بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الثلاثاء, 05 نيسان/أبريل 2016 00:00

جلد بازی کے نقصانات

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیت ترجمہ شفقت الرحمن مغل
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے نیک اعمال کی توفیق دی اور ہر مصیبت و بڑے مسئلے پر ثابت قدم بنایا، میں گناہوں اور خطاؤں کی معافی پر اسی کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں ،  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اسی نے فرمایا: {خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ} انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ۔[الأنبياء : 37] اور  میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے  اور رسول  ہیں، اللہ تعالی نے آپ کے سلیقۂ حیات سے زندگی کا بوجھ کم کیا اور ناامیدی ختم فرمائی، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور  صحابہ کرام پر رحمتیں  نازل فرمائے   انہوں نے کسی بھی تردد یا تامل کے بغیر اسلام کی آبیاری کی۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں ۔[آل عمران : 102]

اللہ تعالی نے تقدیریں لکھ دی ہے، اور اپنی ہر مخلوق کا وقت مقرر کر دیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا} اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کی تقدیر بنائی۔[الفرقان : 2] اور اسی طرح فرمایا: {لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ} ہر وقت کے فیصلے لکھے ہوئے ہیں۔[الرعد : 38] چنانچہ کسی کی جلد بازی تقدیر کو وقت سے پہلے رونما نہیں کر سکتی اور نہ ہی کسی کی چاہت اسے مقدم کر سکتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: { قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا} یقیناً اللہ نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔[الطلاق : 3]

تمناؤں اور چاہتوں کی جلد از جلد تکمیل انسان کی فطری آرزو ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ} انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔[الأنبياء : 37]

اور اللہ تعالی کے عظیم حلم اور وسیع  رحمت کا مظہر ہے کہ بشری جلد بازی اللہ تعالی کے قضا و قدر اور فیصلوں میں تبدیلی پیدا نہیں کر سکتی، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ} اور تیرا رب بخشنے والا اور رحمت والا ہے، وہ اگر انہیں ان کے اعمال پر پکڑنا چاہے تو انہیں فوری عذاب دے دے۔[الكهف : 58]

مذموم جلد بازی  وہ ہے جس میں اطاعت نہ ہو اور یہ شیطان کا بنی نوعِ آدم کے خلاف ہتھیار ہے، جلد بازی کے نتائج نقصان اور پشیمانی کی صورت میں نکلتے ہیں؛ انس  بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (طبیعت میں ٹھہراؤ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، جبکہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے) ابو یعلی

اسی طرح عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: " انسان نے ہمیشہ جلد بازی کا پھل ندامت ہی پایا"

انسان کیلیے جلد بازی کی خطرناک ترین صورت یہ ہے کہ : انسان دنیا کو آخرت پر ترجیح دے اور دنیاوی رنگینیوں میں غرق ہو کر آخرت سے غافل ہو جائے، فرمانِ باری تعالی ہے: {كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ[20]وَتَذَرُوْنَ الْآخِرَةَ} بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو [20] اور آخرت بھلا رہے ہو[القيامہ: 20- 21]

اخروی نعمتیں دائمی و سرمدی ہیں ان نعمتوں میں کبھی کدورت، تکلیف اور کمی نہیں آئے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَأَعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلَّى عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا[29] ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ} جس نے ہمارے ذکر سے رو گردانی کی اور صرف دنیاوی زندگی ہی اس کا مقصد ہے آپ اس سے اعراض کریں[29] ان کے علم کی یہی انتہا ہے۔[النجم : 29]

مذموم جلد بازی دل کا سکون و چین سلب کر لیتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ پریشان ، گرم مزاج اور جلد باز انسان اپنی ذمہ داری اچھی طرح ادا نہیں  کرتا یا کوئی کام سر انجام دے تو قابل اعتبار و اعتماد نہیں ہوتا۔

مذموم جلد بازی میں یہ شامل ہے کہ: افواہیں پھیلاتے چلے جانا اور تصدیق کیے بغیر تہمت لگانا ، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ} جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منہ سے وہ بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ تھی [النور : 15] زبان بلا سوچے سمجھے بات لیکر الزام تراشی کر دیتی ہے، کان بھی چلتی پھرتی باتوں کو لا شعوری طور پر سن لیتے ہیں، پھر یہ باتیں -اس سے پہلے کہ دل انہیں سمجھ لے -بغیر غور و فکر کے پھیل جاتی ہیں، اور جب شریعت کے ترازوں میں انہیں تولا جاتا ہے تو:  {وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ} تم اسے معمولی سمجھتے ہو حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت سنگین ہے[النور : 15]

بے لگام بھر پور جو ش و جذبہ مذموم جلد بازی کی شکل ہے جو کہ امت کو درپیش مسائل کا حل نہیں ہے، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حُرقہ جگہ پر بھیجا تو ہم نے ان پر صبح سویرے دھاوا بول کر شکست دے دی، اس کے بعد میں اور ایک انصاری  شخص ایک جنگجو کے پیچھے لگ گئے جب ہم نے اسے دبوچ لیا تو اس نے "لا الہ الا اللہ" پڑھ لیا، اس پر انصاری شخص نے اپنا وار روک لیا لیکن میں نے اسے نیزے کے وار سے قتل کر دیا، پھر جب ہم واپس پہنچے تو نبی ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اسامہ کیا تم نے اس کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بعد بھی قتل کر دیا ؟!) میں نے کہا: "اس نے بچاؤ کیلیے لا الہ الا اللہ پڑھا تھا" تو آپ ﷺ بار بار وہی جملہ دہراتے رہے  اور مجھے اتنی سخت شرمندگی ہوئی کہ میں اس دن سے پہلے مسلمان نہ ہونے کی تمنا کرنے لگا" بخاری و مسلم

غلط حکم لگانا اور حکم لگانے میں جلد بازی کرنا بھی مذموم ہے، خصوصاً بڑے اور اہم مسائل میں ؛ کیونکہ اہم مسائل میں جلد بازی سے کام لینا خونِ مسلم کی بے قدری کا باعث ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ناحق خون بہانا بہت ہی سنگین جرم ہے اور اس کا وبال بھی بہت درد ناک ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اگر آسمان و زمین کے سب مکین کسی مؤمن کا خون بہانے میں شریک ہوں تو یقیناً ان سب کو اللہ تعالی جہنم میں اوندھا ڈالے گا) ترمذی

جلد بازی کی وجہ سے انسان طیش میں بھی آ جاتا ہے ، اور غیر مناسب اقدام کر لیتا ہے جس کے نتیجے میں اپنی جان، معاشرے اور پوری قوم کو نقصان پہنچا بیٹھتا ہے۔

جلد بازی جس شخص کا وتیرہ ہو تو اسے شکوک و شبہات اپنے شکنجے میں دبوچ لیتے ہیں نیز اسے دوسروں کی عیب جوئی اور غلطیاں تلاش کرنے کی بیماری پڑ جاتی ہے۔

علمی رسوخ اور پختگی سے پہلے فتوی صادر کرنے کی جرأت کرنا بری اور تباہ کن عادت ہے، جس قدر علم کم ہوگا فتوی لگانے کی جسارت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی، سلف صالحین میں سے کسی نے اپنے دور میں کہا تھا کہ: " ہمارے ہاں کے [نام نہاد]مفتیوں کو لٹیروں سے پہلے جیل بھیجنا چاہیے"

اسبابِ کامیابی اور فتح کے بغیر اس کے خواب دیکھنا  قوانین الہی سے جہالت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ} کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے! جبکہ تمہیں ابھی وہ مصائب پیش ہی نہیں آئے جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں کو پیش آئے تھے۔ ان پر اس قدر سختیاں اور مصیبتیں آئیں جنہوں نے ان کو ہلا کے رکھ دیا۔ تاآنکہ رسول خود اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے سب پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب  آئے گی؟  سن لو! اللہ کی مدد پہنچنے ہی والی ہے۔ [البقرة : 214] اس کی وجہ یہ ہے کہ فتح و کامیابی صرف اللہ تعالی کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہتا ہے فتح کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

لوگوں کے درمیان فیصلے کرتے ہوئے جلد بازی لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے اور ان کے حقوق تلف کرنے کا باعث ہے، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:" مجھے رسول اللہ ﷺ یمن  کی جانب قاضی بنا کر بھیجنے لگے  تو میں نے عرض کیا: "اللہ کے رسول! آپ مجھے بھیج تو رہے ہیں لیکن میں نو عمر ہوں فیصلے کرنے کی مجھ میں سکت نہیں ہے" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالی تمہاری ضرور رہنمائی فرمائے گا اور تمہاری بات میں وزن پیدا کرے گا، جب تمہارے سامنے فریقین فیصلے کے لیے آئیں تو اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک دونوں کی یکساں طور پر بات نہ سن لو، اس طرح تمہارے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا) علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "میں اس وقت سے فیصلے کر رہا ہوں" یا  "اس دن کے بعد فیصلہ کرتے ہوئے مجھے کبھی تردد نہیں ہوا" ابو داود

مرد پر گھریلو ذمہ داری اور سربراہی کا تقاضا یہ ہے کہ مزاج میں ٹھہراؤ سے متصف ہو اور مذموم جلد بازی سے دور ہو؛ کیونکہ اس سے ازدواجی زندگی تباہ ہو جاتی ہے اور نا قابل ستائش نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔

دعا کرتے ہوئے جلد بازی کرنا دعا مسترد ہونے کا سبب ہے، چنانچہ دعا کرنے پر قبولیت میں تاخیر ہو سکتی ہے لیکن اس کی وجہ اور حکمت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس حکمت بھری تاخیر کو شیطان ہتھیار بنا کر مسلمان کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے تا کہ دعاؤں سے اس کا دل اچاٹ کر دے، حالانکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اس وقت تک تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک جلد بازی سے کام نہ لے اور کہے: "دعائیں  تو بہت کی ہے لیکن قبول ہی نہیں ہوتیں!")بخاری و مسلم

سلف صالحین میں سے کسی نے کہا ہے کہ: "دعا کے آداب کی مخالفت کرتے ہوئے "دعائیں تو بہت کی ہے لیکن قبول ہی نہیں ہوتیں!" کہنے والے کے متعلق خدشہ ہے کہ اس کی دعائیں کبھی قبول نہ ہوں نیز مغفرت یا ذخیرۂ آخرت بھی نہ بنیں"

دعا کرتے ہوئے یہ بھی جلد بازی کی صورت ہے کہ: اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور رسول اللہ ﷺ پر درود کے بغیر دعا مانگی جائے، چنانچہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : " رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نماز میں  اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور نبی ﷺ پر درود کے بغیر دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (نماز پڑھنے والے!  تم نے جلد بازی سے کام لیا ہے) اس کے بعد نبی ﷺ نے انہیں طریقہ سکھایا  اسی طرح ایک بار رسول اللہ ﷺ نے ایک اور آدمی کو نماز میں  اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور نبی ﷺ پر درود پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اب دعا کرو تو تمہاری دعا قبول کی جائے گی اور کچھ بھی مانگو تمہیں دیا جائے گا) ترمذی

یہ تھیں جلد بازی کی مذموم صورتیں، لیکن رضائے الہی اور خیرو بھلائی کے کاموں کیلیے جلدی  اچھی خصلت اور تمام انبیائے کرام کی امتیازی صفت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} بےشک وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے لیے ہی عاجزی کرنے والے تھے [الأنبياء : 90]

موسی علیہ السلام بھی رضائے الہی کا موجب بننے والے اقوال افعال پر جلد از جلد عمل کرتے تھے اور کہتے: { وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَى} پروردگار! میں تیرے پاس جلدی آ گیا ہوں تا کہ تو راضی ہو جائے[طہ : 84]

اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: "جس وقت یہ آیت { يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ} خواتین اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیں۔[الأحزاب : 59] نازل ہوئی: تو انصاری خواتین گھر سے نکلتیں تو ان کے سروں پر سیاہ چادریں ہوتی تھیں" اسے ابو داود نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کیلیے قرآن مجید کو با برکت بنائے ، مجھے اور آپ سب کو قرآن مجید سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے  اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے راہِ ہدایت کی جانب رہنمائی کی ،  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور تنہا ہے، دنیا اور آخرت میں اسی لیے تعریفیں ہیں، نیز  یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے  اور رسول ہیں، اللہ تعالی نے آپ کی یہ کہتے ہوئے عزت افزائی فرمائی: {وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى}اور آخرت آپ کیلیے دنیاوی زندگی سے بہتر ہے۔ [الضحى : 4] اللہ تعالی آپ پر، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر درود و سلامتی نازل فرمائے ۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں ۔

مذموم جلد بازی بیماری   ہے جبکہ مزاج میں ٹھہراؤ اور جلد بازی کے نتائج کی معرفت اس کا علاج ہے، نبی ﷺ  نے اشج رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: (تمہارے اندر دو صفات ہیں جنہیں اللہ تعالی پسند کرتا ہے: عقلمندی اور ٹھہراؤ) مسلم

کسی نے کہا ہے کہ: "سوچ سمجھ کر اور تسلی کے ساتھ فیصلہ کرنے والے کیلیے درستگی کا امکان فی البدیہہ فیصلے کرنے والے سے زیادہ ہوتا ہے"

جدید مسائل اور پر فتن دور میں مذموم جلد بازی کا علاج کتاب و سنت اور اہل علم سے رجوع کے ساتھ ممکن ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ} اور اگر وہ اسے رسول یا اپنے کسی ذمہ دار حاکم تک پہنچاتے تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جاتی جو اس سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں [النساء : 83]

یہ بھی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے میں شامل ہے کہ اہل خرد و علم سے مشورہ کریں تن تنہا فیصلہ مت کریں  اور اپنے آپ پر مکمل قابو رکھیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ} آپ بھی اسی طرح صبر کریں جیسے اولو العزم پیغمبروں نے صبر کیا ۔[الأحقاف : 35]

زبان  کنٹرول میں رکھنا اور فضول گفتگو سے پرہیز کرنا مذموم جلد بازی کے نقصانات سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

مذموم جلد بازی کا یہ بھی علاج ہے کہ: پہلے حسن ظن رکھیں اور پھر  مسلمانوں کی نیتوں  پر نکتہ چینی مت کریں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اپنے آپ کو بد گمانی سے بچاؤ، کیونکہ بد گمانی جھوٹی ترین بات ہوتی ہے) بخاری ، مسلم

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ اللہ اور اس کے فرشتے  نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود  و  سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

یا اللہ! محمد -ﷺ- پر انکی اولاد اور ازواج مطہرات پر رحمت  و سلامتی بھیج، جیسے کہ تو نے ابراہیم کی آل پر رحمتیں بھیجیں، ، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے  اور محمد  -ﷺ- پر انکی اولاد اور ازواج مطہرات پر  برکتیں نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین  ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی  رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا،  انکے ساتھ  ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام  سے راضی ہو جا،  اور اپنے رحم و کرم، اور احسان کے صدقے  ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، اور کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور سارے اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہم سب کو ہمارے علاقوں میں امن و امان عطا فرما، ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما اور ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو حق بات کی توفیق دے اور تیری رہنمائی کے مطابق انہیں توفیق دے، اور ان کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے ، یا رب العالمین! یا اللہ!ان کے دونوں نائبوں کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بری نیت رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بری نیت رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں،  اس کی مکاری اسی کی تباہی و بربادی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا!

یا اللہ! پوری دنیا میں تیرے کلمے کی سر بلندی کیلیے تمام مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان کے نشانے درست فرما، ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، اور انہیں کلمۂ حق پر متحد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت اور مدد فرما،  یا اللہ! انہیں  اپنی خصوصی مدد عطا فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کا حامی و ناصر اور مدد گار بن جا، یا اللہ! مسلمان بھوکے ہیں ان کے کھانے کا بند و بست فرما،  پاؤں سے ننگے ہیں انہیں جوتے عطا فرما، پاؤں سے ننگے ہیں انہیں جوتے عطا فرما، تنگ دست ہیں   انہیں غنی فرما دے، یا اللہ! ان کی مدد فرما، یا اللہ! انہیں  اپنی خصوصی مدد عطا فرما۔

یا اللہ! کتاب کو نازل کرنے والے! بادلوں کو چلانے والے، لشکروں کو شکست دینے والے، تمام اتحادی افواج کو شکست سے دوچار  فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو شکست سے دو چار فرما، اور مسلمانوں کو ان پر غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر عمل اور قول کا سوال کرتے ہیں اور ہم جہنم  یا اس کے قریب کرنے والے ہر عمل اور قول سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! جلدی یا دیر سے ملنے والی خیر چاہے ہمارے علم میں ہے یا نہیں ہر قسم کی بھلائی کا ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں، یا اللہ! جلدی یا دیر سے ملنے والے شر  چاہے ہمارے علم میں ہے یا نہیں ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتے  ہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور تونگری کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر آخر تک ، اول سے آخر تک ، ظاہری ہو یا باطنی  اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم پر اپنی برکتیں، رحمتیں، فضل اور رزق کے دروازے کھول دے، یا اللہ! ہم پر اپنی برکتیں، رحمتیں، فضل اور رزق کے دروازے کھول دے، یا اللہ! ہم پر اپنی برکتیں، رحمتیں، فضل اور رزق کے دروازے کھول دے،

یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کو غلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت  آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا،  تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے، ہماری زبان کی حفاظت فرما،  اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں  ختم کر دے۔

یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال ، عافیت کی تبدیلی، تیری اچانک پکڑ  اور ہمہ قسم کی ناراضگیوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، بیماروں کو شفا یا ب فرما، قیدیوں کو رہائی عطا فرما، یا اللہ! ہمارے والدین، اور تمام مسلمانوں کو بخش دے، یا رب العالمین!

}رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ { ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف  نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] }رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ{ اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے,  اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] }رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ{ ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ { اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

ملاحظہ کیا گیا 1130 بار

جدید خطبات

خطبات

  • سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    پہلا خطبہ یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں سیدنا محمد  -ﷺ-اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی  اور امت کی مکمل خیر خواہی فرمائی، نیز  راہِ حق میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    ﷽   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے  ہیں، اسی نے اپنے بندوں  میں روزی، رزق اور اپنا فیض تقسیم فرمایا، اللہ تعالی نے چوری حرام قرار دی اور اس پر چوروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر فرمائی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک  نہیں  ، اسی کا فرمان ہے: {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ} تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گا۔ [النحل: 96]، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا گیا۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر  اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک آفتاب  طلوع ہوتا رہے اور سورج کی روشنی چمکتی رہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! اللہ سے ڈرو، کہ تقوی الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اس کی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ایسے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے17-ذوالحجہ-1438  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں"نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے سعادت حج پانے والوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور عبادت کی قبولیت کیلیے جد و جہد از بس ضروری ہے، چنانچہ عدم ایمان کے باعث کافر اور منافق کا کوئی بھی عمل  آخرت میں فائدہ نہیں دے گا البتہ انہیں دنیا میں پورا بدلہ دے دیا جائے گا،  عمل کی قبولیت کیلیے اخلاص اور اتباعِ سنت  لازمی امور ہیں،  اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کا مقصود  اور مطلوب صرف رضائے الہی ہو ، جس کیلیے نیت  بنیادی کردار کی حامل ہے؛ کیونکہ نیت کی وجہ سے چھوٹا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: تقوی، تسلسل کے ساتھ نیکیاں، نیکی کیلیے دلی رغبت، نیکی پر ثابت قدمی اور انسانی اعضا کا صحیح سلامت رہنا نیکی قبول ہونے کی علامات میں سے ہیں،  اگر انسان کو عبدیت کی حقیقی معرفت مل جائے تو اسے اپنی ساری زندگی کی عبادات بھی ہیچ نظر آئیں اسی لیے تو…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    پہلا خطبہ: یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور  بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقہ ڈور، خلوت اور جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان  اور نگران سمجھو۔ مسلمانو! اللہ تعالی صفاتِ جلال اور جمال سے موصوف ہے۔ اس کی ذات، اسما، صفات اور افعال سب ہی کامل ترین ہیں۔ اس کا کوئی ہم نام یا ہم سر نہیں ، اس کی کوئی شبیہ یا اس کا کوئی ثانی نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟۔ پہلا خطبہ تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کیلیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اسی میں سعادت مندی اور خوشحالی پنہاں ہے۔ اللہ کے بندو! ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کیلیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کیلیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم