بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
السبت, 19 كانون1/ديسمبر 2015 00:00

نبوی تاریخی نصیحت اور امت مسلمہ کا کردار

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ ترجمہ شفقت الرحمن مغل
ووٹ دیں
(0 ووٹ)
پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو نیک لوگوں کا ولی ہے، وہی مؤمنوں کا محافظ اور متقی لوگوں کا مدد گار ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے، وہی اولین و آخرین کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ ہی مصطفی اور امین ہیں،  اللہ ان پر ، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرمائے۔

مسلمانو!

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، نیز خلوت و جلوت میں اسی کی اطاعت پر زور دیں، کیونکہ اطاعت  کامیابی اور تقوی کامرانی کا باعث ہے۔

مسلمانو!

امت اسلامیہ اس وقت  مشکلات اور متعدد بحرانوں کی زد میں ہے، جس میں سیاسی، سماجی،  اقتصادی، اور امن و امان سے متعلق بحرانوں سمیت دیگر بہت مسائل سے دو چار ہے، اس صورت حال میں   دانشور  مستقبل کیلئے ایسے وژن  کے منتظر ہیں جو امت مسلمہ کو موجودہ صورتحال سے نکال باہر کرے، چنانچہ اس کیلئے مفکرین نے  اپنی رائے پیش کی، سیاسی لوگوں نے  اپنے اپنے حل  سامنے رکھے، اہل قلم  نے اپنے نظریات تحریر کیے، ان حالات کے اسباب سے متعلق الگ الگ تجزیے سامنے آئے، مسائل کے حل اور بحران سے نکلنے کے مختلف  راستے  منظر عام پر آئے، بڑی تعداد میں سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی  گئیں لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا، لیکن اب پوری امت کو اجتماعی ، قومی، انفرادی حیثیت سمیت حکومت و عوام  سب کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کا وقت آ چکا  ہے،  انہیں اسلام کی روشنی میں مثبت اور کار گر حل اپنانے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ امت اسلامیہ کو  مسائل ، بحرانوں، اور مشکلات سے  نکلنے کا راستہ ایک ہی جگہ سے  ملے گا، اور وہ ہے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کا صحیح فہم۔

اسلامی بھائیو!

یہ نصیحت سنو جو معلم انسانیت، سید الخلق ہمارے نبی محمد ﷺ  کی طرف سے ملی ہے، آپ کی یہ نصیحت  اس امت کیلئے سرمدی دستاویز  کی حیثیت رکھتی ہے، اسی کے ذریعے  زندگی خوشحال ،تمام لوگ  خوش و خرم اور ترقی یافتہ  بن جائیں گے، یہ دستاویز ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہونی چاہیے، ہمارے تمام امور پر اسی دستاویز کا اختیار ہو،  ہماری نقل و حرکت  اسی کی روشنی میں ہو، بلکہ ہمارے ارادوں اور اہداف کی تصحیح بھی اسی کے رنگ میں ہونی چاہیے۔

یہ ایسی نصیحت  ہے جس میں کسی طبقے کو ترجیح نہیں دی گئی ، اس میں کسی قسم کا تعصب نہیں ہے، اور نہ ہی وقتی مصلحت  کار فرما ہے، یہ نصیحت ایسی شخصیت کی ہے جس کی زبان خواہش پرست نہیں ہے، بلکہ ان کی ہر بات وحی ہوتی ہے، یہ محمدی دستاویز اور روشن  نصیحت ہے، یہ پوری امت کو  خوشحال زندگی  کیلئے کھڑا کر سکتی ہے، اسی طرح خیر و عافیت، عزت، صلاحیت، قوت، ترقی، خوشحالی، اتحاد اور اتفاق کی صورت میں ثمر آور بھی  ہے، یہ نصیحت فرمانِ باری تعالی سے ماخوذ ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بات بانو، جب بھی وہ تمہیں زندگی بخش امور کی دعوت دیں۔[الأنفال : 24]

مسلمان اس وقت خواب غفلت میں جس کی وجہ سے اجتماعی  احیا  از بس ضروری ہے،  جس میں فرد، قوم، اور وسائل پر توجہ مرکوز ہو،  اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے ملنے والی زندگی ایک ایسی زندگی ہے جو ایمانی قوت پر قائم ہوتی ہے اور  اس کے بغیر کسی بھی بحران کا سامنا کرنا ممکن نہیں ہے، یہ احیا کی کامل  اور واضح ترین صورت ہوگی، اسی سے خوشحالی، پر امن زندگی، سلامتی،  خیر و عافیت، اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی بھی ملے گی۔

مسلمانو!

اس نصیحت پر عمل پیرا ہونے سے عزت لازمی  ملے گی، بلکہ دونوں جہانوں  میں  بھی شان و شوکت ملے گی، اور ایسا کیوں نہ ہو؟ فرمانِ باری تعالی ہے: {لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ} اور ہم نے آپ کی جانب کتاب نازل کی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے۔[الأنبياء : 10]

اسی طرح فرمایا: {فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} متقی اور اصلاح کرنے والوں پر کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہونگے [الأعراف : 35] فرد اس نصیحت پر عمل پیرا ہوئے بغیر ضائع ہوتا رہے گا، جبکہ اس دستاویز کے مضامین سے دوری پوری قوم کیلئے تباہی و بربادی  کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، اور حکمرانوں کیلئے برے نتائج  بر آمد کریگی، یہ دستاویز  مسلمان کو  بنیادی  عقائد سے جوڑ کر  عصر حاضر کے تقاضوں  سے ہم آہنگ بھی کرتی ہے،  اس پر عمل  امت کو در پیش مسائل کا منفرد  حل ہے انہی مسائل کی آڑ میں اس امت کے نظریات، اقدار، وسائل، اور امتیازی خصوصیات کو  نشانہ بنایا جا رہا ہے، عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں: "تم لوگوں  سے آگے اس لیے نکلے ہو کہ تم نے اس دین کی آبیاری کی ہے"

اللہ آپ سب کی حفاظت فرمائے! آئیں ہم اس عظیم نصیحت ، اور سرمدی دستاویز  کو اس پر عمل  کر کے اس کا عملی نمونہ  بننے  کیلئے غور سے سنیں! امید ہے کہ اللہ تعالی ہم پر رحم فرماتے ہوئے ہماری اصلاح فرما دے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک دن نبی ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: (لڑکے! میں تمہیں کچھ باتیں سکھاتا ہوں: تم اللہ کی حفاظت کرو وہ تمہاری حفاظت کریگا، تم اللہ کی حفاظت کرو ، تم  اسے اپنی سمت میں پاؤں گے، جب بھی مانگو اللہ ہی سے مانگو، اور جب بھی  مدد طلب کرو تو اللہ سے ہی مدد مانگو، یہ بات ذہن نشین کر لو کہ  اگر پوری قوم تمہیں کوئی فائدہ پہنچانے کیلئے متحد ہو جائے، تو وہ تمہیں وہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں  جو اللہ تعالی نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کسی نقصان  پہنچانے کیلئے متحد ہو جائیں تو وہی نقصان تمہیں پہنچا سکے گی جو اللہ تعالی نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، [اس فیصلے پر] قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور قرطاس خشک ہو چکے ہیں) اس روایت کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن صحیح  قرار دیا ہے ۔

ترمذی کے علاوہ ایک جگہ یہ الفاظ ہیں: (تم اللہ کی حفاظت کرو! تم اسے اپنے سامنے ہی پاؤ گے، تم خوشحالی میں اللہ کو  پہچانو، وہ تمہیں  تنگی میں  پہچانے گا، یہ بات ذہن نشین کر لو کہ: جو  چیز تمہیں نہیں ملنی وہ کبھی تمہیں  پا نہیں سکتی، اور جو چیز تم تک پہنچ گئی وہ کبھی تم سے چوک نہیں سکتی تھی، یہ بھی یاد رکھو! غلبہ صبر سے  اور فراوانی  تنگی کے ساتھ آتی ہے، اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے)

اہل علم کہتے ہیں:  اس حدیث  میں اہم دینی  امور سے متعلق انتہائی عظیم  نصیحتیں  موجود ہیں، حتی کہ کچھ علمائے کرام نے یہاں تک کہہ دیا کہ: "میں نے اس حدیث پر غور کیا تو میں مدہوش ہو گیا ، ایسا لگا کہ مجھے کچھ ہو رہا ہے،  بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم اس حدیث کے مطلب و مفہوم  سے بالکل نابلد اور اس کا معنی بہت کم سمجھتے ہیں" حقیقت بھی ایسے ہی ہے کہ آج کل لوگوں کو اس حدیث کے الفاظ کا ہی علم نہیں ہے معنی اور مفہوم سمجھنا تو دور کی بات  ہے، اور اس پر عمل پیرا ہونا تو مزید ناممکن ہے!!

مسلمانو!

اللہ کی حفاظت کا مطلب  حدود الہی  کی پاسداری، حقوق اللہ کی ادائیگی، احکاماتِ الہی کی بجا آوری، اور ممنوعہ کاموں سے مکمل اجتناب ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ [32]  مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ } یہ ہے تم سے کیا ہوا وعدہ جو حدود کی حفاظت اور توبہ کرنے والوں کیلئے ہے [32] جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے رہے، اور [آج] رجوع کرنے والے دل کیساتھ آئے ہیں۔[ق : 32 - 33]

اس حفاظت میں دل  اور پیٹ کی ہر اعتبار سے نگرانی ضروری ہے،  چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ذکر کیا ہے کہ:  (اللہ سے کما حقہ حیا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ ذہن میں آنے والی ہر فکر اور پیٹ میں جانے والی ہر چیز کا خیال کریں)

حصولِ حفاظتِ الہی  کیلئے اعضاء کجروی، اور حواس بے راہ روی سے محفوظ رہنے چاہییں ؛ آپ  ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص مجھے اپنے جبڑوں کے درمیان [زبان] کی اور اپنی ٹانگوں کے درمیان [شرمگاہ] کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں) بخاری

یہ حفاظت شہوت کی وجہ سے معاشرے اور افراد  کو گمراہ ہونے سے روکتی ہے، یا انہیں  بلند اخلاقی اقدار اور اچھی صفات سے  ہٹنے نہیں دیتی، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا} اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور خواتین، اللہ کا خوب ذکر کرنے والے مرد اور خواتین  ان کیلئے اللہ تعالی نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کیا ہوا ہے۔[الأحزاب : 35]

مسلم اقوام!

دین کا اصول ہے کہ : جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، چنانچہ جس شخص نے ذکر شدہ مفہوم کے مطابق  اللہ کی حفاظت کی تو اسے بھی اللہ کی طرف سے مکمل حفاظت  اور اہتمام حاصل ہوگا، جس میں دینی و دنیاوی ہمہ قسم کی حفاظت شامل  ہوگی، اس کی تمام ضروریات پوری ہونگی، اور ہمہ قسم کی ضرر رساں اشیا سے بچاؤ بھی حاصل ہوگا۔

اہل علم کہتے ہیں: " اللہ کی طرف سے بندے کی حفاظت دو انداز سے ہوتی ہے:
پہلا انداز یہ ہے کہ: اللہ تعالی اپنے بندے کے دین اور ایمان کی گمراہ کن شبہات اور حرام شہوت سے حفاظت کرے، چنانچہ دین سے متصادم تمام چیزوں میں اللہ تعالی رکاوٹیں پیدا فرما دے، جیسے کہ فرمان باری تعالی ہے:
{
كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ}ہم نے اسی طرح [یوسف سے] برائی اور فحاشی کو موڑ دیا، بیشک وہ ہمارے خاص بندوں میں سے ہے۔ [يوسف : 24]
دوسرا انداز یہ ہے کہ: اللہ تعالی بندے کی دنیاوی ضرورتوں اور مفاد کی حفاظت فرمائے، مثلاً: جسم و جان، اولاد، اہل و عیال، اور مال کی حفاظت فرمائے، اس بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے: {
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ } [الرعد : 11]  ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: "مطلب یہ ہے کہ فرشتے اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں، لیکن جب تقدیری معاملہ آ جائے تو اس میں رکاوٹ نہیں بنتے"

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ کی حفاظت کرنے والے  کو اللہ کی طرف سے تعجب خیز  تحفظ حاصل ہوتا ہے کہ طبعی طور پر موذی جانور بھی اس کے محافظ بن جاتے ہیں، جیسے کہ نبی ﷺ کے غلام سفینہ  رضی اللہ عنہ کے ساتھ  ہوا تھا کہ انکی سمندر میں کشتی ٹوٹ گئی اور وہ کسی جزیرے میں  جا پہنچے، وہاں پر ایک شیر دیکھا جو سفینہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور انہیں صحیح راستے  تک پہنچا دیا"

بلکہ رسول اللہ ﷺ نے یہی مفہوم  اپنی اس نصیحت میں تاکید کے ساتھ بیان فرمایا: (تم اللہ کی حفاظت کرو! تم اسے اپنی سمت میں ہی پاؤ گے) چنانچہ جو شخص بھی حدود اللہ کی پاسداری کرے ، حقوق اللہ کا اہتمام کرے تو اللہ تعالی اسے اپنی حفظ و امان  میں گھیر لیتا ہے، پھر اسے مزید کی توفیق  اور  سیدھے راستے پر بھی رکھتا ہے، بلکہ اسے اللہ تعالی کی تائید و مدد بھی حاصل ہوتی ہے: {إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ} بیشک اللہ تعالی ان لوگوں کیساتھ ہے جو ڈرتے ہیں، اور جو احسان کرتے ہیں[النحل : 128]

اللہ کی قسم! اگر امت اسلامی تعلیمات کی پاسداری اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کے مطابق کرے تو اللہ تعالی  ہر تنگی ترشی سے اس کیلئے نکلنے کا راستہ بنا کر ہر زحمت کو رحمت میں بدل دے گا۔

قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جو شخص بھی تقوی الہی اختیار کریگا اللہ تعالی اس کے ساتھ ہوگا، اور جس کے ساتھ اللہ تعالی ہو تو وہ ایسی قوت کے ساتھ ہے جو کبھی مغلوب نہیں ہوتی، ایسے پہرے دار کیساتھ ہے جو کبھی نہیں سوتا، اور ایسے رہنما کیساتھ ہے جو کبھی بھٹکتا نہیں ہے"

سلف صالحین میں سے کسی نے اپنے بھائی کی طرف خط لکھا: "۔۔۔ حمد و صلاۃ کے بعد: اگر اللہ تمہارے ساتھ ہے تو کس سے ڈر رہے ہو؟!! اور اگر اللہ تعالی ہی تمہارے خلاف ہے تو پھر کس سے امید لگائے بیٹھے ہو؟!!"  اللہ تعالی سے دعا کہ  اللہ تعالی اس امت کی حقیقی زبان اور زبان حال   کو اس جملے کے مطابق گویا ہونے کی توفیق دے۔

اسلامی بھائیو!

حفاظت کی اس دوسری قسم کا یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالی نیک آدمی کی وفات کے بعد اس کی اولاد کی حفاظت فرمائے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی  ہے: {وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا}اور ان کا والد نیک آدمی تھا [الكهف : 82]، اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان یتیم بچوں کی حفاظت ان کے نیک  اور متقی والد کی وجہ سے ہوئی، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا}لوگوں کو اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ننھی منی اولاد چھوڑ جائیں تو انہیں انکے متعلق کتنا اندیشہ ہوتا ہے!؟، لہذا انہیں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور جو بات کریں صاف اور سیدھی کریں [النساء : 9] جسے اللہ تعالی لڑکپن اور جوانی کے وقت سے ہی اپنی تحویل میں لے لے تو اللہ تعالی بڑھاپے اور کمزوری کے وقت بھی حفاظت میں فرماتا ہے، چنانچہ اس کی سماعت، بصارت، اور طاقت بڑھاپے میں بھی قائم رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کچھ سلف صد سالہ عمر ہونے کے باوجود مضبوط عقل و جوارح کے مزے لیتے رہے، تو ان میں سے کسی عمر رسیدہ  شخص نے زور دار چھلانگ لگائی  تو اس تعجب خیز حرکت کے بارے میں پوچھا گیا، جس پر انہوں نے کہا: "ان اعضا کو ہم نے ابتدائی عمر میں گناہوں سے محفوظ رکھا ، تو بڑھاپے میں اللہ تعالی نے انہیں ہمارے لیے محفوظ رکھا"

مسلم اقوام!

پوری امت فرد ہو یا قوم ، ان کی ذمہ داریاں کسی بھی قسم کی ہوں، انکا مقام کیسا بھی ہو ، جب بھی شریعت الہی  کی پاسداری کرے اور سچے دل سے ایمان لانے کیساتھ ساتھ اپنے ہر معاملے  میں اللہ کے سامنے سرنگوں ہو جائے ، نفسانی خواہشات اور قلبی شہوت سے پاک  ہو جائے ،  سیاسی ، اقتصادی، سماجی اور دیگر  امور  منہج الہی اور سنت رسول اللہ ﷺ  کے  موافق ہوں، جس وقت بھی  خالص اسلام کو اپنی حیات کے تمام شعبہ ہائے زندگی  اور مراحل کیلئے طرزِ زندگی  اپنائیں، اپنے تعلقات ، مصروفیات، اور ہمہ قسم  کی نقل کو حرکت کیلئے اسلام سنگ میل ہو تو اسی وقت  اللہ کی طرف سے تمام مصیبتوں ، تکلیفوں، بحرانوں اور فتنوں سے تحفظ ملے گا، اس امت کو اسی وقت  امن، استحکام، شان و شوکت، اور غلبہ حاصل ہوگا، فرمانِ باری تعالی ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کیساتھ ظلم [شرک] کی آمیزش  نہ کی تو انہی لوگوں کیلئے امن ہوگا، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہونگے۔[الأنعام : 82]

جس وقت بھی امت ایمان باللہ، اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں مکمل طور پر رنگی جائے گی،
یہی رنگ پوری امت کے طرز زندگی ، اہداف  اور تمام سرگرمیوں کیلئے رہبر و رہنما بنے تو ہمہ قسم کا امن  حاصل ہوگا، چاہے امن کا تعلق دشمنوں سے ہو یا کسی خطرے سے انہی سیاسی، اقتصادی، معاشرتی ہر طرح کا امن حاصل ہوگا۔

جس وقت تمام مسلمان اپنے دین کو حقیقی معنوں میں سمجھ لیں  اسلام کے اصولوں کو پہچان لیں ،  بدعات اور شہوات ایک جانب رکھ کر اسلام کیلئے سچے دل سے کام کریں، اس کیلئے ظاہری اسباب اپنائیں، اپنے آپ کو تیار کریں، وسائل مہیا رکھیں تو اللہ تعالی بھی انہیں زمین کی سلطانی عطا کریگا اور  ان کی شان و شوکت بڑھائے گا، ان کی بات میں وزن بھی ہوگا، اور دشمن ان سے مرعوب رہیں گے، سب مسلمانوں کیلئے خیر و بھلائی، اور سلامتی میسر ہوگی، کیونکہ:{ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ } حقیقی غلبہ اللہ، اس کے رسول اور مؤمنوں کا ہی ہوگا[المنافقون : 8]

امت اسلامیہ جس وقت بھی سخت آزمائش میں مبتلا ہو،  دہشت زدہ ہو کر امن  طلب کرے، ذلت کے دنوں میں عزت کی متلاشی ہو، پسماندہ حالات میں ترقی و استحکام کی خواہاں ہو، اسے کسی صورت میں  یہ باتیں حاصل نہیں ہونگی یہاں تک کے  اللہ عز و جل  کی لگائی ہوئی شرطیں پوری نہ کرے، اور وہ ہیں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت، اسلامی شریعت پر مکمل رضا مندی اور اللہ کے ہاں پسندیدہ منہج  کا نفاذ، تب جا کر  اس امت سے فساد و کمزوری کا خاتمہ ہوگا، اس امت  سے خوف، پریشانی اور عدم استحکام کا بوریا بستر گول ہوگا، بلکہ زمین کی کوئی بھی طاقت اس کے راستے میں کھڑی نہیں ہوسکے گی؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى[123] وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى } جب میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے ، جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بدبخت ہوگا [124] اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ [طہ: 123 - 124]

اسلامی بھائیو!

پوری تاریخ میں جب بھی امت مسلمہ  اس منہج سے دور ہوئی تو اسے زوال پذیر  اور ذلیل و رسوا ہونا پڑا، امت مسلمہ کا رعب  دبدبہ جاتا رہا، اور سب لوگوں میں خوف و ہراس سرایت کر گیا، نیز دشمنوں  نے بھی ان پر چڑھائی کی، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ }  بھلا جب [احد کے دن] تم پر مصیبت آئی تو تم چلا اٹھے کہ "یہ کہاں سے آ گئی؟" حالانکہ اس سے دو گنا صدمہ تم کافروں کو پہنچا چکے ہو ،  آپ ان مسلمانوں سے کہہ دیں : یہ مصیبت تمہاری اپنی  ہی لائی ہوئی ہے [آل عمران : 165]

آپ ﷺ نے فرمایا: (جب تم بیع العینہ [ادھا فروخت کر کے نقدا کم قیمت میں خرید لینا]کرنے لگو، اور بیل کی دم پکڑ کر کھیتی باڑی پر ہی راضی ہو جاؤ ، جہاد چھوڑ دو، تو اللہ تعالی تم پر ذلت مسلط کر دے گا، اور اس وقت تک تم سے دور نہیں فرمائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف واپس نہ لوٹ جاؤ)

پوری دنیا میں مقیم مسلمانو! اللہ کا وعدہ  اب بھی قائم و دائم ہے، زمانہ کتنا ہی تبدیل ہو جائے، حالات کس قدر بدل جائیں جب بھی مذکورہ شرائط پائی جائیں گی اللہ تعالی اپنا وعدہ پورا فرما دے گا، اب جو بھی وعدہ پورا کروانا چاہتا ہے تو وہ شرائط پوری کرے کیونکہ: {وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ } اللہ تعالی سے بڑھ کر اپنے وعدے پر پکا کون ہو سکتا ہے؟ [التوبہ : 111]

یہی وجہ ہے کہ اس امت کے سلف صالحین صحابہ کرام سمیت تمام  پیش رو اللہ تعالی پر مکمل اعتماد اور بھروسا کرتے ہوئے  اسی منہج پر قائم تھے، وہ پر عزم ہونے کیساتھ ساتھ کامل ایمان کے حامل تھے، مصیبتوں کو جھیلنے کی طاقت بھی رکھتے تھے، وہ اعلی ترین رہنما رسول اللہ ﷺ کے مکمل پیر و کار تھے، وہ لوگ جہاد اور جد و جہد کیساتھ ساتھ نیکیاں بھی مسلسل کرتے ان میں انقطاع نہیں آنے دیتے تھے، تبھی اللہ تعالی نے ان کے ذریعے دین اسلام کو بلندی اور شان  و شوکت سے نوازا، اس دھرتی پر مضبوط اسلامی سلطنت وجود میں آئی، اس کی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے دنیا کی حقیقت کو پہچان کر اپنی زندگی میں اسے مناسب مقام دیا، چنانچہ  انہوں نے ہماری طرح دنیا کی جانب بالکل دھیان نہیں دیا؛ کیونکہ وہ حقیر دنیا سے مکمل آشنا ہو چکے تھے، اس لیے انہوں نے اپنے آپ کو دھوکے میں نہیں رکھا، بلکہ آخرت کی فکر  کی ، اور اسے مناسب مقام دیا، اس لیے ان کا ہر کام آخرت کیلئے ہوتا تھا؛ کیونکہ اخروی زندگی سرمدی و ابدی  ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کیلئے دنیاوی مصائب بالکل ہوا ہو گئیں، لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم دنیا حاصل کرنے کیلئے دلِ شکستہ لے کر بیٹھ گئے اور بہت سے مسلمانوں نے آخرت کیلئے عمل کرنا ہی چھوڑ دیا۔

ابن کثیر رحمہ اللہ نے 463 ہجری  کے واقعات نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: "رومی بادشاہ  بے شمار گھڑ سوار دستوں کی شکل میں پہاڑوں  کی طرح امڈ آیا، ان کی تعداد بہت ہی بڑی تھی، رومی بادشاہ کا یہ عزم تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے، چنانچہ مسلم سلطان تقریباً 20 ہزار کے لشکر کی صورت میں مقابلے میں آیا، اور مشرکین کی تعداد  سے خوفزدہ ہونے لگا، جس پر فقیہ ابو نصر محمد بن عبد الملک بخاری نے مشورہ دیا کہ جنگ کا وقت  جمعہ کا دن اور زوال کے بعد ہو، کیونکہ اس وقت خطباء مجاہدین کیلئے دعائیں کرتے ہیں، چنانچہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو مسلمانوں کے سلطان  نے گھوڑے سے اتر کر اللہ کیلئے سجدہ کیا، اور اللہ سے دعا مانگتے ہوئے فتح طلب کی، تو اللہ تعالی نے مسلمانوں کیلئے اپنی مدد نازل فرمائی، اور انہیں مشرکوں کو چاروں شانے چت کرنے کا موقع دیا، اور یہ واقعی ایک بڑی شان و شوکت والی فتح تھی"

لیکن آج ہمیں اپنی صورت حال درست کرنے کیلئے سچی کاوش اور جد و جہد کی ضرورت ہے!
ایسی قوم کو حفاظت کا الہی وعدہ کیونکر حاصل ہو سکتا ہے جو قرآن و سنت کے نفاذ سے رو گرداں ہے!
ایک صدی سے متعدد ممالک میں انسانوں کے بنائے ہوئے دستور کو آئین بنانے والوں کی حفاظت کیسے ہو!
اب بھی بہت سے ممالک میں یہی حالت ہے!
ایسی قوم کی مدد، نصرت، اور اصلاح کیسے ہو سکتی ہے جن میں غیر اللہ سے امید لگانے والوں کی تعداد غیر معمولی ہو!
یہ صورت حال متعدد اسلامی ممالک میں مزاروں اور قبروں پر دیکھی جا سکتی ہے!
ایسی قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جن کا اقتصادی نظام ہی سود پر مبنی ہو!
مشرق و مغرب کے پیچھے لگ کر ان کا لین دین ہی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے متصادم ہو!
ایسی قوم کیسے کامیاب و کامران ہو سکتی ہے جن میں برائیوں اور بے حیائی کی بھر مار ہو!
متعدد اسلامی ممالک میں یہ بات بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی ہے!
رشوت کی رسیا اور اہلیت [میرٹ] کے قتل  میں ملوث قوم کیسے کامیاب و کامران ہو سکتی ہے!
جس قوم کے معاملات میں دروغ گوئی، دھوکہ دہی، اور ملاوٹ کا راج ہو!
جس قوم کے معاملات سے صداقت، امانت کا جنازہ نکل چکا ہو!
جس قوم کے نوجوانوں کے دلوں سے اللہ کیلئے محبت، اور اللہ کیلئے دشمنی کا نظریہ ختم ہو چکا ہو!
جس قوم کے تعلقات کی بنیاد دنیا بن چکی ہو وہ کیسے کامیاب ہو سکتی ہے!
یا اللہ! ہماری اور تمام مسلمانوں کی اصلاح فرما، یا اللہ! ہماری اور تمام مسلمانوں کی اصلاح فرما، یا اللہ! ہماری اور تمام مسلمانوں کی اصلاح فرما، یا ارحم الراحمین!

اللہ تعالی میرے اور آپکے لئے قرآن مجید کو بابرکت بنائے،  اور ہمیں سید الانبیا و المرسلین کی سیرت سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کیلئے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش  مانگو وہ بہت ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں صرف  اللہ تعالی کیلئے ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُسکے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل، اور برگزیدہ صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں، اور سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو!

متقی شخص کو اللہ تعالی تحفظ فراہم کرتا ہے، اور اس کیلئے ہر قسم کی تنگی سے نکلنے کا راستہ اور ہر مصیبت سے خلاصی کا انتظام فرماتا ہے، نیز اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے امید بھی نہیں ہوتی۔

مسلمانو!

لمحات اور ایام گزرتے جا رہے ہیں  جبکہ اس دنیا میں متعدد مقامات پر ہمارے بھائی دہشتگردی، قتل و غارت، جبری جلا وطنی  کے خلاف کٹے پھٹے اعضا کیساتھ نبرد آزما ہیں اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، تاریخ  انہیں کسی صورت میں بھلا نہیں سکتی اور دماغ سے ظلم کی یہ داستانیں کبھی مٹ نہیں سکتیں،  ہم یہی کہتے ہیں کہ :"حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" نیز ہم اللہ تعالی سے یہ بھی دعا گو ہیں کہ: یا اللہ! امت محمدیہ کی مدد فرما۔

پوری دنیا کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس کا کامیاب حل یہی ہے کہ اہل حق تک ان کے حقوق پہنچائے جائیں،  پوری انسانیت کو حقیقی معنوں میں عدل و انصاف مہیا کیا جائے،  اسلامی تقاضوں کے مطابق انسانیت کو تحفظ فراہم کیا جائے،  وگرنہ اس بات کا خمیازہ اور نقصان پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔

امت محمدیہ کے سپوتو! معاملہ انتہائی سنگین ہے، کیونکہ مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کیلئے اللہ کے سامنے جوابدہی  ایک عظیم معاملہ ہے، اس لیے ہمیں اپنے بھائیوں  کیساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا، کسی دنیاوی مفاد کی خاطر نہیں بلکہ صرف رضائے الہی کیلئے ، اس لیے بھی کہ ایمان کے تقاضوں کے مطابق باہمی ربط و اتحاد  کی ذمہ داری بخوبی ادا ہو؛ کیونکہ یہ ذمہ داری اللہ تعالی نے ہم سب پر یکساں عائد کی ہے ۔

چنانچہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اللہ کا خوف کھائے، مظلوم مسلمانوں کیلئے بھر پور انداز سے سخاوت کریں، ہر وقت ان کیلئے اللہ تعالی سے دعائیں مانگیں، کیونکہ اللہ تعالی سے ہی مدد طلب کی جا سکتی ہے، اور اسی کے سامنے شکایت کی جا سکتی ہے، اسی پر ہمارا توکل ہے، وہی ہمیں کافی اور بہترین کار ساز ہے۔

اللہ تعالی نے ہمیں ایک عظیم کام کا حکم دیا ہے، اور وہ ہے نبی ﷺ پر درود و سلام ،  یا اللہ! ہمارے نبی   سیدنا محمد  پر رحمتیں ، برکتیں نازل فرما ، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ، تمام صحابہ کرام،   تابعین، اور قیامت تک انکے راستے پر چلنے والے افراد سے  راضی ہو جا۔

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! مسلمانوں کی پوری دنیا میں مشکلات آسان فرما دے،  یا اللہ! مسلمانوں کی پوری دنیا میں مشکلات آسان فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں کی پوری دنیا میں مشکلات آسان فرما دے، یا اللہ! خونِ مسلم کی حفاظت فرما، یا اللہ! خونِ مسلم کی حفاظت فرما، یا اللہ! خونِ مسلم کی حفاظت فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی عزت آبرو کی حفاظت فرما،  یا اللہ! مسلمانوں کے مال و جان، عزت  آبرو، اور وسائل کی حفاظت فرما، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! مسلمانوں کیلئے اپنی مدد نازل فرما، یا اللہ! مسلمانوں کیلئے اپنی مدد نازل فرما، یا اللہ! مسلمانوں کیلئے اپنی مدد نازل فرما۔

یا اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے حالات کتاب و سنت کے نفاذ کی برکت سے درست فرما دے، یا اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے حالات کتاب و سنت کے نفاذ کی برکت سے درست فرما دے۔

یا اللہ! مؤمن مردو خواتین کو بخش دے، مسلمان مرد  و خواتین کو بخش دے، زندہ و فوت شدہ سب کی مغفرت فرما۔

یا اللہ! ہمیں تیری رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ہمیں تیری رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ہمیں تیری رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! ہماری دینی اور دنیاوی معاملات میں رہنمائی فرما، یا اللہ! ہماری دینی اور دنیاوی معاملات میں رہنمائی فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا ذالجلال و الاکرام! یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! ان کی شان و شوکت میں اضافہ فرما،  یا اللہ! مسلمانوں کے دشمنوں کو ہر جگہ ذلیل و رسوا فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں کے دشمنوں کو ہر جگہ ذلیل و رسوا فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں کے دشمنوں کو ہر جگہ ذلیل و رسوا فرما دے۔

یا اللہ! مسلمانوں کو پہنچنے والی مصیبتوں کو ان کیلئے دین و دنیا میں بلندی کا باعث بنا دے، یا اللہ! مسلمانوں کو پہنچنے والی مصیبتوں کو ان کیلئے دین و دنیا میں بلندی کا باعث بنا دے، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری پسند کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران نصیب فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران نصیب فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران نصیب فرما، یا اللہ! جو بھی حکمران مسلمانوں پر سختی کرے  توں اس پر سختی فرما، یا اللہ! جو بھی حکمران مسلمانوں پر سختی کرے توں اس پر سختی فرما، یا اللہ! جو بھی حکمران مسلمانوں پر سختی کرے تو اس پر سختی فرما، یا اللہ! اس پر اپنا حکم نازل فرما دے، یا اللہ! اس پر اپنا حکم نازل فرما، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ ! ہمیں بارش عطا فرما،  یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما،  یا اللہ! ہمیں بارش  کا پانی مہیا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش  کا پانی مہیا فرما، یا اللہ! یا ذالجلال والاکرام!    ہمیں تباہی، غرق، اور نقصانات سے خالی بارش  کا پانی مہیا فرما، یا ذالجلال والاکرام! 

یا اللہ! ہمارے ملک  اور دیگر اسلامی ممالک میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہمارے ملک  اور دیگر اسلامی ممالک میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہمارے ملک  اور دیگر اسلامی ممالک میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہمارے دلوں کو ایمان کی بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمارے دلوں کو ایمان کی بارش عطا فرما،  ہمارے دلوں کو سید الانام ﷺ کی سیرت  والی بارش عطا فرما۔

 یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی ہر جگہ پر حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی ہر جگہ پر حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی ہر جگہ پر حفاظت فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

اللہ کے بندو!

اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا کرو اور صبح و شام اسی کی تسبیحات پڑھا کرو! اور ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں۔

ملاحظہ کیا گیا 2186 بار آخری تعدیل الإثنين, 10 تشرين1/أكتوير 2016 18:11

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم