بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
السبت, 29 نيسان/أبريل 2017 07:03

شرعی احکامات کی فوری تعمیل، ضرورت اور فوائد

مولف/مصنف/مقرر  جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ, ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا خطبہ

تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، وہی اعلی ترین بادشاہ ہے،  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں  وہ تنہا اور یکتا ہے ، دنیا و آخرت میں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور اس کے چنیدہ رسول  ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی اپنانے کی نصیحت کرتا ہوں، یہی اللہ تعالی کی گزشتہ اور پیوستہ سب لوگوں کیلیے تاکیدی نصیحت ہے۔

اسلامی بھائیو!

انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ہونے والی حیرت انگیز ترقی  کے سائے تلے منہجی غلطیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں، لوگوں میں دین اور اعلی اخلاقی اقدار کے خلاف خطر ناک امور سامنے آ رہے ہیں، اور حقیقت یہی ہے کہ جب بھی وحی سے ہٹ کر اظہار رائے اور فکر  پیش کرنے کا موقع انسان کو دیا جائے تو ایسے  ہی ہوتا ہے۔

لیکن مسلمانوں  کو آج کل صحیح معیار کی ضرورت ہے جس کی بنا پر  وہ اچھی اور بری چیز میں فرق کر سکیں تو اس کیلیے ان کے پاس -الحمد للہ-اللہ تعالی کے مقرر کردہ ٹھوس قوانین اور ضابطے ہیں ، ان کی بدولت مسلمان ہمہ قسم  کی زہریلی سوچ اور گمراہ منہج سے محفوظ رہ سکتے ہیں، چنانچہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ نے ایسے ٹھوس ضابطے مقرر کئے ہیں کہ جن سے محفوظ ترین راستہ اور مضبوط ترین منہج  روشن ہو گیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا (174) فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا} لوگو ! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آ چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف نور مبین نازل کیا ہے  [174] اب جو لوگ اللہ پر ایمان لے آئے اور اس کو مضبوطی سے تھامے رہے انہیں اللہ اپنی رحمت اور فضل میں شامل کرے گا اور اپنی طرف آنے کی سیدھی راہ دکھا دے گا۔ [النساء: 174، 175]

اس لیے زندگی  میں بد بختی کا خاتمہ اور دنیا و آخرت میں مشکلات سے چھٹکارا اسی وقت حاصل ہو گا جب  مسلمان اپنے پروردگار کی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کی سیرت کے تابع ہو جائیں گے۔

اللہ کے بندو!

امت اسلامیہ کی انفرادی  یا معاشرتی فلاح و بہبود کیلیے عظیم ترین اصول یہ ہے کہ: شریعتِ الہیہ کے مکمل پابند ہو جائیں، اپنی ہر حرکت اور تصرّف کو حکمِ الہی اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے تابع کریں، اس لیے اللہ تعالی کے احکامات کی پابندی  اور تعظیم مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ مسلمانوں کیلیے خلوت و جلوت ، تنگی و آسانی ، چار و نا چار، خوشی غمی،  فراوانی اور بے سروسامانی ہر حالت میں اللہ تعالی کو اپنا نگران اور نگہبان سمجھنا ضروری ہے۔

فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا} کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا فیصلہ کر دے تو ان کے لئے اپنے معاملہ میں کچھ اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ یقیناً صریح گمراہی میں جا پڑا۔ [الأحزاب: 36] یہ آیت ہم سنتے اور پڑھتے تو ہیں لیکن اس آیت کی معنی خیزی اور نکات سے بہرہ ور نہیں ہوتے، یہ آیت کریمہ ایک بنیادی ترین ضابطہ بیان کرتی ہے، جو کہ تمام مسلمانوں کی زندگی کیلیے منہج کا درجہ رکھتا ہے، یہ ضابطہ تمام مسلمانوں کے قلوب و اذہان اور عملی زندگی میں پختگی کے ساتھ نظر آنا چاہیے۔

اس بنیادی ضابطے کے تحت حکمران اور رعایا،  فرد اور معاشرے، مرد و زن سب  کی ذمہ داری بنتی ہے کہ احکاماتِ الہیہ اور فرامینِ نبویہ ﷺ  پر عمل پیرا رہیں، صرف عبادات ہی نہیں  بلکہ اپنی زندگی کے تمام گوشوں  میں اس ضابطے کو عملی صورت دیں۔

اس آیت کریمہ میں ہمارے پروردگار کی جانب سے ذکر کیا گیا ہے کہ ایمانی تقاضوں، ایمانی صفات اور ارکان کا یہ بھی تقاضا ہے کہ : حصولِ رضائے الہی کیلیے فوری عمل کریں، رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے رہنمائی لیں، ہر وقت اور لمحے میں اللہ تعالی کے احکامات اور رسول اللہ ﷺ کے فرامین کی تابع داری اور فرماں برداری کریں  ، یہاں تک کہ بندے کیلیے حکمِ الہی اور امرِ رسول ﷺ نافذ کئے بغیر کوئی گنجائش ہی نہ رہے، چاہے حکم عدولی کی صورت میں کتنے ہی پر کشش اور من پسند نتائج  موجود ہوں؛ کیونکہ یہ ایمانی تقاضا ہے کہ مسلم معاشرہ شریعت مطہرہ کے سائے تلے زندگی بسر کرے، مسلم معاشرے کے اہداف اور رجحانات کا تعلق  زندگی کے کسی بھی شعبے اور معاملے سے کیوں نہ ہو کتاب و سنت کے مطابق ہونے چاہییں، یہی کامیاب و کامران ہونے والوں کا سلیقہ ہے، یہی متقی اور فلاح پانے والوں کا طریقہ  ہے۔

امام احمد رحمہ اللہ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں -اس واقعے  کا مرکزی موضوع صحیح مسلم میں موجود ہے-کہ : " نبی ﷺ نے اپنے صحابی جلیبیب کی شادی کا پیغام ایک انصاری لڑکی کے باپ کی جانب ارسال کیا، اس پورے قصے میں یہ بھی ہے کہ: لڑکی کی والدہ نے  کہا: "کیا رسول اللہ ﷺ کو جلیبیب ہی میسر آئے؟ اللہ کی قسم! ہم اس سے اپنی بیٹی کی شادی نہیں کریں گے" یہ سن کر ان کی بیٹی نے کہا: -اور یہی بات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے-"کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے انتخاب کو مسترد کرنا چاہتے ہو! اگر رسول اللہ ﷺ نے اس [جلیبیب] کو تمہارے لیے منتخب کیا ہے تو اس کی شادی [مجھ سے]کر دو" -حالانکہ جلیبیب کی غربت سب کے ہاں معروف تھی، انہیں زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی-تو رسول اللہ ﷺ نے اس لڑکی کیلیے یہ کہتے ہوئے دعا فرمائی: (یا اللہ! اس پر ڈھیروں خیر و برکت  برسا اور اس کی زندگی میں کبھی کدورت پیدا نہ ہو) تو [اس دعا کی برکت سے] انصار میں کوئی ایسی بیوہ خاتون نہیں تھی جو اس لڑکی سے زیادہ خرچ کرتی ہو" اس واقعے میں یہ بھی ہے کہ اس شادی کے چند دن بعد ہی جلیبیب نبی ﷺ کے ہمراہ ایک معرکے میں شریک ہوئے اور اپنی جان کا نذرانہ بارگاہ الہی میں پیش کر دیا، مکمل قصہ طویل اور مشہور و معروف ہے۔

مسلم اقوام!

صحیح ایمان اور اس آیت کریمہ کے تابعدار ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان اللہ تعالی کی حدود  پامال نہ کرے، رسول اللہ ﷺ کی سنت پر کار بند رہے، آپ ﷺ کی سیرت  اور رہنمائی کے مطابق چلے، ایک بار "طاؤوس رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عصر کے بعد  دو رکعت پڑھنے کی اجازت مانگی تو آپ نے طاؤوس کو منع فرما دیا اور یہی آیت پڑھ کر سنائی"

اسی طرح سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ:" عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک بار کہا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : (جب تمہاری خواتین  تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں منع مت کرو)  اس پر ان کے بیٹے بلال بن عبد اللہ نے کہا: "اللہ کی قسم ہم تو روکیں گے!" اس پر عبد اللہ متوجہ ہوئے اور انہیں  اتنا سخت سست کہا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں کہا تھا -کیوں اتنا سخت سست کہا؟ اس لیے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کو مسترد کرتے ہوئے حدودِ الہی سے تجاوز کیا -اور پھر فرمایا: "میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو : اللہ کی قسم ہم روکے گیں!" مسلم

احکاماتِ الہیہ اور رسول اللہ ﷺ کے فرامین  کی تعمیل ،فوری بجا آوری اور تعظیم کے سلسلے میں صحابہ کرام اور تابعین عظام سے  بہت واقعات منقول ہیں، ان میں ہمارے لیے شریعت پر پابندی اور شریعت کی مخالفت سے خبردار رہنے کیلیے کافی  نصیحت ہے۔

اسلامی بھائیو!

جہاں  اللہ تعالی نے کھڑے ہونے کا حکم دیا اس امت کے سلف صالحین  وہیں کھڑے ہو گئے ،  انہوں نے اپنے لیے اسی چیز کا انتخاب کیا جو اللہ تعالی  اور شریعتِ الہیہ کے مطابق تھی؛ چنانچہ اس بنا پر انہوں نے دنیاوی خیر و بھلائی  سمیٹی اور آخرت میں رضائے الہی  کے مستحق ٹھہرے، اب اگر کوئی شخص یہی نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ بھی انہی کے راستے پر چلے، انہی کا طریقہ اپنائے۔

سلف صالحین کے اس منہج کی عملی تصویر کشی جاننے کیلیے ذرا یہ واقعہ بھی گوش گزار کریں ، یہ واقعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: "اللہ تعالی ابتدا میں ہجرت کرنے والی خواتین پر رحم فرمائے، جس وقت فرمانِ باری تعالی: { وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ}اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیں [النور: 31]نازل ہوا تو انہوں نے موٹی چادریں پھاڑ کر  انہیں اپنی اوڑھنیاں بنا لیا" اسے بخاری نے معلق اور ابو داود نے متصل روایت کیا ہے اور اس کی سند محققین کے ہاں صحیح ہے۔

ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حدیث میں مذکور "مروطھن" موٹی چادر کیلیے عربی لفظ"مِرط" کی جمع ہے، یہ تہہ بند کیلیے بولا جاتا ہے، نیز حدیث کے الفاظ : "فاختمرن" کا مطلب ہے کہ: انہوں نے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا"

اس لیے ہر مسلمان پر یہی سلیقہ اور طریقہ اپنا ضروری ہے، ایسے نہ کرے کہ وحی سے منہ موڑتے ہوئے ادھر اُدھر سے ضابطے اور دستور لے، اور  اپنے اس عمل کو بوسیدہ دلائل سے مضبوط کرنے کی کوشش کرے، جو لوگ اس فاسد منہج پر عمل پیرا ہیں ان کی پیش کردہ دلیلیں انتہائی کمزور ہوتی ہے اور انسان کو بہت جلد ہی ان کے بودے پن کا احساس ہو جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے معاشروں پر کتنے منفی اثرات مرتب ہو تے ہیں۔

مسلمانوں کیلیے یہ لازمی ہے کہ شریعت الہی کی مکمل پابندی کریں، اپنی پسند، خواہشات اور رجحانات سب کچھ اللہ تعالی کی قائم کردہ حدود کے مطابق بنائیں۔

چنانچہ اگر کسی کو دنیاوی مفاد یا جسمانی شہوت کسی کام پر ابھارے تو فوری یہ دیکھے کہ اس کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ صحیح شرعی منہج کے مطابق کیا یہ کام چل سکتا ہے؟ نیز اس دوران اپنے آپ کو نفسِ امّارہ سے بچائے، اس فانی اور زوال پذیر دنیا کے دھوکے میں نہ آئے؛ کیونکہ  اللہ تعالی کا واضح فرمان ہے کہ: {وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى أَفَلَا تَعْقِلُونَ}اور جو کچھ اللہ تعالی کے ہاں ہے وہ زیادہ باقی رہنے والا ہے، کیا تم عقل نہیں کرتے؟ [القصص: 60]

رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے جو منہج اپنایا  اس کی وجہ سے پوری دنیا منور ہو گئی؛ کیونکہ صحابہ کرام کا منہج یہی تھا کہ وحی میں ذکر ہونے والی تعلیمات پر مکمل عمل ہو، چنانچہ جس وقت شراب کی کلّی حرمت کا حکم آیا اور اس کے آخر میں تھا کہ : {فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} تو کیا تم باز آنے والے نہیں؟[المائدة: 91] چنانچہ جب یہ آیات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھی گئیں تو انہوں نے کہا: "ہم باز آ گئے ، ہم باز آ گئے " اور صحابہ کرام نے شراب راستوں میں انڈیل دی بلکہ شراب کے برتن بھی توڑ دئیے اور شراب نوشی سے یکسر با ز آ گئے، اس طرح انہیں دونوں جہانوں میں کامیابیاں میسر آئیں۔

مسلمانو!

اپنے دین پر مضبوطی سے کار بند رہو، اپنے دین کو کسی بھی قیمتی اور نفیس چیز سے اعلی سمجھو گے تو کامیابی اور کامرانی پاؤ گے اور تمہاری زندگی بھی پر امن ہو جائے گی: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} اللہ تعالی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا ہی بڑی کامیابی پا گیا۔[الأحزاب: 71] سو تمہیں دنیا میں خوشحالی  اور آخرت میں اللہ تعالی کی جنت بھی ملے گی۔

اسلامی بھائیو!

وحی پر ہوس اور عقل کو ترجیح دینے سے بندوں کیلیے اللہ تعالی کے انتخاب سے رو گردانی  جنم لیتی ہے؛ حالانکہ اللہ تعالی کو اپنے بندوں کے بارے میں زیادہ علم ہے؛ یہی وجہ ہے کہ جب لوگ وحی پر عقل کو ترجیح دینے لگیں  اور اس گھٹیا پن کو اختیار کریں  تو وہ دین میں مذموم بدعات  پیدا کرنے لگ جاتے ہیں، یا دین میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، یا پھر انتہا پسندی اور غلو میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک چیز رب العالمین کی شریعت میں  مذموم اور قبیح ترین فعل ہے؛ اس لیے یہ امر از بس ضروری ہے کہ مسلمانوں کی عبادات اور نظریات ہر چیز شریعت اور مقاصدِ شریعت کے عین مطابق ہو۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور اللہ تعالی سے اپنے  لیے ، سامعین اور سب مسلمانوں کیلیے  تمام گناہوں کی بخشش کا طلب گار ہوں، آپ بھی اسی سے بخشش مانگیں، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں وہ اکیلا ہی ہمیں کافی ہے، میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ سوا  کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی جلیل القدر اور بلند و بالا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُس کے بندے اور چنیدہ رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور عقل و دانش کے پیکر تمام صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو!

شریعت الہی  سے منحرف اور ہوس پرست شخص راہِ ہدایت سے پھسلا ہوا ہے، وہ سیدھے راستے پر نہیں بلکہ وہ دور کی گمراہی اور تباہی  کے دہانے پر ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا} کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا فیصلہ کر دے تو ان کے لئے اپنے معاملے میں کچھ اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ یقیناً صریح گمراہی میں جا پڑا۔ [الأحزاب: 36]

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو دائمی کامیابی اور سفینۂ نجات کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: (جنت میں جانے سے انکار کرنے والوں کے علاوہ تم میں سے ہر ایک شخص جنت میں چلا جائے گا)صحابہ نے عرض کیا: "اللہ کے رسول! جنت میں جانے سے کون انکاری ہے؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقیناً اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا)

اس لیے ہوس پرستی اور شیطان کے پیچھے چلنے سے بچو، قبیح افعال اور گناہوں سے اجتناب کرو تو رحمن کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور اللہ تعالی کی رضا حاصل کر لو گے۔

اللہ تعالی نے ہمیں جلیل القدر عمل یعنی نبی کریم ﷺ پر درود و سلام  پڑھنے کا حکم دیا ہے ، اس لیے ہمیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے، بلکہ جمعے کی رات اور دن کے دوران خاص طور پر نبی ﷺ پر درود و سلام کا اہتمام کریں۔

  یا اللہ! ہمارے سربراہ، محبوب ، ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمارے نبی محمد -ﷺ- پر رحمتیں، برکتیں، اور سلامتی نازل فرما۔ یا اللہ! جب تک لیل و نہار آتے جاتے رہیں اس وقت تک آپ  ﷺ پر درود و سلام نازل فرما۔

یا اللہ تمام صحابہ کرام ، تابعین عظام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے روزِ قیامت تک کیلیے راضی ہو جا۔

یا اللہ! ہم تجھ سے تیرے اسمائے حسنی اور اعلی صفات کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ : مسلمانوں پر اپنی طرف سے اتنی رحمت  نازل فرما کہ انہیں تیرے سوا کسی کی ضرورت نہ رہے، یا اللہ! مسلمانوں پر اپنی طرف سے اتنی رحمت  نازل فرما کہ انہیں تیرے سوا کسی کی ضرورت نہ رہے۔

یا اللہ! ان کی پریشانیاں رفع فرما، یا اللہ! ان کی مشکل کشائی فرمائی، یا اللہ! مسلمانوں کو ان کے علاقوں میں امن عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو ان کے علاقوں میں امن عطا فرما۔

یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو برے حکمرانوں سے محفوظ فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے ، یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، ان کی مکاری  کو انہی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! مسلمان جہاں کہیں بھی ہیں یا اللہ! ان کی مغفرت فرما، یا اللہ! ہمارے اگلے ، پچھلے، خفیہ ، اعلانیہ اور جن گناہوں کو تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے، یا اللہ! ہمارے سب گناہ معاف فرما۔

یا اللہ! ہمارے لیے ماہِ شعبان بابرکت بنا   اور ہمیں ماہِ رمضان نصیب فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو ماہِ رمضان اس حال میں نصیب فرما کہ وہ فلاح و بہبود اور غلبے  سے ہمکنار ہوں، یا رحمن!

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں خیر و بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت میں جہنم کی آگ سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ!  انہیں  اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ!  انہیں  اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کے نائبوں کو تیری رضا کے حامل اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کے نائبوں کو تیری رضا کے حامل اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کے نائبوں کو تیری رضا کے حامل اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! تو ہی غنی اور حمید ہے، یا اللہ! تو ہی فضل و کرم کرنے والا ہے، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمارے ملک میں بارش نازل فرما، یا اللہ! ہمارے ملک میں بارش نازل فرما، یا اللہ! ہمارے ملک میں بارش نازل فرما، یا اللہ! تمام مسلم ممالک میں رحمت کی بارش نازل فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا حیی! یا قیوم! یا ذو الجلال و الاکرام!

اللہ کے بندو!  اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ۔

 

ملاحظہ کیا گیا 2293 بار

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    ماہِ شعبان اور ہمارا طرزِ عمل قارئین کرام! ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے ۔ دین اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر دوڑانے کے بعد اس ماہ میں صرف نفلی روزے رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ، دیگر مخصوص عبادات کے بارہ میں شرعی نصوص وارد نہیں ہوئیں ، درج ذیل طور میں ماہ شعبان سے متعلق ہمارا کیا طرز عمل ہے ، اور اس ماہ میں شریعت اسلامیہ کا ہم سے کیا تقاضہ ہے ذکر کیا گیا ہے۔ ماہِ شعبان مستند احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں !   ۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں ۔ ( متفق علیہ)  ۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی اداء کرسکتی تھی۔ (متفق علیہ) ۳۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم