بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الإثنين, 07 كانون2/يناير 2019 16:28

اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت

مولف/مصنف/مقرر  خ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و سخا، صبر شکر ، حلم، رضا ، منکسر المزاج، عفت، شفقت، رحمدلی،نرم مزاجی اور شگفتگی سے بھر پور ہوتا ہے، دوسروں کے کام آتا ہے، اسی طرح وہ اکھڑ مزاج ، لعن طعن ، چیخ و پکار، جلد بازی، بد گوئی ،بخیلی اور لالچ نہیں کرتا، پھر آخر میں کہا کہ حیا ان سب چیزوں کا سنگم ہے، دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ مومن ہمیشہ گھل مل کر رہنے والا ہوتا ہے، پھر رجب کے حوالے سے بتلایا کہ اس ماہ میں خصوصیت کے ساتھ کسی عبادت کی کوئی فضیلت نہیں ہے، اور آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی ۔

پہلا خطبہ

ڈھیروں، پاکیزہ، اور بابرکت تعریفیں اللہ کیلیے ہیں ، جیسے ہمارے پروردگار کو پسند ہوں اور جن سے وہ راضی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، دنیا اور آخرت میں اس کا کوئی شریک نہیں وہی اعلی اور بلند و بالا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے چنیدہ رسول ہیں، یا اللہ! اُن پر، اُن کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! میں تمام سامعین اور اپنے آپ کو تقوی الہی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں؛ اللہ تعالی سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالی سعادت مند بنا کر انہیں راضی کر دیتا ہے۔

مسلمانو!

اعلی اخلاق انسان کی کامیابی اور کامرانی کا ذریعہ ہے، خیر و بھلائی حاصل کرنے کیلیے حسن اخلاق اور اعلی کردار کا کوئی ثانی نہیں۔ اعلی اخلاقیات اور بہترین کردار اپنانے کی ترغیب میں کتاب و سنت میں بہت زیادہ نصوص ہیں ۔ افضل المخلوقات ﷺ کی جن صفات کو اللہ تعالی نے ذکر فرمایا ہے ان میں اعلی اخلاق سر فہرست ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} اور بیشک آپ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔[القلم: 4]

اسی طرح رسول اللہ ﷺ اپنی ساری تبلیغ کوزے میں بند کرتے ہوئے فرمایا: (بیشک مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے) احمد، مالک، اور دیگر اہل علم کے ہاں یہ روایت صحیح ہے۔

آپ ﷺ نے تمام لوگوں کو بالکل واضح لفظوں میں حسن اخلاق اپنانے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: (جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، گناہ ہو جائے تو نیکی کرو یہ گناہ کو مٹا دے گی، اور لوگوں کے ساتھ حسن خلق سے پیش آؤ) احمد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ، اور ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا۔

حسن اخلاق انسان کو پروردگار کے قریب کر دینے والی خصلت ہے، اس سے انسان کے درجات بلند ہوتے ہیں اور نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ(34) وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ} برائی کو بھلائی سے ختم کرو تو وہی جس کے ساتھ تمہاری دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی دلی دوست ہو۔[34] اور یہ سلیقہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ بڑے نصیب والے ہی حاصل کر پاتے ہیں۔[فصلت: 34، 35]

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے) بخاری، مسلم

اسی طرح آپ ﷺ نے حسن خلق پر عظیم اجر اور مقام و مرتبہ ملنے کی بھی خوش خبری دی، چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے : (مومنین میں سے کامل ترین ایمان کا حامل وہ شخص ہے جس کا اخلاق اچھا ہے، تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کیلیے اچھا ہے) امام احمد نے اسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، جبکہ ترمذی اسے روایت کر کے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

آپ ﷺ حسن خلق کا درجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے دار اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے) ابو داود نے اسے روایت کیا ہے اور ابن حبان و دیگر محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔

اہل ایمان!

اچھے اخلاق کا مالک انسان بلند و بالا درجات کا حقدار ہو گا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک قیامت کے دن میرے ہاں محبوب ترین اور میری سب سے زیادہ قربت کا حقدار وہ ہو گا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو گا۔)ترمذی نے اسے روایت کر کے حسن غریب قرار دیا ہے اور منذری نے اسے ترغیب و ترہیب میں ذکر کیا ہے۔

آپ ﷺ سے ایک بار یہ بھی پوچھا گیا کہ کس چیز کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ کا تقوی اور حسن اخلاق) ترمذی نے اسے روایت کر کے صحیح اور غریب قرار دیا ہے، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

اچھے اخلاق کا اسلام میں بہت بلند مقام ہے، چنانچہ پروردگار کا فرمان ہے کہ: {وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} اور ایمان لانے والوں میں سے جو آپ کی اتباع کریں ان سے تواضع سے پیش آئیے۔ [الشعراء: 215]اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: (قیامت کے دن مومن کے ترازو میں حسن خلق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی)ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے نیکی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: (نیکی حسن اخلاق کا نام ہے)

اسلامی بھائیو!

جب یہ بات واضح ہو گئی تو حسن اخلاق میں وہ تمام عملی اور قولی قدریں شامل ہیں جو شرعی اور فطری ہر اعتبار سے زندگی کے تمام گوشوں میں پسندیدہ ہیں۔

حسن خلق یہ ہے کہ کتاب و سنت میں ذکر ہونے والے تمام شرعی آداب کا خیال کریں، گفتار، کردار، چال چلن اور تمام طور طریقے انہی آداب کے تابع ہوں۔

ہر ایسا رویہ حسن خلق ہے جس سے انسان کے دوست زیادہ ہوں اور دشمن کم ہوتے جائیں، جس سے مشکل کام آسان ہو جائیں، سنگ دل موم بن جائے، لہذا حسن خلق کا مالک شخص ہر وقت سراپا نرم خو، حسن کارکردگی، اور ہمہ قسم کی اچھی خوبیوں سے مزین ہوتا ہے۔

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم کسی بھی نیکی کو حقیر مت سمجھو چاہے تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ہی کیوں نہ ملو) مسلم

اور بطور مثال اخلاقیات میں یہ شامل ہے کہ: انسان ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ ہر کسی سے ملے، دوسروں کے کام آئے، کسی کو تکلیف نہ دے، دوسروں سے ملنے والی تکلیف ، دکھ اور اذیت برداشت کرے۔

اسی طرح اپنا غصہ پی جائے، فضولیات سے بچے، دوسروں کو ڈانٹ ڈپٹ ، لڑائی جھگڑے اور گالم گلوچ سے دور رکھے۔

حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ: انسان دوسروں کا خدمت گزار ہو، سب پر شفقت کرے، جود و سخا کا پیکر ہو، دوسروں کے کام آئے، بخیلی اور لالچی طبیعت کا مالک نہ ہو، صبر شکر سے کام لے، حلم اور رضا سے مزین ہو، منکسر المزاج ہو، عفت، شفقت اور رحمدلی سے بھر پور ہو، طبیعت میں نرمی اور شگفتگی پائی جائے، بات چیت اور معاملات میں دھیمے مزاج کا حامل ہو، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا} لوگوں سے منہ پھیر کر بات مت کر اور نہ ہی زمین پر اکڑ کر چل۔[لقمان: 18]

اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: (کیا میں تمہیں ایسے شخص کے بارے میں نہ بتلاؤں جو آگ پر حرام ہے یا اس پر آگ حرام ہے؟ [یہ وہ شخص ہے] جو نرم مزاج ، ٹھنڈی طبیعت والا ہے اور گھل مل کر رہتا ہے )ترمذی نے اسے نقل کر کے حسن اور غریب قرار دیا ہے۔

حسن اخلاق میں یہ بھی شامل ہے کہ: شائستہ الفاظ کا چناؤ کیا جائے، اعلی سلوک کریں، لوگوں کے ساتھ نرمی برتیں، بیوقوفانہ امور اور ایسی تمام حرکتوں سے انسان باز رہے جو مناسب نہ ہوں، وہ شخص اعلی اخلاق کا مالک ہے جس کے عیب محفلوں میں ذکر نہ ہوں، کسی کو اس کی کسی غلطی کا علم نہ ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: "میانہ روی، طبیعت میں ٹھہراؤ، اور با وقار شخصیت نبوت کے پچیس حصوں میں سے ایک ہے"

اعلی اخلاق کے مالک شخص کو آپ با وقار، حلیم مزاج، پر سکون اور طبیعت میں ٹھہراؤ والا پاؤ گے۔ اس میں عفت اور پاکدامنی بھری ہو گی، وہ اکھڑ مزاج اور لعن طعن کرنے والا نہیں ہو گا، وہ چیخنے اور چلانے کا کام نہیں کرے گا، وہ جلد باز اور بد گوئی کرنے والا نہیں ہو گا، لوگوں کے ساتھ انتہائی اعلی ظرفی سے پیش آئے گا، اس میں نیکی اور تقوی کوٹ کوٹ کر بھرا ہو گا، وہ صرف ایسے کام کرے گا جس کے نتائج اچھے برآمد ہوں۔

اعلی ترین اخلاقیات میں "حیا" بھی شامل ہے، جیسے کہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حیا کا اخلاقیات میں سب سے بڑا، اونچا اور اعلی مقام ہے"

بہترین اخلاقیات میں یہ امور بھی شامل ہیں: ایثار، پردہ پوشی، دوسروں کے کام آنا، مسکرا کر ملنا، غور سے بات سننا، مجلس میں دوسروں کو جگہ دینا، سلام عام کرنا، مردوں کا آپس میں ملتے ہوئے مصافحہ کرنا، کوئی آپ کے کام آئے تو اس کا بڑھ چڑھ کر بدلہ دینا، کوئی قسم ڈال دے تو اس کی قسم پوری کرنا، لا یعنی امور سے دور رہنا، حلم اور حکمت کے ذریعے جاہلوں سے بچنا۔ مسلمانوں میں سے بڑوں کو اپنے باپ کے مقام پر سمجھنا اور چھوٹوں کو بیٹوں جیسی شفقت دینا اور درمیانی عمر والوں کو بھائی سمجھنا۔ جیسے کہ کسی نے خوب کہا ہے:

يَرَى لِلْمُسْلِمِيْنَ عَلَيْهِ حَقًّا

كَفِعْلِ الْوَالِدِ الرَؤُوْفِ الرَّحِيْمِ

جیسے باپ شفقت اور رحمدلی کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے  اسی برتاؤ کو وہ تمام مسلمانوں کا اپنے آپ پر حق سمجھتا ہے۔

ان تمام امور کو ایک اخلاقی اصول اور ضابطہ انتہائی مختصر سے جملے میں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، یہ ضابطہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبانی ارشاد فرمایا کہ: (تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک وہ اپنے بھائی کیلیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے)

جو کچھ ہم نے سیکھا ہے اللہ تعالی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اپنے سمیت تمام مسلمانوں کے لیے گناہوں کی بخشش اللہ تعالی سے مانگتا ہوں، آپ بھی اسی سے بخشش مانگیں، وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

میں اللہ تعالی کی پاکیزہ اور بابرکت الفاظ میں ڈھیروں حمد بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔ یا اللہ! ان پر ان کی آل اورصحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

مسلمانو!

اے مسلم! اچھے اخلاق کے مالک بنو کہ آپ لوگوں کے ساتھ اور لوگ آپ کے ساتھ گھل مل کر رہیں، مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (مومن لوگوں سے مانوس ہوتا ہے اور لوگ مومن سے مانوس ہوتے ہیں، اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو خود بھی مانوس نہ ہو اور دوسرے اس سے مانوس نہ ہو سکیں)احمد، طبرانی اور بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اللہ کے بندو!

ہم سب کا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم کسی بھی ایسے کام کے ذریعے اللہ کا قرب تلاش نہ کریں جس کے متعلق کتاب و سنت میں دلیل نہیں ہے، لہذا اگر کوئی شخص ماہ رجب میں کسی عبادت کو خاص کرتا ہے، تو اس کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں ہے، یہ بات بہت سے محققین جیسے کہ ابن حجر، ابن رجب، نووی اور ابن تیمیہ وغیرہ نے صراحت کے ساتھ لکھی ہے۔

اور اللہ تعالی نے ہمیں نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، یا اللہ! ہمارے نبی اور حبیب محمد ﷺ پر ڈھیروں رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما۔ یا اللہ! خلفائے راشدین، اہل بیت ،صحابہ کرام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما۔

یا اللہ! جو بھی مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا رب العالمین! یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا کسی بھی مسلمان کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا اللہ! تباہی اور بربادی اس کا مقدر بنا دے، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! تمام مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما دے، یا اللہ! تمام دکھ درد دھو ڈال، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما۔

یا اللہ! تمام مسلمان اور مومن مرد و خواتین کی مغفرت فرما، زندہ اور فوت شدگان سب کی مغفرت فرما۔

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام! پوری دنیا میں اپنے دین کو پھیلا دے، یا اللہ! پوری دنیا میں اپنے دین کو پھیلا دے، یا اللہ! پوری دنیا میں اپنے دین کو پھیلا دے۔ یا اللہ! اپنے کلمے کو بلند فرما، یا اللہ! اپنے کلمے کو بلند فرما، یا اللہ! اپنے کلمے کو بلند فرما، چاہے کافروں اور مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ لگے۔ یا ذالجلال والا کرام! یا عزیز! یا حکیم!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمارے حکمران اور ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! تمام اسلامی ممالک کو ہر قسم کی شر انگیزی سے محفوظ فرما، یا اللہ! مملکت حرمین کو ہر قسم کی شر انگیزی سے محفوظ فرما، یا اللہ! مملکت حرمین اور تمام اسلامی ممالک کو ہر قسم کے شر سے محفوظ فرما، یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! تو ہی غنی اور حمید ہے! یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔ یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما۔ یا اللہ! تمام مسلم خطوں میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! تمام مسلم خطوں میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! تمام مسلم خطوں میں بارشیں نازل فرما۔

یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت وا فرما، یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت وا فرما، یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت وا فرما، یا حیی! یا قیوم!

اللہ کے بندو!

اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ۔

ملاحظہ کیا گیا 916 بار

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم