بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
السبت, 20 آب/أغسطس 2016 17:06

پریشانیاں اور دکھ دور کرنے کے وسائل و اسباب

مولف/مصنف/مقرر  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ ، ےترجمہ: شفقت الرحمن مغل

 بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا خطبہ

ابتدا ہو یا  انتہا تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں ،  میں گواہی دیتا ہوں کہ دنیا ہو یا آخرت کہیں بھی اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد  -ﷺ-اللہ کے بندے  اور چنیدہ رسول  ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور وفا دار صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں قیامت تک نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو!

میں تمام سامعین  اور اپنے آپ کو تقوی سمیت ظاہری و باطنی ہر اعتبار سے اطاعت الہی کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ یہی سب سے بڑی سعادت مندی  اور عظیم کامیابی ہے۔

اہلیانِ اسلام!

اسلام میں عبادات کے بہت عظیم اہداف اور مقاصد ہیں، چنانچہ  فریضہِ حج بھی بہت اہم اہداف اور مقاصد  اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، لہذا حج بیت اللہ کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ لوگ عقیدہ توحید پر ڈٹ کر شرک سے پاک ہو جائیں؛ کیونکہ آیاتِ حج میں اللہ تعالی فرماتا ہے: {حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ} اللہ کیلیے یک سو ہوں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت بنائیں۔[الحج: 31] یعنی: حجاج تمام گمراہ ادیان سے کٹ کر دینِ حق  کی جانب یکسو ہونے والے ، اللہ تعالی کیلیے مخلص اور غیر اللہ کی عبادت سے بالکل بری  ہونے والے ہوتے ہیں۔

اسلامی بھائیو!

مناسکِ حج مسلمان کو  یہ سکھاتے ہیں کہ اس کے تمام اقوال، افعال، کام کاج اور چال چلن سمیت سب کچھ  ظاہری و باطنی طور پر اللہ تعالی کیلیے ہو، {وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا} ہم نے ہر امت کے لیے مناسک ادا کرنے کا ایک طریقہ  مقرر کر دیا ہے تاکہ ہمارے عطا کردہ جانوروں پر وہ اللہ کا نام لیں، اور تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے لہذا اسی کے فرمانبردار بن جاؤ [الحج: 34]

حج کا سب سے بڑا شعار اور نعرہ تلبیہ ہے، جسے لگاتے ہوئے جسمانی اور روحانی ، قولی و فعلی ہر اعتبار سے مسلمان اقرار کرتا ہے کہ کامل ترین تعظیم ، مکمل عاجزی و انکساری ، انتہا درجے کی محبت  صرف اللہ تعالی کیلیے ہے، عبادت بھی صرف اسی کیلیے ہے، اسی کے احکامات کی تعمیل ہوتی ہے نیز اسی کی شریعت  کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: "اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ توں ایک پتھر  ہے جو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان ، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا" یہ حقیقت میں سب کچھ اللہ تعالی  کے احکامات ماننے کی عملی صورت ہے۔

اسی طرح سفرِ حج دل میں  اللہ تعالی کیلیے اخلاص، اطاعت، محبت، خشیت اور اسی سے ثواب کی امید ٹھوس بناتا جاتا ہے، اس طرح حج دلوں میں ایمان کی تجدید کرتا ہے، روح میں عقیدہ توحید پختہ کرتا ہے، چنانچہ ہر حاجی اپنے رب سے ہی لو لگاتا ہے، صرف اسی سے مانگتا ہے، اسی سے دعائیں کرتا ہے، کیونکہ حاجی کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ  حاجت روائی اور مشکل کشائی صرف اللہ تعالی ہی کر سکتا ہے۔

اللہ کے بندو!

حج کا اہم ترین عنصر یہ ہے کہ  پورے حج میں آپ  ذکرِ الہی اور ثنا خوانی  میں مشغول رہیں، حج کے کسی بھی رکن کو ادا کرتے ہوئے اللہ تعالی کے سامنے عاجزی اور انکساری  کا اظہار کریں، اس طرح جو بھی حاجی واپس لوٹتا ہے وہ صرف اللہ تعالی کا تعلق ساتھ لے کر جاتا ہے، اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، اپنی پوری زندگی میں اللہ تعالی کی ہر بات تسلیم کرنے کا اقرار کرتا ہے اور تمام معاملات تعلیماتِ الہیہ کی روشنی میں بجا لانے کی کوشش کرتا ہے،  فرمانِ باری تعالی ہے: {فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ} جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر الحرام [مزدلفہ] پہنچ کر اللہ کو اس طرح یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت دی ہے۔ [البقرة: 198]  اسی طرح فرمایا:  {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} پھر وہاں سے واپس آؤ جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ سے بخشش مانگتے رہو، اللہ تعالیٰ یقینا بڑا بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ [البقرة: 199]

اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا} پھر جب تم ارکانِ حج ادا کر لو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادا کا ذکر کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اللہ کا ذکر کرو۔[البقرة: 200]

اسی طرح عقیدہ توحید کے سب سے بڑے معلّم ﷺ کا فرمان ہے: (افضل ترین حج  وہ ہے جس میں عج اور ثج [قربانی]ہو)  یہ حدیث اہل علم کے ہاں حسن ہے، اور "عج" بلند آواز میں تکبیرات اور عقیدہ توحید پر مشتمل تلبیہ پر بولا جاتا ہے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا: (بیت اللہ کا طواف  ، صفا مروہ کے درمیان سعی  اور جمرات کی رمی ذکر الہی کیلیے ہی شریعت میں شامل کی گئی ہیں)  اسے ترمذی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اور  امام ذہبی نے امام حاکم کی موافقت کی ہے۔

اہلیانِ ایمان!

حج ایک بہت عظیم شعار ہے جو کہ پوری امت کو  اللہ تعالی کے ہاں معزز اشیا کی عظمت  یاد دلاتا ہے، شریعتِ الہی پر کار بند رہنے  اور اسی پر چلنے کی تلقین کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ} اور جو بھی شعائرِ الہی کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقوی سے تعلق رکھتی ہے۔[الحج: 32]

اس لیے اے امت محمدیہ!

امت کو موجودہ حالات سے نجات  بھی صرف اسی صورت میں ملے گی جب  ہم مذکورہ شرعی اقدار اپنی زندگی میں لاگو کر لیں گے، جب اپنے تمام معاملات میں صحیح نظریات، درست منہج   اور اچھے طریقہ کار پر چلیں گے، تبھی  امت کو غلبہ، رعب،  عالی شان رتبہ اور خوش حالی حاصل ہو گی۔

امت اسلامیہ!

عبادتِ حج سے  پوری امت کو یہ بات سیکھنی چاہیے کہ  تمام دینی عبادات کا سب سے بڑا مقصد مشرق سے مغرب تک کے تمام مسلمانوں کے مابین ایمانی وحدت اور اسلامی اخوت کا قیام ہو، اس اخوت میں قوم ، نسل اور علاقائیت  کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی بلکہ اخوت  کی وجہ سے دینی و دنیاوی امور بہترین انداز سے سنور سکتے ہیں، {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ} یقیناً تمام مومنین آپس میں بھائی ہیں۔[الحجرات: 10]

امت اسلامیہ کے سپوتوں کو یہی بات یاد کرواتے ہوئے آپ ﷺ فرماتے ہیں: (تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کیلیے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے) متفق علیہ

یہاں سے بات واضح ہوتی ہے کہ اس امت کے چند افراد کا کردار دینِ اسلام سے میل نہیں کھاتا اور نہ ہی دینی اقدار  ان کی تائید کرتی ہیں؛ کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان اپنے ہی بھائی کو کافر قرار دے، اس کا خون بہائے؟ آبرو ریزی اور لوٹ کھسوٹ کرے؟!  حالانکہ سب کے سب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ  پڑھنے والے ہیں!؟

امت اسلامیہ کے سپوتو!

کیا اب بھی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بات تسلیم نہیں کرو گے؟!  کیا اب بھی آپ شرعی مقاصد اور اسلامی اقدار کے مطابق عمل پیرا ہونے کیلیے تیار نہیں ہوں گے؟! آپ سب حج سے ایسی تربیت حاصل کریں جن کی وجہ سے دشمنانِ اسلام کی تمام منصوبہ بندیاں غارت ہو جائیں، یہ انہوں نے امت کا شیرازہ بکھیرنے ، اس کا وقار خاک میں ملانے ، امت کو ٹکڑوں میں بکھیرنے ، اور صفوں میں انتشار پیدا کرنے کیلیے  کی ہیں، انہی منصوبہ بندیوں کی وجہ سے سنگین آزمائشیں اور لمبی چوڑی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں۔

شیطان کے بہکاوے میں آنے والے امت محمدیہ کے لوگو! موسمِ حج  سے کچھ سیکھو، اس حج پر اللہ تعالی سے توبہ مانگ لو، اور وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے راہِ راست پر آ جاؤ، اس سے پہلے کہ تمہیں اللہ تعالی کے سامنے پیش کر دیا جائے!

مسلم اقوام!

سعودی حکومت حجاج کی خدمت کا شرف حاصل کرتی ہے، اور اسے اپنے لیے دینی فریضہ اور دنیاوی اعزاز سمجھتی ہے، اور اس فریضے کی ادائیگی میں ہر قیمتی اور نفیس  چیز خرچ  کرتی ہے صرف اس لیے کہ رحمان کے مہمان اور مسجد نبوی کے زائرین  کو ہمہ قسم کی راحت و سکون میسر ہو۔

اللہ تعالی کی عظمت کا اقرار کرنے والے تمام مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان مقدس مقامات  کی تعظیم کریں، اور کتاب و سنت و اجماعِ امت سے ثابت شدہ  ان کے احترام کو پامال مت کرے، مسلمانوں کو اپنے دیگر بھائیوں کی سلامتی  کا خیال بھی ضروری کرنا چاہیے؛ کیونکہ ضیوف الرحمن کو اذیت پہنچانا ، یا ان کے بارے میں منفی سوچ رکھنا یا اذیت پہنچانے کا ارادہ کرنا انتہائی کبیرہ  اور مہلک ترین گناہ ہے، {وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ} اور جو بھی اس میں کسی قسم کے ظلم کے ساتھ کسی کج روی کا ارادہ کرے گا ہم اسے درد ناک عذاب کا  مزہ چکھائیں گے۔ [الحج: 25]

مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ:

ہر ایسے نظام کی پاسداری کریں جن سے مسلمانوں کیلیے مقاصدِ حج حاصل کرنا آسان ہو یا جن کے ذریعے مسلمانوں کو نقصان  سے بچایا جا سکے، چنانچہ اسی نظام میں  حج کیلیے اجازت نامہ حاصل کرنا بھی شامل ہے، اس نظام کی پاسداری کی دلیل یہ ہے کہ نیکی اور تقوی کے کاموں میں باہمی تعاون  واجب ہے،  نیز جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالی کے ہاں بھی اچھی ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی مسلمان کیلیے اجازت نامے کے معاملے میں ہیرا پھیری یا سستی کوتاہی سے کام لینا صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ اجتماعی مفاد کو انفرادی مفاد پر ہمیشہ ترجیح  دی جاتی ہے، حتی کہ نفل عبادات میں بھی  اجتماعی مفاد کو ترجیح حاصل ہو تی ہے، اور مقاصد شریعت بھی اس کی تائید کرتے ہیں، مسلم علمائے کرام نے بھی اسی رائے کو قلم بند کیا ہے۔

اسلامی بھائیو!

حج انسانی روح کیلیے تہذیب، بری صفات سے  دوری اور مسلمان کیلیے دین و دنیا میں نقصان کا باعث بننے والی چیزوں  سے پاکیزگی کا ذریعہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ} جو بھی ان مہینوں میں حج کا پختہ ارادہ کر لے تو  حج میں بیہودگی ، فسق اور لڑائی جھگڑا نہ کرے۔[البقرة: 197]

اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص اس گھر کا حج کرے اور اس میں کسی بیہودگی یا فسق  کا ارتکاب نہ کرے  تو وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر ایسے لوٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو)

چنانچہ تمام مسلمانوں کو اس عبادت کے مقاصد سیکھنے چاہییں، نیز اپنی زندگی  کو انہی مقاصد کی روشنی میں استوار کریں۔

اللہ تعالی ہمیں توفیق دے اور رضائے الہی کے کام کرنے کیلیے ہماری رہنمائی فرمائے۔

دوسرا خطبہ

میں اپنے رب کی حمد بیان کرتا ہوں اور اسی کا شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُسکے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں، اور سلامتی نازل فرمائے۔

امت اسلامیہ!

امت اسلامیہ کامیابی  اور کامرانی اسی وقت پا سکتی ہے، خوشحالی، فلاح و بہبود اور امن و امان  اسی وقت حاصل کر سکتی ہے جب شریعتِ الہی پر گامزن ہو گی، جب کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ  کو دستور، آئین اور زندگی کے تمام شعبوں کیلیے قانون بنائے گی، اس لیے امت اسلامیہ نبی ﷺ کے حجۃ الوداع  کے خطبہ کو  سیاست و تعلقات ، معاشیات سمیت تمام امور کیلیے مشعل راہ بنائے، تبھی یگانگت پیدا ہو گی ، خوشحالی آئے گی ، تعمیر و ترقی کے زینے عبور ہوں گے، وگرنہ امت اسلامیہ نے لوگوں کے بنائے ہوئے قوانین اور خو د ساختہ دستوروں کا نفاذ کر کے تجربہ کر ہی لیا ہے کہ ان کی وجہ سے امت ہمیشہ خسارے ، گھاٹے، تکلیفوں اور آزمائشوں میں گھری رہے گی۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق دے۔

اللہ تعالی نے ہمیں بہت ہی عظیم کام کا حکم دیا ہے اور وہ ہے نبی کریم پر درود و سلام پڑھنا، یا اللہ! ہمارے سربراہ اور نبی محمد -ﷺ- پر رحمتیں، برکتیں، سلامتی اور نعمتیں نازل فرما،  یا اللہ! خلفائے راشدین  ، تمام صحابہ کرام اور تابعین کرام سے یوم قیامت تک راضی ہو جا۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کی غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو صرف تیری رضا کا باعث بننے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما ، یا اللہ! مسلمانوں کو صرف تیری رضا کا باعث بننے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما ، یا اللہ! مسلمانوں کو صرف تیری رضا کا باعث بننے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما ۔

یا اللہ! حجاج اور معتمرین کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں اپنے اپنے علاقوں میں صحیح سلامت اور ڈھیروں اجر و ثواب کے ساتھ واپس پہنچا۔

یا اللہ! ہمارے حکمرانوں کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! مملکت حرمین اور دیگر تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرما، یا اللہ! فلسطین، یمن، شام، عراق، کشمیر، برما، لیبیا اور پوری دنیا میں ہمارے بھائیوں پر رحمت فرما،  یا اللہ! ان پر اپنا خصوصی کرم فرما، یا اللہ! ان کی مشکلات ختم فرما دے، یا اللہ ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کی پریشانیاں چھٹ دے،  یا اللہ! ان کے تمام معاملات آسان فرما دے۔

یا اللہ! اسلام دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، وہ تجھے عاجز نہیں کر سکتے، یا اللہ! ان میں پھوٹ ڈال دے، یا اللہ! انہیں تباہ  برباد فرما دے، یا اللہ! انہیں عبرتناک علامت  بنا دے، یا اللہ! انہیں ان کی آنے والی نسلوں کیلیے عبرتناک علامت  بنا دے، یا ذو الجلال و الاکرام!یا اللہ! ان پر اپنا عذاب اور پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔

یا اللہ! مسلمانوں سے تمام مصائب کے چھٹ جانے کا حکم جاری فرما، یا اللہ! یا ذو الجلال  والاکرام! مسلمانوں سے تمام مصائب کے چھٹ جانے کا حکم جاری فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! تمام مسلمان مرد و خواتین، تمام مؤمن مرد و خواتین کو بخش دے، فوت شدگان اور بقید حیات تمام کی مغفرت فرما دے۔

اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام اسی کی تسبیح بیان کرو، ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں۔

ملاحظہ کیا گیا 2260 بار

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم