بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الإثنين, 13 تشرين1/أكتوير 2014 06:58

بیت اللہ ! اتحاد امت کی علامت

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض
ووٹ دیں
(0 ووٹ)

بیت اللہ ! اتحاد امت کی علامت

خطبہ:  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض  |  ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے ہمیںہدایت دی، اور کعبہ کو مسلمانوں کیلئے قبلہ بنایا، تمام نعمتوں، بھلائیوں اور فضل و کرم پر میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں، اور شکر بجا لاتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، ہم اسکی الوہیت اور ربوبیت کا بلا شک و شبہ اقرار کرتے ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم اسکے بندے اور رسول ہیں، انہوں نے ہمیں روزِ روشن کی طرح واضح دین پر چھوڑا ،اللہ تعالی ہماری نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ، ان کی آل پر اور صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے دین کا ہر قسم کے غلط پراپیگنڈوں سے دفاع کیا۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی کی نصیحت کرتا ہوں ، فرمانِ باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ

اے ایمان والو! تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران : 102]

کعبہ شریف مسلمانوں کا قبلہ ہے،جو کہ دور دراز کے علاقوں سے رخت سفر باندھنے کیلئے سب سے پہلا گھر ہے، اسے ابراہیم علیہ السلام نے حکم الہی کی تعمیل کرتے ہوئے تعمیر کیا، جس کا تذکرہ اللہ تعالی نے یوں فرمایا:

{وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ}

اور جس وقت ابراہیم ، اور اسماعیل علیہما السلام بیت اللہ کی بنیادیں کھڑی کر رہے تھے" [البقرة : 127]

تو اللہ کی جانب گڑگڑا کر اور کامل خشوع و خضوع کیساتھ اس عمل کیلئے قبولیت کی دعا فرمائی :

{رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ}

ہمارے رب! ہماری کاوش قبول فرما، بیشک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔ [البقرة : 127]

ابراہیم علیہ السلام کی کیفیت پر غور کیجیئے؛ ایک نبی کعبہ بناتے ہوئے بھی اللہ تعالی سے عاجزی کیساتھ قبولیت کیلئے دعا فرماتا ہے، اس لئے ہمارے سارے نیک اعمال بارگاہِ الہی میں قبولیت کیلئے حضور قلبی، اور دعائے خالص کے محتاج ہیں۔

{جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ}

اللہ تعالی نے کعبہ کوحرمت والا گھر، اور لوگوں کیلئے قیام کی جگہ بنایا ہے۔ [المائدة : 97] کعبہ مسلمانوں کیلئے ہر حالت و عبادت کا قبلہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’بیت الحرام زندگی و موت ہر حالت میں تمہارا قبلہ ہے‘‘

مقدس سرزمین کی چاہت ہر مسلمان کے دل کی تمنا ہے، محبت سے تمام لوگ بلد الامین کی طرف کھچتے چلے آتے ہیں، کسی کا اس شہر سے دل نہیں بھرتا، آکر چلے جاتے ہیں، اور پھر دوبارہ آنے کیلئے تیار رہتے ہیں، ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی:

{فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ}

[اے اللہ!] لوگوں کے دلوں کو انکی طرف جھکنے والا بنا دے[ابراہیم : 37]

کعبہ عبادت کرنے اور بار بار آنے کی جگہ ہے؛ جو شخص گناہ کا مرتکب ہوجائے، یا کسی لغزش کا شکار ہوجائے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے، اور قبلہ رخ ہوکر نماز ادا کرے یا حج کرے تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اس کے راستے کو درست کر دیا جائے گااور اپنے گناہوں سے صاف ہوکر ایسے واپس لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے اسے گناہوں سے پاک جنم دیا تھا۔

ابر اہیم علیہ السلام نے اُسی وقت امن وامان کیلئے دعا مانگی، اور امن کے بغیر زندگی میں خوشحالی ممکن نہیں ہے، امان نہ ہو تو ایک گھونٹ پانی نیچے نہیں اترتا، خوف کے پھیلنے سے دنیا میں فساداور زندگی میں کساد آجاتا ہے، اور لوگوں میں دہشت و گھبراہٹ سرائیت کر جاتی ہے، فرمان الہی ہے:

{فَلْيَعْبُدُوارَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ }

اس گھر کے رب کی عبادات کرو، جس نے انہیں بھوک میں کھلایا، اور خوف سے امن بخشا[قريش : 3 - 4]

کعبہ اخوت کیلئے سنگم، اور سلامتی کا سرچشمہ ہے، فرمانِ الہی ہے:

{أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ}

کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا، حالانکہ ان کے آس پاس سے لوگ اُچک لئے جاتے ہیں![العنكبوت : 67]

اتحاد امت کعبہ کے اردگرد طواف کرتے ہوئے عیاں ہوتا ہے، تمام لوگوں کے الفاظ، افعال، اور جذبات عبادات کیلئے متحد نظر آتے ہیں، کہ بیت اللہ کے ارد گرد سب کے دل یکجا ہونے کے بعد بدن بھی قریب ہوجاتے ہیں، حالانکہ سب کی شہریت مختلف، زبانیں الگ، رنگ جدا جدا؛ اسکے باوجود سب ایک ہی قبلہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، تا کہ انکی بات میں یکسانیت، دلوں میں پاکیزگی، صفوں میں اتحاد، اور آپس میں اتفاق نظر آئے، یہ منظر آپکے ذہن میں اتحاد و یکجہتی کا مفہوم نقش کر دیگا، اور ایک ایسی قوم کی حقیقت آشکار کر دیگا جو متذبذب آراء، متضاد افکار، اور بے راہ روی کا شکار ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (میرے بعد کافر مت ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو) بہت ہی امید ہے کہ کعبہ سے لپٹ جانے والے بابرکت مجمعے کے افراد فرقہ واریت، تنازعات، اور اختلافات کو مسترد کردیں۔

صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرے رب نے فرمایا: اے محمد! میں جب فیصلہ کردوں تو اسے رد نہیں کیا جاسکتا ، اور میں نے آپکو آپکی امت کے بارے میں یہ عنائت کردی ہے کہ میں اُنہیں یکبار قحط سالی سے ہلاک نہیں کرونگا، نہ ہی ان پر انکی گردنوں کو حلال جانے والا بیرونی دشمن مسلط کرونگا ، چاہے انکے خلاف سب اتحادی جمع ہوجائیں، یہاں تک کہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو ہلاک کرینگے، اور قیدی بنائیں گے)

چنانچہ یہ امت بیرونی دشمنوں کے غلبے سے اس وقت تک محفوظ رہے گی جب تک اس میں اتحاد ہوگا، یہاں تک کہ خانہ جنگی میں مبتلا ہوکر ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے گی، پھر بیرونی دشمن ان پر مسلط ہو کر اسکی حرمت پامال کردیگا۔

تاریخ بتلاتی ہے کہ جب بھی امت صراط مستقیم سے روگرداں ہوئی تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل اورظلم کا نشانہ بنانے لگے، اور امت داخلی قتل و غارت میں جکڑ گئی؛ تو امت کا رعب جاتا رہا، دشمن اس پر غالب ہوگیا، امت کی بنیادیں کھوکھلی ہوگئیں، اور ذلت، پستی، اور برے نتائج کا اسے سامنا کرنا پڑا، فرمانِ الہی ہے:

{وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ}

اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو، آپس میں تنازعات مت ڈالو، وگرنہ تمہاری ہوا تک اکھڑ جائے گی۔ [الأنفال : 46]

اسلامی بھائیو!

کعبہ زمین کا مرکز ہے، اللہ نے فرمایا:

{لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا}

تا کہ آپ ام القری [مکہ] والوں اور اسکے اردگرد رہنے والوں کو ڈرائیں۔[الشورى : 7]

چنانچہ روئے زمین پر تمام لوگ کعبہ کے ارد گرد ہیں، تا کہ امت اس محکم مرکز کو اپنی زندگی کیلئے محور بنائیں، اسی جگہ سے یہ سیکھیں کہ انکا منہج مضبوط ہے، انکے اصول و ضوابط ٹھوس ہیں، انکا سر چشمہ خالص ہے، اور انکے اہداف بھی واضح ہیں، یہ تمام مفاہیم پوری امت ہر روز اپنے ذہن میں تازہ کرے، بلکہ ہر نماز کے وقت جب بھی بیت اللہ رخ ہونے لگیں تو یہ مفاہیم اپنے ذہن میں بٹھائیں ۔

کعبہ مسلمانوں کا قبلہ ہےیہ نظریہ اس امت کیلئے غلبہ ، عزت، اور بلند ہمتی کا باعث ہے؛ کیونکہ اس امت میں قیادت و سیادت کی صلاحیت ہے، اس امت کے اپنے نظریات، اصول و ضوابط، اور منہج ہے، لیکن جس وقت اس کے تشخص میں مذکورہ اشیاء کا فقدان ہوگا تو یہ غلام بن کر زندگی گزارتی ہے؛ آقا بن کر نہیں، اسکی راہنمائی لوگ کرتے ہیں، یہ لوگوں کی راہنمائی نہیں کرتی۔

کعبہ اللہ کی طرف سے بابرکت جگہ ہے، فرمانِ الہی ہے:

{إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ}

بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کیلئے مکہ شہر میں بنایا گیا وہ بابرکت، اور جہان والوں کیلئے باعث ہدایت ہے [آل عمران : 96]

اس کی برکت ہی کی وجہ سے اللہ نے فرمایا:

{ يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا }

اسی مکہ کی جانب ہر قسم کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں، جو ہماری طرف سے عنایت کردہ رزق ہے۔[القصص : 57]

اس کی برکت ہی کی وجہ سے یہاں ہمیشہ عبادت ہوتی ہے، نیکیوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے، بھلائی بڑھتی جاتی ہے، اور گناہ دھلتے چلے جاتے ہیں، اللہ تعالی نے فرمایا:

{وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ}

انہیں بیت عتیق کا طواف کرنا چاہے۔[الحج : 29]

بیت اللہ کو "عتیق" اس لئے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے قیامت تک کیلئے بیت اللہ کو کفار، اور جابروں کے تسلط سے آزاد فرما دیا ہے۔

کعبہ میں حجر اسود بھی ہے جو کہ جنت سے نازل ہوا، یہ پتھر کسی قسم کا نفع و نقصان نہیں دے سکتا، اور لوگ اس بات سے آگاہ ہیں کہ حجر اسود کو بوسہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں دیا جاتا ہے، آپ ہی نے اس پتھر کے بارے میں فرمایا: (اللہ تعالی قیامت کے دن اس پتھر کو دیکھنے کیلئے دو آنکھوں اور بولنے والی زبان کیساتھ اٹھائے گا، جن سے وہ حق کیساتھ استلام کرنے والوں کی گواہی دے گا)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے بارےمیں خبر دی ہے کہ: (ایک لشکر کعبہ پر لشکر کشی کریگا، چنانچہ جب وہ "بیدا" جگہ پر ہونگے تو اول تا آخر سب کو زمین بوس کردیا جائے گا) عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: میں نے کہا: اللہ کے رسول! اول تا آخر سب کو زمین بوس کیوں کیا جائے گا!؟ ان میں زبردستی لائے جانے والے ، اور نظریات میں انکے مخالفین بھی ہونگے؟ آپ نے فرمایا: ’’اول تا آخر سب کو زمین بوس کیا جائے گا، پھر انہیں انکی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ ’’ (بخاری)

اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، وہی بدلے کے دن کا مالک ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے ، وہی اول و آخر سب مخلوقات کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اسکے رسول، اور متقی لوگوں کے ولی ہیں، اللہ تعالی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اور ان کی آل پر، تمام صحابہ کرام پر رحمت نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں۔

جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’دنیا میں افضل ترین ایام عشرہ ذوالحجہ کے دن ہیں‘‘ کہا گیا: [جہاد]فی سبیل اللہ میں بھی ایسے دن نہیں ہیں؟ آپ نےفرمایا: ([جہاد] فی سبیل اللہ میں بھی ایسے دن نہیں ہیں، الا کہ کوئی شخص اپنے چہرے کو خاک آلود کر لے[یعنی: شہید ہوجائے] (بزّار، ابن حبان)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: ’’کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل ذو الحجہ کے ان دس دنوں میں کئے ہوئے اعمال سے بھی افضل ہو‘‘ کہا گیا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا:’’جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، الا کہ کوئی شخص اپنی جان و مال لیکر نکلا اور ان میں سے کچھ بھی واپس نہ آیا‘‘۔(بخاری)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ:’’اللہ کے ہاں کوئی دن ایسا نہیں ہے جو ذو الحجہ کے ان دس دنوں سے زیادہ عظیم ہو اور کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو ان دس دنوں میں کئے ہوئے اعمال سے زیادہ محبوب ہو، اس لئے ان دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، اور الحمد للہ کا ورد کرو۔‘‘( احمد)

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود وسلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتابِ عزیز میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے:

’’إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ‘‘

اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ [الأحزاب: 56]

یا اللہ! محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ان کی اولاد اور ازواج مطہرات پر رحمت و سلامتی بھیج، جیسے کہ تو نے ابراہیم کی آل پر رحمتیں بھیجیں، اور محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر برکتیں نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، علی ، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہوجا، یا اللہ! اپنے رحم و کرم اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا، یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، اور کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور سارے اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہمیں اپنے اپنے ممالک میں امن وا مان نصیب فرما، اور ہمارے ساتھ ہمارے حکمرانوں کی بھی اصلاح فرما۔

یا اللہ! جو بھی ہمارے یا اسلام کے بارے میں برے عزائم رکھے یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اسکی چالوں کو اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا اللہ! جو بھی ہمارے یا اسلام کے بارے میں برے عزائم رکھے یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اسکی چالوں کو اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اور ہمیں ہر ایسے قول و فعل کی توفیق دے جو ہمیں جنت کے قریب کر دے، یا اللہ ہم جہنم کی آگ سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اور ہر ایسے قول و فعل سے بھی جو ہمیں جہنم کے قریب کرے۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لئے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے انتہا تک ، اول سے آخر تک ، ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھے سے ہدایت ، تقوی، پاکدامنی، اور تونگری کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کوغلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا، تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے، ہماری زبان کی حفاظت فرما، اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں ختم کر دے۔

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، اور تمام مریضوں کو شفا یاب فرما، ہمارے دکھ درد، اور تکالیف کو دھو ڈال، یا رب العالمین۔

بقيه: بيت الله -- - اتحاد امت كي علامت

یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، اور اسکو اپنی راہنمائی کے مطابق توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے، یا اللہ ! ‏انکے نائب کو بھی اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے۔

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو نفاذِ شریعت کو توفیق عطا فرما۔

یااللہ! اپنے گھر کے حجاج کرام کی حفاظت فرما، یااللہ! اپنے گھر کے حجاج کرام کی حفاظت فرما، یااللہ! اپنے گھر کے حجاج کرام کی حفاظت فرما،یا اللہ! انہیں ہر ‏قسم کے شر اور گناہوں سے محفوظ فرما، یا اللہ! انہیں اپنے اپنے علاقوں میں سلامتی ، نیکیوں ، اور مقبول حج کیساتھ واپس لوٹا، یا ارحم الراحمین!‏

یا اللہ! تمام حجا ج کا حج مبرور بنا، انکی جد و جہد کو قبول فرما، اور انکے گناہوں کو معاف فرما، اور انکے تمام نیک اعمال کو مقبول، اور مبرور بنانا، یا ارحم الراحمین!‏

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

‏ ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے ‏‏[الأعراف: 23] ‏

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ‏

اے ہمارے پروردگا ر! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں , ان کے لیے ‏ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے , اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے [الحشر: 10] ‏

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ‏

ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]‏

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ اللہ ‏

تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت ‏کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]‏

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی چیز ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے ‏تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

ملاحظہ کیا گیا 7685 بار آخری تعدیل الإثنين, 10 تشرين1/أكتوير 2016 21:50

جدید خطبات

خطبات

  • نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    ﷽ فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 30 -شعبان-1438  کا خطبہ جمعہ  بعنوان " عبادات کا مہینہ ماہ رمضان" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ انسان نیکی کرے یا بدی اس کا نفع یا نقصان صرف انسان کو ہی ہوتا ہے وہ اپنی بدی سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، چنانچہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے خصوصی فضیلت بخشی  اور اس ماہ میں تمام تر عبادات یکجا فرما دیں ، اس مہینے میں نماز، روزہ، عمرے کی صورت میں حج اصغر، زکاۃ ، صدقات و خیرات اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت میں خصوصی دروازہ ہے اور ہر نیکی کا بدلہ اس کی نوعیت کے مطابق دیا جائے گا بالکل اسی طرح گناہ کا بدلہ بھی اسی کے مطابق ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ: آپ ﷺ شعبان کے آخر میں رمضان کی خوشخبری دیتے تھے، نیز رمضان سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ   اور حقوق العباد کی ادائیگی استقبالِ رمضان میں شامل ہے، نیز روزے کے دوران جس قدر مختلف نیکیاں قیام، صیام، صدقہ، خیرات، غریبوں کی مدد، کسی کا ہاتھ بٹانا وغیرہ کی جائیں تو ان…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 16-شعبان- 1438  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "شکر،،، نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  کہا کہ شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ اور دوام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق شکر گزاروں کو مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، انہوں نے کہا کہ نعمتوں کا صحیح استعمال  اور گناہوں سے دوری  دونوں کا نام شکر ہے، اگر اللہ کی نعمتوں پر تکبر اور گھمنڈ کیا جائے تو یہ صریح ناشکری ہے اور نعمتوں کے زائل ہونے کا پیش خیمہ ہے، کسی فاسق و فاجر کو نعمتیں حاصل ہوں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور اللہ تعالی ڈھیل کو اچانک ختم   فرماتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرعی احکامات سے بچنے کیلیے حیلے بہانے تلاش کرنا فاسق لوگوں کا وتیرہ ہے، جبکہ مومن  کا اخلاق اس سے کہیں بلند ہوتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قناعت پسندی شکر گزاری کا سبب بنتا ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہ ہو تو وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے،  آخر میں …
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ﷽ پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • با اثر شخصیت کیسے بنیں؟
    با اثر شخصیت کیسے بنیں؟
    بسم الله الرحمن الرحيم   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں جس نے انسان کو بہترین انداز سے پیدا فرمایا، اسے قوت سماعت و بصارت سے نوازا، میں اسی کا شکر ادا کرتا ہوں اور اسی کی حمد خوانی کرتا ہوں کہ اس نے سورج کو ذاتی روشنی دی اور چاند سے روشنی پھیلائی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی نے مومنوں کو جنت میں جگہ دی اور کافروں کا ٹھکانا جہنم بنایا، میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے  اور رسول  ہیں، آپ نے متبعین سنت کو نہروں والی جنتوں کی راہ دکھائی، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل اور ان صحابہ کرام  پر رحمتیں  نازل فرمائے     ، جنہوں نے مؤثر ترین شخصیات بن کر دکھایا۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم