بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

ہفتہ, 18 نومبر 2017 14:03

اسلامی نظام معیشت کی خصوصیات

مقرر/مصنف 

 

اسلامی نظام معیشت کی خصوصیات        

---

 

فضیلۃ الشیخ عبد الحمید ازہر حفظہ اللہ  [1]

عصر حاضر کو ترقی کا دور کہا جاتا ہے اور کچھ غلط بھی نہیں ہے سائنسی اکتشافات کا سلسلہ بلا توقف جاری ہے ۔ ایجادات کا سیل رواں ہے تھمنے میں نہیں آتا ۔ وسائل سفر سے لے کر ذرائع ابلاغ تک میں انقلاب آچکا ہے ۔زمین اپنے خزانے اگل رہی ہے یا اس سے اگلوائے جارہے ہیں۔ اناج ،سبزیاں پھل اور میوے اسقدر بہتات سے ہیں کہ انباروں میں سما نہیں سکتے ذخیرہ کرنے پڑتے ہیں لیکن ہر چیز کی فراوانی کے پہلو بہ پہلو انسانی محرومی کی بھی کوئی حد نہیں ۔ آدمیت سسک رہی ہے جذبات سلگ رہے ہیں ۔غریب غربت کے بوجھ تلے دب رہا ہے اور سرمایہ دار بے مقصدیت کے عذاب و اذیت سے گذر رہا ہے ۔ یہ نہیں  کہ حالت میں تبدیلی کی کوشش نہیں ہوئی تاریخ شاہد ہے کہ احساسات اور جذبات نے کئی مرتبہ طوفان کی شکل اختیار کی لیکن صورت حال کچھ یوں ہی رہی ۔

؎  سو بار تیرا دامن ہاتھوں میں مرے آیا

     جب آنکھ کھلی دیکھا تو اپنا ہی گریباں تھا

 

رومن ایمپائر ، دور غلامی ، جاگیرداری اور پھر آخر میں نظام سرمایہ داری کا تماشہ اور پھر اشتراکی کوچہ گردوں کی آشفتہ سری ،تمام کی تمام شکست آرزو کے عنوانات ہیں ان تمام کوششوں کے باوجود یہی نہیں کہ حالت نہیں بدلی بلکہ کیفیت کچھ یوں رہی کہ

؎  مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

حقیقت یہ ہے کہ تمام نظامہائے معیشت الگ الگ اور متضاد نام کے حامل ہونے کے باوصف اصل میں سارے ایک ہیں ۔ ایک ہی تصویر کےدو مختلف رخ اور زاویے ہیں اور نام اس کا خود رائی ہے ۔ انسان نے معیشت کو اس کے اصل مقام و مرتبہ سے بڑھا کر ایسا غلو کیا ہے کہ اپنا مرتبہ اور مقصد فراموش کر بیٹھا ۔ نتیجہ وہی ہوا جو ذریعہ کو مقصد بنانے کا ہوتا ہے ۔انسان صرف پیٹ کا نام نہیں بلکہ اس میں دل و دماغ بھی ہے اور اس کے دیگر اعضاء بھی ہیں ،اگر کوئی شخص دل و دماغ کے بجائے پیٹ سے سوچنا شروع کردے تو اس کی جو کیفیت ہوسکتی ہے وہ نظامِ معیشت کو مرکز و محور بنانے سے پوری انسانیت کی ہوچکی ہے ۔ ایک بھوکے کو اجرام فلکی بھی روٹیاں نظر آسکتی ہیں لیکن اس سے نظام شمسی میں خلل آسکتا ہے اور نہ علم فلکیات کی اہمیت کم ہوسکتی ہے ۔ انسان تنگ نظر اور جذباتی مخلوق ہے اس لئے اسکی سب سے بڑی غلطی ہے کہ مسائل کو حل کرنے کےلئے اپنے اور اس کائنات کے خالق سے رجوع کرنے کے بجائے خود ہی ان کا حل کرنے بیٹھ جائے۔عام زندگی میں (SELF MEDICATION)  خطرناک ہے تو اجتماعی زندگی میں اس کے اثرات کتنے مہلک ہوسکتے ہیں دنیا کی موجودہ صورت حال اس کا ثبوت ہے ایسی صورت میں ایک انسان کو اس سے اچھا مشورہ نہیں دیا جاسکتا کہ

 ؎  دست ہرنا اہل بیمارت کند                        سوئے مادرآ کہ تیمارت کند

انسانیت پر اس سے بڑا احسان نہیں ہوسکتا کہ انسانی معاشرے کو اجتماعی طور پر اپنے اور اس سارے جہان کے خالق و مالک کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کی جائے ۔ انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام اسی لئے انسانیت کے محسن ہیں عليهم الصلوات و التسليمات اور پیغمبر آخر و اعظم انسانیت کے محسن اعظم ہیں عليه أفضل الصلاة و أزکی التسليمات

 

 وہ بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں :

} فَاَيْنَ تَذْهَبُوْنَ ؀ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ {[التکویر: 26۔27]

ترجمہ:’’لوگوں تم کدھر جارہے ہو؟یہ (قرآن ) جہان بھر کے لوگوں کے لئے نصیحت ہی تو ہے‘‘۔

قرآن حکیم نے نہ صرف مرض کی تشخیص فرمائی بلکہ اس کے علاج کے لئے نسخہ ء کیمیا بھی عطا کیا ۔

ارشاد باری تعالی ہے :

} وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ ؁ وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ؁ فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا    ۠ وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ؁{[ النحل : 112۔ 114]

 ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو (ہر طرح ) امن و اطمینان سے تھی ہر طرف سے رزق بافراغت وہاں چلا آتا تھا ۔ مگر اس کےرہنے والوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی پاداش میں ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر نا شکری کا مزہ چکھا دیا اور ان کے پاس انہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا سو انہیں عذاب نے آپکڑا جبکہ وہ ظالم تھے۔ پس اللہ نے تم کو جو حلال طیب رزق دیا ہے ،اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر بجا لاؤاگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘

یعنی اشیاء کی فراوانی اور نعمتوں کی ارزانی پر اللہ رب العزت جو منعم حقیقی ہے کا شکر ادا کرنے کے بجائے کفر کرنا موجب ہے ان نعمتوں کےچھن جانے کا ۔ اللہ کی ناشکری کا مظہر یہ ہے کہ اس کی طرف سے بھیجے گئے رسول پر ایمان لانے ان کی تکریم کرنے اور اطاعت کا دم بھرنے کی بجائے تکذیب و استہزاء کا راستہ اختیار کیا ۔اس عذاب سے نجات کاایک ہی راستہ ہے کہ اللہ کا حلال کیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاؤ اور صرف اسی کی عبادت کرو ، کہ مالک الملک اور عزیز مقتدر ہے اس کی اطاعت کروگے تو آسمان وزمین کی برکتوں کے دروازے تم پر کھول دے گا ۔

} وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ

  وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ؀{[الاعراف : 96]

 ترجمہ :’’اور اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور ہماری نافرمانی سے بچتے تو ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی سو ان کے اعمال کی پاداش میں ہم نے ان کو پکڑ لیا ‘‘۔

اور جب کسی بستی سے نعمتیں چھین لینا چاہے تو بظاہر ان کی معیشت کتنی ہی مضبوط ہو سزا کا قانون الہٰی ان پر نافذ ہوکر ہی رہتا ہے ۔

وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍۢ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَهَا  ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِيْلًا    ۭ وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ  ؀( القصص : 58)

ترجمہ:’’اور ہم نے بہت سی بستیوں کو تباہ کر ڈالا جو اپنی معیشت(کی فراخی ) پر اترارہے تھے پھر یہ ان کے محلات ہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد ہوئے اور ان کے پیچھے ہم ہی ان کے وارث ہوئے ‘‘۔

اسی لئے انسانیت کی فلاح دین حنیف دین اسلام کے دامن میں پناہ لینے میں ہے ۔جب وہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوں گے کہ اس کے نظام اقتصاد یات کی برکات سے بھی بہرہ مند اور مستفید ہوں گے اس لئے کہ اسلام کا نظام معیشت اسلام سے الگ کوئی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ اسی شجرہ طیبہ کی ایک سرسبز و ثمر بار شاخ ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے :

} اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِي السَّمَاۗءِ ؀ تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَا  ۭ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ ؁ { [ابراھیم : 25 ۔ 34]

 ترجمہ :کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی مثال کیسی بیان فرمائی ہے وہ ایسے ہے کہ جیسے ایک پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط یعنی زمین کو پکڑے ہوئے ہے اور شاخیں آسمان میں ہیں۔ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا ہے ۔

اور یہ اسلام کے تعلیم کردہ راسخ عقائد ،قرآن حکیم اور جناب رسول کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے مقرر کردہ اور

  تعلیم فرمودہ حکیمانہ عبادات اور عظیم ترین اور کامل ترین نظام اخلاق کی سرزمین میں اگلنے والا شجر طیبہ ہے۔ اور خون میں پیوست شاخ ہے ۔ جو ہر طرف سے اور ہر طرح سے محفوظ ہے ۔ موسموں کے تغیرات اور افراد کی تلون مزاجی اس پر نظر انداز نہیں ہوتی ۔

اس اعتبار سے اسلامی نظام معیشت کی بنیاد ی اور اولین خصوصیت تو یہی ہے کہ یہ نظام ربانی ہے جبکہ اس کے مقابلے باقی تمام نظامہائے معیشت (اگر ان کو نظام کہاجاسکے ) تو انسانی بلکہ محض شیطانی ہیں ۔ اس لئے کہ بندہ جب رحمن کا نہیں ہوتا تو شیطان کا ہوتا ہے تیسرا اختیار (Third Option) یہاں پر سرے سے موجود نہیں ،اللہ تعالی کا فرمان ہے :

}  اِنَّمَا يَدْعُوْ احِزْبَهٗ لِيَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ  ؀{[فاطر : 6 ]

 ترجمہ :وہ اپنے گروہ کے( لوگوں) کو پکارتا ہے تاکہ وہ دوزخ میں جانے والے بن جائیں۔

} اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰـىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ  ۭ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ  ؀{[ المجادلة :17 ]

 ترجمہ: شیطان نے انکو قابو میں کرلیا ہے اور انہیں اللہ کی یاد بھلا دی ہے یہ لوگ شیطان کا لشکر ہیں اور آگاہ رہو شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے‘‘۔

اسلام اللہ تعالی کا مقرر کردہ اور پسندیدہ فرمودہ نظام حیات ہے تمام انبیاء علیہم السلام اس کی دعوت دیتے رہے

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

 }اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ {[ال عمران : 19]ترجمہ :’’ دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے‘‘۔

لیکن براہین و بینات سے آنکھیں موندنے والے نت نئے عقیدے بناتے اور نظام تراشتے رہے ۔ اپنے علم یا علوم کے غرلے میں مختلف انسانی گروہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی دعوت اور نصیحت کو ٹھکراتے رہے اور اس کے نتیجے میں عذاب پر عذاب چکھتے رہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :

}اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭكَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَاَشَدَّ قُوَّةً وَّاٰثَارًا فِي الْاَرْضِ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ؀فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ؀{[المومن : 82 ۔83 ]

  ترجمہ:’’کیا ان لوگوں نے زمین پھر کر دیکھا نہیں کہ انہیں نظر آتا کہ جو لوگ ان سے پہلے اس راستے پر تھے ان کا انجام کیسا ہوا حالانکہ وہ ان سے تعداد میں زیادہ اور طاقت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے اور زمین میں نشانات بنانے میں ان سے کہیں بڑھ کر تھے تو جو کچھ وہ کرتے رہے ان کے کسی کام نہیں آیا ۔ اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں اور واضح دلائل لے کر آئے تو وہ اس علم پر اترانے لگے جو ان کے پاس تھا ، نتیجہ جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے اسی نے ان کو آگھیرا ‘‘۔

مثال کے طور پر شعیب علیہ السلام کی قوم نے تو مالی معاملات میں ان کی حکیمانہ نصیحت کو’’مداخلت بےجا‘‘قرار دیکر اس پر انتہائی ناگواری کا اظہار کیا۔ ارشاد باری تعالی ہے :

} وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا  ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ   ۭ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ اِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ وَّ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ؀ وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ  ؀بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ڬ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ؀قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا     ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ  ؀{[ھود : 84 ۔ 87]

 ترجمہ:’’اور اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کومبعوث کیا انہوں نے (اپنی قوم ) سے کہا اے میری قوم ! صرف اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو میں تم کو آسودا حال دیکھتا ہوں اور تمھارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیرےگا۔ اور اے میری قوم! ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو ، اور زمین میں فساد نہ مچاتے پھرو ۔ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا منافع تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم مومنوں میں سے ہواور میں  تم پر نگران نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اے شعیب! کیا تمہاری نماز ، تمہیں یہی سکھاتی ہے کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے آباء و اجداد پوجتے آئے ہیں یا ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی سے تصرف کرنا چھوڑ دیں تم تو بڑے نرم خو اور رست باز ہو ‘‘۔

تا آنکہ پیغمبر آخر و اعظم حضرت محمد   صلی اللہ علیہ وسلم  اسلام کی کامل ترین اور واضح ترین صورت یعنی کتاب وسنت

 پر مشتمل’حنیفیۃ السمحۃ ‘کے ساتھ مبعوث ہوئے ۔ جس میں رات بھی دن کی طرح روشن ہے۔ اور اللہ تعالی نے} اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا{ فرماکر رہتی دنیا تک کے انسانوں پر حجت قائم اور تمام کردی ۔{لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيیٰ مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ  {اور واضح طور پر بتادیا کہ دنیا و آخرت کی فلاح اسی نظام کی کامل اتباع و تنفیذ کے ساتھ وابستہ و مشروط ہے ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :

} الۗمّۗ  ۝ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ   ٻ فِيْهِ  ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ۝الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۝ وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ  ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ ۝ اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ۤ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۝{[البقرۃ : 1۔ 5]

ترجمہ:’’الۗمّۗ ۔یہ قرآن وہی کتاب منتظر ہے ( اس کے کلام اللہ ہونے) میں کوئی شک نہیں ، اہل التقوی کے لئے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں ، آداب کے ساتھ نماز ادا کرنے اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں ، ،اور جو کتاب و شریعت ( اے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم ) تم پر نازل کی گئی اور جو کتاب و شریعت تم سے پہلے نازل کی گئی سب پر ایمان لاتے اور اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘۔

تو اسلام کے لائے ہوئے نظام معیشت کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ربانی ہے اس کے بعد ایک صاحب ایمان کو کچھ اور جاننے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ تا ہم رسم دنیا نبھانے کے لئے اوراجتماع احباب کے نادر موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے ، اس نظام معیشت کے امتیاز ی خصائص پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں اس اذعان و یقین کے ساتھ کہ اس کے خصا ئص و امتیازات کا احاطہ حد امکان سے باہر ہے:

}  وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوْا إِيْمَانًا وَّلَا يَرْتَابَ الَّذِيْنَ أُوْتُوا الْكِتَابَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ {[المدثر:31]

ترجمہ: اور ایمانداروں کا ایمان زیادہ ہو ۔ اور اہل کتاب اور ایماندار کسی شک میں نہ رہیں

 

اسلامی نظام معیشت کے چند امتیازی خصائص

(1) حقانیت :

اسلام کا نظام معیشت ہی حقیقت میں ایک نظام ہے ۔باقی نظاموں کو نظام صرف اس طرح کہا جاتا ہے جیسے کہ اسلام کے سوا باقی مذاہب کو بھی دین کہہ لیا جاتا ہے ،لیکن جس طرح ہمارا ایمان ہی نہیں ہمارا دعوی ہے کہ لا الہ الا اللہ ۔ کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اسی طرح ہمارا یقین ہے کہ اسلامی نظام معیشت کے سوا کوئی نظام نہیں بلکہ’’نظام ‘‘کے خلاف بغاوت سے عبارت ہیں ۔

اور تمام ’’ نظام ہائے معیشت ‘‘ جو اصل میں سارے ایک ہیں ۔ دنیا کی حقیقت اسی میں انسانیت کی حیثیت کے بارے میں درست معلومات اور عقائد پر مبنی نہیں ہیں اور معلوم ہے کہ

؎  خشت اول چوں نہدمعمار کج                   تاثر یامی  رود  دیوار کج

اور اسلام کے نظام معیشت کا قصر رفیع حق اور حقائق کی بنیاد پر استوار ہے اور یہ امر محتاج بیان اور محتاج دلیل نہیں کہ حق تعالی سے بڑھ کر ان اشیاء کی حقیقت کون جانے گا ۔ } اَ لَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ{ (الملک ) وہی بتاتا ہے کہ انسان کو بے مقصد پیدا کیا گیا نہ بے مہار چھوڑا گیا وہ خلافت ارضی کا تاجدار اور اس عظیم امانت کا امانت دار ہے ۔

 }اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ   ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا ؀{[ الاحزاب : 72]

ترجمہ :’’ہم نے یہ امانت آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے او ر انسان نے اسے اٹھا لیا بلاشبہ وہ ظالم اور جاہل تھا‘‘

اسی نے بتایا کہ اس نے مال کو زندگی کے قیام کا ذریعہ بنا یا ہے ۔

 ارشاد ربانی ہے :

 }وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَاۗءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِىْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِيٰـمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِيْھَا وَاكْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ؁{[ النساء : 6]

 

ترجمہ :اور اپنے مال جسے اللہ نے تمہارے لئے قیام زندگی بنایا ہے بے وقوفوں کے حوالے نہ کرو

اور یہ بھی کہ یہ اللہ کا فضل ہے ۔ ارشاد فرمایا :

 }فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ  {[ الجمعۃ : 10]

ترجمہ :’’پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو‘‘

اور یہ بھی سمجھا دیا کہ مال و منال ایک ضرورت ہونے کے ساتھ آزمائش ہیں ۔جس سے انسان گزرتا ہے :

 } وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ ؀{ [الانفال:28]

ترجمہ :’’اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد درحقیقت تمہارے لئے ایک آزمائش ہیں ۔ (اور اس میں پورا اترنے والوں کے لئے )اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر وثواب ہے‘‘۔

(2) مقصد تخلیق سے ہم آہنگی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسی لئے پیدا کیا کہ یہ اس کی عبادت کرے اس کی بندگی بجالائے اور اس کے لئے اپنے پسندیدہ دین میں نظام معیشت بھی ایسا شروع کردیا جو اس کے مقصد تخلیق سے موافقت رکھتا ہے اور مکمل طور پر اس سے ہم آہنگ ہے ۔

 ارشاد فرمایا :

} يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ؁{ [ البقرۃ : 172]

 ترجمہ :اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ اور اللہ کا شکر بجالاؤ اگر تم حقیقت میں اسی کی بندگی کرتے ہو۔

یہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ انسان کے کردار کا اس کی خوراک سے بہت گہرا تعلق ہے۔ تمام ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں اور قوتیں غذا سے بنتی اور پنپتی ہیں اگر غذا درست ہوگی تو عمل صالح ہوگا ۔

ارشاد باری تعالی ہے :

 } يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا   ۭ۔۔۔۔ ۝{[المومنون : 51]

 

ترجمہ :’’اےگروہ رسولاں ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو ، ‘‘۔

اگر جسم کی نشونما کا سبب بننے والی غذا ہی درست اور حلال نہ ہو تو عمل صالح نہیں ہو سکتا اسی حقیقت کو جناب رسو ل اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان وحی ترجمان نے یوں بیان فرمایا ہے :

 ’’ لا يربو لحم نبت من سحت الا کانت النار اولی به ‘‘[2]

ترجمہ :’’جو گوشت حرام سے پرورش پاکر بڑھتا ہے تا اس کا اصل ٹھکانا آگ ہی ہے ۔‘‘

 (3)  اصالت

اسلامی نظام معیشت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مستقل اور سب سے ممتاز نظام ہے ۔ انسانی تجربات کے نتیجے میں وجود میں نہیں آیا اور نہ یہ کسی قسم کے رد عمل کا ثمر ہے ۔باقی تمام نظامہائے معیشت ردعمل کے طور پر وجود میں آئے ۔ تجربات ہیں یا تجربات سے اخذ کیا ہوا نتیجہ ۔جاگیر داری نظام  دور غلامی کی کوکھ سے پیدا ہوا اس لئے اس کے تمام خصائص کا حامل تھا ۔غلامی میں آقا ایک فرد ہوتا تھا تو نظام جاگیرداری میں پورا نظام، پھر زمانے نے ایک کروٹ لی جاگیر داری نظام نے سرمایہ داری نظام کی شکل اختیار کرلی ۔ جاگیر دار سرمایہ دار بن گیا اور کاشتکار مزدور ٹھہرا۔ اور آزاد معیشت کے نام پر ایسا استبداد مسلط ہوا کہ لوگ دور غلامی اور جاگیرداری کی سختیاں بھول گئے ۔ اس کے رد عمل میں سوشلزم نے جنم لیا لیکن استحصال کے خاتمے کا دعوی لیکر اٹھنے والی تحریک ریاست کی طاقت سے لیس ہو کر استحصال کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ۔ اور ترقی پسندی کے نام پر ترقی معکوس کرتے ہوئے انسانیت کو بدترین غلامی کے دور میں پہنچادیا۔ یہ انسانی شعور اور معاشی نظریات کے ارتقاء کی مختصر تاریخ ہے ۔اس کے مقابل اسلام کا نظام اقتصادیات اللہ ربّ العزۃ والجلال کے علم وحکمت کا مظہر اور اس کی رحمت کا نشان ہے ۔ اور تہوز ، انتقام ، طیش وغیرہ رد عمل کے ہر نقص سے مبرا ہے ۔

 

(4)وضاحت :

اسلام کے نظام معیشت میں کوئی پیچیدگی نہیں ،وہ بالکل واضح اور ہر قسم کے ابہام سے پاک ہے قرآن آیات بینات پر مشتمل ہے اور جناب رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے’’ الحلال بين والحرام بين‘‘  حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے۔

اسی طرح اسلامی نظام معیشت میں معاہدہ یا خرید و فروخت کرنے والوں کو بھی یہی حکم ہے کہ صداقت و وضاحت سے کام لیں ۔ارشاد نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے :

’’البيعان بالخيار مالم يتفرقا فان صدقاوبينابورک لهما فی بيعهما وان کتماوکذبامحقت بركة بيعهما ‘‘[3]

یعنی سودے کے دونوں فریقوں کو الگ الگ ہونے تک اختیار ہے اگر دونوں صداقت اور وضاحت سے کام لیں گے تو انکے سودے میں برکت ہوگی اور اگر جھوٹ اور فریب سے کام لیں گے تو سودے کی برکت ختم کردی جائے گی ‘‘حضور نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  بازار میں تشریف لے گئے ،اناج کے ایک ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو تری محسوس کی تو دکاندار سے فرمایا: یہ کیا ؟ اس نے کہا حضور رات کو اس پر بارش پڑگئی تھی فرمایا تو گیلا حصہ اوپر کرنا تھا ’’ من غش فليس منا ‘‘۔ جس نے ہمیں اندھیرے میں رکھا وہ ہم میں سے نہیں .[4]

یہی وجہ ہے کہ محاقلہ اور مزابنہ سے منع کردیا گیا ہے) کھیت میں سٹوں اور بالیوں میں موجود اناج کو خشک اناج کی معلوم و معین تعداد کے بدلے فروخت کرنا محاقلہ کہلاتا ہے اور درختوں یا بیلوں میں لگے پھل کو اسی نوع کے خشک پھل کی معلوم و معین مقدار کے عوض بیچنا مزابنہ کہلاتا ہے (۔ بیع سلم میں بھی یہی حکم دیا گیا ہے ۔ ارشاد نبوی   صلی اللہ علیہ وسلم  :

’’ من أسلف فی شئی فليسلف فی کيل معلوم و وزن معلوم الی اجل معلوم‘‘[5]

’’ اگر کوئی پیشگی ادائیگی کرتا ہے تو اس چیز کاماپ تول اور ادائیگی کی مدت معلوم ہونی چاہئے ‘‘ ۔

اسی طرح عقد قراض یا مضاربہ میں بھی ضروری ہے کہ صاحب مال (investor) اور عامل (worker ) دونوں آپس میں تقسیم منافع کا تناسب طے کرلیں ۔ابہام نہیں ہونا چاہئے۔

الموسوعة الفقهية الکویتية :میں قراض کی تعریف ہی یہ بیان کی گئی ہے:

 ’’ھو ان يدفع الرجل الی رجل نقدا ليتجريه علی ان الربح بينهما علی ما يتشارطانه ‘‘[6]

ترجمہ: یعنی قراض یا مضاربہ اس کو کہا جاتا ہے کہ ایک شخص اگر دوسرے کو مال مہیا کرے کہ وہ اس میں تجارت کرے گا اورمنافع ان دونوں کے درمیان طے شدہ نسبت کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا ۔

اس کے بعد مشہور لغوی الازہری کے حوالے سے اس کی وجہ تسمیہ یوں بیان کی گئی ہے ’’لأن لکل واحد منهما فی الربح شئ مقروضا لا يتعداہ‘‘اس معاہدے کو قراض اس لئے کہا جاتاہے کہ فریقین میں سے ایک کو منافع میں سے قطعی طور پر طے شدہ ملتا ہے اس سے زیادہ نہیں لے سکتا ۔

(5)صداقت و امانت

اسلام اپنے پیرؤوں کو اور خاص طور پر رجال معیشت و اقتصاد کو امانت اور صداقت کا حکم دیتا ہے ارشاد باری تعالی ہے کہ :

 }اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا ۔۔۔۔ ؀{[النساء: 58]

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کو پہنچادو‘‘

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معلم شریعت محسن انسانیت   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا

’’التاجر الصدوق الامين مع النبيین و الصديقين و الشهداء‘‘[7]

 ترجمہ :صداقت شعار اور امانت دار تاجر انبیاء صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا ۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا ً روایت ہے کہ :

’’ان اللہ تعالی يقول أنا ثالث الشريکين ما لم يخن أحدهما صاحبه فاذا خانه خرجت من بينهم ‘‘[8]

               اللہ تعالی فرماتا ہے کہ’’ میں شراکت داروں کا تیسرا ہوتا ہوں جب تک ان میں سے کوئی دوسرے کی خیانت نہ کرے پھر جب کوئی خیانت کا مرتکب ہوتا ہے تو میں درمیان سے نکل جاتا ہوں‘‘ ۔

(6)عدالت

یہ کائنات کہ انسان جس کا ایک حصہ ہے اللہ تعالی نے اس کا سارا نظام عدل اصلاح اور توازن پر قائم کیا ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے  :

} وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ ۝ اَ لَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ ۝ وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ ؀{[ الرحمن :7 ۔ 9]

ترجمہ :’’اس نے آسمان کو بلند کیا اور اوپر اٹھایا اور میزان عدل رکھدی تاکہ تم میزان میں خلل اندازی نہ کرو اور انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترزو میں تولتے وقت کمی نہ کرو ‘‘۔

کائنات کا سارا نظام عدل پر قائم ہے اس لئے انسان جو اس امانت کاامین ہے ، اس کا فرض ہے کہ اپنے دائرہ اختیار میں عدل قائم کرے اور ہر حقدار تک اس کا حق پہنچائے اگر یہ عدل و توازن قائم نہ رہے تو میزان عالم خلل پذیر ہوتی ہے اور اسی کو قرآن’’ فساد فی الارض‘‘ سے تعبیر کرتا ہے ارشاد بار ی تعالی ہے :

} وَ اِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا  ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ  ۭ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ اِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ وَّ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ؀ وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ  ؀{[هود :84]

  ترجمہ: ’’اور اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کومبعوث کیا انہوں نے (اپنی قوم ) سے کہا اے میری قوم ! صرف اللہ کی موحدانہ عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو میں تم کو آسودا حال دیکھتا ہوں اور تمھارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیرے گا ۔ اور اے میری قوم کے لوگو !عدل و انصاف کے ساتھ پورا ماپو اور تولو اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے نہ دیا کرو ، اور زمین میں فساد نہ مچاتے پھرو ‘‘

چنانچہ عدل و انصاف کائنات کی سب سے بڑی ضرورت اور انسان کا سب سے بڑا فریضہ ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عدل صرف قانون کی عملداری کا نام نہیں ہے بلکہ عدل وانصاف کا گلا تو قانون سازی کے نام پر ہی گھونٹا جاتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان عدل کر بھی نہیں سکتا اس کے پاس علم نہیں جھل ہے عدل نہیں ظلم ہے خالق کائنات کا بیان واجب الاذعان ہے } اِنَّهٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا{ (الاحزاب: 72)۔ بلاشبہ انسان بڑا ہی ظالم ، جاہل واقع ہوا ہے اس کو علم اللہ تعالی عطا فرماتا ہے {وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَآءَ {( البقرۃ :255 ) ترجمہ : اس کہ علم میں سے یہ کسی چیز کو حاصل نہیں کر سکتے مگر جسے اللہ چاہے ‘‘۔اور عدل اللہ تعالی اور اس کا رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  سکھاتے ہیں {وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا{(الانعام :115) ترجمہ ’’ اور تیرے رب کا کلام صداقت اور عدل میں کامل ہے‘‘، اس لئے آسمانی ہدایت اور رہنمائی سے بے نیاز ہو کر انسان جو بھی نظام بناتا ہے اس میں علم نہیں ہوتا ،صداقت نہیں ہوتی، عدل نہیں ہوتا ۔مزدور یا کسان اگر قانون سازی کا موقع پائے گا تو کار خانہ دار یا زمیندار کے حقوق ملحوظ نہیں رکھ پائے گا بلکہ حقوق کا پلڑا اپنے طبقہ کی طرف جھکالے گا اور اگر سرمایہ دار اور زمیندار قانون سازی کرے گا تو حقوق کا بہاؤ اپنی طرف کرلے گا ۔ اسی لئے مختلف نظامہائے معیشت عدم توازن اور عدل کے فقدان کے باعث ظلم و عدوان کا دوسرا نام بن کر رہ گئے قرآن حکیم نے اسی لئے فرمایا{وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ { ؀(المائدہ: 45)۔ترجمہ: ’’اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا تو ایسے لوگ ہی ظالم ہیں‘‘

 جو اقبال نے اسی معنی کو منظوم کرتے ہوئے کہا ہے ۔

عقل خود بیں غافل از بہبود غیر                 سود خود بیند نہ بیند سودِ غیر

وحی حق  بینندہ ٔ   سود ہمہ                             در نگاہش سود و بہبود ہمہ

 

عدل پر مبنی نظام وہی تشکیل دےسکتا ہے جو تمام فریقوں پر حاکم ہو اوران سے بالا تر بھی ۔اس کا مفادان میں سے کسی کے ساتھ وابستہ نہ ہو ۔اور یہ آسمانی وحی کے سوا کہیں نہیں ہوسکتا ۔ظلم اور ظلمت کا ازالہ اسی نور سے ہوسکتا ہے جو انسانوں کو عدل کا راستہ دکھاتے ہوئے فرماتا ہے۔

} يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاۗءَ لِلهِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ  ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا    ۣ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا ۚ وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا ؁{ (النساء:135)

ترجمہ :’’ اے ایمان والو! انصاف قائم کرنے والے اور اللہ کے لئے سچی گوا ہی دینے والے بنو خواہ وہ گواہی تمہارے اپنے والدین یا قرابت داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اگر کوئی فقیر ہے یا امیر تو اللہ انکا بہتر کارساز ہے لہٰذا تم اپنی خواہش کے پیچھے لگ کر عدل و انصاف نہ چھوڑو ۔ اگر پیچیدہ شہادت دو یا شہادت دینے سے گریز کرو تو (تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ) اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبرہے‘‘

(7)دوام و شمول

اسلامی نظام معیشت ازلی بھی ہے اور ابدی بھی ،وقتی یا موسمی نہیں اور نہ ہی ہر دم متغیر نظریات کی طرح تبدیلی اور ترامیم کا شکار ہوتا ہے ۔اس لئے کہ یہ تجربات و حوادث کے نتیجے میں وجود میں نہیں آیا بلکہ علیم و خبیر، خلاق ارض و سماء عالم الغیب و الشهاده کا نازل فرمودہ دین ہے جو انسان کی فطرت سے مطابقت رکھتا ہے:

}فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا  ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ  ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ{(الروم : 30)

ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ کی پیدہ کردہ فطرت کو جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے(اختیار کرو )، اللہ کی تخلیق کردہ فطرت میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا ، یہی سیدھا دین ہے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ‘‘۔

اور یہ نظام تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے اس کے کسی طبقہ کے لئے نہیں، اس میں عرب و عجم کا امتیاز

  ہے نہ آجر و مستاجر کا اور نہ زمیندار اور کاشتکار کا بلکہ سب یکساں طور پر اللہ اور اس کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  کے اوامر و نواہی کے مخاطب ہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے :

} اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗیِٔ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚيَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ  ؀{( النحل: 90)

ترجمہ: اللہ عدل ،احسان ،اور رشتہ داروں کو( مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نا معقول کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے اور تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم یاد رکھو ‘‘۔

اور نبی کریم معلم بشریت مرشد انسانیت   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :

’’لا يبيع المرء علی بيع أخيه ولا تناجشوا ولا يبع حاضر لباد‘‘{[9]

 ترجمہ :کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور کوئی شہری کسی بدوی کےلئے سودا نہ کرے ‘‘۔

علاوہ ازیں قرآن وسنت کے الفاظ اور ان میں بیان کئے گئے اصول و ضوابط میں اتنی وسعت اور گہرائی ہے کہ کوئی جز بھی اس سے باہر نہیں رہ جاتا یہی وجہ ہے کہ اختلاف رونما ہونے کی صورت میں کتاب اللہ اور سنت رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے اگر کتاب و سنت میں ان اختلافات کا حل نہ ہو اور ان سے نکلنے کا راستہ نہ ہوتو یہ حکم عبث اور بے معنی ہوجاتا ہے ۔و اللہ و رسوله بريئان منه ۔۔۔

ارشاد باری تعالی ہے :

} يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا  ؀ { (النساء : 59)

ترجمہ: اے اہل ایمان! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے اولو الامر ہیں ان کی بھی اگر کسی بات میں تمہارے درمیان اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں اللہ اور اس کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  کے حکم کی طرف رجوع کرو یہ بات بہت اچھی ہے اور اس کا مآل

  بھی اچھا ہے۔

اس بارے میں دو امور ہمیشہ ملحوظ رہنے چاہئیں ان میں سے ایک تو فہم نصوص کا موہبہ الہیہ ہے جس کی طرف خلیفہ ء راشد رابع علی رضی اللہ عنہ  نے ’’إلا فهم يوتيه اللہ عزوجل رجلاً فی کتاب اللہ‘‘[10]

فرما کر اشارہ کیا ان سے پوچھا گیا تھا کیا آپ لوگوں (اہل بیت) کے پاس کوئی خاص کتاب ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں سوائے اللہ کی کتاب کے یا پھر اس فہم کے جو اللہ تعالی کسی شخص کو قرآن کے متعلق عطا فرمائے ۔۔۔

اور دوسر ے نصوص قرآن حکیم اور سنت نبویہ کی معجزانہ بلاغت ،شیخ الاسلام ابو العباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’بل الصواب الذی عليه جمهور أئمة المسلمين أن النصوص وافية بجمهور أحکام افعال العباد ۔۔۔۔۔وان أنکر ذلک من أنکره لانه من يفهم معنی النصوص العامۃ التی هي أقوال الله و رسوله و شمولها لأحکام أفعال العباد وذلک أن الّٰله بعث محمدا   صلی اللہ علیہ وسلم  بجوامع الکلم فيتکلم با لکلمة الجامعة التی هي قضية کلية و قاعدة عامة تتناول انواعاً کثيرة و تلک الانواع تتناول أعيانا لا تحصی ‘‘[11]

ترجمہ:  ’’درست بات وہ ہے جو جمہور ائمۃ المسلین کا موقف ہے کہ نصوص ( کتاب و سنت ) انسانوں کے تمام افعال کے احکام کے لئے کافی و وافی ہیں ۔ اس حقیقت کا انکار جس نے بھی کیا تو اس کا سبب یہ ہوا کہ وہ عام نصوص یعنی اللہ تعالی اور جناب رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرامین کے معانی اور ان کے افعال العباد کے جملہ احکام پر مشتمل ہونے کے وصف کو سمجھنے سے قاصر رہا ۔اس لئے کہ اللہ تعالی نے سیدنا محمد   صلی اللہ علیہ وسلم  کو جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے چنانچہ وہ ایسا جامع لفظ بولتے

 ہیں جو کلیہ اور قاعدہ عامہ ہوتا ہے اور جو بہت سی انواع کو شامل ہوتا ہے اور یہ انوع انگنت جزئیات کو حاوی ہوتی ہیں ۔‘‘

 اس اصول کی وضاحت میں شیخ الاسلام رحمہ اللہ متعدد مثالیں ذکر کرکے فرماتے ہیں :

’’و من هذا الباب لفظ الربا فانه یتناول کل ما نهي عنه من الربا النسأ والفضل والقرض الذی يجر منفعة وغير ذلک‘‘[12]

یعنی اس کی مثالوں میں ربا کا لفظ بھی ہے کہ ربا الفضل (اشیاء کی باہم کمی بیشی کے ساتھ خرید و فروخت ) ربا النسیئہ (مہلت کے عوض قرض کی رقم میں اضافہ کرنا )اور ہر ایسےقرض کو شامل ہے جس کے ساتھ فائدہ شرط ہو۔

(9)مرونت و ملائمت

غیر متبدل اصول و مبادی پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی نظام معیشت کی ایک خصوصیت اس کی مرونت اور ملائمت بھی ہے یہ ہر طرح کے حالات میں مسائل کے حل اور احوال کے ساتھ مناسبت کی کامل صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم اور جناب رسول کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے جس قدر تاکید حلال کے اکتساب اور حرام سے اجتناب کی کی ہے اسی قدر از خود کسی چیز کو حرام قرار دینے سے گریز کی کی ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے:

}يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ؁{ (البقرۃ :172)

 ترجمہ : اے ایمان والو جو پاکیزہ روزی ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ اور اگر صرف اسی کی عبادت کرنے والے ہو تو اس کا شکر بجالاؤ ۔

نیزفرمایا: } يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا  ڮ  وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ؁{( البقرۃ :168)

 

 ترجمہ :’’لوگو! جو چیزیں زمین میں حلال اور طیب ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘۔

اسی طرح فرمایا :

} يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ؀وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا ۠وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ؀{

 ترجمہ :’’اہل ایمان! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو ، کہ اللہ حد سےبڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور حلال طیب روزی اللہ نے تم کو دی ہیں اسے کھاؤ اور اللہ سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو ‘‘۔( المائدۃ:87۔88)

اور نبی مکرم رحمۃ للعالمین   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :

’’ الحلال ما احل اللہ فی کتابه والحرام ما حرم اللہ فی کتابه وما سکت عنه فهو مما عفا عنه‘‘[13]

ترجمہ :’’حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا اور جس سے سکوت اختیار تو وہ ہے جس سے عفو سے کام لیا ‘‘۔

اور معاملات میں اصل اباحت (جواز )ہے تا وقتیکہ اس معاملہ میں حرمت یا کراہت پر دلیل قائم ہو جائے۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں

والأصل فی هذا أنه لا يحرم علی الناس من المعاملات التی يحتاجون اليها الا مادل الکتاب والسنة علی تحريمه کما لا يشرع لهم من العبادات التی يتقربون بها الی اللہ إلا ما دل الکتاب والسنة علی شرعه إذا الدين ما شرعه اللہ والحرام ما حرمه اللہ. [14]

 

’’ اس بارے میں اصل یہ ہے کہ انسانوں پر معاملات میں سے انہیں جس کی ضرورت رہتی ہے صرف وہی معاملات حرام ہوں گے جن کی حرمت پر کتاب و سنت میں سے دلیل قائم ہو جس طرح کہ عبادات جو ان کے لئے حصول تقرب الہٰی کا ذریعہ ہیں صرف وہ عبادات مشروع ہوں جن کی مشروعیت پر کتاب و سنت سے دلیل قائم ہو ۔ اس لئے کہ دین وہ ہے جسے اللہ شریعت قرار دے اور حرام وہ ہے جسے اللہ حرام قرار دے‘‘۔

تاہم یہ ایک نازک مقام ہے شریعت میں ملائمت اورمرونت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے موم کی ناک بنا لیا جائے اور باب الحيل چوپٹ کھول دیا جائے ۔مولانا و مخدومنا عطاء اللہ الحنیف محدث بھوجیانی رحمہ اللہ کی ایک طویل عبارت بطور تبرک نقل کرنے کو جی چاہتا ہے کہ اس سے بہتر اس مسئلہ کی وضاحت مشکل ہے ۔ اور یہ’’خير الکلام ما قَلَّ و دَلَّ‘‘کی بہترین مثال ہے مولانا تحریر فرماتے ہیں :

’’ دراصل یہ مسئلہ بڑا ہی نازک ہے بلاشبہ اس کی افادیت بہت زیادہ ہے لیکن مفاد پرست سیاست باز اپنی ہر بے دینی ، عیاشی اور اقتصادی بے راہ روی کے لئے اس کو استعمال بھی کرسکتے ہیں چناچہ اسلامی ممالک کے الحاد پسند نہایت ہوشیاری سے ’’ صلاح و فلاح ملت ‘‘ اور ’’ روح اسلام ‘‘ کے لیبل لگا کر اسی اصول کی روشنی کی آڑ میں مفادی اور ظالمانہ سیاست کے لئے کھاد مہیا کر رہے ہیں ۔ قاتلھم اللّٰہ انی یوفکون !

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس نزاکت کو شدید طور پر محسوس فرمایا ۔۔۔۔ اور لکھا ہے

"هذا موضع مزلة الأقدام مضلة أفهام و هو مقام ضنک فی معترک صعب فرط فيه طائفة فعطلوا الحدود و ضيعوا الحقوق و جرأوا أهل الفجور علی الفساد۔۔۔۔۔۔ و افرط فيه طائفة فسوغت منه ما يناقض حکم اللہ". [15]

ترجمہ:’’یہ ایسا مقام ہےجہاں پاؤں پھسلتےہیں اور عقلیں گمراہ ہوتی ہیں یہ تنگنائی اورانتہائی دشوار گذارکشمکش ہے کچھ لوگوں نے تفریط سے کام لیا تو حدود کو معطل کرنے، حقوق کے ضیاع کا سبب بنے اور انہوں نے اہلِ فجور کی حوصلہ افزائی کی۔۔۔جبکہ ایک گروہ افراط کا شکار ہوا انہوں نے ایسا تشدد روا

  رکھا جواللہ تعالیٰ کے احکام میں مضمرحکمتوں کے منافی ہے ،اظہر حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کہ فلاں کام صلاح سے قریب اور فساد سے دورہے اگر چہ اس بارے میں رسول اللہ نے کو ئی ہدایت نہیں دی ہےپر کہہ ومہ کا کام نہیں ہےاگر کوئی حکومت نیک نیتی سے عصر حاضر کے تقاضوں کو کتاب و سنت کی روشنی میں پورا کرنا چاہتی ہے تو اس کو یہ کام ایک ایسی کمیٹی کو سپرد کرنا چاہیے جن کی نظر قرآن حکیم ،حدیث نبوی، قضایا وفتاوی صحابہ، مسالک ائمہ مجتہدین اورفقہی مکاتب فکر پر وسیع اور گہری ہونے کے باوصف موجودہ ضروریات کو خوب سمجھتی ہو اور سب سے بڑھ کریہ کہ یہ بزرگ تعلق باللہ اور تقویٰ وتدین کی صفات سے متصف ہوں۔

اور حق یہ ہے کہ یہ آخری وصف اسلامی نظامِ سیاست وعدالت میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔[16]

واقعیت و افادیت

                اسلام کا نظام معیشت صرف نظریہ نہیں اورافلاطون کی طرح صرف خیال نہیں بلکہ قرونِ مفضلہ میں کامل طور پر اور اس کے بعد بیشتر طور پر نافذ العمل رہااور یہی وہ زمانہ ہے جب انسان اسلام کے نظامِ عدل کے سایہ سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ایک زمانہ تھا جب کوئی شخص فوت ہو جاتا تھا تو نبی رحمت  صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق سوال کرتے کہ ’’هل عليه من دين‘‘   اگر اثبات میں جواب ملتا تو’’ هل ترک من وفاء‘‘ قرض کی ادائیگی کا کوئی سامان کیا۔اگر اس کے ذمہ قرض کی ادائیگی کا سامان ہوتا تو اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ورنہ کہتے:’’صلّوا علی صاحبکم‘‘۔تم خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو‘‘ ۔

پھر اللہ تعالیٰ نے رزق امّت کو وسیع کردیا تو نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروادیا

’’من ترك مالا فلورثته، ومن ترك دينا او كلا فإلينا’’[17]

’’جو مال چھوڑ کر مرا تو اس کے وارثوں کے لئے ہےاور اگر کوئی قرض یا عیال چھوڑ کر مرا تو اس کے ذمہ

  دار ہم ہیں۔‘‘

امیر المومنین عمر الفاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی نظام معیشت کے فیوض وبرکات اس طرح عام ہوئے کہ سيدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ یمن کے صدقات جمع کرنے کیلئے مقرر ہوئےوہاں انہوں نے نبی کرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد’’توخذ من أغنياءهم وترد علی فقراءهم‘‘      کہ ’’زکاۃ ان کے اصحاب ثروت سے وصول کی جائے گی اور ان کے محتاج افراد کی طرف لوٹا دی جائے گی ‘‘کی تعمیل کی۔ تمام ضرورت مندوں میں تقسیم کے بعد بھی ایک تہائی مال بچ رہاوہ انہوں نے دربار امارت میں پیش کردیا تو امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اسے وصول کرنے سے انکار کردیااور فرمایا :’’لم أبعثک جابياً ولا آخذاً جزيۃ ولٰکن بعثتک لتأ خذ من أغنيا ء الناس فتردّ علیٰ فقراءهم‘‘میں نے تمہیں مال اکٹھا کرنے یا جزیہ وصول کرنے نہیں بھیجا تھا میں نے تمہیں اس کام پر مقرر کیا تھا کہ ان کے مالدار لوگوں سے وصول کرو اور ان کے محتاج اورفقیرلوگوں تک پہنچا دو،سيدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے جواب دیا’’ما بعثت اليک بشیءوأنا أجدأحداًيأخذه منی‘‘میں نے یہ مال آپ کی طرف اس وقت بھیجا کہ مجھے یہاں کوئی وصول کرنے والا نہیں ملا۔

اس سے اگلےسال سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ نے صدقات کی مد میں موصول ہونے والے مال کا نصف بیت المال کے لئے ارسال کر دیا تو امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے پھر وہی بات کی اور سیدنا معاذبن جبل نے وہی جواب دیاتیسرے سال یہ ہوا کہ سیدنا معاذبن جبل کو یمن میں صدقہ دینے کیلئے کوئی نہ ملااور انہوں نے تمام جمع شدہ مال دارالخلافہ مدینۃالرسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھجوا دیا ،خلیفہ ثانی عمرالفاروق رضی اللہ عنہ نے پھرکہا کہ میں نے تمہیں مال اکٹھا کرنے یا جزیہ وصول کرنے کے لئے متعین نہیں کیا تھااور سیدنامعاذبن جبل نے وہی جواب دیا’’ما وجدت أحداً ياخذ مني شيئا ‘‘[18]

گویا اسلامی نظام معیشت کی برکت سے غربت کی شرح تیزی سے کم ہوتے ہوتےمعدوم ہو گئی،یہی نقشہ بنو امیہ کے دورِ حکومت میں قائم رہا،چنانچہ جناب عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ( جنہیں پانچواں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے) نے عراق میں اپنے والی ’’عبد الحمید بن عبد الرحمٰن کو لکھا کہ ’’أخرج للناس

 أعطياتهم، أخرج للناس أعطياتهم‘‘ لوگوں کو ان کے مقررہ وظیفے پہنچاؤ۔تو اس نے جواب میں لکھا سب کو ان کے مقررہ وظائف دینے کے بعد بھی بیت المال میں صدقات کا مال باقی ہے تو خلیفہ نے اسے حکم دیا’’أنظر کل من أدان فی غير سفه ولا سرف فا قض عنه‘‘جائزہ لو کہ جس شخص نے بھی حماقت پر قرض نہ لیا ہو اور نہ ہی فضو ل خرچی کی بناء پر مقروض ہو گیا ہو اس کا قرض ادا کر دو۔

حاکم عراق عبد الحمید بن عبد الرحمن نے جواب دیا کہ اس طرح کے مقروضوں کا قرض بھی ادا کر دیا گیا ہےتاہم بیت المال میں زائد مال بدستور موجود ہے اس پر خلیفہ نے اسے لکھا ’’ أنظر کلّ بکر ليس له مال فشاء أن تزوّجه فزوّجه و أصدق عنه‘‘اچھی طرح دیکھو جو کوئی غیر شادی شدہ چاہتا ہو کہ تم اس کی شادی کرو تو اس کے نکاح کا اہتمام کرو اور اس کا حق مہر بیت المال سے ادا کرو، اس نے جواب دیا’’ أني قد زوجت من وجدت ‘‘اس طرح کا جو آدمی بھی مجھے ملا اس کانکاح کر چکا ہوں۔تو خلیفہ نے حکم دیا انظر من کانت عليه جزية فضعف عن أرضه فاسلفه  ما يقوی به علیٰ عمل أرضه فانا لا نريدهم لعام ولا عامين‘‘[19]’’ اگر کوئی جزیہ دینے والا اپنی زمین کی آمدن سے جزیہ دینے کے قابل نہیں رہاتو اس کو اتنا قرض دو جس سے وہ اپنی زمین سنوار سکےہم ان سے ایک سال نہیں بلکہ دو سال تک کچھ تقاضا نہیں کریں گے‘‘۔

جس طرح اللہ کے دین ،اسلام کا محاسن اور خصائص کااستقصاءاور احاطہ حد بیان وتقریر سے باہر ہےاسی طرح اس شجرہ طیبہ کی ایک شاخ اس کے نظام معیشت کے امتیازات وخصوصیات شمار کرنا بھی انسانی طاقت سے افزوں تر ہے۔

ہم اس موقع پر لوگوں کی آزردگی اورمضمون کی طوالت کے خوف سے اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی ہمیں یہ بابرکت نظام اپنی زندگی میں وطن عزیز میں نافذ ہوتا اور اپنی برکات برساتا دکھائی دے ۔ وما ذٰلک علی  اللہ بعزيز۔

وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين وصلی الله علی نبينامحمد وآله وصحبه أجمعين

 

 



[1]  الدعوۃ سینٹر، اسلام آباد

[2] جامع ترمذی : کتاب الجمعۃ، باب ما ذکر فی فضل الصلاۃ،حدیث نمبر: 614

[3] متفق عليه ۔من حديث حکيم بن حزام    

[4] صحيح مسلم ، معجم طبرانی ،حدیث نمبر: 10234 ، میں یہ الفاظ زائد ہیں والمکرو الخداع فی النار ۔ مکرو فریب آگ میں (لے جانے کا موجب  ہے

[5] بخاری:کتاب البیوع، باب اذا بین  البیعان...2079، مسلم: کتاب البیوع، باب  السلم1226

[6] الموسوعة الفقهيه :33/112       

[7] جامع الترمذی :کتاب البیوع، باب ماجاء فی التجار، امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ اس روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں ۔ الغرض مفہوماً یہ روایت صحیح ہے جس کی تائید شریعت کے دیگربےشمار دلائل سے ہوتی ہے ۔

[8] ابو داود کتاب البیوع باب الشركة:3383

[9] البخاری :کتاب البیوع، باب لا یبیع علی بیع اخیہ، حدیث نمبر: 214

[10] { FN 436 }البخاری:کتاب العلم، باب کتابۃ العلم:111،مسند احمد:1/ 79

[11] مجموع الفتاوی الکبری :19/280        

[12] أيضا ص 283

[13] الترمذی ، کتاب اللباس ، باب ماجاء فی لبس الفراء، وابن ماجة : کتاب الأطعمۃ والحاکم عن سلمان    

[14] الفتاوی الکبری 28/386

[15] اعلام:4/309،وبدائع :3/153

[16] تعليق حيات امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ

[17] صحيح البخاری:باب الصلاة على من ترك دينا 3/ 118

[18] کتاب الاموال لابی عبید :596

[19] کتاب الاموال لابی عبید بن سلام :ص251

Read 165 times