بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الإثنين, 22 شباط/فبراير 2016 00:00

علم کی فضیلت اہمیت اور فوائد

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلئے ہیں، ہم اسکی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اسکا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اسکے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے  ، تقوی الہی نورِ بصیرت  ہے اور اسی سے احیائے قلب و ضمیر  ہوگا۔

مسلمانو!

صرف اللہ تعالی کی عبادت ہی لوگوں کو پیدا کرنے اور انہیں احکامات صادر کرنے کا مقصد ہے، اسی کیلیے رسولوں کو بھیجا گیا، کتابیں نازل کی گئیں، مخلوقات کیلیے شرف، سعادت مندی، کامیابی و کامرانی اسی میں ہے، بلکہ اللہ تعالی کے ہاں لوگوں کی درجہ بندی عبادت گزاری کے مطابق ہی ہوگی، فرمانِ باری تعالی ہے: { إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} یقیناً اللہ تعالی کے ہاں وہی مکرم ہے جو زیادہ متقی ہے۔[الحجرات : 13]

الله تعالی كا ایک فضل و کرم یہ ہے کہ اس نے  مخلوق کیلیے عبادت میں لذت پیدا کرنے اور عبادت کے ذریعے لوگوں کے درجات بلند کرنے کیلیے عبادات میں تنوع رکھا ہے،دین میں ایک عبادت ایسی ہے جو دیگر تمام عبادات سے مقدم ہے، دیگر عبادات کی تصحیح اسی پر محصور ہے، یہ عبادت بجا لانے والا کامران ہوگا، جبکہ اس میں کوتاہی برتنے والا پشیمان ہوگا، اللہ تعالی نے یہ عبادت سر انجام دینے والوں کی تعریف بیان کی، اس عبادت کی وجہ سے بہت سی مخلوق کو فضیلت بخشی، یہ عبادت انسان کو اپنے رب سے ملاتی ہے، اور زندگی کے گوشوں کو منوّر کرتی ہے، معاملہ معیشت کا ہو یا آخرت کا اسی طرح انسان کمال و  بحال اسی وقت ہوگا جب یہ عبادت ادا ہو، اللہ تعالی کی بندگی کیلیے اس جیسی کوئی عبادت نہیں، اسی کے ذریعے معرفت و عبادتِ الہی ہوگی، حمد و ثنا اور ذکر الہی  ممکن ہوگا، خالق و مخلوق کے حقوق معلوم ہونگے، حلال و حرام ، حق و باطل، صحیح و غلط، مفید و غیر مفید ، اچھے اور برے میں امتیاز کیا جا سکے گا، یہ عبادت تنہائی کی ساتھی اور خلوت  کی رفیق ہے، غفلت کے وقت متنبہ کرتی ہے، اسے حاصل کرنا خود ایک عبادت ہے، اسے پھیلانا قربتِ الہی، اپنے چاہنے والوں کیلیے زینت اور باعث امان ہے، قلب و بصیرت کو منور کرتی ہے، ذہن و ضمیر کو مضبوط بناتی ہے، اسے اپنانے والے اہل زمین کیلیے آسمان کے تاروں کی مانند ہیں، چنانچہ انہی سے رہنمائی لی جاتی ہے، یہی عبادت مخلوقات کیلیے باعث حسن و جمال ہے، امت کیلیے قلعہ اور ذرہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اگر وہ نہ ہوں تو دین کا نام و نشان ہی مٹ جائے، اسی عبادت میں امت کی بہتری اور  ترقی ، لوگوں کیلیے استقامت و تزکیہ ، انسانیت کی ہدایت و سعادت مندی، نسلوں کا تحفظ اور سلامتی پنہاں ہے، اس کی ضرورت تمام ضرورتوں سے زیادہ ہے، اس کے بغیر صرف تباہی اور بربادی  ہے ، امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: "لوگوں کو علم کی کھانے پینے سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے؛ کیونکہ کھانے پینے کی ضرورت دن میں ایک یا دو مرتبہ ہوتی ہے، لیکن علم کی ضرورت ہر وقت رہتی ہے"

ہماری امت ہی علم کی بنیاد پر قائم ہوئی چنانچہ  سب سے پہلی آیت ہی حصولِ علم کی ترغیب کیلیے نازل کی گئی: {اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیں جس نے پیدا کیا ہے۔[العلق : 1]

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی مبارک آیات نازل ہوئیں، اور یہ اللہ تعالی کی اپنے بندوں پر پہلی رحمت اور نعمت  تھیں"

اللہ تعالی نے اپنا ایک نام "العلیم" بھی  رکھا، اپنے آپ کو علم سے موصوف کیا، بلکہ اپنی مخلوق کو اپنا تعارف بھی اسی صفت سے کرواتے ہوئے فرمایا: {اَلَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ } [رب وہی ہے]جس نے قلم کے ذریعے علم دیا[4] اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو اسے معلوم نہیں تھا۔[العلق : 4 - 5]

پیغامِ رسالت علم و عمل کا نام ہے، اس لیے پیغامِ رسالت کا نصف حصہ علم پر مشتمل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ} وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت   -یعنی علم -اور دین حق  -یعنی عمل صالح -کیساتھ بھیجا۔[التوبہ: 33]

انسان اور انسانی دل کیلیے حُبِّ الہی سے بڑھ کر کچھ  نہیں ہے، اور یہ صرف علم سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔

علم ہی وہ حکمت ہے جسے اللہ تعالی جتنی چاہے عطا فرماتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ} وہ جسے چاہتا ہے حکمت سے نوازتا ہے، اور جسے حکمت دے دی جائے تو اسے بہت سی خیر نواز دی گئی، اور  نصیحت صرف عقل والے ہی پکڑتے ہیں[البقرة : 269]

اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام  کو علم دیکر احسان جتایا اور پھر علم کے ذریعے فرشتوں پر ان کی برتری عیاں فرمائی: {وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ} اور آدم [علیہ السلام] کو تمام چیزوں کے نام بتلائے، پھر انہی چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: اگر تم [اپنی بات میں]سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتلاؤ [البقرة : 31]

اللہ تعالی نے انبیائے کرام، رسولوں اور دیگر جسے چاہا انہیں علم کیلیے مختص فرمایا، چنانچہ فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ کو علم رکھنے والے بچے یعنی اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری دی ۔

یوسف علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا} وہ جس وقت بھر پور جوان ہوئے تو ہم نے انہیں علم و حکمت سے نوازا[يوسف : 22]

پھر یہی فضلیت یوسف علیہ السلام نے اپنے بارے میں بھی ذکر کی: {إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ} میں یقیناً حفاظت کرنے والا اور جاننے والا ہوں۔[يوسف : 55]

موسی علیہ السلام پر بھی علم دے کر کرم کیا گیا : {وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَى آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا} وہ جس وقت کڑیل جوان ہوئے تو ہم نے انہیں علم و حکمت سے نوازا [القصص : 14]

داود  اور سلیمان علیہما السلام  کے بارے میں فرمایا: {وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا} اور ہم نے ہر ایک کو علم و حکمت سے نوازا[الأنبياء : 79]

عیسی علیہ السلام کو اسی نعمت کی یاد دہانی بھی کروائی: {اُذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ} عیسیٰ! میرے اس احسان کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیا تھا ، جب میں نے روح القدس سے تمہاری مدد کی کہ تو گہوارے میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے یکساں کلام کرتا تھاو اور جب میں نے تمہیں کتاب و حکمت اور تورات اور انجیل سکھلائی [المائدة : 110]

سیدنا خضر  کے پاس اللہ تعالی کا دیا ہوا ایسا علم تھا جو کسی اور کے پاس نہیں تھا اسی فضیلت کے باعث اولو العزم پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر  بھی سفر کر کے ان کے پاس جا پہنچتے ہیں: {فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا} وہاں [موسی اور ان کے ساتھی]نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے [خضر]کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا، اور اپنے ہاں سے  علم سکھایا تھا [الكهف : 65]

سلیمان علیہ السلام کے فوجیوں میں سے جس کے پاس سب سے زیادہ علم تھا وہی طاقتور تھا: {قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ} جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ [سلیمان  علیہ السلام سے]کہنے لگا کہ آپ کے پلک جھپکانے سے بھی پہلے میں اس [تختِ سبا]  کو آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں ۔[النمل : 40]

اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ پر کی ہوئی نعمتیں شمار کرواتے ہوئے  علم کو سب سے اعلی و ارفع مقام عطا فرمایا: {وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ} اللہ تعالی نے آپ پر کتاب و حکمت نازل کی اور آپ کو ان چیزوں کا علم دیا جو آپ نہیں جانتے تھے۔[النساء : 113]

نیز اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو علم کے سوا کسی بھی چیز میں اضافے کی دعا کا حکم نہیں دیا، فرمایا: { وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا} اور آپ کہہ دیں: میرے پروردگار! مجھے مزید علم عطا فرما۔[طہ : 114]

علم انبیائے کرام کی وراثت ہے، چنانچہ انبیائے کرام کے وارثانِ علم ان کے بعد سب سے بہترین درجے کے مالک ہونگے، اور وہی ان کے قریب ترین بھی قرار پائیں گے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (علما انبیائے کرام کے وارث ہیں، انبیائے کرام وراثت میں درہم و دینار  چھوڑ کر نہیں جاتے بلکہ علم چھوڑ کر جاتے ہیں، چنانچہ جو علم حاصل کرے تو اس نے بہت بڑا حصہ لے لیا) ترمذی

اللہ تعالی نے اہل علم کو اپنی الوہیت کیلیے گواہ بھی بنایا اور فرمایا: {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ} اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں  اور وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے [آل عمران : 18]

علم کی وجہ سے اللہ تعالی کا ڈر پیدا ہوتا ہے اور اس کی اطاعت کی جاتی ہے: {إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ} یقیناً بندوں میں سے اللہ تعالی سے ڈرنے والے علما ہی ہوتے ہیں۔[فاطر : 28]

زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: " اللہ تعالی کی حصولِ علم جیسی کوئی عبادت ہے ہی نہیں"

حصولِ علم خیر و بھلائی ہے: (اللہ تعالی جس کے بارے میں خیر کا ارادہ فرما لے اسے دین کی سمجھ  عطا فرما دیتا ہے) متفق علیہ

سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہی بہترین لوگ ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (دورِ جاہلیت کے بہترین لوگ  اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں) متفق علیہ

علم اعمال اور درجات میں درجہ بندی کا ترازو ہے، علم کی وجہ سے ہی اعمال میں بہتری  اور عمدگی پیدا ہوتی ہے، چنانچہ انسان کا عقیدہ، اخلاص، اور سنتِ نبوی کی پیروی صرف علم کے ذریعے ہی ممکن ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ} جان لو کہ: اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے[محمد : 19]، اللہ تعالی نے یہاں قول و عمل سے پہلے علم کو ذکر کیا ہے۔

جب تک روئے زمین پر علم باقی رہے گا تو لوگ ہدایت پر قائم رہیں گے، یہی وجہ ہے کہ علم کے بغیر اللہ تعالی کی عبادت کرنے والا فائدے کی بجائے نقصان زیادہ کرتا ہے، شرک و بدعات علم کی کمی اور اہل علم سے دوری کے باعث ہی پیدا ہوئیں ،  کیونکہ گمراہی و جہالت ؛ لا علمی کا ہی ثمر ہوتا ہے؛ اسی لیے اللہ تعالی نے ہمیں گمراہ لوگوں کے راستے سے پناہ مانگنے کا ہر نماز کی ہر رکعت میں حکم دیا ہے{غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ}[ہمارا راستہ] ان لوگوں کا نہ ہو جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ہی  گمراہوں کا ۔[الفاتحہ: 7]

اللہ تعالی نے اہل علم اور جاہلوں میں برابری کو مسترد فرمایا، اس لیے ان دونوں میں برابری نہیں ہے جیسے کہ زندہ اور مردہ، بینا اور نابینا میں برابری نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: { قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ} آپ کہہ دیں: کیا صاحب علم اور لا علم برابر ہو سکتے ہیں؟[الزمر : 9]

علم ہی لوگوں کیلیے زندگی و روشنی ہے:{أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا} بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کو روشنی عطا کی جس کی مدد سے وہ لوگوں میں زندگی بسر کر رہا ہے اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہو اور اس کے نکلنے کی کوئی صورت  نہ ہو؟ [الأنعام : 122]

حسن سیرت اور دین کی سمجھ مؤمنین کی خصوصی صفات ہیں، اسی لیے ان کے سینے علم سے منور ہوتے ہیں: {بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ } بلکہ [قرآن ]تو واضح آیات ہیں  جو ان  لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے[العنكبوت : 49]

صرف اہل علم کو اللہ تعالی نے قرآن کریم کی امثال سمجھنے اور ان کے معنی و مفہوم کا ادراک رکھنے والا قرار دیا: {وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ} یہ مثالیں ہم لوگوں کیلیے بیان کرتے ہیں اور انہیں علما کے علاوہ کوئی نہیں سمجھتا۔[العنكبوت : 43]

علمی مجلسوں اور وہاں کے حاضرین کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، فرشتے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں: (بیشک فرشتے طالب علم کو راضی کرنے کیلیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں) ترمذی

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: " اگر حصول علم سے صرف قرب الہی ملے، عالم ملائکہ  سے تعلق بنے اور ملأ الاعلی کی صحبت ملے تو یہی علم کی قدر و منزلت اور شان کیلیے کافی تھا، لیکن یہاں تو دنیا و آخرت کی عزت  بھی حصول علم کیساتھ منسلک اور مشروط ہے"

اہل علم کی مجلسوں میں حکمت و دانائی پائی جاتی ہے، وہی پوری امت کیلیے بہترین نمونہ ہیں، اہل علم کو ذاتی فائدہ تو ہوتا ہی ہے دوسرے بھی ان سے مستفید ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی انہیں اچھے لفظوں میں یاد کرتا ہے اور دعائیں دیتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی ، اللہ کے فرشتے، آسمان و زمین کے تمام مکین حتی کہ چیونٹیاں  بھی اپنے بلوں میں اور مچھلیاں بھی لوگوں کو بھلائی سکھانے والے کیلیے دعائیں کرتی ہیں) ترمذی

حصول علم کیلیے جد و جہد بھی "فی سبیل اللہ" میں شمار ہوتی ہے، چنانچہ ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "جو شخص حصولِ علم کیلیے صبح شام آنا جانا جہاد میں شمار نہیں کرتا اس کی عقل اور رائے دونوں ناقص ہیں"

حصول علم کیلیے مقابلہ بازی بھی قابل ستائش عمل ہے، چنانچہ دو لوگوں کے بارے میں رشک کیا جا سکتا ہے علم پھیلانے والا اور مال خرچ کرنے والا، اس کے علاوہ کسی بھی چیز کے بارے میں رشک نہیں کرنا چاہیے آپ ﷺ کا فرمان ہے: (رشک صرف دو لوگوں کے بارے میں کیا جا سکتا ہے: ایک وہ شخص جسے اللہ تعالی نے خوب مال نوازا اور پھر اسے حق کے راستے میں خرچ کرنے کی توفیق دی، [دوسرا ] وہ آدمی جسے اللہ تعالی نے حکمت [علم] سے نوازا تو وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور آگے لوگوں کو سکھاتا  ہے) متفق علیہ

شرعی اور تقدیری فیصلوں کا متفقہ اصول ہے کہ "جیسا کرو گے ویسا بھرو گے"  چنانچہ  علم اللہ تعالی کے بارے میں قریب ترین راستے کے ذریعے معلومات فراہم کرتا ہے، چنانچہ حصولِ علم کے راستے پر چلنے والا حقیقت میں اللہ تعالی اور جنت کے قریب ترین راستے پر چل نکلتا ہے آپ ﷺ کا فرمان ہے:(جو شخص کسی راستے پر علم کی جستجو میں نکلے تو اس عمل کی وجہ سے اس کیلیے اللہ تعالی جنت کا راستہ آسان بنا دیتا ہے) مسلم

شرعی علم پوری امت کیلیے فتنوں اور مصیبتوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے، امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: " کچھ لوگوں نے عبادت  میں مشغول ہو کر علم حاصل نہیں کیا، پھر وہی لوگ امت محمدیہ کے خلاف تلوار اٹھا کر بغاوت پر اتر آئے  اگر وہ علم حاصل کرتے تو  اس اقدام سے باز رہتے"

فوائدِ علم کی وجہ سے پوری دھرتی پر علم پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے چاہے وہ معمولی سا ہی کیوں نہ ہو، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (میری طرف سے [دین]آگے پہنچاؤ چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو) بخاری

اللہ تعالی نے اہل علم سے استفسار اور ان سے رجوع کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: { فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ}تم اہل ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔ [الأنبياء : 7]

نبی  کریم ﷺ نے اہل علم کیلیے تر و تازگی ، خوش باش زندگی ، روشن چہرے  اور شرح صدر کی دعا فرمائی: (اللہ تعالی ایسے شخص کے چہرے کو ہمیشہ تر و تازہ رکھے جو ہم سے دین سنے اور بعینہٖ آگے پہنچائے، بہت سے شاگرد اپنے اساتذہ سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں) ترمذی

نیز نبی ﷺ نے اپنے محبوب صحابی کیلیے دعا فرمائی کہ وہ بھی اہل علم میں شامل ہوں، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا: (یا اللہ! اسے دین کا فقیہ بنا دے) بخاری

علم کی وجہ سے زندگی اور موت کے بعد بھی بلند درجات ملتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ} اللہ تعالی تم میں سے ایمان والوں اور اہل علم کے درجات بلند فرماتا ہے۔[المجادلۃ : 11]

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: " علم حاصل کر کے عمل کرنے والے اور پھر آگے پھیلانے والے کو ہی آسمانوں میں "عظیم" کہہ کر پکارا جائے گا"

صاحب علم کو مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچتا رہے گا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جس وقت انسان فوت ہو جائے تو تین ذرائع کے علاوہ اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں: صدقہ جاریہ، علم جس سے لوگ مستفید ہو رہے ہوں، نیک اولاد جو اس کیلیے دعائیں کرے) مسلم

افضل ترین علم کی کتاب و سنت میں مدح سرائی بھی کی گئی ہے اور یہ وہی علم ہے جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہو، تمام علوم میں ذاتِ باری تعالی اور اس کے اسما و صفات  کا علم بلند ترین ہے، یہی حقیقت میں تخلیق و تدبیر  کا مقصد بھی ہے: {اَللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا} اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی طرح زمینیں بھی، ان کے درمیان سے حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے، اور یہ کہ اللہ نے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔ [الطلاق : 12]

ہر مسلمان پر علم کی فرض مقدار حاصل کرنا واجب ہے، وہ اسی کی روشنی میں اپنا عقیدہ ، نمازیں اور روزے صحیح کر سکے گا، اپنے وقت میں سے کچھ علم کیلیے بھی مختص کرے، علمی مجالس اور حلقوں میں بیٹھنا بوجھ مت سمجھے۔

طالب علم کو چاہیے کہ علم کی قدر و منزلت  کا خیال کرے، اللہ تعالی سے علم نافع مانگے، اور اللہ تعالی سے حسن ظن قائم رکھے، حصولِ علم کیلیے تقوی اپنے دامن کیساتھ باندھ لے، اپنی نیت خالص اللہ تعالی کیلیے بنائے، اپنے علم کے ذریعے بیوقوف لوگوں سے مت جھگڑے، اور نہ ہی علمائے کرام سے بحث کرے، حاصل شدہ علم کے مطابق عمل کرنے پر غیر حاصل شدہ علم بھی اللہ تعالی عطا کر دیتا ہے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی نے متلاشیان علم کیلیے اسے آسان بنانے، اور وہ کچھ دینے کا وعدہ کر لیا ہے جو ابھی طالب علم کے ذہن میں بھی نہیں ہے، کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے: {اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ} پڑھو، تمہارا رب کریم  ترین ہے۔[العلق : 3]

علم کا راستہ بہت آسان اور سب کی پہنچ میں ہے، چنانچہ قرآن مجید یاد کریں، نبی ﷺ کی کچھ احادیث مبارکہ حفظ کریں، اہل علم  کے چنیدہ علمی متن یاد کریں، انہیں سمجھیں اور پھر ان پر عمل پیرا بھی ہوں، جتنا  علم زیادہ ہوگا اتنی ہی بلندی ملے گی، اس طرح انسان رضائے الہی اور بلند جنتوں کو پا سکتا ہے۔

اس تفصیل کے بعد: أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ} مومنوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ سب کے سب  ہی نکل کھڑے ہوں ، پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر گروہ میں سے کچھ لوگ دین میں سمجھ پیدا کرنے کے لئے نکلتے تاکہ جب وہ ان کی طرف واپس جاتے تو اپنے لوگوں کو [برے انجام سے] ڈراتے، اسی طرح شاید وہ برے کاموں سے بچے رہتے [التوبۃ: 122]

 اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کہ اُس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اسکی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، اللہ تعالی اُن پر ، آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!

معرفتِ الہی اور اوامر و نواہی کا علم رکھنے والے گزشتہ و پیوستہ  تمام علمائے امت کو اچھے لفظوں میں ہی یاد کیا جائے، امت پر ان کا بہت عظیم  حق ہے، اس کیلیے ان سے محبت اور ان کا احترام کرنا چاہیے، ان سے علم حاصل کریں اور مسائل کے حل کیلیے ان سے رجوع کریں، اہل علم کی تعظیم  حقیقت میں دین کی تعظیم ہے، یہی اہل علم ہی دین کے علم بردار اور امین ہیں، چنانچہ ان کے راستے سے کنارہ کشی اختیار کرنے والا  ہی گمراہ ہے، ان سے بغض  و عداوت رکھنا کم عقلی اور فطرت سے انحراف ہے، بلکہ یہ اللہ تعالی  کے عذاب اور اس سے اعلان جنگ کی گھنٹی بھی ہے، کیونکہ حدیث قدسی میں ہے کہ: (جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے تو میں اس کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں) بخاری

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "امام ابو حنیفہ اور شافعی رحمہما اللہ کہتے ہیں: اگر علما ہی اللہ کے ولی نہیں ہیں تو پھر اس دنیا میں اللہ تعالی کا کوئی ولی نہیں "

یہ بات جان لو کہ ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور  فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے  کرنے والے خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یا اللہ !اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات درست فرما،  اور تمام مسلمانوں کی تیری طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کے خطوں کو امن و امان  عطا فرما، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! ہمارے سپاہیوں کو کامیاب فرما،  یا اللہ! ان کے قدموں کو ثابت بنا ، یا اللہ! ان کی نشانے درست فرما، یا اللہ! انہیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال اپنے رضا کیلئے مختص فرما، اور تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب کے نفاذ اور شریعت کو بالا دستی دینے کی توفیق عطا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل صالح کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو ہی غنی ہے ہم تیرے در کے فقیر ہیں، ہم پر بارش نازل فرما،  اور ہمیں مایوس مت فرما،  یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر خوب ظلم ڈھائے، اگر تو ہمیں نہ بخشے  اور ہم پر رحم نہ فرمائے  تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو [امداد] دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے [قبول کرو]اور یاد رکھو۔ [النحل: 90]

تم عظمت و جلالت والے اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

ملاحظہ کیا گیا 32242 بار

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    ماہِ شعبان اور ہمارا طرزِ عمل قارئین کرام! ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے ۔ دین اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر دوڑانے کے بعد اس ماہ میں صرف نفلی روزے رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ، دیگر مخصوص عبادات کے بارہ میں شرعی نصوص وارد نہیں ہوئیں ، درج ذیل طور میں ماہ شعبان سے متعلق ہمارا کیا طرز عمل ہے ، اور اس ماہ میں شریعت اسلامیہ کا ہم سے کیا تقاضہ ہے ذکر کیا گیا ہے۔ ماہِ شعبان مستند احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں !   ۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں ۔ ( متفق علیہ)  ۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی اداء کرسکتی تھی۔ (متفق علیہ) ۳۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم