بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

السبت, 31 كانون1/ديسمبر 2016 18:43

نوجوانوں کو قیمتی سرمایہ کیسے بنائیں؟

مولف/مصنف/مقرر  جسٹس صلاح بن محمد البدیر, ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

 

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں اسی نے جود و سخا اور نعمتوں کے دریا بہائے، میں اپنے دل، اعضا اور زبان سے اسی کی حمد بیان کرتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اس گواہی کے بدلے ہم کامیابی، رضائے الہی اور جنت چاہتے ہیں،  اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور چنیدہ رسول ہیں ،آپ خاندان ِمعد اور عدنان کا لب لباب اور خلاصہ ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر رحمتیں  اور سلامتی  نازل فرمائے  جنہوں نے زبانِ گفتار اور ہتھیار سے باطل کا مقابلہ کیا۔

حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو!

تقوی الہی اختیار کرنے کیلیے اللہ کے پسندیدہ امور بجا لاؤ اور اس کی نافرمانی سے بچو: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے کما حقُّہ ڈرو  اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

مسلمانو!

نوجوانوں کی صلاحیتیں عظیم ترین ذخیرہ اور بہترین  خزانہ ہیں ،ان کی رہنمائی کے ذریعے ہمہ قسم کی کامیابیاں حاصل ہو سکتی ہیں،  نو عمری  کا مرحلہ لڑکپن ، صغر سنی اور نا تجربہ کاری سے کنایہ ہے، اس مرحلے میں انسان کی قوتِ ادراک کمزور  اور فکر و سوچ ناقص ہوتی ہے، صغر سنی میں انسان دوسروں سے متاثر اور مرعوب ہونے کا رسیا ہوتا ہے، بنا سمجھے دوسروں نقالی ، مشابہت اور ادا کاری کرنے لگتا ہے، عام طور پر مشکل کام معمولی اشارے ، بڑوں کی رہنمائی اور تھوڑی سی مدد سے ہی کرتا ہے۔

جس وقت بھی نو عمر لڑکوں یا لڑکیوں کو کوئی بھی مثالی شخصیت نظر آئے تو اسی کی طرف میلان کر لیتے ہیں، اسی کی صفات اپنا کر اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ویسے ہی کام کرتے ہیں، عام طور پر اسی کا ذکر زبان زد عام ہوتا ہے، اسی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں، اسی کے گن گاتے ہیں اور اپنی شکل و صورت اسی جیسی بناتے ہیں، اپنی چال ڈھال اور لباس اسی جیسا  اپناتے ہیں، نو عمر اپنی سوچ اور رویے میں اسی کو آئیڈیل سمجھتے ہیں۔

بچپن، نو عمری اور کچا ذہن ؛ سادگی اور معصومیت کا گہوارہ ہے، اس مرحلے میں فطانت، ذہانت اور تجربہ کاری کم ہوتی ہے،   چنانچہ نو عمری میں  اگر کسی غیر معتمد شخص کی رفاقت ملے  جس کے عقیدے، امانت اور دیانت کے بارے میں شکوک و شبہات ہوں تو  یہ خبیث انسان انہیں غیر محسوس طریقے سے گمراہ کر دیتا ہے، وہ باطل کے چنگل میں انہیں پھنساتے ہوئے ذرا احساس نہیں ہونے دیتا، اور لا علمی میں نو عمر لڑکوں کو زہر کا پیالہ پلا دیتا ہے، اس خبیث شخص کے معاونین  دین، ملک، اہل خانہ، اور عزیز و اقارب سب کے مجرم اور دشمن ہوتے ہیں، لیکن نو عمر جوان کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ درندہ صفت  اور چیر پھاڑ کر دینے والے بھیڑیے اور شکاری پرندے کی طرح اچکنے والے ہوتے ہیں، انہیں انتظار ہوتا ہے کہ کب سرپرست کی توجہ ہٹے  اور پدری شفقت رکھنے والا باپ اپنے بچوں سے غافل ہو اور ہم  معصوموں کو اچک لیں۔

جو شخص اپنی اولاد کو درندوں کی وادی عبور کرنے اور بھوکے بھیڑیوں کا مقابلہ کرنے کیلیے اکیلا  چھوڑ دے!
اندھیری راتوں اور ریگزاروں میں تنہا چلنے دے تو حقیقت میں اس نے اپنی اولاد کا سودا کر کے ضائع کر دیا  ، نیز انہیں بد ترین مخلوق کے چنگل میں پھنسا  کر ان کے لیے ہدف کو مزید آسان بنا دیا !!

جو شخص اپنی اولاد کو لہو و لعب اور گناہوں  کیلیے کھلا چھوڑ دے کہ  پر فتن  زمین پر ٹامک ٹوئیاں ماریں، لوگوں کی بھیڑ میں گھسیں، جسے چاہیں مرضی سے دوست بنائیں، ان کی نگرانی کرنے والا کوئی نہ ہو، بلا روک ٹوک گھر سے باہر رات گزاریں، بغیر کسی وجہ کے گھر سے دور رہیں، تو اس نے اپنی اولاد پر بہت ظلم کیا، وہ اس وقت ماتھے پر کلنک ثابت ہونگے جب وہ شیطانی چیلوں، بزدلوں کی تقاریر، انتہا پسندوں کی تحاریر ، خفیہ تنظیموں ، دہشت گرد اور تکفیری جماعتوں  کی بھینٹ چڑھ جائیں گے، اس وقت گروہ بندی، لادینیت اور فحاشی پھیلانے میں مصروف تحریکیں اور تنظیمیں نوجوانوں کے دلوں میں ہمارے دین، حکمران، علما اور ملک کے بارے میں کینہ پیدا کر رہی ہیں۔

اے بے باک نوجوان! دیکھنا کہیں دھوکا مت کھانا ، اور کسی بھی فتنہ پرور کی بات پر کان مت دھرنا،   اپنے گھر ، وطن، اخلاقیات، عزت آبرو اور دین سے دور مت نکل جانا ۔

اے صحرائے گم صم میں چندھیائی ہوئی آنکھیں لیکر سرگرداں  پھرنے والے !
اے بنجر زمین کو  بغیر زادِ راہ اور پانی کے عبور کرنے والے!
باز آجاؤ!  بصیرت سے کام لو!  پہلے دیکھو  !اور عقل کے ناخن لو!
اپنے مولا کی جانب متوجہ ہو جاؤ!
 اپنے ہاتھوں سے کئے ہوئے گناہوں سے توبہ کرو!
 خطاؤں اور برائیوں سے باز آ جاؤ؛ کیونکہ (گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے کہ جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں)

سرپرست اور والدین! عبرت حاصل کریں، اور اپنی اولاد کا خصوصی خیال رکھیں، آپ کے آس پاس گھومنے پھرنے والے  لوگوں پر کڑی نظر رکھیں، ان کی دھوکا دہی سے بچیں یہ مکر و فریب  کے ساتھ نظریات کو زہر آلود کرتے ہیں  اور نو عمر  لڑکوں کو سبز باغ  دکھا کر اپنے چنگل میں پھنسا لیتے ہیں۔

بچے جب لڑکپن سے  بلوغت کو پہنچنے لگیں تو انہیں خصوصی وقت دیں، ان کا پہلے سے زیادہ خیال رکھیں، آپ کی اولاد آپ کی اسی وقت بنے گی جب تک آپ ان کیلیے الفت، پیار، نرمی، محبت، شفقت، اور خیر خواہی والا معاملہ  اپنائیں گے، اور اگر آپ  حقارت، ہتک عزت اور اہانت کرینگے تو وہ آپ کے ہاتھ سے نکل کر دشمن  کی جھولی میں جا بیٹھے گی ۔

لہذا ان کی بات غور سے سنو، اگر تم سے کچھ پوچھیں تو انہیں بتلاؤ، اگر کچھ سیکھنا چاہیں تو انہیں  سکھاؤ، اور جب تم سے مشورہ مانگیں تو ان کے سامنے اپنی زندگی کے تجربات  رکھو، لہذا ہر سوال پر  طیش مت کھاؤ، اور تشنگی باقی مت رہنے دو، کبھی بھی آگ بگولا ، اور اتنا سخت مزاج مت بنو کہ ہر وقت غیض و غضب  سے بھرے رہو۔

محبت بھرے کلمات دل صاف کر دیتے ہیں، حکمت بھری باتوں سے تسلی  ملتی ہے، اور صاحب عقل کیلیے عقلمند ی پر مبنی بات چیت ہی کافی  ہے۔

ہر بندے کے ذمے دی جانے والی رعایا کے بارے میں اللہ تعالی پوچھے گا کہ ان کا حق ادا کیا یا زیادتی کرتا رہا؟! چنانچہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی تمام ذمہ داران سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا۔ان کے حقوق ادا کئے یا ضائع کئے؟ یہاں تک کہ ہر آدمی سے اس کے اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جائے گا) ابن حبان

ماہرینِ تعلیم!

اس وقت تک بیماری بے قابو نہیں ہو سکتی ہے اور نہ ہی دوا کم پڑ سکتی  ہے جب تک آپ جیسے فاضل اساتذہ کرام اور وفا شعار معلمین  اور تربیت  کرنے والے ہوں گے، اس لیے ہمارے جوانوں کا خیال رکھتے ہوئے اللہ کا خوف ذہن میں رکھیں ! ہمارے بچوں اور اولاد  کی صحیح تربیت کریں اور ہمارے معاشرے کو کسی بھی در آمد شدہ نظریے اور مذموم اخلاق سے بچائیں۔

اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو ایفائے عہد کرنے والوں میں شامل فرمائے، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ} اے ایمان والو! اپنے آپ اور اپنے اہل خانہ کو جہنم سے بچا لو، اس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے، اس پر سخت گیر اور مضبوط فرشتوں تعینات ہیں، وہ اللہ کے کسی حکم سے عدولی نہیں کرتے اور جس چیز کا بھی انہیں حکم دیا جاتا ہے وہ کر گزرتے ہیں۔ [التحريم: 6]

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

کامل اور بلیغ ترین تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں،  حمد کا مقصد رضائے الہی کا حصول ہے، اسی سے اللہ کی طرف سے مزید عنایات ملیں گی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ، اس گواہی کے ذریعے ہم اللہ تعالی سے معافی اور رحم کی امید کرتے ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے چنیدہ ، برگزیدہ ، پسندیدہ ، راز دان، بندے ، رسول  اور نبی ہیں ، اللہ تعالی آپ پر، آپکی آل ،و صحابہ کرام ، اور آپکے نقش  قدم پر چلنے والوں پر رحمتیں اور سلامتی اس وقت تک نازل فرمائے جب تک پو پھوٹتی رہے اور روشنی پھیلتی رہے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانو!  تقوی الہی اختیار کرو، اور اسے اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نافرمانی مت کرو، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ}اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ [التوبہ : 119]

مسلمانو!

سردی پوری آب و تاب کے ساتھ تمہارے پناہ گزین، بے گھر اور شام وغیرہ سے ملک بدر ہونے والے بھائیوں پر آن پہنچی ہے ، ان کا اوڑھنا اور بچھونا برف ہے، برف کے نیچے ان کے بچے  ٹھٹھر گئے ، اور برف کے بستروں میں انکی روحیں داغِ مفارقت دے گئیں۔

انہیں خوف و ہراس قتل کر رہا ہے، دشمن محاصرہ کئے ہوئے ہیں اور یخ بستہ ٹھنڈی ہوائیں ان کا گھیرا کئے ہوئے ہیں، ان ہواؤں نے رنگ فک اور جسم خشک کر دیے ہیں ، بلکہ ٹھنڈ کی وجہ سے آب دہن  اور آب چشم بھی منجمد ہو گئے ہیں۔

ان کے اہل و عیال اور بچے کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، ان کے پاس پہننے کو کپڑا  اور  نہ رہنے کو مکان ہے، ایسے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جن کو ہوا اڑا لے جائے ، یخ بستہ اندھیریاں اکھاڑ پھینکیں، اور سیلابی پانی میں بہہ جائیں، انہی حالات میں بھوک پیاس  کا بھی انہیں سامنا ہے، ٹھٹھرتی سردی بھی ہے، بیماریوں کا  خطرہ بھی ، اور انہیں خوف و ہراس  اور ظلم و زیادتی کی اس فضا میں زندگی اور موت کی کشمکش کا مقابلہ بھی !!

اے اہل ثروت و دولت!

دکھ درد میں مبتلا اور پریشان حال  لوگوں کی مدد کو پہنچو، بیماروں اور زخمیوں کو طبی امداد پہنچاؤ، بے گھر اور مظلوموں کے دکھ  درد بانٹو، فقراء، محتاج اور مساکین کی مدد کرو۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص ایک کھجور کے برابر پاکیزہ روزی سے صدقہ کرے  - اللہ تعالی صرف پاکیزہ ہی قبول فرماتا ہے- تو اللہ تعالی اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرما کر  صدقہ کرنے والے کیلیے بڑھاتا اور پروان چڑھتا ہے، جیسے کہ تم اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتے ہو اور وہ پہاڑ جیسا بن جاتا ہے) بخاری

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود -اللہ تعالی ان کی تائید اور مدد فرمائے – نے شامی عوام کی مدد کیلیے قومی سطح پر ایک مہم کا آغاز کیا ہے، تا کہ مظلوموں کی مدد ہو اور ہمارے پیارے ملک شام کے زخم مندمل ہوں۔

اللہ تعالی انہیں ڈھیروں اجر و ثواب سے نوازے، انہیں صحت و عافیت عطا فرمائے۔

اور آپ  سب جود و سخا کے دھنی ہو، آپ  عطیات دیتے ہوئے فیاضی سے کام لیتے ہو اس لیے اس مہم میں بھی خوب حصہ لو، صدقات دو، مال و دولت ذخیرہ کر کے روکو مت  ورنہ تم سے رزق روک لیا جائے گا، صدقہ کرتے ہوئے شمار نہ کرو مبادا تمہیں شمار کر کے اجر دیا جائے۔

وہ شخص مبارکبادی کا مستحق ہے جو دوسروں کی مصیبتیں دور کرنے کیلیے اپنا مال خرچ  کرے اور ان کی ضرورتیں ، حاجتیں اور پوری کرے، {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ} تم جو بھی [اللہ کی راہ میں]خرچ کرو گے وہ تمہیں واپس لوٹا دے گا اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔[سبأ: 39]

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی  ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر  دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

یا اللہ! ہمارے رسول  اور نبی سیدنا محمد پر درود  و سلام نازل فرما،  ! تمام صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما،  یا اللہ! دین کی حفاظت فرما، اور جارحین، ظالموں ، قاتلوں اور مجرموں کو تباہ و برباد فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمارے بھائیوں کی شام اور فلسطین میں مدد فرما،  پوری دنیا میں جہاں بھی موحدین پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں یا اللہ! ان کی مدد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کے امن و امان ، استحکام اور شان و شوکت کو دائمی بنا۔

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ اور تیری رضا کا باعث بننے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور نیکی و تقوی کے کاموں کیلیے ان کی رہنمائی فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری شریعت اور تیرے نبی محمد ﷺ  کی سنت کے نفاذ کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ فرما، یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ فرما، ہماری فوج کی حفاظت فرما ، یا اللہ! اپنی جانوں کو پیش کرنے والوں کو شہدا میں قبول فرما، اور زخمیوں کو جلد از جلد شفا یاب فرما، یا سمیع الدعاء!

یا اللہ! ہمیں تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان دوریاں فرما دے، ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو تجھ سے ڈرتے ہیں اور تیرا تقوی اپناتے ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! مریضوں کو شفا یاب فرما ، مصیبت زدہ لوگوں کی مشکل کشائی فرما، قیدیوں کو رہائی نصیب فرما ،فوت شدگان پر رحم فرما، اور ہم پر زیادتی کرنے والوں خلاف ہمیں کامیابیاں عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، یا سمیع ! یا قریب! یا مجیب! ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں رب العالمین کیلیے ہیں۔

ملاحظہ کیا گیا 424 بار آخری تعدیل السبت, 31 كانون1/ديسمبر 2016 18:48

جدید خطبات

خطبات

  • نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    حمد و صلاۃ کے بعد: کتاب اللہ بہترین  کلام ہے، اور سیدنا محمد ﷺ  کا طریقہ سب سے بہترین طریقہ ہے، دین میں شامل کردہ خود ساختہ امور بد ترین امور ہیں، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ۔ اللہ کے بندو میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی نے پہلے گزر جانے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کو  اسی کی نصیحت فرمائی ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور یقیناً ہم نے تم سے پہلے کتاب دیئے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131] مسلم اقوام! وقت کا تیزی سے گزرنا عظیم نصیحت ہے، دنوں کا آ کر چلے جانا بہت بڑی تنبیہ ہے، {إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ} بیشک رات اور دن کے آنے جانے  میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں متقی قوم کیلیے نشانیاں ہیں۔[يونس: 6] اللہ کے بندو! ہم نے چند دن پہلے  مبارک مہینے ،نیکیوں  اور برکتوں کی عظیم بہار کو الوداع کہا ہے،  یہ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    ﷽ فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 30 -شعبان-1438  کا خطبہ جمعہ  بعنوان " عبادات کا مہینہ ماہ رمضان" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ انسان نیکی کرے یا بدی اس کا نفع یا نقصان صرف انسان کو ہی ہوتا ہے وہ اپنی بدی سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، چنانچہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے خصوصی فضیلت بخشی  اور اس ماہ میں تمام تر عبادات یکجا فرما دیں ، اس مہینے میں نماز، روزہ، عمرے کی صورت میں حج اصغر، زکاۃ ، صدقات و خیرات اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت میں خصوصی دروازہ ہے اور ہر نیکی کا بدلہ اس کی نوعیت کے مطابق دیا جائے گا بالکل اسی طرح گناہ کا بدلہ بھی اسی کے مطابق ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ: آپ ﷺ شعبان کے آخر میں رمضان کی خوشخبری دیتے تھے، نیز رمضان سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ   اور حقوق العباد کی ادائیگی استقبالِ رمضان میں شامل ہے، نیز روزے کے دوران جس قدر مختلف نیکیاں قیام، صیام، صدقہ، خیرات، غریبوں کی مدد، کسی کا ہاتھ بٹانا وغیرہ کی جائیں تو ان…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 16-شعبان- 1438  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "شکر،،، نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  کہا کہ شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ اور دوام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق شکر گزاروں کو مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، انہوں نے کہا کہ نعمتوں کا صحیح استعمال  اور گناہوں سے دوری  دونوں کا نام شکر ہے، اگر اللہ کی نعمتوں پر تکبر اور گھمنڈ کیا جائے تو یہ صریح ناشکری ہے اور نعمتوں کے زائل ہونے کا پیش خیمہ ہے، کسی فاسق و فاجر کو نعمتیں حاصل ہوں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور اللہ تعالی ڈھیل کو اچانک ختم   فرماتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرعی احکامات سے بچنے کیلیے حیلے بہانے تلاش کرنا فاسق لوگوں کا وتیرہ ہے، جبکہ مومن  کا اخلاق اس سے کہیں بلند ہوتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قناعت پسندی شکر گزاری کا سبب بنتا ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہ ہو تو وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے،  آخر میں …
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ﷽ پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم