بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 01 تشرين1/أكتوير 2015 00:00

حقوق اللہ اور حقوق والدین

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹرعلی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ : ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ کیا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ کیا،   اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں  وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرتا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے  اور رسول ہیں، جنکی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول  محمد ، آپکی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے  صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو، اللہ کے فرض کردہ احکامات کو ضائع مت کرو، اور اسکی حدود سے تجاوز مت کرو، بیشک متقی با مراد، اور خواہش پرست نامراد ہونگے۔

اللہ کے بندو!

جان لو!  بندوں کے اعمال انکے حق میں ہونگے  یا انکے خلاف، چنانچہ اطاعت گزاروں کی اطاعت اللہ کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتی، اور گناہگاروں کی معصیت اسکا کچھ بگاڑ نہیں سکتی، فرمان باری تعالی ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ}جو کوئی بھی نیک عمل کریگا اپنے لئے کریگا، اور جو گناہ کریگا، اسکا [خمیازہ]اسی پر ہوگا، پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے [الجاثيۃ: 15] اور فرمایا: {مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ} جو شخص بھی گناہ کریگا، اُسے اِسی کے برابر سزا دی جائے گی، اور جو کوئی بھی مرد ہو یا عورت ایمان کی حالت میں عمل کرے تو  یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہونگے، اِس میں انہیں بغیر حساب کے رزق سے نوازا جائے گا[غافر : 40]

اور حدیث قدسی میں ہے کہ : (میرے بندو! تم میرا کچھ بگاڑنے کی حد تک نہیں پہنچ سکتے، اور نہ مجھے نفع پہنچا سکتے ہو، میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہی ہیں جنہیں میں تمہارے لئے محفوظ کرتا ہوں، پھر تمہیں پورا پورا [بدلہ] دونگا، چنانچہ جو شخص اچھائی پائے تو وہ اللہ کی تعریف کرے، اور بصورتِ دیگر اپنے آپ کو ہی ملامت کرے) مسلم نے اسے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

بندے پر واجب ہونے والے حقوق کی ادائیگی کا فائدہ آخر کار بندے کو ہی ہوگا، جو دنیا و آخرت میں ثواب کی صورت میں وصول کریگا، فرمان باری تعالی ہے: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ} جو کوئی بھی ایمان کی حالت میں نیکیاں کمائے، تو اسکی جد وجہد کا انکار نہیں ہوگا، اور بیشک ہم اسکے [اعمال] لکھ رہے ہیں[الأنبياء : 94] ایسے ہی فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا} بلاشبہ جو لوگ ایمان لا کر نیک عمل کرتے رہیں، یقینا ہم اچھے عمل کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرینگے[الكهف : 30]

اور  بندے پر واجب حقوق میں جزوی یا کلی کمی کرنے کی سزا حقوق ضائع کرنے والے انسان پر ہی  ہوگی، کیونکہ اس نے رب العالمین کے حقوق ضائع کر کے دنیا اور آخرت میں اپنا ہی نقصان کیا ہے، اللہ تعالی تو سارے جہانوں سے بے نیاز ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ} اگر تم کفر کرو تو بلاشبہ اللہ تعالی تم سے بے نیاز ہے، وہ اپنے بندوں سے کفر پسند نہیں کرتا، اور اگر تم اسکا شکر کرو، تو یہ اسکے ہاں پسندیدہ ہے۔[الزمر : 7]

اور فرمایا: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ} اے لوگو! تم اللہ کے [در کے]فقیر ہو، اور اللہ تعالی ہی بے نیاز، اور قابل ستائش ہے۔[فاطر : 15]

ایسے ہی فرمایا: {هَا أَنْتُمْ هَؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ وَمَنْ يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَفْسِهِ } یہ تم ہی ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے بلایا جاتا ہے، چنانچہ  کچھ لوگ بخیلی کرتے ہیں، اور جو کوئی بخیلی کریگا، وہ اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے۔[محمد : 38]

اسی طرح فرمایا: {وَمَنْ يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا} اور جو شخص گناہ کمائے بیشک وہ اپنی جان پر ہی گناہ کماتا ہے، اور اللہ تعالی خوب جاننے والا، اور حکمت والا ہے[النساء : 111]

اور اللہ تعالی کا واجب حق  جسکی حفاظت ضروری ہے، وہ توحید ہے، اور اسکی حفاظت پر اللہ تعالی نے عظیم ثوب کا وعدہ بھی کیا ہے، فرمایا: {وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ [ 31] هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ} اور جنت کو پرہیز گاروں کے قریب کر دیا جائے گا وہ کچھ دور نہ ہوگی   [ 31]  یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، یہ ہر رجوع  کرنے والے اور [حقوق الہی]کی حفاظت کرنے والے کیلئے ہے۔ [ق :31-  32]

اور جس شخص نے اللہ کے حقوق ضائع کرنے کیلئے  اسکے ساتھ شرک کیا، اور  وسیلے و واسطے  بنا کر انکی عبادت کی، ان سے فریاد رسی کی، مشکل کشائی ، اور حاجت روائی  کا ان سے مطالبہ کیا، اور انہی پر توکل رکھا تو وہ  ناکام ونامراد اور مشرک ہوگا، اسکی تمام نیکی کی جد و جہد غارت ہوجائیں گی، اللہ تعالی اس سے کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کریگا، اور اسے کہا جائے گا: "جہنم میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم رسید ہو جاؤ"  اِلّا کہ وہ شرک سے توبہ کرلے، ایک حدیث میں ہے کہ: (ایک جہنمی آدمی کو کہا جائے گا: اگر تمہارے پاس زمین  کی ساری دولت آجائے تو کیا آگ سے بچنے کیلئے اسے فدیہ میں دے دو گے؟ تو وہ کہے گا: ہاں، پھر اسے کہا جائے گا: "تمہیں  اس سے بھی آسان کام کا حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرانا")بخاری

اور اگر مکلف  بندہ مخلوق کے واجب حقوق ضائع کر دے تو وہ اپنے آپ کو ہی دنیا و آخرت میں ثواب سے محروم کریگا، اور اگر ان میں کمی ہوئی تو اسی کے مطابق ثواب میں بھی کمی ہو جائے گی۔

روکھی سوکھی اور تنگی ترشی میں  انسان کی زندگی تو گزر ہی جاتی ہے، اس لئے انسان کی زندگی اپنے واجب حقوق ملنے پر موقوف نہیں ہے، کیونکہ [اگر کوئی حق رہ بھی گیا تو]اللہ کے ہاں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے سب جمع ہو جائیں گے، اور اللہ تعالی مظلوم کو ظالم اور غاصب سے حق لیکر دے گا، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (قیامت کے دن تم مستحق افراد کو انکے حقوق ضرور ادا  کرو گے، حتی کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ لیا جائے گا)مسلم

 اللہ اور  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے حقوق کے بعد والدین کے حقوق ہیں، انکے حقوق کی عظمت کے باعث اللہ تعالی نے اپنے حقوق کیساتھ انکے حقوق بیان کئے ہیں، فرمایا: {وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا [ 23] وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا}اور آپکے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اسکے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو، والدین کیساتھ  اچھا برتاؤ کرو، اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو  انہیں اُف تک نہ کہو، نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان سے بات کرو تو ادب سے کرو [ 23]  اور ان پر رحم کرتے ہوئے انکساری سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ: پروردگار! ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپنے میں مجھے (محبت و شفقت) سے پالا  تھا۔ [الإسراء :23-  24]

ایسے ہی فرمایا: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ} اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے [نیک سلوک کرنے کا] تاکیدی  حکم دیا ، اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری سہتے ہوئے ( اپنے پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور دو سال اس کے دودھ چھڑانے میں لگے [اسی لئے یہ حکم دیا کہ] میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی [آخر] میرے پاس ہی [تجھے] لوٹ کر آنا ہے۔ [لقمان : 14]

اللہ تعالی نے والدین کے حق کو اس لئے اتنا بڑا مقام اس لئے دیا  ہے کہ اللہ تعالی نے تمہیں انہی کی وجہ سے وجود بخشا، اور پیدا کیا، ماں نے دوران حمل  بہت بڑی بڑی مشقتیں برداشت کیں، اور دوران زچگی  زندگی و موت کی کشمکش بھی دیکھی، فرمان الہی ہے: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا} ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین سے اچھا  سلوک کرے، اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی جنا  ۔[الأحقاف : 15]

ماں کا دودھ پلانا بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے،  جبکہ والد اولاد کی تربیت، اور رزق کی تلاش میں تگ ودو کرتا ہے، والدین  مل کر بیماری کا علاج کرتے ہیں، بچوں کی نیند کی خاطر خود جاگتے ہیں،  انکے آرام کیلئے خود جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں، انکی خوشحالی کیلئے خود تنگی برداشت کرتے ہیں، بچوں کے بول و براز کو خود برداشت کرتے ہیں تا کہ اولاد سُکھ میں رہے، وہ اسے سکھاتے بھی ہیں تاکہ بچہ مکمل اور مہذب انسان بنے، انکی دلی خواہش ہوتی ہے کہ  انکی اولاد ان سے بھی آگے بڑھے، اس لئے بچو! والدین کے بارے میں کثرت سے وصیت کے متعلق تعجب مت کرو، اور نہ ہی انکی نافرمانی پر کثرتِ وعید پر تعجب  کرو۔

اولاد جتنی مرضی جد و جہد  کر لے اپنے والد کیساتھ نیکی  کا حق ادا نہیں کرسکتی، صرف ایک صورت ہے جسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیان کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: (کسی صورت میں بھی اولاد اپنے والد کا حق ادا نہیں کرسکتی ، اِلّا کہ کسی کی غلامی میں موجود اپنے والد کو خرید کر آزاد کردے) مسلم ، ابو داود، ترمذی

والدین جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، جو والدین کیساتھ حسن سلوک کریگا وہ جنت میں داخل ہو گا، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (اسکی ناک خاک آلود ہو، اسکی ناک خاک آلود ہو، اسکی ناک خاک آلود ہو) کہا گیا: اللہ کے رسول! کس کی ناک خاک آلود ہو؟! آپ نے فرمایا: (جس شخص نے اپنے والدین کو یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور جنت میں داخل نہ ہوا)مسلم

اے مسلمان!

اگر تمہارے والدین تم سے راضی ہیں تو اللہ بھی تم سے راضی ہے، چنانچہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (اللہ کی رضا والد کی رضا مندی میں ہے، اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے)یہ حدیث صحیح ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے، اور حاکم نے مستدرک میں اسے صحیح کہا ہے۔

والدین کیساتھ نیکی یہ ہے کہ گناہ کے علاوہ ہر کام  میں انکی اطاعت ، اور وصیت و حکم کی تعمیل  کی جائے، انکے ساتھ نرم برتاؤ رکھا جائے، انہیں خوش رکھا جائے، ان پر خرچہ کرتے ہوئے فراخ دلی سے کام لیں، شفقت و رحمت کیساتھ پیش آئیں، انکے دکھ کو اپنا دکھ جانیں، ان کے ساتھ مانوس ہو کر رہیں، انکے ساتھیوں اور دوستوں کیساتھ اچھا سلوک کریں، انکے رشتہ داروں  کیساتھ تعلقات بنائیں، اور ان سے ہر قسم کی تکلیف کو دور رکھیں، انکی لمبی زندگی کی چاہت رکھیں، انکی زندگی میں اور انکے چلے جانے کے بعد کثرت سے انکے لئے استغفار کریں۔

جبکہ انکی نا فرمانی گزشتہ تمام چیزوں کے مخالفت کا نام ہے، کثرت کیساتھ والدین کی نافرمانی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، ایک حدیث میں ہے کہ : (قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ : بارش گرمی کا باعث ہوگی،  اولاد نافرمان ہوگی، برے لوگ بڑھتے چلے جائیں گے، اور اچھے لوگ کم ہوتے جائیں گے)

والدین کی سب سے بڑی نافرمانی یہ ہے کہ انہیں اولاد کی خدمت سے نکال کر اولڈ ایج ہاؤس میں منتقل کر دیا جائے –اللہ کی پناہ- یہ کام اسلامی اور انسانی اخلاقیات میں شامل نہیں ہے۔

اسی طرح والدین پر رعب جھاڑنا ، ان پر ہاتھ اٹھانا، انہیں زد و کوب کرنا ، گالی گلوچ کا نشانہ بنانا،  اور انہیں انکے حقوق سے محروم کرنا بہت بڑی نافرمانی ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (جنت کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے سونگھی جاسکتی ہے، لیکن والدین کا نافرمان جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا)طبرانی

فرمان باری تعالی ہے: {وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا} اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک  نہ بناؤ،  والدین سے اچھا سلوک کرو ، نیز قریبی رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، رشتہ دار ہمسائے ، اجنبی ہمسائے  اپنے ہم نشین اور مسافر  ان سب سے اچھا سلوک کرو، نیز ان لونڈی  غلاموں سے بھی جو تمہارے قبضہ میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ یقینا مغرور  اور خود پسند بننے والے کو پسند نہیں کرتا [النساء : 36]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اسکی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے،  میں اپنی بات کواسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفات اللہ کیلئے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اسکے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور  یکتا ہے ، وہی قوی اور مضبوط ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اسکے  صادق و امین بندے اور رسول ہیں ، یا اللہ !اپنے بندے اور رسول محمد ، تمام صحابہ کرام ، اور آل پر اپنی رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے، اور اسلام کے مضبوط کڑے کو تھام لو۔

اللہ کے بندو!

والدین کے حقوق ادا کرنے میں جہاں عظیم اجر وثواب اور برکت ہے، وہیں پر یہ ایسے لوگوں کی بلند صفات میں شامل ہے جنکا باطن  پاک ہو، صاحب  شرف ہو، اور پاکیزہ اخلاق کے مالک ہوں۔

نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہوتا ہے، اور نیکی  کا خیال رکھنا، اور نبھانا اسکا حق  ہے،  حسن سلوک کا بدلہ حسن سلوک سے ہی دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نیکی کا منکر وہی شخص ہوتا ہے، جو انتہائی بد اخلاق ، بے مروّت ہو، اور باطن میں بھی خباثت بھری ہو، اللہ تعالی کا فرمان ہے: { وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ} اور باہمی معاملات میں ایک دوسرے کے احسان کو مت  بھولو ،  اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ یقینا اسے دیکھ رہا ہے ۔[البقرة : 237]

اور اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا} اور مجھے اپنی والدہ کیساتھ بہتر سلوک کرنے والا بنایا ہے،  اللہ نے مجھے جابر اور بدبخت نہیں بنایا۔ [مريم : 32] چنانچہ والدین کا نافرمان جابر، اور بد بخت ہے۔

اور یحیی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا} وہ اپنے والدین سے ہمیشہ اچھا سلوک کرتے تھے اور کسی وقت بھی جابر اور نافرمان  نہ ہوئے[مريم : 14]

اور ایک بد بخت کے بارے میں فرمایا: {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِنْ قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ } اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا'':تف ہو تم پر، تم مجھے اس بات سے ڈراتے ہو کہ میں [زندہ کرکے زمین سے] نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں ، اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر اسے کہتے: ''تیرا ستیاناس!! ہماری بات مان جا کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے'' [الأحقاف : 17]

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس ایک آدمی آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سے کون میرے حسن سلوک کا زیادہ حقدار ہے؟ تو آپ نے فرمایا: [پہلے ](تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہارا باپ، اسکے بعد جو بھی قریب ترین رشتہ دار ہو)بخاری و مسلم

اللہ کے بندو!

}إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ یقینا اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔

اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود پڑھو۔

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم وبارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد۔

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے راضی ہو جا،  تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہوجا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، اورکرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! کفر اور تمام کفار کو ذلیل کردے ، یا اللہ! اپنے اور اسلام کے تمام دشمنوں کا غارت فرما،یا ذالجلال والاکرام!

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں بخش دے، یا اللہ! ہمارے اگلے پچھلے، خفیہ اعلانیہ، اور جن گناہوں کو تو ہم سے زیادہ جانتا ہے، سب کو معاف فرمادے، تو ہی آگے بڑھانے اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

یا اللہ! ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں، لہذا ہمیں ایک لمحے کیلئے بھی تنہا مت چھوڑنا، اور ہمارے تمام معاملات سیدھے فرما دے، یا اللہ! ہمارے تمام معاملات سیدھے فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم وسوسوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا اللہ! ہم وسوسوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا اللہ! ہم اختلافات سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا اللہ! ہمارے امور آسان فرما، اور ہماری شرح صدر فرما۔

یا اللہ! تمام معاملات کے نتائج ہمارے لئے بہتر فرما دے، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت کا اور جنت کے قریب کرنے والے اعمال کا سوال کرتے ہیں، اور ہم جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے ہر عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! تمام فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! انکے گناہوں کو مٹا دے، اور ان سے در گزر فرما، یا اللہ! انکی نیکیوں میں اضافہ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! اپنے دین، قرآن، اور سنت نبوی کو غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کے ظلم کا خاتمہ فرما، یا اللہ! مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کے ظلم کا خاتمہ فرما، یا اللہ! مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کے ظلم کا خاتمہ فرما،یا رب العالمین! یا اللہ! شریر لوگوں کے شر سے انہیں محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو سچی توبہ نصیب فرما، یا اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو دین کی سمجھ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں اپنی اطاعت گزاری میں مشغول ، اور اپنی نافرمانی سے دور رکھ، یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ! گمراہ کن فتنوں سے ہمیں محفوظ رکھ، یا اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو گمراہ کن فتنوں سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو گمراہ کن فتنوں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو گمراہ کن بدعات سے محفوظ فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا فرما، یا اللہ! آپس میں جھگڑے ہوئے افراد میں صلح صفائی فرما دے، اور انہیں سلامتی کے راستے دکھا، اور انہیں اندھیروں سے نکال کر اجالے میں لے آ، اور انکی تیرے اور اپنے دشمنوں کے خلاف مدد فرما، یا رب العالمین! یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ! ہمیں اپنے نفس کے شر سے محفوظ فرما، اور ہمیں اپنے گناہوں کے شر سے بھی محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں ہر شریر کے شر سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ رکھ، یا اللہ! مسلمانوں کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ رکھ، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہمارے ملک اور تمام اسلامی ممالک کو امن و امان کا گہوارہ بنا، خوشحال اور مستحکم  بنا، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کی ہر بد اور شر چیز سے حفاظت فرما۔

یااللہ! ہمیں ہمارے علاقوں میں امن و امان نصیب فرما، اور ہمارے حکمرانوں کو صحیح فیصلوں کی توفیق دے۔

یا اللہ! اپنے بندے خادم الحرمین الشریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! اُسکی تیری مرضی کے مطابق  راہنمائی  فرما، اور اسکے تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، یا اللہ! ہر اچھے نیکی کے کام کی انہیں توفیق دے، یا اللہ! اسے صحت یاب بھی فرما، اسکے دونوں ولی عہد کو بھی اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور انکی اپنی مرضی کے مطابق راہنمائی فرما، اور انہیں اسلام و مسلمانوں کیلئے سود مند کام کرنے کی توفیق دے،بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ ! ہم دنیا اور آخرت کے ہر شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی سے نواز، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھ۔

یا اللہ! تمام مسلم نوجوانوں کو ہدایت نصیب فرما، یا اللہ! تمام مسلم نوجوانوں کو ہدایت نصیب فرما۔

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو سنت نبوی پر عمل پیرا ہونے والا بنا دے۔

یا اللہ! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد گمراہی میں نہ جانے دے، اور ہمیں اپنی رحمت  کے صدقے خوب نواز، بیشک توہی بہت زیادہ نوازشیں کرنے والا ہے۔

اللہ کے بندو!

}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (90) وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ{ اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کاحکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو[90] اور اللہ تعالی سے کئے وعدوں کو پورا کرو، اور اللہ تعالی کو ضامن بنا کر اپنی قسموں کو مت توڑو، اللہ تعالی کو تمہارے اعمال کا بخوبی علم ہے [النحل: 90، 91]

اللہ عز وجل کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنائت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

ملاحظہ کیا گیا 3955 بار آخری تعدیل الخميس, 01 تشرين1/أكتوير 2015 09:15

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم