بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الأربعاء, 08 نيسان/أبريل 2015 00:00

تصویر کشی اور ویڈیو بنانے کے خطرات

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر صلاح البدیر حفظہ اللہ ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل


 تصویر کشی اور ویڈیو بنانے کے خطرات

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو خالق اور بیمثال پیدا کرنے والا، اور شکلیں بنانے والا ہے، اسی نے ہماری خوبصورت شکلیں بنائی ہیں، اور ہر چیز کو بہترین اور اچھے انداز سے بنایا ہے،  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اسی نے آسمان وزمین کو حق کیساتھ پیدا کیا، اور ہماری صورتیں بنائیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمداسکے بندے ،اور رسول ہیں ، وہی نذیر وبشیر اور سراج منیر ہیں ،اللہ تعالی ان پر، انکی اولاد ، اور بلند قدر و منزلت صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔

اللہ سے ڈرو، کہ تقویٰ الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اسکی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے، اسی کا اللہ تعالی نے ہمیں حکم بھی دیتے ہوئے فرمایا: }يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ{ اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔[آل عمران: 102]

حمد و صلاۃ کے بعد، مسلمانو!

انسان کے بنائے ہوئے تصویر کشی کے جدید  آلات خطرات اور تاثیر  کے لحاظ سے خطرناک ہیں، جن سے حال اور ماضی کو محفوظ کر لیا جاتا ہے، اور جب چاہیں اسے دوبارہ اصلی حالت میں دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

احادیث میں انسان ہو یا کوئی اور ہر ذی روح کی تصویر کشی کو حرام قرار دیا گیا ہے، تصاویر کو مٹانے کا حکم ، اور مصورین پر لعنت  کی گئی ہے، اسی طرح قیامت کے روز سخت ترین عذاب بھی  انہی کو ملے گا۔

چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کےدن سخت ترین عذاب مصورین کو ہی دیا جائے گا)متفق علیہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: (ہر مصور کو جہنم میں ڈالا جائے گا، پھر اسکی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے ایک جاندار پیدا کیا جائے گا جو اُسے جہنم میں عذاب دیگا)مسلم

ابو الھیاج اسدی کہتے ہیں کہ مجھے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تمہیں اسی مہم پر روانہ نہ کروں جس پر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ؟ اور فرمایا تھا:  (سب تصاویر کو مٹا دینا، اور ہر اونچی قبر کو برابر کردینا)مسلم

ابو جحیفہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  سود کھانے اور کھلانے والے، گودنے والی اور گودوانے والی ، اور مصور پر لعنت کی۔بخاری

مفتیان عظام اور فقہائے کرام کے ہاں تصویر کے بارے میں مختلف تفصیلات  ہیں کہ کونسی قسم اس میں داخل ہوتی ہے اور کونسی داخل نہیں  ہوتی۔

لیکن سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ تصاویر کو حقوق و حدود،  معاشرتی اقدار، آداب واحکام کو پامال کرنے کیلئے استعمال کرنا حرام ہے، چنانچہ تصاویر  کو گھٹیا اور غلط مقاصد کیلئے استعمال کرنا کسی صورت میں اخلاقیات اور امانتداری سے تعلق نہیں رکھتا۔اور یہ کام سنگین ترین جرم ہے جسکا ارتکاب گھٹیا، خبیث، خائن، اور بے مروّت لوگ ہی کرتے ہیں۔

اسی ضمن میں گندی تصاویر اور ویڈیو کلپس کی ترویج و نشر و اشاعت شامل ہے۔

ایسے ہی خفیہ کیمروں کے ذریعے اجازت کے بغیر کسی کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر بے عزتی، شہرت کو ٹھیس پہنچانے، یا اسے ہراساں کرنے کیلئے نشر کرنا بھی اسی میں شامل ہے۔

بعینہٖ کسی کا مذاق اڑانا، کسی کو ذلیل کرنا، یا کسی ملک ، نسل، پیشہ ، لباس، جسمانی وضع، لہجہ،یا خاندان  کی  ساکھ  کو ٹھوکر لگانابھی اسی کا حصہ ہے۔

یا پھر ویڈیو یا آڈیو کلپس کے ذریعے منافرت، عنصریت، دشمنی  کو ہوا دینا،  اور معاشرے میں جاہلوں والی قبائلی منافرت کا بیج بونا  بھی ان لوگوں کا ہدف ہوسکتا ہے۔

بالکل اسی طرح غُل غپاڑہ، اور ملکی امن وسلامتی کو داؤ پر لگانے کا مقصد بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔

تصویر کشی کی قبیح ترین صورت خواتین اورنوجوان لڑکیوں کی شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے موقع ہر کی جانی والی ٖفوٹو گرافی ہے، جنہیں دیکھ کر آنکھیں اپنا شکار کرتی ہیں، اور انکے بارے میں زبان درازی کی جاتی ہے۔ اور یہ بات -اللہ کی قسم !-بہت ہی بری اور دل جلانے والی ہے۔

بڑی مصیبت یہ بھی ہے کہ: کچھ خواتین اور نوجوان لڑکیاں اپنی تصاویر سہیلوں کو بھیجتے ہوئے خیال نہیں کرتیں، بلکہ بسا اوقات سرپرست  کی اجازت کے بغیر ہی منگیتر کو بھی بھیج دیتی ہیں، جو کہ ہر بنت حوّا کی عفت، پاکدامنی، عزت، شرف سے متصادم ہے، یہ کام کم عقل ، غافل اور سادہ لوح لڑکیاں ہی کرتی ہیں۔

کچھ بد بخت لوگ خود اپنی غیر اخلاقی ویڈیو بنا کر نشر کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالی نے اسکا گناہ چھپا رکھا تھا لیکن اس نے خود گناہ کو بے نقاب کردیا۔

ان سب سے بڑ ھ کر اب تو مُردے، مریض، اور شرعی حدود یا تعزیری سزا پانے والے مجرم لوگ بھی تصویر کشی اور تشہیر سے محفوظ نہیں رہے۔

کیسا عجیب فتنہ ہے کہ جس کی وجہ سے دل ٹیڑھے، عقل ماند، اور پورے کے پورے معاشرے ڈگمگا گئے ہیں۔

ذلت آمیز تصاویر کو نشر کرنے والو! تم نے بری چیزوں کو نشر کیا، لوگوں کو تکلیف دی، اور زمین پر فتنہ پروری میں مبتلا ہوگئے ہو، اگر تم نے تو بہ نہ کی تو  مہلک سزا پانے کیلئے تیار رہو، {إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ} حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے [الفجر : 14]اس سے کوئی نہیں بچ سکتا اور نہ ہی کوئی اسے عاجز کرسکتا ہے، عنقریب تجھ سے تیرا رب براہِ راست مخاطب ہوگا کوئی ترجمان  درمیان میں نا آئے گا، اللہ تعالی تمہاری سب کارستانیوں کے بارے میں پوچھے گا! اس وقت کیا جواب دیگا!؟کیا عذر پیش کریگا؟!

ابن دقیق العید کہتے ہیں: "میں کوئی بھی بات یا کام کروں تو اللہ  کے سامنے اسکے بارے میں جواب بھی تیار کرتا ہوں"

اے فحش  تصاویر اور ویڈیو نشر کرنے والے!تمہیں اسکو دیکھنے والے، فتنہ میں پڑنے والے، تبصرہ کرنے والے ، اور  آگے نشر کرنے والے ہر شخص کا گناہ اٹھانا پڑے گا، {وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ} یہ اپنے (گناہوں کے) بوجھ تو اٹھائیں گے ہی اور ساتھ ہی دوسروں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے (جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہوگا) اور جو کچھ یہ افترا کرتے رہے قیامت کے دن اس سے متعلق ان سے ضرور باز پرس ہوگی۔ [العنكبوت : 13]

ایک مقام پر فرمایا: {لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ} تا کہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ تو پورے کے پورے اٹھائیں گے اور کچھ ان لوگوں کے بھی جنہیں وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے دیکھو! کیسا برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے [النحل : 25]

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس شخص نے کسی گناہ کی دعوت دی وہ اپنا گناہ بھی اٹھائے گا اور جس نے اسکی دعوت پر گناہ کیا اسکا گناہ بھی اٹھائے گا، اور دونوں میں سے کسی کا گناہ کم بھی نہیں ہوگا)مسلم

حرام کاموں کا ارتکاب کرنے والے!  نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی، اور گناہ بھول نہیں سکتے، جزاء وسزا کا مالک اونگھ بھی نہیں لیتا، اب تمہاری مرضی ہے جو چاہو سو کرو، لیکن جیسا کروگے ویسا بھروگے، وہی گلاس پینا پڑے گا جو تم نے بھرا تھا، اس لئے جو بیجو گے وہی کاٹو گے۔

فرمانِ نبوی ہے: (جو کسی مسلمان کی عیب جوئی کرتا ہے، تو اللہ تعالی اسکی عیب جوئی کرتا ہے، اور جس کی عیب جوئی اللہ فرمائے، اسے ضرور رسوا کریگا چاہے اپنے گھر کونے کھدڑے میں ہی چھپا ہوا ہو)

اپنے گناہوں سے توبہ کر!غلط کاری چھوڑ دے، گناہوں کی بخشش مانگ، اپنی خطاؤوں پر آنسو بہا، اور موت کے وقت سے پہلے پہلے کچھ کر لے، اور اللہ تعالی کے فرمان کو یاد رکھ: {إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کے لئے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ اور (اس کے نتائج کو) اللہ ہی بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔[النور : 19]

یا اللہ ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار فرما، یا اللہ ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار فرما، یا اللہ ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار فرما،اور ہمیں مرنے سے قبل توبہ  نصیب فرما، یا سمیع! یا قریب! یا مجیب الدعوات!

میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں تم بھی بخشش مانگو، سچی بات ہے بخشش مانگنے والے ہی کامیاب ہوگئے، اور توبہ کرنے والے ہی فائدے میں  رہیں گے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کیونکہ ہر خیر اسی کی جانب سےہے، اور ہر فضل کا وہی ماخذ ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -صلی اللہ علیہ وسلم-اللہ کے بندے ، اور رسول ہیں ، یا اللہ !اُن پر ، آل ،و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں نازل فرما۔

حمدوثناء کے بعد:

مسلمانو! ذکر حکیم میں ہے: } يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ {ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں میں سے بن جاؤ۔ [التوبة: 119]

مسلمانو!

والدین ، اساتذہ ، تعلیمی اداروں، صحافیوں ، ائمہ کرام ، علمائے کرام، خطباء ، اورقانون نافذ کرنے والے اور تفتیشی اداروں پر  یہ بہت بڑی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ عزت آبرو، دینی و اخلاقی اقدار، اورمعاشرتی امن وامان قائم رکھنے کیلئے مسلمانوں کو علم وآگہی سے روشناس کریں۔

اللہ تعالی ہر بندے سے اسکی ذمہ داری کے بارے میں پوچھے گا! حق ادا کیا ؟یا ضائع کیا؟

خیر الوری نبی رحمت پر بار بار درود و سلام بھیجو، جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں دس رحمتیں بھیجے گا۔

 

 

 

یا اللہ! ہمارے نبی اور سربراہ محمد پر رحمتیں و سلام بھیج ، یا اللہ! سنت پر عمل پیرا ، چاروں خلفاء ، ابو بکر ، عمر، عثمان، اور علی ، صحابہ کرام، تابعین عظام، اور تبع تابعین کے ساتھ ساتھ اپنے احسان اور سخاوت کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا۔

یا اللہ!اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ!اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ!اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! دشمنان دین کو تباہ وبرباد فرما۔

یا اللہ !ملک ِحرمین شریفین کا امن ، شان و شوکت اور استقرار  ہمیشہ بر قرار رکھ، یا اللہ! سارے اسلامی ممالک  کا شان وشوکت برقرار رکھ۔

یااللہ! ہمارے حکمران خادم الحرمین الشریفین کو اپنے پسندیدہ اعمال کرنے کی توفیق دے، یا اللہ !پیشانی سے پکڑ کر انکی نیکی اور بھلائی کے کاموں پر راہنمائی فرما، اچھے مشیر میسر فرما، یا اللہ! ولی عہد کو بھی ایسے کام کرنے کی توفیق دے جن میں اسلام اور مسلمانوں کیلئے بھلائی ہو۔

یا اللہ! مہنگائی، بیماریاں، سود، زنا، زلزلے، بحران، ظاہری و مخفی فتنے سب ہم سے دور کردے، یا اللہ! ہمارے ملک  سے خاص کر اور تمام مسلم ممالک سے بھی دور کردے، یا رب العالمین۔

یا اللہ! طعن وتشنیع ، طاعون، وبائی بیماریوں،سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا اللہ!  جان ، مال، اہل وعیال کے بارے میں آزمائشوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! فلسطین، شام، برما اور دیگر تمام علاقوں میں ہمارے بھائیوں کا مددگار، حامی وناصر بن جا، یا رب العالمین۔

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، مریضوں کو شفا یاب فرما، مصیبتوں میں پھنسے افراد کو عافیت دے، قیدیوں کو رہائی نصیب فرما، اور ظلم کرنے والوں کیخلاف ہماری مدد فرما، یا رب العالمین۔

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو  قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو  قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو  قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو شرف قبولیت سے نواز، یا سمیع! یا قریب! یا مجیب!

ملاحظہ کیا گیا 1710 بار آخری تعدیل الخميس, 16 نيسان/أبريل 2015 07:49

جدید خطبات

خطبات

  • نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    حمد و صلاۃ کے بعد: کتاب اللہ بہترین  کلام ہے، اور سیدنا محمد ﷺ  کا طریقہ سب سے بہترین طریقہ ہے، دین میں شامل کردہ خود ساختہ امور بد ترین امور ہیں، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ۔ اللہ کے بندو میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی نے پہلے گزر جانے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کو  اسی کی نصیحت فرمائی ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور یقیناً ہم نے تم سے پہلے کتاب دیئے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131] مسلم اقوام! وقت کا تیزی سے گزرنا عظیم نصیحت ہے، دنوں کا آ کر چلے جانا بہت بڑی تنبیہ ہے، {إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ} بیشک رات اور دن کے آنے جانے  میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں متقی قوم کیلیے نشانیاں ہیں۔[يونس: 6] اللہ کے بندو! ہم نے چند دن پہلے  مبارک مہینے ،نیکیوں  اور برکتوں کی عظیم بہار کو الوداع کہا ہے،  یہ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    ﷽ فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 30 -شعبان-1438  کا خطبہ جمعہ  بعنوان " عبادات کا مہینہ ماہ رمضان" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ انسان نیکی کرے یا بدی اس کا نفع یا نقصان صرف انسان کو ہی ہوتا ہے وہ اپنی بدی سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، چنانچہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے خصوصی فضیلت بخشی  اور اس ماہ میں تمام تر عبادات یکجا فرما دیں ، اس مہینے میں نماز، روزہ، عمرے کی صورت میں حج اصغر، زکاۃ ، صدقات و خیرات اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت میں خصوصی دروازہ ہے اور ہر نیکی کا بدلہ اس کی نوعیت کے مطابق دیا جائے گا بالکل اسی طرح گناہ کا بدلہ بھی اسی کے مطابق ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ: آپ ﷺ شعبان کے آخر میں رمضان کی خوشخبری دیتے تھے، نیز رمضان سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ   اور حقوق العباد کی ادائیگی استقبالِ رمضان میں شامل ہے، نیز روزے کے دوران جس قدر مختلف نیکیاں قیام، صیام، صدقہ، خیرات، غریبوں کی مدد، کسی کا ہاتھ بٹانا وغیرہ کی جائیں تو ان…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 16-شعبان- 1438  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "شکر،،، نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  کہا کہ شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ اور دوام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق شکر گزاروں کو مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، انہوں نے کہا کہ نعمتوں کا صحیح استعمال  اور گناہوں سے دوری  دونوں کا نام شکر ہے، اگر اللہ کی نعمتوں پر تکبر اور گھمنڈ کیا جائے تو یہ صریح ناشکری ہے اور نعمتوں کے زائل ہونے کا پیش خیمہ ہے، کسی فاسق و فاجر کو نعمتیں حاصل ہوں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور اللہ تعالی ڈھیل کو اچانک ختم   فرماتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرعی احکامات سے بچنے کیلیے حیلے بہانے تلاش کرنا فاسق لوگوں کا وتیرہ ہے، جبکہ مومن  کا اخلاق اس سے کہیں بلند ہوتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قناعت پسندی شکر گزاری کا سبب بنتا ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہ ہو تو وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے،  آخر میں …
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ﷽ پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم