بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 18 كانون1/ديسمبر 2014 00:00

ڈاکٹر مسعود عثمانی برزخی کا عذاب قبر کے متعلق عقیدہ

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر ابو جابر عبد اللہ دامانوی

ڈاکٹر عثمانی برزخی کا عذاب قبر کے متعلق عقیدہ

          تحریر: ڈاکٹر ابو جابر عبد اللہ دامانوی حفظہ اللہ

ڈاکٹر عثمانی برزخی نے عذاب قبر کا صاف انکار کردیا ہے اور وہ ارضی قبر میں عذاب کا بالکل منکر ہے البتہ وہ فرضی قبر میں عذاب کا قائل ہے اور جسے وہ برزخی قبر قرار دیتا ہے۔ موصوف کے فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد روح کے نئے (برزخی) جسم میں داخل ہونے اور اس نئے جسم اور روح کے مجموعہ کے برزخی قبر میں عذاب کا قائل ہے۔ البتہ موصوف مرتے دم تک برزخی قبر اور برزخی جسم کا کوئی بھی واضح ثبوت پیش نہیں کرسکا گویا موصوف کا یہ سارا فلسفہ ہی فرضی یعنی خود ساختہ ہے۔ صحیح العقیدہ (اہل السنۃ والجماعۃ) مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے اور اس پر تمام ہی اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ موت کے بعد روح اور جسم میں جدائی واقع ہوجاتی ہے اور قبر کے سوال و جواب کے بعد روح جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے جبکہ جسم (میت) اپنی قبر میں عذاب یا راحت سے ہمکنار ہوتا رہتا ہے۔ عذاب قبر کی احادیث بکثرت ہونے کی بناء پر متواتر ہیں اور ڈاکٹر موصوف ان تمام احادیث کا منکر ہے امت مسلمہ میں سے عذاب قبر کا انکار صرف باطل فرقوں نے کیا ہے اور موصوف بھی ان باطل فرقوں کی بازگشت ہیں۔ ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کا تقاضا ہے کہ عذاب قبر کی احادیث کو من وعن مان لیا جائے اور ان میں ذرہ برابر بھی شک نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاھَدُوْا بِأَمْوَالِھِمْ وَأَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ ھُمُُ الصَّادِقُوْنَ

’’مومن تو صرف وہی لوگ ہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے (اور ان کی باتوں میں ذرہ برابر بھی) شک نہیں کیا اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا، یہی لوگ سچے ہیں‘‘۔ (الحجرات آیت ۱۵)

          معلوم ہواکہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ اللہ اور رسول کی تمام باتوں کو سچ اور حق سمجھتے ہیں اور ان کی کسی بات میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کرتے ہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے انہیں تسلیم کرتے ہیں اور اس کے برخلاف جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں میں شک کرتے ہیں اور ان کی باتوں کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ درحقیقت نہ اللہ کو مانتے ہیں اور نہ اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ مومن (ایمان والے) بالکل نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَلاَ وَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

پس تیرے رب کی قسم ہے کہ وہ لوگ ایمان والے نہیں ہیں جب تک وہ اپنے اختلافی مسائل میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں اور جو فیصلہ آپ نے فرمادیا اس کے خلاف دل میں بھی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اس (فیصلہ کے آگے) سر تسلیم خم کرلیں (تب ہی وہ ایمان والے ہوں گے ورنہ نہیں) ۔ (سورۃ النساء آیت ۶۵)

وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنمْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا

اور جو شخص ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے بجائے دوسرے لوگوں کی راہ پر چل پڑے تو ہم اسے اسی راہ پر چلادینگے کہ جس پر وہ خود ہی چل پڑا ہے اور اسے جہنم میں جھونک دینگے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ (النساء آیت ۱۱۵)

          گویا موصوف نے جس راستے کا اپنی مرضی سے خود انتخاب کیا اور پھر وہ اسی راستہ پر چل پڑا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے اسی راہ پر چلا دیا۔ موصوف نے اہل ایمان کے خلاف جس راہ کا انتخاب کیا ہے وہ نفس پرستی کا راستہ ہے اپنی رائے کو کتاب و سنت پر فوقیت دینے والے دراصل نفس کے بچاری ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ھَوٰہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ط فَمَنْ یَھْدِیْہِ مِنمْ بَعْدِ اللّٰہِ ط اَفلَا تَذَکَّرُوْنَ

’’کیا آپ نے اس شخص کو بھی ملاحظہ کیا کہ جس نے اپنی (نفسانی) خواہشات ہی کو اِلٰہ بنا ڈالا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کردیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے کان اور دل پر مہر ثبت کردی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے (جس کی وجہ سے وہ جہالت کے اندھیروں میں ٹامک ٹویاں مار رہا ہے) پھر اللہ کے بعد اور کون ہے جو اسے ہدایت سے ہمکنار کرے؟ تو پھر بھی کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟‘‘۔ (الجاثیۃ آیت ۲۳)

          عذاب قبر دراصل میت کو اس کی ارضی قبر میں ہوتا ہے جس پر تمام احادیث مبارکہ شاہد ہیں لیکن ڈاکٹر موصوف روح کو ایک نئے جسم میں داخل کرکے اس نئے (برزخی) جسم کے عذاب کا قائل ہے۔ نئے جسم میں روح کے داخل ہونے کا عقیدہ ’’عقیدہ تناسخ‘‘ کہلاتا ہے۔

جناب وارث سرہندی صاحب لکھتے ہیں:  ’’تناسخ روح کا ایک جسم سے دوسرے جسم میں آنا (ہندوئوں کے عقیدہ کے مطابق ) بار بار جنم لینا، جون بدلنا، چولا بدلنا، آواگون (جامع علمی اردو لغت ص ۴۶۹) نئے جسم میں روح کے داخل ہونے کا عقیدہ تفصیل کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی نے بیان کیا ہے۔ دیکھئے :  اسلامی اصول کی فلاسفی ص ۱۳۵، ۱۳۶ روحانی خزائن ج ۱۰، ص ۴۰۴ اور اس عقیدہ کو مرزا قادیانی کے روحانی بھائی ڈاکٹر عثمانی نے ایک نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہوئے اسے اسمگل کرکے اپنی کتاب کی زینت بنایا اور کتاب و سنت کے خلاف آنے والے اسی عقیدہ کو موصوف نے اپنا عقیدہ قرار دے ڈالا۔ وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَلَہ‘ وَلِیًّا مُّرْشِدًا موصوف اس طرح کفریہ عقیدہ تناسخ کیساتھ ساتھ نئے جسم میں اعادہ روح کا بھی قائل ہوگیا تھا اور اس طرح خود اپنے ہی فتویٰ کے مطابق بھی کافر ٹھہرا۔ (لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا) ڈاکٹر موصوف ارضی قبر میں میت کے عذاب کا قائل نہیں تھا بلکہ وہ زندہ کے عذاب کا قائل تھا اسی لئے اس نے تناسخ کا عقیدہ اپنالیا تھا اس نے لکھا ہے کہ میت (مردہ) کو عذاب بے معنی چیز ہے۔ اس وضاحت سے موصوف کے اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ رَسُوْلِٰہٖ (اللہ اور اس کے رسول پر ایمان) کی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کیونکہ جو شخص رسول اللہ کی متواتر احادیث کا منکر ہو وہ کبھی بھی اللہ اور اس کے رسول پر اپنے دعویٰ ایمان میں سچا نہیں ہوسکتا بلکہ ایسا شخص یقینی طور پر کذّاب (بہت بڑا جھوٹا) ہی ہوگا۔ اس طرح بھی موصوف عملی طور پر اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ (اللہ اور اسکے تمام رسولوں پر ایمان) کی تکذیب کا مرتکب ہی قرار پاتا ہے۔

مزید تفصیل کیلئے ہماری کتب ’’اور دو زندگیوں کا منکر کون؟‘‘  -  ’’عذاب قبر کی حقیقت‘‘ وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔

 

 

ملاحظہ کیا گیا 9487 بار آخری تعدیل الإثنين, 21 أيلول/سبتمبر 2015 11:51