یہ اس معاشرے میں موجود ہیں لہٰذا وہ انہیں اپنے کلچر کا حصہ سمجھتے ہوئے خیرباد کہنے کو تیار نہیں ۔[7]

مثلا جسم فروشی ، شراب نوشی ، بے نکاح جنسی تعلقات وغیرہ یہ سب عیسائی مذہب میں ویسا ہی گناہ ہیں جیسے اسلام میں مگر یورپ وامریکہ میں Prostitution ، کو ایک مستقل سماجی ادارہ کی حیثیت حاصل ہے ۔ مے نوشی اور زنا اس معاشرہ کا کلچر بن چکا ہے لہٰذا وہ لوگ اسے آئینی تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں ۔

ہندو مت میں تقریبا ہر عمل کو مذہبی درجہ دیا جاتاہے اس لئے وہاں رقص ، گانا بجانا ، انواع واقسام کی موسیقی بھی مذہب کا درجہ رکھتی ہے ۔ ان کے ہاں ہر رسم تقریبا مذہب کا درجہ رکھتی ہے ۔ ہندوؤں کے ہاں جیسے خداؤں کی تعداد ان گنت ہے اسی طرح وہ اپنے معاشرے میں رائج ہر عمل کو مذہب کا درجہ دے دیتے ہیں ۔ اور جسے انہوں نے مذہب کا درجہ نہ دیا ہو اسے منانے میں عار محسوس کرتے ہیں۔ جو دوسرے معاشروں سے برآمد کی گئی ثقافتی اقدار ہیں وہ انہیں اپنے متصادم تصور کرتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ رقص ، موسیقی ، ناچ گانے کو تقدس عطا کرنے والے ہندو معاشرے میں وہاں کا مذہبی طبقہ ویلنٹائن ڈے منانے کی اجازت نہیں دیتا ، کیونکہ یہ خالصتاً یورپی اور درآمد شدہ تہوار ہے ۔ ہندوستان میں نیشنل اِزم (قومیت) کا بہت پر چار کیا جاتا ہےجو محض کھوکھلا نعرہ ہے۔ وہ میڈیا اور فلموں، ڈراموں کے ذریعے ، سب اچھا ہے ، کا مظاہر ہ کرکے جمہوریت او ر قومیت کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے ہر پرو گرام ، ہر ڈرامہ اور ہر فلم میں ہندو مذہب کا کھلم کھلا پر چا ر ہو تا ہے اور ہزاروں سال پرانی برھمو سماج کی تہذیب کی نمائندگی کی جاتی ہے۔ اس سے ہر ذی شعور اندازہ کرسکتاہے کہ ہندو اپنی تہذیب وثقافت کے ساتھ جنون کی حد تک منسلک ہیں ۔ ہندو قوم درآمدی ثقافت کی بیخ کنی کرتی ہے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ۔ حتی کہ مسلمانوں نے وہاں ہزار سال سے زائد عرصہ حکومت کی ،اب بھی وہاں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں جنہوں نے وہاں کے تہذیب وتمدن   کو ترقی دی، سنوارا مگر آج بھی ہندو کا خیال مسلمان قوم اور حکمرانوں کے بارے میں یہ ہے کہ مسلمانوں کے معاملے میں ان کے بچو ں کو پر تھوی راج، چوہان، ٹی وی ڈرامے جیسے افکار کی روشنی میں پروان چڑھا یا جاتا ہے کہ ہندو ستان سونے کی چڑیا تھی یہاں ڈاکو لو گ اسے لوٹنے کے لیے آتے تھے ۔ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہاں تو پانچ ذات پات کے لو گ بستے تھے ۔ تین ذاتوں کے پاس تو جینے کا حق بھی نہیں تھا ۔ انسانیت سسک سسک کر اور بلک بلک کر تڑپ رہی تھی ۔ اور پھر انہی ڈاکوؤں نے یہ ظلم کا طلسم توڑا اور ہندوستان کو ایک اکائی میں پر و دیا ۔ اور نیچ ذات کے لوگوں کو بھی انسان ہونے کا احساس ملا اور وہ بھی دوسری اقوام کے برابر ہوگئے۔ ہر مذہب کے نمائندے کو اپنے اپنے انداز میں عبادت و پو جا کا کھلا اختیار بھی انہی ڈاکوؤں نے دیا ۔ ستی کی رسم کو بھی مسلمانوں نے ختم کر وایا ۔ کیونکہ یہ ہندؤوں کے مذہب کا حصہ تھا اور وہ انگریز جس کی پو جا کا درس دیا جا تا ہے اس نے آتے ہی ستی کی رسم پر پابندی لگا دی۔ پھر بھی ہندو ستان قومیت اور جمہوریت کے نا م پر ہند و انہ ذہنیت کو پروان چڑھانے میں بیش بہا کام کر رہا ہے ۔ کیونکہ یہ ان کا نظریہ حیات ہے ، مکاری ، عیاری اور جھوٹ و فریب ان کا ہتھیار ہے ۔ ان کی ثقافت میں جہاں بدن کے چھپانے کا کوئی اصول نہیں۔ وہیں سچ بولنے کا بھی کوئی رواج نہیں ۔ یہی ان کی تہذیب ، ثقافت اور کلچر ہے ۔

اسلا م کا تصور ثقافت :

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے وہ اپنے ماننے والوں کو ایک مرکزی نظامِ حیات اور نظامِ اخلاق  و اقدار دیتاہے اور پھر تمام اقوال وافعال رسوم ورواج الغرض مکمل انسانی زندگی کو اسی نظام حیات اور نظامِ اقدار سے منضبط کرتاہے ۔ اسلام ہر ثقافت اور تہذیب کو اپنی افکار وتعلیمات کے مطابق پروان چڑھتے دیکھنا چاہتاہے ۔ اسلام کا جامع مفہوم ’’سلامتی ‘‘ہے۔ اس لئے وہ ہر کام میں سلامتی کے پہلو کو برتر رکھتاہے ۔

’’ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ثقافت کو اپنے اندر ضم کرنا چاہتاہے ۔ اسلام میں مذہب اور ثقافت کا تعلق بے حد واضح ہے ، یہاں مذہب کو ایک برتر خدائی حکم کی حیثیت سے ہر اس ثقافتی عمل کو مسترد کرنے کا اختیار ہے جو اس کے بنیادی تصور سے متصادم ہو ۔ اسلامی تصور کے مطابق مذہب کلچر کا محض   ایک جزو نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک ایسا برتر نظام ہے جو ثقافت کو اپنے تقاضوں کے مطابق ڈھالتااور تشکیل دیتاہے!![8]

اسلام نے ہر عمل کو عقیدہ وایمانیات سے مربوط کیا ہے ۔جو اس پر عمل درآمد کو آسان بنا دیتاہے ۔ بندے کے دل میں اللہ کا خوف جگہ بنالے تو دنیا کی بڑی سے بڑی لالچ اور طمع بھی اس کے ایمان وعمل کو متزلزل نہیں کرسکتی ۔

اسلامی نقطہ نظر سے ثقافت کی تعریف :

اسلام کے اسی بنیادی فلسفہ کو سامنے رکھتے ہوئے اہل علم نے اسلامی ثقافت کی جو تعریف بیان کی ہے وہ یہ کہ :

"مجموعة المعارف والمعلومات النظرية ، والخبرات العلمية المستمدة من القرآن الكريم والسنة النبوية، التي يكتسبها الإنسان ، ويحدد على ضوءها طريقة تفكيره ، ومنهج سلوكه في الحياة "[9]

’’ نظریاتی معارف ومعلومات اور علمی تجربات کا وہ مجموعہ جنہیں قرآن وسنت سے اخذکیا گیا ہے ۔ جسے انسان اکتساب کرتاہے ، اور اس کی روشنی میں اپنی سوچ کا طریقہ کار اور اپنی زندگی کے منہج وسلوک کا انتخاب کرتاہے ۔

 اسلامی ثقافت کی خصوصیات ؟

ہرذی شعور انسان کے ذہن میں یہ سوال ابھر سکتاہے کہ ثقافت میں صرف اسلام ہی کیوں؟ غیروں کے رسوم ورواج اپنانے میں کیا حرج ہے ؟ تو اس کا جوا ب یہ ہے کہ دراصل ثقافت اور کلچر ایسا عمل ہے جس کے فوائد سے انسان اس وقت بہرور ہوسکتاہے جب معاشرے میں ہر ایک کو امن وآشتی نصیب ہو، ہر ایک کی ضروریات پوری ہوں ، ہر انسان اپنے آپ کو محفوظ تصور کرے ، اور ہر انسان ایک نارمل زندگی گذارے اس پر کسی قسم کا نفسیاتی یا ذہنی دباؤ نہ پڑے ،یہ سب چیزیں تب انسان کو

  نصیب ہوسکتی ہیں جب وہ ایسی تہذیب اور ثقافت سے وابستہ ہو جو اسے مطلوبہ ضروریات مہیا کرسکے اور اسے لاحق ہونے والے نقصان سے بچا سکے، تو یہ سب اسلامی ثقافت کو اپنائے بغیر ممکن نہیں ۔

اسلامی ثقافت میں دیگر ثقافتوں کے مقابلے میں جو امتیازات اور خصوصیات پائی جاتی ہیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں :

 اول : اسلامی ثقافت ربانی ثقافت ہے ۔ دنیا میں دیگر جتنی بھی ثقافتیں ہیں وہ انسانی ذہن کی تراشیدہ ہیں۔ اسلامی ثقافت کے اصول قرآن وسنت واجماع امت سے لئے گئے ہیں جن میں سراسر فلاح ہی فلاح ہے ۔ اس میں توحید باری جل وعلا کی جانب دعوت بھی دی گئی ہے ۔ اور مکارم اخلاق ، حقد اروں کو حق دینے ، ظلم کو ختم کرنے ، صلہ رحمی ، اور ہر قسم کی بھلائی کے پھیلانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے ۔ اسلامی ثقافت انسان کو اللہ کی عبودیت کا رنگ چڑھا دیتی ہے

{صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ۡ وَّنَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ   ١٣٨؁} [البقرة: 138]

ترجمہ: (نیز ان سے کہہ دو کہ : ہم نے) اللہ کا رنگ (قبول کیا) اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے۔ اور ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا خوف ہی وہ بنیادی چیز ہے جو انسان کو ظلم اور کسی کی حق تلفی سے روکتی ہے جب اللہ کے خوف سے دل عاری ہوجائیں تو پھر انسان ہی حیوان بن جاتاہے اور ایسے اعمال کا مرتکب ہوتاہے جسے عقول سلیمہ ناپسند کرتی ہیں ۔

دوم : اسلامی ثقافت انسانی فطرت سے مطابقت رکھتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ جس نے انسان کو پید افرمایاہے وہٰ انسانی طبیعت اور فطرت سے بخوبی واقف ہے ۔ اور جانتاہے کہ کونسی چیز انسانی طبیعت کے موافق ہے اور کون سی نہیں ، انسان کو اگر آزاد چھوڑ دیا جائے تو اس میں موجود حیوانیت اس پر غالب آجاتی ہے اور ایسے معاملات بجا لاتاہے جومعاشرے میں موجود دیگر افراد کی حق تلفی اور تکلیف کا باعث بنتے ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی اسی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے اسے ایک بنا بنایا نظام عطافرمایا تاکہ اس کیلئے معاشرے میں اعتدال اور توازن قائم رکھنا ممکن ہوسکے ۔

جیسے شہوت ہے : اللہ تعالیٰ نے جہاں زنا سے منع فرمایا وہاں چار تک شادیوں کی بھی اجازت دی تاکہ انسانی فطری ضرورت بھی پوری ہو اور وہ بے راہ روی سے بھی محفوظ رہے ۔

مال ہے : انسان فطری طور پر اس کی حرص رکھتاہے اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کو حرام طریقوں سے حصول مال سے روکا وہیں اسے حلال راہ بھی دکھا دی اس سے انسان کا اپنا مال بھی پاک رہا اور دیگر لوگ بھی مالی زیادتی سے محفوظ رہے اور حق تلفی سے بچ گئے ۔

سوم : اس میں شمول بھی پایا جاتاہے اور کمال بھی ۔اسلامی ثقافت میں یہ بھی خاصیت ہے کہ اس کے قواعد وضوابط مکمل اور تاقیامت ہیں ،نیز معاشرے کے ہر فرد اور ہر پہلو پر اس میں ہدایات دی گئی ہیں ۔ انسان کا نجی معاملہ ہو ، یا اس ماحول میں بسنے والے افراد کا ، چاہے وہ انسان ہوں ، حیوان ہوں ، نباتات ہوں ، یا جمادات ہر ایک کیلئے شریعت نے قواعد وضع کررکھے ہیں ۔ نیز انسانوں کے باہمی حقوق کا بھی اس میں احاطہ کردیاگیاہے ۔

چہارم : توازن اور اعتدال پر مبنی ثقافت ہے ۔اسلامی ثقافت میں توازن اور اعتدال بدرجہ اتم پایا جاتاہے ، انسان سے متعلق جیسا کہ بیان ہوا کہ وہ مادیت ، حیوانیت ، اور روحانیت سے مرکب ہے ۔ پھر اس میں افراد ، جماعتیں ، کنبے ، قبیلے بستے ہیں ۔ ان سب کو برابر برابر حقوق دینا ، ان کی ضروریات کا لحاظ رکھنا ، اور انسانی نفس کے مادہ، حیوانیت اور روحانیت میں اعتدال پیدا کرنا ان سب کی مصلحتوں کا لحاظ رکھنا یہ شریعت اسلامیہ کا ہی کمال ہے ۔ اسلام نے نہ تو اتنا ریاضت وزھد پر ترغیب دی ہے کہ انسان دنیا کو ہی بھول جائے اور نہ اتنا دنیا کی جانب جھکنے کی اجازت دی ہے کہ مقصد ، مدعیٰ اور ھدف ہی دنیا رہ جائے اور انسان  اور حیوان میں کوئی فرق ہی نظر نہ آئے ۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

[وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ                 ؀] [القصص: 77]

ترجمہ: جو مال و دولت اللہ نے تجھے دے رکھا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کرو اور دنیا میں بھی اپنا حصہ فراموش نہ کرو اور لوگوں سے ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ تمہارے ساتھ

 بھلائی کی ہے۔ اور ملک میں فساد پیدا کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

پنجم : ہر دور اور ہر عصر سے مطابقت رکھتی ہے ۔ اسلامی ثقافتی تعلیمات محض زمانہ قدیم سے تعلق نہیں رکھتی ۔ جیسا کہ بعض نام نہاد مسلمان بھی مغرب کی اندھی تقلید میں کہتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اسلامی اصول ثقافت وطرز معاشرت پیش کی جائے تو کہتے ہیں کہ آپ ہمیں پتھر کے دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں ۔ اور یہ بات کہتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے اکابر ، اسلاف بلکہ دو جہاں کے سردار جانب محمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم  اسی دور میں تھے جس دور کو یہ طعن وتشنیع کا نشانہ بناتے ہیں والعیاذ باللہ ۔ بلکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسی دور کو سب سے بہترین دور قرار دیا اور فرمایا:

"خير أمتي قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونھم ثم إن بعدكم قوما يشهدون ولا يستشھدون ويخونون ولا يؤتمنون وينذرون ولا يوفون ويظهر فيھم السمن" [10]

یعنی:میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد متصل ہوں گے۔ پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد متصل ہوں گے عمران بیان کرتے ہیں کہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قرن کے بعد دو مرتبہ قرن فرمایا تھا یا تین مرتبہ۔ پھر ارشاد فرمایا تمہارے بعد کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بغیر طلب و خواہش کے گواہی دیں گے۔ وہ خیانت کریں گے اور امین نہ بنائے جائیں گے۔ وہ نذر مانیں گے اور اپنی نذر کو پورا نہ کریں گے اور یہ لوگ بہت فربہ ہوں گے۔

ایک سچے مسلمان کو بلاشک وریب اس بات کو تسلیم کرنا چاہئے کہ سب سے بہترین دور میرے پیارے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کا دور تھا جسے یہ لوگ پتھر سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اور وہ دور عقائد ، اخلاق ، اقدار ،عمل، غرض ہر جہت سے اعلیٰ وارفع دور تھا ۔ مگر اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے مراد یہ بھی نہیں کہ آپ مٹی کے گھر بنالیں ، مٹکوں میں پانی پینے لگ جائیں ، لکڑی سے آگ جلائیں ۔ یہ مادی چیزیں ہیں اس میں تطور اور ترقی پر اسلام روک نہیں لگاتا الا کہ اس میں کوئی شرعی محظور نہ پایا  جائے ۔ لیکن اسلام نے ہمیں ایسی ثقافت دی ہے جو ایک مثالی ثقافت ہے جو ہر زمانہ اور ہر ماحول سے مطابقت رکھتی ہے ۔

ششم : عالمی ثقافت ہے۔ اسلامی ثقافت کے ابتدائی امتیازات میں ذکر کیا گیاہے کہ یہ ربانی ثقافت ہے جو الٰہ العالمین کی جانب سے متعین کردہ ہے ۔ جس کی مرضی کے بغیر زمین پر پتہ بھی نہیں گرسکتا۔ اس لئے عالم انسانی کی تمام مشکلات کا حل اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں پنہا ہے ۔ جو نہ تو کسی خاص ملک ، نہ کسی خاص قوم وقبیلے کی ثقافت سے لیا گیاہے بلکہ رب اللعالمین کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہے جس کی نظر میں عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر ، سیاہ کو سفید پر اور سفید کو سیاہ پر کوئی فضیلت نہیں الا تقویٰ کی بنیاد پر ۔ لہٰذا اسلامی ثقافت ہی وہ واحد ثقافت ہے جس کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی زمانہ یا علاقے سے تعلق نہیں رکھتی اور نہ ہی وہ کسی زمانہ یا علاقے کا اثر قبول کرتی ہے۔ دنیا کا عمومی قاعدہ ہے کہ تہذیبیں آپس میں مل کر ایک دوسرے کا اثر لیتی ہیں لیکن اسلامی ثقافت ایسی نہیں اس کے اصول قواعد اور رہنمائی کے ضابطے چودہ سوسال پہلے بھی وہی تھے اور آج بھی وہی ہیں ۔ لہٰذا اسی بنیاد پر وہ عالمی ثقافت ہے ۔ مغربی ثقافت ایک علاقائی اور قومی ثقافت ہے ،ہندو ثقافت ، چائنی ثقافت یہ سب قومی اور علاقی حدوں تک محدود ہیں جبکہ اسلامی ثقافت ایسی ہے جو ان زماں ومکاں کی حدود سے آزاد ہے جس ملک میں مسلمان پائے جائیں گے وہ اس ثقافت کو اپنائیں گے اور اپنے ماحول سے موافق پائیں گے۔ انہیں وہاں خالص اسلامی ثقافت پر عمل پیرا ہونے میں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی ۔

ہماری ثقافت پر اثر انداز ہونے والے بنیادی عوامل

1: تعلیم : تعلیم سے قوموں کے معمار تیار ہوتے ہیں ۔ تعلیمی بنیادوں پر تربیت اور تزکیہ پانے والی قومیں بام عروج کو چھوتی ہیں ۔ مگر ہمارے تعلیمی ماحول کی حالت اب یہ ہوچکی ہےکہ وہاں پڑھنے والا بظاہر مسلم ہوتا ہے لیکن اس کی فکر اور روح غیر مسلموں کی اسیر ہوچکی ہوتی ہے  ۔ بقول اقبال :

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خود کو

ہو جائے جو ملائم تو جدھر چاہئے ادھر موڑ

 موجودہ تعلیم مادی حوس پیدا کررہی ہے نہ کہ مہذیب وشائستہ قوم ۔ اس کا نظارہ کرناہے تو ہیپی نیوایئر نائٹ ، یا کرکٹ مقابلے میں جیت کے موقع پر ہمارے یونیورسٹی وکالجز کی نوجوان طبقہ بشمول مرد وزن کی حرکات دیکھ لیجئے خود احساس ہوجائے گاکہ جدید تعلیم سے آراستہ قوم کتنی مہذب وشائستہ ہے ۔ ایک عرصہ پہلے ایک خبر الارمنگ نیوز کے طور پر چلائی گئی کہ گرفتار بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسی سنگین نوعیت کی وارداتوں میں ملوث گرفتار 25 ملزمان پوسٹ گریجویٹ ہیں جن میں مکینیکل انجینئرز اور بی ایس سی کمپیوٹر سائنسرز بھی شامل ہیں یہ تمام ملزمان امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں بھوک، بیروزگاری وغیرہ ان کا مسئلہ نہیں۔

ہمارا شُتر بے مہار مادر پدر آزاد نظام تعلیم ہمیں اور کہاں تک لے جائے گا اور کب تعلیم تعلیم کی مالا جپنے والے صاحبان اقتدار و اختیار کو تعلیم کے تربیتی پہلوئوں کی اہمیت کا احساس و ادراک ہو گا۔ جب سے استعمار نے اسلامی سرزمین پر قدم رکھا ہے اس وقت سے مسلمانوں کو بالعموم اور پاک وہند کے مسلمانوں کو بالخصوصایجوکیشن وار کا سامنا ہے یہ جنگ تعلیم کے ہتھیاروں سے لڑی جا رہی ہے جس میں میڈیا سے لیکر دینی و دنیوی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شرح خواندگی کے ساتھ ساتھ شرح جرائم میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

زیرک سامراجی قوتیں جسموں کی قید کی بجائے دل و دماغ اور روحوں کو مقید کرنے کا جال تعلیم کو بنا کر ہمیں شکار کر رہی ہیں۔

آج ہمارا مقصدِ تعلیم نوکری، بزنس یا صرف دنیاوی ترقی ہی رہ گیاہے؟ اور یہ علم ہمیں سانپ بن کرڈس رہاہے؟

’’ مغربی افکار و نظریات کا چربہ یہ نظام تعلیم ہمیں مایوسیوں میں دھکیل رہا ہے۔ نظریاتی احساس کمتری کا شکار بنا کر ہماری قومی و ملی اقدار کو نگل رہا ہے لہٰذا ہمیں اپنے علم و دانش کے بہترین ماخذ قرآن و سُنت کی روشنی میں اپنے اسلاف کی مدد سے اپنے نظام تعلیم، نصاب تعلیم کو ارفع اعلیٰ پاکیزہ نظریات سے مزین کر کے بامقصد اور اپنی معاشرتی، قومی علمی اقدار اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی بازپُرس اور کامیاب ادارہ بنانے کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں  کی سرپرستی اور محاسبہ خصوصاً خالصتاً کاروباری سوچ کے حامل نام نہاد شہرت اور کمپنی کی مشہوری کیلئے بوٹی مافیا، رٹا اور دوسرے اوچھے حربے اختیار کرنے والے تعلیمی اداروں پر کڑی نظر رکھنی ہو گی اس کیلئے علماء کرام ، باشعور والدین اور سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنے کیلئے میدان عمل میں آنا ہو گا۔

 ہم ایک زندہ و پائندہ قوم بننے سے قاصر رہیں گے کیونکہ آج کے فرعون کو کالج کی سوجھ گئی ہے شاید اس نے اکبر مرحوم کا یہ شعر پڑھ لیا ہے … ؎

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا ۔۔۔ افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی [11]

2: میڈیا: میڈیا کی رسائی اس وقت ہر گھر تک ہے، اور جس نہج پر اس وقت ہمارا میڈیا کام کر رہا ہے اس کی فتنہ پردازی کسی سے مخفی نہیں ۔ لوگوں کی ذہن سازی اور اور فکری ناہمواری کا سبب میڈیا ہی ہے ۔ بچہ ہو یا نوجوان ، خاتون ہو یا مرد چھوٹا ہو یا بڑا سب فلموں ، ڈراموں ، اور میڈیا پر نمودار ہونے والے نام نہاد دانشوروں کے ترانے پڑھتے ہیں ۔ میڈیا ایک صنعت ہے اور صنعتیں مسیحائی نہیں کرتیں ،یہ اس اصول پر کام کرتاہے کہ سب جائز ہے ۔ اگر معاشرے کی بہتری مقصود ہے تو میڈیا کو لگام دینا ضروی ہے ۔

3 : ادبی کلچر: ہمارا ادبی کلچر بھی زیادہ تر عاشقی ومعشوقی کے سوا نامکمل سمجھا جاتاہے ۔ ناول ، ڈائجسٹ ، روزنامچے سب ہی ایک ڈگر پر چل رہے ہیں ۔

4 : زبان۔ قوم کی زندگی زبان کے بل بوتے پر ہے ۔ ہماری قوم اس وقت مستعار زبان استعمال کر رہی ہے ۔ انگریزی کی اہمیت کو اتنا اجاگر کیا جاچکاہے ہر فرد بغیر اس کے اپنی زندگی کو نامکمل سمجھتا ہے ۔ ہمیں جہاں عربی زبان کو اہمیت دینی چاہئے تھی وہاں انگریزی کو دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس کا تعلق قرآن وحدیث کے بجائے انگریزی ادب سے جڑا ۔ جس سے ان کی عادا وتقالید   ہمارے رگ وریشے میں رچ بس گئیں کیونکہ عربی مثل مشہور ہے کہ ’’كل إناء بما فيه ينضح ‘‘ برتن میں جو ہوتاہے اس سے نکلتا بھی وہی کچھ ہے ۔

 

5 : عورت

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ’’ فإن أول فتنة بني إسرائيل في النساء‘‘

’’ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتیں تھیں ‘‘۔

عورت کو بظاہرمعمولی سمجھا جاتا ہے لیکن یہ معاشرہ کی ایک ایسی اکائی ہے کہ یہ معاشرہ کو بنا بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی ۔ معاشرے کی بناوٹ میں کلیدی کردار خاندان کا ہوتاہے اور خاندان میں بھی بات سمٹ کرمرد اور عورت تک محصور ہوجاتی ہے۔ کیونکہ عورت اجیال کی مربیہ ہوتی ہے ۔ اور مرد اس میں اس کا ساتھ دیتاہے ۔ دین اسلام نے عورتوں کے مقابلے میں مردوں کو بلادست بنایاہے اور اس کی معقول اور اعلیٰ وجوہات بھی بیان فرمائی ہیں ۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

{اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ۭ } [النساء: 34]

ترجمہ: مرد عورتوں کے جملہ معاملات کے ذمہ دار اور منتظم ہیں اس لیے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اور اس لیے بھی کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں ۔

قرآنی حکم آنے کے بعد کسی مومن کیلئے یہ روا نہیں رہتا کہ وہ اس سے متعلق کوئی اعتراض کرے مگر ہمارے ہی اسلامی معاشروں میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی بالادستی کو چیلنج کیا جاتاہے ۔ حالانکہ یہ چیلنج صراحۃ قرآن کریم اور احادیث نبویہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلاف ہے مگر پھر بھی نام نہاد دانشور ۔۔۔۔ اور معاشرہ کی بعض عورتیں بھی اسے ظلم سے تعبیر کرتے ہیں والعیاذ باللہ

عورتوں کی فطری کمزوری اور توہم پرستی کا حال الطاف حسین حالی نے اپنی کتاب ’’مجالس النساء ‘‘ میں بہت خوبصورت پیرائے میں بیان کیاہے ۔ جو یقینا صنف نازک کی فطرت کا بہترین عکاسی کرتاہے جسے ہم مختصرا یہاں بیان کرتے ہیں کہ ایک بڑھیا عورت اپنی بیٹی کو نصیحت کرتے ہوئے کہتی ہے ۔ ’’ جسے دیکھو اسے اس کے سوا کچھ نہیں آتا کہ چار سرجوڑ کر بیٹھ گئیں اور زمانے کی برائی کرنی شروع کی ۔ کوئی ساس نند کا جھینکنا جھینکتی ہے ۔ کوئی دیورانی جھٹانی کا دکھڑا روتی ہے ۔ کوئی بہو پر زہر اُگلتی ہے۔ کوئی خاوند کا صبر سمیٹتی ہے ۔ کوئی کسی کی شادی کو نام دھرتی ہے ۔ کوئی کسی کے جہیز پر ہنستی ہے ۔ کوئی  کسی کی ذات میں عیب نکالتی ہے ۔۔۔۔اس کے سوا مزاجوں کا وہ حال ہے کہ جو ذرا سی تیز مزاج ہیں وہ تو چلتی ہوا سے لڑتی ہیں۔  بات اس طرح کرتی ہیں جیسے کسی نے پتھر دے مارا ۔ میاں سے بات بات میں اُڑنیچ نکالنی ۔ بچّوں کو خواہی نخواہی کوسنا ۔ نوکروں سے ناحق الجھنا۔‘‘

اس وقت معاشرے کی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے تاکہ وہ آئندہ نسلوں کی مربیہ بنیں اور قوم فتنوں سے محفوظ رہ سکے۔

بے جا تکلفات کا در آنا

  الغرض ہمارا معاشرہ اس وقت ہندستانی فرسودہ روایات اور مغربی تہذیب کا چربہ بن چکا ہے۔جسے ہم زوال کہیں گے عروج نہیں کیونکہ زوال پذیر معاشرے کی سب سے بڑی پہچان اُس کے فرسودہ رسم ورواج ہوتے ہیں جو سارے کے سارے بے تکے ، فضول اور جہالت کی کھلی دلیل ہوتے ہیں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان میں نئی نئی شاخیں پھوٹتی رہتی ہیں اور لوگوں کی زندگیاں الجھن میں مبتلا ہوتی رہتی ہیں ۔ اور زندگی ایک عذاب جیسی بن جاتی ہے ایسی ہی زندگی کا نقشہ ’’ رفاہ اخلاق ‘‘ کے مصنف نے بہت بہترین انداز سے کھینچا ہےیہ کتاب انیسویں صدی کےا ختتام پر لکھی گئی اس لئے اس میں قدیم ہندی طرز کے جملے ہیں جو بظاہر کچھ ثقیل مگر ہیں بہت دلچسپ اقتباس ملاحظہ کیجئے ۔ لکھتے ہیں :’’ اکثر ہندوستانی آدمی اپنی پابندئ رسومِ آبائی سے ایسی آفت ومصیبت میں گرفتار ہیں کہ جس کے سبب سے تھوڑی سی عمرِ شیریں ان کی تلخ ہو گئی ہے ۔جو رسمیں اور طریقے شرعا وعقلا ناجائز ہیں ان کو فرض وواجب سمجھ لیا گیاہے ۔ پاس ہو نہ ہو قرض لیں گے ، ادھار کریں گے ، چاہے عزت میں بٹّہ لگے۔  جیلخانہ جانے کی نوبت آئے مگر ضرور فرض ادا ہوجائے ۔ اس میں فرق نہ پڑنے پائے ۔ یہاں لڑکا کیا پیدا ہوتاہے آفت کا سامان ہوتاہے ۔ اپنے پرائے کی بن آتی ہے ۔ بے وقوف بنابنا کر خوب اڑاتے ہیں ۔ بہنیں جدی منزلوں سے نیگ مانگنے آتی ہیں۔  پھوپھیاں علیحدہ کوسوں سے اپنا حق لینے کو پہنچتی ہیں ۔ ہم کرتہ ٹوپی لائے ہیں ۔ برسوں کی آرزو ہے ۔ اب خدا نے یہ دن دکھائے ہیں ۔ ہمارا حق دینا چاہیے۔ بہت دنوں سے چپکے بیٹھے رہے ۔ اب نہ دو گے تو پھر ہمارا کون سا دن ہوگا ۔ اب لیجیے ، سواریوں کا جدا کرایہ دینا پڑتاہے ۔ مہمان داری میں جدا بہت کچھ صرف ہوتاہے ۔ پھر واپسی کے دن

 آئے ، رخصت کیجئے ۔ بھاری جوڑے بنوائیے ۔ دوبارہ کرایہ دینے آئیے ۔ ادھر کمین لوگ دُھویا لاتے ہیں ۔ اس میں بھی انعام ہر ایک کو دیا جانا ضروری ہے ۔ تقاضا ہورہاہے جس قدر دیجئے تھوڑا ہے ۔ سرکار برسوں خدمت کرتے گزارا ہے ۔ آج خوشی نے منہ دکھایا ہے ۔ سب کچھ دیا مگر ان کا منہ سیدھا نہیں ۔ جب لڑکا نہ ہوا تھا ، پیر شہید کی منتیں مان بیٹھے تھے ۔ اب وہ کیونکر نہ کی جائیں ۔ یاران چوری نہ پیران دغابازی مثل مشہور ہے ۔ سیکڑوں روپیہ منّتوں کے لیے چاہیے ۔ میران کا بکرہ ، پیردستگیر کی گیارہویں ۔ میاں معین کی دیگ ۔ کہاں تک کہیے ۔ مسجدوں میں گھی کے چراغ ۔ درگاہوں پر ہاتھی گھوڑے چڑھاتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں لڑکے کو اگر کوئی گھر سے باہر بھی لے گیا تو آفت آئی ۔ ہیں ہیں نظر لگ جائے گی ۔ دودھ کے بال ہیں ۔ منہ میں دودھ بھرا ہے ۔ کوئی دیکھ نہ لے ، دوچار برس کا ہوگیاہے ۔ پیاری پیاری باتیں کرتاہے ، کھیل تماشے کرتا ہے ، کوئی دیکھ سن نہ پائے یا ماں گود میں چڑھائے ہے ۔ بچہ کے پاؤں نہ دُکھنے لگیں اور کوسوں بھیجا تو بہت دور ہے ۔ ہاں جو بڑے جاہل ہیں ، وہ منزلوں کی راہ طے کرکے درگاہوں میں لے جاکر قبر کے سامنے لڑکے کو رکھ دیتے ہیں اور صد ہا روپیہ چڑھاتے ہیں ۔ درگاہ کے تعویذ گنڈے سونے چاندی میں منڈھواکر اس کے گلے میں ڈالتے ہیں ۔ پھر راہ کی مصیبت جھیلتے ہوئے مرپٹ کے گھر پہنچتے ہیں ۔ اگر کسی وجہ سے درگاہ نہ پہنچنا ہوا تو سمجھتے ہیں کہ ابھی یہ فرض باقی ہے ۔ جب تک وہاں نہ ہو آئے گا ، بچے پر سیکڑوں آفتیں رہیں گی ۔ ہائے بے علمی بھی کیا بری بلا ہے ۔ اگر سمجھ ہوتی تو اپنی کمائی ایسے بے فائدہ کاموں میں کیوں صرف کرتے ۔ ‘‘[12]

اسلامی اقدار واطوار پر مبنی معاشرے کی تشکیل عصرِ حاضر میں کیسے ممکن ہے ؟

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ لن يصلح آخر هذه الأمة إلا بما صلح به أولهاـ‘‘

اس امت کے آخر کے لوگوں کی اصلاح بھی اسی چیز سے ہوگی جس سے پہلوں کی اصلاح ہوئی ہے ۔

دور حاضر کے اپنے معاشرے کو ہم اگر شرعی خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے

  امن وآشتی کا گہوارہ بن جائیں ، تو اس کیلئے ہمیں اسی دور اول کا جائزہ لینا ہوگا اس میں سب سے اعلیٰ مثال نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی مدنی معاشرہ کی تشکیل ہے ۔

پیارے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک نئے مدنی معاشرے کی تشکیل سے رہنمائی ضروری ہے :

فرمان باری تعالیٰ ہے :

[لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا            ۝ۭ] [الأحزاب: 21]

ترجمہ: (مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے، جو بھی اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو ۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کے اصحاب کے نزدیک مکہ چھوڑنے کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ مکی لوگوں کے فتنے اور تمسخر سے نجات پائی جائے ۔بلکہ بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایک پر امن علاقے میں صالح معاشرہ تشکیل دیا جائے ۔ جس کیلئے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض قرار پایا تھا کہ وہ اس وطنِ جدید کی تعمیر میں حصّہ لے ۔

یہ یقینی بات تھی کہ اس معاشرے کی تشکیل کے امام قائد اور رہنما رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  تھے ۔ اب دیکھئے کہ ہمارے پیغمبر نے اس معاشرہ کو کیسے تشکیل دیا ۔

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس نئے معاشرے کی تشکیل میں جن بنیادی عوامل کو امتیازی حیثیت دی وہ درجِ ذیل ہیں :

1: مسجد نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعمیر : رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں’’ مسجدمحض ادائے نماز کیلئے نہیں بلکہ یہ ایک یونیورسٹی تھی جس میں مسلمان اسلامی تعلیمات وہدایات کا درس حاصل کیا کرتے تھے ، اور ایک محفل تھی جس میں مدتوں جاہلی کشاکش ونفرت اور ہاہمی لڑائیوں سے دوچار رہنے والے قبائل کے افراد اب میل محبّت سے مل جل رہے تھے ۔ نیز یہ ایک مرکز تھا جہاں سے اس ننھّی سی ریاست کا سارا نظام چلایاجاتاتھا اور مختلف قسم کی مہمیں بھیجی جاتی تھیں ۔ علاوہ ازیں اس کی حیثیت ایک

  پارلیمنٹ کی بھی تھی جس میں مجلس شوریٰ اور مجلسِ انتظامیہ کے اجلاس منعقد ہُوا کرتے تھے‘‘ ۔[13]

اگر ہم اس وقت اپنے معاشرے کو اسلامی خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں تو مسجد کا وہ مقام بحال کیا جانا ضروری ہے جو عہد رسالت میں ہوا کرتھا۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسجد سے زیادہ تعلق رکھنے سے انسان کی ایمانی روح زندہ رہتی ہے ، گناہوں کے بادل سینوں سے چھٹتے چلے جاتے ہیں ، بندہ کا تعلق رب اللعالمین سے مضبوط ہوتاہے ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ’احب البلاد الی اللہ مساجدھا‘‘

’’ زمین پر اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب جگہ مساجد ہیں ‘‘

اس حوالے سے اب چند ماہ پہلے ہی کا واقعہ آپ ملاحظہ کریں کہ جب چند کرائے کے لوگوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا پارلیمنٹ کی بے حرمتی کی تو سب کے دلوں میں پارلیمنٹ کا تقدس جاگ اٹھا ، قلمکاروں نے اس کی مذمت میں اوراق سیاہ کر ڈالے لیکن کتنی ایسی مساجد ہیں جن پر آئے دن حملے ہوتے ہیں ان کا تقدس پامال ہوتاہے لیکن قلم بھی خاموش ہیں زبان بھی کنگ ہے ۔لب بھی سل جاتے ہیں ۔ والی اللہ المشتکی ۔

2: مسلمانوں میں بھائی چارگی کا قیام : رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدنی معاشرے میں مسجد نبوی کی تعمیر کا اہتمام کرکے باہمی اجتماع اور میل ومحبّت کا ایک مرکز قائم کیا وہیں آپ ایک اور عظیم ترین کام انجام دیا جو تاریخ انسانی کا ایک تابناک کارنامہ ہے وہ ہے مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چار ے کا قیام ۔

                علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :’’ پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جناب انس رضی اللہ عنہ کے مکان میں مہاجرین وانصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا ۔ کُل نوّے آدمی تھے ، آدھے مہاجرین اور آدھے انصار ۔ بھائی چارے کی بنیاد یہ تھی کہ ایک دوسرے کے غمخوار ہوں گے ، اور موت کے بعد نسبی قرابتداروں کے بجائے یہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ۔ وراثت کا یہ حکم جنگِ بدر تک قائم رہا ۔ پھر یہ آیت ناز ہوئی کہ

 

{ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا    ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا           ۝} [الأحزاب: 6]

ترجمہ:  اور کتاب اللہ کی رو سے مومنین اور مہاجرین کی نسبت، رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ (ترکہ کے) حقدار ہیں ۔ البتہ اگر تم اپنے دوستوں سے کوئی بھلائی کرنا چاہو (تو کرسکتے ہو) کتاب اللہ میں یہی کچھ لکھا ہوا ہے۔

 تو انصار ومہاجرین میں باہمی توارث کا حکم ختم کردیا گیا لیکن بھائی چارے کا عہد باقی رہا ۔[14]

امام غزالی رحمہ اللہ اس بھائ چارے کے مقصود سے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’ جاہلی عصبیتیں تحلیل ہوجائیں۔ حمیّت وغیرت جو کچھ ہو وہ اسلام کے لیے ہو ۔ نسل ، رنگ اور وطن کے امتیازات مٹ جائیں ۔ بلندی وپستی کا معیار انسانیت وتقویٰ کے علاوہ کچھ اور نہ ہو۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس بھائی چارے کو محض کھوکھلے الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا تھا بلکہ اسے ایک ایسا نافذ العمل عہد وپیمان قرار دیاتھا جو خون اور مال سے مربوط تھا ۔ یہ خالی خولی سلامی اور مبارکباد نہ تھی کہ زبان پر روانی کے ساتھ جاری رہے مگر نتیجہ کچھ نہ ہو بلکہ اس بھائی چارے کے ساتھ ایثار وغمگساری اور مُوَانَسَت کے جذبات بھی مخلوط تھے اور اسی لیے اُس نے اس نئے معاشرے کو بڑے نادر اور تابناک کارناموں سے پُر کردیا تھا ۔‘‘[15]

پیارے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کے قائم کردہ اس بھائی چارے نے ایسی نادر ونایاب مثالیں چھوڑیں کہ آئندہ نسلوں تک اس کی مثال ملنا مشکل ہوگئی ۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرادیا ۔ اس کے بعد جناب سعد رضی اللہ عنہ نے عبد الرحمٰن بن عوف سے کہا :’’ انصار میں میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔  آپ میرا مال دو حصوں میں بانٹ کر ( آدھا لے لیں ) اور میری دو بیویاں ہیں ۔ آپ دیکھ لیں جو زیادہ پسند ہو مجھے بتادیں میں اُسے طلاق دے دوں ،اور عدت گذرنے کے بعد آپ اس  سے شادی کر لیں‘‘۔ جناب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا ، اللہ آپ کے اہل ومال میں برکت دے ۔ آپ لوگوں کا بازار کہاں ہے ؟ لوگوں نے انہیں بنو قینقاع کا بازار بتلادیا ۔ وہ واپس آئے تو ان کے پاس کچھ فاضل پنیر اور گھی تھا ۔ اس کے بعد وہ روزانہ جاتے رہے ۔ پھر ایک دن آئے تو اُن پر زردی کا اثر تھا ۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دریافت فرمایا، یہ کیاہے ؟ انہوں نے کہا میں نے شادی کی ہے ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا، عورت کو مہر کتنا دیا ہے ؟ بولے ایک نَواۃ ( گھٹلی ) کے ہموزن (یعنی کوئی سوا تولہ ) سونا۔‘‘

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا انصار ومہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ کوئی بھی معاشرہ مسلمانوں کی باہمی اخوت کے بغیر اسلامی معاشرہ نہیں بن سکتا۔ جب تک ہمارے معاشرے میں قومیت چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو مٹ کر ایک اسلامی اخوت کی لڑی میں پرو نہیں جاتی تب تک اسلامی معاشرے کی تشکیل اور تکمیل ممکن نہیں ۔

بتانِ رنگ و خون کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا

نہ تورانی  رہے  باقی نہ ایرانی نہ افغانی

اقبال اپنے ان چند اشعار میں ہمیں بہت کچھ سمجھا گئے :

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ مسلمان بھی ہو!

3: اسلامی تعاون کا پیمان : پیارے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسلامی بھائی چارے کے قیام کے بعد مدینہ کے باسیوں کے مابین ایک پیمان بھی کرایا جس کے ذریعے ساری جاہلی کشاکش اور قبائلی کشمکش کی بنیاد ڈھادی اور دور جاہلیت کے رسم ورواج کیلئے کوئی گنجائش نہ چھوڑی ۔

یہ عہد وپیمان پندرہ بنیادی دفعات پر مشتمل تھا جسے کتب سیرت میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔[16]

 4: تعمیر معاشرہ میں معنویات کا کردار

کسی بھی معاشرے کا ظاہری رُخ درحقیقت ان معنوی کمالات کا پَرتَو ہوتاہے جس سے اس

 معاشرے کے مکیں بہرہ ور ہوتےہیں ۔ معنویاتی اثر کے بغیر کوئی معاشرہ چاہے کتنے بھی مضبوط تعمیری خطوط پر استوار ہو وہ کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب حکمتِ بالغہ سے مدنی معاشرہ تعمیر کیا اس کی بنیادوں کی مضبوطی میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس معاشرے کے مکینوں کی تعلیم وتربیت ، تزکیہ نفس اور مکارمِ اخلاق کی ترغیب میں مسلسل کوشاں رہتے تھے اور انہیں محبت وبھائی چارگی ، مجدوشرف اور عبادت واطاعت کے آداب برابر سکھاتے اور بتاتے رہتے تھے ۔ اس کی چند مثالیں ملاحظ فرمائیں :

ایک صحابی  رضی اللہ عنہ  نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟ ( یعنی اسلام میں کونسا عمل بہتر ہے ؟) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ تم کھانا کھلاؤ اور شناسا اور غیر شناسا سبھی کو سلام کرو‘‘۔[17]

سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ فرماتے ہیں میں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے جو سب سے پہلی بات فرماتے سنا وہ یہ تھی کہ ’’اے لوگو! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ ، صلہ رحمی کرو ، اور رات جب لوگ سورہے ہوں نماز پڑھو ۔ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے ‘‘۔

ایک حدیث میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:’’ وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور تباہ کاریوں سے مامون ومحفوظ نہ رہے ‘‘۔

اور آپ نے فرمایا:’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ‘‘ ۔

اور فرماتے :’’ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرے جو خود اپنے لیے پسند کرتا ہے ‘‘۔

الغرض آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے نئے معاشرے کو ایسی اعلیٰ اقدار پر استوار کیا کہ وہ معاشرہ آئندہ نسلوں کیلئے نمونہ راہ بن گیا ۔ آج بھی اگر ہم اپنے معاشرہ کو پاکیزہ اور پرامن بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں انہی خطوط پر عمل کرنا پڑے گا جن پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدنی معاشرہ  تعمیر کیا تھا ۔

 سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ جس شخص کو طریقہ اختیار کرنا ہو وہ گذرے ہوئے لوگوں کا طریقہ اختیار کرے کیونکہ زندہ کے بارے میں فتنہ کا اندیشہ ہے ۔ وہ لوگ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے

  ساتھی تھے ۔ اس امت میں سب سے افضل ، سب سے نیک دل ، سب سے گہرے علم کے مالک ، اور سب سے زیادہ بے تکلف ۔ اللہ نے انہیں اپنے نبی کی رفاقت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے منتخب کیا ، لہذا ان کا فضل پہچانو اور ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرو اور جس قدر ممکن ہو ان کے اخلاق اور سیرت سے تمسّک کرو ، کیونکہ وہ لوگ ہدایت کے صراطِ مستقیم پر تھے ۔‘‘ [18]

مسلم قوم کیلئے ان کی ثقافت وتہذیب الغرض ہرحوالے سے ان کا ماضی بہت اہم ہے ۔ ماہرین عمرانیات قوموں کے ماضی کو ان کی یاداشت سے تشبیہ دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں جو قوم اپنا ماضی بھول جائے وہ اپنی یاداشت کھو بیٹھتی ہے ۔ پھر ایسی قوم پر ایک وقت آتاہے ، جب وہ خود قصہ ماضی بن جاتی ہے ۔ اس لئے ماضی سے رہنمائی لینا بہت ضروی ہے ۔ پیارے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیاجو تاریخ کا سب سے زیادہ باکمال اور شرف سے بھرپور معاشرہ تھا ۔اور اُس معاشرے کے مسائل کا ایسا خوشگوار حل نکالا کہ انسانیت نے ایک طویل عرصے تک زمانے کی چکی میں پِس کر اور اتھاہ تاریکیوں میںہاتھ پاؤں مارکر تھک جانے کے بعد پہلی بار چین کا سانس لیا ۔

اس نئے معاشرے کے عناصر ایسی بلند وبالا تعلیمات کے ذریعے مکمل ہوئے جس نے پوری پامردی کے ساتھ زمانے کے ہر جھٹکے کا مقابلہ کرکے اس کا رُخ پھیر دیا اور تاریخ کا دھارا بدل دیا ۔

وآخر دعوانا أن الحمدلله رب العالمين

 



[1] مقدمہ ابن خلدون

[2] سنن ابن ماجۃ : المقدمۃ، باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين

[3] مصنف نے یہاں ایک قوم کا ذکر کیا جسے ہم نے بیان کرنامناسب نہ سمجھا جسے لفظ ’’لوگ ‘‘ میں بدل دیا ہے ۔

[4] معالجات شافیہ بحوالہ کتابیں اپنے آباء کی ۔مصنفہ رضا علی عابدی ص 65.66

[5] http://ur.wikipedia.org/

[6] پاکستانی کلچر ، ص 42

[7] بسنت اسلامی ثقافت اور پاکستان از محمد عطاء اللہ صدیقی ص 40

[8] بسنت اسلامی ثقافت اور پاکستان ص 42

[9] الثقافة الإسلامية تعريفها مصادرها مجالاتها تحدياتها. للأستاذ الدكتور مصطفى مسلم ولأستاذ الدكتورفتحي محمد الزغبي

[10] صحیح بخاری: 3650

[11] http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/24-Sep-2013

[12] کتابیں اپنے آباء کی  از رضا علی عابدی

[13] رحیق المختوم از صفی الرحمن مبارکپوری، ص 255

[14] زاد المعاد 2/56:

[15] فقہ السیرہ ص 140،141

[16] صحیح بخاری: باب اخاء النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  بین المہاجرین والانصار

[17]  ملاحظہ کیجئے رحیق المختوم ص 258،259:

[18] مشکوٰۃ ۔ 1/ 32