بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الثلاثاء, 16 شباط/فبراير 2016 00:00

تصویر کشی ایک گھناؤنا جرم جسے بہت ارزاں سمجھ لیا گیاہے

مولف/مصنف/مقرر 

تصویر کشی ایک گھناؤنا جرم جسے بہت ارزاں سمجھ لیا گیاہے ۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’  آپ پر جو بھی زمانہ آئے اس کے بعد والا اس سے شراور برائی  میں بڑھ کر ہوگا ‘‘ اس کی حرف بحرف تفسیر واضح ہوچکی ہے ۔ نیزیہ  حقانیت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ شریعت جس چیز سے روکتی ہے اس میں معاشرے کی عفت ، عزت ، جان ، ومال اور دین کی سلامتی کی گارنٹی ہوتی ہے ۔ مگرحضرت انسان کب مانے ان شرعی حدود وقیود کو! ضرورتوں مصلحتوں اور حاجتوں کے بھونڈے سہاروں سے اس نے بہت کچھ جو ناجائز تھا اسے جائز کر لیا ہے ۔ انہی معاملات میں ایک معاملہ تصویر کشی کا بھی ہے ۔ اسلام نے تصویر کو قطعی طور پر حرام قرار دیاہے ، اور اس کی حرمت کے حوالے سے قطعی نصوص صحیح بخاری ومسلم ودیگر کتب حدیث میں بکثرت موجود ہیں ۔ ان نصوص میں محض تصویر کی حرمت کا ذکر نہیں بلکہ تصویر کشی سے پیدا ہونے والے ایک ایک ناسور کا ذکر ہے جس میں وضاحت سے بیان کیا گیاہے کہ اگر امت اس گھناؤنے جرم میں مبتلا ہوگئی یہ ایک کینسر ہے جو معاشرے کی رگ رگ میں پھیل جائے گا اور بالآخر لا علاج ہوجائے گا ۔ شرعی نصوص میں تصویر کشی کی جو قباحتیں بیان ہوئی ہیں ان میں چند ایک ملاحظہ ہوں ۔

۱ :’’ تصویر بنانے والوں کو سب سے سخت ترین عذاب دیا جائے گا ‘‘ (بخاری ومسلم )

۲: ’’ تصویر بنانے والےاللہ تعالیٰ کی صفت خلق میں اس کا مقابلہ کرتے ہیں ‘‘ ۔ ( ایضا )

۳ : ’’ ایسے لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ‘‘ ( بخاری مسلم احمد )

۴ : ’’ تصاویر بنانے والوں کو روز قیامت حکم ہوگا کہ جو بنایا ہے اس میں روح ڈالو لیکن وہ ایسا نہ کرسکیں گے ‘‘  (بخاری ، سملم اصحاب السنن )

۵: رسول اللہ تصاویر سے سخت نفرت کرتے تھے اس گھر میں داخل نہ ہوتے جہاں تصاویر پائی جاتیں ۔ امام بخاری ومسلم اور اصحاب سنن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے ایکتکیہ خریدا جس میں تصاویر تھیں ، جب نبی کریم نے انہیں دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اور گھر میں داخل نہ ہوئے ، سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں نے ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار محسوس کرلئے ۔ تو کہا کہ اے اللہ کے رسول ’’ میں اللہ اور اس کے رسول  کے حضور توبہ کرتی ہوں میں نے  کیا گناہ کیاہے ؟ آپ نے فرمایا : اس تکیہ کا کیا ماجرا ہے ؟ میں کہنے لگی :’’ میں نے اسے آپ کیلئے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں  اور ٹیک لگائیں ۔ تو آپ نے فرمایا’’ یہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے روز عذاب دیا جائے گا ، اور انہیں کہا جائے گا : اسے زندہ کرو جو تم نے پیدا کیا اور بنایا ہے ۔ ‘‘

۶ : ’’ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوتی ہیں ‘‘۔(بخاری ومسلم )

۷ : ’’ تصویریں بنانے والے دنیا کی سب سے بدترین مخلوق ہیں ‘‘۔ ( بخاری ومسلم ، نسائی )

۸ : تصویروں کو مٹانے اور توڑنے کیلئے رسول اللہ نےقاصد روانہ کئے ‘‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابی ھیاج الاسدی سے کہا کیا میں تمہیں اس مشن پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ نے مجھے روانہ کیا تھا ۔ کہ کسی تصویر کو نہ چھوڑنا کہ اسے مٹادینا اور کسی قبر کو جو زمین سے بلند ہو اسے زمین کے برابر کردینا ۔‘‘ ( صحیح مسلم )

۹ : ’’ اللہ تعالیٰ نے تصویر بنانے والوں پر لعنت کی ہے ‘‘۔

۱۰ : روز قیامت جہنم سے ایک گردن نکلے گی جس کا مقصد تین قسم کے افراد ہوں گے ۔ جن میں ایک تصویر کشی والا بھی ہوگا ۔( سنن ترمذی )

انسانی وجود کے  رونگٹے کھڑے کردینے والی وعید پر مشتمل ان نصوص کے باوجود جب انسان عجیب وغریب تأویلات کے ذریعے تصویر کو جائز قرار دے اور معاشرے میں اس کے رواج کا باعث بنےتو یہ کتنی ہی لا پرواہی کی بات ہے  ۔

اگر اسی امر کا جائزہ ایک دوسرےپہلوسے لیا جائے اور دیکھا جائے کہ جن علل اور وجوہات کی بنا پر تصویر حرام کی گئی ہے ۔کیا یہ علتین اور وجوہات فوٹوگرافی تصویر میں بھی پائی جاتی ہیں یا نہیں ۔ ویسے تو مسلمان کسی شرعی نص جس میں تحریم کی وضاحت آگئی ہو اتنا زیادہ علل وحکمتوں پر زور نہیں دیتا لیکن لیطمئن قلبی کے ضابطے کے تحت ان حکمتوں پر نظر ڈالتے ہیں ۔

پہلی علت :مضاھاۃ خلق اللہ

 اللہ تعالیٰ کی صفت خالق میں مشابہت اختیار کرنے کی سعی جیسا کہ روایت میں ہے اللہ تعالیٰ نےبیان فرمایا کہ کون ہے بدبخت جو مجھ جیسی مخلوق بناتاہے ۔  اب ایک عاقل غور کرے کیا مضاہاۃ خلق اللہ  فوٹو گرافری میں نہیں پائی جاتی فرق محض آلہ اور ہاتھ کا ہوتاہے

دوسری علت : شرک کے پھیلنے کا خدشہ

       جیساکہ قوم نوح کی بابت وارد ہوا کہ ان میں شرک انہی تصویروں کی وجہ سے شروع ہوا یہی خدشہ آج بھی بدرجہ اتم موجود ہے ۔

تیسری علت : وثنیت اور مظاہر شرک سے امت محمدیہ کو دور رکھنا

 جیسا کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ کی روایت میں مذکور ہے کہ جب وہ حبشہ مین ایک کلیسا میں داخل ہوئیں تو وہاں تصویریں اور تماثیل پائیں۔ اور سابقہ امتوں میں شرک اسی تصویر سازی کے ذریعے داخل ہوا تھا۔ اسلام نے یہ چاہا کہ اس کا راستہ بند کردیا جائے۔

چوتھی علت:

اس میں مشرکین سے مشابہت ہے ۔ تصاویر بنانا اہل شرک کا وطیرہ ہوا کرتا تھا اور آج بھی ہے ۔

پانچویں علت :

اس میں اسراف اور فضول خرچی کا پہلو پایا جاتاہے ۔ جوکہ کیمرہ سے حاصل کردہ تصاویر میں بدرجہ اتم موجود ہوتاہے ۔ آج کی دنیا میں دیکھیں کہ کیمروں کی قیمت ہزاروں سے لاکھوں میں جا چکی ہے ۔ مہنگی ترین موبائلز کی مہنگائی کی بنیادی وجہ یہی کیمرے اور ان میں موجود تصویری صلاحیت ہے ۔

 یہ سرداً چند علتیں ہیں اگر انہیں ملحوظ رکھ لیا جائے تو اس فقہی قاعدہ ’’ الحکم یدور مع علتہ وجودا وعدما ‘‘ حکم وجود وعدم کے اعتبار سے اپنی علت کے گرد گھومتا ہے ‘‘ کے مطابق بھی کیمرہ کی آنکھ سے لی گئی تصاویر حرام ٹہرتی ہیں ۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ :

کیا فوٹو گرافری والی تصاویر  حرمت میں اس حکم میں داخل ہیں ۔

بعض اہل علم نے اس بحث کا بالخصوص تذکرہ کیا ہے کہ فوٹو گرافری کی تصاویر اس حکم میں داخل نہیں جس کی وہ درج ذیل توضیحات بیان کرتے ہیں ۔

۱ : ایک روایت پر اعتماد ہے جس میں ہے ’’ الا رقما فی الثوب ‘‘کہ کپڑے پر چند نقش کو جائز قرار دیا گیاہے ۔

۲ : یہ بھی کہا جاتاہے کہ اس میں مضاہاۃ خلق اللہ بھی نہیں پائی جاتی اس لئے جائز ہے ۔

۳ : اس کی مثل ایک سایہ کی ہے ۔ جیسا کہ انسان آئینہ میں اپنی شکل دیکھتاہے ۔

یہ اور اس طرح کے چندکمزور اعتراضات اور حیل وحجت بیان کرکےفوٹو گرافری کی تصویر کی اس سے مستثنی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ لیکن اگر حیققت حال کو دیکھا جائے تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ استدلال کئی ایک وجوہات کی بنا پر درست نہیں ۔

اولا : فوٹو گرافی کی تصویر کو مسمی تصویر سے نہیں نکال سکتے  کیونکہ اسے بھی تصویر ہی کہا جاتاہے اور اسے کھینچنے والے کو بھی مصور ہی کہا جاتاہے ۔

اگرچہ یہ حرمت میں دیگر تصاویر سے کچھ درجہ کم ہوگی لیکن یہ چیز اسے حد حرمت سے نہیں نکال سکتی ۔ اور اگر جواز کی صورت ہے بھی تو وہ انتہائی اشد ضرورت کی صورت میں۔

دوم : ہاتھ سے بنائی جانے والی تصویر سے زیادہ مفاسد فوٹوگرافری کی تصویر میں موجود ہیں جس پر ذیل میں مختصر نظر ڈالی جاتی ہے ۔

تصویر سے ہونے والے مفاسد :

۱: نسل نو کی تباہی کی ذمہ دار تصویر ہی ہے چاہے وہ ویڈیوز کی صورت میں ہو یا فوٹوز کی صورت میں۔ نوجوان نسل کو بے راہ روی پر گامزن کرنے والی ، ان میں بے حیائی اور بدفعلی کے جذبات کو برانگیختہ کرنے والی اور اشتعال پیدا کرنے والی یہی تصویر سازی ہی ہے ۔

۲: اخلاق اور دین کی تباہی اسی تصویر سازی کے ذریعے ہوتی ہے ۔

۳ : وثنیت اور بت پرستی اور شرک کا ذریعہ بھی تصویر ہی ہے ۔ بالکل وہی طریقہ کار ہی جیسا کہ سابقہ امتوں میں ہوتا تھا کہ کسی قوم میں اگر ان کا ایک بزرگ اور نیک ہستی فوت ہوجاتی تو اس کی تصاویر بنالیتے پھر انہی تصاویر کی بعد ازاں پرستش شروع ہوجاتی ۔ آج کے دور میں بھی دیکھ لیجئے پیر پرستی کے جال میں پھنسے لوگ اپنے پیروں کی تصاویر جیب میں رکھتے ہیں اپنے موبائلز میں رکھتے ہیں ۔ حتی کہ ہم نے حرم مکہ ومدینہ میں مشاہدہ کیا کہ لوگ دوران عبادت اپنے پیروں کی تصاویر لئے ان سے عقیدت کا اظہار کرتے پائے گئے ۔

۴: عزتوں اور عفتوں کی تباہی کا باعث ہے ۔

 آئے روز اخبارات میں کتنے حادثات وواقعات پڑھنے کو ملتے ہیں کہ خواتین کو جعلی تصاویر کے ذریعے بلیک میل کیا گیا ۔ عزتیں لوٹی گئیں ۔  قتل ہوگئے ۔ ہمارا معاشرتی نظام شکست وریخت کا شکار ہوگیا محض اس تصویر کشی کے باعث ۔

۵ : عبادات کا ضیاع اور ریاکاری کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔  حاجی اتنا مال ومتاع خرچ کرکے مکہ مکرمہ جاتاہے اور وہاں عبادت کے دوران بھی سیلفی میں مشغول ومگن رہتاہے ۔ دوران طواف جو وقت ذکر واذکار وتسبیح کا ہے وہ سیلفی میں گذرتاہے ۔ اب اگر یہ ریاکاری نہیں تو کیا ہے ۔

۶ : اس فعل محرم کا ارتکاب اب بیوت اللہ میں ہونے لگا ہے ۔  اب مساجد میں بے دریغ تصاویر بنائی جاتی ہیں کوئی روکنے والا نہیں ۔

۷ : معصیت انسان کے ساتھ ہر لمحہ مصاحب ہے ۔نماز میں ہے تو اس کی جیب میں تصاویر اور ویڈیوز کی شکل میں بیشمار ویڈیو کلپ موجود ہیں ۔ اگر چل رہا ہے تو اس میں مشغول ، لیٹاہے تو اسی شغل میں لگا ہے ، بیٹھا ہے تو بھی وہی حال ہے ۔ الحفیظ والامان

۸ : لوگ گھروں میں آویزاں کرتے ہیں ۔

۹ : غم کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے  ۔ شریعت کا ایک مقصد یہ ہے انسان غم کو بھلا دے اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے  ’’ جو ہاتھ سے نکل جائے اس پر غم زدہ نہ ہو ‘‘۔  اسلام کا مقصد ہے انسان غم کو بھلا دے اور قضائے الٰہی پر راضی رہے ۔ اور اس غم کے احیاء کے تمام ذرائع ختم کردئے گئے اس لئے تین دن سے زیادہ افسوس اور غم منانے سے منع کیا گیا

لیکن آج اگر  ایک انسان کا بیٹا فوت ہوتاہے تو اس کے باپ کے پاس اس کی تصویروں کے ڈھیر سارے البم موجود ہوتے ہیں  باپ ، ماں  یا دیگر رشتہ دار جب ان تصویروں کو دیکھتے ہیں  تو ان کے زخم ایک بار پھر ہرے ہوجاتے ہیں ۔ کیا یہ مصاحبت غم مقاصد شریعت کے خلاف نہیں 

۱۰ : تصویر غلو اور غیراللہ کی تعظیم کا باعث ہے ۔

۱۱: اسراف اور تبذیر کا پہلو بدرجہ اتم موجود ہے ۔

۱۲ : التشبہ بالکفار ومشرکین ہے ۔

ان تمام مفاسد کو اگر سامنے رکھا جائے تو دل اسی چیز پر مائل ہوتاہے ۔تصویر کشی ایک ناسور ہے جس سے جان چھڑائے بغیر معاشرے کی اصلاح بہت مشکل نظر آتی ہے ۔

یہ عجلت میں چند صفحات لکھنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ان شاء اللہ آئندہ کسی موقع پر اس موضوع پر مفصل تحریر لکھی جائے گی اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے ۔ انہ ولی ذالک والقادر علیہ

 

 

 

 

ملاحظہ کیا گیا 1587 بار آخری تعدیل الثلاثاء, 16 شباط/فبراير 2016 13:11