بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الإثنين, 07 آذار/مارس 2016 00:00

معرفتِ الہی اور اس کے تقاضے

مولف/مصنف/مقرر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلئے ہیں، ہم اسکی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اسکا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اسکے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے  ، اور اسلام کے کڑے کو مضبوطی سے تھام لو۔

مسلمانو!

جس ذات کے بارے میں علم ہوگا تو اس کے بارے میں علم کا رتبہ بھی اتنا ہی مقام و مرتبہ رکھے گا،  اور سب سے اشرف ترین علم  ذات باری تعالی سے متعلق علم ہے، جسے حاصل کرنا اور اس کی تعظیم کرنا تمام ضروریات سے بھی ضروری ہے، بلکہ یہی حقیقی ضرورت  ہے، نیز اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی فطرت میں اپنی محبت و معرفت  ڈالی ہے  اور دل کو صرف اللہ کی محبت کیلیے پیدا کیا، {فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ}یہی فطرت الٰہی  ہے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی اس تخلیق میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا [الروم : 30] یہاں فطرت سے مراد دین حنیف  ہے جس پر ہر بچے کو پیدا کیا جاتا ہے، لیکن شیطانی جن و انس اسے تبدیل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، حدیث قدسی میں ہے کہ: (میں نے اپنے تمام بندوں کو دینِ حنیف پر پیدا کیا ہے، لیکن شیاطین ان کے پاس آ کر انہیں ان کے دین سے پھیر دیتے ہیں) مسلم

اس لیے تمام مسلمانوں کو  اپنی فطرت کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے؛ تاکہ منحرف لوگ بھی اپنی اصل پر واپس آ جائیں اور مؤمنوں کا ایمان مزید بڑھ جائے۔

اللہ تعالی نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کے دلائل پیش کیے ہیں، اگر اللہ کا کلام اور اس کی نشانیاں لکھنے کیلیے سمندر  کا پانی روشنائی بن جائے تو  کلامِ الہی مکمل ہونے سے پہلے سمندر کا پانی ختم ہو جائے گا۔

رسولوں کو فطرت کی تکمیل و پائیداری کیلیے بھیجا گیا ، توحید ربوبیت پر ایمان لانا پیغمبروں کا عظیم پیغام اور ایمانی بنیادوں میں سے ایک بنیاد ہے، نیز  توحید ربوبیت توحید کی ان تین اقسام میں شامل ہے جن کیلیے اللہ تعالی نے بندوں کو پیدا فرمایا ، بلکہ وحدانیتِ الہی کی دلیل توحید  ربوبیت ہے، اللہ تعالی نے عقیدہ توحید ثابت کرنے کیلیے ربوبیت کو ہی دلیل کے طور پر پیش کیا، توحید ربوبیت میں شرک عظیم اور قبیح ترین شرک ہے، نیز توحید الوہیت میں غلطی وہی کھاتا ہے جو اس کا حق ادا نہ کرے۔

اللہ تعالی کی تمام صفات اور افعال کامل ہیں، ربوبیت اللہ تعالی کی صفات میں شامل ہے، جس طرح الوہیت میں کوئی بھی اللہ تعالی کا شریک نہیں بالکل اسی طرح ربوبیت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ} آپ کہہ دیں: کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو پروردگار  مانوں؟ حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے۔[الأنعام : 164]

اللہ تعالی اکیلا پیدا کرتا ہے وہی سب کا مالک ہے، سب کا رزق  اور معاملات اکیلا ہی سنبھالتا ہے، وہی خالق ہے تخلیق کیلیے اس کا کوئی معاون نہیں، وہی بہت زیادہ پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے، اللہ تعالی نے جس طرح عدم سے وجود بخشا اسی طرح قیامت کے دن دوبارہ پیدا کریگا اور یہ اللہ تعالی کیلیے بہت آسان ہے، {أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ}کیا پیدا کرنے والا نہ پیدا کرنے والے کی طرح ہو سکتا ہے؟ تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے؟ [النحل : 17]

وہی اللہ تعالی باد شاہ ہے اور ساری بادشاہی اسی کی ہے، {ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ} یہ ہے تمہارا پروردگار جس کی بادشاہی ہے، اور اللہ کو چھوڑ کر جن لوگوں کو تم پکارتے ہوئے وہ تو کھجور کی گٹھلی  پر موجود جھلی کے بھی مالک نہیں !![فاطر : 13] وہی تمام مخلوقات کا مالک ہے، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، ساری مخلوقات اسی کی سامنے سجدے میں جھکی ہوئیں اور اسی کی تسبیح بیان کرتی ہیں: وہی عالی شان آقا ہے اس کا کوئی شریک نہیں باقی سب اس کے بندے ہیں: {إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا} آسمان و زمین کا ہر ایک مکین رحمن کے پاس غلام بن کر آئے گا۔[مريم : 93]

وہ ابدی اور سرمدی  بادشاہ ہے، دنیا اور یومِ جزا کا مالک ہے، وہ روزِ آخرت فرمائے گا: { لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ} آج کس کی بادشاہی ہے؟ [غافر : 16]پھر اللہ تعالی خود ہی فرمائے گا:{ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} صرف اللہ کیلیے جو یکتا اور قاہر ہے۔[غافر : 16]

اللہ تعالی اپنی مخلوقات کے امور زندگی تنہا چلا رہا ہے، چنانچہ ہر چیز کا معاملہ صرف اس کے ہاتھ میں ہے: {أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ} وہی پیدا کرتا ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے۔[الأعراف : 54]

امر و نہی کے احکام جاری کرنا، پیدا  کرنا اور پھر رزق دینا ، نوازش یا  بندش فرمانا، اونچا یا نیچا کرنا، عزت و ذلت دینا ، موت و حیات سب اسی کے ہاتھ میں ہے: {يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ}وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر چڑھتا ہے سورج اور چاند اسی نے مسخّر کیے  [الزمر : 5] اسی طرح فرمایا: {يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا} وہ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا ہے اور وہ زمین مردہ ہونے کے بعد اسے زندہ بھی کرتا ہے۔[الروم : 19]آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزیں وہی باہر نکالتا ہے۔

تمام مخلوقات اس کی مرضی اور قہر کے تابع ہیں، لوگوں کے دل و دماغ ، اور تمام معاملات کی باگ ڈور اسی کے فیصلوں اور احکامات سے منسلک ہیں، ابد سے لیکر انتہا تک اسی کا حکم چلے گا، وہ تمام انسانوں کے اعمال کا نگران ہے، آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، اس نے آسمانوں کو تھاما ہوا ہے کہ مبادا زمین پر  گر نہ جائیں، نیز اللہ تعالی نے آسمان و زمین کو تھاما ہوا ہے کہ کہیں اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں۔

آسمان و زمین کی ہر چیز اسی سے مانگتی ہے، {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} وہ ہر دن کسی کام میں ہوتا ہے۔[الرحمن : 29] اس کے مجموعی اعمال میں یہ بھی شامل ہے کہ  وہ گناہ معاف کرتا ہے، گمراہ کو راہ لگاتا ہے، پریشانی رفع فرماتا ہے، مشکل کشائی کرتا ہے، نقصان پورا کرتا ہے، فقیروں کو نوازتا ہے، اور دعائیں قبول کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَ} اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں[المؤمنون : 17]

اللہ تعالی کے احکامات مسلسل ہیں اور مرضی اسی کی چلتی ہے، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جو چاہے کر دکھاتا ہے، اس کے فیصلے پہلے سے طے شدہ ہیں۔

جو دینے پر آئے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو روک دے اسے کوئی لے نہیں سکتا، اس کے فیصلوں کو کوئی چیلنج یا مسترد نہیں کر سکتا، کوئی اس کی چاہت کو رد نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی اس کے کلمات  تبدیل کر سکتا ہے۔

اللہ تعالی نے مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے بھی پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی تھیں، اس لیے اگر ساری مخلوقات مل کر ایسی چیز کرنا چاہیں جو اللہ تعالی نے نہیں لکھی تو یہ ان کی ناکام کوشش ہوگی، اور اگر کوئی ہونے والی چیز کے بارے میں کوشش کریں کہ نہ ہو تو اس میں بھی نا مراد ہوں گے، پورا معاشرہ کسی بندے کو نقصان پہنچانا چاہے لیکن اللہ تعالی اسے نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تو وہ اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے، اسی طرح اگر وہ کسی کو فائدہ پہنچانا چاہیں لیکن اللہ تعالی اس کی اجازت نہ دے تو وہ کبھی اس کا فائدہ نہیں کر سکتے، کوئی عذاب الہی کو ٹال نہیں سکتا،  وہ جسے چاہے ہدایت دے یہ اس کا فضل ہے، اور وہ جسے چاہے گمراہ کر دے یا اس کا عدل ہے،  وہ جس چیز کا ارادہ فرمائے تو اسے کہتا ہے: "ہو جا" تو وہ ہو جاتی ہے، {لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ} اس کے افعال سے متعلق پوچھا نہیں جاتا لیکن مخلوقات کے اعمال سے متعلق پوچھا جائے گا۔[الأنبياء : 23]

اللہ تعالی کی گفتگو سب سے بہترین گفتگو ہے، اس کی ابتدا و انتہا کا کوئی اندازہ نہیں ہے: {وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ } زمین پر تمام درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر روشنائی بن جائے پھر اس کے بعد سات مزید سمندر بھی روشنائی مہیا کریں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی [لقمان : 27]

ہر چیز اللہ تعالی کے علم میں ہے، اس لیے وہ جو کچھ ہوا یا نہیں ہوا نیز جو نہیں ہوگا ؛ وہ سب جانتا ہے، مخلوقات کے ماضی و حال سے اچھی طرح واقف ہے: { وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا} بر و بحر کی ہر چیز اور گرنے والے ہر پتے کو بھی وہی جانتا ہے[الأنعام : 59] آسمان و زمین کی کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں ہے، وہ ہمیں نظر آنے والی اور اوجھل تمام چیزوں سے واقف ہے، دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات تک جانتا ہے، سینوں میں چھپے راز اس کے سامنے عیاں ہیں، وہ جانتا ہے کہ مادہ کے پیٹ میں کیا ہے ؟ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں،  ساری مخلوقات کا علم اللہ تعالی کے بحر بے کنار علم کے مقابلے میں  ایک قطرے کی طرح ہیں، بلکہ مخلوقات کے پاس جو بھی علم ہے وہ بھی اللہ تعالی کی مشیئت سے ہے۔

ایک چڑیا نے سمندر سے اپنی چونچ میں پانی لیا  تو خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام سے کہا: (میرے اور تمہارے علم نے اللہ تعالی کے علم سے اتنا ہی لیا ہے جتنا اس چڑیا نے سمندر کا پانی لیا)مسلم

وہ کائنات کی تمام آوازیں سنتا ہے اللہ تعالی کے سامنے کسی بھی قسم کی بات ڈھکی اور چھپی نہیں وہ سب کی باتیں سمجھتا ہے، ایک عورت نے نبی ﷺ کے پاس آ کر اپنے خاوند کی شکایت لگائی اور اس وقت عائشہ رضی اللہ عنہا گھر کے ایک کونے میں تھیں، آپ کہتی ہیں کہ مجھے اس عورت کی آواز سنائی دے رہی تھی لیکن مکمل سمجھ نہیں پا رہی تھی، جبکہ اللہ تعالی نے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوتے ہوئے اس کی آواز سنی  اور یہ آیات نازل فرمائیں: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا} اللہ نے یقیناً اس عورت کی بات سن لی ہے جو اپنے خاوند کے بارے میں  آپ سے جھگڑ رہی ہے اور اللہ کے حضور شکایت کر رہی ہے۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ [المجادلہ : 1]

وہ تمام چیزوں کو وہ دیکھ رہا ہے، لوگوں کے رات کی تاریکیوں میں کیے ہوئے اعمال اس سے مخفی نہیں ، ہمارا پروردگار لوگوں کے تمام اعمال غور سے نوٹ کر رہا ہے۔

چونکہ ساری مخلوقات اسی کی ہیں اس لیے حکم بھی اسی کا چلتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} حکم صرف اللہ تعالی کیلیے ہے[الأنعام : 57]

نیز حدود الہی اور شرعی احکام سب سے بہترین احکامات ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس سے اچھا کوئی فیصلہ کرنے والا ہے ہی نہیں، اللہ فیصلہ فرما دے تو کوئی اس کے فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا ، اور اللہ تعالی کسی پر ظلم نہیں فرماتا۔

اللہ تعالی سے بڑھ کر کوئی رحمت کرنے والا نہیں ، وہ سب سے بڑا اور سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے، اللہ تعالی کی رحمت اولاد کیساتھ والدہ کی رحمت سے بھی زیادہ ہے، اللہ تعالی نے رحمت کے سو حصے پیدا فرمائے اور ان میں سے صرف ایک حصہ زمین پر نازل فرمایا جس کی وجہ سے ساری مخلوقات باہمی پیار و محبت سے رہتی ہے، جبکہ ننانوے حصے اپنے پاس رکھے ، اللہ تعالی کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے ۔

اللہ تعالی نہایت سخی ہے اس سے بڑھ کر کوئی سخی نہیں، اللہ تعالی اپنی مخلوق کو دینا اور نوازنا پسند فرماتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی انہیں زمین و آسمان ہر دو جگہ سے عطا فرماتا ہے، اللہ تعالی کا فضل و کرم عظیم  ہے، اس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہونگے: {قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ} آپ کہہ دیں: تمہیں آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ [يونس : 31] اس کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں دن رات کی سخاوت سے بھی اس میں کمی واقع نہیں ہوتی، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تمہیں معلوم ہے کہ: جب سے اللہ تعالی نے آسمان و زمین پیدا کیے ہیں اس وقت سے خرچ کرنے کے باوجود اللہ تعالی کی بادشاہی میں کوئی کمی نہیں آئی) بخاری

وہ اپنے بندوں کی دعا رد نہیں کرتا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ} اور جب میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو میں قریب ہی ہوں، جب بھی مجھے کوئی پکارتا ہے تو دعا کرنے والی کی دعا قبول کرتا ہوں [البقرة : 186] کسی بھی ضرورت کو پورا کرنا اس کیلیے کوئی مشکل نہیں ہے، چاہے شروع سے لیکر آخر تک جن و انس بیک وقت  یکجا ہو کر اللہ تعالی سے مانگنا شروع کریں اور اللہ تعالی انہیں ان کی مرادیں دیتا جائے  تو اس سے اللہ کے خزانوں میں اتنی کمی آئے گی جتنی سوئی سمندر میں ڈالنے سے آتی ہے۔

اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے، چاہے کوئی جن ہو یا انسان، کافر ہو یا مسلمان، تمام کے تمام جانداروں کی ذمہ داری اسی پر ہے: {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا} اس زمین میں کوئی بھی رینگنے والا جانور ہے اس کا رزق اللہ تعالی کے ذمہ ہے۔[هود : 6] وہ دیتا ہے تو احسان نہیں جتلاتا، اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلیے عنایتوں کے دروازے چوپٹ کھولے ہوئے ہیں، اللہ تعالی نے سمندروں کو مسخّر کیا، دریا اور نہریں جاری کیں، رزق کے انبار لگائے، اپنے بندوں کو بغیر مانگے ڈھیروں نعمتیں عطا فرمائیں، نیز ان کی مرادیں بھی پوری فرمائیں، بلکہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو پیشکش کرتے ہوئے فرماتا ہے: (کون ہے جو مجھ سے مرادیں مانگے اور میں اسے دوں؟) ہر قسم کی خیر اللہ تعالی کی طرف سے ہے: {وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ}اور تمہیں جو بھی نعمت ملی تو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔[النحل : 53]

اللہ تعالی نے تمام مخلوقات  کا رزق ان تک پہنچایا، چنانچہ جنین کا رزق ماں کے پیٹ میں پہنچایا، چیونٹی کا اس کے بل میں، پرندوں کا آسمانوں  کی فضاؤں میں، مچھلیوں کا گہرے پانیوں میں : {وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ} اور کتنے ہی ایسے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ انہیں  رزق دیتا ہے اور تم کو بھی وہی دیتا ہے[العنكبوت : 60] وہ اتنا کریم ہے کہ: بندے اپنے مطالبے کسی اور کے سامنے رکھیں تو  وہ ناراض  اور جو اس سے نہ مانگے اس  پر غضبناک ہوتا ہے، حقیقی محروم تو وہی ہے جو اسے چھوڑ کر کسی اور سے امید لگائے۔

تکلیف دہ بات سن کر اللہ تعالی سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ، لوگ اللہ تعالی کے ساتھ غیروں کو شریک بناتے ہیں اور اسکی اولاد تک بنائے بیٹھے ہیں لیکن اللہ تعالی پھر بھی انہیں معاف فرماتا ہے اور انہیں رزق سے نوازتا ہے۔

اللہ تعالی نے فضل و کرم فرماتے ہوئے اطاعت گزاروں کو کامیاب فرمایا، اور انہیں ثواب سے نوازا، باری تعالی بہت ہی قدر دان ہے چنانچہ وہ تھوڑے عمل پر ڈھیروں ثواب  سے نوازتا ہے، ایک نیکی کا بدلہ دس گنا سے لیکر کئی گنا تک عطا فرماتا ہے، اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلیے جنت میں ایسی چیزیں تیار کی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں، بلکہ کسی بشر کے دل میں ان کا خیال تک نہیں آیا، جنت میں اللہ تعالی اپنے بندوں کی رضا مندی کے بارے میں پوچھے گا: (کیا اب راضی ہو؟ تو وہ کہیں گے: ہم کیوں نہ راضی ہوں؟!تو نے ہمیں وہ کچھ دے دیا ہے جو کسی اور کو  تو نے نہیں دیا، تو اللہ تعالی فرمائے گا: میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دیتا ہوں، تو وہ کہیں گے: اس سے بھی افضل چیز!!؟ اللہ تعالی فرمائے گا: میں تم سے راضی ہو گیا ہوں آج کے بعد تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا) بخاری

وہ بذاتہ خود غنی ہے، وہ بے نیاز ہے تمام مخلوقات اپنے ضروریات کیلیے اسی سے رجوع کرتی ہیں ، وہ بہت با کمال ذات ہے، اس کا پیٹ نہیں ہے، {اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} اللہ بے نیاز ہے[2] نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نےجنم دیا[3] اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ [الإخلاص : 2 - 4] اس کے ساتھ کوئی الہ نہیں، اور نہ ہی اس کے بیوی بچے ہیں، {وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ} اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی ناتوانی کی وجہ  سے اس کا کوئی مدد گار ہے[الإسراء : 111]

اللہ کی اطاعت اسی کے فضل سے ہے اور اگر اس کی نافرمانی کی جاتی ہے تو وہ بھی اس کے علم میں ہے، وہ اپنی مخلوق سے بالکل بے نیاز ہے، ہر چیز اسی کی وجہ سے قائم دائم اور اسی کی محتاج ہے: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ} لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو ، اور اللہ تعالی غنی و حمید ہے۔[فاطر : 15]

کسی اطاعت گزار کی اطاعت اسے کوئی فائدہ اور نہ ہی کسی نافرمان کی نافرمانی اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے؛ لہذا اگر پوری کائنات کے لوگ ایک نیک پارسا آدمی کے دل کی طرح متقی بن جائیں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، اور سب مل کر کسی بد کار آدمی کے دل کی طرح بن جائیں تب بھی اللہ کی بادشاہی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی، انسانوں میں انتی سکت ہی نہیں ہے کہ جمع ہو کر اسے کوئی فائدہ پہنچا سکیں یا اسے کوئی نقصان دے سکیں۔

وہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے، اسے اونگھ یا نیند نہیں آتی ، وہ سوتا نہیں ہے اور نہ سونا اس کے لائق ہے، ترازو کو تہ و بالا کرتا ہے، رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اسی کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔

 اللہ تعالی کا حجاب نور ہے اگر وہ اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی تمازت  تا حد نگاہ  ہر چیز کو بھسم کر دے، وہ بہت ہی بڑی اور عظیم ذات ہے، جبار اور انتہائی مضبوط ہے، عزت و کبریائی اس کا دامن و تہہ بند ہیں، وہ بلا مددِ غیر تنہا بھی قوی ہے، وہ بلند و بالا ہے کوئی اس کا ہمسر نہیں، اس کی ذات کے علاوہ ہر چیز تباہ ہو نے والی ہے، ہر چیز اس کے گھیرے میں ہے لیکن کسی چیز نے اس کا گھیرا نہیں کیا ہوا: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ} آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، لیکن وہ آنکھوں کا ادراک رکھتا ہے۔[الأنعام : 103]

قیامت کے دن زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ سے لپٹے ہونگے۔

کسی بھی مخلوق کے سامنے اسے سفارشی نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی بغیر اجازت اس کے پاس کسی کی سفارش کی جا سکتی ہے۔

اس کی کرسی یعنی: باری تعالی کے قدموں کی جگہ آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے ، اور کرسی عرش کے مقابلے میں کھلے میدان میں پڑے ایک کڑے کی طرح ہے، عرش سب سے بڑی مخلوق ہے، اسے ایسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے جس کے کان کی لو سے لیکر کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال کا ہے۔

 جیسے اللہ تعالی کی شان کے لائق ہے وہ عرش پر مستوی ہے ، اللہ تعالی کو عرش یا دیگر کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہے: {تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ} قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ جائیں۔[الشورى : 5] یعنی: اللہ کی عظمت کے خوف سے پھٹ جائیں ، جس وقت اللہ تعالی وحی کیلیے کلام فرماتا ہے تو اس کی وجہ سے آسمان  کانپ اٹھتے ہیں، سخت کڑک پیدا ہوتی ہے، اور آسمان کے مکین مدہوش ہو کر اللہ تعالی کیلیے سجدے میں گر جاتے ہیں۔

وہی اول ہے لہذا اس سے پہلے کچھ نہیں  اور وہی آخر ہے لہذا اس کے بعد کچھ نہیں، وہی ظاہر ہے اس سے اعلی کچھ نہیں اور وہی باطن ہے اس سے مخفی کچھ نہیں ، وہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی اس سے زیادہ طاقتور نہیں ۔

آسمان و زمین کی کوئی چیز اس کو عاجز نہیں بنا سکتی، اس کا حکم پلک جھپکتے ہی بلکہ اس سے بھی پہلے پورا ہو جاتا ہے، اپنے لشکروں کی تعداد کے متعلق صرف وہی بہتر جانتا ہے۔

 جب دنیا ختم ہوگی تو اللہ تعالی پوری زمین کو جھنجھوڑے گا، اور پیس کر رکھ دے گا، اس وقت پہاڑ چلنے لگیں گے اور دھول بن کرے اڑیں گے، صور پھونکنے پر ساری مخلوق گھبرا جائے گی، اور دوسرے نفخہ پر سب مر جائیں گے اور تیسرے نفخہ پر سب جی اٹھیں گے۔

وہ انتہائی پاکیزہ اور مقدس ذات ہے، ہمہ قسم کے عیب اور نقص سے منزہ ہے، اعلی ترین کمال اسی کیلیے ہے، سب سے بہترین جمال  اسی کیلیے ہے، اس کا کوئی ہم سر، شریک، ہم نام، یا نظیر نہیں ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} اس جیسی کوئی چیز نہیں وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔[الشورى : 11]

اس تفصیل کے بعد: مسلمانو!

کیا ہم سب کی ذمہ داری اور فرض نہیں بنتا کہ ہم ان صفات کے حامل اپنے پروردگار سے محبت کریں، اسی کی حمد و ثنا بیان کریں اور خالص اسی کی عبادت کریں، جو شخص اللہ تعالی کو پہچان لے  تو وہ قربِ الہی پاتا ہے اور اسی کے سامنے عاجزی و انکساری اپناتا ہے، وہ اللہ تعالی سے مانوس اور اسی پر مطمئن رہتا ہے، اس سے ثواب کی امید  اور عذاب سے بچاؤ کی تمنا رکھتا ہے، اللہ تعالی اس کی ضروریات پوری فرماتا ہے اور بندہ اللہ تعالی پر کامل توکل کرتا ہے۔

جو شخص اللہ تعالی کی کثرت سے حمد و ثنا بیان کرے تو وہ بلندیوں کو چھو لیتا ، اللہ تعالی سے بڑھ کر کسی کو اپنی مدح اور حمد پسند نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے خود بھی اپنی مدح بیان کی ہے، جو محبت کیساتھ اللہ تعالی کی عبادت کرے تو اللہ تعالی اس سے محبت فرماتا ہے، اور اس سے راضی ہو کر اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔

 أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ} بیشک اللہ تعالی ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے، تم اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔[آل عمران : 51]

 اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اسکی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، اللہ تعالی ان پر ، آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی کیساتھ کسی دوسرے کو شریک بنانے والا اور اللہ تعالی کو چھوڑ کسی مخلوق اور مردوں سے مانگنے والا رب العالمین کی تنقیص کرتا ہے، بلکہ اللہ تعالی کے بارے میں بد گمانی کا شکار ہے نیز اس نے غیر اللہ کو اللہ کے برابر کر دیا، شرک میں تمام اعمال رائیگاں کرنے کی صلاحیت ہے، اللہ تعالی مشرک کو نہیں بخشے گا اور نہ ہی اسے جنت میں داخل کریگا، بلکہ وہ ہمیشہ جہنمی رہے گا۔

شرک فطرت میں پیدا ہونے والے تغیّرات میں سے سنگین ترین تبدیلی ہے،  زمین پر بپا ہونے والی سب سے بڑی خرابی ، ہر بلا کی بنیاد اور تمام بیماریوں کا مجموعہ ہے اور شرک کے نقصانات و خطرات بہت ہی المناک ہیں۔

گناہوں کے منفی اثرات بہت زیادہ ہیں، اگر کسی آدمی میں جمع ہو جائیں تو اسے تباہ کر کے رکھ دیں، انسانی دل اور جسم کے درمیان  رکاوٹ بھی بن جاتے ہیں، گناہ جس قدر آنکھوں میں چھوٹا ہو، اتنا ہی اللہ تعالی کے ہاں بڑا ہوتا ہے، اس لیے یہ نہ دیکھو کہ گناہ چھوٹا ہے، بلکہ یہ دیکھو کہ تم نا فرمانی کس کی کر رہے ہو!!

یہ بات جان لو کہ ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور  فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے  کرنے والے خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یا اللہ !اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات درست فرما،  یا اللہ! ان کے خطوں کو امن و امان  عطا فرما، یا رب العالمین! اور تمام مسلمانوں کی تیری طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں میں اتحاد پیدا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال اپنے رضا کیلیے مختص فرما، اور تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب کے نفاذ اور شریعت کو بالا دستی دینے کی توفیق عطا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمارے سپاہیوں کو کامیاب فرما،  یا اللہ! ان کے قدموں کو ثابت بنا ، یا اللہ! ان کی نشانے درست فرما، یا اللہ! ان کے دلوں کو مضبوط بنا، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو ہی غنی ہے ہم تیرے در کے فقیر ہیں، ہم پر بارش نازل فرما،  اور ہمیں مایوس مت فرما،  یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر خوب ظلم ڈھائے، اگر تو ہمیں نہ بخشے  اور ہم پر رحم نہ فرمائے  تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو [امداد] دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے [قبول کرو]اور یاد رکھو۔ [النحل: 90]

تم عظمت و جلالت والے اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

ملاحظہ کیا گیا 722 بار

جدید خطبات

خطبات

  • نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    ﷽ فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 30 -شعبان-1438  کا خطبہ جمعہ  بعنوان " عبادات کا مہینہ ماہ رمضان" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ انسان نیکی کرے یا بدی اس کا نفع یا نقصان صرف انسان کو ہی ہوتا ہے وہ اپنی بدی سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، چنانچہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے خصوصی فضیلت بخشی  اور اس ماہ میں تمام تر عبادات یکجا فرما دیں ، اس مہینے میں نماز، روزہ، عمرے کی صورت میں حج اصغر، زکاۃ ، صدقات و خیرات اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت میں خصوصی دروازہ ہے اور ہر نیکی کا بدلہ اس کی نوعیت کے مطابق دیا جائے گا بالکل اسی طرح گناہ کا بدلہ بھی اسی کے مطابق ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ: آپ ﷺ شعبان کے آخر میں رمضان کی خوشخبری دیتے تھے، نیز رمضان سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ   اور حقوق العباد کی ادائیگی استقبالِ رمضان میں شامل ہے، نیز روزے کے دوران جس قدر مختلف نیکیاں قیام، صیام، صدقہ، خیرات، غریبوں کی مدد، کسی کا ہاتھ بٹانا وغیرہ کی جائیں تو ان…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 16-شعبان- 1438  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "شکر،،، نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  کہا کہ شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ اور دوام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق شکر گزاروں کو مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، انہوں نے کہا کہ نعمتوں کا صحیح استعمال  اور گناہوں سے دوری  دونوں کا نام شکر ہے، اگر اللہ کی نعمتوں پر تکبر اور گھمنڈ کیا جائے تو یہ صریح ناشکری ہے اور نعمتوں کے زائل ہونے کا پیش خیمہ ہے، کسی فاسق و فاجر کو نعمتیں حاصل ہوں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور اللہ تعالی ڈھیل کو اچانک ختم   فرماتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرعی احکامات سے بچنے کیلیے حیلے بہانے تلاش کرنا فاسق لوگوں کا وتیرہ ہے، جبکہ مومن  کا اخلاق اس سے کہیں بلند ہوتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قناعت پسندی شکر گزاری کا سبب بنتا ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہ ہو تو وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے،  آخر میں …
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ﷽ پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • با اثر شخصیت کیسے بنیں؟
    با اثر شخصیت کیسے بنیں؟
    بسم الله الرحمن الرحيم   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں جس نے انسان کو بہترین انداز سے پیدا فرمایا، اسے قوت سماعت و بصارت سے نوازا، میں اسی کا شکر ادا کرتا ہوں اور اسی کی حمد خوانی کرتا ہوں کہ اس نے سورج کو ذاتی روشنی دی اور چاند سے روشنی پھیلائی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی نے مومنوں کو جنت میں جگہ دی اور کافروں کا ٹھکانا جہنم بنایا، میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے  اور رسول  ہیں، آپ نے متبعین سنت کو نہروں والی جنتوں کی راہ دکھائی، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل اور ان صحابہ کرام  پر رحمتیں  نازل فرمائے     ، جنہوں نے مؤثر ترین شخصیات بن کر دکھایا۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم