بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

السبت, 11 آذار/مارس 2017 08:39

مستقبل کی منصوبہ بندی کیلیے تعلیمات اور رہنمائی

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی, ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ  نے مسجد نبوی میں 11-جمادی ثانیہ- 1438 کا خطبہ جمعہ " مستقبل کی منصوبہ بندی کیلیے تعلیمات اور رہنمائی" کے موضوع پر ارشاد فرمایا  جس میں انہوں نے  کہا کہ مستقبل  کے بارے میں اللہ تعالی ہی جانتا ہے؛ لیکن پھر بھی مستقبل کی جستجو میں لگے رہنا اللہ کی طرف سے فطرتی چیز ہے، بلکہ عین اسلام اور انبیائے کرام کا پیغام بھی ہے، مستقبل کیلیے کامیاب منصوبہ  بندی فلاح کا پہلا زینہ ہے اس کی بنیاد خالی امنگوں کی بجائے عملی اقدامات پر ہوتی ہے، مستقبل کی جستجو میں نجومیوں اور کاہنوں کی تصدیق کفریہ عمل ہے، مستقل مزاجی سے کوئی بھی ناممکن  ہدف ممکن بنایا جا سکتا ہے اس کیلیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے عمدہ ترین نمونہ ہے، منصوبہ بندی کیلیے ماضی سے سیکھ کر زمانہ حال میں اقدامات کر کے روشن مستقبل   کی ضمانت  مل سکتی ہے، اپنے اندر منفی پہلو کو مثبت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کریں، اور منصوبہ بندی کی بنیاد دین و دنیا کیلیے مفید علم پر رکھیں، آگے بڑھتے ہوئے ہر مرحلے میں کیا کھویا کیا پایا کی بنیاد پر اپنا محاسبہ کریں۔ ہر مسلمان یہ یقین محکم رکھتا ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے روشن مستقبل آسان تر ہو جاتا ہے، نیز مستقبل کی تعمیر فردِ واحد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور روشن مستقبل امن کے بغیر ناممکن ہے، پھر انہوں نے کہا کہ: انسان کا دائمی مستقبل آخرت ہے، اس کیلیے ہمیں ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے؛ مبادا بغیر تیاری کے ہمیں موت آ کر نہ دبوچ لے۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں جس نے دین کے ذریعے مسلمان کا مستقبل محفوظ بنایا، اُن پر اپنی شریعت  کا انعام کیا اور انہیں خوب سیرت بنایا،    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی نے اپنے بندوں کو اسلام کے ذریعے شرف و عزت سے نوازا، اور میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے  اور رسول  ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو اپنا مقرب بنایا اور اخلاقی جمال و کمال  بھی عطا فرمایا، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، صحابہ کرام  اور اللہ تعالی کی توفیق سے ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر رحمتیں  نازل فرمائے    ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

انسانی کی زندگی گزر جانے والے ماضی، حال اور وعدہ شدہ مستقبل کے درمیان گھومتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا} اور اس نے تمہیں مختلف مراحل سے گزار کر پیدا کیا۔[نوح: 14]

اللہ تعالی نے انسان کو آنکھوں سے اوجھل ماں کے پیٹ میں پیدا کیا، پھر بچے کی شکل میں اس کی پیدائش ہوئی، اس کے بعد کڑیل جوان ہو کر بوڑھا  ہو گیا،  زندگی میں یہی کچھ ہوتا ہے کہ مستقبل حال بنتا جاتا ہے اور حال  گزرا ہوا ماضی! انسانی عقل کو جو چیز مشغول کر کے رکھتی ہے وہ مستقبل کے بارے میں سوچ  و بچار ہے۔

اور یہ بات ہر مسلمان کے عقیدے میں ہے کہ مستقبل سے متعلق ہر چیز علم غیب سے تعلق رکھتی ہے اور ان کا مکمل ادراک صرف اللہ تعالی کو ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ} آپ کہہ دیں: آسمان اور زمین میں جو بھی ہے اللہ کے سوا غیب کوئی نہیں جانتا۔[النمل: 65] چنانچہ مستقبل میں رونما ہونے والے تمام امور  کا علم اللہ تعالی کے پاس ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ کل اس نے کیا کمانا ہے، اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین پر مرے گا، بیشک اللہ تعالی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔[لقمان: 34]

لیکن پھر بھی مستقبل  کے بارے میں غور و خوض اور مستقبل کی ٹوہ میں رہنا ، اسے جاننے کی کوشش کرنا  اللہ تعالی کی طرف سے لوگوں میں پیدا کردہ فطرتی چیز ہے، روح کو اسی پر  پیدا کیا گیا ہے۔

بلکہ مستقبل کی جستجو عین اسلام اور انبیائے کرام کا پیغام بھی ہے؛ جیسے کہ اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام نے  مستقبل سامنے رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی تو اللہ تعالی نے ملک و قوم کو کمر توڑ اقتصادی بحران سے بچا لیا۔

رسول اللہ ﷺ بھی مستقبل پر گہری نظر رکھتے تھے، اور اس کیلیے اللہ تعالی کے وعدوں پر مکمل اطمینان کرتے ہوئے فرماتے: (اللہ کی قسم! اللہ تعالی اس دین کو ضرور غالب فرمائے گا، حتی کہ مسافر صنعا  سے حضر موت تک سفر کرتے ہوئے اللہ کے سوا کسی کا خوف دل میں نہیں رکھے گا،  بلکہ بکریوں کو بھیڑیے سے بھی خطرہ نہیں ہوگا، لیکن تم جلد بازی سے کام لیتے ہو) بخاری

مستقبل کیلیے منصوبہ بندی زندہ دلوں کو جلا بخشتی ہے، عزائم کو پختہ بناتی ہے، مایوسی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے اور سستی کا خاتمہ کرتی ہے، بلکہ موجودہ وسائل کو بروئے کار لا کر روشن مستقبل  کی تعمیر کیلیے غور و فکر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

مستقبل کیلیے منصوبہ بندی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ  بے مہار امیدیں بنائیں۔ آج کا کام کل پر مت چھوڑیں اس سے ہمت ٹوٹ جاتی ہے، عزائم میں رخنے پڑتے ہیں اور سستی پیدا ہوتی ہے، معاملات میں تاخیر ہو جاتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ}  آپ انھیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیجئے کہ کچھ کھالیں، مزے اڑا لیں، اور لمبی چوڑی امیدیں انھیں غافل کئے رکھیں۔ پھر جلد ہی انھیں (سب کچھ) معلوم ہو جائے گا [الحجر: 3]

مستقبل کی تعمیر و ترقی  محض خالی اُمنگوں  سے ممکن نہیں کہ جن میں عملی اقدامات اور مثبت تبدیلیاں نہ ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّهْهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} نیز اللہ مثال بیان کرتا ہے کہ: دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا  ہے کسی چیز کی استطاعت نہیں رکھتا، وہ اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے، مالک اسے جہاں بھیجتا ہے وہ خیر نہیں لاتا۔ کیا ایسا شخص اس کے برابر ہو سکتا ہے جو انصاف کا حکم دے اور سیدھی راہ پر گامزن رہے ؟ [النحل: 76]

کچھ لوگ مستقبل کے بارے میں جاننے کیلیے اللہ تعالی کی نافرمانیوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں اور کہانت، جادو اور شعبدہ بازی میں ملوث ہو جاتے ہیں، کوئی علم غیب کے متعلق اٹکل پچو لگانے والے کاہن کے پاس جا تا ہے اور وہ جناتی شیطانوں کو حاضر کرتے ہیں، شیطانوں کے بتلائے ہوئے طلسم پڑھتے ہیں، ہاتھوں اور چائے کے کپوں کی لکیروں  اور برجوں  کے احوال بتاتے ہیں، یہ بہت خطرناک اور بہت بڑے گناہگار لوگ ہیں، یہ جھوٹے اور دغا باز ہیں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص  کسی  نجومی کے پاس آئے اور اس سے کچھ پوچھے تو اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں) ایک اور حدیث میں فرمایا: (جو شخص نجومی یا کاہن کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کرے تو اس نے محمد ﷺ پر نازل شدہ وحی سے کفر کیا)

مستقبل پر گہری نظر  عقل مندوں اور دانش وروں کی صفت ہے، لیکن اس بات کا خیال رہے کہ مستقبل کے بارے میں غور و فکر حد سے بڑھ کر  بے چینی  کا باعث نہ بنے اور زندگی کو تباہ نہ کرے، کہ اٹھتے بیٹھتے مستقبل کی ہی پریشانی لگی رہے، یا ہر وقت کسی بیماری، غربت، مصیبت، یا حالات تنگ ہونے کی فکر میں پھنسا رہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا} شیطان تمھیں فقر کا ڈراوا دیتا ہے اور تمھیں شرمناک چیزوں  کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ [البقرة: 268]

ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات اسوۂ حسنہ ہے؛ آپ ﷺ یتیمی کی حالت سے   مظلوم پناہ گزین بنے اور پھر پوری امت کے سربراہ بن گئے، آپ ﷺ نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایک ایسی امت تیار کر دی جس نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔

مستقبل کیلیے عملی اقدامات کی ابتدا تاریخ کے اسباق اور سابقہ لوگوں کے تجربات  سے سیکھنے سے شروع ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ}  تم سے پہلے بہت سے [لوگوں پر ]اللہ کے طریقے گزر چکے ہیں۔ لہذا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے  والوں کا کیا انجام ہوا تھا [آل عمران: 137] اسی طرح فرمایا: {لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} بلاشبہ یقیناً ان کے بیان میں عقلوں والوں کے لیے ہمیشہ سے ایک عبرت ہے [يوسف: 111]

مستقبل کی تیاری  زمانۂ حال پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے جو اپنے حال میں اچھے اقدامات کرے اس کا مستقبل روشن ہو جاتا ہے، اور اگر کوئی اپنے حال میں کچھ نہ کرے تو اس کا مستقبل ضائع ہو جاتا ہے، اگر کوئی شخص اپنی ذہن  سازی نہ کرے، اپنے جسم و دماغ  کی تعمیر نہ کرے تو اسے نتیجے میں غربت، بے روز گاری اور بیماریاں ہی ملتی ہیں، اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے بچوں کی تربیت نہ کرے تو اس کی اولاد نا فرمان اور منحرف ہو جاتی ہے۔

درست خطوط پر روشن مستقبل  استوار کرنے کیلیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی زندگی کو فکری تعمیر کیلیے صرف کرے، اپنی سوچ ایسی بنائے کہ پریشانی میں بھی مایوس نہ ہو، بلکہ اپنے اندر اتنی صلاحیت پیدا کرے کہ دکھ کو سکھ میں بدل ڈالے، مایوسی کو آس میں بدلنے کا دھنی ہو، اسی طرح  مسلمان اپنے اہداف حاصل کرنے کیلیے  جہدِ مسلسل جاری رکھے، اللہ تعالی کے فیصلوں پر قناعت کرے، اللہ تعالی کی لکھی ہوئی تقدیر پر مکمل بھروسا رکھے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور کسی کے ہاتھ میں کھجور کا بچہ ہو اور قیامت قائم ہونے سے پہلے وہ اسے زمین میں بو سکتا ہو تو وہ اسے بو دے)

مستقبل کی منصوبہ بندی اس وقت ٹھوس بنیادوں پر قائم ہوتی ہے  جب اس کی اساس راستے کو منور کر دینے والے علم  پر ہو، جس علم سے زندگی میں خوشحالی آئے، ملک و قوم کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرے اور انہیں ہمہ قسم کے بحرانوں سے بچائے، امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: "کچھ لوگوں نے علم چھوڑ کر عبادات تلاش کیں تو امت محمد ﷺ کے خلاف تلواریں سونت کر اعلان بغاوت کر بیٹھے"

مستقبل اسی وقت بار آور  ہوتا ہے اور اسی وقت اس کے مثبت نتائج اور ثمرات سامنے  آتے ہیں جب تربیت و تزکیہ دونوں ساتھ ساتھ چلیں؛ کیونکہ کسی بھی عظیم امت کے پیچھے  تربیت و تزکیہ ہی ہوتے ہیں جو اس امت کو پر امن ساحل تک پہنچاتے ہیں، نسلِ نو کی تعمیر کرتے ہیں  اور ان کے مستقبل کو پروان چڑھاتے ہیں۔

یہ بات یقینی ہے کہ مستقبل کی جانب  پیش قدمی  اس بات کا تقاضا بھی کرتی ہے کہ مسلمان ہر وقت بیداری کے ساتھ آگے بڑھے، ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں جاتے ہوئے دنیاوی اصولوں کے مطابق اپنا محاسبہ کرے، زندگی کے اس سفر کے دوران سیکھنے کیلیے سوچ و بچار کرے، مستقبل کے منصوبوں  میں عقل و قلب اور جوش  جذبے کو بروئے کار لائے، عبادات کے موسموں کو نیکی کیلیے  غنیمت سمجھے کیونکہ ان سے مستقبل  میں روشنی، برکت اور خوشحالی ملتی ہے، نیز نقصانات سے تحفظ اور کامیابیاں میسر آتی ہیں۔

عقلمند اور دانشمند مسلمان یقینی طور پر جانتا ہے کہ جس قدر وہ اللہ تعالی کے قریب ہو گا اس کا مستقبل بھی اسی قدر روشن ہوگا، اس لیے وہ سچی توبہ کا اہتمام بھی کرتا ہے؛ کیونکہ اس سے مستقبل میں شیطان، نفسِ امارہ، خواہشات اور غفلت سے تحفظ ملتا ہے۔

بلند اہداف پر مبنی کامیاب شادی ہر مسلمان کی امنگ ہوتی ہے، کامیاب شادی سے امان، اطمینان، سکون اور راحت ملتی ہے۔

بالکل اسی طرح زندگی میں باپ اور ماں بننے کا مرحلہ بھی مستقبل کو ایک مسرت اور خوشی سے نوازتا ہے؛ کیونکہ بچے مستقبل کے ستون ہوتے ہیں، ان سے زندگی میں مٹھاس بھر جاتی ہے، بچے رزق کا باعث بنتے ہیں، رحمت نازل ہوتی ہے اور اجر میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

اقوام اور معاشروں کا ؛مستقبل اور خوشحال کل؛  وقت حاضر کے نوجوان ہی بناتے اور ترتیب دیتے ہیں، اگر با صلاحیت نسل تیار کرنے میں امت کامیاب ہو جائے تو اس کا مستقبل روشن ہے، بلکہ شان و شوکت اس کی منتظر  ہوتی ہے، زورِ بازو اس کا محافظ ہوتا ہے، اور اعلی اخلاقی اقدار اس کی حفاظت کرتی ہیں، اس لیے یہ بات ذہن نشین کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ مستقبل کی تعمیر ہر فرد، پوری قوم اور معاشرے کے کندھوں پر ہے، اور جس قدر امت اسلامی تعلیمات کے قریب ہوتی جائے گی ارتقائی اور بلندی کے مراحل عبور ہوتے جائیں گے، اور اس کے بر عکس جس قدر اسلامی تعلیمات سے دور ہو گی امت میں تنزّلی اور کمزوری بڑھتی جائے گی۔

کسی بھی عقلمند کو ذرّہ برابر تامل نہیں ہے کہ روشن مستقبل امن و امان کے سائے تلے پروان چڑھتا ہے، جبکہ امن کی مخدوش صورتحال ترقی کے پہیے کو روک دیتی ہے اور زندگی کو عدم استحکام اور سر نگوں مستقبل کی جانب دھکیل دیتی ہے: {لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ (1) إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ (2) فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ} قریش کے دل میں محبت ڈالنے کی وجہ سے [1] ان کے دل میں سردی اور گرمی کے سفر کی محبت ڈالنے کی وجہ سے۔ [2] ان پر لازم ہے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔  [3] جس نے انھیں بھوک سے ( بچا کر) کھانا دیا اور خوف سے (بچا کر) امن دیا۔  [قريش: 1 - 4]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو قرآن مجید سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے  اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

اللہ تعالی کی نعمتوں، رحمتوں اور عنایتوں پر تمام تعریفیں اسی کیلیے ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے آسمان و زمین اور ان کے مابین بلندیوں میں اس کا کوئی شریک نہیں ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد  اللہ کے بندے اور رسول  ہیں، حبِ الہی، قربانیوں اور وفائے عہد میں آپ کا کوئی ثانی نہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ،صحابہ کرام اور ان کے پیروکاروں پر دائمی رحمتیں قیامت تک نازل فرمائے۔

حمد  اور درود کے بعد:  میں تمام سامعین اور اپنے آپ کے تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں۔

اللہ کے بندو!

کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات بھول کر حالاتِ حاضرہ اور عیش پرستی میں اتنے گم ہو جاتے ہیں کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دے بیٹھتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (پانچ  چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت سمجھو: جوانی کو بڑھاپے  سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے، امیری کو غربت سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے)

انسان اپنے مستقبل سے اس وقت ناآشنا ہو جاتا ہے جب ظاہری زندگی  سے دل لگا بیٹھے، دنیا کی چکا چوند  اور آب و تاب سے دھوکا کھا جائے۔

دائمی مستقبل ہم سب کا منتظر ہے، اس میں ہمیشہ فرحت و مسرت ہو گی یا عذاب و عقاب! اور وہ ہے روزِ قیامت یومِ جزا و ثواب!

یہ دائمی مستقبل اسی وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب انسان اہل و عیال کو چھوڑ  دیتا ہے اور اسے مٹی تلے دفن کر دیا جاتا ہے، پھر اسے مزید عمل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

یہ مستقبل ایسا ہے جسے ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھ کر اس کیلیے تیاری کرنا لازمی امر ہے، ہمارے اس مستقبل کو تحفظ دینے کیلیے عملی اقدامات رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان میں موجود ہیں: (سات چیزیں ایسی ہیں جن کا اجر بندے کیلیے قبر میں بھی جاری رہتا ہے: کسی کو علم سکھانا، نہر کھدوانا، پانی کا کنواں تیار کروانا، کھجور کا درخت لگانا، مسجد تعمیر کروانا، یا قرآن مجید کا نسخہ ترکے میں چھوڑنا، یا نیک اولاد کا والدین کی وفات کے بعد بخشش کی دعا کرنا)

قرآن کریم میں ایسی اقوام کا ذکر بھی کیا ہے جن کے پاس دائمی مستقبل اچانک بغیر کسی تیاری  اور عمل کے آگیا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ} اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ : '' ہم تو ایک گھڑی  سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے '' اسی طرح وہ (دنیا میں بھی) غلط اندازے لگایا کرتے تھے  [الروم: 55]

اسی طرح فرمایا: {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا} جب وہ اسے دیکھیں گے تو انہیں ایسا معلوم  ہوگا کہ گویا وہ (دنیا میں) بس ایک پچھلا یا پہلا پہر ٹھہرے تھے۔ [النازعات: 46]

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود وسلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ اللہ اور اس کے فرشتے  نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود  و  سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وعَلَى آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، ، کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! اپنے دین، قرآن، سنت نبوی اور تیرے مومن بندوں کی مدد فرما۔

 یا اللہ! تیرے دین کے غلبے کیلیے کوشاں لوگوں کی مدد فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو رسوا کرنے والوں  کو ذلیل و خوار فرما ۔

یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!

یا اللہ! پوری دنیا میں اسلام اور تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما،  یا اللہ! پوری دنیا میں کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان کا حامی و ناصر اور مدد گار بن ۔

یا اللہ! مسلمان بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندوبست فرما، وہ ننگے پاؤں ہیں انہیں جوتے فراہم فرما، ان کے تن برہنہ ہیں انہیں ڈھانپنے کیلیے کپڑے عطا فرما، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت کا سوال کرتے ہیں، اور جہنم سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی جامع خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر اختتام تک ، ظاہری ہو یا باطنی  سب کا سوال کرتے ہیں، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کو غلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لیے ہدایت  آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ہم پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ! ہمیں تیرا ذکر، شکر اور تیرے لیے ہی مر مٹنے والا بنا،  تیری طرف رجوع کرنے والا اور تجھ ہی سے توبہ مانگنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہ معاف فرما، ہمارے دلائل ثابت فرما، ہماری زبانوں کو  درست سمت عطا فرما، اور ہمارے سینوں  کے میل نکال باہر فرما۔

یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما،         بیماروں کو شفا یاب فرما، اور ہمارے معاملات کی باگ ڈور سنبھال لے،  یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! تو ہی معبودِ بر حق ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہی غنی ہے ہم تیرے در کے فقیر ہیں، ہمیں بارش عطا فرما، اور ہمیں مایوس مت فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! عذاب، تباہی، غرق اور منہدم کرنے والی بارش نہ ہو، یا اللہ! بارش کے ذریعے دھرتی کو زندہ فرما، بندوں کو پینے کا پانی مہیا فرما، اور اس پانی کو شہروں اور دیہاتوں سب کیلیے مفید بنا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ ان کے تمام کام اپنی رضا کیلیے بنا لے یا رب العالمین!  یا اللہ! ان کے دونوں نائبوں کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو کتاب و سنت کے نفاذ اور شریعت کو بالا دستی دینے کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!

}رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ { ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف  نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] }رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ{ اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے,  اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10]  }رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ{ ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ { اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو ، وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

ملاحظہ کیا گیا 501 بار آخری تعدیل الأربعاء, 19 نيسان/أبريل 2017 14:01

جدید خطبات

خطبات

  • سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    پہلا خطبہ یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں سیدنا محمد  -ﷺ-اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی  اور امت کی مکمل خیر خواہی فرمائی، نیز  راہِ حق میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    ﷽   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے  ہیں، اسی نے اپنے بندوں  میں روزی، رزق اور اپنا فیض تقسیم فرمایا، اللہ تعالی نے چوری حرام قرار دی اور اس پر چوروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر فرمائی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک  نہیں  ، اسی کا فرمان ہے: {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ} تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گا۔ [النحل: 96]، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا گیا۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر  اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک آفتاب  طلوع ہوتا رہے اور سورج کی روشنی چمکتی رہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! اللہ سے ڈرو، کہ تقوی الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اس کی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ایسے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے17-ذوالحجہ-1438  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں"نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے سعادت حج پانے والوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور عبادت کی قبولیت کیلیے جد و جہد از بس ضروری ہے، چنانچہ عدم ایمان کے باعث کافر اور منافق کا کوئی بھی عمل  آخرت میں فائدہ نہیں دے گا البتہ انہیں دنیا میں پورا بدلہ دے دیا جائے گا،  عمل کی قبولیت کیلیے اخلاص اور اتباعِ سنت  لازمی امور ہیں،  اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کا مقصود  اور مطلوب صرف رضائے الہی ہو ، جس کیلیے نیت  بنیادی کردار کی حامل ہے؛ کیونکہ نیت کی وجہ سے چھوٹا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: تقوی، تسلسل کے ساتھ نیکیاں، نیکی کیلیے دلی رغبت، نیکی پر ثابت قدمی اور انسانی اعضا کا صحیح سلامت رہنا نیکی قبول ہونے کی علامات میں سے ہیں،  اگر انسان کو عبدیت کی حقیقی معرفت مل جائے تو اسے اپنی ساری زندگی کی عبادات بھی ہیچ نظر آئیں اسی لیے تو…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    پہلا خطبہ: یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور  بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقہ ڈور، خلوت اور جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان  اور نگران سمجھو۔ مسلمانو! اللہ تعالی صفاتِ جلال اور جمال سے موصوف ہے۔ اس کی ذات، اسما، صفات اور افعال سب ہی کامل ترین ہیں۔ اس کا کوئی ہم نام یا ہم سر نہیں ، اس کی کوئی شبیہ یا اس کا کوئی ثانی نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟۔ پہلا خطبہ تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کیلیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اسی میں سعادت مندی اور خوشحالی پنہاں ہے۔ اللہ کے بندو! ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کیلیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کیلیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم