بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 01 تشرين1/أكتوير 2015 00:00

یمن میں امن ! فرامینِ رسول ﷺ اور ہدایات

مولف/مصنف/مقرر 
ووٹ دیں
(0 ووٹ)

 یمن میں امن !

   فرامینِ رسول ﷺ اور ہدایات

خطبہ جمعہ ، مسجدِ نبوی شریف 

 

خطیب و امام: ڈاکٹر عبد المحسن القاسم 

ترجمہ: شفقت الرحمٰن مغل

توضیح و مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلئے ہیں، ہم اسکی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلبگار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنائت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اسکا کوئی بھی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ   اللہ کے بندے اور اسکے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں صلوٰۃ و سلام نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے، اور اسلام کے مضبوط کڑے کو اچھی طرح (قولاً و عملاً) تھام لو۔

معاشرے کے امن و امان اور سلامتی کی بنیادی شرط

مسلمانو!

اللہ تعالی نے آدم  علیہ السلام اور اولاد آدم کو اپنی اطاعت کے تحت زمین آباد کرنے کیلئے (زمین کا) خلیفہ بنایا، ان پر فضل و رحم کرتے ہوئے ہر چیز ان کیلئے مسخر بھی کی تا کہ وہ ان سے رضائے الہی  کے حصول کیلئے معاونت حاصل کریں، فرمانِ باری تعالی ہے:{هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا} وہی ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ہر چیز  پیدا کی۔[البقرة:29]

یاد رکھو! خوشحال زندگی اللہ کی عبادت، اور نبی مکرّم ﷺ کی سنت کی پیروی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے، بلکہ توحید ِباری تعالیٰ کسی بھی معاشرے کے امن و امان اور سلامتی  کیلئے بنیادی شرط ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:{الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ}جو لوگ ایمان لائے، اور اپنے ایمان کیساتھ ظلم (شرک) کی ملاوٹ نہ کی تو انہی لوگوں کیلئے امن ہوگا، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہونگے۔[الأنعام:82]

امن کا ضامن ایمان اور (ایمان و امن) کا باہمی گہرا تعلق

ایمان ہی امن کا ضامن ہے، اور (امن و ایمان) دونوں ہی زندگی کے ہر لمحے کی بنیادی ضرورت ہیں، انہی کی وجہ سے زندگی خوشحال اور وافر رزق میسر آتا ہے ، معاشرے کے ہر فرد کا دوسرے سے تعلق بنتا ہے، سب ایک بات پر متفق اور ایک دوسرے سے مانوس ہوتے ہیں، شعائر پر اطمینان کیساتھ  عمل کیا جاتا ہے، صاف چشموں سے علم حاصل کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مکمل کنٹرول، اور حکومت اس کے بغیر ملتی ہی نہیں ، فرمانِ باری تعالی ہے:

{وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا} ’’ تم میں سے جو مؤمن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ایسے ہی خلافت عطا کرے گا جیسے تم سے پہلے کے لوگوں کو عطا کی تھی اور ان کے اُس دین کو مضبوط کرے گا جسے اُس (اللہ) نے ان کے لئے پسند کیا ہے،اورانہیں بد امنی کے بعد امن مہیا فرمائے گا، پھر وہ صرف میری ہی عبادت کریں گے اور کسی کو میرے ساتھ شریک نہیں ٹھہرائیں گے‘‘۔[النور : 55]

فقدانِ توحید کا نقصان

لیکن جب عقیدہ توحید مفقود (غیرموجود) ہو تو امن  کی جگہ بد امنی پھیل جاتی ہے،معیشت تباہ ہوجاتی ہے اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں، خاندان بکھر جاتے ہیں،لوگوں کی اخلاقیات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھوک افلاس کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ معاشرہ بد امنی سے کوسوں دور ہوتا ہے۔

اللہ کی حفاظت و نصرت کن لوگوں کو نصیب ہوتی ہے؟

جو کوئی حدود اللہ کی عملی پاسداری کرے،اسلامی احکامات بجا لائے،اور شریعت میں منع کردہ کاموں سے بچے، تو اللہ تعالی اس کی دنیاوی حفاظت فرماتے ہوئے اس کے جسم، مال، اور اہل عیال کو اپنی حدظ و امان نصیب فرما دیتا ہے، اور (دنیا کے ساتھ ساتھ اس کی) دینی حفاظت فرماتے ہوئے اسے گمراہ کن نظریات و افکار،شبہات اور حرام امور سے محفوظ رہنے کی توفیق عطاء فرمادیتا ہے، نبی علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے:’’تم اللہ کو یاد رکھو، وہ تمہیں تحفظ فراہم کریگا‘‘ (ترمذی)

خوشحالی کی انتہا تک رسائی امن وایمان سے ہی ممکن ہے،چنانچہ مواشرے کے امن کی حفاظت کرنا اور دوسروں کو بھی حفاظت کی تلقین کرنا اس کا حق ہے۔

نعمتِ امن کا شکر صرف ایک اللہ کی عبادت سے ممکن ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ } [مکہ کے لوگوں کو چاہیے کہ] وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں [3] جس نے انہیں بھوک میں کھلایا، اور خوف میں  امن عطا کیا۔[قريش :3-4]

ظالموں کی تباہی و بربادی کب اور کیسے؟

زمین پر (امن کے ساتھ) آباد کاری (ایک اللہ ہی کی)عبادت سے ہی ممکن ہے، جبکہ اللہ کیساتھ شرک کرنا،اور لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا زمین پر سب سے بڑا فساد ہے،  یعنی  معصوم جانوں کا قتل کرنا،  کسی کی آبرو ریزی کرنا ، پر امن لوگوں کو دہشت زدہ کرنا ، اور عہد و پیمان  توڑنا  اسی فساد میں شامل ہے۔

اللہ تعالی نے ظالموں کی کامیابی اور قیادت کی نفی کرتے ہوئے فرمایا:{ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ} ظالم کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگے[يوسف:23]

شروع سے لیکر اب تک ظالموں کی تباہی و بربادی سنت الہی ہے،فرمانِ باری تعالی ہے:{وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ} کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جن کے رہنے والے ظالم تھے تو انھیں ہم نے پیس کر رکھ دیا اور ان کے بعد دوسرے لوگ  پیدا کردیئے۔ [الأنبياء:11]

تاہم اگر کسی ظالم کی ہلاکت میں بظاہراً تاخیر ہو تو یہ حکمت الہی کی وجہ سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (بیشک اللہ تعالی  ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو بالکل اچانک پکڑتا ہے) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی والوں کو پکڑتا ہے تو ایسے ہی پکڑتا ہے، بیشک اسکی پکڑ بڑی درد ناک اور سخت  ہوتی ہے[هود:102]) (بخاری)

مظلوم کی مدد انسان اور خصوصاً اہلِ اسلام کی بنیادی ذمہ داری ہے

اللہ تعالی نے ظالم کے ہاتھ روکنے اور  طغیانی  سے باز رکھنے کا حکم دیا، تا کہ مظلوموں کو تحفظ ملے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ} ان کے ساتھ قتال (جنگ و جہاد) کرو، جب تک کہ فتنہ ختم نہ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے،اور اگر وہ بازآجائیں توصرف ظالموں پرہی دست درازی  کرسکتے ہو[البقرة : 193]

مزید مظلوم لوگوں کی مدد کرنے کا حکم دیا،  چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: (اپنی بھائی کی مدد کرو،چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم) (بخاری) (ظالم کی مدد اسے ظلم سے روکنا ہے اور مظلوم کی مدد اس کا ساتھ دینا اور اُسے ظلم و زیادتی سے بچانا ہے)۔

مظلوم کی مدد دین میں بھائی چارے کا بنیادی حق ہے، آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: (مؤمنین کی باہمی محبت، پیار، رحمت و شفقت  کی مثال  ایک جسم کی طرح ہے، اگر اس کا ایک عضو بھی بیمار ہو تو مکمل جسم بے خوابی اور بخار کی سی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے) متفق علیہ

مظلوم لوگوں کی مدد کرنا جرأت مندی اور عظمت کی علامت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مظلوموں کی مدد کرنے کا حکم بھی دیا، اور فرمایا: (مظلوم آدمی کی مدد کرو) (احمد)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اللہ کی اطاعت کرنا،مظلوم کی مدد کرنا،اللہ کیلئے بھائی چارہ قائم کرنے کیلئے ایک دوسرے کا حلیف (معاون و مددگار) بننا شریعتِ اسلامیہ میں انتہائی پسندیدہ عمل ہے،اور اس کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے"۔

یہی وجہ ہے کہ یہ صفت آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں بعثت سے پہلے بھی پائی جاتی تھی،چنانچہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں : "اللہ کی قسم! اللہ تعالی آپ کو کبھی رسوا نہیں کریگا، آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اور مہمان نوازی کے ساتھ  آفات میں لوگوں کی مکمل مدد بھی کرتے ہیں"۔ (متفق علیہ) 

عرب کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ 

بلکہ (رسول اللہ ﷺ کے دور میں) قریش قبیلے کے ذیلی خاندانوں نے زمانہ جاہلیت میں معاہدہ "حلف الفضول" کے تحت ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا (اس طور پر) اعلان کیا تھا، کہ مظلوم لوگوں کی مدد کیلئے ظالم کے خلاف سب متحد ہونگے ، اور جب تک مظلوم کا حق ادا نہیں ہو جاتا ظالم کے خلاف کھڑے رہیں گے۔

امام ابن کثیررحمہ اللہ اس معاہدے کے بارے میں کہتے ہیں:" یہ معاہدہ عرب کی تاریخ میں رونما ہونے والا سب سے عظیم ترین معاہدہ تھا"۔

(کیونکہ) اس طرح  باطل ختم ہوگا،اور زمین پر فساد میں کمی آئے گی۔

یمن میں کاروائی کیوں؟ 

اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اس ملک (مملکتِ سعودی عرب) کی قیادت نے یمن میں مظلوموں کی  پکار پر لبیک کہا، تو ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ پوری قوت کے ساتھ ظالموں کے خلاف  چل پڑا، جس کیلئے قائد اورعوام شانہ بشانہ کھڑے  ہوگئے، فتح کی کرنیں چمک اٹھیں، اور دانشوروں کے ساتھ مظلوم لوگ  بھی اس پرخوش ہوئے۔

کامل ترین فتح اللہ وحدہ کے سامنے التجائیں کرتے ہوئے گڑگڑانے سے ہی ملے گی، امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:" دنیاوی تکالیف و پریشانیوں کے (رضائے الٰہی سے ) خاتمہ کیلئے عقیدہ توحید کا کوئی ثانی و مقابل نہیں"۔

فتح و نصرت کے اسباب

اطاعتِ الہی:

اللہ کی اطاعت سے فتح جلدی نصیب ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:{إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ}اگر تم اللہ (کے دین) کی (اطاعت ، حفاظت و تبلیغ کے ذریعہ) مدد کرو، تو وہ تمہاری مدد کریگا۔ [محمد:7]

دعاء:

اور فتح کی چابی دعا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:{إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ} (یاد کرو) جب تم اپنے رب سے مدد طلب کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری دعا فوراً قبول کی[الأنفال:9]

مدد کے لئے صرف اللہ کو پکارنا:

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " ہرمُکلَّف (اسلامی احکامات کے پابند) کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ علی الاطلاق اللہ کے سوا مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے، کسی بھی قسم کی مدد ملے تو وہ اللہ کی طرف سے ہی ہوتی ہے"۔ (لہٰذا صرف اللہ ہی سے مدد طلب کی جائے)۔ 

حالتِ جنگ میں اسوہِ نبیِ رحمت ﷺ 

انبیائے کرام اللہ کے سامنے سب سے زیادہ  گڑگڑانے والے ہوتے ہیں، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن  اللہ تعالی سے انتہائی الحاح کیساتھ  دعا فرمائی، حتی کہ آپکی چادر بھی گرگئی،اور پھرغزوہ خندق کے موقع  پرآپ ﷺ کی دعا کے یہ الفاظ تھے:

(اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ)

[یا اللہ! قرآن نازل کرنے والے، جلدی سے حساب لینے والے، تمام (دشمن) افواج کو شکست دے، یا اللہ! انہیں  ہزیمت و شکست سے دوچار کر، اور ان کے قدموں کو اکھاڑ دے] (متفق علیہ)

مؤمنین کی دعا بھی قرآن میں بیان ہوئی: {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہمارے گناہ بخش دے، اور کسی کام میں زیادتی ہو گئی ہو تو وہ بھی معاف فرما، اور ہمیں ثابت قدم بنا، اور ہماری کافروں کے خلاف مدد فرما [آل عمران : 147]

ثابت قدم رہیں، اللہ پر بھروسہ کریں، نماز قائم کریں، تکبر سے دور رہیں اوراللہ سے خیر کی امید رکھیں

ثابت قدمی اور تقوی کے سامنے ہر تکلیف ہیچ ہے:{وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا} اگر تم ثابت قدم رہو، اور تقوی اختیار کرو، تو ان (دشمنوں) کی مکاریاں تمہیں کوئی نقصان نہیں  پہنچا سکتیں۔[آل عمران : 120]

دورانِ جنگ کثرت کے ساتھ  ذکر الہی کرنا کامیابی کی کرن ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} اے ایمان والو! جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بکثرت  یاد کرو ؛ تاکہ تم کامیاب رہو [الأنفال : 45]

مصیبت میں نمازقائم کرنا بھی اللہ کی مدد کا باعث ہے، اللہ جل شانہ کا فرمان ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ} اے ایمان والو! صبر اور ایمان کے ذریعے مدد طلب کرو، بیشک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔[البقرة : 153]

(جائز) اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالی پر توکّل و بھروسہ کرنا ، ایمان و طاقت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ }جو بھی اللہ تعالی پر توکل کرے تو وہی اسے کافی ہے۔ [الطلاق : 3]

امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:" اللہ پر توکل کے ذریعے انسان مخلوق کی طرف سے ملنے والے ناقابل برداشت ظلم و ستم بھی  روک سکتا ہے"۔

"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" مصیبت کے وقت پڑھا جاتا ہے، چنانچہ انہی کلمات کو دونوں خلیلوں نے بھی کہا تو اللہ تعالی نے انہیں فتح عطا فرمائی۔

اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھنا  کامل توحید اور فتح کی نوید ہے، حدیث قدسی میں ہے: (میں اپنے بندے کیساتھ  اس کے گمان کے مطابق  پیش آتا ہوں) متفق علیہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ : "جو شخص بھی اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہے، تو اللہ تعالی اسے حسن ظن کے مطابق ہی عطا فرماتا ہے"۔

وعدہ الہی فتح و خوشخبری کی صورت میں پورا ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ} بیشک ہم اپنے رسولوں اور مومنوں کو دنیاوی زندگی  میں فتح یاب فرمائیں گے، اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہونگے[غافر : 51]

ایک مسلمان اپنے دل کو ہمیشہ  اللہ  کے ساتھ  لگا کر رکھتا ہے، چنانچہ خود پسندی، اور اپنی طاقت پر فخر نہیں کرتا، فرمان باری تعالی ہے: { وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ} حنین کا دن [یاد کرو] جب تم اپنی کثیر تعداد پر خود پسندی میں مبتلا ہوگئے، تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا، بلکہ کشادہ زمین بھی تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔[التوبۃ : 25]

افواہیں اور مسلمان

ایک مؤمن کو عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے ہربات کو تصدیق کے بعد ہی قبول کرنا چاہیے، اور دشمنوں کی طرف سے پھیلائی گئی افواہوں پرکان بھی نہیں دھرنا چاہییں، کیونکہ "سنی سنائی باتیں کرنا بہت بری بات ہے" آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: (کسی شخص کے جھوٹے ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے) مسلم

 

تحفظِ حرمین شریفین

ایسا شخص مبارکباد کا مستحق ہے جس نے اپنی جان حرمین شریفین کی حفاظت اورمظلوم لوگوں کی مدد میں قربان کردی، آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: (جنت میں  سو درجے ہیں، اللہ تعالی نے یہ درجات مجاہدین فی سبیل اللہ کیلئے تیار کیے ہیں،ہر دو درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے) بخاری

 

نیت میں خلوص پیدا کریں

اس عظیم عبادت کو ادا کرنے والے افراد کیلئے نیت خالص کرنا انتہائی ضروری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: "ایک شخص اپنی دلیری کیلئے، دوسرا قبائلی تعصب کیلئے، اور تیسرا ریا کاری کیلئے قتال کرتا ہے، ان میں سے"فی سبیل اللہ" کون ہے؟ "تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو کلمۃ اللہ کی بلندی کیلئے لڑے ، وہی مجاہد فی سبیل اللہ ہے) متفق علیہ

دیارِ حرمین کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے 

سرحدوں پر پہرا دینے والوں کو اجرعظیم کا وعدہ دیا گیا ہے،آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: (اللہ کی راہ میں ایک دن کا پہرا دنیا اور جو کچھ اس پر ہے ،ان سب سے افضل ہے) مسلم

جس شخص کی بھی ان میں شرکت کرنے کی سچی نیت ہو تو انہیں عمل کیے بغیربھی اسکا اجر ملے گا، آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: ’’بیشک مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جتنا بھی چلے اور وادیوں سے گزرے  ہو،  وہ تمہارے ساتھ  اجر میں برابر کے شریک ہیں، وہ بیماری کی وجہ سے (تمہارے ساتھ) نہیں آسکے‘‘۔ مسلم

اہلِ یمن کے لیے تعلیمات 

یمن کے تمام اہل ایمان کیلئے ضروری ہے کہ اپنی اسلامی تابناک تاریخ  مسخ نہ ہونے دیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے جو تعریفی کلمات ارشاد فرمائے تھے انکی لاج رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، ان کے دل انتہائی نرم ہیں، ایمان یمنی ہے، اور حکمت بھی یمنی ہے) متفق علیہ (یعنی کتاب و سنت کے نھج پر قائم عقیدہ توحید اور سنتِ نبوی ﷺ کے حامل یمن کے اہلِ حق کا ایمان ہی اصل ایمان اور انہی کی حکمت اصل حکمت ہے)۔

(لہٰذا) اہل یمن کیلئے ضروری ہے کہ حق بات، اور دین کیلئے اپنا ایک ٹھوس مؤقف بنائیں، تفرقہ و اختلاف سے دور رہیں، ایک حکمران کے تحت سب جمع ہو جائیں ، اور باغیوں کو چاہیے کہ وہ حکمِ الہی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔

اس تفصیل کے بعد: مسلمانو!

فتح کا اصل مأخذ اور سنتِ الٰہی 

قوت کا اصل ماخذ و مصدر اللہ کی ذات ہے، وہ اپنے فیصلوں پرمکمل کنٹرول رکھتا ہے، سنتِ الہی بھی یہی ہے کہ حق و اہل حق کی مدد کرتا ہے، باطل و اہل باطل  کو ملیامیٹ کر تا ہے، اللہ تعالی نے اپنے اولیاء کیلئے فتح لکھ دی ہے، جبکہ اس کے دشمنوں کو صرف شکست ہی ملے گی۔

فتح کے بعد 

فتح کے بعد مسرت و شادمانی شکرِ الہی اور حمد و تسبیح کے بغیرمکمل نہیں ہوسکتی، فرمانِ باری تعالی ہے:{إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (1) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (2) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا } جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے [1]  لوگوں کواللہ کے دین میں جوق درجوق داخل ہوتا دیکھ لیں [2] تو اپنے اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کریں، اور اسی سے بخشش مانگیں، بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا ہے[النصر:1 -3]

 

فتح کی وجوھات

فتح  کی وجوہات(مادی وسائل و)اسباب کو قرار دینے سے بالکل گریز کریں،کیونکہ فتح صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔

مسلمان کو اپنے مظلوم بھائیوں کی تکالیف دور ہوتے ، اور کلمۃ اللہ  کو بلند ہوتے دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: {وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ} عزت صرف اللہ کیلئے، رسول اللہ کیلئے،اورمؤمنوں کیلئے ہے، لیکن منافق اس بات کا ادراک نہیں رکھتے[المنافقون:8]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس ذکرِ حکیم سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں۔

دوسرا خطبہ 

 

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کہ اُس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں جس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اسکی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، اللہ تعالی اُن پر ، آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!

پوری دنیا میں مملکتِ سعودی عرب کا مقام و مرتبہ۔

اللہ تعالی نے اس ملک کو مسلمانوں کے قبلہ یعنی بیت اللہ  اور مسجد رسول اللہ علیہ الصلاۃ و السلام کے ذریعے بہت شرف بخشا ہے،اس حکومت کی بنیاد کتاب و سنت ہے،اس کا مشن دین کی حفاظت،دینی نشرواشاعت ،قیامِ عدل، اورامت مسلمہ کے مسائل کو پوری دنیا کے سامنے رکھ کران کا بھر پوردفاع کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس ملک  کو مسلمانوں کی قیادت ملی، اللہ تعالی نے اپنی خصوصی مدد کے ذریعے اس ملک کی حفاظت فرمائی، اور اس کی مدد بھی کی، یہی وجہ ہے کہ یہاں پر امن و ایمان ہمیشہ قائم دائم رہا، بلکہ مسلمان چاہیے کسی بھی خطے میں رہتے ہوں، ان کے دل اسی ملک کے کیلئے دھڑکتے ہیں،  حتی کہ دشمن بھی اس کے سامنے ہیچ نظر آتے ہیں، اور یہ اللہ تعالی کا اس ملک پر بہت بڑا احسان ہے، ہم اسی لیے صرف اللہ کی حمد و ثنا ہر دم کرتے ہیں۔

یہ بات جان لو کہ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پرصلوٰۃ و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا:]إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا[ اللہ اوراس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر صلوٰۃ وسلام  بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین : ابو بکر، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الأکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یااللہ !اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے، اور اس کے سارے اعمال اپنی رضا کیلئے چن لے،  اور تمام مسلم حکمرانوں کو نفاذ شریعت اور قرآن کو بالا دستی دینے کی توفیق دے۔

یا اللہ! ہماری افواج کی مدد فرما، اور انہیں جلد از جلد فتح و کامیابی عطا فرما۔

یا اللہ! زمین و آسمان  کی تمام  چیزیں اپنی قوت، طاقت، اور قدرت کے ذریعے ہماری افواج کیلئے مسخر فرما دے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! تیرے اور انکے دشمنوں کے لئے ہلاکت و تباہی لکھ دے، یا اللہ! ان کے قدموں تلے سے زمین  نکال دے،  اور ان کے دلوں میں رعب و دبدبہ ڈال دے، یا ذالجلال وا لاکرام!

یا اللہ! تو ہی معبودِ حقیقی ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو ہی غنی ہے، ہم فقیر ہیں، ہمیں بارش عطا فرما، اور ہمیں مایوس نہ فرما۔

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر بہت ظلم ڈھائے، اگر تو ہمیں معاف نہ کرے ، اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔

اللہ کے بندو!

الوصف: الوصف: الوصف: start-iconإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ الوصف: الوصف: end-iconاللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو۔ [النحل: 90]

تم اللہ کو یاد رکھو جو صاحبِ عظمت و جلالت ہے وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

ملاحظہ کیا گیا 4770 بار آخری تعدیل السبت, 04 تشرين2/نوفمبر 2017 14:34

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم