بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الأربعاء, 30 كانون2/يناير 2013 21:16

" اھل ِشام کی دردمندانہ آہ و بُکا " خلاصہ خطبہ جمعہ

مولف/مصنف/مقرر  امامِ حرم ڈاکٹر صلاح البُدیر ، اردو: شعیب مدنی
ووٹ دیں
(0 ووٹ)

ندائےحرم مسجدِنبوی الشریف

" اھل ِشام کی دردمندانہ آہ و بُکا "

امامِ حرم ڈاکٹرصلاح البُدیرحفظہ اللہ

کامنفرداوردل دہلادینےوالےحقائق پرمشتمل خطبہ جمعہ کا "خلاصۃ"

مکمل  ترجمہ خطبہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

مؤرخہ: 6 ربیع الأول 1434ھ  ، بمطابق: 18جنوری 2013م

مترجم: شعیب اعظم مدنی حفظہ اللہ(فاضل مدینہ یونیورسٹی)

اہل  شام پر ٹوٹتی ہوئی مصیبتیں

(ملک بدر اہلِ شام کی حالتِ زار)

اہلِ شام اپنے ملکِ شام میں ظالموں کی طرف سے  ظلم کی انتہاء، قتل وفساد گری، ہلاکت وبربادی اور  خوف و حراس پھیلانے والے جرائم، اچانک خون ریزی، سختی، مصائب اور جنگوں کی تباہی سے  اپنی جانیں بچاکرسٖخت سردی کے موسم میں بھوک کی شدت سے نڈھال ہوکر ،پناہ گاہوں کی تلاش میں ،موت سے بچنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔موت کےخطروں سے بچنے کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ نہ رہنے کو گھر ہیں،اور نہ ہی پہننے کو کپڑے، صرف چندخیمے ہیں  جنہیں تند وتیز ہوائیں اُکھاڑ پھینکیں اور سیلاب بہا لے جائے۔

ہماری ذمہ داریاں

۞ ان پر دست شفقت رکھنااور انہیں ظلم سے نکالنا ۞ ان کی رہائش،کپڑے ، غذا اور دوا کا بندوبست  کرنا

۞ ہرطرح سے ان کی معاونت و مدداور ان کی غم خواری کرنا ۞ ان کے لئےہمہ وقت  دعائیں کرنا

ہماری کوتاہیاں

ظاہری عیش و آرام اور فخر کے لئے بے جا خرچ کردیتے ہیں۔ گناہوں میں مال لُٹا دیتے ہیں۔ خوشی کے موقعوں پر بہت زیادہ فضول خرچی کرتے ہیں یہاں تک کہ غم کے موقعہ پر بھی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لئے مال ضائع کرتے ہیں۔جبکہ  دوسری طرف مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اور مائیں ،بہنیں  مدد کے لئے پکار رہی ہیں،بچے چیخ رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ۔

خوش نصیب

۞ کسی کی مصیبت دور کرنے سے اللہ آپ کی مصیبت دور فرمائے گا (ابوداود)۔

۞ کسی کی مدد کرنے سے اللہ آپ کی مدد کرے گا (بخاری و مسلم) ۞ صدقہ رب کے غصہ کو مٹا دیتا ہے (ترمذی)

۞ لہٰذا مصیبت کی اس گھڑی میں اہلِ شام کی مدد کیجیے

بدنصیب :

وہ شخص مو من نہیں جو  اپناتو پیٹ بھر لے اوراُس کا  پڑوسی (neighbor)  بھوک و پیاس کے عالم میں  ہو (حاکم)

(تمام اہلِ ایمان ایک جسم کی مانند ہیں ،جیسے سم کے کسی ایک حصہ میں تکلیف ہو توجسم کے دیگر حصے بھی سکون محسوس نہیں کرتے (ویسے ہی ب ایک مسلم تکلیف میں ہو تو دیگر  مسلمان بھی تکلیف میں رہتے ہیں) اور وہ بد نصیب مسلم ہے جو اپنے دوسرے مسلمان بھائی کا دُکھ محسوس نہ کرے)

ظالموں کی حقیقت:

دشمنانِ اسلام زہریلے اور چِتکَبرےسانپ ہیں ۔ ان سے  امن وسلامتی کی توقع  اور وعدہ نبھانے کی امید نہیں کی جاسکتی۔

مسلمانوں کے خلاف (تمام اہلِ کفر اور اُنکے معاونین )سب ایک ہوچکے ہیں۔

مظلوموں کے لئے دعائیں

یا اللہ! تمام مظلوم اہلِ شام کی  مدد فرما۔

ان کے مقتولین کو شھادت کادرجہ عطا فرما۔  زخمیوں کو شفا عطا فرما۔خواتین کی عزت و آبرو کی حفاظت فرما۔ الٰلہم آمین

ظالموں پر بددعائیں

یااللہ! تمام ظالموں کو نیست و نابودکردے۔ان کے لشکر کو انہی کے اسلحہ سےتباہ کردے۔  مجاہدوں کے ہاتھ   ان کی موت لکھدے۔  ان پر زلزلہ طاری فرما۔انہیں اپنے شدید عذاب میں مبتلا کردے۔ الٰلہم آمین

***

ملاحظہ کیا گیا 3340 بار آخری تعدیل الإثنين, 10 تشرين1/أكتوير 2016 21:52

جدید خطبات

خطبات

  • سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    پہلا خطبہ یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں سیدنا محمد  -ﷺ-اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی  اور امت کی مکمل خیر خواہی فرمائی، نیز  راہِ حق میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    ﷽   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے  ہیں، اسی نے اپنے بندوں  میں روزی، رزق اور اپنا فیض تقسیم فرمایا، اللہ تعالی نے چوری حرام قرار دی اور اس پر چوروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر فرمائی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک  نہیں  ، اسی کا فرمان ہے: {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ} تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گا۔ [النحل: 96]، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا گیا۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر  اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک آفتاب  طلوع ہوتا رہے اور سورج کی روشنی چمکتی رہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! اللہ سے ڈرو، کہ تقوی الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اس کی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ایسے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے17-ذوالحجہ-1438  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں"نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے سعادت حج پانے والوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور عبادت کی قبولیت کیلیے جد و جہد از بس ضروری ہے، چنانچہ عدم ایمان کے باعث کافر اور منافق کا کوئی بھی عمل  آخرت میں فائدہ نہیں دے گا البتہ انہیں دنیا میں پورا بدلہ دے دیا جائے گا،  عمل کی قبولیت کیلیے اخلاص اور اتباعِ سنت  لازمی امور ہیں،  اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کا مقصود  اور مطلوب صرف رضائے الہی ہو ، جس کیلیے نیت  بنیادی کردار کی حامل ہے؛ کیونکہ نیت کی وجہ سے چھوٹا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: تقوی، تسلسل کے ساتھ نیکیاں، نیکی کیلیے دلی رغبت، نیکی پر ثابت قدمی اور انسانی اعضا کا صحیح سلامت رہنا نیکی قبول ہونے کی علامات میں سے ہیں،  اگر انسان کو عبدیت کی حقیقی معرفت مل جائے تو اسے اپنی ساری زندگی کی عبادات بھی ہیچ نظر آئیں اسی لیے تو…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    پہلا خطبہ: یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور  بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقہ ڈور، خلوت اور جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان  اور نگران سمجھو۔ مسلمانو! اللہ تعالی صفاتِ جلال اور جمال سے موصوف ہے۔ اس کی ذات، اسما، صفات اور افعال سب ہی کامل ترین ہیں۔ اس کا کوئی ہم نام یا ہم سر نہیں ، اس کی کوئی شبیہ یا اس کا کوئی ثانی نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟۔ پہلا خطبہ تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کیلیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اسی میں سعادت مندی اور خوشحالی پنہاں ہے۔ اللہ کے بندو! ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کیلیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کیلیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم