بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
جمعرات, 08 ستمبر 2016 11:14

قربانی کی تعریف اور اُس کا حکم

Written by  اسلام سوال و جواب

قربانی کی تعریف اور اسکا حکم


قربانی سے کیامراد ہے ؟   اور کیا قربانی کرنا واجب ہے یا سنت ؟

الحمد للہ ۔

الأضحيۃ  :  ایام عید الاضحی میں اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بھیمۃ الأنعام(بکرا، بکری، گائے، بیل، اونٹ، دنبہ، بھیڑ)میں سے کوئی جانورذبح کرنے کوقربانی کہا جاتا ہے۔

قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے اس کی مشروعیت کتاب اللہ اورسنتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے ۔

ذيل میں اس کی مشروعیت پردلائل پیش کیے جاتے ہيں :

کتاب اللہ الکریم :اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :  [اللہ تعالی کے لیے ہی نماز ادا کرو اورقربانی کرو ] ۔

اورایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا :

[آپ(ﷺ) کہہ دیجیے یقینا ً میری نماز اورمیری ساری عبادت اور میرا جینا مرنا یہ سب خالص اللہ تعالی ہی کا ہے۔جوسارے جہاں کا مالک ہے ، اس کا کوئي شریک نہيں اورمجھ کواسی کا حکم ہوا ہے اورمیں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں]۔

اورایک تیسرے مقام پراللہ تعالی نےاس طرح فرمایا :

[اورہر امت کےلیے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے تا کہ وہ ان چوپائے جانوروں پراللہ تعالی کا نام لیں جواللہ تعالی نے انہیں دے رکھے ہيں ، سمجھ لوکہ تم سب کا معبود والہ برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہوجاؤ اورعاجزی کرنے والوں کوخوشخبری سنا دیجیے] ۔

سنت نبویہ سے دلائل :

1)    صحیح بخاری اورمسلم کی روایت ہے کہ انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سیاہ وسفید مینڈھوں کی قربانی دی انہيں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور( ذبح کرتے ہوئے ) بسم اللہ اللہ اکبر کہا اوراپنا پاؤں ان کی گردن پررکھا ۔     دیکھیں صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5558 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1966 ) ۔

2)     عبداللہ بن عمررضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ :  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ شریف میں دس برس قیام کیا اورہر برس قربانی کیا کرتے تھے۔     (مسند احمد حدیث نمبر ( 4935 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1507 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے مشکاۃ المصابیح (1475) میں اس حدیث کوحسن قرار دیا ہے) ۔

3)    عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کے مابین قربانیاں تقسیم کیں توعقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حصہ میں جذعہ آیا تووہ کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے حصہ میں جذعہ آیا ہے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کوہی ذبح کردو ۔   دیکھیں: صحیح بخاری حدیث نمبر (5547) ۔

4)    براء بن عازب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے بھی نماز ( عید ) کے بعد ( قربانی کا جانور ) ذبح کیا تواس کی قربانی ہوگئي ، اوراس نے مسلمانوں کی سنت پرعمل کرلیا ۔     (صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5545 ) ۔)

تواس طرح معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی قربانی کے جانور ذبح کیے اورصحابہ کرام رضي اللہ تعالی عنہم بھی قربانی کرتے رہے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا کہ قربانی کرنا مسلمانوں کی سنت یعنی ان کا طریقہ ہے ۔

لہٰذا مسلمانوں کا قربانی کی مشروعیت پراجماع ہے ، جیسا کہ کئي ایک اہل علم نے بھی اس اجماع کونقل بھی کیاہے ۔

اوراہل علم کااس میں اختلاف ہے کہ آیا قربانی کرنا سنت موکدہ ہے یا کہ واجب جس کا ترک کرنا جائز نہيں ؟

جمہورعلماءکرام کا مسلک یہ ہے کہ قربانی کرنا سنت ِمؤکدہ ہے ، امام شافعی کا مسلک بھی یہی ہے اورامام مالک اورامام احمد سے بھی مشہور مسلک یہی ہے ۔

اوردوسرے علماء کرام کہتے ہیں کہ قربانی کرنا واجب ہے ، یہ امام ابوحنفیہ رحمہ اللہ کا مسلک ہے اورامام احمد کی ایک روایت یہ بھی ہے ، اورشیخ الاسلام ابن تمیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے بھی اسے ہی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے : یہ مسلک مالکی مذھب کا ایک قول ہے یا امام مالک کے مذھب کا ظاہر ۔ انتھی ۔       (دیکھیں : احکام الاضحیۃ والذکاۃ تالیف ابن عثیمین رحمہ اللہ) ۔

شیخ محمد بن عثيمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

جوشخص قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہواس کے لیے قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے ، لھذا انسان اپنی اوراپنے اہل وعیال کی جانب سے قربانی کرے ۔  (دیکھیں : فتاوی ابن عثیمین ( 2/661 ) ۔ )

واللہ اعلم

الاسلام سوال وجواب

 

Read 1285 times Last modified on جمعرات, 08 ستمبر 2016 11:20