بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 31 كانون2/يناير 2013 18:48

" اھل ِشام کی دردمندانہ آہ وبُکا " مکمل ترجمہ خطبہ

مولف/مصنف/مقرر  امام حرم ڈاکٹر صلاح البدیر ، اردو: شعیب مدنی ، مراجعه: حافظ حماد چاؤلہ
ووٹ دیں
(0 ووٹ)

ندائےحرم مسجدِنبوی الشریف

" اھل ِشام کی دردمندانہ آہ وبُکا "

امامِ حرم ڈاکٹرصلاح البُدیرحفظہ اللہ

کادل دہلادینےوالےحقائق پرمشتمل خطبہ جمعہ کا "مکمل اردو ترجمہ"

 

مؤرخہ: 6 ربیع الأول 1434ھ ، بمطابق: 18جنوری 2013م

مترجم: شعیب اعظم مدنی حفظہ اللہ(فاضل مدینہ یونیورسٹی)

امام حرم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صلاح البدیر حفظہ اللہ نے خطبہ جمعہ اس موضوع پر دیا: ’’ اہلِ شام کی دردمندانہ آہ و بُکا‘‘۔

جس میں انہوں نے سوریا (شام ) سے ملک بدر ہوکر مختلف ممالک میں ٹھوکریں کھاتے اور پناہ تلاش کرتے ہوئےہمارے (مسلمان) بھائیوں کی حالتِ زار کا تذکرہ کیا۔اور جن مصائب کا وہ شکار ہیں جیسے: سردی،بھوک،بیماری وغیرہ ان کے بارے میں بھی گفتگو فرمائی۔اور جو مسلمان اللہ کی رضا کے لئے اپنے ان بھائیوں تک اخراجات بھیج کر انکی مدد کر سکتے ہیں انہیں اس کی ترغیب دلائی ہے۔

پہلا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے،ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو مظلوموں کی مدد کرنے والا ہے، اورسرکش ظالموں کو نیست و نابود کرنے والا ہے،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں۔

اوراُسی کا مبارک فرمان ہے:

وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ [القصص: 5]،

ترجمہ: پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بیحد کمزور کر دیا گیا تھا، اور ہم انہیں کو پیشوا اور (زمین) کا وارث بنائیں ۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور سچے امانت دار رسول ہیں۔اللہ ان پر اور ان کے صحابہ پر قیامت تک رہنے والی رحمتیں اور سلامتی بھیجے۔

أما بعد:

اے مسلمانو:

اللہ سے ڈرو؛ اللہ کا ڈر ہی سب سے بڑا مددگار ہے،اور سب سےزیادہ نبھانے والا حمایتی ہے،

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ [آل عمران: 102].

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے ، دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔

اہل شام پر ٹوٹتی ہوئی مصیبتیں

اے مسلمانو!

اس روئے زمین پر ٹھوکریں کھانے والے(مسلمان) ظلم و ستم کا شکار ہونے کی (واضح)تصویر ہیں ،سختیاں جھیلنے کی کھُلی کتاب ہیں،انہیں (اپنے گھروں اور ملکوں سے) نکال کر بھگادیا گیا، جنگی تباہی،لڑائیوں ، سختیوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنےسے جان بچاکر بھاگتے ہوئے پناہ گاہوں کی تلاش میں در بدر پھررہے ہیں،

با عزت و کرم والے اور ظلم و ستم کا انکار کرنے والے ملکِ شام اور دیگر ممالک میں خیانت کرنے والے ظالموں کی طرف سے ظلم کی انتہاء، قتل، ہلاکت اور اچانک خوف و حراس پھیلانے والے جرائم کی وجہ سے (وہ لوگ) اپنے گھروں اور شہروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔

ملک بدر اہل شام کی حالتِ زار:

ان کی حالت یہ ہوگئی کہ کھلے میدان میں رہ رہیں ہیں،نہ رہنے کے لئے ان کے پاس گھر ہیں،اور نہ ہی پہننے کو کپڑے، سوائے ایسے خیموں کے جنہیں ہواپھاڑ دے اور تیز ہوائیں اُکھاڑ پھینکیں اور سیلاب بہا لے جائیں۔سختی، تکلیف،خوف، ہلاکت اور موت کی بو سےغبار آلود اس وقت میں بھوک کی شدت ،سخت سردی اور موت کےخطروں سے بچنے کی تدبیریں کر رہے ہیں۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی مصیبتوں کو دور فرمائے، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی مصیبتوں کو دور فرمائے، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی مصیبتوں کو دور فرمائے، اور ان کے دشمن کو نیست و نابود کرے۔

ہماری ذمہ داریاں

اے مسلمانو:

اگر طاقت ہو تو(مظلوموں کی) مدد ضروری ہے،تو آپ سب ان کے معاون،مددگار اور غم خوار بن جائیں۔(مظلوموں پر)خرچ کرنے والے اور دینے والے بنیں۔اور الگ رہنے والے،پیچھے ہٹنے والے اور دیر کرنے والوں میں شامل نہ ہوں۔

شفقت،صدقہ اور نیکی کرنے والے بنیں۔ان لوگوں میں سے نہ ہوجائیں جوسخاوت کو ناپسند کرتے ہیں اور (مظلوموں کی) پکار کو بوجھ سمجھتے ہیں اور (مظلوموں کی ) امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

ان کو امداد دیجئے اور ان کی معاونت کیجئے اور ان کی مدد کریں اور ان کو مال دار کردیں۔اور انہیں بے یار و مددگار نہ چھوڑیں اور انہیں رسوا نہ کیجئے۔

ہمیشہ کی خوش نصیبی:

ابو داود کی حدیث ہے:

عن أبي هريرة - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «من نفَّسَ عن مُسلمٍ كُربةً من كُرَب الدنيا نفَّسَ الله عنه كُربةً من كُرَب يوم القيامة، ومن يسَّرَ على مُعسِرٍ يسَّرَ الله عليه في الدنيا والآخرة، ومن سترَ على مُسلمٍ ستَرَه الله في الدنيا والآخرة، واللهُ في عون العبدِ ما كان العبدُ في عون أخيهِ»؛ أخرجه أبو داود.

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان سےدنیا کی کسی ایک مصیبت کو دور کرے گا تو اللہ اس سے قیامت کی ایک مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی تنگ دست کو آسانی فراہم کرے گا تو اللہ اس کے لئے دنیا اور آخرت میں آسانی فراہم کرے گا۔اور جو شخص کسی مسلمان (کے گناہ ) پر پردہ ڈالے گا تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس(کے گناہوں) پر پردہ ڈال دے گا۔اور اللہ بندے کی مددمیں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا ہے۔سنن ابو داود۔

بخاری و مسلم کی حدیث ہے:

وعن ابن عمر - رضي الله عنهما - أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «من كان في حاجةِ أخيه كان الله في حاجته»؛ متفق عليه.

ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اپنے بھائی کی حاجت (کو پورا کرنے ) میں لگا ہوتا ہے اللہ اس کی حاجت (کو پورا کرنے) میں ہوتا ہے۔

خوشخبری:

اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو ملک سے دربدر ہوکر پناہ تلاش کرنے والوں اور ٹھوکریں کھانے والوں کو (رہنے کے لئے ) رہائش، (پہننے کے لئے) کپڑے،(اوڑھنے کے لئے) چادر، غذا، دوا یا پانی پہنچا کر اللہ کی رضا کے لئے مدد کرے، کسی دنیاوی وقتی فائدے اور لالچ کی نیت نہ ہو۔

بدبخت انسان:

اس سے زیادہ سخت دل اور کنجوس (بخیل) کوئی نہیں ہوسکتا جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو، اور وہ اپنے گھر میں رہے اور اس کا (مسلمان) بھائی در بدرپھررہا ہو۔

حدیث میں آتا ہے:

فعن ابن عباس - رضي الله عنها - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «ليس المُؤمنُ الذي يشبَعُ وجارُه جائعٌ إلى جنبه»؛ أخرجه الحاكمُ، وصحَّحه الذهبي.

ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے،وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

وہ شخص مو من نہیں جو پیٹ بھر لے اور پڑوس میں اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔اس حدیث کو حاکم نے روایت کیا ہے اور امام ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔

ہماری کوتاہیاں

فضول خرچ کرنے والو!

اے لوگوں! تم نے کھیل کود،بے جا فخر(تکبر) ،فضول خرچی،فجور(گناہ کے کاموں) اور خوشیوں(یا غموں) کے موقعوں پر بہت سارا مال لُٹا دیا ہے! عزت و جلال والے اللہ سے ڈرو، اور اس کی ناراضگی واقع ہونے اور عافیت کے پلٹ کر چلے جانے سے بچو،اور ہوش میں آؤ تمہارے بھائی دشمن کے گھیرے میں پریشان ہیں،ہلاکت نے انہیں لپٹا ہوا ہے،ان کے (باعزت)بزرگ مدد مانگ رہے ہیں اور بچے چیخ رہے ہیں۔

تو انکی مدد کے لئے تیار ہوجائیں اور انکی غم کساری کے لئے مال خرچ کریں تاکہ ان کی مصیبت ختم ہو اور سختی دور ہو۔

جامع ترمذی کی حدیث ہے:

عن أنسٍ - رضي الله عنه - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «الصدقةُ تُطفِئُ غضبَ الرَّبِّ»؛ أخرجه الترمذي.

ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: صدقہ رب کے غصہ کو بجھا دیتا ہے۔ترمذی

جو میں کہہ رہا وہ آپ سن رہے ہیں ۔اور میں اللہ سےاپنے لئے اور آُ پ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے ہر گناہ اور خطا کی مغفرت مانگتا ہوں۔اور آپ بھی اس سے مغفرت مانگیں،مغفرت مانگنے والے تو کامیاب ہوگئے اور توبہ کرنے والوں نے ہی فائدہ حاصل کیا۔

دوسرا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے اس کی بھلائی پر، اور اسی کا شکر اسکی توفیق اور احسان پر،اور اللہ کی شان کی تعظیم کرتے ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جو اس کی رضامندی کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔اللہ ان پر اور ان کے آل پر اور انکے صحابہ پر اور انکےبھائیوں پر بے شماررحمتیں اور بہت ہی زیادہ سلامتی نازل فرمائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ [التوبة: 119].

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالٰی سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو ۔

ظالموں کی حقیقت:

اے مسلمانو:

پردہ ہٹ چکا ہے اور نقاب گِر چکا ہے،زہریلے سانپ باہمی معاہدہ کر چکے ہیں اور دشمن ایک ہوچکے ہیں۔اور چِتکَبرے(مختلف رنگ والے) سانپ سے سلامتی اور حل کی امید نہیں کی جاسکتی،اور خبیث مذھب والے کی خواہش(رجحان) بدبُو دار ہوتی ہے،اس کے پاس کوئی پناہ اور کسی وعدے کی پاسداری نہیں۔

اور جو خون بہانے والا قاتل ہے اسے تو اس کے ظلم کی سزا اور اس کے کئِے (ستم) کا بدلہ مل کر ہی رہے گا۔ اور آپ کا رب اس سے غافل نہیں جو ظالم کر رہے ہیں۔

ظالموں پر بد دعائیں:

اللہ اس کے ایک بال پر (ذرہ برابر) بھی رحم نہ کرے،اور نہ ہی اس کی کسی رگ کو چھوڑے،اور اس کو جلد ہی ہلاک کرے، اور اس کا کندھا (موت) مجاہدوں کے ہاتھوں دے،اور اسکی بادشاہت،اسکی جماعت اوراس کے لشکر کوٹکڑے ٹکڑے کردے۔اللہ کی مدد قریب ہے اور مشرکوں کی امیدیں خاک میں ملنے والی ہیں۔

نبی کریمﷺپر درود و سلام:

سب سے بہترین مخلوق پردرود و سلام بھیجیں؛ اور جو شخص نبی ﷺ پر ایک درود بھیجتا ہےتو اللہ اس پر اس (ایک درود )کے بدلے دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔

یا اللہ!

اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما،

یا اللہ!سنت نبوی پر عمل کرنے والے چاروں خلفاء ’’ابو بکر، عمر، عثمان، علی ‘‘ اور دیگر تمام صحابہ سے بھی راضی ہوجا۔اورجو لوگ ان کی پیروی کریں قیامت تک ان سے بھی راضی ہوجا۔اور ان کے ساتھ ساتھ اپنے احسان، کرم،سخاوت اور بھلائی سے ہم سے بھی راضی ہوجا۔

تمام مسلمانوں اور خصوصاً اہل شام کے لئے دعائیں:

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔اور شرک اور مشرکوں کو رسوا کردے۔اور شام کے مجاہدوں کی مدد فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے پروردگار! شام کے مجاہدوں کی مدد فرما۔

یا اللہ! ان کے مقتولین کی شھادت قبول فرما ۔اے دعا کو ہر وقت سننےوالے! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے پروردگار! کمزوروں، مصیبت زدگان اور ٹھکرائے ہوئےلوگوں کا مددگار بن جا۔

ظالموں کے لئے بددعائیں:

یا اللہ! ان قاتلوں اور مجرموں کو (اپنے عذاب میں) پکڑلے۔

یا اللہ! یا رب العالمین! ان کو شکست دے اوران پر لرزہ طاری فرما۔ اور انہیں خطرناک طریقہ سے ہلا دے۔

اے اللہ! اےتمام جہانوں کے رب! ان(ظالموں ) کو انہی کے اسلحہ سےہلاک کردے۔اور انہی کی آگ میں انہیں جلا دے۔

اے طاقتور! اے غالب! اےتمام جہانوں کے رب! ان (ظالموں) کی گردنیں(موت) مجاہدوں کے ہاتھوں میں دیدے۔

برما کے لئےدعائیں:

اے اللہ! برمامیں ٹھوکریں کھاتے ہوئے ہمارے بھائیوں کے لئے مددگار بن جا۔

اے اللہ! برمامیں ٹھوکریں کھاتے ہوئے ہمارے بھائیوں کے لئے کافی ہوجا۔

یا اللہ! ان کے کمزوروں پر رحم فرما۔ یا اللہ! ان کے کمزوروں پر رحم فرما۔

اے اللہ! اے تمام جہانوں کے پروردگار! (آج) جس دن مددگار کم ہوگئے ہیں تو انکی مدد فرما۔

حرمین شریفین کے لئے دعائیں:

یا اللہ! یا رب العالمین! حرمین شریفین(دو عزت والے حرم: جہاں بہت سے جائز کام بھی ممنوع ہوتے ہیں ،خاص طور پر احرام کی حالت میں) کے ملک میں امن، فراخی، عزت و سکون ہمیشہ قائم فرما۔.

یا اللہ! ہمارے امام اور امیر خادم حرمین شریفین کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو راضی اور خوش ہوتا ہے۔اور ان کی پیشانی پکڑ کر نیکی اور تقوی کی طرف لے جا۔

اے رب العالمین! انہیں صحت وعافیت کا لباس پہنادے۔ اور انکی اور انکے وزیر کی حفاظت فرما۔

اے تما م جہانوں کے رب! ان کے ذریعہ دین کو عزت عطا فرما۔

یا اللہ! یا رب العالمین! تمام مسلم ممالک میں امن و سکون اور کشادگی عطا فرما۔

اے اللہ! اے تما جہانوں کے رب! ہمارے مریضوں کو شفا عطا فرما۔اورآزمائش میں مبتلاء لوگوں کو سلامتی عطافرما۔اور ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما۔اور ہمارے قیدیوں کو رہائی نصیب فرما۔اور ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

[النحل: 90].

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالٰی سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو ۔

اور اللہ کا ذکر کرو جو عظمت وجلال والا ہے وہ تمہارا ذکر کرے گا۔اور اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید (نعمتوں سے) نوازے گا۔اور اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے۔اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔

***

ملاحظہ کیا گیا 6805 بار آخری تعدیل الإثنين, 10 تشرين1/أكتوير 2016 21:53

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم