بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الإثنين, 01 أيلول/سبتمبر 2014 00:00

مسئلہ تکفیر اور اس کے بھیانک نتائج

مولف/مصنف/مقرر  فضیلۃ الشیخ محمد یعقوب طاہر

مسئلہ تکفیر اور فتوائے خروج سے متعلق داعیان توحید، علمائے حق کا رویہ ہمیشہ محتاط رہا، وہ ایسا کرنے یا ایسی سوچ کو فروغ دینے کو نا پسند کرتے تھے اور ہمیشہ تلقین کرتے رہے کہ اصلاح احوال کا راستہ مسلم حکمرانوں کیخلاف بغاوت نہیں بلکہ حکمت و دانائی، دلپذیر وعظ و نصیحت اور نہایت موزوں و متوازن بحث و مباحثہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 125)

اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے۔

دین اسلام کی بابت ہماری ذمہ داری احکام دین کو غیر متنازع انداز میں پیش کر کے صحیح منہج کو اجاگر کرنا اور یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی شریعت کا ایک ایک حکم ، ایک ایک مسئلہ حکومتوں اور رعایا دونوں کے فوائد ومصالح کے فروغ کا ضامن ہے ، اس کی تعلیمات اور ہدایات سے اس فتنے کا سر کچلنے کو کافی ہیں کہ جو اندرونی خلفشار کا سبب بنے اور معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کا راستہ کھولے ۔ عباسی دور خلافت میں خلق قرآن کے مسئلہ نے ایک فتنہ کی شکل اختیار کر لی ، اربابِ اقتدار واختیار کی بے رحم گرفت سے عامۃ المسلمین کے دل اس وقت دہل کے رہ گئے جب امام اہل السنۃ جناب احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی رحمہ اللہ جیسی شخصیت ان کے ہاتھوں بے پناہ اذیت وعقوبت کانشانہ بنی، لیکن یادرہے کہ جناب امام مظلوم نے حکمرانانِ وقت کے خلاف نہ علم بغاوت اٹھایا، نہ خروج کا نعرہ لگایا نہ لوگوں کو ان کے خلاف کسی کاروائی پر اکسایا اور نہ ہی اس کی اجازت دی وہ تو اسے کفار کا طرز عمل قرار دیتے تھے، ایسے کسی اقدام کو ان سے تشبہ تصور کرتے اور حرام سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ کتاب وسنت کی تعلیمات کے خلاف اور سمع وطاعت کے اصول کے منافی ہے ۔

بصد افسوس! کہ مسلم اکثریت اور بالخصوص وہ علماء حضرات کہ جو دین متین اور شرع مبین کے فہم میں یدطولیٰ رکھنے کے ساتھ ساتھ دنیاوی امور پر بھی گہری بصیرت رکھتے ہیں،پھر بھی یہ فریضہ سر انجام دینے میں بخیل نظر آتے ہیں کہ عامۃ المسلمین کو تکفیری عناصر کے ہاتھوں میں کھلونا بننے اور خروج کی سوچ کے حاملین کے آلۂ کار بننے سے روک کر دعوتِ حق کا فریضۂ منصبی ادا کریں اور انہیں سمجھائیں کہ ایک تو خروج کا شرعی جواز موجود نہیں ہے ، دوسرے یہ کہ زبانی وعظ ونصیحت کے ذریعہ تبدیلی۔ اصلاح لانے کے ذرائع ووسائل کما حقہ اختیار نہیں کیے گئے ہیں،پھر یہ بھی کہ مسئلہ اجتہادی ہے چنانچہ مخالف رائے کا بہر حال احترام کرنا ضروری ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : جب کوئی فتنہ زور پکڑ لیتاہے تو جذباتی احمقوں کی یورش کے سامنے اہل خرد ودانش بے بس نظر آتے ہیں ، فتنوں کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے ، اللہ رب العزت نے فرمایا : 

وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً . (الأنفال:25)

اور تم ایسے وبال سے بچو! کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں ۔

خروج کی سوچ کو ہوا دینے والوں سے شیخ الاسلام رحمہ اللہ بذریعہ مکتوب مخاطب ہوتے ہیں ، کہتے ہیں کہ مسلم امہ کے مابین خلفشار پھیلا کر کچھ مقاصد حاصل کرلینے کی نسبت یہ بہتر ہے کہ وحدتِ امت کو مقدم اور اجتماعیت کو برقرار رکھا جائے خواہ کہیں کوئی ناپسندیدہ امور کیوں نہ برداشت کرنے پڑیں ، اور عقلمند انسان وہ ہوتاہے جو اقدام کرنے سے پہلے نتائج پر نظر رکھتاہے!!

یقیناً ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی مسلمانوں کی حالیہ بیباکانہ جرأت نے اپنے مسلمان بھائیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی راہ ہموار کی ہے ، اور باہم دشمنی ونفرت کی آگ بھڑکانے میں بنیادی سبب بنی ہے، یہ دراصل بزعم خویش مفکر بن بیٹھنے والوں کا ذہنی فتورہے جو کتاب وسنت کے صحیح فہم اور مقاصدِ دین کے ادراک میں یتیم واقع ہوئے ہیں ،بس سنے سنائے پر اور بے ہنگم سوچوں پر اوندھےگرے پڑے ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ وطیرہ رہا کہ وہ اپنی اجتہادی رائے سے صرف اس لیے رجوع کر لیا کرتے کہ کہیں یہ امر وحدتِ امت پر اثر انداز نہ ہوجائے۔ صحیح بخاری میں سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے : ’’تم فیصلے کرتے ہو، میں اختلاف کرنے سے گریز کرتا ہوں تاکہ اجتماعیت برقرار رہے ، اور مجھے موت آئے تو وحدتِ امت کے امین ساتھیوں جیسی آئے۔ (صحیح بخاری 7/171)

راوی حدیث سیدنا عبیدہ خلیفہ راشد سیدنا علی مرتضیٰ سے عرض کرتے ہیں (ام ولد لونڈی کی فروخت کے بارہ میں) آپ کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اجتماعی رائے میرے نزدیک آپ کی انفرادی سے بہتر ہے۔ سیدنا علی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ ام ولد لونڈی کی فروخت جائز نہیں ہے مگر بعد میں فریق ثانی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا اور ام ولد لونڈی کی خرید و فروخت کے جواز کے قائل ہو گئے۔

برادرانِ امت! کفر وفسق کے فتووں کی یلغار نے مسلم امہ کو جس اندرونی خلفشار کی آگ میں جھونک دیا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ، اور اس کے نتیجے میں منہ بولتے بڑے نتائج اور تلخ حقائق سب پر عیاں ہیں، ان کی سنگینی سے دل پارہ پارہ، آنکھیں اشکبار، قیمتی املاک راکھ کے ڈھیر، آبادیاں سنسانوں میں تبدیل ،خون کی ندیاں اور تباہی ہی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

کفر کے فتوے،وہ بھی بلا سوچے سمجھے:

کسی مسلم کو کافر قرار دینا ایک شرعی مسئلہ ہے ، اور ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتاہے ، لہٰذا اس میں احکام الٰہی وفرامین مصطفائی کو اساس بنایا جائے گا، جس طرح شرعی احکامات، دینی واجبات وفرائض اور حلال وحرام کا مصدر ومحور اللہ اور رسول ہیں جیسا کہ فرمان مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: 

فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلاَلٍ فَأَحِلُّوهُ ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ ، أَلاَ وَإِنَّ مَا حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم كما حرم الله . ( رواه أبو داؤد : 4604)

جو چیز بزبان قرآن حلال ملے اسے حلال جانو، اور جو حرام ملے اسے حرام مانو، اور خبردار! جس چیز کو رسول اللہ نے حرام قرار دے دیا اس کی حیثیت بھی اللہ کے حرام کردہ امور جیسی ہے۔

بعینہ اسی طرح تکفیر میں اللہ ورسول ہی مرجع ہیں ، کیونکہ جس جس قول وفعل کو کفر کہاگیاہے ، ضروری نہیں کہ وہ سبھی خروج از ملت کے موجب کفرِ اکبر کے زمرے میں شمار ہوتے ہوں۔

فتوائے کفر میں اللہ ورسول کو مرجع قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ کسی مسلم کو ہم تب تک کافر نہ کہیں جب تک اس کے کفر پر کتاب وسنت اور اجماع امت سے ایسی صریح اور واضح دلالت نہ مل رہی ہے کہ جس میں دیگر احتمال کا امکان باقی نہ ہو۔

اس مسئلہ میں وہم وگمان، شبہات، اندازوں اور خیالی دعووں کو کبھی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا، اور بغیر قطعی الثبوت اور صریح الدلالت واضح دلائل کے اس پر زبان کھولنا گھمبیر اور انتہائی خطر ناک مسائل سے دوچار کردے گا۔

اور یہ بھی باورکراتے چلیں کہ شبہ موجود ہوتو شرعی حد تک نہیں نافذ کی جاتی ، جبکہ اس کی مخالفت پر مرتب نتائج ، کسی مسلم کو کافر قرار دے دینے کے نتائج سے کہیں کم سنگین ہیں۔ لہٰذا ایمان کا شائبہ بھی موجود ہوتو دعوائے تکفیر سے گریز رکھنا زیادہ ضروری ہونا چاہیے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو بلادلیل کافر کہنے سے منع فرمایا: حدیث مبارک ہے کہ

أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لأَخِيهِ يَا كَافِرُ. فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ وَإِلاَّ رَجَعَتْ عَلَيْهِ (صحيح مسلم ـ (1/ 56)

جب کوئی شخص دوسرے کو ’’کافر‘‘ کہتاہے تو ان دونوں میں سے کوئی ایک اس کا مستوجب ضرور ہوگا، اگر تو مخاطب کافر ہے تو ٹھیک ورنہ کہنے والا کافر ٹھہرتاہے۔‘‘

بلا سوچے سمجھے ، بات ، بے بات دوسروں کو کافر کہے جانا نہایت سنگین نتائج کو جنم دیتاہے، مثلاً : دوسروں کے جان ومال کے درپے رہنا، ہنگامے اور قتل وغارت، ملی املاک کا ضیاع، نکاح کا فسخ ہوجانا، سلام وکلام ترک کردینے کے باعث باہمی نفرت وانتشار اور قطع رحمیاں، حتی کہ دینی ارتداد تک بات جاپہنچتی ہے ، بھلا چند شبہات کی بناپر امت کو ایسے سنگین نتائج کی بھینٹ چڑھایا جاسکتاہے؟

یہ تو رہی عامۃ الناس کے دائرہ تک محدود بات، اور اگر اربابِ حکومت واقتدار کی بات کریں تو نتائج کی سنگینی بیان کرنے سے قبل ہی زبان پر آبلے آنے لگتے ہیں کہ اب تو یورشیں ہی یورشیں، مسلح خروج وبغاوت، خون کی ندیاں، املاک کا ضیاع، آگ کے الاؤ، پر امن شہریوں کی زندگیاں اجیرن، افراتفری ، بے چینی وبے کلی ، اور لوٹ وگھسوٹ کا بازار گرم ، جہاں نہ عزت محفوظ ، نہ مال اور نہ ہی جان بلکہ معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہوتاہے جبکہ ایسے کسی بھی اقدام کا کوئی شرعی جواز بھی نہیں ملتا۔

یہی وجہ ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :

إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ فِيهِ بُرْهَانٌ (صحيح البخاري (9/ 59)

ہاں! کہ جب صریح کفر ہوتا دیکھو .... تو پھر.... کہ اس میں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل تو ہو ۔

تو معلوم ہوا کہ کفر کا فتوی لگانے سے پہلے اس کے ایسے صریح شواہد موجود ہونا ضروری ہیں جو کہ صحیح الثبوت ہوں ، بصراحت عیاں دلالت کے حامل ہوں، اس میں سنداً ضعیف اور دلالتاً غامض ( غیر صریح) دلیل معتبر نہ ہوگی ، اور یاد رہے کہ اس قسم کے الزامات اور فتووں میں کسی فرد یا ۔ عالم۔ کا خواہ کس قدر رسوخ ونبوغ علمی کے شاہکار ہوں۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح وصریح دلیل کے بغیر کوئی بھی فتوی قطعاً ناقابلِ قبول ہوگا ، اس سے مسئلہ کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔

برادرانِ اسلام! فتوائے کفر میں احتیاط کے لزوم پر یہ فرمانِ الٰہی بہترین راہنما ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (الاعراف:33)

آپ فرما دیجیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو اعلانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اس بات کو کہ اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات نہ لگا دو جس کو تم جانتے نہیں ۔

تکفیر کی شرائط اور فتوائے کفر کے سامنے رکاوٹیں:

کتاب وسنت کی نصوص سے بسا اوقات یوں لگتاہے کہ ایسا اور ایسا کرنا ، ایسا کہنا یا عقیدہ رکھنا کفر ہے، حالانکہ اس کا فاعل کافر نہیں گرداناجاتا، وجہ یہ ہوتی ہے کہ فتوائے کفر کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل ہو رہی ہوتی ہے ، کیونکہ یہ حکم بھی دیگر احکام شریعت کی طرح تبھی لاگو ہوسکے گا جب اس کے اسباب وشروط پورے ہورہے ہوں اور کوئی مانع حائل نہ ہو، مثلاً : جیسے میراث کے مسئلہ کو دیکھیے کہ اس کا بنیادی سبب میت سے قرابت ہے ، لیکن اگر مانع حائل ہوجائے مثلاً : وارث ومورث کے مابین اختلاف دین، ہونے والے وارث کا اپنے مورث کو قتل کردینا وغیرہ تو ایسے میں حائل رکاوٹ کی وجہ سے یہ وراثت کا حقدار نہ قرار پائے گا،بعینہ اسی طرح :

مومن کو بالاکراہ کافر کے لبادہ میں رہنا پڑجائے۔

یا خوشی کے غلبہ یا فرطِ غم وغصہ وغیرہ کی وجہ سے زبان سے بلا ارادہ وقصد کلمۂ کفر پھسل جائے ، جیسے ایک آدمی نے فرطِ خوشی میں ’’ اللھم أنت عبدی وأنا ربک‘‘ کہہ دیا تھا ، تو اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔

یا نص کے تفسیری فہم میں اجتہادی غلطی ہوجائے کہ شرعی دلیل کو فی غیر موضعہ منطبق کر بیٹھے۔

یا دلالت النص کو صحیح طور پر نہ سمجھ پانے سے کسی شبہہ کا شکار ہوکر کوئی کفر یہ کام کر بیٹھے، حالانکہ اس کی علمی رسائی کے مطابق وہ عمل کفر نہیں ، کیونکہ بھلے غلط فہمی کی بنا پر سہی لیکن وہ یہ کام بر بنائے دلیل ہی کر رہا ہوتاہے ، تو یہ چیز اس پر کفر کے فتوے لگانے کے راستے میں رکاوٹ ہوگی اسی طرح علی سبیل الحکایہ کافرانہ عقائد زبان سے ادا کرنا، مثلاً : قرآن کریم میں کفار کی کہی باتوں کی حکایۃً تلاوت کرنا، جبکہ کلام پاک کی تلاوت خود عبادت ہے ، یا مثلاً : کوئی گواہ قاضی وقت کے سامنے سنے الفاظِ کفر دہرا کر شہادت ثبت کروائے ، وغیرہ وغیرہ

تو ایسی شرائط اور رکاوٹیں فتوائے کفر کے آگے حائل ہوتی ہیں ، چنانچہ : بات، بے بات کفر کے فتوے جڑ دینے سے گریز رکھنا لازمی شرعی تقاضہ ہے۔

تکفیری سوچ کے بُرے نتائج :

یہ غلط سوچ اور یہ بے راہ نظریہ کہ جس کے نتیجے میں ناجائز خون ہی خون، عصمتوں کی پامالی،مالی لوٹ کھسوٹ، ذاتی اور ملی املاک کا ضیاع، ٹرانسپورٹ اور تعمیرات کا جلاؤ گھیراؤ، کارخانوں فیکٹریوں اور صنعتی اداروں کی تباہ کاری، ملک وقوم کی چولیں ہلا دینے والے ناگفتہ بہ حالات، افراتفری کی خوفناک فضاء اور اس جیسا مزید بہت کچھ امت کا منہ چِڑائے ... تو یہ سب بالاجماع شرعاً حرام کام ہیں کیونکہ اس میں بے گناہ جانوں کی حرمت کی پامالی ہے، املاک واموال کی حرمت کی پامالی ہے، امن واستقرار کی حرمت کی پامالی ہے ، پرامن اور بے ضرر گھروں تک محدود، اپنے معاش کی فکر لیے، اپنی صبحیں اور اپنی شامیں خاموشی سے جینے والے معصوم انسانوں کی زندگیوں کی حرمت کی پامالی ہے، اور ہر کس وناکس کی بنیادی ضروریات اور عمومی مصالح کی حرمت کی پامالی ہے۔

برادرانِ امت !کیا ہم یہودیوں سے بھی بُرے ہیں کہ جو اپنے گھر کو مومنوں کے ہاتھوں اور خود آگ لگا لگا خاکستر کر بیٹھتے ہیں۔ کہ ہماری صفوں میں ٹوٹ پھوٹ اور انتشار اس خطر ناک حد کو جا چُھولے کہ ہم ایک دوسرے کے دست وگریباں ہوں، دشمنی اور بغض ونفرت کانشان بن کر رہ جائیں ، جیسے جناب عثمان غنی t نے کہا تھا :

واللہ ! اگر تم مجھے قتل کر دینے کے درپے ہو ہی گئے ہوتو سن لو کہ میرے بعد تمہارے دلوں سے آپس کی محبتیں اچک لی جائیں گی تم ایک ساتھ نماز باجماعت بھی نہ پڑھو گے، مشترکہ دشمن سے بھی اکٹھے نبرد آزما نہ ہوسکو گے۔

ہمارا بنیادی مقصد مسلم امہ میں پھیلتی اس انارکی کی نشاندہی کرنا ہے ، بالخصوص ان حالات میں کہ جب بوجہ اندرونی وبیرونی عوامل واسباب کے مسلمان کی دین پر گرفت ڈھیلی پڑچکی ہے ، ایسے میں غلط افکار ونظریات دلوں میں راہ پکڑتے ہیں ، اور جاگزیں ہوکر معاشرے کا ناسور بن جاتے ہیں ، اب بیچاری عقلیں اور غافل دل ان افکار کی آماجگاہ اور ان کا شکار ہوکے رہ جاتی ہیں ۔

شاعر نے اسیر محبت ہونے کی کہانی یوں کہی :

أَتاني هواها قَبْلَ أَنْ أَعْرِفَ الهوى

فصادفَ قلباً خالياً فتمكنا

عشق سے نابلد تھا کہ اس کی محبت نے مجھے آگھیرا

دل خالی مِلا تو ڈیرے جما لیئے

یہ مٹھی بھر بیچارے مسلمان اس علمی بیچارگی کاشکار ہیں تو محض اس لیے کہ علم صحیح سے عاری اور علمائے راسخین سے استفادہ سے محروم رہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ یہ مخصوص فکر لا علم طبقوں میں فروغ پاتی ہے کہ جہاں اس کا توڑ پیش کرنے والوں کا فقدان ہوتاہے ، اور یہ بیچارے سادہ لوح مسلمان ان اسباب وانداز سے نابلد ہوتے ہیں کہ جو اہل علم کا خاصہ اور پہچان ہیں۔

خلاصہ کلام یہ کہ ہر کہی سنی بات اور پیش آنے والی ہر صورت وکیفیت کو ہم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کریں، اگر تو اس سے موافق ہے تو عین حق ہے اور اگر ان سے ٹکرا رہی ہے تو بلاشک وہ باطل ہے ۔ یہی وہ پیمانہ ہے کہ جس کے ذریعہ ہر قول وفعل اور ہر عقیدہ ونظریہ کو پرکھا جائے گا ۔ کہنے والا کوئی بھی ہو .. .۔

اللہ کی توفیق وتائید سے اہل السنۃ کی یہی پہچان ہے ، یہی امتیاز ہے کہ وہ اقوال وعقائد کو کتاب اللہ اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر پرکھتے ہیں، تو یہی تا روزِ قیامت حق پر قائم جماعت ہے۔

ہم یہ کہنے میں کوئی باک نہیں رکھتے کہ ایسے تکفیری نظریات وآراء سے اسلام بالکل مبرأ ہے یعنی کتاب اللہ اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کی تائید اور دلیل کے بغیر تکفیر کردینے سے اسلام بری ہے ، کیونکہ یہ نِرے شر ہی شر اور برائی ہی برائی کا سرچشمہ ہے، اور جہاں جہاں بھی بے گناہ لوگ ناجائز مارے جارہے ہیں ، آبادیاں تباہ کی جارہی ہیں ، یہ ایسی دہشتگردی ہے کہ اللہ اور رسول نے اس کی کہیں اجازت نہیں دی، اور اسلام ایسی کسی بھی کارروائی سے مبرأ ہے ، بلکہ اللہ ورسول پر ایمان رکھنے والا ہر مسلمان اس سے بری ہے ، اس جرم کا مرتکب اپنے اس عمل کو ہرگز ہرگز نیکی اور اسلامی عمل سمجھنے کے دھوکے میں نہ رہے ، نہ ہی اسے اسلام اور ان اہل اسلام پر احسان شمار کرے کہ جو ہدایت دینی کے شاہکار ہیں ، کتاب وسنت کے سچے پیرو ہیں اور حبل اللہ المتین کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ، اسلامی شریعت اور فطرت سلیمہ اس کے اس عمل کو قطعاً قبول نہیں کرتے ۔

سب مسلمانوں پر خواہ کہیں بھی ہوں ، کتنے بھی ہوں یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو حق پر قائم رہنے کی تلقین کرتے رہیں ، البر والتقویٰ کی نصیحتوں کا تبادلہ کرتے رہیں، دانائی،نصیحت بھری دعوت اور مجادلۃ بالتی ھی أحسن کے ذریعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں۔

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ’’وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى‘‘نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی معاونت کرو۔ (سورۃ المائدۃ 2)

ہم بارگاہ الٰہیہ میں اس کے اسمائے حسنی اور صفات علیا کے ذریعہ دعاگو ہیں کہ سب مسلمانوں کو مشکلات ومعضلات سے محفوظ رکھے، ان کے احوال کی اصلاح اور معاملات کی درستگی فرمائے۔ ان کے ہاتھوں حق کو سرفراز کرے ، وہ یہ سب کرنے کا اہل ہے ، اس پر قادر ہے ۔ آمین

وصلى الله عليه وسلم على نبينا محمد وآله وصحبه أجمعين

ملاحظہ کیا گیا 2911 بار آخری تعدیل الإثنين, 21 أيلول/سبتمبر 2015 11:59