بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 26 آذار/مارس 2015 00:00

حقیقی لذت ... عبادت کی لذت

مولف/مصنف/مقرر  بد الباری بن عواض الثبیتی، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبد الباری بن عواض الثبیتی حفظہ اللہ نے  07- رمضان- 1435کا خطبہ جمعہ " حقیقی لذت ... عبادت کی لذت" کے موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں روحانی اور مادی لذت کا ذکر کرتے ہوئے اصل لذت کی حقیقت بیان کی، اور بتلایا کہ روزہ، انفاق فی سبیل اللہ، قیام اللیل، تعلیم و تعلّم، اور دیگر عبادات کی اپنی ایک لذت ہے جو اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کو ہی عنائت فرماتا ہے۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، تمام تعریفات اللہ کیلئے ہیں، جس نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اسی کیلئے ہے، سوائے  روزے کے بیشک روزہ میرے لئے ہے، اور میں ہی اسکا بدلہ دونگا، اسی کی حمد بیان کرتا ہوں، اور شکر بجا لاتا ہوں، اسی نے فرمایا: {وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ} اور اللہ تعالی کے ہاں بہترین  اجر[ملے گا]۔ [آل عمران : 195] ،  اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، جس نے فرمایا: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} اور جو شخص گناہ یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے ؛ پھر اللہ تعالی سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ تعالی کو بخشنے والا، اور نہایت رحم کرنے والا پائے گا۔[النساء : 110]  اور میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے اور رسول  ہیں، آپ کا فرمان ہے: (روزہ ڈھال ہے)،اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل پر، اور صحابہ کرام پر رحمتیں  نازل فرمائے ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی کی نصیحت کرتا ہوں ، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جیسے پہلے لوگوں پر کئے گئے تھے، تا کہ تم متقی  بن جاؤ۔[البقرة : 183]

انسان لذیذ چیزوں سے لذت  حاصل کرتا ہے، اور لطف حاصل کرنے والی اشیاء سے لطف اندوز ہوتا ہے؛ لیکن یہ  تمام لذتیں، عارضی اور فانی ہیں؛ بلکہ کچھ  تو  پشیمانی میں بدل جاتی ہیں۔

حقیقی لذت   روحانی ، قلبی، اور عبادت کی لذت ہے، جو کہ ایک مسلمان کو سعادت کے اعلی مقام تک پہنچا دیتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (اُس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا  جو  اللہ کے رب، اسلام کے دین، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی و رسول ہونے پر راضی ہوگیا)، یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بتلایا: کہ ایمان کا  ذائقہ ہے، اور دل اس ذائقے کو چکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسے زبان کھانے پینے کی اشیاء کو چکھ سکتی ہے۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:  (تین چیزیں جس شخص میں پائی جائیں؛ وہ ایمان کی مٹھاس پا لیتا ہے)، [یعنی] ایمان کی مٹھاس اور لذت ہے؛ جسکی وجہ سے دل خوش، نفس مطمئن، اور روح مانوس ہوتی ہے۔

چاہے انسان کے پاس ساری مخلوقات  کی تفریحی اشیاء ہوں لیکن  اسی لذت کی بنا پر انسان حقیقی طور پر فائدہ ، اور سرمدی خوشی حاصل کرتا ہے؛ اسی لذت میں دلی اصلاح ، فلاح، خوشی، سرور، اطمینان، اور سکون  [مضمر]ہے؛ کیونکہ اسی میں بندے کو اللہ کی ضرورت ہوتی  ہے، اس لئے کہ وہی اسکا معبود و محبوب ہے۔

اللہ کی عبادت کے علاوہ دنیاوی ہر لذیذ چیز  کی لذت صرف ایک بار ہوتی ہے، اسکے بعد زائل ہوجاتی ہے، کیونکہ عبادت الہی کی لذت تین مرتبہ حاصل ہوتی ہے، 1) عبادت کے دوران، 2) بعد میں  جب کبھی آپکو اپنی عبادت  یاد آئے، 3) جس وقت آپکو اسکا ثواب دیا جائے گا۔

جس وقت دل عبادت الہی، اور اخلاص کا مزہ چکھ لے تو دل کو کسی بھی چیز کی مٹھاس اور لذت اچھی ہی نہیں لگتی ۔

حُب الہی، اور محبوبِ الہی اشیاء کے ذریعے  قربِ الہی حاصل کرنے  پر دلوں کو کامل لذت، اور لا متناہی خوشی  حاصل ہوتی ہے۔

سلف صالحین میں سے کسی نے عبادت، اطاعت، اور مناجات  الہی  سے پر سرور ہو کر کہا: "میری ایسی کیفیت تھی کہ جس کے متعلق میں کہتا ہوں: اگر جنت والے بھی اسی کیفیت میں ہوں تو بلاشبہ وہ اچھی زندگی میں ہونگے"

اور کسی نے ایمان کی وجہ سے دلی سرور اور  خوشی بیان کرتے ہوئے کہا: "دل پر کچھ ایسے لمحات بھی گزرتے ہیں، جن میں دل جھوم اٹھتا ہے، اور دنیا میں نعمتِ ایمان و معرفت جیسی اخروی کوئی نعمت نہیں ہے"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نفسانی راحت، اور آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں پاتے تھے، آپ نے فرمایا: (میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے)

قیام اللیل کی بھی اپنی ایک لذت ہے؛ جس کی مٹھاس رات کو قیام کرنے والے  لوگ بیان کرتے ہیں؛ چنانچہ سلف میں سے کسی نے کہا: "رات کے آنے پر میں بہت خوش ہوتا ہوں؛ کیونکہ میری روح  رات کو محبوب سے مناجات ، اور محبوب کے سامنے عاجزی و انکساری کیساتھ لذت  حاصل کرتی ہے، اور آنکھیں ٹھنڈک حاصل کرتی ہیں، اور فجر طلوع ہونے پر  غمگین ہو جاتا ہوں، کیونکہ دن کے وقت اُس سے دور ہو جاتا ہوں"

تلاوتِ قرآن کی بھی لذت ، چاشنی، اور جمال وجلال ہے؛  کیونکہ کلامِ الہی زبان سے پڑھی جائے تو کانوں  میں آواز پڑنے سے نفس میں خشوع ، دلوں میں نرمی، اور اعضاء خشیت و خشوع، محبت و پیار کے باعث  پر سکون  ہو جا تے ہیں۔

[کیونکہ] محبت کرنے والوں کے ہاں محبوب کیساتھ باتیں  کرنے سے بڑھ کر کوئی چاشنی والا کام نہیں ہے؛ محبوب کیساتھ گفتگو  انکے دلوں  کی بہار، مطلوب و مقصود ہے، محبوب سے گفتگو کرتے ہوئے دل کیسے بھر سکتا ہے!! کہ یہی تو انکا اصل ہدف ہے، چنانچہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "اگر تمہارے دل صاف ہوں تو کلام اللہ سے کبھی تمہارا دل نہ بھرے"

راہِ الہی میں خرچ کرنے کی لذت ابو دحداح  رضی اللہ عنہ نے پائی؛ جس وقت انہوں نے اپنا قیمتی ترین اثاثہ ، اللہ کی راہ میں دے دیا، اور پھر اپنی بیوی کی طرف جا کر کہا: "ام دحداح! اس باغ سے باہر آجاؤ، میں نے اس باغ کو جنت کی ایک کھجور کے بدلے میں بیچ دیا ہے" تو ام دحداح بھی یہ کہتے ہوئے کہ : "یہ تو بڑے منافع کا سودا ہے!!"  اپنے باغ سے  خوشی خوشی باہر آگئی ؛ اور اللہ تعالی نے اسے وافر اجر سے نواز ا، راہِ الہی میں خرچ کرنے کی لذت، اور ایمان کی مٹھاس  دل کو اپنے قیمتی اثاثے دیتے ہوئے  بھی خوشی و سرور  سے جھومنے پر مجبور کردیتی ہے۔

جبکہ اہل علم اور حفاظتِ دین کی ذمہ داری نبھانے والے افراد جو کہ تعلیم و تعلّم میں مصروف رہتے ہیں؛ یہ لوگ جب علم حاصل کرنے کی لذت پاتے ہیں تو راتوں کو شب بیداری ، اور سخت حالات کو بھی موم بنا لیتے ہیں، بلکہ کچھ سلف صالحین صرف ایک کتاب کی تصنیف میں چالیس سال صرف کردیتے ہیں۔

علم، اور لذتِ علم کے ذریعے ہی متعلّم فضل و کمال کے ارتقائی مراحل عبور کرتا ہے، اگر اکثر لوگوں کو علم کی مٹھاس و لذت، اور قدر و منزلت کا علم  ہوتا تو سب اسکے لئے تلواریں سونت  لیتے، لیکن اس لذت اور مٹھاس کو تکالیف کے حصار میں بند کردیا گیا ہے، اور لوگوں کو جہالت کی دیواروں نے اس لذت سے دور رکھا ہوا ہے؛ تا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس عظیم فضل کیلئے مختص کرلے۔

لذتِ ذکر بھی بے مثال ہے؛ [چنانچہ ذکر کرنے والوں کے تو] وارے نیارے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مجالس ذکر کو "ریاض الجنہ" کہا گیا ہے، لذت حاصل کرنے والوں کو ذکر الہی سے بڑھ کر کوئی لذیذ چیز نہیں  ملی، کیونکہ اس سے سستی اور عظیم لذت والی عبادت کوئی نہیں ہے، اسی طرح دل کو خوش و خرم رکھنے کیلئے بھی اس سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ہے۔

فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ} بے شک نیک لوگ یقینا بڑی نعمت میں ہوں گے [المطففين : 22] یہ نعمت  صرف قیامت کے دن کیساتھ مختص نہیں ہے، بلکہ  یہ لوگ اپنے تینوں ادوار  کے دوران نعمتوں میں رہیں گے، دنیا کی کونسی ایسی نعمت ہے جو نیک و صاف دلی، اور معرفتِ الہی و حب الہی سے بڑھ کر ہو۔

بلاشبہ یہ بات بھی سزا ،  محرومیت ، درد، اور خسارے میں شامل ہے کہ انسان کو اطاعت و عبادت کی لذت سے دور کر دیا جائے۔

ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "بنی اسرائیل کے کسی عالم  نے کہا: "یا رب! میں تیری کتنی نافرمانیاں کرتا ہوں، لیکن پھر بھی تو مجھے سزا نہیں دیتا؟!"تو اُسے کہا گیا: "میں تمہارے انجانے میں بہت سزائیں دیتا ہوں؛  کیا میں نے تمہیں  اپنی مناجات کی مٹھاس سے محروم نہیں کیا؟!!"

سلف میں سے کسی سے پوچھا گیا:  "کیا نافرمان کو بھی اطاعت کی لذت ملتی ہے؟" انہوں نے جواب دیا: "معصیت کا ارادہ کرنے والے کو بھی لذت نہیں ملتی"

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر اپنے دل میں عبادت کی مٹھاس اور خوشی نہ پاؤ تو  دل کو قصور وار ٹھہراؤ، کیونکہ اللہ تعالی قدر دان ہے۔۔۔"

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "شیخ الاسلام کی مراد یہ ہے کہ: اللہ تعالی عبادت کرنے والے کو دنیا میں دلی مٹھاس ، شرح صدر، اور آنکھوں کی ٹھنڈک کی صورت میں ضرور بدلہ دیتا ہے، اگر ایسا نہ ہو تو اسکا عمل خالص نہیں ہے"

دائمی ، ابدی، اور سرمدی لذت  وہ ہے جس میں کسی قسم کی کدورت نہ ہو، جس کے بعد تکلیف نہ آئے، جسے کوئی دکھ ، درد کم نہ کر سکے، اور ایسی لذت اخروی نعمتوں، اور اخروی ٹھکانے کی لذت ہے؛ یہی افضل اور عظیم  نعمت ہے، اسی لئے فرمایا: {وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ}اور یقینا آخرت کا اجر ان لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔ [يوسف : 57] اور فرمایا: {وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ} اور آخرت کا گھر تو کہیں بہتر ہے اور یقینا وہ ڈرنے والوں کا اچھا گھر ہے۔ [النحل : 30]

سب سے بڑی لذت، اور دائمی نعمت، رب کریم کے چہرے کو دیکھنے  کی نعمت ہے، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  دعا فرمایا کرتے تھے: (وَاَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِيْ غَيْرِ ضَرَّآءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ)

اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے صاحب عظمت اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، روزوں اور دین کی نعمت نوازنے پر میں اسی  کی تعریف اور شکر گزاری  بجا لاتا ہوں، ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے ، وہی صبر کرنے والوں کا ولی ہے، اور  میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے اور اسکے  رسول ہیں، آپکو ہدایت اور واضح نور کیساتھ مبعوث کیا گیا، اللہ تعالی آپ پر آپکی آل ، تمام صحابہ کرام پر رحمت نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: الوصف: start-iconيَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَالوصف: end-icon اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت مسلمان ہونے کی حالت میں ہی آئے۔ [آل عمران: 102]

رمضان میں  ایسی نعمتیں ، اور لذتیں ہیں جنکا کوئی ثانی اور مد مقابل نہیں ، جو دلوں کو ایمانی مٹھاس سے بھر دیتی ہیں، اور دل اطاعت  سے سرشار ہوکر  جھومنے لگتا ہے، رمضان تدبّرِ قرآن کا مہینہ ہے، قیام وصیام کی روحانی فضا کا مہینہ ہے، مناجات الہی اور خلوت  کی بہار ہے ۔

رمضان میں نرم،  آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں، اور اعضاء پر سکون ہوتے ہیں، رمضان قلب و جوارح کی دنیاوی مصروفیات ، اور زندگی کیلئے دوڑ   دھوپ کی جانب سے چھینی گئی صحت واپس لوٹا دیتا ہے،  اور نفس کی ہر قسم کی آلائش و برائیوں سے  صفائی کر دیتا ہے۔

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے وِصال سے روکا تو آپ سے کہا گیا: آپ  تو وِصال کرتے ہیں! آپ نے فرمایا: (تم میں سے میرے جیسا کون ہے؟ مجھے رات کے وقت میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے)، ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس سے مراد وہ غذا ہے جو اللہ تعالی آپکو معرفت  کے ذریعے دیتا ہے، مناجاتِ الہی کی لذت کے باعث  جو دل پر فیضان کی صورت میں ہوتی ہے، قربِ الہی کی وجہ سے جو آنکھوں کو ٹھنڈک کی شکل میں ملتی ہے، نعمتِ حُبِّ الہی ، اللہ کی جانب دلی جھکاؤ، اور ان تمام اشیاء کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی کیفیت  جو حقیقت میں دلوں کی غذا ہے ،جو روحانی  نعمت، آنکھوں کی ٹھنڈک، نفسانی ، روحانی، اور قلبی خوشی کے انداز میں ملتی ہے، جو کہ عام غذاؤں کے مقابلے میں زیادہ مفید اور اچھی غذا ہے، بسا اوقات اس روحانی غذا کی وجہ سے جسم کو مدتوں تک جسمانی غذا کی ضرورت نہیں رہتی"

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود وسلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتابِ عزیز میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ اللہ اور اس کے فرشتے  نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود  و  سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

یا اللہ! محمد  پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر رحمت  و سلامتی بھیج، جیسے کہ تو نے ابراہیم کی آل پر رحمتیں بھیجیں، اور محمد  -صلی اللہ علیہ وسلم- پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر  برکتیں نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، علی ، اور تمام صحابہ کرام و آل سے راضی ہوجا، یا اللہ! اپنے رحم و کرم اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، اور کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! یا رب العالمین! اس ملک کو اور سارے اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہر جگہ پر مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! جو دین کی مدد کرے تو اسکی مدد فرما، اور جو اسلام و مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی کوشش کرے، ان سب کو رسوا فرما۔

یا اللہ! اپنے دین، قرآن، سنت نبوی، اور اپنے مؤمن بندوں کو غالب فرما ، یا اللہ! اپنے دین، قرآن، سنت نبوی، اور اپنے مؤمن بندوں کو غالب فرما۔

یا اللہ! مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! انہیں متحد فرما دے،  یا اللہ انکے نشانے درست فرما دے، یا اللہ! انہیں متحد فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اور ہمیں ہر ایسے قول و فعل کی توفیق دے جو ہمیں جنت کے قریب کر دے، یا اللہ ہم جہنم کی آگ سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اور ہر ایسے قول و فعل سے بھی جو ہمیں جہنم کے قریب کرے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے انتہا تک ، اول سے آخر تک ، ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ ! ہم تجھ سے  فوری اور متأخر ہر بھلائی کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! اچھی چیز جانتے ہیں یا نہیں جانتے سب عطا فرما دے،  یا اللہ ! ہم تیری فوری اور متأخر ہر شر   سے پناہ چاہتے ہیں، یا اللہ! شر جانتے ہیں یا نہیں جانتے سب سے پناہ عطا فرما۔ 

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لئے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کوغلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت  آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا،  تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے، ہماری زبان کی حفاظت فرما،  اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں  ختم کر دے۔

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، اور تمام مریضوں کو شفا یاب فرما، ہمارے دکھ درد، اور تکالیف کو دھو ڈال، قیدیوں کو رہائی عطا فرما، ہمارے تمام معاملات آسان فرما، اور ہمیں کامیاب فرما، یا رب العالمین۔

یا اللہ! ہمارے کاروبار ، زندگی، اور اہل خانہ میں برکت عطا فرما، اور ہم جہاں بھی ہمیں برکت والا بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، اور اسکو اپنی راہنمائی کے مطابق توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے، یا اللہ ! انکے نائب کو بھی اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے ۔

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو نفاذِ شریعت کو توفیق عطا فرما۔

الوصف: الوصف: start-iconرَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَالوصف: الوصف: end-icon ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف  نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے [الأعراف: 23] الوصف: الوصف: start-iconرَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌالوصف: end-iconاے ہمارے پروردگا ر! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے,  اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے [الحشر: 10] الوصف: start-iconرَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِالوصف: end-icon ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

الوصف: start-iconإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَالوصف: end-icon اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنائت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی چیز ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

ملاحظہ کیا گیا 5855 بار آخری تعدیل الخميس, 06 آب/أغسطس 2015 00:13

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم