پرنٹ
الإثنين, 28 تشرين2/نوفمبر 2016 14:00

قلم، قلم کار اور سماجی رابطے کے ذرائع

مولف/مصنف/مقرر  جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ , ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے مخلوقات کو پیدا کیا، بوسیدہ ہڈیوں کو زندگی بخشی، ہر ایک کو اس کا حصہ دیا، اس نے فیصلے کیے تو اٹل کیے، انعامات دئیے تو بے بہا دئیے ، عنایات کی تو معزز بنا دیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، {عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} اسی نے قلم کے ذریعے سکھایا [4] انسان کو وہ کچھ سکھایا جو اسے علم نہیں تھا۔[العلق: 4، 5]،  اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ،آپ کو مضبوط ترین دین کے ساتھ مبعوث کیا گیا، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور سب سے آگے بڑھنے والے صحابہ کرام  پر دائمی اور قیامت تک کیلیے ہمیشہ رحمتیں  اور سلامتی  نازل فرمائے ۔

حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو!

اللہ تعالی سے ڈرو جس سے کوئی ہدف یا نیت مخفی نہیں ہے،  اللہ تعالی کے سامنے کوئی پوشیدہ یا دلوں کا راز چھپا ہوا نہیں ہے، {وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} اور اللہ تعالی سے ڈرو، جان رکھو کہ اللہ تعالی ہر چیز سے اچھی طرح واقف ہے۔[البقرة: 231]

مسلمانو!

عقل و فکر ، قلم کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں، اور قلم ہی ضمیر کیلیے زبان کا کام کرتا ہے، اس سے تحریر وجود میں آتی ہے اور علم و معرفت قلم ہی پر قائم ہیں۔

 کتابیں بصیرت کو جلا بخشتی ہیں، تنہائی میں انس فراہم کرتی ہیں ، ان سے پریشانی زائل اور ظلمت کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔

کتب بینی عقلمندوں کی عادت اور فطین لوگوں کی فطرت ہے، بہت سے لکھاری ادیب اور دانا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے مصلحت کا خیال رکھتے ہیں، ان کے اہداف مثبت ہوتے ہیں وہ  خیر خواہی چاہتے ہوئے پانی پر بھی تحریر ثبت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اللہ تعالی کو اپنا نگہبان بھی سمجھتے ہیں، کچھ لکھاری ایسے ہی جن میں ہوشیاری یا فنکاری بالکل نہیں ہوتی، ان کی رائے قابل قدر نہیں ہوتی، انہوں نے اخبارات اور ویب سائٹس کو بھدے کالموں سے بھر دیا ہے ، عقل و رشد سے عاری بے مقصد تحریروں اور فضول، ردّی، لاغری اور رقیق پن سے معمور مضمونوں کی بہتات لگا دی ہے۔

فَمَن لِلقَوافي شانَها مَن يَحوكُها

إِذا ما ثَوى كَعبٌ وَفَوَّزَ جَـروَلُ

جب کعب اور اس کا شاگرد حطیئہ فوت ہو جائے گا تو معیوب شعروں کی اصلاح کون کرے گا؟

يَقولُ فَلا يَعيا بِشَيءٍ يَقولُهُ

وَمِن قائِليها مَن يُسيءُ وَيَعمَلُ

جو اظہار ما فی الضمیر پر مکمل قدرت رکھے، ورنہ شعر کہنے والوں میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو غلط شعر کہتے ہیں مگر پھر بھی باز نہیں آتے۔

کچھ قلم کار اور لکھاری عوام الناس کو جہالت، ہلاکت اور آفت کی جانب ہانک رہے ہیں، ان کا مقصد شر انگیزی، فتنہ پروری، لوگوں میں ہنگامہ آرائی بپا کرنا ہے، وہ ہمارے دین، معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کو گدلا کرنا چاہتے ہیں،  وہ ہمارے ملک، علمائے کرام اور ملکی قیادت کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر لکھاریوں، پڑھنے والوں، قلم کاروں اور ٹویٹ کرنے والوں کی بھر مار ہے، ان میں ہمیں صرف خوف و ہراس سے بھرے ہوئے لیکن عقل و دانش سے کھوکھلے دماغ ہی نظر آتے ہیں، تمام اپنا سا منہ لیکر ان آلات پر اوندھے پڑے ہوئے ہیں، ہر کوئی لکھ  پڑھ رہا ہے، بلاگ کی تدوین یا ٹویٹ کر رہا ہے، بے مقصد چیزیں نشر کر رہا ہے، کاش کہ یہ سب کچھ  مفید اور سود مند کاموں کیلیے ہوتا جس سے شر کا خاتمہ ہو اور آخرت کیلیے نیکیوں کا ذخیرہ بڑھے، الّا ما شاء اللہ چند لوگ ہی ایسے ہیں جو سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہیں۔

مسلمانو!

دشمن کے جال بچھے ہوئے ہیں، پھندے بکھرے ہوئے ہیں، لوگوں کو آج کل  نامعلوم شخصیات کی طرف سے بنائے جانے والے رجحانات یعنی ہیش ٹیگ، کے ذریعے خاص مقاصد کی جانب کھینچا جاتا ہے،  ان رجحانات اور ٹرینڈ کے موضوعات  سے بد نیتی عیاں ہوتی ہے، ان کے نام سے ہی برے مقاصد   واضح ہوتے ہیں، ان کے بنائے ہوئے گڑھے اور کھائی میں گرنے والا ہی ان کے ہیش ٹیگ کے پیچھے لگ کر جلد بازی مچاتے ہوئے سوچے سمجھے بغیر اپنا تبصرہ جڑ دیتا ہے اور ان کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے۔

خبردار  اور ہوشیار  رہو؛ کیونکہ قلم لکھ چکی ہے، فرشتے نے اعمال لکھ لیے ہیں ، قلم اٹھا لی گئی ہے اور کتاب تقدیر نے اعمال شمار کر لیے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: { وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ (52) وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ} اور جو کچھ بھی انہوں نے کیا ہے سب درج ہے۔  [52] اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔ [القمر: 52، 53] تمام چھوٹے بڑے اعمال صحیفوں میں لکھ دیئے گئے ہیں، ان کی تفاصیل کھاتوں میں رقم کر دی گئی ہے، تمہارا پروردگار یاد رکھنے والا، نگہبان، ہر چیز پر شاہد اور جاننے والا ہے، اس پر تمہاری چھوٹی سے چھوٹی یا بڑی سے بڑی تحریر ، بلاگ، اور کالم مخفی نہیں ہے ۔

مسلمانو! اگر کوئی شخص گناہوں کی بساط پر لڑھک گیا ہے تو وہ گناہوں والی بساط لپیٹ دے ، درج شدہ گناہوں کو مٹا لے، گندگی اور خباثت کو آنسووں سے دھو دے۔

فحاشی اور گناہوں کو ترویج دینے والی ویب سائٹس بنا کر گناہوں کی دلدل میں پھنسنے والو ! تم ان کے ذریعے ہلاکت خیز گناہوں کی دعوت دے رہے ہو، تم اپنا اور تمہاری وجہ سے گمراہ ہونے والے سب لوگوں  کا بوجھ اٹھاؤ گے، تمہاری بے راہ روی کی وجہ سے بھٹکنے والوں کا خمیازہ بھی بھگتو گے، تمہارے ان گناہوں کا بوجھ اور وزن بہت ہی سنگین اور برا ہے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جس شخص نے راہِ ہدایت کی دعوت دی تو اُسے بھی راہِ ہدایت پر چلنے والوں کے برابر ثواب ملے گا، نیز رہنما کو ثواب ملنے کی وجہ سے پیروکاروں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی، اور جس شخص نے گمراہی کی دعوت دی تو اُسے بھی میں گمراہ ہونے والوں کے برابر گناہ ملے گا، نیز گمراہ کنندہ کو گناہ  ملنے کی وجہ سے گمراہ ہونے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔)مسلم

مسلمانو!

سوشل میڈیا پر تمہاری تحریریں، پوسٹیں اور سرگرمیاں ایسی ہونی چاہییں جو تمہیں مولی کریم کے قریب کر  دیں، تمہیں اس کی جنت اور ٹھہرنے کی معزز  جگہ کا حقدار بنا دے، گناہوں پر اصرار کرنے والا نقصان اٹھائے گا، گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جانے والا ہی بد بخت ہو گا، {وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔[الحجرات: 11] اور (گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہوتا ہے جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں)

{قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ } آپ لوگوں سے کہہ دیں: میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے [الزمر: 53]

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کی بخشش اللہ تعالی سے چاہتا ہوں تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ہمہ قسم کی حمد اللہ کیلیے ہے وہ بلند و بالا  اور بہت بڑا ہے، اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ان کا صحیح تخمینہ لگایا، تمام مخلوقات کے معاملات کو مدبرانہ انداز میں چلایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اس گواہی کے بدلے میں اللہ تعالی سے معافی، مغفرت اور جہنم کے عذاب سے نجات چاہتے ہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو بشیر و نذیر اور سراج منیر بنا کر ارسال فرمایا، اللہ تعالی اُن پر، ان کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،سلامتی،  اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانو!  تقوی الہی اختیار کرو، اور اسے اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نافرمانی مت کرو، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ}اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ [التوبہ : 119]

مسلمانو!

اپنے پناہ گزین، گھر بدر، مظلوم اور ملک بدر بھائیوں کو یاد رکھو، ان کے علاقوں میں ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے، انہیں کھانے پینے اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے، ان کے پاس لحاف اور لباس  نہیں ہیں، ان کے پاس سردی سے بچاؤ کے وسائل کم ہیں!!

غریب دہائی دے رہے ہیں، کمزور مدد کیلیے پکار رہے ہیں، مجبور و لاچار چیخ رہے ہیں، ہر طرف وہی لوگ نظر آ رہے ہیں جن کے ہاتھ بہت تنگ ہیں اور ان کی مصیبت بڑھتی جا رہی ہے!!

مؤمن لوگوں پر سب سے زیادہ رحمت، شفقت اور احسان کرنے والے ہوتے ہیں، فقیروں ، یتیموں اور مساکین پر دست شفقت رکھتے ہیں، بیواؤں اور طلاق یافتہ خواتین پر ترس کھاتے ہیں، مصیبت زدہ اور کمزوروں پر نرمی کرتے ہیں، تکلیف میں پھنسے افراد  اور لا چاروں کے کام آتے ہیں ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (بیوگان  اور مساکین کا خیال رکھنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور اس شخص کی طرح ہے جو رات کو قیام اللیل سے نہ تھکے اور دن میں مسلسل روزے رکھے) متفق علیہ

اس لیے غریبوں  اور مساکین کا خیال رکھو، حقوق سے محروم اور بے سہارا لوگوں کا سہارا بنو، پناہ گزینوں اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرو، انہیں صدقہ و خیرات دو، صدقہ کرتے ہوئے شمار نہ کرو مبادا اللہ تعالی بھی تمہیں شمار کر کے اجر دے ، مال و دولت ذخیرہ کر کے روکو مت کرو ورنہ اللہ تعالی بھی روکنا شروع کر دے گا، عطیات دینے میں جلدی کرو، تاخیر سے بچو اور {وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} نیکی کرو اللہ تعالی نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔[البقرة: 195]

مسلمانو!

حالات و واقعات ہمیں ہوشیار اور بیدار کر رہے ہیں، ہمیں سبق سیکھنے نصیحت پکڑنے کی تلقین کرتے ہیں، اللہ کے سامنے گڑگڑانے اور عاجزی کرنے ترغیب دیتے ہیں، ان حالات و واقعات سے دلوں کا امتحان لیا جاتا ہے اور لوگوں کو آزمایا جاتا ہے، لہذا اپنے دلوں کو سرخ و سیاہ سے مت جوڑو، کیونکہ جو مادی اشیا سے دل جوڑ لے اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی سے دل جوڑنے والے کو اللہ تعالی کافی ہے اور اللہ تعالی پر بھروسا کرنے والے کو اللہ تعالی بچا لیتا ہے۔

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی  ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر  دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود  و سلام نازل فرما،  ! تمام صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، دین  کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما، دین کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما۔

یا اللہ! ہم گمراہ کن فتنوں ، شیطانی چالوں اور دین دشمنوں کے تسلط سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! حلب میں ہمارے بھائیوں کو اپنی خصوصی حفاظت، ضمانت اور احسان   کے ذریعے محفوظ فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ان کیلیے تمام مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا، تمام مصیبتوں سے خلاصی عطا فرما، تمام آزمائشوں سے انہیں عافیت عطا فرما، یا رب العالمین! تو ہی ہمارا الہ ہے، ہم تیری ہی پناہ چاہتے ہیں، تجھ پر ہی ہمارا بھروسا ہے۔

یا اللہ! شام  میں ملحد اور بت پرستوں سے ہمارے بھائیوں کی حفاظت فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! جارحیت کرنے والے ملحد اور بت پرست ظالموں پر اپنی پکڑ نازل فرما،  یا اللہ! ان کی فوجوں کو داغدار فرما دے، ان کے پایۂ تخت کو تباہ فرما دے، یا اللہ! انہیں انہی کے اسلحے سے تباہ فرما دے، انہی کی لگائی ہوئی آگ میں انہیں بھسم فرما دے،  اور ان پر اپنا خصوصی لشکر مسلط فرما ، یا قوی! یا عزیز! یا رب العالمین!

یا اللہ! انہیں ناکام فرما، ان کے تمام اہداف غارت فرما، اور بعد میں آنے والوں کیلیے انہیں نشانِ عبرت بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کے امن و امان ، استحکام اور یگانگت کو دائمی بنا، یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ فرما، ہماری فوج کی حفاظت فرما ، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ اور تیری رضا کا باعث بننے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور نیکی و تقوی کے کاموں کیلیے ان کی رہنمائی فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری شریعت اور سنت نبوی -ﷺ-کے نفاذ کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما ، تمام مریضوں کو شفا یاب فرما،  قیدیوں کو رہائی نصیب فرما، اور ہم پر زیادتی کرنے والوں خلاف ہمیں کامیابیاں عطا فرما۔

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں رب العالمین کیلیے ہیں۔

ملاحظہ کیا گیا 1828 بار آخری تعدیل الإثنين, 28 تشرين2/نوفمبر 2016 14:05

اسی سے ملتا جلتا