بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 25 نيسان/أبريل 2019 17:57

شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ

:مقرر/مصنف 

شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے بچو ،  پورے ماہ شعبان میں کوئی خاص عبادت نہیں ہے جو صرف شعبان کے مہینے کے ساتھ مختص ہو، آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے سابقہ رمضان کے روزے رہتے ہیں تو جلد از جلد ان کی قضا دے دے، تاخیر مت کرے۔

پہلا خطبہ

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے شب و روز کو ایک دوسرے کے پیچھے اس کے لیے بنایا جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے یا شکر گزار بننا چاہتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے سورج کو روشن اور چاند کو چمکدار بنایا، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اللہ تعالی نے آپ کو دین و ہدایت دے کر خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، نیز اللہ کے حکم سے اسی کی جانب دعوت دینے والا روشن چراغ بنا یا، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمت نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

سچا ترین کلام اللہ کی کتاب ہے، اور بہترین رہنمائی رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہے، بد ترین امور نت نئے کام ہیں، اور دین میں ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔

اللہ کے بندو!

میں آپ سب اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اولین و آخرین سب کیلیے اللہ تعالی کی یہی تاکیدی نصیحت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور ہم نے تم سے پہلے ان لوگوں کو بھی تاکیدی نصیحت کی جنہیں کتاب دی گئی کہ تم تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131]

مسلم اقوام!

اللہ تعالی کی رحمتیں تلاش کرو، اللہ سے خیر و بھلائی کے بہاریں مانگو، کچھ اوقات فضیلت والے بھی ہیں ان کا خصوصی خیال کرو، یہ اوقات قریب آ گئے ہیں ان کا استقبال کرو، اور انہیں غنیمت سمجھو، یہ رحمت بھرے لمحات آنکھ جھپکنے کی طرح تیزی سے گزر جاتے ہیں۔ ان لمحات کو ضائع کر دینے والے کی زندگی پر افسوس ! اور انہیں حاصل کر کے ان کی قدر کرنے والا سعادت مند ہے۔

فرمانِ باری تعالی ہے: {وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا} اور اسی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا اس شخص کی نصیحت کے لئے جو نصیحت حاصل کرنے یا شکر گزاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہو [الفرقان: 62]

مَضَى رَجَبٌ وَمَا قَدَّمْتَ فِيْهِ

وَهَذَا شَهْرُ شَعْبَانَ الْمُبَارَكُ

رجب گزر گیا، تم نے اس میں کیا نیکی کمائی؟ اور یہ بابرکت ماہ شعبان شروع ہو گیا ہے۔

فَيَا مَنْ ضَيَّعَ الْأَوْقَاتَ جَهْلًا

بِحُرْمَتِهَا أَفِقْ وَاحْذَرْ بَوَارَكَ

اپنے اوقات کو رجب کی حرمت سے لا علمی میں گزارنے والے، بیدار ہو اور اپنی تباہی سے خبردار ہو

فَسَوْفَ تُفَارِقُ اللَّذْاتِ قَهْرًا

وَيُخَلِّيَ الْمَوْتُ كَرْهًا مِنْكَ دَارَكَ

تم عنقریب لذتوں کو جبراً چھوڑ کر چلے جاؤ گے اور موت تم سے زبردستی تمہارا گھر خالی کروا لے گی

تَدَارَكْ مَا اسْتَطَعْتَ مِنَ الْخَطَايَا

بِتَوْبَةِ مُخْلِصٍ وَاجْعَلْ مَدَارَكَ

تم سے جتنا بھی ہو سکے سچی توبہ کے ذریعے اپنی غلطیوں کا مداوا کر لو اور اپنی توجہ مرکوز کر دو

عَلَى طَلَبِ السَّلَامَةِ مِنْ جَحِيْمٍ

فَخَيْرُ ذَوِي الْجَرَائِمِ مَنْ تَدَارَكَ

جہنم سے آزادی کے مطالبے پر؛ کیونکہ بہترین خطا کار وہی ہے جو اپنی کوتاہیوں کا مداوا کر لے۔

اللہ کے بندو!

ماہ شعبان شروع ہو چکا ہے، یہ بھی نیکیوں کی بہار اور فضیلت والا مہینہ ہے، اس ماہ میں بھی رحمتوں کی جستجو جاری رہتی ہے ، اس مہینے میں اعمال اور نیکیاں اللہ تعالی کی جانب بھیجی جاتی ہیں ، چنانچہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: "اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ کو اتنے روزے کسی اور مہینے میں رکھتے ہوئے نہیں دیکھتا جتنے آپ ماہ شعبان میں رکھتے ہیں" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں، اس ماہ میں اعمال رب العالمین کی جانب بھیجے جاتے ہیں، اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے عمل بھیجے جائیں تو میں روزے کی حالت میں ہوں)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: (رسول اللہ ﷺ اتنے [نفل] روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے اب روزے نہیں چھوڑیں گے، پھر آپ اتنے دن تک روزے نہ رکھتے کہ ہم سمجھتے کہ اب [نفل] روزے نہیں رکھیں گے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، اور نہ ہی میں نے انہیں شعبان سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا)

اللہ کے بندو!

شعبان استقبال رمضان کی تیاری کا مہینہ اور عملی میدان ہے؛ کیونکہ انسان کو کسی بھی کام میں عملی مشق، تدریج اور تمہید کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے بلندی اور اونچائی پر جانے کیلیے سیڑھی اور معاون وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، تو ممکن ہے کہ تدریجی اقدامات نہ کرنے کے باعث نفس بے قابو ہو جائے، جسم کمزور ہو جائے اور انسان عبادت میں سستی کا شکار ہو جائے، اس طرح انسان عبادت کی لذت سے محروم ہو جائے گا، اور عبادت کی وجہ سے پیش آنے والی تنگی برداشت نہیں کر پائے گا، اور ایسا بھی ممکن ہے کہ تسلسل کے ساتھ عبادت نہ کر پائے اور اس طرح وہ بہت زیادہ خیر و بھلائی سے محروم ہو جائے۔

چونکہ شعبان کا مہینہ رمضان سے پہلے آتا ہے، اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ رمضان کی کچھ عبادات شعبان میں بھی کرے، چنانچہ شعبان میں روزے رکھنے کا مقام و مرتبہ وہی ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کا ہے ، اس طرح شعبان میں روزے رکھنے سے رمضان کے روزے رکھنے کی تربیت ملے گی جو کہ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے۔

روزہ افضل ترین عبادات اور نیکیوں میں شامل ہے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالی فرماتا ہے کہ: [ابن آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہے سوائے روزے کے؛ کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا]، روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو بیہودہ گفتگو مت کرے، نہ ہی شور مچائے، اگر اسے کوئی گالی دے یا اس سے جھگڑے تو اسے کہہ دے: میرا روزہ ہے)

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے)

ایک اور حدیث میں ہے کہ: (روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی روزہ افطار کرتے وقت، اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت)

مسلم اقوام!

خیر کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، اللہ تعالی کسی بھی ایسے شخص کا اجر ضائع نہیں کرتا جو اچھے انداز سے عمل کرے، نیکیوں کے لیے کسی وقت اور جگہ کی قید نہیں ہے، اسی طرح مختلف اوقات کے اعتبار سے عبادات کی اقسام بھی الگ الگ ہیں، البتہ ماہ شعبان میں کوئی ایسی عبادت نہیں ہے جس کا تعلق خاص شعبان سے ہو، لیکن اس مہینے میں اعمال اللہ تعالی کی جانب بھیجے جاتے ہیں اس لیے آپ ﷺ ماہ شعبان کے روزے دلچسپی سے رکھتے تھے۔

مسلم اقوام!

غفلت بہت بری بیماری ہے، یہ اللہ کی ناراضی اور وبال ہے؛ اس کی وجہ سے انسان کا اپنے رب سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے، اور گناہ کی وجہ سے انسان کو تعلق ٹوٹنے کا احساس تک نہیں ہوتا، بلکہ اپنے گناہ سے بھی باز نہیں آتا، پھر گناہ کرنے کے بعد توبہ بھی نہیں کرتا، نیکی کو نیکی نہیں سمجھتا اور گناہ کو گناہ نہیں کہتا۔ اس کی وجہ سے خیر و بھلائی والے لمحات اور اوقات گزرتے جاتے ہیں لیکن وہ خواب غفلت میں محو ہوتا ہے، آنکھوں سے دیکھتا تو ہے لیکن عبرت حاصل نہیں کرتا، اسے نصیحت تو کی جاتی ہے لیکن باز نہیں آتا، اسے یاد دہانی کروائی جاتی ہے لیکن وہ یاد نہیں کرتا۔

رسول اللہ ﷺ نے ماہ شعبان میں روزے رکھنے ترغیب دلائی کہ بہت سے لوگ اس مہینے میں غافل رہتے ہیں، اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: (یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں)

اپنی خیر خواہی چاہنے والے! امیدوں کو کم کر، غفلت سے بیدار ہو کر موت آنے سے پہلے پہلے حساب کی تیاری کر۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا} اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ ہی مطمئن رکھئے جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں، آپ کی آنکھیں ان سے ہٹنے نہ پائیں کہ دنیوی زندگی کی زینت چاہنے لگیں۔ نہ ہی آپ ایسے شخص کی باتیں مانئے جس کا دل ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے، وہ اپنی خواہش پر چلتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔ [الكهف: 28]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جیسی اس کی شان کے لائق ہوں، درود و سلام ہوں چنیدہ رسول اور نبی پر، آپ کی آل، صحابہ کرام ، ولیوں اور پیروکاروں پر۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کر کے اسے لمبی عمر صرف اسی لیے عطا کی ہے کہ وہ اللہ کی بندگی کے لیے خوب محنت کرے، اور اللہ کی نافرمانی سے بچے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ} میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔[الذاريات: 56]

اللہ تعالی نے بعض اوقات کو دیگر وقتوں پر فضیلت دی ہے، اور پھر ان اوقات میں خیر و برکت کے دریا بہا دئیے ہیں، پھر ان اوقات کے لیے کچھ احکامات ، وظائف اور نیکیاں مقرر فرما دیں، نیز لوگوں کو اس چیز کی اجازت دی کہ وہ ان لمحات میں خیر و بھلائی تلاش کریں، تم ساری زندگی اور سارا سال خیر و بھلائی تلاش کرو، اللہ تعالی کی رحمت کی جستجو میں لگے رہو؛ کیونکہ اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے رحمت نواز دیتا ہے ۔

امت توحید!

شیطان تمہارا دشمن ہے، تم بھی اسے اپنا دشمن سمجھو، اسی لیے شیطان خیر و برکت والے مہینے میں لوگوں کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے کہ انہیں راہ ہدایت سے ہٹا دے، انہیں اللہ تعالی کی رحمت اور مغفرت کے قریب بھی نہ جانے دے، شیطان انہیں اللہ کی بندگی سے روکتا ہے اور انہیں بہت سی خیر بھلائی سے محروم کر دیتا ہے۔

شیطان کچھ لوگوں کو شبہات کے ذریعے گمراہ کرتا ہے تو کچھ کو شہوت کے ذریعے، جبکہ کچھ لوگوں کو بدعات اور نت نئے طریقوں میں ملوث کر کے فتنے میں ڈبو دیتا ہے، اور اس طرح خیر و برکت کا موسم بدعات اور شبہات کی نظر ہو جاتا ہے۔

مسلم اقوام!

{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ} بلاشبہ یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کی امید رکھتا ہو ۔[الأحزاب: 21]

(کوئی بھی کام جس کے بارے میں ہمارے نبی ﷺ کا حکم نہیں تو وہ مردود ہے)

اس لیے سنتوں پر عمل پیرا رہو؛ کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

اللہ کے بندو!

اگر کسی کے گزشتہ رمضان کے روزے رہتے ہیں تو وہ رمضان شروع ہونے سے پہلے ان کی قضا دے دے؛ کیونکہ اب وقت تھوڑا رہ گیا ہے، ویسے مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ قضا دینے میں تاخیر مت کیا کرے۔

نیکیوں کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، نیکی کرنے میں تاخیر مت کریں اور {وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ}اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی جانب دوڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ [آل عمران: 133]

مسلم اقوام!

بیشک اللہ تعالی نے تمہاری جانب افضل ترین کتاب نازل فرمائی، تمہاری جانب اپنا افضل ترین رسول مبعوث فرمایا، دین کو مکمل فرما کر اسے تمہارے لیے پسندیدہ بھی بنایا، بلکہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کر کے اپنی نعمت کو بھی مکمل کر دیا اور اعلان فرمایا: {اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت کامل کر دی اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کر لیا ہے۔[المائدة: 3]

ہم بھی اللہ تعالی کو اپنا رب مان کر ، اسلام کو دین مان کر، اور محمد ﷺ کو اپنا نبی اور رسول مان کر راضی ہیں، ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں دنیا اور آخرت میں کلمے پر ثابت قدم رکھے، ہمیں ظاہری اور باطنی تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے، ہمیں سنت پر عمل پیرا رہنے کی توفیق دے، غفلت اور رسوائی ہم سے موڑ دے، اور ہمیں شعبان میں نیکی کی توفیق دے کر رمضان بھی نصیب فرمائے۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! موحد بندوں کی مدد فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو پر امن اور سلامتی والا بنا۔

یا اللہ! ساری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا اللہ! ساری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں صرف ایسے کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی ہو، جس میں ملک و قوم کی بھلائی ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! جو بھی ہمارے ملک کے خلاف برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، اس کی عیاری اسی کی ہلاکت کا ذریعہ بنا دے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری سرحدوں پر مامور فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کی خصوصی حفاظت فرما، زخمیوں کو جلد از جلد شفا یاب فرما، اور جانثاروں کو شہیدوں میں قبول فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں رمضان نصیب فرما دے، یا اللہ! ہمیں رمضان نصیب فرما دے، اور رمضان میں ہمیں قیام و صیام کی توفیق عطا فرما، اور ہماری ان عبادات کو قبول بھی فرما، یا رب العالمین!

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

اللہ کے بندو!

تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

 

ملاحظہ کیا گیا 578 بار آخری تعدیل الخميس, 25 نيسان/أبريل 2019 17:58

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم