بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الثلاثاء, 17 أيلول/سبتمبر 2013 00:00

جیو اور شہزاد رائے ۔۔۔۔عاصمہ جہانگیر کے نقشِ قدم پر

مولف/مصنف/مقرر  فاروق درویش

حضرت  جیم ، جیو  اور شہزاد رائے ۔۔۔۔عاصمہ جہانگیر کے نقشِ قدم پر

مشہور ضرب المثل ہے کہ “جس کا کام اسی کو ساجھے”۔ ضرورت سے زیادہ عقلمند لوگ، اگر بال تراشنے والے بہترین حجام کی قینچی کے آگے لباس کا کپڑا جھونک دیں گے تو  شاید وہ مونچھیں سمجھ کر ستر کا حصہ ہی کاٹ ڈالے۔ دنیائے فٹ بال کے بہترین گول کیپرکو  ہاکی کے گول میں کھڑا کر دیا جائے تو وہ آدھا تیتر آدھا بٹیر بنکر دو درجن گول ہی کھائے گا۔ کیا عجب تماشہ ہے کہ پاکستانی میڈیا کے ہفت رنگی مسخرے کہیں عامر لیاقت حسین جیسے فحش کلام بازاری کو مذہبی دانشور بنا کر پیش کرتے ہیں۔ کبھی کسی چینل پر دختر فحاشی وینا ملک کے فضائل رمضان پر پروگرام  کی پہلے تشہیر اور پھر منسوخی کے قصے زبان زد عام ہوتے ہیں تو کسی چینل پر عاصمہ جہانگیر جیسی بال ٹھاکری داسی اصل اسلامی اقدار کی نفی میں اپنے سامراجی اور مندری آقاؤں کے منظور نظر اسلام اور نظریہ پاکستان کی تشریح کرنے تشریف فرما ہوتی ہیں۔ ہائے رے قسمت کہ اب رہی سہی کسر امن کی آشا کے علمبردار حضرت جیم جیو نے سارنگی اور طبلے بجانے والے گویوں اور ناچوں کے ہاتھوں علم کی مشعل پکڑا کر پوری کر دی ہے۔

جیو پر جاری “چل پڑھا” نامی پروگرام میں جب ایک پاپ سنگر شہزاد رائے نے نصابی کتابوں حمد الہی، نعت رسول مقبول اور مجاہدین و اکابرین اسلام کے بارے مضامین پر اعتراض کیا تو گمان ہوا کہ گویا جدید سائینس کی بدولت شہزاد رائے میں گلوکارہ میڈونا سمر جی کی حلوت شدہ روح بول رہی ہے۔ اللہ، رسول اور مجاہدین و اکابرین اسلام سے خار رکھنے یا زر ہوسی و مجبوری میں صلیبی زبان بولنے والے شہزاد رائے اور ان کے جیم  جیو دانشور حضرات کے علم میں اضافے اور ان کی یاداشت جگانے کیلئے بصد احترام عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مذاہب عالم میں صرف اسلام کو ہی یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے بلا امتیاز رنگ و نسل، جنس و نسب حصول علم کو ضروری قرار دیا ہے۔ مگر صد حیف کہ اسلام کو جہالت کا دین ثابت کرنے کی مغربی مہم کے ہتھیار بھی وہ روشن خیال مسلمان ہیں جو امریکہ اور ہندوآتہ کے پسندیدہ اسلام کو ہی علم کی روشنی کا سرچشمہ خیال کرتے ہیں۔ شہزاد رائے کو نصابی کتب میں جس اللہ کے نام پر اعتراض ہے اسی مالک کائنات کی طرف سے عالم انسان کیلئے تعلیم کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے نبیء آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز ہی اقرأ باسم ربك الذي خلق سے کیا گیا۔ نبیء برحق ص کے ذریعے امت مسلمہ کو ٰواضح اشارہ دیا گیا کہ دنیا و آخرت ہر دو جہاں کی بھلائی اور کامیابی کا راز صرف علم و تعلیم میں ہی پوشیدہ ہے۔ خود خالق کائنات اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کو بارہا علم میں اضافے کی دعا کی تلقین کرتے ہیں۔ جس آقائے نامدار ص کے نام کی تعلیمی نصاب میں موجودگی شہزاد رائے صاحب کو ناگوار گذرتی ہے، اسی پیغمبر حق نے کبھی ماں کی گود سے قبر تک اور کبھی علم کے حصول کیلئے چین تک کے سفر کا حکم دیا ہے۔ محمد بن قاسم، خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی جیسے کفر شکن، مجاہدین ملت کے بارے ایمان افروز مضامین کو نئی نسل میں شدت پسندی کے رحجان کی وجہ قرار دیکر حذف کردینے کی تجویذ دینے والے پاپ سنگر کی گفتگو سن کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے مسلمان نام کے حامل شہزاد رائے صاحب کلمہ گو مسلمان نہیں بلکہ عالم برزخ سے اترے راجہ داہر اور کنگ رچرڈ کے وفادار وکیل ہیں۔ بحرحال ایک بات تو واضع ہو چکی کہ وہ پیر آف لندن الطاف حسین ہوں یا سرحدی گاندھی باچا خان کے پیروکارین ہوں، آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پڑھ کہنے والی گستاخ قرآن و رسالت عاصمہ جہانگیر کی دجالی قیادت میں کھلی اسلام دشمنی پر اتر آیا این جی اوز مافیہ ہو یا نئی نسل کی رگوں میں امن کی آشا اور ہندوآتہ تہذیب کے زہر کا انجکشن  لگانے والے میڈیا ڈاکٹرین، ان سب خواتین و حضرات کا قبلہ و کعبہ اور نجف، واشنگٹن، لندن اور نیو دہلی ہے۔ یہ سب ننگ اسلام ہستیاں ایمانِ مسلم سے روحِ حب محمد اور جذبہء اطاعت الہی  کا سبق بھلا کر اسے صلیبی غلام اور ہندوآتہ کا پجاری بنانے کے ان پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی  میں مصروف ہیں جو انہیں ان کے اسلام دشمن آقاؤں نے تفویض کیے ہیں۔ احباب یاد رہے فتنہء روشن خیالی کے یہی ابدی اندھیرے، صوبہ خیبر پختون خوا کے نصاب سے حضرت قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بارے مضامین حذف کروا چکے ہیں۔ خدا جانے کہ “پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” کو معصوم ملالہ کے تعلیمی پیغام سے بدلنے کیلئے جنون کی حد تک کوشاں جیم جیو حضرات  یہ ثابت کرنے پر کیوں تلے ہوئے  ہیں کہ مذہب اسلام یا ہم سب مسلمان فروغ تعلیم کے دشمن ہیں۔ شہزاد رائے اور ان کے سرپرست اس حقیقت سے بے بہرہ کیوں ہیں کہ بابائے کیمیا جابر بن حیان، ریاضی و فلکیات، علم النجوم اور جغرافیہ کے شعبہ جات میں اپنی علمی تحقیق و تحاریر کے حوالے سے بابائے الجبرا کا لقب پانے والے الخوارزمی، طبیعات اورعلم الہیت کے نامور سائینس دان ابن فرناس سمیت  الرازی، غزالی، عمر خیام، الفارابی، المسعودی بھی  راسخ العقیدہ مسلمان ہی تھے۔ مسلمانوں کو جہالت اور اندھیروں میں ڈوبی ہوئی امت ثابت کرنے کی صلیبی دوڑ کے شرکا یہ بھی کیوں بھول رہے ہیں کہ وطن عزیز کو ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی علمی کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی ایک کلمہ گو مسلمان ہی ہیں۔

سکن فٹ بلیو جین برانڈ رنگین تتلیوں اور نیم عریاں ہوش ربا مست پریوں کے جھرمٹ میں خدمت انسانیت کا منجن بیچ کر خیراتی فنڈز کے چیک اکٹھے کرنا تعلیم کے فروغ کی نہیں، دراصل این جی او کے منافع بخش کاروبارکی مہم ہے۔ نصابی کتابوں سے اللہ و رسول، مجاہدین و اکابرین ملت  کے ذکر، حمد و نعت، قص الجہاد المسلین اور قرآں و سنت کے مضامین کو فروغ تعلیم اور پیغامِ امن سے متصادم سمجھنے والے روشن خیال، اگر واقعی تعلیم کا فروغ چاہتے ہیں تو اپنے ائرکنڈیشنڈ سیٹ اپ کی مصنوئی دنیا سے نکل کر سب سے پہلے، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے ان تمام سکولوں کو دوبارہ فعال بنوانے کیلے مہم شروع کریں جہاں سندھی وڈیروں اور جاگیردار سیاست دانوں نےعوام الناس کو تعلیم سے جبراً دور رکھنے کیلئے اپنے ڈنگر مویشی باندھ رکھے ہیں۔ لیکن جیم جیو حضرات یا ان کے  طبلہ سارنگی بردار گویے شہزاد رائے صاحب فروغ تعلیم کیلئے ان  بند سکولوں کو کھلوانے کیلئے کبھی جدوجہد نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ۔۔ وہاں سے امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ یا بھارتی سرمایہ نہیں بلکہ استقبال کیلئے ظالم وڈیروں کے بندوقیے اور پینے کو منرل واٹر نہیں چھپڑوں کا گدلا پانی ملے گا۔

آخر میں امریکی برانڈ اسلام کے روشن خیال سپوت شہزاد رائے صاحب کو یہ پیغام ضرور دینا چاہوں گا کہ صاحب ” جس کا کام اسی کو ساجھے “۔ ہاں اگرآپ واقعی تعلیم کے فروغ کیلئے مخلصانہ مہم چلانا چاہتے ہیں تو پھر سر سنگیت کی طرح پہلےعلم کا بھی سارے گا ما سیکھیں، مسلم تاریخ و تہذیب، مسلم دانشوروں، سائنس دانوں اورعظیم فلسفیوں کے بارے اپنا مطالعہ وسیع فرمائیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ سبحان تعالیٰ آپ کو جاہل دہشت گردوں سے محفوظ رکھے۔ فقظ ڈالروں کے حصول کیلئے اغیار کی کٹھ پتلی بن کر قرآن و سنت سے متصادم بیانات  دیکر اپنی شہرت اورعاقبت خراب کرنے یا ماڈرن دین کی سکالری میں آدھے تیتر آدھے بٹیر بن کر مسلمانوں کی نفرتیں سمیٹنے سے بہتر ہے کہ اپنے سارنگی نوازوں اور طبلچیوں کے سنگ اپنی گٹار سنبھالیں اور جھوم جھوم کر ”یا ربّ دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے” سنائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  

 

ملاحظہ کیا گیا 6374 بار آخری تعدیل الإثنين, 21 أيلول/سبتمبر 2015 12:30