بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الإثنين, 01 شباط/فبراير 2016 00:00

نوجوان امیدوں کا گہوارہ

مولف/مصنف/مقرر  حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ۔ ترجمہ شفقت الرحمن مغل

پہلا خطبہ

یقینا تمام  تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں، ہم اسکی کی تعریف بیان کرتے ہوئے اسی سے مدد  و ہدایت کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، اور نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اسکا کوئی بھی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد  اللہ بندے اور اسکے رسول  ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}  اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں ہی آئے۔[آل عمران : 102]

{يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}  لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان  سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے [دنیا میں] بہت سے مرد  اور عورتیں پھیلا دیں ، نیز اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور قریبی  رشتوں کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرتے رہو ، بلاشبہ اللہ تم پر ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہے [النساء : 1]

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سچی بات کیا کرو، اللہ تعالی تمہارے اعمال درست کر دیگا، اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دیگا، اور جو اللہ و اسکے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی کا مستحق ہے۔ [الأحزاب: 70، 71]

امتِ اسلامیہ!

پوری امت کی  نظریں نوجوانوں  پر ہیں سب کی امیدیں انہی سے وابستہ ہیں، وہی دور حاضر  کیلیے روحِ رواں اور مستقبل کے معمار ہیں، اسی لیے اسلامی تعلیمات نے نوجوانوں کی رہنمائی کو خصوصی طور پر موضوع سخن بنایا، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا} اے ایمان والو! اپنے آپ اور اپنے اہل خانہ کو آگ سے بچاؤ۔[التحريم : 6]

جوانی کے قیمتی لمحات انمول ہوتے  ہیں، یہ قوت و توانائی میں اس کا کوئی ثانی نہیں ، اس لیے کامیابی کے کسی بھی امیدوار  کی یہ ذمہ داری ہے کہ جوانی اللہ تعالی کی اطاعت میں گزارے اور جوانی کے شب و روز عبادتِ الہی سے بھر پور رکھے، قربِ الہی کی جستجو میں رہے، ہمہ وقت نفسانی اور شیطانی خواہشات کے مقابلے کیلیے جد و جہد کرے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت سمجھو، آپ نے ان پانچ چیزوں میں بڑھاپے سے پہلے جوانی  کا بھی ذکر فرمایا) اسے احمد وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

اس لیے مسلم نوجوانو! جوانی کے وقت کو اطاعتِ الہی کیلیے غنیمت سمجھو، ممنوعہ امور سے بچتے ہوئے احکاماتِ الہی اور تعلیماتِ نبوی کے سائے تلے آگے بڑھو،  تو دنیا میں اچھے نتائج پاؤ گے، اور رب کریم کے ہاں بڑی کامیابی حاصل کر لو گے، آپ ﷺ کی یہ عظیم حدیث غور سے سنیں: (سات افراد کو اللہ تعالی سایہ نصیب فرمائے گا، جس دن اس کے سائے کے سوا کسی کا سایہ نہیں ہوگا، آپ ﷺ ان سات افراد میں اس نوجوان کا تذکرہ بھی کیا جو اللہ کی عبادت میں پروانے چڑھے) بخاری

مسلم اقوام!

یہ عظیم ترین احسانِ الہی ہے  کہ اللہ تعالی بندے کو اپنی جوانی اطاعتِ الہی کیلیے صرف کرنے کی توفیق دے دے ، رضائے الہی کیلیے جستجو کرنے والا بنا دے اور ممنوعہ امور سے بچنے کی توفیق عطا فرما دے، ایسا کیوں نہ ہو!؟ مسلمان سے جوانی کی نعمت کا سوال اور اس کا حساب بھی ہوگا ، چنانچہ ترمذی نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے دن اس وقت تک بندے کے قدم ہل نہیں سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کا سوال نہ کیا جائے: عمر کہاں گزاری؟ جوانی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ حاصل شدہ علم پر کتنا عمل کیا؟)

اسلامی بھائیو!

نوجوانوں کی بہتری میں امت کی بہتری ہے، لہذا یہ امت اس وقت تک خوشحال ، معزز، کامیاب، اور بہتری کی طرف گامزن نہیں ہو سکتی جب تک اس امت کے نوجوان عہد اول کے جوانوں کی طرح نہ بن جائیں، ان کی دینی وابستگی اعلی ترین، زندگی بھی خوشحال، اور کسی بھی مفید اور نیک کام کیلیے جو ش جذبہ بھی دیدنی ہوتا تھا، چنانچہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "انصار میں ستر نوجوان تھے جنہیں   قرّاء [یعنی: پڑھاکو ] کہا جاتا تھا، وہ مسجد میں رہا کرتے تھے، جب شام ڈھلتی تو مدینہ  کے اطراف میں چلے جاتے وہاں مل جل کر پڑھتے اور نماز ادا کرتے، ان کے گھر والے یہ سمجھتے کہ وہ مسجد میں ہیں اور مسجد والے یہ سمجھتے کہ وہ اپنے گھروں میں ہیں  ، جب صبح ہونے لگتی تو میٹھا پانی بھر کر اور لکڑیاں کاٹ کر نبی ﷺ کے حجرہ کیساتھ رکھ دیتے تھے" احمد

ان جیسے سینکڑوں نوجوانوں کی تربیت جناب محمد رسول اللہ ﷺ  نے وحی کی روشنی میں فرمائی، انہی  کی وجہ سے زمین پر روشنی پھیلی اور انسانیت میں ایسا خوشحالی والا موڑ آیا جس کی ماضی  میں کوئی  مثال نہیں ملتی۔

نوجوانانِ اسلام! تمہیں ایسے اسباب سے بچنے کی انتہائی شدید ضرورت ہے، جو تمہیں اور تمہارے معاشرے کو ہوس پرستی و  شیطانی راستے پر گرا دیں، اور پھر تمہیں وسیع و عریض شرو نقصانات  اٹھانے پڑیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ } اے ایمان والو! اپنے آپ کو بچاؤ ۔[النساء : 71]

آج بھی مسلم نوجوانوں کیلیے اسی طرح عقلمندی اور دانائی سے کام لینا انتہائی ضروری ہے جیسے ماضی میں لیا کرتے تھے؛ اس لیے  ایسے کسی بھی اقدام کی طرف توجہ نہ دیں جس سے اسلام کو کوئی فائدہ نہ پہنچے، کیونکہ دشمنانِ اسلام مسلم نوجوانوں کو تباہ و برباد کرنے اور بلند اسلامی اقدار و اسلامی ضابطۂِ اخلاق سے دور کرنے کی سر توڑ کوشش میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ اسلامی ضابطۂِ اخلاق ہی انہیں متوازن اور معتدل منہج پر قائم رکھ سکتا ہے، یہی  تمہارے انفرادی و اجتماعی ، ملکی و قومی مفادات کا ضامن ہے، چنانچہ دشمنوں نے کسی بھی قسم کا مکر و فریب اور ہتھکنڈا مسلم جوانوں کو خراب کرنے کیلیے باقی نہیں چھوڑا، اندلس میں جو کچھ بھی ہوا نوجوانوں کی ذہن سازی کے ذریعے ہی ہوا تھا ، دشمنوں نے مسلم جوانوں کے نظریات اور افکار کو نشانہ بنایا۔

مسلم نوجوان! اسلام دشمن قوتوں کی تمام عیاریاں و مکاریاں غارت کرنے کیلیے بھر پور کوشش کرو، اور یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب تم اخلاص اور کامل سچائی کیساتھ ایمان اور صحیح عقیدے کی روشنی دوسروں تک پہنچاؤ، علم نافع اور عمل صالح سے آراستہ و پیراستہ بنو، اس طرح تمہارے دماغ روشن ہونگے، بصیرت میں نکھار آئے گا اور رائے صائب ہوگی، نیز تم معاشرے کی اصلاح اور بہتری کیلیے برائی ، فتنوں اور  آزمائشوں سے پاک صاف عنصر بن جاؤ گے، اللہ تعالی نے ایمان لانے والے جوانوں کے بارے میں فرمایا: {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى (13) وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ } ہم آپ کو ان کی سچی خبر دیتے ہیں: بیشک وہ اپنے رب پر ایمان لانے والے نوجوان تھے، اور ہم نے انہیں مزید ہدایت سے نوازا [13] اور ہم نے ان کے دلوں کی ڈھارس باندھ دی۔[الكهف : 13 - 14]

اسلامی بھائیو!

مسلم نوجوانوں کو اس وقت پر فتن منحرف  افکار ، گمراہ مکاتب فکر،  نا معقول ہوس پرستی، اور بحر بے کنار نظریاتی  جنگ  کا سامنا ہے  ، بلکہ نوجوان اپنے ہاتھوں میں ان تمام چیزوں کو موبائل کی شکل میں اٹھائے پھرتے ہیں، ایسی صورت میں انہیں امت کے ایسے علمائے کرام کیساتھ مل بیٹھنے کی ضرورت ہے جن کیلیے پوری دنیا علم و تقوی، دینداری، صلاحیت، دانشمندی اور ثابت قدمی کی گواہی دے چکی ہے۔

چنانچہ پوری امت محمدیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ اہم ترین مسائل میں نامور علمائے کرام سے کنارہ کشی  بھیانک نتائج کا باعث بنی ، جیسے کہ مسئلہ تکفیر، نظریہ ولاء و براء، نہی عن المنکر، بیعت، جہاد اور دیگر حساس مسائل  ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے [النحل : 43]

علمائے کرام سے ان کی اس ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا، لہذا علمائے کرام اور واعظین مناسب انداز میں حساس مسائل بیان کریں، متوازن طریقے سے بیماری کا علاج کریں، فتوی دینے میں جلد بازی مت کریں اس کے لیے باریک بینی سے مسئلہ سمجھیں ، گہرائی کیساتھ مطالعہ کریں، ساتھ میں مستقبل کے متوقع خدشات کا مکمل خیال کریں، چند فتاوی اور مقالات کی وجہ بعض افراد خود تو گمراہ تھے ہی دوسروں کو بھی گمراہ کر بیٹھے۔

نوجوانانِ ملت! نوجوانانِ قرآن!

اگر تم میں دین کیلیے ٹھاٹھے مارتا جوش اور جذبہ موجود ہے تو یہ دنیا و آخرت میں تمہارے لیے بہتری کا باعث ہے، بشرطیکہ جوش  شرعی علم اور نبوی  سیرت کے دائرے میں ہو ؛ وگرنہ  بہت سے لوگ بات بنانے کی بجائے بگاڑ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے پوری امت اور قوم پر حسرتوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے،  ہم اللہ تعالی سے امت مسلمہ کیلیے سلامتی کا سوال کرتے ہیں!

مسلم اقوام:

ہم نئے سیمسٹر کی ابتدا میں ہیں ، اس لیے محترم اساتذہ کرام  کو یاد دہانی کروانی ضروری ہے کہ  وہ در حقیقت  اخلاقیات کے محافظ  اور ذہن سازی کے امین ہیں، اس لیے مسلمان نسلوں کی تربیت کرتے ہوئے تقوی الہی دل میں جا گزیں رکھیں، نئی نسل کے ذہنوں میں اصل اسلامی اقدار  اور نبوی اخلاق نقش کریں، پر خطر امور اور افکار سے انہیں بچائیں،  ان افکار سے دین کی خدمت ہوگی اور نہ ہی دنیا سنورے گی، فرمانِ نبوی ہے: (تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے، اور ہر کسی سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا)

اس ملک کے جوانو!

اللہ تعالی کی بے بہا نعمتوں اور خوش حال زندگی پر اسی کا شکر ادا کرو کہ تمہیں امن و امان اور پر تعیش زندگی میسر ہے، اس لیے ارض حرمین  کے دفاع کیلیے سینہ سپر  ہو جاؤ، تمہارے پروردگار کا حکم ہے: { وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} نیکی اور تقوی کے کاموں میں باہمی تعاون کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون مت کرو[المائدة : 2]

ملی یکجہتی، اتحاد، اصلاح اور بہتری  کے قیام اور دوام کیلیے خوب محنت کرو، اپنے آپ کو انتشار اور علیحدگی پسند سوچ  سے دور رکھو، کیونکہ اللہ تعالی کی مدد ملت کیساتھ ہوتی ہے۔

مسلمانو!

شیطان انسان کو  گمراہی و سر کشی کے اسباب و ذرائع بڑے خوبرو بنا کر دکھاتا ہے، اس کیلیے خوب تانے بانے جوڑتا ہے، راہِ حق اور صراطِ مستقیم سے روکنے کیلیے خوب مکاری و عیاری کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ} بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے، تم اسے اپنا دشمن ہی سمجھو، وہ اپنی جماعت کو بلاتا ہے تا کہ وہ جہنمی بن جائیں۔[فاطر : 6]

شیطان  نوجوانوں کیساتھ بڑی سخت دشمنی روا رکھتا ہے، اس کیلیے وہ نوجوانوں کو اہل باطل  کے قافلے میں شامل کر کے جہنم کے راستے پر ڈالنا چاہتا ہے، اس لیے شیطانی ہتھکنڈوں ، مکاری و عیاری  کے بارے میں مکمل معلومات رکھو، اور ان سے بچنے کیلیے مکمل جد و جہد کرو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ} بنی آدم! شیطان تمہیں فتنے میں نہ ڈال دے جیسے اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکالا تھا۔[الأعراف : 27]

چنانچہ شیطان دیندار نوجوان پر حملہ کرنے کیلیے غلو ، حدود سے تجاوز، صحیح رہنمائی سے دوری اور حق  بات سے نا آشنائی کو اپنا ہتھیار بناتا ہے، جبکہ دیگر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلیے  برائی کو اچھائی بنا کر پیش کرتا ہے، آج کا کام کل پر چھوڑنے کیلیے آمادہ کرتا ہے، جوانی کے نشے میں چور کر دیتا ہے، اور پھر انہیں تباہ کن گناہوں ، بے حیائی و فحاشی میں مبتلا کر دیتا ہے، ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "کچھ سلف کا کہنا ہے کہ: "اللہ تعالی کے تمام تر احکامات  میں شیطان کیلیے دو طرح سے گمراہ کرنے کا طریقہ موجود ہے، ایک افراط اور دوسرا تفریط، یا بالفاظ دیگر: کمی یا زیادتی، اور شیطان کیلیے یہ دونوں ہی یکساں کار آمد ہیں" علم نافع کا حصول، دین و دنیا سے متعلق عمل صالح ، تلاوت قرآن ، تدبر قرآن، کثرت سے ذکرِ الہی، اور شیطان مردود سے اللہ کی پناہ  اس کے ان پر خطر ہتھکنڈوں کے مقابلے کیلیے مجرب علاج اور شافی دوا ہے  {إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ} یقیناً میرے بندوں  پر تجھے کوئی اختیار نہیں ہوگا، سوائے تیرے پیچھے چلنے والے سرکشوں کے۔[الحجر : 42]

مسلم نوجوان:

جوانی  کی خاص چمک دمک اور قوت  ہوتی ہے، اس لیے نوجوان مسلم! نرم دل، نرم مزاج اور اسلام کی روشنی میں رحمت و خوبیوں کیساتھ اپنے آپ کو رنگ کر اچھے اخلاق کے مالک بنو، {فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ} اللہ تعالی کی رحمت کے باعث آپ ان پر رحم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے [آل عمران : 159]

اس لیے صفتِ رحمت  کا دامن کسی صورت میں نہ چھوٹے چاہے گھٹا ٹوپ اور سنگین ترین بحرانوں بھنور میں پھنس جاؤ، نرم دل والے بنو، سنگ دلی، سخت مزاجی، تشدد، سختی، فحش گوئی اور وحشی پن سے بالکل دور رہو، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (رحمت صرف بدبخت سے ہی چھینی جاتی ہے) ترمذی نے اسے روایت کیا اور حسن قرار دیا ہے۔

اعلی اسلامی  اقدار  سے آراستہ رہو، اپنے معاشرے میں رحمت کے اعلی و ارفع مقام کو چھوتے ہوئے تمام اچھی صفات سے پیراستہ رہو، اپنے معاشرے میں خدا ترسی ، محبت اور احسان کا عملی نمونہ بنیں، اچھے اخلاق، آداب، بلند اخلاقی اقدار اور فضائل  اپناؤ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہے) متفق علیہ

اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے: (قیامت کے دن  مؤمن کے ترازو میں حسن اخلاق سے وزنی کوئی چیز نہیں ہوگی) ترمذی نے اسے روایت کرتے ہوئے حسن اور صحیح کہا ہے۔

ایسے ہی آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک مؤمن اپنے اچھے اخلاق کی بدولت [نفل]قیام و صیام کا اہتمام کرنے والے شخص کا درجہ پا لیتا ہے) ابو داود

نوجوانو!  سب لوگوں کیساتھ بھلائی  کرو، کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو لوگوں کے کام آتا ہے وہی اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین  ہے) طبرانی نے اسے حسن سند کیساتھ روایت کیا ہے۔

نوجوان بھائی! اپنے معاشرے ، رشتہ داروں اور ہمسائیوں کو تکلیف مت دو، کیونکہ دوسروں کو تکلیف نہ دینا بھی عظیم ترین نیکی کے کاموں میں شامل ہے، چنانچہ جندب بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: " اللہ کے رسول! اگر مجھ سے نیکی کے کچھ کام رہ جائیں تو کیا کروں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: (اپنے شر سے لوگوں کو محفوظ رکھو تو یہ بھی تمہارے لیے نیکی ہوگی) مسلم

اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کیلئے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش  مانگو وہ بہت ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

میں اپنے رب کی حمد بیان کرتا ہوں اور اسی کا شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُسکے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل، اور برگزیدہ صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں، اور سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اور خلوت و جلوت  میں اسی کی اطاعت دنیا کا بہترین زاد راہ ہے۔

مسلمانو!

امت میں وقوع پذیر سب سے بڑی سنگین خرابی  -لا حول ولا قوۃ الا باللہ-دلوں میں کینہ و کدورت کی صورت میں پائی جاتی ہے، ہمارے معاشرے کے کچھ لوگ اپنے دلوں میں کینہ و کدورت چھپائے پھرتے ہیں، اللہ تعالی کو یہ عادت بالکل بھی پسند نہیں  اور نہ ہی جناب مصطفی ﷺ کی تعلیمات سے میل کھاتی ہے، اور اس کے نتیجے میں ماضی سے لیکر اب تک بد ترین جرائم، معصوم جانوں کا قتل، زمین پر سنگین پاپ  اور عظیم فساد رونما ہوتے آئے ہیں، مسلمانوں کو اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیے، کیا جبار و قہار  پروردگار نے یہ نہیں فرمایا: { مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا } جس نے ایک جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر یا زمین پر فساد پھیلاتے ہوئے قتل کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا [المائدة : 32]

ایک مسلمان کسی کلمہ گو مسلمان کو کیسے قتل کر دیتا ہے؟ حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} اور جو شخص کسی مومن کو دیدہ دانستہ قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب  اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے [النساء : 93]

اسلام کے سپوتو! تم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے ؟!
قرآن پر ایمان لانے والو تمہیں کیا ہو گیا ہے؟!
سید الانبیاء و المرسلین کی امت کس بھنور میں پھنس گئی ہے کہ:
تم  ایک دوسرے کو قتل کرنے میں مصروف ہو،
انواع اقسام  کی تکلیفیں اور سزائیں دے رہے ہو،
 محصور یا جلا وطن کر رہے ہو،
ایسے  ہولناک دھماکوں  سے چیتھڑے اڑا رہے ہو کہ فلک بھی گونج اٹھا،
 سورج و چاند بھی کانوں کو ہاتھ لگانے لگے،
کیا تم اسلام کے فیصلوں کو نہیں مانتے!؟
کیا تم قرآن کریم کو اپنا رہنما و رہبر نہیں سمجھتے ؟!
کیا ہادی عالم ﷺ نے تمہیں دنیا و آخرت میں کامیاب ہونے کا راستہ نہیں بتلایا؟!
یہ لوگ مسلمانوں کے خطے میں مجرمانہ کاروائیاں کرنے کے بعد جبار و قہار اللہ سے بھاگ کر کہاں جائیں گے؟  
کیا ان لوگوں نے لا الہ الا اللہ نہیں پڑھا؟
کیا انہوں نے بخاری میں موجود نبی ﷺ کا فرمان نہیں سنا کہ:
(بندہ جب تک حرام خون نہ بہائے اس وقت تک دینی وسعت میں رہتا ہے)
امت اسلامیہ! کیا تمہیں  رسول اللہ ﷺ نے قتل و غارت سے خبردار نہیں کیا تھا؟!
کیا تمہیں اس رسوا کن صورت حال سے منع نہیں کیا تھا؟!
کیا آپ ﷺ نے ایسا ارشاد نہیں فرمایا جس میں کسی قسم کی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں !؟:
(میرے بعد کافر مت ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو) متفق علیہ
جس اسلام کے تم نام لیوا ہو اسی اسلام نے جانوں کے تحفظ کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اسی  لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق تاویل چاہے کیسی ہی ہو قتل کا جواز پیدا نہیں کر سکتی، قتل کی سزا قاضیوں کے ہاں مشہور و  معروف اسباب کی بنا پر ہی ہو سکتی ہے ، آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (قیامت کے دن سب سے پہلے قتل کے فیصلے کیے جائیں گے) متفق علیہ

نیز سنن ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ : (اللہ تعالی کے ہاں مسلمان کا قتل پوری دنیا کی تباہی سے بھی سنگین ہے)

بلکہ اسلام تو ایسے ذمی [غیر مسلم]شخص  کو قتل کرنا بھی حرام قرار دیتا ہے   جسے اسلامی ملک میں امان دے دی گئی ہو چاہے یہ امان کسی مسلمان فرد واحد کی طرف سے ہو، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (ذمی شخص کو قتل کرنے والا جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جا سکتی ہے)

قرآن کو ماننے والو! اللہ سے ڈرو! کہیں شیطان تباہی و بربادی کیلیے تمہیں گھسیٹ  کر نہ لے جائے! یہ دنیا فانی ہے اس نے ایک دن فنا ہو جانا ہے، اللہ تعالی کی حدود  سے تجاوز مت کرو، مسلمانوں اور مؤمنوں کو اذیت مت پہنچاؤ اور خوف زدہ نہ کرو، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جس نے کسی مؤمن کو خوف زدہ کیا تو اللہ تعالی پر حق ہے کہ اسے قیامت کے دن کی ہولناکی سے محفوظ نہ رکھے) طبرانی نے معجم الاوسط میں اسے روایت کیا ہے۔

امت اسلامیہ! اپنے آپ کو ایسے ڈھال لو جیسے نبی ﷺ کی چاہت تھی، جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ: (تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک [کامل] ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کیلیے وہ کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے) اس لیے مسلمان یک جان ہونے چاہییں جو اللہ کیلیے ایک دوسرے سے محبت، پیار، انس رکھیں۔

اللہ تعالی نے ہمیں ایک عظیم کام کا حکم دیا ہے، اور وہ ہے نبی ﷺ پر درود و سلام ،  یا اللہ! ہمارے نبی   سیدنا محمد  ، آپ کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں  اور سلامتی نازل فرما ۔

یا اللہ! ہمارے اور ہماری امت کے حالات درست فرما، یا اللہ! ہم پر اور ہماری امت پر رحمت فرما، یا اللہ! ہم پر اور ہماری امت پر رحمت فرما، یا اللہ! مسلمانوں پر رحمت فرما، یا اللہ! دہشت زدہ مسلمانوں کو امن مہیا فرما، یا اللہ! دہشت زدہ مسلمانوں کو امن مہیا فرما، یا اللہ! دہشت زدہ مسلمانوں کو امن مہیا فرما، یا اللہ! دہشت زدہ مسلمانوں کو امن مہیا فرما، یا اللہ! ان کے خوف کو امن میں بدل دے، یا ذالجلال والاکرام!

یا اللہ! یا ذالجلال والاکرام! مسلمانوں کو بد ترین حالات سے باہر نکال دے، یا رب العالمین! یا اللہ! مسلمانوں کو بد ترین حالات سے باہر نکال دے، یا اللہ! مسلمانوں پر اپنی خصوصی رحمت فرما، یا اللہ! مسلمانوں پر اپنی خصوصی رحمت فرما، یا اللہ! اپنی طرف سے خصوصی رحمت کے ذریعے مسلمانوں کے حالات درست فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے دکھڑے دھو ڈال، ان کی مشکل کشائی فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے دکھڑے دھو ڈال، ان کی مشکل کشائی فرما۔

یا اللہ! ظاہری و باطنی تمام فتنوں سے مسلمانوں کو بچا، یا اللہ! ظاہری و باطنی تمام فتنوں سے مسلمانوں کو بچا، یا ذالجلال والاکرام!

یا اللہ! مؤمن مردو خواتین کو بخش دے، مسلمان مرد  و خواتین کو بخش دے، زندہ و فوت شدہ سب کی مغفرت فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ امور سر انجام دینے کی توفیق عطا فرما ۔

یا اللہ! مسلم ممالک کی حفاظت فرما، یا اللہ! تمام مسلم ممالک کی ہر قسم کے شر  اور نقصانات سے حفاظت فرما، یا اللہ! تمام مسلم ممالک کی ہر قسم کے شر  اور نقصانات سے حفاظت فرما، یا اللہ! تمام مسلم ممالک کی ہر قسم کے شر  اور نقصانات سے حفاظت فرما۔

یا اللہ! مسلم ممالک کے بارے میں برے منصوبے رکھنے والوں کو اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اسے اپنی ہی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اسے اپنی ہی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! اس پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! وہ تجھے عاجز نہیں کر سکتے! یا اللہ! اس پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! وہ تجھے عاجز نہیں کر سکتے! یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! تو ہی غنی و حمید  ہے، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں اور دیگر مسلم ممالک میں بارشیں نازل فرما،  یا اللہ! ہمیں بارش کا پانی پلا، یا اللہ! ہمیں بارش کا پانی پلا، یا اللہ! ہمیں بارش کا پانی پلا، یا اللہ! ہمارے دلوں پر ایمان و اطاعت کی برکھا برسا ، اور ہمارے علاقے میں سود مند بارش نازل فرما،  یا اللہ! ہمارے علاقے میں سود مند بارش نازل فرما، یا غنی! یا حمید!، یا غنی! یا حمید!، یا ذالجلال والاکرام!

اللہ کے بندو!

اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا کرو اور صبح و شام اسی کی تسبیحات پڑھا کرو! اور ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں۔

ملاحظہ کیا گیا 726 بار