بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 16 حزيران/يونيو 2016 00:00

روزے کا تحفظ اور روزے میں کرنے کے کام

مولف/مصنف/مقرر  سٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا خطبہ:

ایک بار پھر ماہ رمضان حاصل کرنے پر اللہ تعالی کی نعمتوں اور رحمتوں کے برابر اللہ کی تعریفیں  کرتا ہوں، میں اللہ تعالی کی طرف سے خیر و بھلائی کے دریا بہانے پر اسی کا شکر ادا کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے اور رسول ہیں ،آپ ہی  اللہ کے نبی، مصطفی، مرتضی، چنیدہ ، برگزیدہ اور راز دار ہیں ، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر اس وقت تک رحمتیں برکتیں اور سلامتی  نازل فرمائے جب تک صبح کی پو پھوٹتی رہے اور افق میں سورج چمکتا رہے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

روزے دارو!

اللہ تعالی کے پسندیدہ اعمال بجا لا کر اور نا پسندیدہ امور سے اجتناب کرتے ہوئے تقوی الہی اپناؤ، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے؛ تا کہ تم متقی بن جاؤ۔[البقرة: 183]

آپ سب کو ماہ رمضان مبارک ہو، یقیناً ماہِ رمضان اپنی زندگی میں پانا عظیم نعمت ، اللہ تعالی کا بہت بڑا احسان اور عظیم الشان عنایت ہے؛ کیونکہ کتنے ہی ماہِ رمضان پانے کی چاہت رکھنے والے لوگ رمضان نہ پا سکے، ماہِ رمضان حاصل کرنے کی تمنا رکھنے والے رمضان حاصل نہ کر سکے، وہ لوگ اس وقت کہاں ہے جو گزشتہ رمضان میں ہمارے ساتھ تھے لیکن آج ہمارے درمیان نہیں ہیں۔

أَيْنَ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا أَيْنَ أَيْنَا

مِنْ أُنَاسٍ كَانُوْا جَمَالاً وَزَيْنًا

ہم سے پہلے بہت سے لوگ تھے وہ کہاں چلے گئے؟ وہ تو سراپا جمال و کمال  تھے!

إِنَّ دَهْراً أَتَى عَليْهِمْ، فَأفْنَى

مِنْهُمُ الْجَمْعَ سَوْفَ يَأْتِيْ عَلَيْنَا

زمانے نے انہیں بھی فنا کر دیا! جلد وہی زمانہ ہمارے اوپر بھی آئے گا!

كَمْ رَأيْنَا مِنْ مَيّتٍ كَانَ حَيّاً

وَوَشِيْكاً يُرَى بِنَا مَا رَأَيْنَا

کتنے ہی فوت شدگان ہم نے دیکھے کہ وہ بھی کبھی زندہ تھے! اب ہمارے ساتھ بھی عنقریب وہی ہو گا جو ہم نے کسی کے ساتھ دیکھا!

مَا لَنَا نَأْمُلُ الْمَنَايَا كَأَنَّا

                                          لَا نَرَاهُنَّ يَهْتَدِيْنَ إِلَيْنَا

ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم موت سے بے خوف ہو گئے ہیں! کہ ہمیں موت آنے کی توقع ہی نہیں ہے!

اے سرکش اور غافل! کل تمہاری موت کی بھی خبر دی جائے گی۔
تم کب  باز آؤ گے اور رکو گے؟ کب تک نصیحت گزار کی بات پر کان نہیں دھرو گے؟
کب تک تمہارا دل ملامت گر کے لیے نرم نہیں ہو گا؟
کیا تمہارے لیے خشوع کا وقت نہیں آیا؟ کہاں ہے تہجد گزاری یا ابھی تک اونگھ  میں ہو یا تمہارا دل ہی پتھر ہو گیا ہے؟
بھائی! بیدار ہو جاؤ! خواب غفلت سے بچو۔
 اے مغرور! خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہو! حالانکہ جہنم کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔
جہنم کی آگ کی نا تو تپش کم ہو گی اور نہ ہی انگارے بھجے گے۔

موت کیلیے جلد ہی تیاری کرو اور کہیں موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے ، ماہِ رمضان کو سستی اور کاہلی میں ضائع مت کرو، رمضان کی بابرکت گھڑیوں میں لہو و غفلت ، معصیت  اور گناہوں میں برباد مت کرو،   نا فرمانی اور خطاؤں میں مت گزارو۔

اللہ کے بندے!

اس بابرکت مہینے میں گناہ گاروں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، قیدیوں کو آزاد کیا جاتا ہے، مجرموں کو معاف کیا جاتا ہے، اور اس مہینے کی ہر رات میں اللہ تعالی جہنم سے آزادی عنایت فرماتا ہے، اس لیے اپنا شمار ایسے لوگوں میں مت کروانا جو رمضان گزرنے کے با وجود مغفرت اور کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔

مسلمانو!

قبولیت کی برکھا  چل پڑی ہے اور خیر و برکت کا سیلاب امڈ آیا ہے، اور شیطان تباہ ہو چکا ہے، اور توبہ کا دروازہ توبہ کرنے والوں کیلیے کھلا ہے، اس لیے نیکیوں کے گرویدہ شخص! آگے بڑھ۔ اور گناہوں کے دلدادہ  شخص! رک جا۔

مسلمانوں ماہِ توبہ تمہاری دہلیز پر پہنچ چکا ہے اور تمہارے سامنے ہے، یہ جلد ہی واپس چلا جائے گا، پھر یہ تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف گواہی دے گا،  اس لیے اس ماہِ مبارک کے شب و روز میں ایسے کام کرو جو تمھیں رضائے الہی ، جنت ، مغفرت، رحمت اور فضلِ الہی کے قریب کر دیں۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ  رمضان میں عبادت کیلیے اتنی محنت فرماتے کہ کسی اور مہینے میں اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔ مسلم

یا اللہ! ہمیں غفلت سے بیدار فرما، ہمیں خیرو برکت ، رحمت و نعمت والے مہینے میں ، قبولیت ، توبہ اور انابت عطا فرما۔

یا سمیع ! یا عظیم! یا مجیب الدعوات!

میں اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرتا ہوں تم بھی اسی سے مغفرت طلب کرو، مغفرت طلب کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ہمہ قسم کی حمد اللہ کیلیے ہے، جو پناہ طلب کرنے والوں کو پناہ دیتا ہے، میں اس اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہ ہونے کی گواہی دیتا ہوں جو اپنی بیماریوں سے مایوس ہونے والوں کو شفا دیتا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، اللہ تعالی اُن پر، انکی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،سلامتی، اور برکتیں نازل فرمائے۔

 حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو، اور اسے اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نا فرمانی مت کرو، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقہ ڈرو، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔ [آل عمران: 102]

حَصِّنْ صِيَامَكَ بِالسُّكُوْتِ عَنِ الْخَنَا

أَطْبِقْ عَلَى عَيْنَيْكَ بِالْأَجْفَانِ

فحش باتوں  سے پرہیز کر کے اپنا روزہ محفوظ بناؤ اور بری چیزوں سے اپنی آنکھیں بالکل بند کر لو

لَا تَمْشِ ذَا وَجْهَيْنِ مِنْ بَيْنِ الْوَرَى

شَرُّ الْبَرِيَّةِ مَنْ لَهُ وَجْهَانِ

دو رنگی بن کر لوگوں میں مت گھومو؛ کیونکہ دو رنگی شخص بدترین مخلوق ہے۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "روزہ صرف کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کیلیے جھوٹ، باطل، اور لغویات  سے بچنا بھی ضروری ہے"

حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ کہتی ہیں: "روزہ اس وقت تک ڈھال ہے جب تک اسے پھاڑا نہ جائے، اور غیبت اس ڈھال کو پھاڑ دیتی ہے"

اے  راستے میں اڑنے والی دھول، آٹے  کے غبار، اور تھوک نگلنے کے بارے میں پوچھنے والے کہ کیا ان سے روزہ تو نہیں ٹوٹتا؟!  آپ اتنے معمولی اور باریک مسائل سے بچ رہے ہو بڑے بڑے کبیرہ گناہوں سے بھی اسی طرح بچو، لہذا اپنے مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کرنے سے بچو، کسی مسلمان کی ہتک عزت سے بچو، دھوکہ دہی، ظلم، فراڈ، اور مسلمان کے خلاف حیلے بازی سے دور رہو۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص خلاف شرع بات کہنے یا اس پر عمل کرنے سے باز نہیں آتا تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے)  بخاری

مسلمانو!

فوری توبہ کرو، اور الکریم و الوہّاب ذات  کی جانب متوجہ ہو جاؤ؛ کیونکہ یہ توبہ کا موسمِ بہار ہے، اور اس موسم میں توبہ کرنا انتہائی آسان ہے۔

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی  ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر  دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود  و سلام نازل فرما،   تمام صحابہ کرام، اہل بیت اور تابعین و تبع تابعین سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا کریم! یا وہاب!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما،  دین دشمنوں کو تباہ و برباد فرما، اور تمام مسلم ممالک کو امن و سلامتی  اور استحکام عطا فرما،  یا رب العالمین!

یا اللہ! کمزور مسلمانوں کو ظالموں کے چنگل سے نجات عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین  ، اور ان کے دونوں ولی عہدوں کو  اسلام اور مسلمانوں  کے غلبہ کیلیے بہتر امور سر انجام دینے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ماہِ رمضان کو تمام مسلمانوں کیلیے فتح و نصرت اور کامیابی سمیت استحکام کا مہینہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، مریضوں کو شفا یاب فرما، مصیبت زدہ لوگوں کو عافیت سے نواز، قیدیوں کو رہائی نصیب فرما، اور ہم پر ظلم کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے روزے تو نے قبول فرما لیے ہیں، یا اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے روزے تو نے قبول فرما لیے ہیں، ان کے گناہ اور خطائیں مٹا دی ہیں، جن کے دلوں کی تو نے اصلاح کر دی ہے اور پھر وہ اپنے مستقبل کیلیے تیاری میں جت گئے ہیں۔

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، یا کریم! یا عظیم! یا رحیم!

ملاحظہ کیا گیا 2466 بار

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    ماہِ شعبان اور ہمارا طرزِ عمل قارئین کرام! ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے ۔ دین اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر دوڑانے کے بعد اس ماہ میں صرف نفلی روزے رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ، دیگر مخصوص عبادات کے بارہ میں شرعی نصوص وارد نہیں ہوئیں ، درج ذیل طور میں ماہ شعبان سے متعلق ہمارا کیا طرز عمل ہے ، اور اس ماہ میں شریعت اسلامیہ کا ہم سے کیا تقاضہ ہے ذکر کیا گیا ہے۔ ماہِ شعبان مستند احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں !   ۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں ۔ ( متفق علیہ)  ۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی اداء کرسکتی تھی۔ (متفق علیہ) ۳۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم