بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الأربعاء, 08 نيسان/أبريل 2015 00:00

تصویر کشی اور ویڈیو بنانے کے خطرات

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر صلاح البدیر حفظہ اللہ ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل


 تصویر کشی اور ویڈیو بنانے کے خطرات

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو خالق اور بیمثال پیدا کرنے والا، اور شکلیں بنانے والا ہے، اسی نے ہماری خوبصورت شکلیں بنائی ہیں، اور ہر چیز کو بہترین اور اچھے انداز سے بنایا ہے،  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اسی نے آسمان وزمین کو حق کیساتھ پیدا کیا، اور ہماری صورتیں بنائیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمداسکے بندے ،اور رسول ہیں ، وہی نذیر وبشیر اور سراج منیر ہیں ،اللہ تعالی ان پر، انکی اولاد ، اور بلند قدر و منزلت صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔

اللہ سے ڈرو، کہ تقویٰ الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اسکی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے، اسی کا اللہ تعالی نے ہمیں حکم بھی دیتے ہوئے فرمایا: }يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ{ اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔[آل عمران: 102]

حمد و صلاۃ کے بعد، مسلمانو!

انسان کے بنائے ہوئے تصویر کشی کے جدید  آلات خطرات اور تاثیر  کے لحاظ سے خطرناک ہیں، جن سے حال اور ماضی کو محفوظ کر لیا جاتا ہے، اور جب چاہیں اسے دوبارہ اصلی حالت میں دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

احادیث میں انسان ہو یا کوئی اور ہر ذی روح کی تصویر کشی کو حرام قرار دیا گیا ہے، تصاویر کو مٹانے کا حکم ، اور مصورین پر لعنت  کی گئی ہے، اسی طرح قیامت کے روز سخت ترین عذاب بھی  انہی کو ملے گا۔

چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کےدن سخت ترین عذاب مصورین کو ہی دیا جائے گا)متفق علیہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: (ہر مصور کو جہنم میں ڈالا جائے گا، پھر اسکی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے ایک جاندار پیدا کیا جائے گا جو اُسے جہنم میں عذاب دیگا)مسلم

ابو الھیاج اسدی کہتے ہیں کہ مجھے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تمہیں اسی مہم پر روانہ نہ کروں جس پر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ؟ اور فرمایا تھا:  (سب تصاویر کو مٹا دینا، اور ہر اونچی قبر کو برابر کردینا)مسلم

ابو جحیفہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  سود کھانے اور کھلانے والے، گودنے والی اور گودوانے والی ، اور مصور پر لعنت کی۔بخاری

مفتیان عظام اور فقہائے کرام کے ہاں تصویر کے بارے میں مختلف تفصیلات  ہیں کہ کونسی قسم اس میں داخل ہوتی ہے اور کونسی داخل نہیں  ہوتی۔

لیکن سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ تصاویر کو حقوق و حدود،  معاشرتی اقدار، آداب واحکام کو پامال کرنے کیلئے استعمال کرنا حرام ہے، چنانچہ تصاویر  کو گھٹیا اور غلط مقاصد کیلئے استعمال کرنا کسی صورت میں اخلاقیات اور امانتداری سے تعلق نہیں رکھتا۔اور یہ کام سنگین ترین جرم ہے جسکا ارتکاب گھٹیا، خبیث، خائن، اور بے مروّت لوگ ہی کرتے ہیں۔

اسی ضمن میں گندی تصاویر اور ویڈیو کلپس کی ترویج و نشر و اشاعت شامل ہے۔

ایسے ہی خفیہ کیمروں کے ذریعے اجازت کے بغیر کسی کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر بے عزتی، شہرت کو ٹھیس پہنچانے، یا اسے ہراساں کرنے کیلئے نشر کرنا بھی اسی میں شامل ہے۔

بعینہٖ کسی کا مذاق اڑانا، کسی کو ذلیل کرنا، یا کسی ملک ، نسل، پیشہ ، لباس، جسمانی وضع، لہجہ،یا خاندان  کی  ساکھ  کو ٹھوکر لگانابھی اسی کا حصہ ہے۔

یا پھر ویڈیو یا آڈیو کلپس کے ذریعے منافرت، عنصریت، دشمنی  کو ہوا دینا،  اور معاشرے میں جاہلوں والی قبائلی منافرت کا بیج بونا  بھی ان لوگوں کا ہدف ہوسکتا ہے۔

بالکل اسی طرح غُل غپاڑہ، اور ملکی امن وسلامتی کو داؤ پر لگانے کا مقصد بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔

تصویر کشی کی قبیح ترین صورت خواتین اورنوجوان لڑکیوں کی شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے موقع ہر کی جانی والی ٖفوٹو گرافی ہے، جنہیں دیکھ کر آنکھیں اپنا شکار کرتی ہیں، اور انکے بارے میں زبان درازی کی جاتی ہے۔ اور یہ بات -اللہ کی قسم !-بہت ہی بری اور دل جلانے والی ہے۔

بڑی مصیبت یہ بھی ہے کہ: کچھ خواتین اور نوجوان لڑکیاں اپنی تصاویر سہیلوں کو بھیجتے ہوئے خیال نہیں کرتیں، بلکہ بسا اوقات سرپرست  کی اجازت کے بغیر ہی منگیتر کو بھی بھیج دیتی ہیں، جو کہ ہر بنت حوّا کی عفت، پاکدامنی، عزت، شرف سے متصادم ہے، یہ کام کم عقل ، غافل اور سادہ لوح لڑکیاں ہی کرتی ہیں۔

کچھ بد بخت لوگ خود اپنی غیر اخلاقی ویڈیو بنا کر نشر کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالی نے اسکا گناہ چھپا رکھا تھا لیکن اس نے خود گناہ کو بے نقاب کردیا۔

ان سب سے بڑ ھ کر اب تو مُردے، مریض، اور شرعی حدود یا تعزیری سزا پانے والے مجرم لوگ بھی تصویر کشی اور تشہیر سے محفوظ نہیں رہے۔

کیسا عجیب فتنہ ہے کہ جس کی وجہ سے دل ٹیڑھے، عقل ماند، اور پورے کے پورے معاشرے ڈگمگا گئے ہیں۔

ذلت آمیز تصاویر کو نشر کرنے والو! تم نے بری چیزوں کو نشر کیا، لوگوں کو تکلیف دی، اور زمین پر فتنہ پروری میں مبتلا ہوگئے ہو، اگر تم نے تو بہ نہ کی تو  مہلک سزا پانے کیلئے تیار رہو، {إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ} حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے [الفجر : 14]اس سے کوئی نہیں بچ سکتا اور نہ ہی کوئی اسے عاجز کرسکتا ہے، عنقریب تجھ سے تیرا رب براہِ راست مخاطب ہوگا کوئی ترجمان  درمیان میں نا آئے گا، اللہ تعالی تمہاری سب کارستانیوں کے بارے میں پوچھے گا! اس وقت کیا جواب دیگا!؟کیا عذر پیش کریگا؟!

ابن دقیق العید کہتے ہیں: "میں کوئی بھی بات یا کام کروں تو اللہ  کے سامنے اسکے بارے میں جواب بھی تیار کرتا ہوں"

اے فحش  تصاویر اور ویڈیو نشر کرنے والے!تمہیں اسکو دیکھنے والے، فتنہ میں پڑنے والے، تبصرہ کرنے والے ، اور  آگے نشر کرنے والے ہر شخص کا گناہ اٹھانا پڑے گا، {وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ} یہ اپنے (گناہوں کے) بوجھ تو اٹھائیں گے ہی اور ساتھ ہی دوسروں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے (جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہوگا) اور جو کچھ یہ افترا کرتے رہے قیامت کے دن اس سے متعلق ان سے ضرور باز پرس ہوگی۔ [العنكبوت : 13]

ایک مقام پر فرمایا: {لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ} تا کہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ تو پورے کے پورے اٹھائیں گے اور کچھ ان لوگوں کے بھی جنہیں وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے دیکھو! کیسا برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے [النحل : 25]

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس شخص نے کسی گناہ کی دعوت دی وہ اپنا گناہ بھی اٹھائے گا اور جس نے اسکی دعوت پر گناہ کیا اسکا گناہ بھی اٹھائے گا، اور دونوں میں سے کسی کا گناہ کم بھی نہیں ہوگا)مسلم

حرام کاموں کا ارتکاب کرنے والے!  نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی، اور گناہ بھول نہیں سکتے، جزاء وسزا کا مالک اونگھ بھی نہیں لیتا، اب تمہاری مرضی ہے جو چاہو سو کرو، لیکن جیسا کروگے ویسا بھروگے، وہی گلاس پینا پڑے گا جو تم نے بھرا تھا، اس لئے جو بیجو گے وہی کاٹو گے۔

فرمانِ نبوی ہے: (جو کسی مسلمان کی عیب جوئی کرتا ہے، تو اللہ تعالی اسکی عیب جوئی کرتا ہے، اور جس کی عیب جوئی اللہ فرمائے، اسے ضرور رسوا کریگا چاہے اپنے گھر کونے کھدڑے میں ہی چھپا ہوا ہو)

اپنے گناہوں سے توبہ کر!غلط کاری چھوڑ دے، گناہوں کی بخشش مانگ، اپنی خطاؤوں پر آنسو بہا، اور موت کے وقت سے پہلے پہلے کچھ کر لے، اور اللہ تعالی کے فرمان کو یاد رکھ: {إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کے لئے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ اور (اس کے نتائج کو) اللہ ہی بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔[النور : 19]

یا اللہ ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار فرما، یا اللہ ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار فرما، یا اللہ ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار فرما،اور ہمیں مرنے سے قبل توبہ  نصیب فرما، یا سمیع! یا قریب! یا مجیب الدعوات!

میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں تم بھی بخشش مانگو، سچی بات ہے بخشش مانگنے والے ہی کامیاب ہوگئے، اور توبہ کرنے والے ہی فائدے میں  رہیں گے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کیونکہ ہر خیر اسی کی جانب سےہے، اور ہر فضل کا وہی ماخذ ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -صلی اللہ علیہ وسلم-اللہ کے بندے ، اور رسول ہیں ، یا اللہ !اُن پر ، آل ،و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں نازل فرما۔

حمدوثناء کے بعد:

مسلمانو! ذکر حکیم میں ہے: } يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ {ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں میں سے بن جاؤ۔ [التوبة: 119]

مسلمانو!

والدین ، اساتذہ ، تعلیمی اداروں، صحافیوں ، ائمہ کرام ، علمائے کرام، خطباء ، اورقانون نافذ کرنے والے اور تفتیشی اداروں پر  یہ بہت بڑی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ عزت آبرو، دینی و اخلاقی اقدار، اورمعاشرتی امن وامان قائم رکھنے کیلئے مسلمانوں کو علم وآگہی سے روشناس کریں۔

اللہ تعالی ہر بندے سے اسکی ذمہ داری کے بارے میں پوچھے گا! حق ادا کیا ؟یا ضائع کیا؟

خیر الوری نبی رحمت پر بار بار درود و سلام بھیجو، جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں دس رحمتیں بھیجے گا۔

 

 

 

یا اللہ! ہمارے نبی اور سربراہ محمد پر رحمتیں و سلام بھیج ، یا اللہ! سنت پر عمل پیرا ، چاروں خلفاء ، ابو بکر ، عمر، عثمان، اور علی ، صحابہ کرام، تابعین عظام، اور تبع تابعین کے ساتھ ساتھ اپنے احسان اور سخاوت کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا۔

یا اللہ!اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ!اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ!اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! دشمنان دین کو تباہ وبرباد فرما۔

یا اللہ !ملک ِحرمین شریفین کا امن ، شان و شوکت اور استقرار  ہمیشہ بر قرار رکھ، یا اللہ! سارے اسلامی ممالک  کا شان وشوکت برقرار رکھ۔

یااللہ! ہمارے حکمران خادم الحرمین الشریفین کو اپنے پسندیدہ اعمال کرنے کی توفیق دے، یا اللہ !پیشانی سے پکڑ کر انکی نیکی اور بھلائی کے کاموں پر راہنمائی فرما، اچھے مشیر میسر فرما، یا اللہ! ولی عہد کو بھی ایسے کام کرنے کی توفیق دے جن میں اسلام اور مسلمانوں کیلئے بھلائی ہو۔

یا اللہ! مہنگائی، بیماریاں، سود، زنا، زلزلے، بحران، ظاہری و مخفی فتنے سب ہم سے دور کردے، یا اللہ! ہمارے ملک  سے خاص کر اور تمام مسلم ممالک سے بھی دور کردے، یا رب العالمین۔

یا اللہ! طعن وتشنیع ، طاعون، وبائی بیماریوں،سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا اللہ!  جان ، مال، اہل وعیال کے بارے میں آزمائشوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! فلسطین، شام، برما اور دیگر تمام علاقوں میں ہمارے بھائیوں کا مددگار، حامی وناصر بن جا، یا رب العالمین۔

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، مریضوں کو شفا یاب فرما، مصیبتوں میں پھنسے افراد کو عافیت دے، قیدیوں کو رہائی نصیب فرما، اور ظلم کرنے والوں کیخلاف ہماری مدد فرما، یا رب العالمین۔

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو  قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو  قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو  قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو شرف قبولیت سے نواز، یا سمیع! یا قریب! یا مجیب!

ملاحظہ کیا گیا 4192 بار آخری تعدیل الخميس, 16 نيسان/أبريل 2015 07:49

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم