بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الإثنين, 29 نيسان/أبريل 2019 12:10

بری مجلس میں شرکت

مولف/مصنف/مقرر  ، جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

 

پہلا خطبہ:

اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

مسلمانو!

نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔

 إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا

أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ مِنْ بَوَادِيْهَا

لیلی اور اس کی پڑوسن سے سلامتی اسی میں ہے کہ تم ان کے علاقے کی کسی وادی سے بھی مت گزرو

دل بہت کمزور ہوتے ہیں۔ کسی کی مشابہت اپنانے سے انسان ویسا ہی بن جاتا ہے، فتنے ٹھاٹھے مار رہے ہیں۔ صاحب بصیرت انسان ایسے لوگوں کی مجلس میں جانے سے اجتناب کرتا ہے جو دلوں کو بیمار کر دیں اور ایمان بگاڑ دیں۔ بصیرت رکھنے والا انسان فتنے میں مبتلا گمراہ لوگوں سے خبردار رہتا ہے، جو کہ صحیح عقیدے سے بھٹک چکے ہوں، جو لوگ اچھے اور پر وقار کاموں اور مسلمانوں کی اخلاقیات سے دور ہو چکے ہوں۔

إِذَا أَنْتَ لَمْ تَسْقَمْ وَصَاحَبْتَ مُسْقَمًا

وَكُنْتَ لَهُ خِدْنًا فَأَنْتَ سَقِيْمٌ

اگر تم بیمار نہ بھی ہوں ؛ لیکن بیمار سے دوستی لگا کر تم اس کے یار بن گئے تو تم بھی بیمار ہو چکے ہو

 اگر کوئی لوگوں کی کسی مجلس میں بیٹھا ہو اور وہاں کوئی نافرمانی ، یا بدعت پر عمل کیا جا رہا ہو تو ایسے میں اس پر حکمت اور اچھے انداز کے ساتھ انہیں غلطی سے روکنا واجب ہو جاتا ہے، اسے چاہیے کہ انہیں بہترین انداز اور حق واضح کر دینے والے دلائل کے ساتھ نصیحت کرے تا کہ ان کے شبہات زائل ہو جائیں۔ اور اگر اس شخص نے انہیں ٹوکنے کی استطاعت کی باوجود نہیں ٹوکا تو وہ بھی گناہ میں شریک ہو گا؛ لیکن اگر اس میں ٹوکنے کی بھی سکت نہ ہوئی تو اس پر ان کی مجلس سے اٹھ جانا لازم ہے؛ کیونکہ کسی کی صحبت اور کسی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا؛ الفت ، میلان اور غلطیوں سے چشم پوشی کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات دل میں ایسی مودت کا باعث بھی بن جاتے ہیں جو انسان کو آزمائش میں ڈال کر رہتی ہے۔

جیسے کہ عمرو بن قیس کہتے ہیں: "گمراہ کی مجلس میں مت بیٹھو؛ مبادا تمہارا دل بھی گمراہ ہو جائے"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا} اور تم پر اللہ تعالی نے کتاب میں نازل کر دیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ بھی مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور گفتگو میں محو ہو جائیں، وگرنہ تم بھی انہی میں سے ہو جاؤ گے، بیشک اللہ تعالی سب منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ اکٹھے کرنا والا ہے۔[النساء: 140]

امام طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: "اس آیت میں واضح طور پر بدعتی اور فاسق ہمہ قسم کے اہل باطل کے ساتھ بیٹھک کی ممانعت ہے کہ جب وہ اپنے باطل کا تذکرہ کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ مت بیٹھو"

اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: " کسی کیلیے بھی اپنی مرضی سے اور بغیر ضرورت کے گناہوں کی مجالس میں شریک ہونا جائز نہیں ہے؛ جیسے کہ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو وہ ایسے دستر خوان پر مت بیٹھے جہاں شراب پی جا رہی ہو ) ایسے ہی سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تک یہ بات پہنچائی گئی کہ :"کچھ لوگ شراب نوش ہیں تو انہوں نے انہیں کوڑے مارنے کی سزا سنائی ، تو انہیں بتلایا گیا: ان میں ایک روزے دار بھی ہے، تو انہوں نے کہا: سب سے پہلے اسی کو کوڑے مارو؛ کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا: {وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ } اور تم پر کتاب میں نازل کر دیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ بھی مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور گفتگو میں محو ہو جائیں، وگرنہ تم بھی انہی میں سے ہو جاؤ گے۔[النساء: 140]

یہاں سیدنا عمر بن عبد العزیز -اللہ ان سے راضی ہو- نے یہ بتلا دیا کہ اللہ تعالی نے برائی کے وقت حاضر شخص کو بھی برائی کرنے والے کے برابر قرار دیا ہے، اسی لیے علمائے کرام کہتے ہیں کہ: اگر کسی کو کسی دعوت پر بلایا جائے اور وہاں پر شراب نوشی اور موسیقی جیسی خرابی کا اہتمام ہو تو ایسی دعوت میں حاضر ہونا جائز نہیں ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں حسب استطاعت برائی سے روکنے کا حکم دیا ہے؛ لہذا اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے ایسی مجلس میں حاضر ہو اور وہ برائی پر نہ ٹوکے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی؛ اس لیے کہ اس نے برائی سے اظہار نفرت نہیں کیا اور اس سے روکا بھی نہیں حالانکہ اسے برائی سے نفرت اور ٹوکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تو اگر معاملہ ایسا ہی ہے کہ شراب نوشی کی مجلس میں کوئی شخص اپنی مرضی سے ضرورت کے بغیر حاضر ہوا اور اس نے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق برائی پر ٹوکا تک نہیں تو وہ ان فاسقوں کی برائی میں عملاً شریک ہے اور وہ انہی میں جا ملے گا۔" شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول مکمل ہوا

مسلمانو!

اہل بدعت، اہل باطل اور گناہگاروں کی تعداد میں اضافے کا باعث نہ بنو، کبھی بھی تمہارا شمار ان لوگوں میں نہ ہو جو فتنوں میں مبتلا ہیں اور فسادی ہیں۔ جیسے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : " مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکین کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں حاضر ہو کر مشرکوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتے تھے، تو انہی میں سے کسی کو کوئی تیر لگ جاتا اور مشرکوں کے ساتھ آنے والا مسلمان قتل ہو جاتا، یا کوئی مسلمان اس پر وار کر کے اسے قتل کر دیتا تو اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرما دیں: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ} بیشک فرشتے ایسے لوگوں کی روح قبض کرتے ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہوتے ہیں۔ [النساء: 97]" بخاری

لہذا اگر کوئی شخص برائی کی مجالس میں حاضر ہو کر ان سے مانوس ہوتا ہے، ان کی حرکتوں پر خوش ہوتا ہے، یا ان کے کام کو سراہتا ہے، یا ان کے کام کی ترویج کرتا ہے ، یا ان کی تائید کرتا ہے، یا گمراہ ویب سائٹس کی تائید کرتا ہے، یا حیا باختہ ویب سائٹس کے صفحات ، یا دین، اخلاق اور ملکی سالمیت کے خلاف ویب سائٹس کی تائید کرتا ہے، یا ان کو لائک کی علامت دیتا ہے تو وہ بھی ان کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے اور اس کا شمار اُنہی برے لوگوں میں ہو گا۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

ہمہ قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، جو پناہ طلب کرنے والوں کو پناہ دیتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، وہ صحت یابی سے مایوس ہونے والوں کی بھی شفا دیتا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی اُن پر، انکی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،دائمی سلامتی، اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو، اور اللہ تعالی کو اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نا فرمانی مت کرو، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ}اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ [التوبہ : 119]

مسلمانو!

اپنے گناہوں کی تشہیر مت کرو، اپنے گناہوں کا اعلان مت کرو، اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں کو حلال مت جانو۔ متساہل اور نام نہاد فقیہوں کے فتووں سے دھوکا مت کھائیں جو بلا یقین اور پختگی کے بغیر فتوے صادر کرتے ہیں، اور آسانی، وسطیت اور اعتدال کے نام پر پستی کی طرف گرتے چلے جا رہے ہیں!!

اپنے گناہ کو عیاں اور گناہ کی تشہیر کرنے والا شخص پروردگار کو غضبناک کر رہا ہے، وہ اللہ تعالی کی پردہ پوشی ختم کر رہا ہے، ایسا شخص اللہ تعالی کے عذاب کو معمولی سمجھ رہا ہے، اس نے اعلان گناہ کر کے اللہ کے مومن بندوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔

اہل اسلام! اللہ تعالی سے ڈور! فراوانی اور نعمتوں کی بہتات سے دھوکا مت کھانا، اللہ تعالی کی عنایتوں کو اسی کی نافرمانیوں میں استعمال نہ کرو، اپنے گناہوں کا اعلان نہ کرو، اللہ تعالی نے تمہیں فراوانی والی زندگی عطا کی ہے، پینے کیلیے سیراب کرنے والا پانی دیا، حالانکہ تمہارے ارد گرد لوگوں بھوک افلاس اور بے دردی کی موت قتل کر رہی ہے۔

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود و سلام نازل فرما، یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین، تمام صحابہ کرام، اہل بیت اور تابعین و تبع تابعین سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا کریم! یا وہاب!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! دین دشمن قوتوں کو نیست و نابود فرما، اور تمام مسلم ممالک کو مستحکم، مضبوط اور امن و امان کا گہوارہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے کاموں کے لیے رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جس میں اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! سرحدوں پر مامور ہماری افواج اور مجاہدین کو غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! سکیورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! سکیورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں بہترین صلہ اور بدلہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام پریشان مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما، تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، قیدیوں کو رہا فرما، اور ہم پر جارحیت کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، یا کریم! یا رحیم! یا عظیم!

ملاحظہ کیا گیا 668 بار آخری تعدیل الإثنين, 29 نيسان/أبريل 2019 12:14

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم