بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الأربعاء, 30 كانون1/ديسمبر 2015 00:00

قرآن کریم اوصاف اور امتیاز

مولف/مصنف/مقرر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم ۔ ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلئے ہیں، ہم اسکی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلبگار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اسکا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اسکے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے  خلوت و جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان سمجھو۔

مسلمانو!

اللہ تعالی اپنی ذات اور اسما و صفات  میں کامل ہے، اس کا کوئی ہمسر اور ثانی نہیں ہے، اس کی صفات بھی کامل ترین صفات ہیں، اور کلام کرنا بھی اللہ کی تعالی کی صفت ہے، چنانچہ اللہ تعالی جب چاہے، جو چاہے گفتگو فرماتا ہے، اس کے کلمات کی کوئی انتہا نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا} آپ کہہ دیں: اگر سمندر میرے رب کے کلمات لکھنے کے لیے سیاہی بن جائے تو میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہو جائے چاہے ہم  دگنی سیاہی لے آئیں۔[الكهف : 109]

اللہ تعالی کی گفتگو سب سے اچھی گفتگو ہے، اور کلامِ الہی کی شان ایسے ہی ہے جیسے خالق کی مخلوق پر فضیلت ہوتی ہے، اللہ تعالی کی بندوں پر ہونے والی نعمتیں ناقابل شمار ہیں۔

یہ اللہ تعالی کی حکمت اور مخلوق پر رحمت ہے کہ  اس نے رسولوں کو بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں، چنانچہ تورات، انجیل، زبور اور ابراہیم و موسی علیہما السلام پر صحیفے نازل فرمائے ، اور اس سلسلے کو قرآن کے ذریعے مکمل فرمایا، جو گزشتہ تمام کتب سے اعلی اور بلند مقام و مرتبہ والا ہے۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید کے نازل کرنے پر خود ستائش کرتے ہوئے فرمایا: {اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًا} تمام تعریفیں اسی ذات کیلئے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی، اور اس میں کسی قسم کا ٹیڑھ پن نہیں بنایا[الكهف : 1]

نیز قرآن مجید نازل کرنے پر اپنی عظمت کا اظہار بھی فرمایا: {تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا} بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا  تا کہ وہ جہانوں کیلئے ڈرانے والا بن جائے۔[الفرقان : 1]

اللہ تعالی نے قرآن مجید کی قسم بھی اٹھائی  اور فرمایا: {يس (1) وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ} یٰس (1) قسم ہے حکمت والے قرآن کی[يس : 1 - 2] نیز اللہ تعالی نے قرآن مجید  کے بارے میں بھی قسم اٹھائی اور فرمایا: {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (75) وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ (76) إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ} میں قسم اٹھاتا ہوں تاروں کے گرنے کی جگہ کی [75]اگر تم جانتے ہو تو یہ یقیناً بہت بڑی قسم ہے[76] بیشک یہ معزز قرآن کریم ہے۔ [الواقعہ : 75 - 77]

قرآن کریم گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والا اور ان پر نگران بھی ہے، قرآن مجید نے سابقہ تمام کتابوں کو منسوخ کر دیا ہے، گزشتہ کتب کی تعلیمات کے سلسلے میں اسی پر اعتماد کیا جاتا ہے ، قرآن مجید کے نازل ہونے سے پہلے ہی انبیائے کرام نے اس کی خوشخبری دی، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ} بیشک قرآن مجید کا تذکرہ پہلے لوگوں کی کتابوں میں بھی ہے[الشعراء : 196] ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس کتاب کا تذکرہ اور بشارت سابقہ آسمانی کتب میں بھی موجود ہے، بلکہ انبیائے کرام سے بھی منقول ہے"

ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام  نے اللہ تعالی سے ایسے نبی کی دعا فرمائی جو قرآن مجید کی تلاوت کرے اور اس کی تعلیم بھی دے، انہوں نے کہا تھا: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ}ہمارے رب! ان میں ایک رسول مبعوث فرما جو انہی میں سے ہو اور ان کے سامنے تیری آیات پڑھے انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے ، یقیناً تو غالب حکمت والا ہے ۔[البقرة : 129]

قرآن مجید رب العالمین کا کلام ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالی نے حروف اور آواز کیساتھ قابل سماعت حقیقی کلام فرمایا ، قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور آخر کار اسی کی طرف لوٹ جائے گا، قرآن مجید کو اللہ تعالی سے اعلی ترین فرشتے جبریل علیہ السلام نے سن کر نیچے اتارا، اور اشرف الانبیاء تک افضل ترین مہینے کی بابرکت رات لیلۃ القدر میں پہنچایا مزید بر آں کہ بہترین امت کیلئے افضل اور جامع ترین زبان کیساتھ نازل کیا ، اس کتاب کا کوئی ثانی نہیں ہے، {أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ}ان کیلئے اتنا کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے [العنكبوت : 51]

نیز اللہ تعالی نے اس امت پر اپنا احسان جتلاتے ہوئے فرمایا: {لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ} بلا شبہ مسلمانوں پر اللہ تعالی کا احسان ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا جو اس کی آیات پڑھ کر سناتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔ [آل عمران : 164]

قرآن مجید آپ ﷺ اور آپ کی امت دونوں کیلئے باعث شرف ہے: {وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ} بیشک یہ قرآن آپ اور آپکی قوم کیلئے نصیحت ہے۔[الزخرف : 44]

قرآن کریم امت محمدیہ کی روح بھی ہے؛ کیونکہ حقیقی زندگی کا دار و مدار قرآن مجید پر ہی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب انسان اس سے دور ہو تو چلتا پھرتا مردہ  نظر آتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا} اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح [قرآن]وحی کی ہے[الشورى : 52]

اگر اللہ تعالی قرآن مجید کو کسی پہاڑ پر اتار دیتا  تو پہاڑ بھی اللہ کے خوف اور اطاعت گزاری میں کٹ پھٹ جاتا۔

انسان کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک قرآن پر اجمالی اور تفصیلی طور پر ایمان نہ لے آئے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ}ایمان والو! اللہ اور رسول اللہ سمیت اس کتاب پر بھی ایمان لاؤ جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے [النساء : 136]

قرآن مجید آسمان میں {فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ (13) مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ (14) بِأَيْدِي سَفَرَةٍ (15) كِرَامٍ بَرَرَةٍ } قابل احترام صحیفوں میں درج ہے [13] جو بلند بالا اور پاک صاف ہیں[14] ایسے لکھنے والے [فرشتوں]کے ہاتھوں میں ہے [15] جو معزز اور نیک ہیں [عبس : 13 - 16]

اللہ تعالی نے قرآن مجید نازل کرنے سے پہلے ہی اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا اور فرمایا: {بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ[21]فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ} یہ قرآن مجید ہے[21] جو لوحِ محفوظ میں ہے۔[البروج : 21]

اللہ تعالی نے قرآن مجید کو نزول کے وقت بھی شیاطین سے محفوظ رکھا اور فرمایا: {وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ (210) وَ مَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ} شیاطین قرآن کریم نہیں لائے[210] وہ اس قابل ہی نہیں اور نہ ہی اس کی طاقت رکھتے ہیں۔[الشعراء :210-  211]

اللہ تعالی نے قرآن مجید نازل کرنے کے بعد اسے ہمیشہ محفوظ رکھنے کی ذمہ داری بھی اٹھائی، فرمانِ الہی ہے: {إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ} بیشک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ [الحجر : 9]

اللہ تعالی نے متعدد نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے قرآن مجید کو بیان کیا اور فرمایا: {اَلرَّحْمَنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْآنَ } رحمٰن [1] اسی نے قرآن سکھایا۔[الرحمن : 1 - 2]

اللہ تعالی نے اپنے بندوں  کو قرآن مجید سکھایا اور ان کیلئے حفظ، تلاوت، اور اس پر عمل آسان کر دیا، چنانچہ عربی ہو یا کوئی اور مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب سب آسانی سے قرآن مجید یاد کر تے ہیں۔

قرآن مجید کے متعدد نام ہیں اور اسکی بہت سی امتیازی صفات ہیں ، اللہ تعالی نے اسے پوری انسانیت کیلئے ایسے ہی نور  ہدایت بنایا جیسے ہمارے نبی ﷺ کی رسالت سب کیلئے ہے، لہذا یہ کسی خاص طبقے کیلئے نہیں ہے، اس کی آیات ایک دوسرے سے ملتی جلتی اور باہمی تصدیق بھی کرتی ہیں: {كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ} قرآن مجید  کے مضامین ملتے جلتے  اور بار بار دہرائے  جاتے ہیں [الزمر : 23]

قرآن مجید سیدھا راستہ ہے، اس میں کسی قسم کا کوئی ٹیڑھ پن ، اختلاف اور تصادم نہیں ہے: {وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا} اگر یہ غیر اللہ کی جانب سے ہوتا تو اس میں بہت زیادہ تصادم پایا جاتا ۔[النساء : 82]

قرآن مجید بہترین اور افضل ترین کلام ہے: {اَللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ} اللہ تعالی نے احسن ترین کلام نازل کی۔[الزمر : 23] نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید ہر قسم کے کلام چاہے وہ منزل ہو یا غیر منزل من اللہ  سب سے اعلی ترین کلا م ہے"

اللہ تعالی نے قرآن مجید کو عظمت سے موصوف کرتے ہوئے فرمایا: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ} اور ہم نے آپکو بار بار پڑھی جانے والی سات آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ۔[الحجر : 87]

نیز قرآن مجید کو فی نفسہ  اور مقام و مرتبے میں بلند قرار دیتے ہوئے فرمایا: {وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ } قرآن ام الکتاب میں  ہے اور یہ ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے [الزخرف : 4]

قرآن مجید کے الفاظ اور معانی دونوں واضح ہیں، نیز قرآن مجید میں ہر طرح کی رہنمائی موجود ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {هَذَا بَيَانٌ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ} یہ لوگوں کیلئے رہنمائی، جبکہ متقین کیلئے ہدایت اور نصیحت بھی ہے[آل عمران : 138] ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : " اللہ تعالی نے ہمارے لیے قرآن مجید میں سب علوم اور تمام چیزیں بیان کی ہیں"

کسی قسم کی کمی، زیادتی، تحریف اور تبدیلی اس میں نہیں ہوگی، اللہ تعالی نے اسے جہانوں کیلئے  ہدایت و نصیحت بنایا ہے۔

قرآن مجید ڈرنے والوں کیلئے نصیحت، اور رو گردانی کرنے والوں کے خلاف حجت ہے، اللہ تعالی نے قرآن مجید کی شان میں متعدد صفات بیان  کیں، اور اسے متعدد ناموں سے موسوم کیا، یہی وہ  حق ہے جس میں کوئی باطل یا شک و شبہ کا امکان نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ} بلکہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے۔[السجدة : 3]

قرآن حکیم حکمت سے بھر پور ہے نیز اسی سے حکمت حاصل بھی ہوتی ہے{تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ} یہ حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں۔[يونس : 1]

 قرآن کریم  اللہ تعالی کے ہاں مکرّم اور اعلی اخلاقی اقدار کی تعلیم دیتا ہے، اسکی وجہ سے انسان خالق و مخلوق دونوں کے ہاں معزز قرار پاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ} یقیناً قرآن نہایت ہی مکرّم ہے [الواقعہ: 77] قرآن مجید ہدایت کیساتھ  ساتھ رحمت بھی ہے {هُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ} ایمان لانے والوں کیلئے ہدایت و رحمت ہے۔[الأعراف : 52]

قرآن کریم اپنے پیروکاروں کیلئے گمراہی سے تحفظ کا ضامن بھی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں جب تک تم اس پر کار بند رہو گے گمراہ نہیں ہو سکتے وہ ہے :قرآن مجید) مسلم

قرآن کریم عالیشان کتاب ہے، فرمان باری تعالی ہے: {ق  وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} ق، عالی شان قرآن کی قسم ۔[ق : 1]

قرآن مجید انتہائی معزز کتاب ہے، اس کا کوئی ہمسر نہیں ، حتی کہ قرآن مجید کے قریب ہونے والا بھی معزز بن جاتا ہے، {وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ}بیشک یہ انتہائی معزز کتاب ہے۔ [فصلت : 41]

یہ اعلی ترین کتاب ہے ، اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے، اس میں خیر و بھلائی، اور برکت متعدد انداز سے موجود ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ} یہ کتاب ہم نے جو نازل کی ہے بابرکت ہے۔[الأنعام : 92]

قرآن کریم کو پڑھ کر عمل کرنے والا اور قرآنی تعلیمات کو دنیا بھر میں پھیلانے والا شخص عزت پاتا ہے اور اسے امن و سکون حاصل ہوتا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلامی مملکت کا دائرہ مشرق و مغرب میں دور دور تک پھیل چکا تھا؛ اس کی وجہ یہ تھی کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے خود بھی قرآن مجید کی خوب  تلاوت کی اور پوری امت کیلئے قرآن جمع کیا اور پھر مطالعۂِ قرآن کو عام بھی کیا "

قرآن مجید دنیا و آخرت  اور  دینی و دنیاوی سب امور کے متعلق نورِ بصیرت  کا حامل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: { قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ} تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کرنے والی کتاب آ گئی ہے۔[المائدة : 15]

قرآن کریم کے ذریعے ہی روح کو زندگی ملتی ہے، بشرطیکہ قرآن پر عمل کرے:{اِسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} اللہ اور رسول اللہ کی بات پر عمل کرو جب بھی تمہیں زندگی افزا احکامات کی دعوت دیں۔[الأنفال : 24]

اللہ تعالی نے قرآن کریم کو روح کیلئے زندگی بنایا تو جسموں کیلئے شفا بھی قرار دیا، چنانچہ : (ایک آدمی کو بچھو کاٹ گیا تو اس پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا گیا جس سے وہ شفا یاب ہو گیا) بخاری

قرآن کریم مشکلات اور پر فتن دور میں دل کو نصیحت بھی کرتا ہے اور اس کی ڈھارس بھی باندھتا ہے: { لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ} تا کہ ہم آپ کے دل کو قرآن کے ذریعے مضبوط کریں۔[الفرقان : 32]

قرآن کریم کے ذریعے ہی امت میں اتحاد پیدا ہو سکتا ہے: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا } اللہ کی رسی [قرآن] کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ واریت میں مت پڑو۔[آل عمران : 103]

قرآن کریم کی روشنی میں جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے، اسی میں نجات ہے، { كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ} یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیات کو محکم  بنایا گیا ہے اور پھر حکیم و خبیر ہستی کی طرف سے تفصیلاً بیان کی گئی  ہیں[هود : 1]

اولین و آخرین انسان ہوں یا جن سب کو اللہ تعالی نے قرآن مجید کے ذریعے چیلنج کیا اور فرمایا: {قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا} آپ کہہ دیں: اگر انس و جن اس قرآن کا ثانی لانے کیلئے متحد ہو جائیں، تو باہمی تعاون کے باوجود اس کا ثانی نہیں لا سکیں گے۔ [الإسراء : 88]

کوئی عقل مند قرآن مجید سننے کے بعد اس کے کلامِ الہی ہونے کی گواہی دیے بغیر نہیں رہ سکتا، چنانچہ جنوں نے قرآن کریم کی تلاوت سنی تو ایک دوسرے کو خاموشی سے سننے کا حکم دینے لگے اور پھر سب کے سب اپنی قوم کے پاس واپس پہنچے تو کہنے لگے: {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا} بیشک ہم نے عجب قرآن سنا ہے۔[الجن : 1]

قرآن کریم اعلی اور مفید ترین ذکر بھی ہے، اور اس کی تلاوت ایمان میں اضافے کا باعث ہے{إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا} یقیناً وہ لوگ مؤمن ہیں جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل پگھل جاتے ہیں، اور جب اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔[الأنفال : 2]

 قرآن کریم کی آیات نے بڑے بڑے لوگوں کو اشکبار کر دیا، چنانچہ ایک بار ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سورہ نساء کی تلاوت کی اور جب آیت: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} اس وقت لوگوں کا کیا عالم ہوگا جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تمہیں ان لوگوں پر گواہ بنائیں گے [النساء : 41] پر پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا: (بس کرو) پھر جب انکی آپ ﷺ کے چہرے پر نظر پڑی تو آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں" بخاری

ابو بکر رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو ان کے رونے کی وجہ سے مقتدیوں کو آواز بہت مشکل سے پہنچتی تھی۔

جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے نجاشی کے پاس سورہ مریم کا ابتدائی حصہ پڑھا تو آنسووں سے نجاشی کی ڈاڑھی تر ہو گئی، اور پاس موجود پادری بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اپنے صحیفے آنسووں سے تر کر دیے۔

اللہ تعالی نے پناہ لینے والوں کو قرآن کی تلاوت سننے تک پناہ دینے کا حکم دیا اور فرمایا: {وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ} اور اگر ان مشرکوں میں سے کوئی آپ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دیں، تا آنکہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ [التوبہ: 6]

قرآن کریم میں جامع  و مفید علوم و معارف یکجا ہیں، قرآن کریم کو سمجھنے والے ہی حقیقی معنوں میں علماء ہیں،  فرمانِ باری تعالی ہے: {بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ}بلکہ یہ تو واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا ہے [العنكبوت : 49]

قرآن کریم کی تعلیم لینے اور دینے والا بہترین لوگوں میں شامل ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے یا سکھائے) بخاری

قرآن کریم میں سچے واقعات ،ٹھوس دلائل و براہین  ، بہترین قصے، خوبصورت حکمت بھری باتیں اور خوبصورت ترین فصاحت و بلاغت موجود ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: " قرآنی نظم اور اسلوب کی روح انتہائی خوبصورت اور بدیع ہے، اس کا انداز بیان عام گفتگو جیسا بالکل نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی اس اسلوب کا حامل کلام نہیں لا سکا؛ کیونکہ قرآنی انداز بیان کا تعلق شعر ، رجز، خطابت، خط نویسی کسی سے بھی نہیں ہے، نظم قرآنی  جیسا اسلوب عرب ہوں یا عجم کوئی نہیں بنا سکا، نیز  قرآن مجید کا معنوی اعجاز لفظی اعجاز سے کہیں زیادہ بڑا ہے "

قرآن کریم  کے احکامات کامل، فیصلے مبنی بر عدل، اور اوامر و نواہی حکمت سے بھر پور ہیں، قرآن کی ہیبت و جلالت ، قوت و تاثیر  اور جمال بھی کمال  کا ہے، یہ کم بول میں بھی پورا تول رکھتا ہے، بڑے ہی آسان پیرائے میں رہنمائی کرتا ہے، قرآن کریم واضح ترین نشانی  اور عیاں معجزہ ہے، اس پر عمل کرنے والا اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے، اس کے مطابق فیصلے کرنے والے کو عادل قرار دیا جاتا ہے، اس پر عمل کرنے والے کو گمراہی سے بچا لیا جاتا ہے اور اس کی اتباع کرنے والا رحمت کا مستحق قرار دیا جاتا ہے، { فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} تم اس کی اتباع کرو اور تقوی اختیار کرو، تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔[الأنعام : 155]

قرآن کریم جامع اور مفید ترین ذکر بھی ہے، اللہ تعالی نے قرآن کی تلاوت کرنے والے کی مدح سرائی فرمائی اور اس پر عمل کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں مکمل اجر سے بھی زیادہ دینے کا وعدہ دیا: {إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ [29] لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ } جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے، نماز قائم کرتے، اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار  ہیں جس میں کبھی خسارہ نہ ہوگا [29] تاکہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالی ان کا پورا پورا اجر دے اور اپنی مہربانی سے کچھ زیادہ بھی دے [فاطر : 29- 30]

قرآن کریم کی تلاوت نفع بخش تجارت ہے؛ کیونکہ: (جس شخص نے قرآن مجید کا ایک لفظ بھی پڑھا اسے ایک نیکی ملے گی، اور ہر نیکی کا اجر دس گنا زیادہ ملتا ہے) ترمذی

قرآن مجید کی تعلیم دنیاوی مال و متاع سے کہیں زیادہ بہتر ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی مسجد میں جا کر علم حاصل کرے یا کتاب اللہ سے دو آیتیں ہی پڑھے تو یہ اس کیلئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے، تین آیتیں تین اونٹنیوں سے بہتر ہونگی، چار آیتیں چار اونٹنیوں سے بہتر ہونگی، اسی طرح جتنی آیات سیکھو گے اتنی ہی اونٹنیوں سے بہتر ہونگی ) مسلم

نیز فرمانِ نبوی ہے: (قرآن کریم کا ماہر قاری معزز اور مکرّم فرشتوں کیساتھ ہوگا) متفق علیہ

قرآن سیکھنے اور سکھانے کی مجالس  میں معلّم اور متعلم دونوں پر رحمت و سکینت نازل ہوتی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ کے کسی بھی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت اور ایک دوسرے کیساتھ مل کر قرآن کا مطالعہ کرنے والوں پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اور فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں، نیز اللہ تعالی ان کا تذکرہ اپنے پاس حاضرین میں کرتا ہے ) مسلم

قرآن مجید کی تلاوت سننے سے رحمت ملتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے [الأعراف : 204]

نبی ﷺ نے قرآن کریم پر عمل کرنے کی پوری امت کو وصیت فرمائی،  چنانچہ عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ  عنہ سے نبی ﷺ کی وصیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: "آپ  ﷺ نے  قرآن کریم کی وصیت فرمائی" ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "قرآن کریم کی وصیت سے مراد یہ ہے کہ : قرآن مجید کو یاد کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، بے حرمتی سے بچایا جائے، تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنائیں، ہمیشہ  کیلئے اس کی تلاوت، تعلیم و تعلّم کا سلسلہ جاری رکھا جائے"

حافظ قرآن زندگی  اور موت ہر دو حالت میں معزز شخصیت کا حامل ہے، چنانچہ زندگی میں اس کے بارے میں فرمایا: (لوگوں کو جماعت وہی کروائے جسے سب سے زیادہ قرآن مجید یاد ہے) مسلم، اور وفات کے بعد اعزاز اس انداز سے دیا گیا کہ جب:  "نبی ﷺ ایک قبر میں متعدد شہدائے احد کو دفنا رہے تھے تو آپ استفسار کرتے ان میں سے قرآن کسے زیادہ یاد تھا؟ تو بتلانے پر آپ ﷺ اسی کو قبر میں پہلے اتارتے" بخاری

قرآن کے حفاظ بہترین ساتھی ہیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ کی مجالس  اور شوری میں قرآن کے حفاظ ہی شامل تھے۔ بخاری

قیامت کے دن قرآن کریم اپنے ماننے والوں کیلئے دلیل بن جائے گا، اس کی شفاعت اللہ کے ہاں مسترد نہیں ہوگی، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (قرآن کی تلاوت کیا کرو؛ کیونکہ یہ قیامت کے دن تلاوت کرنے والوں کیلئے سفارشی بن کر آئے گا) مسلم

حافظ قرآن کو جنتوں میں نعمتوں سے بھر پور بلند درجہ دیا جائے گا: (حافظ قرآن سے کہا جائے گا: پڑھتا جا چڑھتا جا، اور ایسے ہی اس کی تلاوت کر جیسے تم دنیا میں کیا کرتا تھا، جہاں تمہاری آخری آیت ہوگی وہیں تمہاری منزل ہوگی) ابو داود

قرآنی تعلیم دیکر پیدا ہونے والا خوشی کا احساس ایمان کا بلند ترین درجہ ہے، کوئی شخص بھی قرآن سے مستغنی نہیں ہو سکتا، نبی ﷺ کامل ترین عقل و دانش کے حامل تھے، لیکن اس کے باوجود آپ کو درست فیصلوں کیلئے قرآن سے رہنمائی لینا پڑتی تھی،  اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ إِنْ ضَلَلْتُ فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَى نَفْسِي وَإِنِ اهْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوحِي إِلَيَّ رَبِّي } آپ کہہ دیں: اگر میں راہ بھٹک جاؤں تو اس کا وبال مجھ پر ہی ہوگا، اور اگر میں راہ لگ جاؤں تو  یہ میرے رب کی میری طرف وحی کی وجہ سے ہوگا۔[سبأ : 50]

جس قدر انسان قرآن کریم کے قریب ہوگا اس کی خوشحالی بھی اسی قدر ہوگی، قرآن کریم مسلمانوں کی شان و شوکت اور عظمت  کا باعث ہے، تمام نسلوں کیلئے بلندی اور ترقی کا راستہ ہے، پورے معاشرے کیلئے ہمہ قسم کے شر سے تحفظ اور برکت کا باعث ہے، قرآن کریم میں رضائے الہی کیساتھ ساتھ انس اور پیار و محبت بھی پوشیدہ ہے۔

اس تفصیل کے بعد: أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ} لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت آ چکی،  یہ دلوں کے امراض  کی شفا اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے [يونس : 57]

 اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کہ اُس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اسکی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، اللہ تعالی اُن پر ، آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!

مسلمانو! قرآن کی  پیروی کرنے والا ہی ہدایت پائے گا، جبکہ قرآن سے اعراض کرنے والا تباہی و بربادی میں رہے گا،  الله نے فرمایا:{فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى(123) وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى} جس نے میری  ہدایت کی  پیروی  کی  وہ  گمراہ ہوگا اور نہ ہی بدنصیب [123]اور جو میری  نصیحت سے اعراض کرے  گا تو یقیناً  اس کے  لئے زندگی تنگ ہوگی، اور ہم اسے قیامت کے  دن اندھا کر کے  اٹھائیں گے [طہ : 123 - 124]

قرآن کے  بغیر ہدایت كا کوئی راستہ نہیں ہے، جس كا دل قرآن سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہا تو اسے کسی  اور چیز سے فائدہ نہیں ہوگا،  الله نے فرمایا: {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ} الله اور اس کی  آیتوں کے  بعد یہ  لوگ کس  چیز پر ایمان لائیں گے؟ [الجاثیہ : 6]

جس طرح قرآن صاحب قرآن كو عروج بخشتا ہے،  اسی طرح اپنے مخالف  كو ذلیل و رسوا بھی  کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: (یقیناً  الله اس کتاب کی وجہ سے بہت سے لوگوں كو بلند مقام عطا فرمائے گا، اور اس کی  وجہ سے دیگر کئی  لوگوں كو پست  اور ذلیل کر دے گا) مسلم

الله كا کلام سب پر غالب ہے، جو اس کے کسی ایک حرف كا انکار  کرے یا ا س كا مذاق اڑائے تو وہ  كا فر ہے، الله نے فرمایا: {قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ} آپ [مذاق اڑانے والوں سے ]کہہ دیں کہ الله، الله کی آیتوں اور اس کے رسول كا مذاق اڑاتے ہو[65]تم بہانے نہ بناؤ، یقیناً تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو [التوبہ : 65 - 66]

جس نے بھی قرآن یا اہل قرآن كا مذاق اڑایا الله نے اسے ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا، اس لئے ہر مسلمان كو چاہیے کہ وہ اپنے رب کی کتاب کے غلبے کیلئے بھر پور کوشش کرے اور اس عمل کو اپنے لیے اعزاز سمجھے، تا کہ اعلی مقام حاصل کر سکے۔

یہ بات جان لو کہ ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور  فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے  کرنے والے خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یا اللہ !اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات درست فرما،  اور تمام مسلم علاقوں کو امن و امان اور استحکام کا گہوارہ بنا دے، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال اپنے رضا کیلئے مختص فرما، اور تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب کے نفاذ اور شریعت کو بالا دستی دینے کی توفیق عطا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمارے سپاہیوں کو کامیاب فرما،  یا اللہ! ان کے قدموں کو ثابت بنا ، یا اللہ! ان کی نشانے درست فرما، اور انہیں تیری مخصوص فوج میں شامل فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو ہی غنی ہے ہم تیرے در کے فقیر ہیں، ہم پر بارش نازل فرما،  اور ہمیں مایوس مت فرما،  یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر خوب ظلم ڈھائے، اگر تو ہمیں نہ بخشے  اور ہم پر رحم نہ فرمائے  تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو [امداد] دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے [قبول کرو]اور یاد رکھو۔ [النحل: 90]

تم اللہ کو یاد رکھو جو صاحبِ عظمت و جلالت ہے وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

ملاحظہ کیا گیا 4245 بار آخری تعدیل الخميس, 31 كانون1/ديسمبر 2015 11:35

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    ماہِ شعبان اور ہمارا طرزِ عمل قارئین کرام! ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے ۔ دین اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر دوڑانے کے بعد اس ماہ میں صرف نفلی روزے رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ، دیگر مخصوص عبادات کے بارہ میں شرعی نصوص وارد نہیں ہوئیں ، درج ذیل طور میں ماہ شعبان سے متعلق ہمارا کیا طرز عمل ہے ، اور اس ماہ میں شریعت اسلامیہ کا ہم سے کیا تقاضہ ہے ذکر کیا گیا ہے۔ ماہِ شعبان مستند احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں !   ۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں ۔ ( متفق علیہ)  ۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی اداء کرسکتی تھی۔ (متفق علیہ) ۳۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم