بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الإثنين, 28 تشرين2/نوفمبر 2016 14:00

قلم، قلم کار اور سماجی رابطے کے ذرائع

مولف/مصنف/مقرر  جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ , ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے مخلوقات کو پیدا کیا، بوسیدہ ہڈیوں کو زندگی بخشی، ہر ایک کو اس کا حصہ دیا، اس نے فیصلے کیے تو اٹل کیے، انعامات دئیے تو بے بہا دئیے ، عنایات کی تو معزز بنا دیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، {عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} اسی نے قلم کے ذریعے سکھایا [4] انسان کو وہ کچھ سکھایا جو اسے علم نہیں تھا۔[العلق: 4، 5]،  اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ،آپ کو مضبوط ترین دین کے ساتھ مبعوث کیا گیا، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور سب سے آگے بڑھنے والے صحابہ کرام  پر دائمی اور قیامت تک کیلیے ہمیشہ رحمتیں  اور سلامتی  نازل فرمائے ۔

حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو!

اللہ تعالی سے ڈرو جس سے کوئی ہدف یا نیت مخفی نہیں ہے،  اللہ تعالی کے سامنے کوئی پوشیدہ یا دلوں کا راز چھپا ہوا نہیں ہے، {وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} اور اللہ تعالی سے ڈرو، جان رکھو کہ اللہ تعالی ہر چیز سے اچھی طرح واقف ہے۔[البقرة: 231]

مسلمانو!

عقل و فکر ، قلم کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں، اور قلم ہی ضمیر کیلیے زبان کا کام کرتا ہے، اس سے تحریر وجود میں آتی ہے اور علم و معرفت قلم ہی پر قائم ہیں۔

 کتابیں بصیرت کو جلا بخشتی ہیں، تنہائی میں انس فراہم کرتی ہیں ، ان سے پریشانی زائل اور ظلمت کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔

کتب بینی عقلمندوں کی عادت اور فطین لوگوں کی فطرت ہے، بہت سے لکھاری ادیب اور دانا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے مصلحت کا خیال رکھتے ہیں، ان کے اہداف مثبت ہوتے ہیں وہ  خیر خواہی چاہتے ہوئے پانی پر بھی تحریر ثبت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اللہ تعالی کو اپنا نگہبان بھی سمجھتے ہیں، کچھ لکھاری ایسے ہی جن میں ہوشیاری یا فنکاری بالکل نہیں ہوتی، ان کی رائے قابل قدر نہیں ہوتی، انہوں نے اخبارات اور ویب سائٹس کو بھدے کالموں سے بھر دیا ہے ، عقل و رشد سے عاری بے مقصد تحریروں اور فضول، ردّی، لاغری اور رقیق پن سے معمور مضمونوں کی بہتات لگا دی ہے۔

فَمَن لِلقَوافي شانَها مَن يَحوكُها

إِذا ما ثَوى كَعبٌ وَفَوَّزَ جَـروَلُ

جب کعب اور اس کا شاگرد حطیئہ فوت ہو جائے گا تو معیوب شعروں کی اصلاح کون کرے گا؟

يَقولُ فَلا يَعيا بِشَيءٍ يَقولُهُ

وَمِن قائِليها مَن يُسيءُ وَيَعمَلُ

جو اظہار ما فی الضمیر پر مکمل قدرت رکھے، ورنہ شعر کہنے والوں میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو غلط شعر کہتے ہیں مگر پھر بھی باز نہیں آتے۔

کچھ قلم کار اور لکھاری عوام الناس کو جہالت، ہلاکت اور آفت کی جانب ہانک رہے ہیں، ان کا مقصد شر انگیزی، فتنہ پروری، لوگوں میں ہنگامہ آرائی بپا کرنا ہے، وہ ہمارے دین، معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کو گدلا کرنا چاہتے ہیں،  وہ ہمارے ملک، علمائے کرام اور ملکی قیادت کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر لکھاریوں، پڑھنے والوں، قلم کاروں اور ٹویٹ کرنے والوں کی بھر مار ہے، ان میں ہمیں صرف خوف و ہراس سے بھرے ہوئے لیکن عقل و دانش سے کھوکھلے دماغ ہی نظر آتے ہیں، تمام اپنا سا منہ لیکر ان آلات پر اوندھے پڑے ہوئے ہیں، ہر کوئی لکھ  پڑھ رہا ہے، بلاگ کی تدوین یا ٹویٹ کر رہا ہے، بے مقصد چیزیں نشر کر رہا ہے، کاش کہ یہ سب کچھ  مفید اور سود مند کاموں کیلیے ہوتا جس سے شر کا خاتمہ ہو اور آخرت کیلیے نیکیوں کا ذخیرہ بڑھے، الّا ما شاء اللہ چند لوگ ہی ایسے ہیں جو سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہیں۔

مسلمانو!

دشمن کے جال بچھے ہوئے ہیں، پھندے بکھرے ہوئے ہیں، لوگوں کو آج کل  نامعلوم شخصیات کی طرف سے بنائے جانے والے رجحانات یعنی ہیش ٹیگ، کے ذریعے خاص مقاصد کی جانب کھینچا جاتا ہے،  ان رجحانات اور ٹرینڈ کے موضوعات  سے بد نیتی عیاں ہوتی ہے، ان کے نام سے ہی برے مقاصد   واضح ہوتے ہیں، ان کے بنائے ہوئے گڑھے اور کھائی میں گرنے والا ہی ان کے ہیش ٹیگ کے پیچھے لگ کر جلد بازی مچاتے ہوئے سوچے سمجھے بغیر اپنا تبصرہ جڑ دیتا ہے اور ان کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے۔

خبردار  اور ہوشیار  رہو؛ کیونکہ قلم لکھ چکی ہے، فرشتے نے اعمال لکھ لیے ہیں ، قلم اٹھا لی گئی ہے اور کتاب تقدیر نے اعمال شمار کر لیے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: { وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ (52) وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ} اور جو کچھ بھی انہوں نے کیا ہے سب درج ہے۔  [52] اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔ [القمر: 52، 53] تمام چھوٹے بڑے اعمال صحیفوں میں لکھ دیئے گئے ہیں، ان کی تفاصیل کھاتوں میں رقم کر دی گئی ہے، تمہارا پروردگار یاد رکھنے والا، نگہبان، ہر چیز پر شاہد اور جاننے والا ہے، اس پر تمہاری چھوٹی سے چھوٹی یا بڑی سے بڑی تحریر ، بلاگ، اور کالم مخفی نہیں ہے ۔

مسلمانو! اگر کوئی شخص گناہوں کی بساط پر لڑھک گیا ہے تو وہ گناہوں والی بساط لپیٹ دے ، درج شدہ گناہوں کو مٹا لے، گندگی اور خباثت کو آنسووں سے دھو دے۔

فحاشی اور گناہوں کو ترویج دینے والی ویب سائٹس بنا کر گناہوں کی دلدل میں پھنسنے والو ! تم ان کے ذریعے ہلاکت خیز گناہوں کی دعوت دے رہے ہو، تم اپنا اور تمہاری وجہ سے گمراہ ہونے والے سب لوگوں  کا بوجھ اٹھاؤ گے، تمہاری بے راہ روی کی وجہ سے بھٹکنے والوں کا خمیازہ بھی بھگتو گے، تمہارے ان گناہوں کا بوجھ اور وزن بہت ہی سنگین اور برا ہے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جس شخص نے راہِ ہدایت کی دعوت دی تو اُسے بھی راہِ ہدایت پر چلنے والوں کے برابر ثواب ملے گا، نیز رہنما کو ثواب ملنے کی وجہ سے پیروکاروں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی، اور جس شخص نے گمراہی کی دعوت دی تو اُسے بھی میں گمراہ ہونے والوں کے برابر گناہ ملے گا، نیز گمراہ کنندہ کو گناہ  ملنے کی وجہ سے گمراہ ہونے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔)مسلم

مسلمانو!

سوشل میڈیا پر تمہاری تحریریں، پوسٹیں اور سرگرمیاں ایسی ہونی چاہییں جو تمہیں مولی کریم کے قریب کر  دیں، تمہیں اس کی جنت اور ٹھہرنے کی معزز  جگہ کا حقدار بنا دے، گناہوں پر اصرار کرنے والا نقصان اٹھائے گا، گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جانے والا ہی بد بخت ہو گا، {وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔[الحجرات: 11] اور (گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہوتا ہے جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں)

{قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ } آپ لوگوں سے کہہ دیں: میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے [الزمر: 53]

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کی بخشش اللہ تعالی سے چاہتا ہوں تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ہمہ قسم کی حمد اللہ کیلیے ہے وہ بلند و بالا  اور بہت بڑا ہے، اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ان کا صحیح تخمینہ لگایا، تمام مخلوقات کے معاملات کو مدبرانہ انداز میں چلایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اس گواہی کے بدلے میں اللہ تعالی سے معافی، مغفرت اور جہنم کے عذاب سے نجات چاہتے ہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو بشیر و نذیر اور سراج منیر بنا کر ارسال فرمایا، اللہ تعالی اُن پر، ان کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،سلامتی،  اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانو!  تقوی الہی اختیار کرو، اور اسے اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نافرمانی مت کرو، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ}اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ [التوبہ : 119]

مسلمانو!

اپنے پناہ گزین، گھر بدر، مظلوم اور ملک بدر بھائیوں کو یاد رکھو، ان کے علاقوں میں ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے، انہیں کھانے پینے اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے، ان کے پاس لحاف اور لباس  نہیں ہیں، ان کے پاس سردی سے بچاؤ کے وسائل کم ہیں!!

غریب دہائی دے رہے ہیں، کمزور مدد کیلیے پکار رہے ہیں، مجبور و لاچار چیخ رہے ہیں، ہر طرف وہی لوگ نظر آ رہے ہیں جن کے ہاتھ بہت تنگ ہیں اور ان کی مصیبت بڑھتی جا رہی ہے!!

مؤمن لوگوں پر سب سے زیادہ رحمت، شفقت اور احسان کرنے والے ہوتے ہیں، فقیروں ، یتیموں اور مساکین پر دست شفقت رکھتے ہیں، بیواؤں اور طلاق یافتہ خواتین پر ترس کھاتے ہیں، مصیبت زدہ اور کمزوروں پر نرمی کرتے ہیں، تکلیف میں پھنسے افراد  اور لا چاروں کے کام آتے ہیں ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (بیوگان  اور مساکین کا خیال رکھنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور اس شخص کی طرح ہے جو رات کو قیام اللیل سے نہ تھکے اور دن میں مسلسل روزے رکھے) متفق علیہ

اس لیے غریبوں  اور مساکین کا خیال رکھو، حقوق سے محروم اور بے سہارا لوگوں کا سہارا بنو، پناہ گزینوں اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرو، انہیں صدقہ و خیرات دو، صدقہ کرتے ہوئے شمار نہ کرو مبادا اللہ تعالی بھی تمہیں شمار کر کے اجر دے ، مال و دولت ذخیرہ کر کے روکو مت کرو ورنہ اللہ تعالی بھی روکنا شروع کر دے گا، عطیات دینے میں جلدی کرو، تاخیر سے بچو اور {وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} نیکی کرو اللہ تعالی نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔[البقرة: 195]

مسلمانو!

حالات و واقعات ہمیں ہوشیار اور بیدار کر رہے ہیں، ہمیں سبق سیکھنے نصیحت پکڑنے کی تلقین کرتے ہیں، اللہ کے سامنے گڑگڑانے اور عاجزی کرنے ترغیب دیتے ہیں، ان حالات و واقعات سے دلوں کا امتحان لیا جاتا ہے اور لوگوں کو آزمایا جاتا ہے، لہذا اپنے دلوں کو سرخ و سیاہ سے مت جوڑو، کیونکہ جو مادی اشیا سے دل جوڑ لے اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی سے دل جوڑنے والے کو اللہ تعالی کافی ہے اور اللہ تعالی پر بھروسا کرنے والے کو اللہ تعالی بچا لیتا ہے۔

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی  ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر  دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود  و سلام نازل فرما،  ! تمام صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، دین  کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما، دین کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما۔

یا اللہ! ہم گمراہ کن فتنوں ، شیطانی چالوں اور دین دشمنوں کے تسلط سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! حلب میں ہمارے بھائیوں کو اپنی خصوصی حفاظت، ضمانت اور احسان   کے ذریعے محفوظ فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ان کیلیے تمام مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا، تمام مصیبتوں سے خلاصی عطا فرما، تمام آزمائشوں سے انہیں عافیت عطا فرما، یا رب العالمین! تو ہی ہمارا الہ ہے، ہم تیری ہی پناہ چاہتے ہیں، تجھ پر ہی ہمارا بھروسا ہے۔

یا اللہ! شام  میں ملحد اور بت پرستوں سے ہمارے بھائیوں کی حفاظت فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! جارحیت کرنے والے ملحد اور بت پرست ظالموں پر اپنی پکڑ نازل فرما،  یا اللہ! ان کی فوجوں کو داغدار فرما دے، ان کے پایۂ تخت کو تباہ فرما دے، یا اللہ! انہیں انہی کے اسلحے سے تباہ فرما دے، انہی کی لگائی ہوئی آگ میں انہیں بھسم فرما دے،  اور ان پر اپنا خصوصی لشکر مسلط فرما ، یا قوی! یا عزیز! یا رب العالمین!

یا اللہ! انہیں ناکام فرما، ان کے تمام اہداف غارت فرما، اور بعد میں آنے والوں کیلیے انہیں نشانِ عبرت بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کے امن و امان ، استحکام اور یگانگت کو دائمی بنا، یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ فرما، ہماری فوج کی حفاظت فرما ، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ اور تیری رضا کا باعث بننے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور نیکی و تقوی کے کاموں کیلیے ان کی رہنمائی فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری شریعت اور سنت نبوی -ﷺ-کے نفاذ کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما ، تمام مریضوں کو شفا یاب فرما،  قیدیوں کو رہائی نصیب فرما، اور ہم پر زیادتی کرنے والوں خلاف ہمیں کامیابیاں عطا فرما۔

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں رب العالمین کیلیے ہیں۔

ملاحظہ کیا گیا 1784 بار آخری تعدیل الإثنين, 28 تشرين2/نوفمبر 2016 14:05

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم