بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

جمعرات, 21 ستمبر 2017 16:43

معاشی استحصا ل کا خاتمہ تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں

مقرر/مصنف  محمد اصغر شہزاد

معاشی استحصا ل کا خاتمہ تعلیمات نبوی   صلی اللہ علیہ وسلم  کی روشنی میں

 

تعارف:

آقا علیہ الصلٰوۃوالسلام کی سیرت طیبہ ہر مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو کے لئےنمونہ اور راہنما ہے۔ دین حق قیامت تک کے آنے والے لوگوں کے لئے دین اور سیدنامحمد   صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت طیبہ قیامت تک کے لوگوں کے لئے راہ ہدایت ہے۔ زندگی کا پہلو چاہے معاشی ہو یا معاشرتی دین حق میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ انسان کی فطرت میں قدرت کی طرف سے جو تقاضے رکھے گئے ہیں ان میں سے ایک لازمی اور بنیادی تقاضا معاش یعنی کھانے پینے اور سکونت کا بھی ہے، اس کے بغیر عام حالات میں کوئی انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس لئے رب العالمین نے اس دنیا میں قیامت تک پیدا ہونے والے سارے انسانوں کی معاش کا وافر انتظام اور وسائل پیدا فرمادیئے ہیں۔البتہ ان وسائل کی تحصیل اور تقسیم چند شرعی حدود وقیود کے ساتھ انسانوں کی صوابدید پر چھوڑ دی گئی ہے‘‘۔

دنیا میں اگر کہیں معاشی ظلم اور نا انصافی نظر آتی ہے تو وہ وسائل معاش میں کمی کے باعث نہیں بلکہ انسانوں کی طرف سے ان وسائل کی غلط اور غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ہے۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے بنی نو انسان کے لئے راہ ہدایت کا سرچشمہ آقا علیہ الصلٰوۃوالسلام کو بنا یا اور قانون کے لئے اپنی آخری کتاب قرآن کریم نازل فرمائی۔اسلام دین فطرت ہے اور اس میں انسان کو ہر نقصان دہ شے سے منع کیا گیا ہے۔

 معیشت جو کہ انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے اس کے بارے میں دین حمید کے اندرمکمل راہنمائی موجود ہے تاکہ عوام الناس کے اندر وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کو روکا جاسکے۔ اس مضمون میں آقا علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں جو حکمت عملی رائج تھی اس کا ذکر کیا جائے گا اور موجودہ دور میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا جائے گا۔ بنیادی طور پر بنی نو انسان کی معیشت میں جو استحصال کی باعث بننے والی چیزیں آقا علیہ السلام نے منع فرمائیں ان کی دو اقسام ہیں ایک انفرادی اور دوسرا اجتماعی جو کہ بالترتیب پیش کی جائیں گی۔

انفرادی استحصال کا خاتمہ

انفرادی استحصال سے مراد استحصال کی وہ تمام قسمیں ہیں جو کہ ایک فرد واحد سے وابسطہ ہیں اور  ایسے معاملے سے ایک فرد واحد نقصان اٹھاتا ہے۔ انفرادی استحصال میں بہت سارے نکات ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔

دور جاہلیت میں تجارت کی بہت سی قسمیں تھیں جو کہ بائع یا مشتری میں سے ایک یادونوں کے استحصال کا باعث بنتیں۔ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان تمام بیوع کو منع فرمادیا ان بیوع کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

بیع منابذہ:

بیع کی اس قسم میں جب فروخت کنندہ (بائع) خریدار (مشتری) کی طرف کپڑا  پھینکتا تو بیع لازم  ہوجاتی۔ اس قسم کی بیع میں خریدار کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ ممکن ہے کہ سامان تجارت صحیح نہ ہو ، اس میں دھوکا پایا جائے تو ایک عاقل شخص اس سامان کو کیونکرخریدے گا؟ لہذا آقا علیہ السلام نے بیع کی اس قسم کو منع فرمادیا۔

بیع ملامسہ:

جب مشتری سامان تجارت کو چھو لیتا تو بیع لازم ہوجاتی۔ حتٰی کہ وہ نہ تو مبیع کو کھول سکتا تھا اور نہ الٹ کر دیکھ سکتا تھا۔ اس کی ایک صورت یہ بھی ہوتی تھی کہ آنکھیں بند کر کے تجارتی مال پر ہاتھ لگایا جاتا اور یہ بات طے کر لی جاتی کہ جس مال پر ہاتھ پڑے وہ اتنی قیمت کا ہوگا۔ اس کی موجودہ دور میں عام مثال ملتی ہے کہ اگر ایک گاہک کوئی سامان خریدتا ہے تو دکان پر نمایاں لکھا ہوتا ہے کہ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوسکتا۔ جو کہ آقا علیہ الصلٰوۃوالسلام کی تعلیمات کی سخت مخالفت ہے۔

بیع حبل الحبلۃ:

بیع کی اس قسم میں مشتری (خریدار ) اونٹنی اس وعدہ پر خریدتا کہ جب وہ جنے پھر اس کا جو بچہ ہو وہ جنے تب اسکی قیمت ادا کروں گا۔ اب اس بیع میں فروخت کندہ استحصال کا شکار ہو رہا ہے کیونکہ اگر اس اونٹنی نے مادہ کی جگہ نر جنا تو اس کی قیمت نہ مل سکے گی۔

بیع صفقۃ:

دور جاہلیت میں ایک اصول یہ بھی تھا کہ جب مشتری کوئی چیز خرید تا وہ بائع کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مار کر یہ ثابت کرتا کہ اب بیع مکمل ہوگئی۔ اس وجہ سے اس بیع کو بیع صفقہ کہا جاتا۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا کہ بائع چاہے نہ چاہے مشتری چالاکی سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بیع کر لیتا جو کہ بائع کو مجبوراً قبول کرنا پڑتی تھی۔ صفقہ کا معنی تالی بجانا ہے۔[1]

غرر:

غرر ایک ایسا معاملہ ہے جس کا انجام نامعلوم ہو کہ آیا سودے کی تکمیل ہوگی کہ نہیں۔ یہ جوئے کی ایک قسم ہے اگر کسی شخص نے مفرور غلام یا بھاگے ہوئے گھوڑے کا سودا کیا تو گویا اس نے خطرے پر مشتمل بیع کی کہ اگر مفرور غلام یا بھاگا ہوا گھوڑا نہیں ملتا تو یہاں پر جھگڑے کا  بہت احتمال ہے۔ آقا علیہ السلام نے اس بیع کو منع فرمایا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ’’ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے غرر کی بیع اور بیع الحصاۃ سے منع فرمایا ‘‘فقہ کی کتب میں اس کی مثالیں ہوا میں اڑتا ہوا پرندا اور پانی میں مچھلی کی بیع سے دی جا تی ہیں۔ موجودہ دور میں غرر کی بہت ساری شکلیں پائی جاتی ہیں جیسے کہ روایتی انشورنس۔ انشورنس میں ایک آدمی انشورنس کمپنی سے ماہوار قسط کے عوض اپنی زندگی کی انشورنس کرواتاہے اور یہ عقد انشورنس ایک خاص مدت کا ہوتا ہےجس میں یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ اگر اس دورانیے میں گاہک کی موت واقعہ ہوگئی تو اس کو دس لاکھ روپے ملیں گے اور اگر موت واقعہ نہ ہوئی تو اس کو  آٹھ لاکھ روپے ملیں گے۔ اب اس معاملے میں دونوں کو قطعاً علم نہیں کہ آیا گاہک کی موت واقعہ ہوگی کہ نہیں؟ اور گاہک کے لواحقین کو دس لاکھ ملیں گے یا کہ آٹھ لاکھ روپے۔

ناپ تول میں کمی:

دھوکا دہی اور فریب کی بدترین قسم ناپ تول میں کمی ہے جو لوگ اس سنگین جرم کے مرتکب ہیں وہ اسلام کی نگاہ میں قابل نفرت اور سخت سزا کے مستحق ہیں۔ قرآن مجید نے اس جرم کی قباحت اور اخروی سزا یو ں  بیان فرمائی ہے۔ ترجمہ : ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب انہیں ناپ کریا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں‘‘(سورۃ المطفیفن: آیت نمبر 1 تا 3) سیدنا شیعب علیہ السلام کی قوم میں شرک کے علاوہ جو ایک بڑی خرابی تھی وہ یہ کہ  وہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔حالانکہ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ جب یہ لوگ سیدنا شعیب علیہ السلام کی نصیحت پر بھی باز نہ آئے تو اللہ تعا لٰی نے ان پر آگ برسا کر ان کو مال و دولت سمیت تباہ کر دیا۔ یہ عذاب اس طرح آیا کہ پہلے سات دن تک ان پر سخت گرمی اور دھوپ مسلط کر دی گئی اس کے بعد بادلوں کا ایک سایہ آیا، چونکہ یہ لوگ سات دن کی سخت گرمی سے بلبلائے ہوئے تھے اس لیے سب سائے تلے جمع ہوگئے تکہ ٹھنڈی ہواؤں کا لطف اٹھائیں۔ لیکن چند لمحے بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنا شروع ہو گئے ، زمین زلزلے سے لرز اٹھی اور ایک سخت چنگھاڑنے انہیں ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلا دیا۔[2]

اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں اس واقعہ کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں۔ ترجمہ : ’’انہوں نے اسے(شعیب علیہ السلام کو) جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ وہ بڑے بھاری دن کا عذاب تھا‘‘(سورۃ الشعراء آیت نمبر 189)

 آقا علیہ السلام نے فرمایا :’’ جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو اس پر قحط سالی ، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کر دیا جاتا ہے‘‘۔ناپ تول میں کمی ایک بہت قبیح عمل ہے اور اسلام نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ اس میں خریدار کا سراسر استحصال ہوتا ہے کیونکہ گاہک پیسے پورے دیتا ہے مگر چیز کم ملتی ہے۔ چونکہ ناپ تول میں کمی کرنا ایک شدید ظلم اور استحصال ہے اور اس کی سزا بھی بڑی سخت ہے اس معاملے میں احتیاط برتنے کے بارے میں آقا علیہ السلام نے امت کی راہنمائی فرمائی کہ: ’’ جب تم تول کر دو تو جھکتا ہوا دو‘‘۔[3]

مال بیچتے وقت دھوکا دینے کی ممانعت:

دین حنیف قیامت تک کے انسانوں کے لئے راہ ہدایت ہے او ر اس میں ہر انسان کا مال اسی طرح محترم ہے جس طرح کہ اس کی جان اور عزت۔ اسلام میں کسی کو دھوکہ دینے کی سخت ممانعت ہے۔ سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کا غلے کے ایک ڈھیر پر گزر ہوا، آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس میں ہاتھ ڈالا تو انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی، آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اے غلے والے! یہ کیا؟ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  !بارش ہوگئی تھی، آپ نے فرمایا: تو تونے اسے (نم دار غلے کو) ڈھیر کے اوپر کیوں نہ کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں ، پھر فرمایا:’’ جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔[4]  اس حدیث مبارکہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آقا علیہ السلام نے کتنی سختی کے ساتھ دھوکا دینے والے کی مذمت کی ہے۔ دوسری طرف آقا علیہ السلام نے مال بیچتے وقت مال میں نقص بتانے کی ترغیب بھی دی ہے۔

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کوئی چیز فروخت کرے تاوقتیکہ اس کے اندر جو خوبی یا خرابی ہےاسے بیان نہ کردے‘‘۔ اسی طرح اگر فروخت کندہ کے علاوہ کسی شخص کو اس کا علم ہو گیا ہے تو وہ دوسروں کو اس کے متعلق صاف صاف بتا دے۔ [5]

جانوروں کی خرید و فروخت میں بھی دھوکے کا بہت احتمال ہوتا ہے۔ حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا :’’ اونٹنی اور بکری کا دودھ نہ روکو، اگر ایسی حالت میں کسی نے کوئی جانورخرید لیا تو اسے دوباتوں کا اختیار ہے کہ دودھ دوہ کر پسند آئے تو رکھ لے ، ورنہ واپس کردے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجوریں بھی دےدے‘‘۔آقا علیہ السلام نے دوھوکا دے کر مال فروخت کرنے کی جس طرح ممانعت فرمائی ہے اسی طرح بعض اوقات لوگ خراب مال کو بیچنے کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ ان کا مال زیادہ قیمت میں فروخت ہو جائے۔ اس کی موجودہ دور میں بہت مثالیں ملتی ہیں کہ فروخت کندہ کم قیمت پر چیز خریدتا ہے اور بہت زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے جھوٹی قسمیں اٹھاتا ہے ‘‘۔ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ تین افراد ایسے ہیں جن کی طرف قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ نہ تو نظر (کرم) کریں گے نہ انہیں پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔، ایک وہ شخص جو رہ گزر پر زائد پانی کا مالک ہے اور مسافروں کو نہیں دیتا اور دوسرا وہ شخص جو کسی امام کی بیعت دنیا کی غرض سے کرتا ہے۔ اگر وہ اس کی مرضی کے مطابق ( اس کو دنیوی مفادات) دیتا ہے تو اس سے راضی و خوش رہتا ہے اور اگر نہیں دیتا تو اس سے ناراض ہوتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جس نے کسی شخص کے ساتھ عصر کے بعد سودا کیا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ مجھے اس چیز کا اتنا اور اتنا دیا گیا ہے تو دوسرے نے اس کی تصدیق کی‘‘۔[6]

اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ ایک آدمی بازار سے کپڑا خریدنے جاتا ہے اور فرخت کنندہ اسے کہتا ہے کہ اللہ کی قسم مجھے یہ کپڑا پانچ سو میں پڑا ہے اور میرا اس میں پچاس روپے منافع ہے حالانکہ اس نے وہ کپڑا تین سو روپے میں خریدا ہے۔ تو یہ بھی ایک استحصال کی قسم سے جس کو آقا علیہ السلام نے سختی سے منع فرمایا ہے اور اس طرح دھوکا دے کر مال فروخت کرنے والے کے خلاف سخت وعیدسنائی ہے۔

 

تناجش:

نجش ’’جھوٹی بولی دینا‘‘۔ یہ بھی دھوکے کی ایک قسم ہے کہ کوئی شخص جو کہ فروخت کنندہ نہیں ہے اور نہ ہی خریدا ر ہے وہ  خریدار کے مقابلے میں مبیع(فروخت کی جانے والی چیز) کی بولی لگائے حالانکہ اس کا ارادہ مال خریدنے کا نہ ہو۔ اور اس کے بولی لگانے کی وجہ سے مبیع کی قیمت بہت اوپر چلی جائے۔ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہع نہ سے روایت ہے کہ آں حضرت   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اے لوگو! وہ لوگ جو اپنا سامان تجارت اور مویشی بیچنے کی غرض سے منڈی میں لاتے ہیں تو (منڈی سے باہر ) ان سے سودا مت کرو۔ اگر ایک آدمی سودا کر رہا ہے تو محض قیمت بڑھانے کے لیے بولی مت لگاؤ۔ 

انفرادی استحصال کا حل اور تجارت میں فروخت کنندہ اور خریدار کے اختیارات

تجارت جو کہ معیشت میں بڑی اہمیت کی حامل ہے قرآن کریم میں تجارت کے بارے میں متعدد حوالہ جات موجود ہیں جوکہ تجارت کی اہمیت اور اس سے متعلق احکامات پر مبنی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی تجارت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ، ترجمہ : ’’ اللہ تبارک و تعالٰی نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام‘‘۔سورۃ النساء میں ہے، ترجمہ : ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ، مگریہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کاہو۔( سورہ نساء آیت نمبر 29  )

اس آیت مقدسہ میں مال ناحق کی ممانعت اور تجارت وغیرہ کی اجازت دی گئی ہے۔ اور حدیث پاک میں ہے: ’’مسلمان کامال دوسرے کیلئے اس کی دلی رضامندی کے بغیرحلال نہیں۔‘‘

بہرحال تجارت اعلی اوربابرکت پیشہ ہے، اس سے حاصل ہونے والی کمائی حلال وطیب ہے۔ بلکہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے’’رزق کے دس حصوں میں سے نوحصے تجارت سے حاصل ہوتے ہیں اورایک حصہ دوسرے پیشوں سے‘‘۔ جبکہ احادیث صحیحہ میں مومن تاجرکی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ سیدالمرسلین   صلی اللہ علیہ وسلم  ارشاد فرماتے ہیں: ’’سچا، امانت دار، مسلمان تاجر بروزقیامت انبیاء، صدیقین اورشہداء کے ساتھ ہوگا‘‘۔تجارت کی اس اہمیت اور فضیلت کے تحت اسلام نے اس کے بارے میں اصول و قواعد وضع فرما دئیے۔ تجارت میں بائع اور مشتری دونوں کے حقوق کا استحصال ہونے سے بچانے کے لئے خیار البیع کا بے نظیراصول وضع فرمایا تاکہ دونوں میں سے کسی کو بھی نقصان نہ ہو اور جھگڑے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ موجودہ دور میں ہم بازار میں دوکانوں پر لکھا ہوا دیکھتے ہیں کہ ‘‘خریدا ہو مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا’’ یہ سراسر شریعت کے خلاف ہے۔ ذیل میں خریدار اور فرخت کندہ کے اختیار جو کہ شریعت نے دئیے ہیں وہ ذکر کئے جاتے ہیں۔

خیار رؤیت

خیار رویت سے مراد یہ ہے کہ خریدار مبیع( چیز ) کو خریدتے وقت اس کو اچھی طرح سے جانچ لے اور اس کو دیکھ کر خریدے۔اگر کسی شخص نے کوئی ایسی چیز خریدی جو اس نے خریدتے وقت نہیں دیکھی تھی تو وہ دیکھتے ہی یہ اختیار رکھتا ہے کہ چاہے تو پوری قیمت دے کر چیز کو خرید لے یا واپس کر دے۔اگرخریدار مبیع کو دیکھنے سے پہلے کہہ دے کہ میں سودے پر راضی ہوں، پھر وہ مبیع کو دیکھے، تب بھی اسے سودا منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، کیونکہ شریعت نے جو اختیار دیا ہے وہ دیکھنے پر موقوف ہے۔[7]اس اصول کے تحت خریدار کو چیز واپس کرنے کا حق حاصل ہے تاوقتیکہ اس نے اس چیز کو استعمال نہ کیا ہو اور نہ کوئی نقص پیدا ہوا ہو۔

خیار العیب

خیار العیب سے مراد ایسا خیار ہے کہ اگر چیز میں کوئی عیب ہو تو خریدار واپس کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا : ’’مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو کوئی چیز اس طور پر بیچے کہ اس کے عیب اور خرابی سے اسے آگاہ نہ کرے‘‘۔ جناب حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی روایت ہے آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’خرید و فروخت کرنے والے فریقین کو اس وقت تک (بیع کو فسخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں۔اگر اس سودے میں انہوں نے سچ بولا اور ہر چیز کھول کر بیان کر دی تو ان کے سودے میں برکت ہوگی، اور اگر انہوں نے غلط بیانی کی اور جو بات ظاہر کرنا چاہیے تھی، اسے چھپایا تو اس سودے سے برکت اٹھ جائے گی‘‘۔ [8]

نیز آقا علیہ السلام نے فرمایا جس نے دھوکا کیا وہ ہم میں سے نہیں۔ لہذا فروخت کنندہ کے لئے لازم  ہے کہ وہ جو چیز بیچے اگر اس میں کوئی خامی یا خرابی ہو تو اس کے بارے میں خریدار کو مطلع کرے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو وہ گنہگار ہوگا۔

خیار المجلس:

خیارکی اس قسم میں خریدار اور فروخت کندہ جب تک (مقام بیع) بازار میں موجود ہیں تو دونوں کو بیع کا معاملہ منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا: ’’ بائع (فروخت کندہ) اور مشتری  (خریدار) میں سے ہر ایک کو اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں‘‘۔ [9]

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے بیع میں خیار مجلس فریقین کے فائدے اور رضامندی جو اللہ تبارک و تعالٰی نے بیع کے لیے ایک شرط کے طور پر بیان کی ہے کے لیے رکھا ہے کیونکہ عموماًً بیع جلد بازی میں غور و فکر کے بغیر ہی ہوجاتی ہے لہذا یہ شریعت کاملہ کی خوبیوں میں سے ہے کہ اس نے ایک حد ( جب تک دونوں فریق بیع کی جگہ موجود ہیں) مقرر کر دی ہےجس میں دونوں فریق اپنے فیصلے پر غور و فکر اور نظر ثانی کر لیں۔اور اگر خریدار اس مبیع (خریدی ہوئی چیز) میں سے استعمال کر لے تو یہ اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ [10]

خیار الشرط

اگر فریقین بائع (فروخت کندہ) مشتری (خریدار) ایک مدت تک کی شرط رکھ لیتے ہیں کہ مجھے اتنی مدت تک سودا منسوخ کرنے کا اختیار ہوگا اور دوسرا فریق بھی اس پر راضی ہو تو اس کو خیار شرط کہتے ہیں۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا ’’ مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں‘‘ [11]

اجتماعی استحصال کا خاتمہ

اجتماعی استحصال سے مراد استحصال کی وہ تمام قسمیں ہیں جو کہ صرف فرد واحد سے وابسطہ نہیں بلکہ اس کے نقصانات سے پورا معاشرہ متاثر ہو رہا ہوتا ہے۔ اور ایسے معاملے سے ہرایک فرد نقصان اٹھاتا ہے۔اجتماعی استحصال میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔

ذخیرہ اندوزی :

ذخیرہ اندوزی کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص شہر سے غلہ خریدے اور پھر اسے فروخت نہ کرئے اور اس کی وجہ سے عوام الناس کو مشکل کا سامنہ کرنا پڑے۔ اس کو ہم موجودہ دور کی ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک آدمی ایک شہر سے غلہ خریدتا ہے اور اسے اپنے قصبے میں لے جاتا ہے اور اس کو فروخت نہیں کرتا تو یہ آدمی ذخیرہ اندوز کہلائے گا۔ لیکن اگر جس جگہ پر غلہ لے کے جا رہا ہے وہ ایک بڑا شہر ہے اور عوام کو اس کے غلہ ذخیرہ کرنے سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا تو وہ شرعاً ذخیرہ اندوز نہیں کہلائے گا۔امام ابو یوسف  ؒنے اس کو ذخیرہ اندوزی میں ہی شمار کیا ہے کیونکہ اس عمل سے عوام الناس کو نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن امام ابو حنیفہ ؒ دوسری طرف آقا علیہ السلام کی حدیث مبارکہ سے استدلال کرتے ہیں کہ’’  غلہ دور سے اٹھا کر لانے والے کو رزق ملتا ہے‘‘امام ابو یوسف  کے نزدیک ذخیرہ اندوزی  ہر اس چیز میں ثابت ہوتی ہے جس کی عدم دستیابی سے عوام الناس کو تنگی اور پریشانی ہوتی ہو، خواہ وہ خوراک ہو یا کوئی اور چیز۔[12] آقا علیہ السلام نے فرمایا ’’ جس شخص نے چالیس دن تک کھنے پینے کی اشیاء دوک رکھیں تو وہ اللہ تعالٰی سے اور اللہ تعالٰی اس سے بری ہے ‘‘  لہذا اس حدیث مبارکہ میں انتہائی سخت وعید ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک حرام عمل کے لئے ہی ہو سکتی ہے۔یہ ایک استحصال کی صورت ہے اور اسلام نے اس کی سختی سے مذمت کی ہے۔

سود:

ر قم دے کر اس کے عوض اصل سے زائد رقم مقرر کرکے وصول کرنا، یا دو ایسی چیزیں جو ہم جنس ہوں اور وزن یا کیل کی جاتی ہوں کے لین دین میں کمی یا اضافہ کرنا یا ادھار کرنا ’’ربا‘‘ یعنی سود ہے۔ قرآن وسنت میں سود کو بہت بڑا گناہ اور اسے سخت ممنوع قرار دیا گیا ہے ، بلکہ قرآن مجید میں سود خوروں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ جنگ کا چیلنج کیا گیا ہے۔ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کا حساب و کتاب لکھنے والے اور سودی کاروبار میں گواہ بننے والے پر لعنت فرمائی ہے ایک حدیث پاک میں ہے کہ شب معراج رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سود خوروں کو جہنم میں اس حال میں دیکھا کہ ان کے پیٹ بڑی بڑی کوٹھڑیوں کی طرح ہیں اور یہ لوگ جہنم میں پتھر اور تھوہر کے کانٹے کھا رہے ہیں۔حرمت ربا کے باے میں جو آیت کریمہ اور احادیث  پیش کی گئی ہیں ان سے ہر ذی شعور اندازہ لگا سکتا ہے سو د جیسی لعنت شریعت محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم  میں کتنی سختی سے منع ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے اپنی کتاب ’’اسلام میں ربا کی حرمت اور بلاسود سرمایہ کاری‘‘  میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ : آقا علیہ السلام ، خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اہل ذمہ یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے جن کے بموجب ان کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رہتےہوئے اسلامی ریاست میں آزادانہ اور باعزت زندگی گزار سکیں حتیٰ کہ ان کو اسلامی ریاست کے اندر رہتے ہوئے شراب نوشی اور خنزیر خوری جیسے امور کی بھی اجازت دی گئی جو شریعت کی رو سے قطعا حرام ہیں لیکن ان تمام آزادیوں کے باوجود ان کو سود خوری کی اجازت ہرگز نہیں دی گئی۔ خود رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے نجران کے عسائیوں سے جو معاہدہ کیا اس میں صراحت کی گئی کہ سودی کاروبار کی صورت میں یہ معاہدہ کالعدم متصور ہوگا۔

یہ بات تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ قرآن کریم اور حدیث مبارکہ میں سود کی واضح حرمت بیان ہوئی ہے مگر اس حقیت سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں کہ سود کی حرمت ان بنیادی احکامات میں سے ہے جن کے بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ انسان کو دین حنیف سے خارج کر دیتا ہے۔ سود نہ صرف اسلام بلکہ دوسرے آسمانی مذاہب میں بھی حرام ہے۔ سود جو کہ معاشرے کا ایک ناسور ہے اور اس کی وجہ سے اس وقت دنیا میں افراط زر، مہنگائی اور تجارتی خسارے ہیں۔ سود چاہے قبل از اسلام کا ہو ، ساہوکاری، یا ہندو بنیے کا یہ تمام معاشی استحصال کا موجب ہیں۔ اس میں سرمایہ کا بہاؤ غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے اور گردش دولت چند ہاتھوں میں رہتی ہے۔ اسلام نے ہر طرح کے سود سے دور رہنے کا حکم دیا ہے۔

 

 

خلاصہ کلام:

آج امت مسلمہ متعدد مسائل کا شکار ہے اور ان مسائل میں معیشت بنیادی مسئلہ ہے جو کہ ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے۔ ان مسائل کا حل صرف اور صرف قرآن کریم اور آقا علیہ الصلوٰۃ و السلام کی سیرت طیبہ سے ہی ممکن ہے۔ ایک تاجر اگر ان اصولوں کواپنا ئےتو اس کی روزی میں برکت ہوگی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں اجر کا مستحق ہوگا۔ اور ان اصولوں کے انحراف کی شکل میں روز قیامت جوابدہ بھی ہوگا اور سزا کا مستحق بھی۔ اس لئے یہ نہ صرف ایک فرد واحد بلکہ حکومت کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ان قوانین کو ریاست میں لاگو کرے اور ان پر سختی سے عمل کروائے۔ تاکہ امت مسلمہ کا ہر فرد ان مشکلات سے نکل سکے۔

مصادر و مراجع:

Mansoori Dr. Muhammad Tahir Islamic law of Contracts and Business Transactions[کتاب]-Islamabad:Shari'ah Academy, International Islamic University,Islamabad,2009.

صحيح بخاری [کتاب]. - باب: اثم من منع ابن السبيل من الماء 8532 : [گمنام] کتاب المساقاة

علی حافظ ذوالفقار معیشت و تجارت کے اسلامی احکام [کتاب] - لاہور : ابوہریرۃ اکیڈمی 2010

غفاری ڈاکٹر نور محمد

 نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کی معاشی زندگی [کتاب]- لاہور : دیال سنگ ٹرسٹ لائبریری لاہور 1999.

منصوری ڈاکٹر محمد طاہر

 احکام بیع [کتاب] - اسلام آباد : ادارہ تحقیقات اسلامی ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد2005.                                                                                      

 



[1]  غفاری ڈاکٹر نور محمد نبی کی معاشی زندگی [کتاب]. - لاہور : دیال سنگ ٹرسٹ لائبریری لاہور, 1999.

[2] علی حافظ ذوالفقار معیشت و تجارت کے اسلامی احکام [کتاب]. - لاہور : ابوہریرۃ اکیڈمی, 2010. ص 55

[3] سنن ابن ماجہ: باب الرجحان فی الوزن

[4] صحیح مسلم : کتاب الایمان : باب: قول النبی من غشنا فليس منا. 102.

[5] منصوری, ڈ. م. (2005). احکام بیع. اسلام آباد: ادارہ تحقیقات اسلامی ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد. ص۔103

[6] صحیح بخاری. کتاب المساقاۃ. باب: اثم من منع ابن السبيل من الماء 8532.

  Mansoori, D. M. (2009). Islamic law of Contracts and Business Transactions. Islamabad: Shari'ah Academy, International Islamic University, Islamabad

[7] منصوری, ڈ. م. (2005). احکام بیع. اسلام آباد: ادارہ تحقیقات اسلامی ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد. ص۔119

[8]متفق علیہ)

[9] صیحح بخاری: کتاب البيوع: باب کم يجوز الخيار

[10] علی حافظ ذوالفقار معیشت و تجارت کے اسلامی احکام [کتاب]. - لاہور : ابوہریرۃ اکیڈمی, 2010. ص  87

[11] صحیح بخاری: باب اذا کان البائع بالخیار ھل یجوز البیع

[12] منصوری, ڈ. م. (2005). احکام بیع. اسلام آباد: ادارہ تحقیقات اسلامی ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد. ص۔103

Read 165 times