بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

منگل, 04 جولائی 2017 10:28

آل سعود نے قبروں کے اوپر بنی ہوئی عمارتیں کیوں گرا دیں

مقرر/مصنف  الشیخ شریف علی

روئے زمین کی سب سے افضل ترین جگہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حقیقی معنوں میں خدمت کرنے والے سعودی حکمرانوں پر آج کل بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ آل سعود اور آل شیخ نے صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم اور دیگر اولیاء کرام رحمہم اللہ کی قبروں کو گرا دیا جس کے لیے ایک مخصوص فرقہ انہی بے بنیاد الزامات کو مسلمان کے اندر پھیلانے کے لیے سالہا سال سے مصروف ہے اور ہر سال آٹھ شوال کو یوم انہدام بقیع کے نام سے منایا جا رہا ہے اور یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ سعودی حکمران (نعوذ باللہ) اہل بیت رضی اللہ عنہم کے دشمن ہیں اور وہ اہل بیت رضی اللہ عنہم اور اولیا کرام رحمہم اللہ کی قبروں کا احترام نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ اگر ایک عام مسلمان بھی ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچے تواس کے سامنے حقیقت واضح ہو جاتی ہے اور حق ظاہر ہو جاتا ہے کہ سعودی حکومت صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم اور دیگر اولیاء کرام رحمہم اللہ سے حقیقی محبت کرنے والی حکومت ہے اور انہوں نے صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم و دیگر اولیاء رحمہم اللہ کی قبروں کو قطعاً نہیں گرایا بلکہ انہوں نے ان کی قبروں کے اوپر بنی ہوئی عمارتوں کو گرایا ہے اور قبروں کے اوپر بنی ہوئی عمارتوں اور قبوں کو گرا کر کیا سعودی حکمرانوں نے قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کی خلاف وزری کی یا قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کی پاسداری کی؟ایک مسلمان پر لازم ہے کہ اس اہم مسئلہ کو سمجھنے کے لیے قرآن و حدیث کی طرف رجوع کرے کیونکہ ہر اختلاف کا حل قرآن و حدیث میں موجو دہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ (النساء 59)

اگر تمہارا کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو حل کرنے کے لیے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی قرآن و حدیث) کی طرف لوٹا دو۔

آئیے اس مسئلے میں ہم آل سعود اور آل شیخ و دیگر اہل السنۃ والجماعۃ کے مؤقف کا جائزہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت کی روشنی میں لیتے ہیں۔

1۔ سیدنا خباب بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پانچ دن پہلے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو فرماتے ہوئے سنا:

أَلاَ فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إِنِّى أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك

یعنی لوگو خبردار قبروں کو مسجدیں مت بناؤ یقیناً میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔ دیکھئے صحیح مسلم کتاب المساجد 164/2

2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف منع نہیں کر رہے بلکہ ساتھ ساتھ بد دعا بھی دے رہے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

یعنی اللہ یہودیوں کو تباہ و برباد کردے جنہوں نے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا۔

(دیکھئے صحیح البخاری کتاب الصلاۃ، صحیح مسلم کتاب المساجد 162/2)

3۔ سیدہ عائشہ طاہرہ مطہرہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے مرض الموت میں فرمایا : 

لَعَنَ اللّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا قَالَتْ وَلَوْلاَ ذَلِكَ لأَبْرَزْ قَبْرَهُ غَيْرَ أَنَّہُ أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا.

يعني يهود ونصاريٰ پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا ، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہ ہوتا تو آپ کی قبر ظاہر کی جاتی مگر ڈر لگا کہ آپ کی قبر کو کہیں مسجد نہ بنالیا جائے۔ (صحيح البخاري ، كتاب الجنائز، باب ما يكره من اتخاذ المساجد على القبور 3/280، باب مرض النبي عليه الصلاة والسلام ووفاته 8/140، صيح مسلم ، كتاب المساجد 2/162)

4۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

نَهَى رَسُولُ اللّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ.

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا قبر کو پختہ کرنے اور اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت بنانے سے۔(دیکھئے: صحیح مسلم ، کتاب الجنائز، باب النہی عن تجصیص القبر والبناء علیہ )

5۔ اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کنیسہ کا ذکر کیا جسے حبشہ کی سرزمین میں دیکھا تھا اور اس میں جو صورتیں تھیں(ان کا ذکرکیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں سے کوئی نیک بندہ مرجاتا تھا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے تھے اور اس میں یہ صورتیں بناتے تھے یہ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔

آیئے !میرے مسلمان بھائیوں ان نصوص صحیحہ صریحہ کے بعد کیا کسی مسلمان کو شک وشبہ ہونے کی گنجائش ہے کہ قبروں کے اوپر عمارت کھڑی کرنا جائز نہیں، یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ اس ہستی اقدس ومقدس اطہر ومطہر امام الانبیاء والمرسلین افضل المخلوقات جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات نقل کررہا ہوں جن کی ہر بات وحی ہوتی ہے اور جو حق کے علاوہ کچھ ا ور کہتے ہی نہیں اور جب ہم قبر کے متعلق اپنے اختلافات کو عدالت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں لے گئے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا تو ہمیں اللہ کے فضل وکرم سے اپنے اختلافات کا حل مل گیا اور معلوم ہوا کہ قبر کے اوپر عمارت کھڑی کرنا شرعاً جائز نہیں۔

بلکہ اس سے بھی صراحت اور واضح حکم کے ساتھ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ جہاں بھی اونچی قبر نظر آئے تو اسی کو زمین کے برابر کر دو اور اسی کام کیلئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابو الہیاج الاسدی رحمہ اللہ کو بھیجتے ہوئے فرمایا :

أَلَّا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِى عَلَيْهِ رَسُولُ اللّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ.

یعنی اے ابو الہیاج الاسدی رحمہ اللہ کیا میں تمہیں ایک ایسے کام کیلئے نہ بھیجوں جس کام کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا (فرمایا) جہاں بھی مورتی نظر آئے تو اسے مٹادو اور جہاں بھی اونچی قبر نظر آئے تو اسے زمین کے برابر کردو ۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز2/631)

اس کے علاوہ بھی بہت سی نصوص ہیں جو قبر کے اوپر عمارت کھڑی کرنے اور قبر کوپکی بنانے كي ممانعت پردلالت کرتی ہیں میں نے طوالت کے خوف سے چند نصوص پر اکتفاء کیا ہے۔

مذکورہ صحیح اور صریح احادیث کے بعد کیا کسی مسلمان کو یہ زیب دیتاہے کہ وہ آل سعود اور آل شیخ رحمہم اللہ موتاھم وحفظ احیائھم پر بدکلامی کرے اور ان پر طعن وتشنیع کرے حالانکہ انہوں نے نبی علیہ الصلاۃ والسلام اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فرامین پر عمل کرتے ہوئے قبروں کے اوپر بنی ہوئی عمارتوں کو گرا دیا ہیں۔ اور یادرہے کہ اگر نبی علیہ الصلاۃ والسلام اور صحابہ کرام واھل بیت عظام رضی اللہ عنہم سے حقیقی محبت کرنی ہے تو ان کے احکامات اور فرامین پر عمل کرنا ہوگا ، محض زبانی محبت سے کچھ کامیابی نہیں مل سکتی۔

اور چونکہ قبر کو پختہ کرکے بنانا یا اس کے اوپر عمارت کھڑی کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت کیساتھ منع فرمایا بلکہ قبر کے اوپر بنی ہوئی عمارت کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا تو اس وجہ سے آل سعود او ر آل شیخ رحمہ اللہ موتاھم وحفظ احیائھم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات پر عمل کیا۔ اگر قبر کو پختہ کرنے یا اس کے اوپر عمارت کھڑی کرنے کی کوئی صحیح دلیل ہوتی تو سعودی حکومت (حرسھا اللہ من کل شر) ضرور بہ ضرور صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کی قبروں کو پکی کر کے بنا دیتی۔ اس لیے جب بعض لوگوں نے حجاز کانفرنس میں ملک عبد العزیز رحمہ اللہ سے مطالبہ کیا کہ قبروں کے اوپر قبّوں اور عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے تو جواب میں ملک عبد العزیز رحمہ اللہ نے فیصلہ کن اور تاریخی جملہ کہا کہ اگر شریعت سے ان کی پکی تعمیر کا جواز ثابت کر دیا جائے تو میں انہیں سونے اور چاندی سے تعمیر کرنے کیلئے تیار ہوں۔ (دیکھئے :قبے اور مزارات کی تعمیر، ایک شرعی جائزہ،ص:7)

اور یادرہے کہ قبر کے اوپر عمارت بنانا قبر والے سے محبت کی دلیل نہیں کیونکہ اگر یہی محبت کی دلیل ہوتی تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی علیہ الصلاۃ والسلام سے محبت نہیں کرتے تھے انہوں نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو کچا بنایا ہے اور کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو پکی اور عالیشان نہیں بنا سکتے تھے ؟ یہی وجہ ہے کہ خود آل سعود اور آل شیخ کے فوت شدگان کی قبریں بھی قرآن و حدیث کے مطابق کچی ہیں۔اور یہاں بعض لوگ یہ شبہ ظاہر کرتے ہیںکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں دفن کئے گئے ہیں اس لیے وہ کہتے ہیں کہ کیا فرق ہے ؟ کہ پہلے حجرہ بنالو پھر اس میں کسی اچھے انسان کو دفن کرو، یا پہلے دفن کرلو اس کے بعد اس پر حجرہ بناؤ۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ خود شریعت ہی نے ان دونوں میں فرق کیا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَا قَبَضَ اللّهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ

یعنی اللہ نے کسی نبی کو نہیں قبض کیا مگر اسی جگہ جہاں اس کو دفن کیا جانا پسند ہے۔‘‘( سنن ابن ماجہ ، شمائل الترمذی)

اور چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں ہوئی اس لیے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو وہیں دفن کیا گیا لہٰذا اس سے قبروں کے اوپر عمارت کھڑی کرنے کی دلیل لینا صحیح نہیں کیونکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے خود قبروں کے اوپر عمارت کھڑی کرنے سے منع فرمایا، اور یہاں یہ بات واضح کرنا چاہتاہوں کہ کسی بھی مسلمان کی میت کا احترام کرنا واجب ہے لیکن اس کی قبر کے اوپر عمارت کھڑی کرنا یا قبر کو پکی بنانا شرعاً جائز نہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی پوری زندگی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور ہمیں صحیح معنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی اور صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Read 344 times
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

روئے زمین کی سب سے افضل ترین جگہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حقیقی معنوں میں خدمت کرنے والے سعودی حکمرانوں پر آج کل بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ آل سعود اور آل شیخ نے صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم اور دیگر اولیاء کرام رحمہم اللہ کی قبروں کو گرا دیا جس کے لیے ایک مخصوص فرقہ انہی بے بنیاد الزامات کو مسلمان کے اندر پھیلانے کے لیے سالہا سال سے مصروف ہے اور ہر سال آٹھ شوال کو یوم انہدام بقیع کے نام سے منایا جا رہا ہے اور یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ سعودی حکمران (نعوذ باللہ) اہل بیت رضی اللہ عنہم کے دشمن ہیں اور وہ اہل بیت رضی اللہ عنہم اور اولیا کرام رحمہم اللہ کی قبروں کا احترام نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ اگر ایک عام مسلمان بھی ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچے تواس کے سامنے حقیقت واضح ہو جاتی ہے اور حق ظاہر ہو جاتا ہے کہ سعودی حکومت صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم اور دیگر اولیاء کرام رحمہم اللہ سے حقیقی محبت کرنے والی حکومت ہے اور انہوں نے صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم و دیگر اولیاء رحمہم اللہ کی قبروں کو قطعاً نہیں گرایا بلکہ انہوں نے ان کی قبروں کے اوپر بنی ہوئی عمارتوں کو گرایا ہے اور قبروں کے اوپر بنی ہوئی عمارتوں اور قبوں کو گرا کر کیا سعودی حکمرانوں نے قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کی خلاف وزری کی یا قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کی پاسداری کی؟ایک مسلمان پر لازم ہے کہ اس اہم مسئلہ کو سمجھنے کے لیے قرآن و حدیث کی طرف رجوع کرے کیونکہ ہر اختلاف کا حل قرآن و حدیث میں موجو دہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ (النساء 59)

اگر تمہارا کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو حل کرنے کے لیے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی قرآن و حدیث) کی طرف لوٹا دو۔

آئیے اس مسئلے میں ہم آل سعود اور آل شیخ و دیگر اہل السنۃ والجماعۃ کے مؤقف کا جائزہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت کی روشنی میں لیتے ہیں۔

1۔ سیدنا خباب بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پانچ دن پہلے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو فرماتے ہوئے سنا:

أَلاَ فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إِنِّى أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك

یعنی لوگو خبردار قبروں کو مسجدیں مت بناؤ یقیناً میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔ دیکھئے صحیح مسلم کتاب المساجد 164/2

2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف منع نہیں کر رہے بلکہ ساتھ ساتھ بد دعا بھی دے رہے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

یعنی اللہ یہودیوں کو تباہ و برباد کردے جنہوں نے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا۔

(دیکھئے صحیح البخاری کتاب الصلاۃ، صحیح مسلم کتاب المساجد 162/2)

3۔ سیدہ عائشہ طاہرہ مطہرہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے مرض الموت میں فرمایا : 

لَعَنَ اللّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا قَالَتْ وَلَوْلاَ ذَلِكَ لأَبْرَزْ قَبْرَهُ غَيْرَ أَنَّہُ أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا.

يعني يهود ونصاريٰ پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا ، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہ ہوتا تو آپ کی قبر ظاہر کی جاتی مگر ڈر لگا کہ آپ کی قبر کو کہیں مسجد نہ بنالیا جائے۔ (صحيح البخاري ، كتاب الجنائز، باب ما يكره من اتخاذ المساجد على القبور 3/280، باب مرض النبي عليه الصلاة والسلام ووفاته 8/140، صيح مسلم ، كتاب المساجد 2/162)

4۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

نَهَى رَسُولُ اللّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ.

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا قبر کو پختہ کرنے اور اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت بنانے سے۔(دیکھئے: صحیح مسلم ، کتاب الجنائز، باب النہی عن تجصیص القبر والبناء علیہ )

5۔ اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کنیسہ کا ذکر کیا جسے حبشہ کی سرزمین میں دیکھا تھا اور اس میں جو صورتیں تھیں(ان کا ذکرکیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں سے کوئی نیک بندہ مرجاتا تھا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے تھے اور اس میں یہ صورتیں بناتے تھے یہ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔

آیئے !میرے مسلمان بھائیوں ان نصوص صحیحہ صریحہ کے بعد کیا کسی مسلمان کو شک وشبہ ہونے کی گنجائش ہے کہ قبروں کے اوپر عمارت کھڑی کرنا جائز نہیں، یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ اس ہستی اقدس ومقدس اطہر ومطہر امام الانبیاء والمرسلین افضل المخلوقات جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات نقل کررہا ہوں جن کی ہر بات وحی ہوتی ہے اور جو حق کے علاوہ کچھ ا ور کہتے ہی نہیں اور جب ہم قبر کے متعلق اپنے اختلافات کو عدالت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں لے گئے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا تو ہمیں اللہ کے فضل وکرم سے اپنے اختلافات کا حل مل گیا اور معلوم ہوا کہ قبر کے اوپر عمارت کھڑی کرنا شرعاً جائز نہیں۔

بلکہ اس سے بھی صراحت اور واضح حکم کے ساتھ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ جہاں بھی اونچی قبر نظر آئے تو اسی کو زمین کے برابر کر دو اور اسی کام کیلئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابو الہیاج الاسدی رحمہ اللہ کو بھیجتے ہوئے فرمایا :

أَلَّا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِى عَلَيْهِ رَسُولُ اللّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ.

یعنی اے ابو الہیاج الاسدی رحمہ اللہ کیا میں تمہیں ایک ایسے کام کیلئے نہ بھیجوں جس کام کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا (فرمایا) جہاں بھی مورتی نظر آئے تو اسے مٹادو اور جہاں بھی اونچی قبر نظر آئے تو اسے زمین کے برابر کردو ۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز2/631)

اس کے علاوہ بھی بہت سی نصوص ہیں جو قبر کے اوپر عمارت کھڑی کرنے اور قبر کوپکی بنانے كي ممانعت پردلالت کرتی ہیں میں نے طوالت کے خوف سے چند نصوص پر اکتفاء کیا ہے۔

مذکورہ صحیح اور صریح احادیث کے بعد کیا کسی مسلمان کو یہ زیب دیتاہے کہ وہ آل سعود اور آل شیخ رحمہم اللہ موتاھم وحفظ احیائھم پر بدکلامی کرے اور ان پر طعن وتشنیع کرے حالانکہ انہوں نے نبی علیہ الصلاۃ والسلام اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فرامین پر عمل کرتے ہوئے قبروں کے اوپر بنی ہوئی عمارتوں کو گرا دیا ہیں۔ اور یادرہے کہ اگر نبی علیہ الصلاۃ والسلام اور صحابہ کرام واھل بیت عظام رضی اللہ عنہم سے حقیقی محبت کرنی ہے تو ان کے احکامات اور فرامین پر عمل کرنا ہوگا ، محض زبانی محبت سے کچھ کامیابی نہیں مل سکتی۔

اور چونکہ قبر کو پختہ کرکے بنانا یا اس کے اوپر عمارت کھڑی کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت کیساتھ منع فرمایا بلکہ قبر کے اوپر بنی ہوئی عمارت کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا تو اس وجہ سے آل سعود او ر آل شیخ رحمہ اللہ موتاھم وحفظ احیائھم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات پر عمل کیا۔ اگر قبر کو پختہ کرنے یا اس کے اوپر عمارت کھڑی کرنے کی کوئی صحیح دلیل ہوتی تو سعودی حکومت (حرسھا اللہ من کل شر) ضرور بہ ضرور صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کی قبروں کو پکی کر کے بنا دیتی۔ اس لیے جب بعض لوگوں نے حجاز کانفرنس میں ملک عبد العزیز رحمہ اللہ سے مطالبہ کیا کہ قبروں کے اوپر قبّوں اور عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے تو جواب میں ملک عبد العزیز رحمہ اللہ نے فیصلہ کن اور تاریخی جملہ کہا کہ اگر شریعت سے ان کی پکی تعمیر کا جواز ثابت کر دیا جائے تو میں انہیں سونے اور چاندی سے تعمیر کرنے کیلئے تیار ہوں۔ (دیکھئے :قبے اور مزارات کی تعمیر، ایک شرعی جائزہ،ص:7)

اور یادرہے کہ قبر کے اوپر عمارت بنانا قبر والے سے محبت کی دلیل نہیں کیونکہ اگر یہی محبت کی دلیل ہوتی تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی علیہ الصلاۃ والسلام سے محبت نہیں کرتے تھے انہوں نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو کچا بنایا ہے اور کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو پکی اور عالیشان نہیں بنا سکتے تھے ؟ یہی وجہ ہے کہ خود آل سعود اور آل شیخ کے فوت شدگان کی قبریں بھی قرآن و حدیث کے مطابق کچی ہیں۔اور یہاں بعض لوگ یہ شبہ ظاہر کرتے ہیںکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں دفن کئے گئے ہیں اس لیے وہ کہتے ہیں کہ کیا فرق ہے ؟ کہ پہلے حجرہ بنالو پھر اس میں کسی اچھے انسان کو دفن کرو، یا پہلے دفن کرلو اس کے بعد اس پر حجرہ بناؤ۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ خود شریعت ہی نے ان دونوں میں فرق کیا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَا قَبَضَ اللّهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ

یعنی اللہ نے کسی نبی کو نہیں قبض کیا مگر اسی جگہ جہاں اس کو دفن کیا جانا پسند ہے۔‘‘( سنن ابن ماجہ ، شمائل الترمذی)

اور چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں ہوئی اس لیے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو وہیں دفن کیا گیا لہٰذا اس سے قبروں کے اوپر عمارت کھڑی کرنے کی دلیل لینا صحیح نہیں کیونکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے خود قبروں کے اوپر عمارت کھڑی کرنے سے منع فرمایا، اور یہاں یہ بات واضح کرنا چاہتاہوں کہ کسی بھی مسلمان کی میت کا احترام کرنا واجب ہے لیکن اس کی قبر کے اوپر عمارت کھڑی کرنا یا قبر کو پکی بنانا شرعاً جائز نہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی پوری زندگی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور ہمیں صحیح معنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی اور صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین