بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
السبت, 01 كانون1/ديسمبر 2018 18:00

خیر خواہی، دین کا بنیادی حصہ

مولف/مصنف/مقرر  پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ ۔ ترجمہ: شفقت الرحمٰن مغل

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 15 ربیع الاول 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "خیر خواہی،،، دین کا بنیادی حصہ" ارشاد فرمایا جس انہوں نے کہا کہ قرآن کریم پر توجہ کر کے ہم دنیا اور آخرت میں کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں، اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو جوامع الکلم عطا کیے تھے، اس لیے ایسی احادیث کو اچھی طرح دیا بھی کریں اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لئے انہیں سمجھیں ، انہی احادیث میں سے ایک حدیث "دین خیر خواہی کا نام ہے۔۔۔" ہے اس کی انہوں نے مکمل شرح بیان کی اور بتلایا کہ کتاب و سنت کی روشنی میں اللہ تعالی، رسول اللہ، کتاب اللہ ، مسلمان حکمران، اور عامۃ الناس کی خیر خواہی کس طرح ممکن ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیر خواہی پیغمبروں کا شیوہ اور مومنوں کی امتیازی خوبی ہے، اگر انسان اپنے دل میں تمام لوگوں کے لیے خیر خواہی بسا لے تو انتہائی عظیم مقام پا سکتا ہے، آخر میں انہوں نے سب کے لئے کروائی۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ عزت اور کرم والا اور تمام جانداروں کو پیدا کرنے والا ہے، اس کا فضل اور نعمتیں بہت وسیع ہیں، میں اپنے رب کی معلوم اور نامعلوم نعمتوں پر اسی کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں ، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں وہ معزز ترین اور نہایت کرم کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو اللہ تعالی نے جوامع الکلم سے نوازا، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد ، ان کی آل اور راہ راست پر چلنے والے صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اپناؤ اور اس کے لیے نیک اعمال کے ذریعے قرب الہی کی جستجو کرو، حرام کاموں سے بچو؛ کیونکہ متقی ہی کامیاب و کامران ہوں گے، جبکہ ہوس پرست اور کوتاہی برتنے والے نامراد ہوں گے۔

مسلمانو!

اپنا محاسبہ خود ہی کر لو قبل ازیں کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، دلوں کو غفلت سے بیدار کرو، اپنے نفوس کو حرام کاموں اور ان کی لذت سے روکو، گناہوں سے توبہ کر لیں اس سے قبل کہ موت آئے، امیدیں بکھر جائیں اور مزید عمل کرنا ممکن نہ رہے۔

آپ سالہا سال اور ایام تیزی کے ساتھ گزرتے دیکھ رہے ہیں، اس زندگی کے بعد موت ہی ہے، اور موت کے بعد یا تو نعمتوں والی جنت ہو گی یا درد ناک عذاب۔

آپ جس طرح فانی دنیا کے لئے کد و کاوش کرتے ہیں اسی طرح دائمی آخرت کے لئے بھی محنت کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى}بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو [16] حالانکہ آخرت بہتر اور دائمی رہنے والی ہے۔ [الأعلى: 16، 17]

مسلمانو!

قرآن کریم پر توجہ دیں اسی میں تمہاری عزت اور سعادت ہے، اسی سے تمہارے حالات سنور سکتے ہیں، اسی میں تمہاری موت کے بعد کامیابی ہے، فتنوں سے تحفظ بھی اسی سے ملے گا اور یہ فتنے قربِ قیامت تک بڑھتے چلے جائیں گے، یہ فتنے ایسے ہیں کہ ابتدائی طور پر واضح نہیں ہوتے، لیکن جب انتہا ہو جائے تو ان کے بارے میں آنکھیں کھل جاتی ہیں؛ چنانچہ ان فتنوں سے وہی محفوظ رہ سکے گا جو قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لے، اور ملت اسلامیہ کے ہم رکاب رہے، اس لیے کتاب اللہ پر غور و فکر کرو، اسی پر عمل پیرا رہو۔

رسول اللہ ﷺ کی احادیث یاد کرو تا کہ دین قائم رہے، عقیدہ صحیح رہے اور عبادات مکمل ہوں، خصوصاً ایسی احادیث پر توجہ دو جن میں فضیلت والے اسلامی اعمال کے احکام جمع ہیں، ان احادیث کا معنی اور مفہوم ان پر عمل کرنے کے لئے اچھی طرح سمجھیں، سلف صالحین کا یہی منہج ہے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن طریق پر ان کی اتباع کی، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے [التوبہ: 100]

میں یہاں پر ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو کہ جوامع الکلم میں سے ہے، ہر حالت میں اس حدیث پر عمل ہر مسلمان مرد و زن کی ذمہ داری ہے، جسم میں جب تک روح باقی ہے اس وقت تک تمام آدمیوں اور عورتوں کے لئے اس پر عمل ضروری ہے، وہ حدیث رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہے: (دین خیر خواہی کا نام ہے ) تو ہم نے کہا: "کن کی خیر خواہی؟" تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالی ، کتاب اللہ، رسول اللہ، مسلم حکمرانوں اور عوام الناس کی) اس حدیث کو امام مسلم نے تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

نیز اس حدیث کو امام مسلمؒ کے علاوہ دیگر بہت سے محدثین نے روایت کیا ہے، یہ حدیث بہت عظیم حدیث ہے۔ امام ابو داودؒ کہتے ہیں: "فقہ پانچ احادیث کا نچوڑ ہے، پہلی حدیث: (حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے۔۔۔) دوسری حدیث: (نہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی کسی اور کو نقصان دو) تیسری حدیث: (اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے) چوتھی حدیث: (دین خیر خواہی کا نام ہے) پانچویں حدیث: (جس چیز سے میں تمہیں روک دوں اس سے فوری رک جاؤ، اور جس چیز کے کرنے کا حکم دوں تو اس پر حسب استطاعت عمل کرو)"

محدث حافظ ابو نعیم ؒ کہتے ہیں: "یہ بہت عظیم ہے"

 محمد بن اسلم طوسیؒ نے ذکر کیا ہے کہ : "حدیث (دین خیر خواہی کا نام ہے ) دین کا ایک چوتھائی حصہ ہے"

اور اس بات کی دلیل کہ اس حدیث پر عمل ہر مسلمان مرد اور عورت پر ہر حالت میں واجب اور ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ عبادات کو بعض مکلف افراد مرد یا عورتوں سے کسی عذر یا دیگر کسی سبب کی بنا پر ساقط کر دیا لیکن خیر خواہی کو کسی حالت میں بھی ساقط نہیں فرمایا، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} کمزور ،مریض اور وہ لوگ جن کے پاس انفاق فی سبیل اللہ کے لئے کچھ نہیں تو ان پر کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کریں ۔ نیکی کرنے والوں پر [اعتراض ]کا کوئی راستہ نہیں، اور اللہ درگزر کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ [التوبہ: 91] تو اس آیت میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا کہ کسی بھی مسلمان کا ایک لمحے کے لئے بھی خیر خواہی سے عاری ہونا قبول نہیں ہے۔

صحابہ کرام نے آیت میں مذکور خیر خواہی کا معنی نہیں پوچھا؛ کیونکہ انہیں دین میں خیر خواہی کے معانی کا دلالت مطابقت، دلالت تضمین و التزام ہر اعتبار سے علم تھا، تو اس خیر خواہی میں اسلام، ایمان اور احسان کے تینوں مراتب شامل ہیں، ہاں صحابہ کرام نے یہ ضرور پوچھا کہ یہ خیر خواہی کن کے لئے ہو گی؟ اور کون اس خیر خواہی کے مستحق ہوں گے؟

عربی زبان میں "النصيحة" [خیر خواہی]نصح سے ہے، جو کہ کسی بھی چیز کو ملاوٹ، مٹی اور غیر متعلقہ چیز سے صاف کرنے کو کہتے ہیں، چنانچہ: "نَصَحَ العَسْلُ" اس وقت کہا جاتا ہے جب شہد کو موم سے صاف ستھرا کر لیا جائے۔

اس حدیث میں اللہ تعالی کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ سے محبت ہو، اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری ہو، شریعت الہی کے سامنے مکمل سرنگوں ہو کر تابعداری اس لیے ہو کہ اللہ کی رضا اور ثواب ملے، اللہ کے غضب اور عذاب سے ڈرتے ہوئے اس کی اطاعت کریں، فرمان باری تعالی ہے: {إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ (15) تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ} ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں ان کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ [15] ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ [السجدة: 15، 16]

اسی طرح فرمایا: {وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ}اور ایمان لانے والوں کی اللہ تعالی سے محبت شدید ترین ہوتی ہے۔ [البقرة: 165]

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ سے بھر پور دلی محبت کرو ؛ کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلاتا پلاتا ہے۔)

اللہ تعالی کی عظیم ترین خیر خواہی یہ ہے کہ صرف اسی کی بندگی اور عبادت کی جائے، اخلاص، سنت نبوی، اور طریقہ نبوی ﷺ کے مطابق عبادت کریں، ہر قسم کی عبادت صرف اللہ تعالی کے لئے بجا لائیں۔ دعا، مدد طلبی ،استغاثہ اور توکل اللہ پر ہی کریں ، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا} آپ کہہ دیں: میں تو اپنے پروردگار کو ہی پکارتا ہوں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔[الجن: 20]

اللہ تعالی کی بندگی اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ صفاتِ کمال اور جلال کا مالک ہے، وہ ہمہ قسم کے نقائص اور عیوب سے پاکیزہ اور منزہ ہے، ساری مخلوقات پر اسی کی نعمتیں ہیں، سب لوگ اسی کی رحمت کے سوالی ہیں، اس لیے اللہ کی عبادت اللہ تعالی سے خیرات ملنے کا باعث ہے۔ اللہ کی بندگی؛ زندگی میں اور زندگی کے بعد بلائیں ٹالنے کا باعث ہے۔ اللہ تعالی کی خیر خواہی یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اپنے لیے ثابت کیا ہے اور جو کچھ اسما و صفات رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی کے لئے ثابت قرار دی ہیں انہیں اسی انداز سے ثابت مانا جائے جیسے سلف صالحین نے مانا تھا۔

ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: (میری خیر خواہی؛ بندے کی میرے ہاں محبوب ترین عبادت ہے) اس حدیث کو امام احمد نے اور طبرانی نے ا لکبیر میں روایت کیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: آپ سے محبت ہو، آپ کا احترام کیا جائے، آپ کی سنت کی تعظیم ہو اور آپ کے احکامات کی تعمیل کریں، آپ کے منع کردہ کاموں سے بچیں، آپ کی شریعت کے مطابق اللہ کی عبادت کریں، آپ کی سیرت کو اپنائیں، آپ کی احادیث کی تصدیق کریں، ان احادیث کو آگے پھیلائیں، دین محمدی کی جانب لوگوں کو دعوت دیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا} کہہ دو: اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، لیکن اگر تم پھر جاؤ تو رسول کے ذمے صرف وہ ہے جس کا وہ مکلف بنایا گیا ہے اور تمہارے ذمے وہ جس کے تم مکلف بنائے گئے اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پا جاؤ گے۔ [النور: 54]

کتاب اللہ کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: قرآن کریم کی تعظیم کریں، قرآن سے محبت کریں، اسے سیکھنے ، سکھانے اور قرآنی احکام سمجھنے کی پوری کوشش کریں، قرآن کریم کی صحیح انداز سے تلاوت کریں، قرآن کے احکامات کی تعمیل کریں اور ممنوعہ امور سے اجتناب کریں، پابندی سے قرآن کریم کی تلاوت کریں، قرآن کے حروف اور حدود کو یاد رکھیں، قرآن کریم کی تفسیر، معنی اور مراد کی معرفت حاصل کریں، قرآن کریم پر تدبر کریں، اپنا اخلاق قرآن کے مطابق بنائیں، قرآن و سنت کے فہم میں غلطی کھانے والوں کو جواب دیں، ان کی باطل باتوں کا رد کریں اور ان سے خبردار کریں۔ فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ} بیشک یہ قرآن اسی کی رہنمائی کرتا ہے جو انتہائی مضبوط راستہ ہے۔[الإسراء: 9]

مسلم حکمرانوں کے لئے خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: حکمرانوں کے لئے خیر پسند کریں، ان کے عدل کو پسند کریں، ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کریں، انہیں دھوکا نہ دیں، ان کے ساتھ خیانت نہ کریں، ان کے خلاف بغاوت نہ کریں، ان کے خلاف مظاہرے نہ کریں۔ حق بات پر ان کے ساتھ تعاون کریں، گناہوں کے علاوہ ہر کام میں ان کی اطاعت کریں، ان کی کامیابی اور فیصلوں میں درستگی کی دعا کریں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی تم سے تین چیزوں کو پسند کرتا ہے کہ: تم اسی کی عبادت کرو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ، سب کے سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور گروہوں میں مت بٹو، اور جس کو اللہ تعالی نے تم پر حاکم بنایا ہے اس کی خیر خواہی کرو) اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "اجتماعیت میں جو چیز تمہیں ناگوار ہے، وہ اختلاف میں تمہاری چاہت سے بہتر ہے۔"

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے خیف مقام پر اپنے خطاب میں فرمایا تھا: (تین چیزوں کے بارے میں کسی مسلمان کا دل کمی نہیں کرتا: عمل کرتے ہوئے اللہ کے لئے اخلاص، حکمرانوں کی خیر خواہی، اور ملت اسلامیہ کا التزام) اس حدیث کو امام احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (جس بندے کو اللہ تعالی رعایا کا حکمران بنائے اور وہ رعایا کی خیر خواہی نہ کرے تو وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا) اس حدیث کو بخاری ، مسلم، اور احمد نے روایت کیا ہے۔

مسلمان عامۃ الناس کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: عوام الناس کو ان کے فائدے کی باتیں بتلائیں، انہیں دین سکھلائیں، ان کی عیب پوشی کریں، ان کی ضروریات پوری کریں، انہیں دھوکا مت دیں، خیانت سے کام مت لیں، ان سے حسد مت کریں، ان کی طرف سے ملنے والی تکلیف پر صبر کریں۔

خیر خواہی انبیائے کرام اور رسولوں کی صفت ہے،  اللہ تعالی کا فرمان ہے: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَاعَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} بلاشبہ یقیناً تمہارے پاس تمہی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت گراں ہے، تمہارا بہت خیال رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ [التوبہ: 128]

اسی طرح نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ} میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں [الأعراف: 62]

ہود علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ} میں تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمہارے لیے ایک امانت دار، خیر خواہ ہوں۔ [الأعراف: 68]

ایسے ہی صالح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ} بلاشبہ یقیناً میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی [الأعراف: 79]

خیر خواہی مومنین کی صفات میں بھی شامل ہے، سورت یاسین میں مذکور مومن کی دعوت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: {يَاقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ} میری قوم! تم رسولوں کی اتباع کرو۔[يس: 20]  اور پھر اس کی وفات کے بعد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: {قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ يَالَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ (26) بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ} اسے کہا گیا جنت میں داخل ہو جا۔ اس نے کہا اے کاش! میری قوم جان لے۔  [26] اس بات کو کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے معزز لوگوں میں سے بنا دیا۔ [يس: 26، 27] ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: "اس مومن شخص نے اپنی قوم کو اپنی زندگی میں بھی خیر خواہی پر مبنی دعوت دی، بلکہ وفات کے بعد بھی یہی دعوت دی"

فرمانِ باری تعالی ہے: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا}اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور گروہوں میں مت بٹو[آل عمران: 103] اسی طرح فرمایا: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ} بیشک مومن آپس میں بھائی بھائی ہی ہیں۔[الحجرات: 10]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں ۔

 

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ غیب جاننے والا ، دلوں کو پھیرنے والا، مشکل کشا اور حاجت روا ہے، میں گزشتہ و پیوستہ تمام نعمتوں پر اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اسی کا شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہی گناہوں کو بخشنے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد ﷺ اس کے بندے اور برگزیدہ رسول ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی آل اور شریعت پر قائم تمام صحابہ کرام پر رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

خلوت اور جلوت میں تقوی الہی اختیار کرو ؛ تقوی کے ذریعے ہی بلند درجات حاصل کرو گے، اپنی زندگی میں اور موت کے بعد بھی کامیاب ہو جاؤ گے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور و فکر کرو: {وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} مومن مرد اور مومن عورتیں، ایک دوسرے کے دوست ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں ،نماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا، بے شک اللہ سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے۔ [التوبہ: 71] اس آیت میں مسلمانوں کے باہمی تعاون، مدد، خیر خواہی، تکافل، اخوت، مودت اور شفقت کا ذکر ہے۔

سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "میں نے نبی ﷺ کی بیعت کی کہ میں: نماز قائم کروں گا، زکاۃ دوں گا، اور ہر مسلمان کی خیر خواہی چاہوں گا" اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

ابو بکر مزنی ؒ کہتے ہیں: "ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے دیگر صحابہ کرام پر نماز اور روزے کی وجہ سے امتیازی مقام نہیں رکھتے تھے، بلکہ یہ ان کے دل میں کسی چیز کی وجہ سے تھا" اس کی تفصیل میں ابن علیہؒ کہتے ہیں: "سیدنا ابو بکر کے دل میں جو چیز تھی وہ اللہ کی محبت اور خلق خدا کی خیر خواہی تھی"

اور جناب حکیم بن ابو یزید اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ نبی ﷺ سے کہ: (جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ طلب کرے تو اسے خیر خواہی پر مبنی مشورہ دے) اس حدیث کو احمد نے اور طبرانی نے الکبیر میں روایت کیا ہے۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56] اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا) اس لئے سید الاولین اور امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو۔

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد۔

یا اللہ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی سے راضی ہو جا، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! تابعین اور تبع تابعین سے راضی ہو جا، یا اللہ! ان کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی اپنے رحم، کرم، اور فضل کے صدقے راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کا بول بالا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کا بول بالا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کا بول بالا فرما، یا اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! تیرے اور دین کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اگلے ، پچھلے ، خفیہ ، اعلانیہ سارے گناہ معاف فرما دے، وہ بھی معاف فرما جنہیں تو ہم سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی تہہ و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت کے قریب کرنے والے قول اور فعل کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم جہنم کے قریب کرنے والے ہر قول اور فعل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہم عذاب قبر اور جہنم کے عذاب سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے سب معاملات کے نتائج بہتر فرما دے، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں کہ کسی پر ظلم کریں، یا کوئی ہم پر ظلم کرے، یا اللہ! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں کہ کسی پر ظلم کریں، یا کوئی ہم پر ظلم کرے، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! مسلمان مرد و خواتین کے معاملات سنوار دے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے مومن مرد و خواتین کے معاملات سنوار دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! تمام مسلمانوں کے دلوں میں الفت ڈال دے، یا اللہ! تمام مسلمانوں کے دلوں میں الفت ڈال دے، یا اللہ! جو آپس میں جھگڑے ہوئے ہیں ان کی صلح فرما دے، اور انہیں راہ  راست دکھا، یا اللہ! انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کی تیرے دشمنوں اور ان کے دشمنوں کے خلاف مدد فرما، یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام!  ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ انہیں کامیاب فرما، اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دے، یا اللہ! انہیں حق بات پر جمع فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں دین کی سمجھ عطا فرما، یا اللہ! ہمیں دین کی سمجھ عطا فرما، یا اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو تیرے دین کی سمجھ عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہم تیری رضا اور جنت کے سوالی ہیں، اور تیرے غضب اور جہنم سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما۔

یا اللہ! ہمیں مہنگائی، وبائی امراض، زنا، سود، زلزلوں، برے فتنوں، ظاہری اور باطنی آزمائشوں سے محفوظ فرما۔ یا اللہ! ہمیں اور مسلمانوں کو ہر قسم کی خباثت سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں اور مسلمانوں کو ہر قسم کی خباثت سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو ابلیس، شیاطین ، شیطانی چیلوں اور لشکروں سے پناہ عطا فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا اللہ! ہمارے نفوس اور گناہوں کے شر سے بھی ہمیں پناہ عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! مسلمانوں کو اور ان کی اولاد کو ابلیس، شیاطین ، شیطانی چیلوں اور لشکروں سے پناہ عطا فرما، یا رب العالمین! یا ارحم الراحمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! تمام مقروض مسلمانوں کے قرضے چکا دے، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمارے ملک کی ہمہ قسم کے شر اور خرابی سے حفاظت فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! ہماری افواج کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کے اموال، گھر بار، اور ہر چیز کی حفاظت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین شریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! تیری مرضی کے مطابق اس کی رہنمائی فرما، اور اس کے تمام اعمال اپنی رضا کے لیے قبول فرما، یا اللہ! انہیں صرف اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں صحت و عافیت عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! انہیں صرف اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! تیری مرضی کے مطابق اس کی رہنمائی فرما، اور اس کے تمام اعمال اپنی رضا کے لیے قبول فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! انہیں صرف اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرما بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! انہیں اسلام اور مسلمانوں کے حق میں اچھے اقدام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ } اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90، 91]

صاحب عظمت و جلالت کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالی اسے جانتا ہے ۔

 

ملاحظہ کیا گیا 129 بار آخری تعدیل السبت, 01 كانون1/ديسمبر 2018 18:05

جدید خطبات

خطبات

  • برکت کا مفہوم اور اسباب و ذرائع
    برکت کا مفہوم اور اسباب و ذرائع
    ﷽   تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اسی نے اپنے مخلص بندوں کو نعمتِ اخلاص اور برکت سے نوازا ہے۔ میں صدقہ خیرات کو فضیلت عطا کرنے پر اللہ کی حمد اور شکر بجا لاتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ تعالی نے مشرکوں اور کافروں کا ٹھکانا آگ بنایا، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے جادوگروں کا پردہ چاک فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور فضائل مہارت رکھنے والے صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے ۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو؛ کیونکہ ہمہ قسم کی بھلائی تقوی کے زیر سایہ ہے، تقوی خوشحالی کی اساس ہے، ہمارے لیے جنت کا راستہ تقوی کے تقاضے پورے کرنے پر کھلتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] اللہ تعالی نے اس دھرتی کو…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اسلام میں مسلمان کے سماجی حقوق
    اسلام میں مسلمان کے سماجی حقوق
    ﷽   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے اطاعت گزاری اور حقوق کی ادائیگی کے لئے توفیق دی، اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے اپنے بندوں کو گمراہی اور فسق سے محفوظ رکھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ تعالی نے حق کو غلبہ عطا کیا اور باطل کو نیست و نابود فرمایا، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہمیں اعلی اخلاق کی تبلیغ فرمائی اور نافرمانی سے خبردار کیا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک صبح ہوتی رہے اور سورج چمکتا رہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، تقوی زاد راہ کے متلاشی کے لئے زاد راہ اور نجات تلاش کرنے والے کے لئے نجات ہے، نیز بلند درجات کا ذریعہ بھی ہے۔ مصروفیات اور مادیت کے سیل رواں کی وجہ سے مسلمان کی توجہ کچھ واجبات اور سماجی تعلقات سے ہٹ جاتی ہے، اور…
    في خطبات : مسجد الحرام
  • باہمی رحمدلی کی فضیلت
    باہمی رحمدلی کی فضیلت
      پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، سب نعمتیں اور رحمتیں اسی کی ہیں، اسے ہر چیز کا مکمل طور پر علم ہے، اس کی رحمت اور حلم ہر چیز سے وسیع ہے، ہر مخلوق اس کے فیصلوں کے ماتحت ہے، وہ ہر مخلوق کے ماضی اور مستقبل سے مکمل طور پر واقف ہے، لیکن وہ اللہ کے بارے میں مکمل طور پر واقف نہیں  ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک۔  اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ،خاتم الانبیاء اور سراپا رحمت ہیں، آپ نے اللہ کی جانب حکمت کے ساتھ دعوت دی، آپ افضل ترین نبی ہیں اور آپ کو سب سے افضل امت کی جانب بھیجا گیا، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے ۔ مسلمانو! تقوی الہی اپناؤ یہ بہترین نصیحت ہے، آج اس پر عمل کا وقت ہے، اور اسی پر کامیابی کی امید قائم ہے: {وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • مسلمان کی تذلیل ! ہم اور ہمارا میڈیا
    مسلمان کی تذلیل ! ہم اور ہمارا میڈیا
    پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس انسان کو پیدا کیا اور فضیلت سے نوازا، اللہ تعالی نے انسان کو عقل عطا کی جو کہ آلۂ ادراک اور مکلف بننے کا سبب ہے، نیز انسان کو آداب بھی سکھائے، بندے کو بولنے اور بیان کرنے کے لئے زبان دی اور علم عطا کیا، چنانچہ انسان کو کامل بنانے والی ذات پاکیزہ ہے، اور اللہ تعالی بہترین خالق ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت اور دین حق دے کر شاہد، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا، آپ حق لے کر آئے اور حق کی تصدیق بھی فرمائی۔ اللہ تعالی آپ پر ،آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، اعلی ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ اللہ بندو!                                                                                                                                              میں آپ سب کو تقوی الہی اپنانے کی نصیحت کرتا ہوں، یہ اللہ تعالی کی گزشتہ و پیوستہ سب…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • خیر خواہی، دین کا بنیادی حصہ
    خیر خواہی، دین کا بنیادی حصہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 15 ربیع الاول 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "خیر خواہی،،، دین کا بنیادی حصہ" ارشاد فرمایا جس انہوں نے کہا کہ قرآن کریم پر توجہ کر کے ہم دنیا اور آخرت میں کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں، اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو جوامع الکلم عطا کیے تھے، اس لیے ایسی احادیث کو اچھی طرح دیا بھی کریں اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لئے انہیں سمجھیں ، انہی احادیث میں سے ایک حدیث "دین خیر خواہی کا نام ہے۔۔۔" ہے اس کی انہوں نے مکمل شرح بیان کی اور بتلایا کہ کتاب و سنت کی روشنی میں اللہ تعالی، رسول اللہ، کتاب اللہ ، مسلمان حکمران، اور عامۃ الناس کی خیر خواہی کس طرح ممکن ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیر خواہی پیغمبروں کا شیوہ اور مومنوں کی امتیازی خوبی ہے، اگر انسان اپنے دل میں تمام لوگوں کے لیے خیر خواہی بسا لے تو انتہائی عظیم مقام پا سکتا ہے، آخر میں انہوں نے سب کے لئے کروائی۔ پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ عزت اور کرم والا اور تمام جانداروں کو پیدا کرنے والا ہے، اس…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم