بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

السبت, 26 كانون1/ديسمبر 2015 00:00

معاملات میں نرمی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے

مولف/مصنف/مقرر  الشیخ عبد الرحمن مدنی

خطبہ مسنونہ کے بعد... اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
فَذَكِّرْ‌ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ‌﴿٢١﴾ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِر ﴿٢٢﴾...سورۃ الغاشیہ
’’پس آپؐ نصیحت کرتے رہئے، آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہی ہیں ، نہ کہ ان پر چھا جانے والے (داروغہ)‘‘
شریعت ِاسلامیہ ہمارے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے،جس نے ہمیں زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا، زندگی کے مختلف حالات اور طور اطوار میں شریعت کی تعلیمات و ہدایات کے ذریعے ہمارے لئے رہنمائی کا سامان مہیا کیا۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مزاج مختلف بنائے ہیں ۔بہت دفعہ انسان ان تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے مزاج کو بھی شامل کرلیتا ہے اوربظاہر یہ سمجھتا ہے کہ وہ تعلیماتِ شریعت پر عمل کررہا ہے،حالانکہ درحقیقت وہ اس کااپنا مزاج ہی ہوتا ہے۔اس شریعت نے جہاں انسان کی عملی رہنمائی کی ہے،وہاں اس کے مزاج کی اصلاح و تربیت کے لئے نہ صرف واضح ہدایات دیں بلکہ اُسوۂ حسنہ اور کامل نمونہ کے لئے ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی بھیجا۔ اس سارے عمل کو قرآن کریم نے تعلیم وتزکیہکے ایک جامع لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوامِن قَبْلُ لَفِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ ﴿١٦٤﴾...سورۃ آل عمران
بے شک اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر یہ بہت بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک پیغمبر اُٹھایا جو اس کی آیات اُنہیں سناتا ہے۔ ان کی تربیت و تزکیہ کرتااور اُنہیں کتاب وحکمت (اُسوۂ حسنہ)کی تعلیم دیتا ہے اور اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف اپنی زبان سے لوگوں کو تعلیم دی تو اس کے ساتھ تربیت و اصلاح کیلئے ایک عملی کردار بھی پیش کیا۔گویا اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسان کی عملی اصلاح کے ساتھ ساتھ اس کے مزاج و فکر، جس پر انسانی رویے تشکیل پاتے ہیں ، کی تربیت کا بھی بھرپور انتظام کردیا، جس کی چھاپ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی زندگیوں میں تو انتہائی نمایاں تھی کیونکہ صحبت کا اثر ایسا بھی ہوتا ہے جو انسانی مزاج پر غیر شعوری طور پر اپنے اثرات چھوڑتا ہے۔
بعد میں ایک طبقہ نے اسے ایک فن کے طور پر اختیار کرلیا اور تزکیۂ نفس کے مصنوعی طریقے ایجاد کئے جنہیں 'تصوف کے طریقے' کہا جاتاہے۔ لیکن پختہ فکر اور محتاط علما نے اس روش کو غلط قرار دیا اورواضح کیا کہ انسانی مزاج کی اصلاح و تربیت کے لئے تصوف کے ان مصنوعی طریقوں کی اس لئے ضرورت نہیں ہے کہ شریعت کی تعلیمات اور اُسوۂ کامل ہر میدان میں کافی و وافی موجود ہیں ۔ انسانی مزاج اور نفسیات کی تربیت کے لئے شریعت کی تعلیمات اتنی اعلیٰ ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے سے زندگی کے طور اطوار اور رویے ایک معتدل اور کامل انسان کے قالب میں ڈھل سکتے ہیں ۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کے ظاہری اعمال کے محاسبہ کاتذکرہ کیا ہے، وہاں یہ بھی بتایاہے کہ انسانی مزاج اور باطنی کیفیات کا بھی محاسبہ ہوگا،کیونکہ رویوں اور اعمال کے ظہور میں درحقیقت انسان کی باطنی کیفیات اور نفسیات ہی کارفرما ہوتی ہیں ۔ارشادِ الٰہی ہے :
لِّلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْ‌ضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا مَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ ٱللَّهُ ۖ فَيَغْفِرُ‌ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٢٨٤﴾...سورۃ البقرۃ
’’آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ،سب اللہ کا ہے۔ تم اپنی باطنی کیفیات ونفسیات کو چھپاؤ یااُنہیں (اعمال کی صورت) ظاہر کرو، اللہ بہر حال ان کا حساب تم سے لے گا۔ پھر اسے اختیار ہے جسے چاہے معاف کردے اور جسے چاہے سزا دے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
ظاہری اعمال کے ساتھ باطنی کیفیت کی اصلاح و تربیت پر ا س لئے زور دیاکہ اگر انسانی نفسیات متوازن اور پاکیزہ ہوں گی تو اس کے نتیجے میں تشکیل پانے والے اعمال اور رویے بھی پاکیزہ اور متوازن ہوں گے اور اگر انسانی نفسیات پراگندہ اور مزاج تند و تلخ ہوگا تواس کے نتیجے میں ظہور میں آنے والے اعمال بھی یقینا غیر متوازن ہوں گے۔
انسانی رویوں کا باطن اور دل کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے خاص ایمان کی بنیاد پراپنا اور انسانوں کادوسروں کے ساتھ رویہ اختیار کرنے کا ذکر کیا ہے کہ دوسرے شخص کے ساتھ رویہ اس بنیاد پر استوار ہونا چاہئے کہ وہ شخص اللہ پرایمان رکھتا ہے یا نہیں ۔اگر ایمان رکھتا ہے تو اس کے ساتھ رویہ کیسا ہو اور اگر ایمان نہیں رکھتا تو پھر کیسا ہو؟فرمانِ الٰہی ہے :
وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَـٰتِنَا فَقُلْ سَلَـٰمٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَ‌بُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّ‌حْمَةَ ۖ...﴿٥٤﴾...سورۃ الانعام
جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو ان سے کہو، تم پرسلامتی ہے۔ تمہارے ربّ نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیاہے۔
لہٰذا جہاں ایمان موجود ہو اور مقصد نیک ہو، وہاں بدظنی کی بجائے حسن ظن اور نرمی کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ ایسی صورتحال میں تو بسا اوقات سنگین ترین اجتہادی غلطی بھی نظر انداز کرنا پڑتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مواقع پر جہاں نیت کا فساد نہ ہوتا، بڑی سے بڑی غلطی کو نظر انداز کر دیتے۔ اس سلسلہ میں امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے دورِ نبوت کا ایک سنگین ترین واقعہ ذکر کیا ہے جس میں ہمارے لئے رہنمائی کا کافی سامان ہے :
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر حملہ کا پروگرام بنایا تو ایک صحابی ؓ(حاطب بن ابی بلتعہؓ)نے یہ سمجھ کر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ،آپ کی فتح یقینی ہے، لہٰذا اس نے اپنے رشتہ داروں کو کفار ِمکہ کے شر سے بچانے کے لئے ان پر احسان کرنے کا پروگرام بنایا۔چنانچہ اس نے کفار ِمکہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حملہ کی اطلاع دینے کے لئے ایک عورت کو رقعہ دے کر بھیجا۔ عورت نے وہ رقعہ اپنی چوٹی میں گوندھ لیا تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو اور مکہ کے راستہ پر چل پڑی۔
اس امر کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سے اطلاع مل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ اور مقدادبن اسودؓ کو حکم دیا کہ جاؤ مکہ کے راستے خاخ مقام پر تمہیں ایک عورت ملے گی، اس کے پاس ایک رقعہ ہے،وہ رقعہ برآمد کرنا ہے۔ دونوں صحابی گھوڑوں پر سوار ہوکر وہاں پہنچے۔ عورت کو روک لیا اور اسے رقعہ نکالنے کا کہا۔ اس نے انکار کیا اور تلاشی کے باوجود رقعہ برآمد نہ ہوا تو حضرت علیؓ نے دھمکی دی۔جس سے مرعوب ہوکر اس نے بالوں کی چوٹی سے رقعہ نکال کر دے دیا۔ صحابہؓ کے اجتماع میں وہ رقعہ پڑھا گیا، جس میں اہل مکہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پروگرام کی اطلاع دی گئی تھی جس کے نیچے حاطب بن ابی بلتعہؓ کا نام تھا۔ تو حضرت عمرؓ شدید غصہ میں آگئے اور دربار ِرسالتؐ سے ان کا سرقلم کرنے کی اجازت طلب کی۔ معاملہ واقعی سنگین تھا۔ اسلامی حکومت کی جاسوسی کی سزا بڑی سخت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب بن ابی بلتعہؓ سے پوچھا: بتاؤ !کیا معاملہ ہے؟ حاطب نے تمام صورتِ حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کردی اور بتایا کہ میرا مقصد صرف اپنے رشتہ داروں کو اہل مکہ کے شر سے بچانا تھا، باقی میں ایمان کی حالت پرقائم ہوں ۔ ادھر حضرت عمرؓ ان کو قتل کرنے پر مصر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت عمرؓ کو مخاطب کرکے فرمایا:’’اے عمرؓ! حاطب غزوہ بدر میں شریک ہوچکا ہے، لہٰذا ان سے نرمی کا سلوک ہونا چاہئے۔‘‘
(لعل اﷲ عزّوجلّ اطلع علی أھل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فإني قد غفرت لکم)1
توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدریوں کو جھانک کر کہہ دیا ہو،جو چاہور کرو! میں نے تمہارا سب کچھ کیا کرایا معاف کر دیا
امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ اگر کوئی شخص غلطی کرے اور اس کی غلطی تاویل کی بنیاد پر اجتہادی ہو تو اس کے ساتھ ایک مرتد کا سا سلوک نہیں کیاجائے گا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کی فکری تربیت اس نہج پر کی کہ اجتہادی معاملات میں اختلاف اگر اخلاص پر مبنی ہوتا تو وہ ا س میں کبھی سخت رویہ اختیار نہ کرتے اور دوسرے کی غلطی کو برداشت کرتے لہٰذا ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی فکر کو اس نہج پر استوار کر نے کی کوشش کرے۔
مشہور علمی مقولہ ہے:
ان الاجتهاد لا یُنقَض بالاجتهاد
ایک اجتہاد دوسرے اجتہاد کو توڑتا نہیں ہے۔
اس نہج پر میری تربیت میں ایک واقعہ نے اہم کردار ادا کیا۔میں نے دور ِطالب علمی میں ایک حدیث پڑھی کہ ’’اگر آدمی اپنے سامنے کوئی غلط کام دیکھے اور پھر اس پر خاموش رہے تو وہ گونگا شیطان ہے۔‘‘
چوک دالگراں ، لاہور میں ہمارے بزرگوں کی ایک بڑی مسجد ہے ،جہاں میری جوانی کے ابتدائی سال گزرے۔ وہاں جب کوئی خطیب خطبہ دیتا اور بسا اوقات میری نظر میں کوئی بات مرجوح ہوتی خصوصا اکثر خطیب عموماً مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں تو ایسے موقع پر خطبۂ جمعہ کے بعد میں اس حدیث کے تحت خطیب کی غلطی یا مبالغہ آرائی کی وضاحت ضروری سمجھتا، لیکن وہاں بزرگ علما کی موجودگی میں یہ طریقہ مجھے خود کوئی اچھا نہ لگتا ۔ میں نے اس ذہنی الجھن اور کشمکش کا ذکر اپنے تایا اور استاذ گرامی حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمة اللہ علیہ سے کیا۔ اُنہوں نے فرمایا کہ خطیب جب جوشِ خطابت میں کوئی بات کرتا ہے تو اس سے مبالغہ ہوہی جاتاہے، لیکن اس سے اس کا مقصد غلط نہیں ہوتا۔اگر اجتہادی امور میں شریعت کو اس طرح تنگ کردیا جائے تو پھر تو شریعت کی پیروی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر ایسا مسئلہ جس میں دو آرا ہوں ، اس میں شدت کا رویہ اختیار کرنا مناسب نہیں ہے ، لہٰذا وہ حدیث یہاں لاگو نہیں ہوتی۔
اس کے بعد میری سوچ و فکر میں ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی اور اجتہادی مسائل میں میرا رویہ خاصاسلجھ گیا۔ پینتیس چالیس سال قبل کے مناظرانہ ماحول میں ، جب کہ میں خود بھی اس وقت اسی ماحول کا حصہ تھا، مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ مناظرہ بازی میں افہام و تفہیم کے بجائے اصل مقصد مدمقابل کو شکست دیناہوتاہے، جس کے نتیجے میں مجھے مناظروں سے نفرت پیدا ہوگئی ۔واقعی اسلام عناد وتعصب کو قطعاً پسند نہیں کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
(إن اﷲ یحب الرفق) 2
اللہ تو نرمی کو پسند کرتا ہے۔
اور نرمی کا مفہوم امام ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے ان الفاظ میں بیان کیاہے:
’’الرفق ھو لین الجانب بالقول والفعل والأخذ بالأسهل وھو ضد العنف‘‘ 3
’’آدمی قول وکرداراور ہر معاملہ میں آسان ترپہلو اختیار کرے اور اس کے مقابل لفظ شدت، تلخی اور سختی ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتہادی اختلافات اورغیروں کی تہذیب کی نقالی کے علاوہ عام اجتماعی معاملات میں بھی شدت، غلو اور سختی کو سخت ناپسند کیاہے اور شدت کے رویہ پر سخت وعید سنائی ہے۔
جب صحابہ کرامؓ کفار کے ظلم و ستم کی شکایت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار کے خلاف بددعا کی درخواست کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:
’’مجھے بددعائیں اور لعن طعن کرنے والا نہیں بلکہ رحمت بناکر بھیجا گیا ہے۔‘‘
البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدت اور انتہا پسندی اس قدر ناپسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت رویہ رکھنے والوں کے خلاف ان کا نام لیے بغیران الفاظ میں بددعا کی ہے :
(اللھم من ولی من أمر أمتي شیئا فشق علیھم،فاشقق علیه ومن ولي من أمر أمتي شیئا فرَفق بھم فارفق به)4
’’اے اللہ! جو شخص میری اُمت کے کسی اجتماعی معاملہ کا ذمہ دارہو ،پھر وہ ان پر سخت رویہ رکھے تو اے اللہ !تو اس پر سخت ہوجا اور جس کا رویہ نرم ہو، تو اس پر نرم ہوجا۔‘‘
چنانچہ جو شخص اجتہادی اختلافات اور باہمی اجتماعی معاملات میں نرمی و ملائمت اور لطافت وبردباری کو اختیارکرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جہنم سے آزادی کی اور جنت کی نوید سنائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
حرم علی النار کل ھین لین سھل من الناس 5
’’اس شخص پر جہنم حرام کردی گئی ہے جو نرم خو ہو اور لوگوں کے لئے اس کے ساتھ معاملہ کرنا آسان ہو۔نیز اس کا رویہ لوگوں کے ساتھ قربت کا ہو۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے مؤمن کا رویہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’المؤمن غِرُّ کریم والفاجر خِبٌّ لئیم ‘‘ 6
’’مؤمن روشن دماغ(نرم خو) اور سخی دل ہوتا ہے جب کہ فاسق وفاجر تنگ ظرف اور کمینہ ہوتا ہے۔‘‘
حافظ ابن عبد البر رحمة اللہ علیہ نے التمہید میں المؤمن سہل کے الفاظ بھی نقل کئے ہیں ۔
اور یہی وہ رویہ ہے جس کی نشاندہی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں کی ہے :
فَذَكِّرْ‌ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ‌﴿٢١﴾ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِر﴿٢٢﴾...سورۃ الغاشیہ
نصیحت کرتے ہوئے بھی ہمارا رویہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ آدمی دوسرے پرمسلط ہوجائے اورقابوس کی طرح چھا جائے۔یعنی نصیحت کرتے وقت خوف و ہراس کی فضا قائم نہ کی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ رفق، غلو و شدت سے گریز اور آسانی شریعت ِاسلامیہ کا عمومی مزاج ہے اور اسلامی تعلیمات کا حسن اسی وصف ’’رفق‘‘ سے وابستہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
(إن الرفق لا یکون في شییء إلا زانه ولا ینزع من شییء إلاشانه)
’’جس چیزمیں بھی نرمی کا رویہ کارفرما ہو ،وہ چیز حسین بن جاتی ہے اور جو چیزاس وصف ِ رفق سے محروم ہو جائے ، وہ چیز بدنما ہوجاتی ہے۔7
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ آسانی کے رویہ کو پسند کیا ہے ،ایک حدیث میں میں آتا ہے :
(ما خُیِّر النبي ﷺ بین شیئین إلا أخذ أیسرہها ما لم یکن إثما)
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیاجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ان میں سے آسان تر کو اختیار کرتے۔8
چنانچہ ایک مربی،عالم اور مفتی کا یہ بنیادی وظیفہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف ہو۔ اس کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز ہی ہمارے لئے اُسوہ ہے ،دیکھئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ میں کس قدر حکمت اور دھیما انداز اختیار کرتے ہیں :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت اُمّ سلمہ ؓ کے ایک بیٹے عمر بن ابی سلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر پرورش تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے جب کہ ابھی بچے تھے۔ ایک دفعہ کھانا کھاتے ہوئے سالن کے برتن میں ادھر ادھر ہاتھ مار رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اسے فوراً روکا نہیں ،بلکہ پہلے (ادنُ مني یا بُنَّي)’’اے میرے پیارے بیٹے! میرے قریب آؤ۔‘‘کہہ کر اس کے ساتھ محبت و اُنس کااظہا رکیا اور پھر فرمایا کہ دیکھو کھانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے سامنے سے کھائے۔آپؐ نے ایک اور موقع پر اس کی مصلحت یہ بتائی :
(إن البرکة تنزل في وسط الطعام فکلوا من حافاته ولا تأکلوا من وسطه)9
’’ برکت کھانے کے درمیان میں اُترتی ہے ، لہٰذا پہلے تم اس کے کناروں سے کھاؤ ،اس کے درمیان سے نہ کھاؤ۔‘‘
شریعت کے اس مجموعی اور عمومی مزاج کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ فقہا نے مزاج شریعت سے بعض نہایت اہم قانونی ضابطے وضع کئے جنہیں فقہی مسائل کے استنباط میں پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ ان کے لئے القواعد الفقہیة (Legal Maxims)کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
مشہور قاعدہ فقہیہ ہے :’’المشقة تجلب التیسیر‘‘اسلام نے ہر مشقت کے وقت آسانی کی راہ پیدا کی ہے۔’’چنانچہ قرآنِ کریم نے اسی اُصول کے پیش نظر ہی نابالغ بچوں اور بے رغبت ما تحتوں سے پردے میں زیادہ سختی نہیں کی۔ حالانکہ بچوں کے اندر جنسی اُمور کا احساس موجود ہوتا ہے اور جنسی معاملات سے وہ کافی حد تک واقف بھی ہوتے ہیں ، لیکن اس حکمت کے تحت کہ وہ الطوافین والطوافات میں سے ہیں (ان کا آنا جانا عموماً زیادہ ہوتا ہے) ان سے پردہ میں یقینا مشکل پیدا ہوتی، لہٰذا مذکورہ مصلحت کے تحت ان سے پردہ کو ضروری قرار نہیں دیا لیکن احتیاط کے طور تمام بچوں اور غلاموں پر بھی ان تین اوقات میں آنے جانے پر قدغن عائد کردی :
مِّن قَبْلِ صَلَو‌ٰةِ ٱلْفَجْرِ‌ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ ٱلظَّهِيرَ‌ةِ وَمِنۢ بَعْدِ صَلَو‌ٰةِ ٱلْعِشَآءِ ۚ ثَلَـٰثُ عَوْرَ‌ٰ‌تٍ لَّكُمْ ۚ..٥٨﴾...سورۃ النور
’’صبح کی نماز سے پہلے، دوپہر کو جب تم کپڑے اُتار کر رکھ دیتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد، یہ تین اوقات تمہارے لئے بے حجابی کے ہوتے ہیں ۔‘‘
اس کے علاوہ فقہاے اسلام نے متعدد احکام میں اس قاعدہ کو ملحوظ رکھا ہے، مثلاً بارش کے دوران کپڑوں پر پڑنے والے کیچڑ سے کپڑوں پر ناپاک ہونے کا حکم اس لئے نہیں لگایا کہ اس میں مشکل پیدا ہوجاتی۔اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ خواتین نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم (لمبی چادورں میں )ناپاک اور گندی جگہ سے گزر کرآتی ہیں تو کیااس سے ہماری زمین پر گھسٹی چادریں ناپاک ہوجاتی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’کیا گندی جگہ سے گزرنے کے بعد تم صاف جگہ سے نہیں گزرتیں ؟‘‘
جوتوں اور ننگے پاؤں والوں کا بھی یہی حکم ہے۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ شریعت نے ہر مشکل میں آسانی کا پہلو بہرحال ملحوظ رکھا ہے۔ اس میں ہمارے لئے تربیت کا پہلو یہ ہے کہ شریعت کی تعلیمات پرعمل کرتے ہوئے اور باہمی اختلافات اور انتظامی معاملات میں اگر ہم نرمی اور آسانی کے رویہ کو پیش نگاہ نہیں رکھیں گے تو زندگی بدنما اور اجیرن بن جائے گی۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہر معاملہ کی خوبصورتی یا بدنمائی اسی صفت ِرفق سے وابستہ ہے۔ رفق و آسانی یقینا شریعت کا عمومی مزاج اور شدت و غلو اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(من یحرم الرفق یحرم الخیر) 10
’’ جو شخص (شریعت کے اس مزاج سے نا آشنا اور) رفق و آسانی سے محروم ہے ،وہ خیروبرکت سے بھی محروم کردیا گیا۔‘‘
اپنی زوجہ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کو مخاطب کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(یا عائشة ارفقي فإن اﷲ إذا أراد بأھل بیت خیرا دلھم علی باب الرفق) 11
’’اے عائشہ! نرمی کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی گھرانہ کے ساتھ خیر بھلائی کا ارادہ کریں تو رِفق کا دروازہ ان کے لئے وا کردیتے ہیں۔‘‘
ان تعلیماتِ نبویــ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمارے لئے یہ سبق ہے کہ ہم شریعت کے اس عمومی مزاج کے مطابق اپنی زندگی اور قول و کردار کو ڈھالیں ۔ یہی گوشۂ عافیت ہے اور اسی میں ہی دنیا وآخرت کی بھلائیاں پنہاں ہیں ۔ [خطبہ جمعہ : 24؍مارچ 2006ء ... بمقام مسجد جامعہ لاہور الاسلامیہ]

حوالہ جات
1. صحیح بخاری:4890
2. صحیح بخاری:6927
3. فتح الباری:10؍449
4. صحیح مسلم:1828
5. مسنداحمد:1؍415
6. جامع ترمذی :1966 'صحیح'
7. صحیح مسلم :2594
8. صحیح بخاری:3560
9. مستدرک حاکم:4؍129
10. صحیح مسلم :2592
11. مسند احمد:6؍104

ملاحظہ کیا گیا 1017 بار آخری تعدیل السبت, 26 كانون1/ديسمبر 2015 12:51

اسی سے ملتا جلتا