بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
جمعرات, 15 نومبر 2018 17:18

سیرتِ رسول ﷺبزبانِ خادمِ رسول

Written by  عبد السلام جمالی

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب نو سال کی عمر کو پہنچے تو ان کی والدہ محترمہ نے ان کو نبی علیہ الصلاة والسلام کی خدمت میں ان کی خدمت کے لیے پیش کیا جیسا کہ خود سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میری والدہ مجھے رسول ﷲ کے پاس لے گئیں او کہا : اے اﷲ کے رسول !

خُوَيْدِمُكَ أَلَا تَدْعُو لَهُ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ، أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ حَيَاتَهُ، وَاغْفِرْ لَهُ . فَدَعَا لِي بِثَلَاثٍ، فَدَفَنْتُ مِائَةً وَثَلَاثَةً، وَإِنَّ ثَمَرَتِي لَتُطْعِمُ فِي السَّنَةِ مَرَّتَيْنِ، وَطَالَتْ حَيَاتِي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنَ النَّاسِ، وَأَرْجُو الْمَغْفِرَةَ (أدب المفرد:653)

 آپ کا یہ چھوٹا سا خادم ہے اس کے لیے دعا کیجیے۔ آپ نے دعا فرمائی : اے اﷲ ! اس کے مال واولاد میں برکت فرما ، اسے لمبی عمر عطا کر اور اسے بخشش دے۔ سیدناانس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے لیے تین مرتبہ دعاکی پس میں نے 103 اشخاص کو (اپنے دستِ مبارک سے)دفن کیا، اور میرے پھل دار درخت سال میں دو مرتبہ پھل دیاکرتےاور میری عمر اتنی لمبی ہوئی ہے کہ میں اپنے گھر والوں سے شرم محسوس کرتا ہوں۔ اب صرف چوتھی دعا باقی رہ گئی ہے یعنی مغفرت۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے کہ:

خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ

(صحیح مسلم : 6011)

میں نے ( تقریباً ) دس سال تک رسول اللہ کی خدمت کی ۔کے مطابق دس سال کے عرصے میں امام الانبیاء علیہ السلام کی سیرت کو جو خادم رسول سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے دیکھا اور نوٹ کیا وہ آگے بیان کیا جن میں سے مختصر چند پہلو آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں !

خادم رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کائنات علیہ السلام کے حسن جمال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، ‏‏‏‏‏‏أَزْهَرَ اللَّوْنِ لَيْسَ بِأَبْيَضَ أَمْهَقَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا آدَمَ لَيْسَ بِجَعْدٍ قَطَطٍ وَلَا سَبْطٍ رَجِلٍ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ فَلَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ وَقُبِضَ وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَبِيعَةُ:‏‏‏‏ فَرَأَيْتُ شَعَرًا مِنْ شَعَرِهِ فَإِذَا هُوَ أَحْمَرُ فَسَأَلْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ احْمَرَّ مِنَ الطِّيبِ

آپ آدمیوں میں متوسط تھے، نہ درازقد اور نہ پست قامت آپ کا رنگ چمک دار تھا، نہ خالص سفید اور نہ نراگندمی۔ آپ کے بال بھی درمیانے درجے کے تھے، نہ سخت پیچ دار(گھنگریالے)اور نہ بہت سیدھے۔ چالیس سال کی عمر میں آپ پر وحی نازل ہوئی۔ آپ دس سال مکہ میں رہے وحی نازل ہوتی رہی اور دس برس مدینہ میں رہے۔ جس وقت آپ کی وفات ہوئی تو آپ کے سراور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔ (راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے بالوں میں سے ایک بال دیکھا تو وہ سرخ تھا۔ میں نے پوچھا تو کہا گیا کہ یہ بال خوشبو کے استعمال سے سرخ ہو گیا ہے۔(صحیح بخاری:3547) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْيَدَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ حَسَنَ الْوَجْهِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ بَسِطَ الْكَفَّيْنِ. ( صحیح بخاری : 5907 )

 نبی کریم کی ہتھلیاں اور قدم مبارک گوشت سے پُر تھے۔ میں نے آپ جیسا (خوبصورت) کوئی نہ پہلے

دیکھا ہے اور نہ بعد میں۔ آپ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔

اور فرمایا:وَلَا مَسِسْتُ خَزَّةً وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلَا عَبِيرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (صحیح بخاری : 1973 )

اور میں نے کوئی ریشم اور مخمل رسول اللہ کی

ہتھیلیوں سے زیادہ نرم نہیں دیکھا اور نہ میں نے کوئی

مشک اور عنبر رسول اللہ کے پسینے کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار سونگھا۔

نبی کریم ﷺکے بالوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :

كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا لَيْسَ بِالسَّبِطِ وَلَا الْجَعْدِ ‏‏‏‏‏‏بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ

رسول اللہ کے بال درمیانہ تھے نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے اور نہ گھونگھریالے اور وہ کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک تھے۔ (صحیح بخاری:5905)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا کہنا ہےکہ :

فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا ( صحیح بخاری : 6911 )

میں نے نبی کریم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ ! نبی کریم نے کبھی مجھ سے کسی کام کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ : یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ : یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔

خادم رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت سے نبیء کائنات کا اخلاق حسنہ واضح ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کس قدر شفیق ومہربان تھے کبھی بھی اپنے خادم کو کوئی تکلیف نہیں دی حتی کہ اف تک نہیں کھا اور ہمارے معاشرے کی طرف نظر دوڑائی جائے تو بالکل اس کے الٹ ہی نظر آتا ہے، ہماری زبان کے شر کی وجہ سے بعض لوگ راستہ بدل لیتے ہوں، ہمارے برے کردار سے بچنے کے لیے ہی لوگوں نے ہم سے ملنا چھوڑدیا ہو خدارہ ! اپنے پیارے پیغمبر علیہ السلام کا اخلاق پڑھیں اور غور کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟! آپ علیہ السلام اگر کسی مسلمان بھائی کو نہیں دیکھتے تو اس کے متعلق پریشان ہوجاتے اور صحابہ سے ان کے متعلق پوچھا کرتے جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:‏

أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ مَرِضَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏  أَسْلِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ:‏‏‏‏ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ ( سنن ابی داود : 3095 )

 ایک یہودی لڑکا بیمار هوا تو نبی اکرم اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا : تم مسلمان ہو جاؤ ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے کہا: ابوالقاسم کی اطاعت کرو ، تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو میری وجہ سے آگ سے نجات دی ۔

ہمارے پیارے پیغمبر علیہ السلام تو یہودیوں کے بچوں سے بھی خیرخواہی کرتے جیسا کہ خادم رسول کا کہنا ہے۔

اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ: أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَوَاللهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ فَقَالَ أَنَسٌ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا ( صحیح مسلم : 6020 )

ایک شخص نے نبی کریم سے دوپہاڑوں کے درمیان ( چرنے والی ) بکریاں مانگیں ، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میری قوم اسلام لے آؤ ، کیونکہ اللہ کی قسم!بیشک محمد اتنا مال عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے ۔ سیدناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : بے شک کو ئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جا تا تھا ، پھر جو نہی وہ اسلام لا تا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا ۔ مذکورہ سیرت رسول پڑھیں باربارپڑھیں اور اپنا کردار بھی ایک دفعہ ضرور دیکھیں کافر مشرک یہودی دور کی بات ہے ہم مسلمان اور مسلمانوں کے بچوں سے کیا سلوک کیا کرتے ہیں ؟!

سیدنا انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں

مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(صحیح مسلم : 4280)

رسول اللہ‌ سے زیادہ میں نے بچوں پر رحم كرنے والا كوئی نہیں دیكھا۔

ایک روایت میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

مَرَّ عليْنَا رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  ونحنُ صِبْيانٌ فقال: السَّلامُ عليْكُم يا صِبْيانُ(صحیح ابن حبان : 6323)

رسول اللہ ہمارے پاس سے گزرے ،ہم بچے ہی تھے۔آپ نے فرمایا:اے بچو! السلام علیکم ۔

گویا آپ علیہ السلام بچوں سے بے تحاشا پیار کرتے اور ان کی اخلاقی تربیت بھی کرتے ۔آپ علیہ السلام اگر کسی مسلمان کو نہ دیکھتے تو پریشان ہوجاتے اور ان کے گھر عیادت کےلیے جاتے ہم مسلمان بھائی کو دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں یعنی اپنے مسلمان بھائی کی آمد پر خوش نہیں ہوتے اس کی تکریم نہیں کرتے بلکہ اسے ایذاء و تکالیف دیتے ہیں !سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ:‏‏‏‏ أَحْسِبُهُ فَطِيمًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَرُبَّمَا حَضَرَ الصَّلَاةَ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُصَلِّي بِنَا (صحیح بخاری : 6203 )

نبی کریم حسن اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے، میرا ایک بھائی ابوعمیر نامی تھا۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچپن کا دودھ چھوٹ چکا تھا۔ نبی کریم جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے ’’يا أبا عمير ما فعل النغير‘‘ اکثر ایسا ہوتا کہ نماز کا وقت ہو جاتا اور نبی کریم ہمارے گھر میں ہوتے۔ آپ اس بستر کو بچھانے کا حکم دیتے جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہوتے، چنانچہ اسے جھاڑ کر اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر آپ کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔ یعنی نبی کریمﷺانتہائی اچھے اخلاق کے مالک تھے اپنے صحابہ سے بے تحاشا پیار کرتے اور ان کے ہاں جاتے ان سے مزاح کیا کرتے ان کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ان کی تربیت کرتے انہیں دینی امور میں ترغیب دلاتے ۔آپ علیہ السلام عدل انصاف کے پیکر تھے کبھی بھی کسی سے نا انصافی نہیں کی ہر چھوٹے اور بڑے کو اپنا حق ادا فرمایا جیسا کہ امام زھری رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ : مجھے خادم رسول سیدنا انس بن مالک نے بتایا :

‏‏‏‏أَنَّهَا حُلِبَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ دَاجِنٌ وَهِيَ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَشِيبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ، ‏‏‏‏‏‏فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ مِنْ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ وَخَافَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ، ‏‏‏‏‏‏أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ الَّذِي عَلَى يَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ

 رسول اللہ کے لیے گھر میں پلی ہوئی ایک بکری کا دودھ دوہا گیا، جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی کے گھر میں پلی تھی۔ پھر اس کے دودھ میں اس کنویں کا پانی ملا کر جو انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا، نبی کریم کی خدمت میں اس کا پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ نے اسے پیا۔ جب اپنے منہ سے پیالہ آپ نے جدا کیا تو بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور دائیں طرف ایک دیہاتی تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ ڈرے کہ آپ یہ پیالہ دیہاتی کو نہ دے دیں۔ اس لیے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر (رضی اللہ عنہ ) کو دے دیجیے۔ آپ نے پیالہ اسی دیہاتی کو دیا جو آپ کی دائیں طرف تھا۔ اور فرمایا کہ دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہو۔(صحیح بخاری : 2352 )

 آپ علیہ السلام حقوق العباد اور حقوق اللہ کی ادائیگی کے پورے پابند تھے بلکہ آپ ﷺہمارے لیے اسوہ تھے اور ہیں حقوق اللہ یعنی صوم صلاة صدقات خیرات میں سب سے آگے اور خوب اہتمام کرنے والے تھے جیسا کہ خادم رسول سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَاهُ مِنَ الشَّهْرِ صَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مُفْطِرًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مِنَ اللَّيْلِ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ "( صحیح بخاری : 1973 )

 جب بھی میرا دل چاہتا کہ آپ کو روزے سے دیکھوں تو میں آپ کو روزے سے ہی دیکھتا۔ اور بغیر روزے کے چاہتا تو بغیر روزے سے ہی دیکھتا۔ رات میں کھڑے (نماز پڑھتے) دیکھنا چاہتا تو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھتا۔ اور سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو اسی طرح دیکھتا۔

۔۔۔

Read 262 times
More in this category: « نیک بیوی کی صفات