بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الإثنين, 08 شباط/فبراير 2016 00:00

اسلام کا تصورِ محبت ناجائز دوستیاں اسلام کی نظر میں

مولف/مصنف/مقرر 

اسلام کا تصورِ محبت

ناجائز دوستیاں اسلام کی نظر میں

تحریر: حافظ محمد سفیان سیف

مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ

(( دین اسلام وہ عظیم دین ہے جس میں رشتہ ناطہ ، محبت ، دوستی اور باہمی تعلّقات کی بنیاد انتہائی پاکیزگی اور شفّافیت پر قائم ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس دین نے اپنے ماننے والوں کو سب سے بڑھ کر اُن رشتوں سے محبت کرنے اُن کا احترام و خیال رکھنے کا حکم دیا ہے جن سے مل کر ایک بہترین گھر خاندان اور معاشرہ قائم ہوتا ہے ، اس دین میں مرد و عورت کے باہمی تعلّق ، محبت ، دوستی اور الفت کی بنیاد بھی انتہائی پاکیزگی پر قائم ہے ، جیسے شوہر اور بیوی کا رشتہ ، ماں اور بیٹے کا رشتہ ، باپ اور بیٹی کا رشتہ ، بہن اور بھائی کا رشتہ ، دادا اور پوتی کا رشتہ ، نانا اور نواسی کا رشتہ ، چچا اور بھتیجی کا رشتہ ، ماموں اور بھانجی کا رشتہ یہ وہ عظیم رشتے ہیں جنہیں اسلام میں مرد و عورت کے مَحرَم رشتوں سے تعبیر کیا جاتا ہے جن کی بنیاد جائز اور شفاف پاکیزہ محبت پر قائم ہے۔

 

جبکہ دوسری طرف اگر مرد و عورت کے مابین مذکورہ کوئی بھی رشتہ نہ ہو تو ایسے مرد و عورت کو ہمارا دین ایک دوسرے کے لیے نا مَحرَم یا غیر مَحرَم قرار دیتا ہے اور چند باتوں میں اُن پر کچھ پابندیاں عائد کرتا ہے جیسے عورت پر یہ پابندی ہے کہ وہ اپنے جسم کی زینت و خوبصورتی کو غیر مَحرَم مردوں کے سامنے ظاہر نا کرے اور اُن کا سامنے ہونے پر اُن سے پردہ کرے، اسی طرح غیر مَحرَم مرد و عورت ایک دوسرے کے ساتھ اکیلا پن (علیحدگی) اختیار نہیں کرسکتے ، ایک دوسرے کو چھو نہیں سکتے چہ جائیکہ ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ رکھیں ، ایک ساتھ رہیں ، بوس و کنار کریں اور جسمانی تعلقات قائم کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اور یہ سب پابندیاں دینِ اسلام نازل کرنے والے اللہ تعالیٰ کی جانب سے لگائی گئیں ہیں جو عورت و مرد کا خالق و مالک ہے ، چونکہ وہ خالق ہے لہٰذا وہی سب سے بڑھ کر جانتا ہے کہ اس کی تخلیق کردہ مخلوق کے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط ؟ سو یہ پابندیاں اُس اللہ کی جانب سے ان دونوں کی عزت و عصمت کی حفاظت کے لیے لگائی گئیں ہیں کیونکہ اللہ نے جہاں ایک طرف اُن دونوں کی تخلیق اس انداز سے کی ہے کہ دونوں کے لیے ایک دوسرے میں جاذبیت رکھی ہے تو دوسری طرف دونوں میں ایک نفسِ امارۃ بھی رکھا ہے یعنی ہر نفس کے اندر ایک ایسا حصہ موجود ہے جو نفس کو برائی اور جرم پر آمادہ کرتا ہے جس کی بنا پر برائی جنم لیتی ہے ، اسی نفسِ امّارہ کی وجہ سے دنیا میں ہر برائی اور جرم کا وجود ہے اور یہ بات عین انسانی عقل کے مطابق ہے کہ برائی اور جرم کو اسوقت تک مکمل انداز سے نہیں روکا جاسکتا جب تک کہ اُس کی وجہ کو نہیں روکا جاتا ، اسی لیے ہمارے دین نے برائی اور جرم سے نہیں بلکہ اُن کے اسباب و وجوہات اختیار کرنے سے منع فرمایا اور مرد وعورت کے مابین جو برائی جنم لیتی ہے اُس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ عورت کا غیر مَحرَم مرد کے سامنے اپنی زینت و خوبصورتی کو ظاہر کرنا ، پے پردگی اختیار کرنا ، غیر مَحرَم کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا اور دونوں کا ایک دوسرے کو خود کی طرف مائل کرنے لیے مختلف اسباب اختیار کرنا وغیرہ وغیرہ۔

 

لہٰذا جس معاشرے میں چور ، لٹیرے ، ڈاکو موجود ہوں یا اس میں کسی بھی چیز کے چوری ہونے ، چھن جانے وغیرہ کا خدشہ ہو تو اس معاشرے میں ہر قیمتی چیز کو ناصرف حفاظت میں رکھا جاتا ہے بلکہ اسے چوری و ڈاکے سے بچانے کے لیے چھپا کر بھی رکھا جاتا ہے اوراس کے علاوہ بھی کئیں مختلف اقدامات کیے جاتے اور پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور اس سارے پراسس کو دنیا کا کوئی شخص بھی نا چیلنج کرسکتا ہے اور نا غلط کہ سکتا ہے بالکل اسی طرح دینِ اسلام کی نظر میں عورت اور مرد دونوں اس دنیا میں نہایت قیمتی ترین ہیں اور مرد کی نسبت عورت اپنی تخلیق ، ساخت ، وضع قطع کے لحاظ سے زیادہ خوبصورت اور نازک بنائی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ مرد کی نسبت طاقت میں بھی کمزور ہے کہ موقع پر اپنی حفاظت کرسکے لہٰذا شریعتِ اسلامیہ میں عورت پر پردہ و حجاب جیسی زیادہ پابندیاں لگائی ہیں جس کا مقصد محض یہ ہے کہ اس کی خوبصورتی ، عزت اور جان کو ہر انسان میں موجود برائی و جرم پر ابھارنے والے نفسِ امّارہ کی چوری و ڈاکے سے بچایا جاسکے جس کا خدشہ ہر معاشرے اور ہر دور میں موجود رہتا ہے۔

 

اور ان سب پابندیوں کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ غیر مَحرَم مرد و عورت بوجہ ضرورت آپس میں ایک دوسرے کے سامنے نہیں آسکتے یا بات چیت نہیں کرسکتے یا دیگر جو ضروری معاملات ہیں انہیں نہیں نبھا سکتے بلکہ بوجہ ضرورت و مجبوری غیر مَحرَم مرد و خواتین شریعت کی مقررہ کردہ حدود و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے ایک دوسرے سے ہم کلام بھی ہوسکتے ہیں تعلیم و تعلّم کا سلسلہ بھی قائم کرسکتے ہیں (بشرطیکہ مخلوط اور بے پردہ نہ ہو) اسی طرح خیر کے امور میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرسکتے ہیں۔ یہی ہمارے دین کی میانہ روی ہے کہ اس میں نا تو مکمل بلا حدود و قیود کے آزادی ہے اور نا ہی بے وجہ و سبب کے پابندی ، لہٰذا گھر ، معاشرے ، ملک و قوم کی فلاح و کامیابی دین الٰہی کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنے اور اس کے احکامات کو بجالانے میں ہی ہے۔

 

اسی طرح یہاں یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ جہاں شریعتِ اسلامیہ غیر مَحرَم مرد و زن کے باہمی میل ملاپ و تعلقات کے حوالہ سے چند معقول پابندیاں عائد کرتی ہے وہاں اُنہیں ایک معقول و مہذب طریقہ کار کے مطابق (جسے ہمارے دین میں نکاح و شادی سے تعبیر کیا جاتا ہے) ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ ، ساتھ رہنے اور ہر قسم کے تعلقات قائم کرنے کی اجازت بھی دیتی ہے ، لہٰذا جب کوئی لڑکا کسی لڑکی بارے میں یا کوئی لڑکی کسی لڑکے بارے میں سنجیدہ ہو تو شادی کا رشتہ قائم کرنے سے پہلے بھی انہیں شرعی حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھنے، بات چیت کرنے ، مزاج سمجھنے کی عارضی اجازت بھی ہے لیکن اگر وہ بغیر حجاب وپردہ کے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں، زندگی ساتھ بسر کرنا چاہیں تو اپنی اس سنجیدگی کو نکاح کے ذریعہ عملی جامہ پہنائیں اور پھر ساتھ رہیں اور اس طرح پھر اللہ الٰہ العالمین کی مدد بھی اُن کے شاملِ حال ہوگی ، یہ رشتہ بھی پاکیزہ اور شفّاف ہوگا اور معاشرہ بھی اُسے قدر و قبولیت کی نگاہ سے دیکھے گا۔

 

زیرِ نظر تحریر اسی تناظر میں لکھی گئی ہے جسے خاص طور پر دورِ حاضر میں نوجوانوں کے معاملات کو سامنے رکھتے مرتب کیا گیا ہے، دعا ہے کہ رب تعالی ان سب کو نیک سمجھ عطا فرمائے۔ حم ))

 

اسلام میں غیر مَحرَم مردوں اورعورتوں کا باہم مروّجہ محبتیں کرنا یا دوستیاں لگانا ایک بے ہودہ عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے اپنے کلامِ مجید میں ایسے لوگوں کی حیثیت بیان فرمائی ہے ملاحظہ فرمائیں۔

 

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

فَانْكِحُوْھُنَّ بِـاِذْنِ اَھْلِہِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ۝۰ۚ

’’پس تم ان (لونڈیوں) کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرلو اور انہیں دستور کے مطابق ان کے مہر دو، جبکہ وہ نکاح میں لائی گئی ہوں، بدکاری کرنے والی نہ ہوں اور نہ چوری چھپے آشنا بنانے والی ہوں۔ ‘‘ (النساء4: 25)

 

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں کے لیے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کا جواز بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ۝۰ۭ

’’اور تمہارے لئے پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں حلال ہیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ، جبکہ تم انہیں ان کے مہر دے دو، نیز انہیں نکاح کی قید میں لانے والے بنو نہ کہ بدکاری کرنے والے اور نہ چھپی آشنائی رکھنے والے۔ ‘‘ (المائدہ5:5)

 

مذکورہ دونوں آیاتِ مبارکہ میں اس کائنات اور اس میں موجود ہر مخلوق کے خالق و مالک اللہ أحکم الحاکمین نے غیر محرم لڑکا و لڑکی کی باہمی غیر شرعی طور پر بغیر نکاح کے کی جانے والی دوستیوں کو پاکدامنی کے منافی قرار دیا ہے۔

 

ان آیات پر غور کرنے سے ایک بہت ہی باریک نکتہ سمجھ میں آرہا ہے۔ اور وہ یہ کہ پہلی آیت میں شرعی طریقہ کے خلاف چوری چھپے دوستی کو لونڈیوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں مسلمان مردوں کی طرف سے اہل کتاب کی عورتوں کی طرف۔ حالآنکہ دونوں آیاتِ مبارکہ میں مومنہ عورتوں کا بھی ذکر موجود ہے، مگر ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے لفظ ِ ’’پاک دامنی‘‘ کا وصف خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ اس سے یہ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ مومنہ اور مسلمہ عورت سے کسی بھی ایسی بے ہودہ اور بے حیاء حرکت کا سرزد ہونا سراسر خلافِ واقعہ ہے۔ اور کم از کم مسلمان لڑکیاں ایسا نہیں کرتیں۔

 

جب کوئی مسلمان عورت اپنے کردار میں مضبوط دیوار کی طرح ٹھوس ہوگی تو کوئی بیمار دل شخص کسی بھی طرح اسے اپنے دامِ تزویر میں پھنسا نہیں سکے گا۔ پھر ایسے مرد یا تو جگہ جگہ بکنے والی لونڈیوں کے قابل رہ جاتے ہیں یا پھر اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی بے حیاء عورتوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

 

اور ایسی عورتیں جو محض چند ٹکوں کے بیلنس، شاپنگ اور محبت کے جھوٹے دعوؤں کے عوض غیر محرم کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرتی ہیں حتی کہ کچھ  اپنی عصمت تک کا سودا کرلیتی ہیں، وہ بکاؤ لونڈیوں کی طرح ہوجاتی ہیں یا پھر اہل کتاب (یہود و نصاری) کی عورتوں کی طرح بے وقعت۔

 

اسلام غیرت اور حیاء کا دین ہے:

کائنات میں سب سے بڑ ھ کر اللہ کی غیرت ہے اور اس کے بعد اس کے پیارے پیغمبرeکی غیرت اور پھر تمام انبیاء اور اہل ایمان کی۔ ہر وہ شخص جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے، وہ لازمی غیرت مند ہوگا۔ اور اسلامی غیرت اس بات کی متقاضی ہے کہ کوئی بھی غیرتِ اسلامی سے سرشار آدمی اپنی کسی بھی محرم خاتون کے بارے میں یہ سننا بھی گوارہ نہ کرے کہ اس کا کسی غیر مرد کے ساتھ کوئی ناجائز چکر چل رہا ہےیا وہ کسی انجانے آدمی کے دامِ تزویر میں گرفتار ہے۔ جو شخص اس بات کو سننا بھی پسند نہیں کرتا کیا وہ اپنی آنکھوں سے ایسے مناظر دیکھنے کی تاب لا سکتا ہے؟ یا اپنی بیٹی، بیوی، بہن یا ماں کے کسی ایسے ناجائز رشتے کا تصور کرسکتا ہے؟ ؟؟

 

اس رشتے کی بابت کھلے دل سے سننے اور اس منظر کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کی تاب لانے کے لئے آدمی کو اَتاہ درجے تک بے غیرت ہونا پڑتا ہے۔اور ایسے ہی ہوتے ہیں وہ بے غیرت باپ، بھائی اور بیٹے جن کی آنکھوں کے سامنے اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو ویلنٹائین کارڈز آرہے ہوتے ہیں اور وہ بے شرمی کی مسکان کو اپنے لبوں پر سجائے دینے والے کا صد شکر ادا کررہے ہوتے ہیں۔

 

البتہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اندر سے تو ’’غیرت مند‘‘ ہیں، لیکن اعلانیہ بے غیرت ہیں، یعنی اگر کوئی ان کی ماں، بہن ، بیٹی اور بہو کو محبت سے لبریز کارڈ دے تو ان کی غیرت کو ’’دھچکا‘‘ لگتا ہے، لیکن یہی لوگ دوسروں کی بہن بیٹیوں کے بارے میں اس طرح کےبے غیرتانہ جذبات رکھنے میں بڑے ہی کشادہ دل واقع ہوئے ہیں۔

 

اسلام کی غیرت و حیاء اور ہر ایک کے لئے یکساں جذبات رکھنے کا درس کس قدر عمدہ ہے، کاش شرمگاہ کے پجاری اس کے اندر چھپے احساس کو سمجھ سکیں۔

 

’’ ایک نوجوان نبی کریمeکی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوا اور کہنے لگا :  اے اللہ کے رسولe! مجھے زنا کرنے کی اجازت دیجئے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے دانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبیeنے فرمایا: میرے قریب آجاؤ۔ وہ نبی اقدسeکے قریب جاکر بیٹھ گیا۔ نبیeنے اس سے پوچھا : کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کروگے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں۔ نبی eنے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم کبھی نہیں۔ نبیeنے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کروگے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم کبھی نہیں۔ نبیeنے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لئے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا : کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں پسند کروگے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم کبھی نہیں۔ نبیeنے فرمایا:ـلوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لئے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کروگے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم کبھی نہیں۔ نبیeنے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لئے پسند نہیں کرتے۔ پھر نبیeنے اپنا دست ِمبارک اس پر رکھا اور دعا کی کہ :      ( اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ  ذَنْبَهُ وَ طَهِّرْ قَلْبَهُ، وَ حَصِّنْ  فَرْجَهٗ )

’’اے اللہ اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔ ‘‘

راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔

(مسند ِ احمد: تتمۃ مسند الانصار، حديث ابي امامۃ الباھلی، ح:22211)

 

یہ ہے اسلام کا ایسا درس جو رہتی کائنات تک کے تمام لوگوں کو یہ احساس دلا رہا ہے کہ جو جذبات اپنے محرم رشتوں کے حوالے سے دل میں ہیں وہی جذبات دوسروں کے محرم رشتوں کے حوالے سے بھی اسی طرح دل میں ہونا چاہئیں۔ کیا کوئی اپنی ماں، بہن ، بیٹی یا بہو کو اظہارِ محبت کی اس رذیل رسم کے مطابق ’’وِش‘‘ کرنا یا گلے لگانا پسند کرے گا؟؟

 

***

ملاحظہ کیا گیا 3657 بار آخری تعدیل السبت, 04 تشرين2/نوفمبر 2017 14:04