بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الخميس, 12 أيلول/سبتمبر 2013 00:00

اسلام کے نوجوان !

مولف/مصنف/مقرر  محمد سفیان سیف

نوجوان کسے کہتے ہیں؟

کسی بھی معاشرے، جماعت یا قوم کے لئے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں، معاشرے کا انقلاب انہی کے دم سے وابستہ ہے۔ اگر کسی قوم کے نوجوان بگاڑ اور فساد کا شکار ہوجائیں تو پوری قوم تنزلی اور پستی کا شکار ہوجاتی ہے، لیکن اگر نوجوان صحیح سمت اختیار کریں تو پوری قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی دنیا و آخرت میں اپنا نام روشن کرتی ہے۔
اسلامی لغت کے اعتبار سے نوجوان سخت جان، سخت طبیعت اور پختہ عقل اور بردبار، عقلمند اور باشعور انسان کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں نوجوانوں کے لئے ہمیشہ لفظِ ’’اَشُدَّہٗ‘‘ (سختی) کا استعمال کیا ہے۔

  1. ’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے اسے انتہائی تکلیف کے ساتھ (اپنے پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور انتہائی تکلیف کے ساتھ جنم دیا، اس کے حمل اور دودھ پلانے کی مدت تیس ماہ ہے،{حَتّٰی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہُ} حتیٰ کہ جب وہ سختی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس برس کا ہو جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں تیری ان تمام نعمتوں کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں شکریہ ادا کروں اور میں ایسے نیک اعمال کروں جن سے تو راضی ہو اور میری خاطر میری اولاد کی بھی اصلاح فرمادے، بے شک میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور بیشک میں مسلمانوں میںسے ہوں۔‘‘  (الاحقاف:15)
  2.  ’’اے لوگو! اگر تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے میں کوئی شک ہے تو (تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے پیدا کیا، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو مکمل صورت میں بھی ہوتی ہے اور غیر مکمل بھی، تاکہ ہم تم پر اپنی قدرت کو واضح کردیں، پھر ہم جس نطفہ کے متعلق چاہتے ہیں ‘ اور رحموں میں ایک خاص مدت تک جمائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں، {ثُمَّ لِتَبْلُغُوْآ اَشُدَّکُمْ} تاکہ پھر تم اپنی (جوانی کی) سختی کو پہنچو۔‘‘ (الحج: 5)
  3. ’’اور یتیم کے مال کے قریب بھی مت جاؤ، مگر ایسے طریقے سے جو اس (یتیم) کے حق میں بہتر ہو، حتیٰ کہ وہ سختی کی عمر (جوانی) کو پہنچ جائے۔‘‘ (الانعام:152)
  4. ’’اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں، پس جب تم ان میں بردباری محسوس کر لو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔‘‘ (النساء:6)

ابتدائی تین  آیات میں اللہ تعالیٰ نے نوجوانی کو سختی کی عمر سے تعبیر کیا ہے۔ اور چوتھی آیت میں نوجوانی کو نکاح کی عمر اور بردباری سے تعبیر کیا ہے۔ جو کہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ شرعی اعتبار سے نوجوانی یا جوانی کی عمر سخت اور کٹھن کام کرنے، نکاح کرنے اور بردباری اور فہم و بصیرت کی عمر ہے۔
ان آیاتِ مقدسہ کی روشنی میں مسلمان نو جوان ذرا اپنی جوانیوں کو دیکھیں کہ کیا ان کی جوانی واقعتا کوئی سخت، محنت طلب اور کٹھن کام کر نے کے قابل ہے یا نہیں؟ اور کیا جوانی کے ساتھ ان کے  پاس عقل و شعور اور فہم و بصیرت کی دولت بھی یا نہیں؟
مگر یہ انتہائی افسوس ناک صورتِ حال ہے کہ آج کے مسلمان نوجوان ان دونوں چیزوں سے یکسر خالی اور بے نیاز ہیں۔ آج کا مسلمان نوجوان انتہائی نازک مزاج، حساس طبیعت اور کمزور عقیدہ کا حامل اور اس قدر توہم پرست ہے کہ اس پر عورت ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ ذرا سی تکلیف اسے بے چین کردیتی ہے، جب کوئی اس کے بارے میں کوئی بات کہے تو اس کی نازک مزاجی کو آبگینہ کی طرح ٹھیس پہنچتی ہے اور اس کی حساس طبیعت اسے دوسرے کے خلاف اپنے دل میں عداوت اور بغض رکھنے پر آمادہ کردیتی ہے۔
اور عقل و شعور اور فہم و بصیرت سے اس کی دوری کا یہ عالم ہے کہ جو بندہ جب چاہے لیڈر یا قائد کے رُوپ میں آکر اسے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر استعمال کرلیتا ہے اور اس نوجوان کی تسلی و تشفی کے لئے چند دلکش اور خوبصورت نعرے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس کے ہاتھ میں جھنڈے کی صورت میں تھما دیتا ہے، جس طرح کسی چھوٹے سے بیوقوف بچے کو جھوٹی اُمیدوں میں الجھایا جاتا اور اس کے ہاتھوں میں کھلونا دے کر اسے بہلایا جاتا ہے۔ اور پھر ’’راہنما‘‘ نوجوان کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا کر اسے اس طرح بھول جاتا ہے کہ گو یا کبھی دنیا میں اس کا وجود ہی نہیں تھا۔ اور پھر اس کی جگہ لینے والے کئی اور نوجوان موجود ہوتے ہیں۔
نوجوانی کا سب سے بڑا سرمایہ‘ دوستی اور دشمنی
جب انسان بلوغت تک پہنچتا ہے تو لازماً اس کی ترجیحات و ترغیبات میں بہت زیادہ رد و بدل ہوتا ہے۔ کچھ نئی دوستیاں بھی ہوتی ہیں اور کچھ نئی دشمنیاں بھی۔ لیکن کیا کوئی مسلمان نوجوان ایسا بھی ہے جس نے دوستی اور دشمنی کے کچھ معیار بھی بنارکھے ہوں کہ میرا دوست کون بنے اور میرا دشمن کون؟ حالانکہ اسلام نے ہر مسلمان کو وہ معیار بطورِ رہنمائی عطاکیا  ہوا ہے، دیر صرف ہمارے قرآن و حدیث کو کھول کر پڑھنے کی ہے۔
دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار:
دینِ اسلام کا ہر معاملہ میں سب سے پہلا معیار اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنوودی کا حصول ہے۔ یہی معاملہ دوستی اور دشمنی کا بھی ہے۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے:
’’جس نے اللہ کیلئے کسی سے محبت کی اور اللہ کیلئے کسی سے بغض رکھا، اللہ کیلئے کسی کو کچھ دیا اور اللہ کیلئے کسی کو دینے سے منع کیا تو اس کا ایمان مکمل ہوگیا۔‘‘ (ابوداؤد:ح،4061)
یعنی محبت، دوستی اور اتحاد، دشمنی، بغض اور نفرت کا اسلامی معیار‘ ذاتی، انفرادی، اجتماعی، یا تنظیمی مفادات نہیں، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔
دوستی اور دشمنی کے دنیا و آخرت میں گہرے اثرات:
دوستی اور دشمنی کا دنیا و آخرت کے حوالے سے بہت ہی گہرا تعلق ہے، حتیٰ کہ کسی بھی انسان کے اُخروی انجام کو دنیا میں دیکھنے کے لئے اس کے دوستوں کو دیکھ لینا کافی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے فرامینِ عالیہ ملاحظہ فرمائیں:

  • ’’ہر آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر کوئی ضرور دیکھے کہ اس کا دوست کون ہے؟ ‘‘ (ابوداؤد: ح،4193/ ترمذی: ح،2300)
  •  ’’(قیامت کے دن) آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ (دنیا میں) محبت کی ہوگی۔‘‘ (صحیح بخاری: ح،5720/ صحیح مسلم: ح،4779)
  • دنیا میں کسی برے دین و اخلاق و کردار کے حامل انسان سے دوستی کرنے والا قیامت کے دن حسرت و ندامت سے چیخ و پکار کرے گا۔

ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ ربُّ العزَّت کے فرامین ملاحظہ ہوں:

  • ’’اے کاش! میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو میرے پاس (اسلام کی) نصیحت آجانے کے بعد مجھے بہکادیا۔‘‘ (الفرقان:28-29)
  • ’’تمام گہرے دوست اس(قیامت کے) دن ایک دوسرے کے دشمن ہوںگے، سوائے پرہیزگاروں ہے۔‘‘ (الزخرف:67)

وہ نوجوان جو دنیا میں اپنی دوستیوں، محبتوں اور اتحادوں پر فخر محسوس کرتے ہیں‘ ذرا اِن کے اُخروی انجام پر بھی ضرورغور کریں۔ اس لئے کہ قیامت کے دن انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہوگا، نہ کوئی تنظیم  اور نہ ہی کوئی اتحاد، بلکہ اس دن اس کا مال و دولت اور کسی کی سفارش بھی اس کے کچھ کام نہ آئے گی۔  اللہ تعالیٰ کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں:

  • ’’اے ایمان والو! جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے کہ جب نہ خرید و فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کسی کی سفارش۔ ‘‘ (البقرہ:254)
  • ’’اس(قیامت کے) دن نہ مال کوئی فائدہ دے گا اور نہ ہی اولاد۔ الا یہ کہ کوئی فرمانبردار دل لے کر اللہ کے پاس حاضر ہو۔‘‘ (الشعرآء:88-89)

نوجوان اور گمراہ کن تحریکیں:
نوجوانوں کی مثال ایک ایسے برتن کی مانند ہوتی ہے جو بالکل خالی ہو اور پھر اس میں جو چیز بھی ڈالی جائے برتن اس سے بھر جاتا ہے۔ اسی طرح نوجوان کا ذہن بھی جوانی کے دہلیز پر پہنچنے تک بالکل خالی ہوتا ہے، اس میں جس طرح کے بھی خیالات ڈالے جاتے ہیں‘ ذہن انہیں قبول کرلیتا ہے اور پھر وہی اچھے یا برے خیالات اس کے دین، اخلاق و کردار اور معاشرتی ادب و آداب کی بہتری یا برائی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
اور وہ لوگ جو دینی گمراہیوں، شیطانی طاقتوں اور فحاشی و عریانیت کے فروغ کیلئے کام کرتے ہیں‘ وہ ایسے نوجوانوں کو اپنا خصوصی ہدف بناتے ہیں اور ان کے سامنے دنیا کی رنگینیوں اور عیاشیوں کی ایسی دلکش اور خوشنما تصویر پیش کرتے ہیں کہ نوجوان بغیر سوچے سمجھے اور اپنے اُخروی انجام سے بے پرواہ ہو کر مقناطیسی کشش کی مانند ان کے پیچھے چلنا شروع کردیتے ہیں۔
لیکن اس حوالے سے اگر نوجوان اپنی فطری صلاحیتوں کا صحیح استعمال کریں، گمراہ کرنے والے لوگوں کی گمراہ کن باتوں سے اپنا دامن بچا کر رکھیں، ان سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرلیں اور خالصتاً قرآن و حدیث سے اپنا دامن وابستہ کرلیں تو کچھ بعید نہیں کہ یہ ساری گمراہ کن تحریکیں اپنی موت آپ مرجائیں گی۔
جوانی کس طرح گزاریں:
نوجوانی کی عمر عموماً ‘ لااُبالی، گناہوں کی طرف میلان، من مانی، کھیل کود، دولت جمع کرنے کی لگن، عشق و محبت، محنت اور جد و جہد کی عمر کہلاتی ہے۔
اسلام میں نوجوانوں کے لئے ان تمام چیزوں کے بارے میں مکمل راہنمائی موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے  سورۃ النساء :6 میں اس عمر کو ’’نکاح اور بردباری کی عمر ‘‘ قرار دیا ہے۔ اس لئے کہ نکاح نوجوان کو گناہوں سے بچانے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ رسولِ اکرمe نے فرمایا:
’’اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بھی نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ نکاح کرلے، اس لئے کہ نکاح نگاہوں کو جھکاتا اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ح، 4778/ صحیح مسلم:ح، 1400)
اللہ تعالیٰ نے نکاح کرنے والے لوگوں سے مال و دولت کا وعدہ فرمایا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اور تم میں سے جو مرد و عورتیں بے نکاح ہیں ‘ان کا نکاح کردو اور اپنے نیک بخت غلاموں اور لونڈیوں کا بھی، اگر وہ مفلس بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں مالدار کردے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔‘‘  (النور:32)
اور عشق و محبت کی صداقت اور پائیداری بھی صرف نکاح کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادِ پاک ہے:
’’ہم نے دو محبت کرنے والوں (کی محبت) کو نکاح سے زیادہ (پائیدار) نہیں دیکھا۔‘‘
(سنن ابی ماجہ:ح، 1847/ السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی، ج:2، ح،624)
اسی طرح اگر نوجوان اپنی عمر کو لااُبالی پن، کھیل کود اور غیر اَخلاقی کاموں میں لگانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن اپنا سایہ عطا فرمائے گا۔
’’سات خوش نصیب ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اُس (قیامت کے) دن اپنا سایہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی دوسرا سایہ نہیں ہوگا: 

  • انصاف کرنے والا حکمران
  •  وہ نوجوان جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 
  • وہ آدمی جس کا دل مسجد میں ہی لگا رہتا ہے
  •  وہ دو آدمی جو اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت کریں، اسی کی خاطر ملیں اور اسی کی خاطر جدا ہوں
  •  وہ آدمی جسے کوئی اونچے مرتبے والی خوبصورت عورت دعوتِ گناہ دے مگر وہ یہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، 
  • وہ آدمی جو اپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح صدقہ کرتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی اس کے صدقے کے علم نہیں ہوتا۔
  • وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو گرتے ہیں۔‘‘(صحیح بخاری: ح، 620/ صحیح مسلم:ح، 1031)

 اللہ تعالیٰ کی نوجوانوں پر اپنے فضل و انعام کی اس سے زیادہ تیز بارش اور کیا ہو گی کہ مذکورہ سات خوش نصیبوں میں سے چھ نوجوانوں سے متعلق ہیں، اس لئے کہ یہ سارے کام وہ ہیں جو عموماً نوجوان ہی سرانجام دیتے ہیں۔ الحمد ﷲ رب العالمین۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں نوجوانوں کو محنت اور جدو جہد کا جذبہ عطا فرمایا ہے وہیں اس کے استعمال کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ فرامینِ الٰہی ملاحظہ فرمائیں:

  • ’’اور جو لوگ ہمارے بارے میں جد و جہد کرتے ہیں‘ ہم انہیں اپنے راستے کی ہدایت ضرور دیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ (العنکبوت:69)
  • ’’اور اللہ کے راستے میں ویسے ہی جد و جہد کرو جیسا کہ کر نے کا حق ہے۔‘‘(الحج:78)
  • اللہ تعالیٰ کے بارے میں یا اس کے راستے میں جہد وجہد سے مراد ‘ اس کے دین کا علم سیکھنا، اسلام کے غلبہ کیلئے جہاد، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل اور نفسِ امارہ اور شیطان کا مقابلہ کرنا ہے۔
  • موت کو کثرت سے یاد کیجئے، آخرت کی فکر کیجئے اور اصل کامیابی کی طرف پلٹ آیئے!

انسان کو ہر حال میں اپنی موت کو یاد رکھنا چاہئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’لذتوں کو ختم کردینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔‘‘ (سنن ترمذی:ح،2307)
اصل کامیابی دنیا کو فتح کر لینا نہیں، بلکہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ مجید میں بیان فرمائی ہے۔
’’ہر جان موت کا ذائقہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤگے، پس جو شخص (جہنم کی) آگ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا‘ بے شک وہ کامیاب ہوگیا۔ اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کاسامان ہے۔‘‘ (اٰل عمران:185)

اللہ تعالیٰ نوجوانوں کو اپنی جوانیاں اسلام کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

ملاحظہ کیا گیا 3542 بار آخری تعدیل الإثنين, 21 أيلول/سبتمبر 2015 12:31