بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الأربعاء, 16 تشرين2/نوفمبر 2016 16:08

محبتِ نبوی کی علامات اور حرمتِ مکہ

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

 بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا خطبہ

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد  اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ۔

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}  اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں ہی آئے۔[آل عمران : 102]

{يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}  لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان  سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے [دنیا میں] بہت سے مرد  اور عورتیں پھیلا دیں ، نیز اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور قریبی  رشتوں کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرتے رہو ، بلاشبہ اللہ تم پر ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہے [النساء : 1]

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سچی بات کیا کرو، اللہ تعالی تمہارے معاملات درست کر دے گا، اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا ، اور جو اللہ کے ساتھ اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی کا مستحق ہے۔ [الأحزاب: 70، 71]

حمد و صلاۃ کے بعد:

لوگو! میں آپ  سب کو تقوی کی نصیحت کرتا ہوں؛ کیونکہ یہی دنیا میں سعادت مندی اور آخرت میں نجات  کا باعث ہے، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ} اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو اللہ تمہیں قوت تمیز عطا کرے گا، تم سے تمہاری برائیاں دور کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے [الأنفال: 29]

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے  ہمارے نبی محمد ﷺ کو تمام لوگوں اور سب مخلوقات سے چنیدہ ، برگزیدہ اور فضیلت والا بنایا، اللہ تعالی نے آپ کو جہانوں کیلیے رحمت اور خاتم الانبیاء وا لمرسلین بنا کر اس امت کی جانب مبعوث فرمایا، اللہ تعالی نے آپ کو گواہ، خوش خبری دینے والا، ڈرانے والا، اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا۔

اللہ تعالی نے آپ کا اختیار اعلی اور معزز ترین خاندان اور شہر سے کیا آپ کیلیے بہترین زمان و مکان چنا، آپ کا تزکیہ کامل، احسن اور افضل ترین صفات و اخلاقیات سے فرمایا۔

آپ کو اپنی تمام مخلوقات پر فوقیت دی، آپ کی شرح صدر فرمائی، آپ کا بول بالا فرمایا، آپ کی لغزشیں بھی معاف فرما دیں، بلکہ ہر چیز میں آپ کو خاص مقام عطا فرمایا، چنانچہ :

آپ کی عقل و دانش کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: {مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى} تمہارا ساتھی نہ راہ بھولا ہے اور نہ ہی بھٹکا ہے۔[النجم: 2]

آپ کے اخلاق کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} اور بیشک آپ عظیم اخلاق کے مالک ہیں۔[القلم: 4]

آپ کے حلم و بردباری کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا:   {بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} مومنوں کیلیے نہایت رحم دل اور مہربان ہیں۔[التوبہ: 128]

آپ کے علم کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: {عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى} اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا  ہے۔[النجم: 5]

آپ کی صداقت کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: {وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى} وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا ۔[النجم: 3]

آپ کے سینے کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: {أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ} کیا ہم نے آپ کی شرح صدر نہیں فرمائی۔[الشرح: 1]

آپ کے دل کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} جو کچھ اس نے دیکھا دل نے اسے نہیں جھٹلایا۔[النجم: 11]

آپ کی شان کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: {وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ} اور ہم نے آپ کی شان بلند کر دی۔[الشرح: 4]

آپ کو چنیدہ بنا کر آپ کو راضی بھی کیا اور فرمایا: {وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى} اور عنقریب آپ کو آپ کا رب اتنا عنایت کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔[الضحى: 5]

اللہ تعالی نے اپنی اطاعت کو آپ ﷺ کی اطاعت سے اور اپنی محبت کو آپ ﷺ کی محبت سے نتھی فرمایا، چنانچہ اللہ کی بندگی اور قرب الہی کا وہی طریقہ روا ہو گا جو اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی زبانی بیان کروایا، لہذا جنت کیلیے آپ ﷺ کے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔

آپ ہی لوگوں کیلیے ہدایت اور نجات کا باعث ہیں، آپ ہی شفاعت کبری کے حقدار ہیں جس دن انسان اپنے بھائی ، ماں، باپ، دوست اور اولاد سے راہِ فرار اختیار کرے گا۔

سلیم فطرت اور مثبت ذہنوں میں ان صفات اور اخلاق کی مالک شخصیت کی محبت رچ بس جاتی ہے۔

ہمارے نبی محمد ﷺ کو محبت کا بہت وافر اور بڑا حصہ ملا، چنانچہ آپ ﷺ سے محبت تاکیدی فرض، واجب رکن اور ایمان کی شرط ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ}آپ کہہ دیں: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے [آل عمران: 31]

اسی طرح فرمایا: {قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ} آپ کہہ دیں: اگر تمہیں اپنے باپ، اپنے بیٹے، اپنے بھائی، اپنی بیویاں، اپنے کنبہ والے اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے مکان جو تمہیں پسند ہیں، اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دکھاتا ۔[التوبہ: 24]

قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں: "آپ ﷺ سے محبت ضروری ہونے کیلیے یہ آیت ترغیب اور محبت کی اہمیت، نیز وضاحت اور دلیل بیان کرنے کیلیے کافی ہے، یہ آیت رسول اللہ ﷺ سے محبت کی فرضیت، [عدم محبت کی صورت میں] خطرات اور اس پر آپ ﷺ کا حق بیان کرنے کیلیے بہت ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے ایسے شخص کو یہاں ڈانٹ پلائی ہے جس کے ہاں مال، اہلیہ اور اولاد اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ  محبوب ہوں  اور انہیں یہ کہتے ہوئے دھمکی دی کہ:  { فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ } پھر [تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے]آیت مکمل کرتے ہوئے انہیں فاسق قرار دیا اور انہیں بتلا دیا کہ وہ  گمراہ لوگوں میں سے ہیں، اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہیں: {وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ} [اور اللہ نافرمان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا]"

اور صحیح بخاری میں عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ  تھے ، آپ ﷺ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، تو آپ ﷺ سے عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: " اللہ کے رسول! آپ مجھے میری ذات کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں" تو نبی ﷺ نے فرمایا: (نہیں [ایسے ایمان مکمل نہیں ہو گا]! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جب تک میں تمہارے ہاں تمہاری جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے جلدی سے عرض کیا: "بیشک ابھی سے آپ -اللہ کی قسم- میرے ہاں میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں" تو پھر نبی ﷺ نے فرمایا: (عمر ! اب [تمہارا ایمان کامل ہے])"

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ میں اس کے ہاں اس کے والد، بچوں اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں) بخاری

یہ واضح برہان ہے کہ آپ ﷺ کی محبت ایمان کی بنیاد اور شرعی طور پر واجب ہے، چنانچہ دوسری طرف آپ سے بغض خاتمۂ ایمان اور خرابیِ عقیدہ کا باعث ہے، آپ ﷺ سے کامل محبت کامل ایمان کی اور ناقص محبت ایمان میں نقص کی علامت ہے۔

اللہ کے بندو!

رسول اللہ ﷺ سے محبت ایسی عبادت ہے جو قرب الہی کا باعث ہے، اور یہ شریعت کے دائرے  میں بند ہے، اس کے ایسے مظاہر اور علامات ہیں جن سے محبت کی حقیقت اور سچائی آشکار ہوتی ہے۔

مَنْ اِدَّعَى مَحَبَّةَ اللهِ وَلَمْ

يَسِرْ عَلَى سُنَّةِ سَيِّدِ الْأُمَمِ

جو اللہ سے محبت کا دعوے دار ہو لیکن وہ تمام امتوں کے سربراہ کی سنت پر نہ چلے

فَذَاكَ كَذَّابٌ أَخُوْ مَلَاهِيْ

كَذَّبَ دَعْوَاهُ كِتَابَ اللهِ

تو وہ انتہائی جھوٹا ترین اور ہوس پرستی کا دلدادہ شخص ہے، اس کے دعوے کو اللہ کے قرآن نے مسترد  کر دیا ہے۔

اور آپ سے محبت کی اہم ترین علامت یہ ہے کہ: آپ کی سنت پر چلے اور آپ کا طریقہ اپنائے؛ کیونکہ فرمانبرداری اور اطاعت محبت کا تقاضا ہے: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} آپ کہہ دیں: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے [آل عمران: 31]

آپ سے محبت کی علامات  میں یہ بھی ہے کہ: آپ کا دفاع کیا جائے، آپ کی سنت کا پرچار کریں، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (8) لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا} یقیناً ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ [8] تاکہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو ۔[الفتح: 8، 9]

قرآنی حکم:{ وَتُعَزِّرُوهُ} کی تعمیل آپ کے دفاع اور آپ کی باتوں کی تائید سے ہو گی، اور اسی طرح { وَتُوَقِّرُوهُ } آپ ﷺ کے احترام اور تکریم سے ہو گی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کی محبت اور احترام کی اعلی ترین عملی مثالیں پیش کی ہیں؛ کیونکہ آپ کی خالص ترین محبت  ان کے سودائے قلب میں بس چکی تھی، جس کی ترجمانی انہوں نے اپنے اقوال، افعال سے کی اور اسی کیلیے انہوں نے کسی بھی قیمتی چیز کو خرچ کرنے سے دریغ نہیں کیا۔

یہ ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں اپنی ترکش رسول اللہ ﷺ کے سامنے بکھیر کر کہتے ہیں: "میری جان آپ پر قربان"  تو رسول اللہ ﷺ لوگوں کی صورتحال دیکھنے کیلیے دیکھتے تو آپ کو ابو طلحہ کہتے : "اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مت دیکھیں مبادا کوئی دشمن کا تیر آ کر نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینے کیلیے سِپر ہے"  

ادھر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال سے رسول اللہ ﷺ کو بچاتے ہیں یہاں تک کہ ابو دجانہ آپ ﷺ پر جھک گئے اور ان کی ساری کمر تیروں سے چھلنی ہو گئی۔

اور زید بن دَثِنَہ رضی اللہ عنہ کو سولی چڑھانے کیلیے بلند کئے جانے کے بعد مشرکین نے کہا: "زید! تمہیں اللہ کی قسم ہے، یہ تو بتلاؤ کہ کیا تم پسند کرو گے کہ :محمد ہمارے پاس تمہاری جگہ ہوں  اور ہم ان کی گردن مار دیں، اور تم اپنے گھر میں پرسکون رہو؟" اس پر انہوں نے کہا: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تو یہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ وہ جہاں بھی ہوں انہیں وہاں پر ایک کانٹا بھی چبھے  اور میں اپنے گھر میں بیٹھا رہوں" اللہ تعالی ہمارے نبی محمد  پر درود و سلام نازل فرمائے اور آپ کے صحابہ کرام سے راضی ہو۔

ایسی مثالیں -اللہ  کے بندو – سلف صالحین میں بہت زیادہ ہیں اور ہماری شدید خواہش ہے کہ ایسی ہی مثالیں آج بھی امت میں رونما ہوں، ہر مسلمان اس کیلیے زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ ڈالے۔

آپ ﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ: آپ ﷺ کا زیادہ سے زیادہ تذکرہ کیا جائے؛ کیونکہ جس چیز سے محبت ہوتی ہے اس کا زبان پر تذکرہ بھی زیادہ ہوتا ہے، اور آپ کا تذکرہ کرنے کا حکم اللہ تعالی نے کچھ اس انداز میں دیا ہے: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56] اور قیامت کے دن آپ ﷺ کے قریب ترین وہی لوگ ہوں گے جو آپ ﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود پڑھتے ہوں۔

آپ ﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ: آپ کے دیدار اور ملاقات کا شوق دل میں ہو، اللہ تعالی سے ایمان کی حالت میں نبی ﷺ کا ساتھ مانگے، اور اپنے حبیب  ﷺ  کے ساتھ جنت میں یک جا فرما دے۔

امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت ذکر کی ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (مجھ سے شدید ترین محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد  آئیں گے ان میں سے ایک اپنے اہل خانہ اور پوری دولت کے بدلے میں مجھے دیکھنے کی خواہش کرے گا)

آپ ﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ: آپ کی محبت میں غلو نہ کیا جائے؛ کیونکہ غلو آپ ﷺ کی مخالفت اور تصادم  ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} اور رسول تمہیں جو کچھ دے دے لے لو، اور جس چیز سے روک دے تو اس سے رک جاؤ۔[الحشر: 7]

اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (میرا مقام ایسے بڑھا چڑھا کر بیان مت کرو جیسے عیسائیوں نے عیسی بن مریم  کے ساتھ کیا، یقیناً میں صرف اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں) بخاری

آپ ﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ: آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں، آپ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں؛ کیونکہ یہ بھی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ کی سیرت، سوانح، اوصاف اور اخلاقیات  کے متعلق معرفت حاصل کریں، جس کے بارے میں آپ بالکل نہیں جانتے اس کی محبت دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی، نہ اس کا آپ کبھی دفاع کریں گے ، اسی طرح آپ ﷺ کی سنت  کا دفاع بھی انہیں جانے اور سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے۔

حتی کہ جانوروں اور جمادات کو بھی آپ ﷺ کی معرفت حاصل ہوئی تو آپ ﷺ سے محبت کی مثالیں قائم کر دیں، چنانچہ آپ کی محبت میں کھجور کا تنا رو پڑا، آپ کو پتھروں نے بھی سلام کیا، رسول اللہ ﷺ سے اپنی محبت اور احترام کے اظہار کیلیے جبل احد بھی حرکت میں آیا، اونٹنیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر آپ کے آگے آتیں کہ آپ انہیں ذبح کر دیں، اسی طرح آپ ﷺ نے چاند کو اشارہ کیا تو دو لخت ہو گیا، بادلوں کو اشارہ کیا تو سب منتشر ہو گئے، یہ سب کچھ اللہ تعالی کے حکم سے ہوتا تھا۔

یا اللہ! آپ ﷺ کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور آپ کی محبت ہمارے سودائے قلب میں بسا دے، آپ ﷺ سے محبت ہمارے دلوں میں ہماری جانوں اور اہل و عیال سے بھی زیادہ اہم بنا دے، اور ہمیں آپ کی محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین

اللہ تعالی میرے اور آپ کیلیے قرآن مجید کو بابرکت بنائے، مجھے اور آپ کو قرآنی آیات اور حکمت بھری نصیحتوں سے مستفید فرمائے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور عظمت و جلال والے اللہ  سے اپنے اور سب مسلمانوں کیلیے تمام گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، اس لیے آپ بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ حصولِ رضائے الہی کی دعوت دینے والے تھے، اللہ تعالی ان پر ، ان کی آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلم اقوام!

رسول اللہ ﷺ سے سچی اور دلی محبت میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ ﷺ کی پسند کو اپنی پسند بنائیں کیونکہ اپنے تاثرات میں  محبوب کی اقتدا محبت کی سچی دلیل ہے۔

لہذا رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات، آپ کے صحابہ کرام اور اہل بیت سے محبت شرعی فریضہ ہے جو کہ آپ ﷺ کی محبت کے ساتھ نتھی ہے، یہ آپ ﷺ کی اقتدا سے الگ نہ ہونے والا آپ کا حق ہے، بلکہ یہ آپ ﷺ کے کردار کیساتھ گفتار: (میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو) کا تقاضا بھی ہے۔

مسلم اقوام:

رسول اللہ ﷺ سے محبت اللہ تعالی کی محبت سے منسلک ہے، اسی طرح اس کا تعلق اللہ تعالی کی وحی اور شریعت سے بھی ہے۔

اللہ تعالی نے مکہ کو اعزاز بخشا اور اسے اعلی مقام دیا نیز مکہ کی قسم بھی اٹھائی اور فرمایا: {لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ} قسم ہے اس [مکہ] شہر کی۔[البلد: 1] اللہ تعالی نے اس شہر کو حرمت والا بنایا، اسی کو مھبط الوحی ، مسلمانوں کا قبلہ، مناسک ادا کرنے کی جگہ اور ایسا مقام بنایا جس کے ساتھ دلوں کی دھڑکن وابستہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ اس شہر سے محبت فرماتے تھے، بلکہ آپ اس شہر کی محبت دل میں چھپا نہ سکے اور واضح لفظوں میں اس کا اظہار کر دیا، بلکہ اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ قسم اٹھا کر اس کی مزید تاکید بھی فرما دی، آپ اپنے آنسووں پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے، آپ کے آنسو چھلک رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے: (اللہ کی قسم! تم  میرے نزدیک سب سے محبوب جگہ ہو اگر مجھے یہاں سے نہ نکالا جاتا تو کبھی نہ نکلتا)

اس لیے تمام مسلمانوں کیلیے یہ ضروری ہے کہ اس شہر کی شان اور حرمت پہچانیں، اس شہر کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھنے والوں کے خلاف متحد ہو جائیں، بیت اللہ کا پروردگار بیت اللہ کی حفاظت فرمائے گا۔

مسلمانوں کے جذبات اور طبیعت میں ہیجان پیدا ہو جانا  چاہیے ، سب کے سب یک لخت اٹھ کھڑے ہوں جیسے کوئی مکہ کی بے حرمتی کرے، مکہ کے احترام کو پامال کرے اور اس پر حملہ کرے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی نے مکہ مکرمہ کو دائمی حرمت والا شہر قرار دیا ہے، بلکہ اس پر حملہ کرنے والے کے جرم کو سنگین ترین جرم قرار دیا اور فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ} بیشک جو لوگ کافر ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں نیز مسجد الحرام سے بھی روکتے ہیں جسے ہم نے مقامی یا بیرونی تمام لوگوں کیلیے  برابر بنایا ہے، اور جو بھی اس میں الحاد اور ظلم کمانے کا ارادہ کرے گا ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔[الحج: 25]

یہ مکہ مکرمہ کی امتیازی صفت ہے کہ اگر کوئی دل میں برائی کا پختہ ارادہ بھی کرے تو اسے سزا ملے گی، چاہے عملی طور پر نہ کرے، چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : " کوئی بھی شخص برائی کا ارادہ کرے تو وہ اس پر لکھ دی جاتی ہے، چاہے کوئی عدن ابین میں بیٹھ کر اس گھر میں کسی کو قتل کرنے کا ارادہ بھی کرے  گا تو اللہ تعالی اسے درد ناک عذاب سے دوچار فرمائے گا"

قرآن کریم کی آیت میں مذکور "الحاد" میں ہر وہ چیز آتی ہے جو راہِ حق سے دور  اور ظلم ہو؛ یہی وجہ ہے کہ جس وقت ہاتھی والوں نے بیت اللہ کو ڈھانے کی کوشش کی تو اللہ تعالی نے ان پر ابابیل بھیج دیئے جو انہیں کھنگر کے پتھر مارتے  تھے ابابیلوں نے انہیں کھایا ہوا بھوسا بنا دیا۔

اور  بخاری مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ایک لشکر کعبہ پر حملے کی کوشش کرے گا جب وہ بیداء مقام پر ہو ں گے تو شروع سے آخر تک سب کو زمین بوس کر دیا جائے گا)

اسی طرح ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال خزاعہ قبیلے نے بنو لیث کے ایک شخص کو دورِ جاہلیت میں ہونے والے ایک قتل کے قصاص میں قتل کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ خطابت کیلیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: (اللہ تعالی نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا لیکن مکہ پر اپنے رسول اور مومنوں کو مسلط فرمایا؛ خبردار! مجھ سے پہلے یا میرے بعد کسی کیلیے بھی مکہ [میں قتال] جائز نہیں تھا، مجھے بھی دن کے کچھ حصے میں [قتال کا ]جواز دیا گیا تھا، خبردار! مکہ مکرمہ اس وقت [کے پورا ہونے]سے ہی حرمت والا ہو گیا ، یہاں کے کسی کانٹے  یا درخت کو نہ کاٹا جائے، اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا ہی اٹھائے) متفق علیہ

اس لیے [ان لوگوں سے]بالکل لا تعلقی کا اظہار کرو -اللہ کے بندو- اور ان کی سخت مذمت کے ساتھ انہیں ملامت  بھی کرو جو رسول اللہ ﷺ کے محبوب شہر ام القری مکہ مکرمہ  پر بزدلانہ حملے کرتے ہیں ، اللہ تعالی اس شہر کو تمام جاہل حملہ آوروں، دھوکا باز سیاہ کاروں، شیطان مردود، اجڈ اور بے نسب لوگوں  سے محفوظ رکھے جو کہ اسلام کے خلاف دسیسہ کاریوں  میں لگے رہتے ہیں، اسی کا مقدر تباہی ہے،  اللہ تعالی اس کی مکاری کو اسی کی تباہی کا باعث بنائے، اور اسے تباہ و برباد فرما کر دوسروں کیلیے عبرت بنا دے۔

یا اللہ! اس ملک کی خصوصی حفاظت فرما،  یا اللہ! اس ملک کو اپنا خصوصی تحفظ عطا فرما، یا اللہ اس ملک کے بارے میں برے ارادے رکھنے والوں کو اپنی جان لے لالے پڑ جائیں، اس کی عیاری اسی کے گلے میں ہڈی بنا  دے ، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے،  یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! سرحدوں پر پہرہ دینے والے  ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان کی خصوصی حفاظت فرما،  یا اللہ! انہیں اپنا خصوصی تحفظ عطا فرما، یا اللہ! ان کے نشانے درست فرما، ان کے عزائم مضبوط فرما، اور ظالموں کے خلاف ان کی خصوصی مدد فرما۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما   اور اپنے موحد بندوں کی مدد فرما،

یا اللہ! ہمارے حکمران کو  خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، ان کے ذریعے اپنا دین غالب فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے دونوں نائبوں کو ملک و قوم حق میں بہتر  فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات درست فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات درست فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ، تو ہی غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، تو ہی غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، ہم پر بارش نازل فرما، اور نازل ہونے والی بارش کو ہمارے لیے قوت اور سہارے کا باعث بنا، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، اور ہمیں مایوس مت کرنا، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، اور ہمیں مایوس مت کرنا۔

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ایسی بارش ہو جو برکت والی، بے ضرر، زر خیز، موسلا دھار، بڑے بڑے قطروں والی، بھر پور ، ساری زمین پر ہونے والی مفید اور نقصانات سے مبرّا بارش عطا فرما، یا ارحم الراحمین ! اپنی رحمت کے صدقے جلد از جلد ہمیں بارش عطا فرما۔

یا اللہ! بارش کے ذریعے دھرتی کو لہلہا دے، شہروں اور دیہاتوں سب کیلیے بارش کو مفید بنا دے،  یا اللہ! شہروں اور دیہاتوں سب کیلیے بارش کو مفید بنا دے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ؛ کیونکہ تو ہی گناہ بخشنے والا ہے، ہم پر آسمان سے موسلا دھار بارش نازل فرما، یا اللہ! اپنے بندوں اور جانوروں سب کو بارش عطا فرما، یا اللہ! اپنے بندوں اور جانوروں سب کو بارش عطا فرما، یا اللہ! اپنے بندوں اور جانوروں سب کو بارش عطا فرما، اپنی رحمت سب کو عطا فرما، اور اپنی رحمت کے صدقے ویران ہوتی دھرتی کو پھر سے زندہ کر دے، یا ارحم الراحمین!

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں اپنے جس نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا ہے ان پر درود و سلام پڑھو، حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

ملاحظہ کیا گیا 415 بار

جدید خطبات

خطبات

  • نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    حمد و صلاۃ کے بعد: کتاب اللہ بہترین  کلام ہے، اور سیدنا محمد ﷺ  کا طریقہ سب سے بہترین طریقہ ہے، دین میں شامل کردہ خود ساختہ امور بد ترین امور ہیں، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ۔ اللہ کے بندو میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی نے پہلے گزر جانے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کو  اسی کی نصیحت فرمائی ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور یقیناً ہم نے تم سے پہلے کتاب دیئے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131] مسلم اقوام! وقت کا تیزی سے گزرنا عظیم نصیحت ہے، دنوں کا آ کر چلے جانا بہت بڑی تنبیہ ہے، {إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ} بیشک رات اور دن کے آنے جانے  میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں متقی قوم کیلیے نشانیاں ہیں۔[يونس: 6] اللہ کے بندو! ہم نے چند دن پہلے  مبارک مہینے ،نیکیوں  اور برکتوں کی عظیم بہار کو الوداع کہا ہے،  یہ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    ﷽ فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 30 -شعبان-1438  کا خطبہ جمعہ  بعنوان " عبادات کا مہینہ ماہ رمضان" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ انسان نیکی کرے یا بدی اس کا نفع یا نقصان صرف انسان کو ہی ہوتا ہے وہ اپنی بدی سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، چنانچہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے خصوصی فضیلت بخشی  اور اس ماہ میں تمام تر عبادات یکجا فرما دیں ، اس مہینے میں نماز، روزہ، عمرے کی صورت میں حج اصغر، زکاۃ ، صدقات و خیرات اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت میں خصوصی دروازہ ہے اور ہر نیکی کا بدلہ اس کی نوعیت کے مطابق دیا جائے گا بالکل اسی طرح گناہ کا بدلہ بھی اسی کے مطابق ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ: آپ ﷺ شعبان کے آخر میں رمضان کی خوشخبری دیتے تھے، نیز رمضان سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ   اور حقوق العباد کی ادائیگی استقبالِ رمضان میں شامل ہے، نیز روزے کے دوران جس قدر مختلف نیکیاں قیام، صیام، صدقہ، خیرات، غریبوں کی مدد، کسی کا ہاتھ بٹانا وغیرہ کی جائیں تو ان…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 16-شعبان- 1438  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "شکر،،، نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  کہا کہ شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ اور دوام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق شکر گزاروں کو مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، انہوں نے کہا کہ نعمتوں کا صحیح استعمال  اور گناہوں سے دوری  دونوں کا نام شکر ہے، اگر اللہ کی نعمتوں پر تکبر اور گھمنڈ کیا جائے تو یہ صریح ناشکری ہے اور نعمتوں کے زائل ہونے کا پیش خیمہ ہے، کسی فاسق و فاجر کو نعمتیں حاصل ہوں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور اللہ تعالی ڈھیل کو اچانک ختم   فرماتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرعی احکامات سے بچنے کیلیے حیلے بہانے تلاش کرنا فاسق لوگوں کا وتیرہ ہے، جبکہ مومن  کا اخلاق اس سے کہیں بلند ہوتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قناعت پسندی شکر گزاری کا سبب بنتا ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہ ہو تو وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے،  آخر میں …
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ﷽ پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم