بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
السبت, 16 كانون2/يناير 2016 00:00

شرعی حدود اور سزائیں رحمت الہی کا حسین مظہر

مولف/مصنف/مقرر  پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی, ترجمہ شفقت الرحمن مغل
پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے بندوں کو شریعت دے کر ان پر رحم کیا، ان پر جود و کرم اور نعمتوں کے خزانے بہائے، وہ تمام لوگوں کے اعمال شمار کر رہا ہے، وہ اطاعت گزاری پر ثواب دیتا ہے اور نا فرمانی کی صورت میں ابتدائی طور پر در گزر فرماتا ہے فوری سزا نہیں دیتا، چنانچہ اگر انسان توبہ کر لے تو پروردگار بندے کی توبہ پر خوش ہوتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے، الوہیت و ربوبیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ کو اللہ تعالی نے تمام مخلوقات پر فضیلت سے نوازا، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو، تقوی کو وسیلہ بناؤ، تمہیں اللہ تعالی کی طرف سے تحفظ، رحمت، اور رضا حاصل ہوگی، نیز اللہ تعالی کے غضب ، عذاب، اور رسوائی سے بچ جاؤ گے۔

مسلم اقوام!

میں آپ سب کو رحمتِ الہی کے بارے میں یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں، جس رحمت کی خوش خبری اللہ تعالی نے قرآن مجید کی ہر سورت کی ابتدا میں {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} کہتے ہوئے دی ہے، بلکہ کامل صفتِ رحمت کیساتھ اپنے آپ کو بہت سی آیات میں موصوف بھی کیا ، اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے بھی اللہ تعالی کی صفتِ رحمت بہت سی احادیث میں بیان فرمائی۔

فرمانِ باری تعالی ہے: {وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ} میری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، میں اپنی رحمت متقی، زکاۃ دینے والے اور ہماری آیات پر ایمان لانے والوں کیلیے لکھ دونگا۔[الأعراف : 156]

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی نے مخلوقات کی تخلیق سے پہلے ایک تحریر لکھی: "میری رحمت میرے غضب سے زیادہ ہے" یہ تحریری صورت میں اللہ تعالی کے پاس عرش پر ہے) اسے بخاری نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

رحمت الہی کا عظیم ترین مظہر یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایسے تمام اسباب و ذرائع بیان کر دیے ہیں جن سے وہ دنیاوی و اخروی خیر و سعادت ، اور عزت حاصل کر سکتے ہیں وہ ہے: ربّ رحیم اور رسولِ امین کی اطاعت، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو جب بھی رسول تمہیں اس چیز کی دعوت دیں جو تمہارے لئے زندگی بخش ہے [الأنفال : 24]

اسی طرح فرمایا: {قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ} آپ کہہ دیں: اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، اگر تم [اطاعت سے] رو گردانی کرو تو رسول اپنی ذمہ داری کا جوابدہ ہے، اور تم اپنی ذمہ داری کے، اگر تم اس [رسول]کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے، رسول کی ذمہ داری صرف واضح انداز میں تبلیغ کرنا ہے۔[النور : 54]

پروردگار کی شریعت کے ذریعے ہی مسلمان پر امن، پر اطمینان اور خوش حال زندگی گزار سکتا ہے، نیز اسی شریعت کی بنا پر اللہ تعالی دنیا و آخرت میں بلائیں بھی ٹال دیتا ہے۔

اللہ تعالی کی طرف سے مکلف لوگوں کیلیے بنائی گئی شریعت واجب یا مستحب احکام، یا ممنوعہ چیزوں، حدود، وعید، اور تعزیری امور پر مشتمل ہے، اور پوری شریعت بندوں پر اللہ تعالی کی رحمت ، خیرو برکت آسانی اور سراپا عدل ہے ، فرمانِ باری تعالی ہے: {يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ} اللہ تعالی تمہارے بارے میں آسانی چاہتا ہے، وہ تمہیں تنگی میں نہیں ڈالنا چاہتا۔[البقرة : 185]

ایک مقام پر فرمایا: {وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَى} اور ہم آپ کی آسان راستے کی جانب رہنمائی کرینگے[الأعلى : 8]

اسی طرح فرمایا: {مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} اللہ تعالی تمہیں کسی تنگی میں نہیں ڈالنا چاہتا تاہم تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے، تا کہ تم پر وہ اپنی نعمتیں پوری کر دے اور تم شکر گزار بن جاؤ۔[المائدة : 6]

ایک مقام پر فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ} بیشک اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔[النحل : 90] لہذا شریعت الہی دنیا میں انسان کیلیے خوش حالی اور آخرت میں نعمتوں والی جنت میں رہنے کی ضامن ہے۔

اللہ تعالی شرعی سزاؤں اور حدود کی وجہ سے قدرتی بلائیں ٹال دیتا ہے، لہذا جب بھی لوگ شرعی احکامات نافذ کرینگے تو اللہ تعالی دنیا میں انہیں گناہوں کے وبال ، اور تباہ کن حادثات سے محفوظ رکھے گا نیز آخرت میں انہیں عذاب سے بچا لے گا، جبکہ شرعی احکام کے نفاذ میں کوتاہی یا سستی برتنے پر تقدیری فیصلوں کے مطابق سزا بھی ملے گی اور تمام گناہوں کا حساب بھی ہوگا، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا} [جنت میں داخلہ]تمہاری خواہشات یا اہل کتاب کی خواہشات پر [منحصر] نہیں ہے، برا عمل کرنے والے کو اس کا بدلا دیا جائے گا، اور اسے اللہ کے مقابلے میں کوئی دوست اور مدد گار نہیں ملے گا۔[النساء : 123]

[اور یہ ایک حقیقت ہے کہ : گناہوں کی] قدرتی سزائیں شرعی سزاؤں سے کہیں زیادہ شدید اور درد ناک ہوتی ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} اور جب بھی آپ کا پروردگار ظلم کرنے والی بستیوں کو پکڑتا ہے تو اس کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے بلاشبہ اس کی گرفت درد ناک اور سخت ہے ۔[هود : 102]

ایک حدیث میں ہے کہ: (بیشک اللہ تعالی ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، پھر جب پکڑتا ہے تو اسے مہلت نہیں دیتا) بخاری و مسلم نے اس روایت کو ابو موسی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ} بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔[البروج : 12]

ایسے ہی فرمایا: {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ} آپ کہہ دیں: وہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے عذاب دینے پر قادر ہے، یا تمہیں فرقوں میں بانٹ کر گتھم گتھا کر دے ، اور باہمی لڑائی کا مزا چکھائے، دیکھیں ہم کیسے آیات مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں تا کہ وہ سمجھ جائیں۔[الأنعام : 65]

اللہ تعالی کی بندوں پر یہ رحمت ہے کہ اللہ تعالی ظالموں کو فوری طور پر سزا نہیں دیتا بلکہ کچھ مہلت عطا فرماتا ہے: {وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ بَلْ لَهُمْ مَوْعِدٌ لَنْ يَجِدُوا مِنْ دُونِهِ مَوْئِلًا} تیرا رب بخشنے اور رحمت کرنے والا ہے، اگر وہ ان کی کارستانیوں پر فوری پکڑنا چاہے تو انہیں جلد ہی عذاب چکھا دے، لیکن ان کیلیے وقت مقرر ہے جس سے انہیں کوئی خلاصی نہیں ملے گی۔[الكهف : 58]

اسی طرح فرمایا: {وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى} اگر اللہ تعالی لوگوں کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے پکڑنے لگے تو دھرتی پر کوئی بھی جاندار نہ چھوڑے، لیکن وہ انہیں ایک محدود مدت تک مہلت دیتا ہے۔[فاطر : 45]

اور اگر تقدیر میں لکھی ہوئی سزائیں مستحق لوگوں کو مل جائیں تو یہ حقیقت میں ان سے بھی سخت ترین سزاؤں کی یاد دہانی ہوتی ہے تا کہ گناہ گار گناہوں سے توبہ کر لے، اور غضب الہی کا موجب بننے والے امور سے باز آ جائے، فرمانِ باری تعالی ہے: {ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} بر و بحر میں لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے فساد بپا ہو گیا ہے، تا کہ [اللہ تعالی]انہیں ان کے کچھ گناہوں کا بدلہ دے، تا کہ وہ رجوع کریں۔[الروم : 41]

اسی طرح فرمایا: {وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے دنیاوی عذاب لازمی دینگے تا کہ وہ رجوع کریں۔[السجدة : 21]

ایک مقام پر فرمایا: {أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ}کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ سال میں انہیں ایک یا دو بار عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے، لیکن پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں![التوبہ: 126]

چنانچہ اگر کوئی شخص توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، لیکن اگر کوئی پھر بھی سر کشی کیلیے اصرار کرے اور اللہ تعالی کے علم میں ہو کہ وہ توبہ نہیں کریگا تو پھر اللہ تعالی اسے سخت سزا دیتا ہے، لیکن اصل سزا آخرت میں جہنم اور غضب الہی کی صورت میں ملے گی۔

شرعی سزائیں اور حدود دنیاوی و اخروی تقدیری سزاؤں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں، یہاں انسان کو غور و فکر کرنا چاہیے کہ اللہ تعالی کی رحمت و شفقت کتنی وسیع ہے؟ اللہ تعالی نے کس طرح انسان کیلیے اوامر و نواہی ، احکام و حدود جاری کر کے اسے تقدیری سزاؤں سے بچایا ، دنیا و آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھا، مقصد صرف یہ ہے کہ شریعت کی وجہ سے انہیں ہمہ قسم کی خوشی ملے، اور شریعت کی وجہ سے ہی انہیں ہمہ قسم کے منفی اثرات سے تحفظ حاصل ہو۔

اس کیلیے [تاریخی شواہد کے طور پر ]صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے سچے پیروکاروں کی سوانح کو معیار سمجھیں اور انہی کو اپنا پیشوا مانیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا، شریعت سے والہانہ محبت کی اور شریعت کا نفاذ کیا تو اللہ تعالی نے انہیں گزشتہ امتوں کو ملنے والی سزاؤں ، بلاؤں اور رسوائی سے بھی محفوظ رکھا جو کہ غرق، چیخ، پتھروں کی بارش، آندھی، زمین دوزی ، شکلیں مسخ ، اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر مشتمل تھیں، اللہ تعالی نے صحابہ کرام اور ان کے ہمنواؤں کو دنیا میں خوش حال، معزز، اس دھرتی پر حاکم اور دشمنوں پر غالب بنایا، حالانکہ ان کی تعداد اور جنگی سازو سامان بہت کم تھا، صرف اس لیے کہ وہ موحد، مخلص، اللہ پر توکل اور اسی کی اطاعت کرنے والے تھے، امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے کمانڈر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا تھا کہ : "حمد و صلاۃ کے بعد: میں تمہیں اور تمہارے ہم رکاب تمام فوجیوں کو ہر حالت میں تقوی الہی اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں ؛ کیونکہ تقوی دشمن کے خلاف بہترین ہتھیار ، اور جنگ کیلیے مضبوط ترین چال ہے، تمہارے سمیت سب فوجی جوان دشمنوں سے بھی بڑھ کر گناہوں سے دور رہیں؛ کیونکہ فوج کے گناہوں کا خطرہ دشمن سے بھی زیادہ ہوتا ہے، اگر میری بات درست نہ ہو تو ہمیں اپنے دشمن کے خلاف کبھی فتح نہ ملے؛ کیونکہ ہماری تعداد اور ہتھیار دشمن کی تعداد اور ان کے ہتھیاروں سے ہمیشہ کم رہی ہے، لہذا اگر ہم گناہ کر کے ان جیسے بن جائیں تو دشمن اپنی تعداد اور ہتھیاروں کی وجہ سے ہم پر برتری حاصل کر لے گا، یہی وجہ ہے کہ اگر ہم ان پر اطاعت گزاری کی وجہ سے غالب نہ آئیں تو ہم اپنے اسلحے کی بنا پر کبھی غالب نہیں آ سکتے"

صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کیلیے اللہ تعالی کا وعدہ اس آیت کریمہ میں ہے: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} مہاجرین و انصار میں سے پہلے ایمان لا کر سبقت لے جانے والوں اور ان کے نقش قدم پر اچھے انداز سے چلنے والوں سے اللہ تعالی راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں ، نیز ان کیلیے اللہ نے باغات تیار کر دیے ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی عظیم کامیابی ہے۔[التوبۃ : 100] دیکھا آپ نے کہ کس طرح دین حق پر مضبوطی سے کار بند رہنے سے ہمہ قسم کی بھلائی ملتی ہے اور مصیبت ٹلتی ہے، برکتیں نازل ہوتی ہیں، اور شریعت پر عمل پیرا ہونے سے دنیا و آخرت کی تقدیری سزاؤں سے تحفظ ملتا ہے۔

اب ذرا ان لوگوں کا حال دیکھیں جنہوں نے نبی ﷺ کی دعوت سے منہ موڑا ، شریعت سے اعراض کیا، اسلامی تعلیمات سے تصادم اختیار کیا، اللہ کے ولیوں سے دشمنی رکھنے والوں کو کس طرح مصیبتوں نے گھیرے میں لے لیا، اللہ تعالی نے انہیں رسوائی، ذلت، ہمہ قسم کی قلت، حقارت، عذاب، خسارے، بد بختی، شر اور مختلف آفات سے دنیا میں دوچار کیا، فرمانِ باری تعالی ہے: { وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} اللہ تعالی نے کفار کی بات کو ہیچ کر دیا بلند بات تو اللہ کی بات ہی ہے، اللہ تعالی ہی غالب اور حکمت والا ہے۔[التوبہ : 40]

اسی طرح فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ} بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے جا چکے ہیں ، اور ہم نے واضح احکام نازل کر دیئے ہیں اور کافروں کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔ [المجادلہ : 5]

اس کے بعد فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ} بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ ذلیل ترین ہیں۔[المجادلہ : 20]

نیز آپ ﷺ کا فرمان ہے: (ذلت و رسوائی میرے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کا مقدر بنا دی گئی ہے)

اور کافر کو آخرت میں ملنے والی سزا جہنم کی صورت میں ہوگی، اس بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ} آپ کافروں سے کہہ دیں: تمہیں جلد ہی مغلوب کیا جائے گا اور جہنم کے پاس جمع کیا جائے گا، جو کہ بد ترین ٹھکانہ ہے۔[آل عمران : 12]

اے مسلم! اتنی کرم فرمائی کے بعد اب کس چیز کے متلاشی ہو؟ تمہارے رب کی رحمت سے بڑھ کر اور کیا ہوگا؟ تمہارا پروردگار تمہیں صرف اچھی چیزوں کا حکم دیتا ہے اور ہمہ قسم کی برائی سے روکتا ہے، اللہ تعالی نے احکامات کی تفصیل بیان کی، گناہوں سے روکنے کیلیے حدود اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کیں۔

حقیقت میں احکامات الہی انسان کو کامل، بدنی طہارت و پاکیزگی، روحانی سکون، مثبت سرگرمیوں کیلیے قوت، بلند اخلاقی اقدار کیلیے عملی تربیت، دلوں کو ثابت قدم اور انسان کو معزز بنانے کیلیے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: { وَمَنْ تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ} اپنا تزکیہ کرنے والا اپنا ہی فائدہ کرتا ہے۔[فاطر : 18]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (14) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى } اپنا تزکیہ اور اپنے رب کا نام لیکر نمازیں پڑھنے والا یقیناً کامیاب ہو گیا۔[الأعلى : 14 - 15]

ایک مقام پر فرمایا: {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا(9) وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا } نفس کا تزکیہ کرنے والا کامیاب ہوگیا [9] اور اسے خاک میں ملانے والا رسوا ہو گیا۔[الشمس : 9 - 10]

اللہ تعالی نے سب سے پہلا حکم جو دیا ہے وہ ایک اللہ کی عبادت ہے، لہذا جو شخص عقیدہ توحید میں پختہ ہے تو اس کیلیے اللہ تعالی کی طرف سے دنیا و آخرت میں امن اور تزکیہ نفس کی ضمانت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں انہوں نے ظلم [شرک] کی آمیزش نہیں کی تو انہی کیلیے امن ہوگا اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہونگے۔[الأنعام : 82]

تمام ارکان اسلام یعنی: شہادتین ، نماز، روزہ، زکاۃ اور حج پر عمل پیرا ہونے کیلیے بار بار حکم دیا گیا ، نیز اس کی برکت سے حاصل ہونے والے امور تزکیہ ، پاکیزگی ، اجر و ثواب، انفرادی و اجتماعی فوائد کا بھی ذکر کیا گیا ہے، قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے والے کیلیے یہ سب چیزیں بالکل عیاں ہیں، تمام شرعی احکامات اور ترغیب دلانے والی نصوص کا پس منظر یہی ہے۔

جبکہ نواہی کے ذریعے دلوں کو شبہ اور ہوس پرستی سے تحفظ ملتا ہے، انسانیت کو برائی، نقصانات، مفاسد اور شر سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے؛ کیونکہ ممنوعہ امور بدن کیلیے زہر کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ اوامر بدن کی غذا ہوتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ}اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے [النحل: 90]

سب سے پہلے اللہ تعالی نے شرک سے منع فرمایا ہے؛ کیونکہ شرک میں متعدد مفاسد، نقصانات، اور دینی و دنیاوی شر پایا جاتا ہے، شرک اللہ تعالی کبھی بھی معاف نہیں فرمائے گا، خواہش پرستی ، اتباعِ شیطان وغیرہ شرک اور دیگر تمام گناہوں میں قدر مشترک ہیں، تاہم کبیرہ و صغیرہ کی صورت میں گناہوں کے مابین درجہ بندی پائی جاتی ہے جن کی وجہ سے شرک کے علاوہ یہ گناہ انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کا موجب نہیں بنتے۔

جبکہ حدود کو اللہ تعالی نے دین، جان، عزت آبرو، عقل اور مال کی حفاظت کیلیے شریعت کا حصہ بنایا ہے، حدود کسی کی ہوس کے تابع نہیں ہیں، چنانچہ دین کی حفاظت کیلیے مرتد کی حد ، جان کو تحفظ دینے کیلیے قصاص کی حد ، عزت آبرو کو محفوظ کرنے کیلیے زنا کی حد، عقل کو تحفظ دینے کیلیے منشیات اور شراب نوشی پر حد، مال کی حفاظت کیلیے چوری کی حد مقرر کی، مذکورہ پانچوں بنیادی چیزوں کی حفاظت شرعی سزاؤں کی ذاتی تاثیر سے ممکن ہے۔

پانچ بنیادی اشیا کی حفاظت کیلیے اقامتِ حدود سب سے مؤثر ذریعہ ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی شرعی حدود نافذ کرنے والے حکمران کے ذریعے ایسی چیزوں کا خاتمہ بھی فرما دیتا ہے جن کا خاتمہ قرآن کے ذریعے نہیں فرماتا۔

اصول فقہ کے علمائے کرام نے ان پانچ بنیادی چیزوں کے تحفظ کا بھی خصوصی اہتمام کیا ہے۔

شرعی حدود کے بارے میں زبان درازی اور انہیں عقل سے مسترد کرنے والے اللہ تعالی کے بارے میں افترا پردازی اور بے ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شرعی حدود سے انسانی حقوق ضائع ہوتے ہیں، انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ سے بڑھ کر لوگوں پر رحم کرنے والا کون ہے؟ اللہ سے زیادہ جاننے والا کون ہے؟ اللہ سے زیادہ حکمت والا کون ہے؟ اللہ سے زیادہ عدل کرنے والا کون ہے؟ اللہ تعالی نے خود بھی فرمایا: {وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ} یقین کرنے والی قوم کیلیے اللہ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟[المائدة : 50]

شرعی حدود متعلقہ گناہوں سے باز رکھنے کا مثبت ترین ذریعہ ہیں، شرعی حدود سے گناہ مٹ جاتا ہے اور اس سے روزمرہ کی زندگی بھی غیر ذمہ دارانہ افعال و زیادتی سے محفوظ رہتی ہے، حدیث میں ہے کہ: (زمین پر ایک حد نافذ کرنا لوگوں کیلیے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے) اسے نسائی اور ابن ماجہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

حد لگنے سے مسلمان کا گناہ معاف ہو جاتا ہے؛ کیونکہ رجم کی سزا پانے والے اسلمی صحابی کے بارے میں نبی ﷺ کا فرمان ہے: (اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ اب جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے) ابو داود

جس شخص پر حد نافذ کی گئی آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی ۔

جان و مال کا تحفظ ان پانچ بنیادی چیزوں میں سے ہے جنہیں ہر شریعت نے بھر پور اہمیت دی اور ان سب شریعتوں میں سے آخری شریعت سید البشر جناب محمد ﷺ کی شریعت ہے، لیکن عصر حاضر کے خارجیوں نے معصوم جانوں کو قتل کیا، املاک تباہ کیں، مساجد اور اداروں کو نقصان پہنچایا۔

دہشت گردی اس زمانے کا تباہ کن فتنہ ہے، چنانچہ غیر مسلم اور اسلام کی طرف نسبت رکھنے والے کچھ لوگ دہشت گردی پھیلا رہے ہیں، اسلام ان کی ظلم و زیادتی سے بھر پور مجرمانہ کاروائیوں سے بالکل بری ہے۔

دہشت گردی سب لوگوں کیلیے تکلیف اور شر کا باعث بن چکی ہے، بہت سے خطوں کے لوگ دہشت گردی سے متاثر ہیں، سب سے زیادہ اثرات مملکت حرمین شریفین پر رونما ہوئے ۔

دہشت گردی سے لوگوں کو تحفظ دینے کیلیے مملکت حرمین شریفین کی قیادت میں اسلامی عسکری اتحاد کے قیام کو لوگوں نے خوب سراہا ہے بلکہ اس کے ابتدائی نتائج بھی دیکھ لیے ہیں۔

اس اتحاد میں شامل اسلامی ممالک کی اب یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے معاشروں کو محفوظ بنائیں، نوجوانوں کو منحرف ہونے سے بچائیں، اور عقیدے کی ہر طرح سے حفاظت کریں، قومی مفادات مقدم رکھیں، امن و امان اور استحکام مزید مضبوط کریں، نیز ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کیلیے تمام ذرائع زیر غور لائیں۔

تمام مسلمانوں پر بحیثیت قوم اور فرد یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مسلم امہ کے مسائل حل کرنے کیلیے باہمی تعاون کریں، اپنی عوام کو اسلامی عقیدہ سے منحرف نظریات سے بچائیں جو صحابہ کرام ، تابعین عظام کے عقیدہ سے متصادم ہیں، کیونکہ صحابہ کرام اور تابعین عظام کا عقیدہ ہی معتدل اور متوسط ہے۔

عوام الناس کو اسلامی تعلیمات سے منحرف اور ہوس پرستی کی جانب مائل نہ ہونے دیں، ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی اسلامی اتحاد کو تمام اسلامی ممالک اور مسلمانوں کیلیے باعث خیر بنائے۔ فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ(102) وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ} ایمان والو! تقوی الہی کما حقُّہ اختیار کرو، تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں [102] اللہ تعالی کی رسی کو تمام لوگ مضبوطی سے تھام لو، اور فرقہ واریت میں مت پڑو، اور اللہ تعالی کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم باہمی دشمن تھے تو تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پھر تم اللہ کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، تو اللہ تعالی نے تمہیں آگ سے بچا لیا، اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں اسی طرح بیان کرتا رہے گا تا کہ تم ہدایت پا لو۔[آل عمران : 102 - 103]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں ، جس نے اچھا انجام صرف متقی اور برا انجام ظالموں کیلیے بنایا، میں اپنے رب کی حمد و ثنا اور شکر بجا لاتا ہوں ، اسی سے توبہ مانگنا ہوں اور گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، وہی قوی و متین ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد ﷺ اس کے بندے اور چنیدہ رسول ہیں، آپ ہی اولین و آخرین کے سربراہ ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی آل ، اور تمام صحابہ کرام پر رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو اور اللہ کی عبادت کرو، اسی نے تمہیں نعمتوں میں پالا اور تمہاری طرف آنیوالی مصیبتوں کو ٹالا۔

مسلمانو!

اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور کرو: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کا تعاون کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون مت کرو، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے [المائدة : 2]

شانہ بشانہ تعاون کرنے سے اللہ تعالی ہر قسم کی خیرو بھلائی یکجا فرما دیتا ہے اور نقصانات سے محفوظ فرماتا ہے، جبکہ باہمی تعاون کے فقدان سے بہت سے فائدے چوک جاتے ہیں اور نقصانات رونما ہوتے ہیں۔

نوجوانوں!

علم نافع اور عمل صالح کیلیے بھر پور محنت کرو، اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کیلیے خوب تگ و دو کرو، اس لیے مفید تعلیم حاصل کرو، منافع بخش کام کرو، اور دہشت گردی سے بچو ، خارجیوں کے راستے سے دور رہو، اگر تمہیں ایسی تنظیموں کی جانب سے منسلک ہونے کی دعوت ملے تو ان کے سربراہان کی گزشتہ زندگی کو دیکھو تو تمہیں علم ہوگا کہ وہ دنیا دار اور فتنے میں مبتلا لوگ ہیں، ان کے نمائندے اور سہولت کار نا معلوم ہونگے، ان کی کوشش ہوگی کہ کسی بھی طرح سے امت کو نقصان پہنچائیں، ان کی یہ چاہت ہے کہ تم نقضِ امن کا باعث بنو، اور ملک و قوم کی حفاظت پر مامور سیکورٹی فورس کے جوانوں سے مسلح تصادم کرو، وہ تمہیں والدین کی گود سے چھین کر اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں ، تا کہ تمہیں خوف و ہراس ، ذلت و جلا وطنی میں مبتلا کر سکیں۔

اللہ کے بندو!

}إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ یقیناً اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]، اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو۔

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيراً۔

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے راضی ہو جا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! کفر اور تمام کفار و منافقین کو ذلیل کر دے ، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تمام بدعات کو غارت فرما، یا اللہ! تیرے دین سے متصادم بدعات کا خاتمہ فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! اپنے دین، قرآن اور سنت نبوی کا بول بالا فرما، یا قوی! یا عزیز! یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! ہمیں موسلا دھار اور رحمت والی بارش عطا فرما، یا اللہ! ہم پر رحم فرماتے ہوئے ہمیں بارش عطا فرما، اور ہمیں مایوس مت فرما، یا اللہ! رحمت والی بارش ہو تباہی، غرق، اور بربادی والی نہ ہو، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! مؤمن مرد و خواتین کی بخشش فرما، مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما، زندہ و فوت شدہ سب کی مغفرت فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں ہمارے نفسوں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں ہمارے نفسوں اور گناہوں کے شر سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، چالوں اور لشکروں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین! یا ذو الجلال والاکرام! یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، چالوں اور لشکروں سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں ہر شریر کے شر سے محفوظ فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں دینی لحاظ سے عافیت عطا فرما، یا اللہ! ہمیں دینی لحاظ سے عافیت عطا فرما، اور یا اللہ! ہمیں دنیاوی لحاظ سے بھی عافیت عطا فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! تمام مسلمانوں کو گمراہ کن فتنوں سے محفوظ فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں ، ہماری اولاد اور تمام مسلمانوں کو ظاہری و باطنی تمام گمراہ کن فتنوں سے محفوظ فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں ایک لمحے کیلیے بھی تنہا مت چھوڑنا، اور ہمارے تمام تر امور سنوار دے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہماری دنیا و آخرت سنوار دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! تمام تر معاملات میں ہمارے لیے مثبت نتائج برآمد فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما، یا ذو الجلال و الاکرام! یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں کلمہ توحید پر ثابت قدم فرما۔

یا اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن و امان عطا فرما، اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔

یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین شریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! اُسکی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور اسکے تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، یا اللہ! انہیں صائب رائے اور عمل صالح عطا فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! انہیں صحت و عافیت عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! ان کے دونوں نائبوں کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! ان کی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور ان کے تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، اور انہیں اسلام اور عالم اسلام کیلئے بہتر امور سر انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہمارے اگلے، پچھلے، خفیہ ، اعلانیہ سب گناہ معاف فرما، اور وہ گناہ بھی معاف فرما دے جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے، تو ہی پیش قدمی اور پست قدمی کی توفیق دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو!

}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (90) وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ{ اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو[90] اور اللہ تعالی سے کئے وعدوں کو پورا کرو، اور اللہ تعالی کو ضامن بنا کر اپنی قسموں کو مت توڑو، اللہ تعالی کو تمہارے اعمال کا بخوبی علم ہے [النحل: 90، 91]

اللہ عز و جل کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

ملاحظہ کیا گیا 4338 بار

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    ماہِ شعبان اور ہمارا طرزِ عمل قارئین کرام! ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے ۔ دین اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر دوڑانے کے بعد اس ماہ میں صرف نفلی روزے رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ، دیگر مخصوص عبادات کے بارہ میں شرعی نصوص وارد نہیں ہوئیں ، درج ذیل طور میں ماہ شعبان سے متعلق ہمارا کیا طرز عمل ہے ، اور اس ماہ میں شریعت اسلامیہ کا ہم سے کیا تقاضہ ہے ذکر کیا گیا ہے۔ ماہِ شعبان مستند احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں !   ۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں ۔ ( متفق علیہ)  ۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی اداء کرسکتی تھی۔ (متفق علیہ) ۳۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم