بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الإثنين, 23 آذار/مارس 2015 13:39

رحمدلی اور اسوۂِ رحمتِ عالم ﷺ

مولف/مصنف/مقرر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم : ترجمہ شفقت الرحمن مغل

 

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے29  جمادی اولی  1436 کا خطبہ جمعہ " رحمدلی اور اسوۂِ رحمت ﷺ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  کے اہم نکات یہ تھے:

٭ رحمت کی پیدائش٭ رحمت کا ذکر علم سے  بھی مقدم٭ ادائیگی حقوق کیلئے بنیاد٭ رحمدلی کب پیدا ہوتی ہے؟

٭ حصول رحمدلی کا نسخہ٭رحمدلی  نیک بختی کی علامت ٭ رحمدل جنتی لوگوں میں شامل٭ سنگدلی کب پیدا ہوتی ہے؟٭بد بختی کی علامت

٭اللہ کس پر رحم نہیں فرماتا؟٭ اہل خانہ میں سب سے زیادہ رحمدلی کے مستحق افراد٭  بہترین اولاد کی نشانی ٭ رحمدلی جانوروں کا بھی حق ہے 

٭ گناہگار اور کافر پر بھی ترس کھاؤ٭انبیائے کرام سب سے زیادہ رحمدل٭ نبی ﷺ انبیاء سے بھی زیادہ رحمدل ٭ نبی الرحمہ کون؟

٭ امت، صحابہ کرام، نوجوان، بچے، اور خواتین کے بارے میں نبی الرحمہﷺ کی رحمدلی٭ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ رحمدل؟

٭ جیسا کرو گے ویسا بھروگے٭ رحمدلی کی صحیح کیفیت٭ رحمتِ الہی حاصل کرنے کے مختصر ترین طریقے۔

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلئے ہیں، ہم اسکی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلبگار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنائت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اسکا کوئی بھی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اسکے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے؛ کیونکہ تقوی سے ہٹ کر کوئی چیز  ہمارا پروردگار قبول نہیں کرتا، اور صرف متقی لوگوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔

مسلمانو!

دین حقوق الہی اور حقوق العباد کی ادائیگی پر قائم ہے، چنانچہ  اللہ تعالی کا یہ حق ہے کہ ہم صرف اسی کی عبادت  کریں، اور کسی کو اس کے ساتھ شریک مت بنائیں، جبکہ مخلوقات  کا حق  ان پر احسان اور حسن سلوک   کا نام ہے۔

ایک عظیم  صفت  جسے اللہ تعالی نے اپنی مخلوق میں  پیدا فرمایا، چنانچہ نبی علیہ الصلاۃ  و السلام کا فرمان ہے: (اللہ تعالی نے ایک سو رحمتیں پیدا فرمائیں، اور ان میں سے صرف ایک مخلوق کو دی، اور باقی ننانوے اپنے پاس چھپا لیں) مسلم۔

اس صفت کا ذکر علم سے بھی مقدم فرمایا اور کہا: {فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا} وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا،اور اپنے ہاں سے ایک خاص علم سکھایا تھا۔ [الكهف : 65]

بلکہ اللہ تعالی اس صفت سے  متصف لوگوں کو پسند بھی  فرماتا ہے، نیز رحم دلی   سے منسلک رہنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرنے والوں  کو سراہا اور فرمایا: {ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ} پھر لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کی [البلد : 17]

اسی صفت کی بنیاد پر ادائیگی حقوق کی عمارت قائم ہے، چاہے و واجب حقوق ہوں جیسے کہ زکاۃ ، یا مستحب حقوق ہوں جیسے کہ درگزر اور صدقات ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "انسان  کیلئے ضروری ہے کہ [زکاۃ کی ادائیگی کے وقت]مطلق طور پر  لوگوں کو فائدہ اور نفع پہنچانا مقصود ہونا چاہیے"

یہی وہ رحمت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکر ارسال کیا گیا اور حقیقت میں یہ اللہ کی طرف سے عین نوازش ہوتی ہے، وہ جسے چاہے اس سے متصف فرماتا ہے، آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے ایک دیہاتی شخص میں بچوں کے متعلق رحم دلی نا پید ہونے کے بارے میں فرمایا: (میں  تمہارے کیلئے کیا کرنے کا اختیار رکھتا ہوں! کہ اللہ نے تمہارے دل سے رحمت چھین لی ہے)  بخاری

جب کبھی اللہ تعالی اپنے کسی بندے کے بارے میں خیر کا ارادہ فرما لے تو اس کے سینے میں رحم دلی ڈال دیتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ} [الفتح : 4] ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہاں سکینت سے مراد رحمت  ہی ہے۔

ہر انسان کو اس صفت میں سے اتنا ہی ملتا ہے، جتنی کسی کے نصیب میں ہدایت ہو، یہی وجہ ہے کہ کامل ترین مؤمن ہی سب سے زیادہ رحمت  کا مالک  ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ} محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)  اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں نہایت رحمدل ہیں [الفتح : 29]

اللہ تعالی نے مؤمنین کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ  وہ{ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ } وہ مؤمنین کیلئے نہایت رحمدل ہوتے ہیں۔ [المائدة : 54]  ابن عباس رضی اللہ  عنہما کہتے ہیں: یہاں آیت میں ذلت سے مراد باہمی رحمدلی ہے۔

اس صفت سے دل کو بھر پور کرنا نیک بختی کی علامت اور رحمتِ الہی حاصل کرنے کا باعث ہے، آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: (رحم کرنے والوں پر ہی رحمن رحم کرتا ہے، تم اہل زمین پر رحم کرو، تم پر آسمانوں میں موجود  ذات رحم کرے گی) ابو داود

جنت میں داخل ہونے والوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہونگے جن کے سینے ایمان کیساتھ ساتھ رحمدلی سے بھی سرشار ہونگےآپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: (جنتی تین قسم کے ہیں: 1)ایسا حکمران جو عادل، صدقہ کرنے کی توفیق پاتا ہو۔2) ایسا آدمی جو نہایت رحمدل ،تمام اقرباء اور مسلمانوں  کیلئے دردِ دل رکھنے والا ہو 3)  پاکدامن، سفید پوش، اور بال بچوں والا شخص) مسلم

سنگدلی  اسی وقت ہوتی ہے جب رحمدلی  نہ ہو، اللہ تعالی نے  سنگدل لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: {ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ }پھر تمہارے دل اس کے بعد سنگ ہو گئے [البقرة : 74] بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یعنی ان کے دل سنگلاخ اور بالکل خشک ہوگئے، دل اسی وقت  سنگلاخ ہوتے ہیں جب دل سے نرمی اور رحمدلی نکل جائے۔

اور یہی بات انسان کے بد بخت ہونے کی علامت بھی ہے، آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: (رحمت  صرف بد بخت ہی سے چھینی جاتی ہے) ابو داود

اور جو  مخلوق پر رحم نہ کرے، اللہ تعالی اس پر رحم نہیں فرماتا، آپ علیہ الصلاۃ و السلام   کا فرمان ہے: (اللہ تعالی  اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہ کرے) بخاری

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمدلی کے معمولی اظہار سے دور شخص  کی مذمت بھی فرمائی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ایک بار حسن بن علی  کا بوسہ لیا، اس وقت آپ کے پاس اقرع بن حابس تمیمی بھی بیٹھے ہوئے تھے، تو اقرع نے کہا:  "میرے دس بیٹے ہیں، میں نے ان میں سے کسی کا کبھی  بوسہ نہیں لیا" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے  دیکھا اور فرمایا: (جو کسی پر شفقت نہیں کرتا اس پر شفقت نہیں کی جاتی) متفق علیہ

ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں:" چھوٹے بچوں پر رحم کرنا، انہیں گلے لگانا، انکا بوسہ لینا، اور ان کیساتھ شگفتگی سے پیش آنا رضائے الہی اور ثواب الہی کا باعث ہے، اسی طرح چھوٹے بچوں کا بوسہ لینا، انہیں گود میں اٹھانا، انکا بھر پور خیال کرنا رحمت الہی کا موجب ہے "

انسانوں میں سب سے زیادہ  رحم دلی کے مستحق والدین ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ } اور ان پر رحم کرتے ہوئے انکساری سے ان کے آگے جھکے رہو [الإسراء : 24]

سب سے بہترین اولاد بھی وہی ہے جو اپنے والدین کیلئے رحمت  کا باعث  ہو: {فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا} لہٰذا ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس لڑکے کے بدلے انھیں اس سے بہتر  لڑکا عطاکرے جو پاکیزہ اخلاق والا اور قرابت کا بہت خیال رکھنے والا ہو [الكهف : 81]

مؤمنین کی باہمی رحم دلی انہیں ایک جسم کی طرح بنا دیتی ہے، آپ علیہ الصلاۃ و السلام   کا فرمان ہے:  (مؤمنین کو تم باہمی رحم دلی، محبت، اور انس میں ایک جسم کی طرح پاؤ گے، اگر ایک عضو تکلیف میں ہو تو پورا جسم  بے خوابی اور بخار کی سی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے) متفق علیہ

حتی کے جانوروں پر بھی رحمت کرنے کی شریعت نے بھر پور ترغیب دلائی ہے، آپ علیہ الصلاۃ و السلام   کا فرمان ہے: (تم اگر بکری پر بھی رحم کرو تو اللہ تم پر رحم کریگا) احمد

ایک مؤمن کافر پر اس لیے ترس کھاتا ہے کہ  اسے ہدایت نہیں ملی، جبکہ مؤمن نہ ہونے کے باعث اس سے بغض رکھتا ہے،  اور اگر کسی سے کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو اس کیساتھ نصیحت اور ہدایت کی دعا کے ذریعے رحمدلی کا اظہار کرے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی آدمی کو لایا گیا ، آپ نے فرمایا: (اسے مارو)، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "ہم اسے ہاتھوں، جوتوں، اور کپڑے سے مارنے لگے، اور جب آپ جانے لگے تو کسی نے کہہ دیا: "اللہ تجھے رسوا کرے" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایسی بات کر کے اس کے خلاف شیطان کی مدد مت کرو، تاہم یہ کہو:  اللہ تجھ پر رحم فرمائے) احمد

مخلوقات میں   سب سے زیادہ مشفق و رحیم  اللہ کے رسول ہوتے ہیں، انہوں نے  خلق خدا کی رہنمائی اور اصلاح کیلئے کوششیں کیں، اور اپنی امتوں کو  ہلاکت و تباہی سے بچانے کیلئے ہر حربہ آزمایا، انکی طرف سے ملنے والی تکالیف پر صبر کیا، اور ان کیلئے فوری عذاب کا مطالبہ نہیں کیا۔

ہمارے جد امجد آدم علیہ السلام  نے جب اپنی اولاد میں سے جہنمی لوگوں کو دیکھا تو اشکبار ہو گئے ، جیسے کہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام   کا قصہ معراج کے متعلق فرمان ہے:(میں نے جبریل سے کہا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ آدم ہیں،  اور ان کے دائیں بائیں  لوگ ان کی اولاد ہیں، جن میں سے دائیں جانب والے جنتی، جبکہ بائیں جانب والے جہنمی ہیں، چنانچہ آپ [آدم علیہ السلام] جب دائیں جانب دیکھتے تو  مسکراتے ہیں، اور جب بائیں جانب دیکھتے تو اشکبار ہو جاتے ہیں) متفق علیہ

ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی قوم کیلئے نہایت نرم دل تھے، اسی لیے اپنے رب سے عرض کیا: {فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} جس نے میری پیروی کی وہ یقینا میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی سو تو معاف کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے [إبراهيم : 36]

آپ کے نرم دل ہونے کا یہ عالم تھا کہ قومِ لوط کے بارے میں فرشتوں سے  الجھ پڑے، کہ انہیں ہلاک مت کریں، شاید کہ وہ ایمان لے آئیں۔

موسی علیہ السلام کو دو خواتین پر رحم آیا تو ان کے جانوروں کو پانی پلایا دیا، حالانکہ آپ اولو العزم پیغمبروں میں سے ہیں، مزید برآں کہ آپکی  رحم دلی کے اثرات  اس امت تک بھی پہنچے، کہ انہوں نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازوں میں تخفیف کیلئے اللہ تعالی سے رجوع کرنے  کی خوب  ترغیب دلائی، چنانچہ اللہ تعالی نے نمازوں کو پچاس سے پانچ تک محدود کرد یا۔

اور یحیی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے بہت ہی مہربان  بنایا تھا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا وَزَكَاةً وَكَانَ تَقِيًّا} ہم نے اسے اپنی مہربانی سے  نرم دل اور پاک سیرت بنایا اور وہ فی الواقع پرہیز گار تھے۔ [مريم : 13]

اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس آیت کا معنی یہ ہے کہ :  ہم نے انہیں اپنی طرف سے لوگوں کیلئے دلی رحمت و شفقت عنایت کی، اسی بنا پر آپ لوگوں کو  اطاعتِ الہی اور اخلاص کیساتھ نیک عمل کرنے کی دعوت دیتے تھے"

عیسی علیہ السلام بھی اپنی والدہ کیساتھ حسن سلوک  سے پیش آتے تھے، سخت مزاج اور بے رحم نہ تھے: {وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا} اور اللہ نے مجھے اپنے والدہ کیساتھ حسن سلوک کرنے والا بنایا، مجھے  سخت  دل اور بد بخت نہیں بنایا[مريم : 32]

انبیائے کرام میں سے کسی نبی کو انکی قوم نے اتنا مارا کہ لہو لہان کر دیا، لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے فرمایا: "پروردگار! میری  قوم کو بخش دے، یہ حقیقت سے آشنا  نہیں" متفق علیہ

ہمارے پیارے نبی محمد  صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوقات میں سے رحیم ترین  ہیں، بلکہ سنن نسائی کے مطابق آپکے ناموں میں "نبی الرحمہ" بھی شامل ہے۔

جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ: مشرکین پر بد دعا کر دیں، تو آپ علیہ الصلاۃ و السلام   نے فرمایا:( مجھے لعن طعن کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، بلکہ  میں رحمت بنا کر ارسال کیا گیا ہوں) مسلم

جس وقت آپ کی قوم نے سخت اذیت دی تو  پہاڑوں کے فرشتے نے سلام کرنے کے بعد کہا: "اے محمد!  اگر آپ چاہیں تو میں انہیں دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (نہیں ! بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا، جو ایک اللہ کی عبادت کرینگے اور اس کیساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے) متفق علیہ

اللہ تعالی نے آپکو ساری مخلوقات کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ} اور ہم نے آپکو جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔[الأنبياء : 107]

اللہ تعالی نے آپکو تمام جہانوں کیلئے  رحمت بنایا، چنانچہ جس شخص نے  اس رحمت  کو قبول کیا اور  اس نعمت کی قدر کی  تو  وہ دنیا و آخرت میں خوش بخت ہوگا، اور جس نے اسے مسترد کرتے ہوئے انکار کر دیا تو  وہ دنیا و آخرت میں  نقصان اٹھائے گا۔

اللہ تعالی نے آپکو مؤمنین کیلئے خصوصی طور پر رحمت بنا کر ارسال کیا ہے: {وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ} اور آپ مؤمنوں کیلئے رحمت ہیں۔[التوبة : 61]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کیلئے نہایت مشفق تھے، چنانچہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں  یہ آیت تلاوت فرمائی: {رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي} پروردگار! انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اب جو میری اتباع کرے وہ میرا ہے[إبراهيم : 36] اور عیسی علیہ السلام کا یہ مقولہ تلاوت فرمایا: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} اگر توں انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔[المائدة : 118] پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند فرمائے، اور کہا: (یا اللہ! میری امت! میری امت!)  پھر آپ زار و قطار رونے لگے، تو اللہ تعالی نے جبریل سے کہا: "جبریل! محمد کے پاس جاؤ اور پوچھو: "آپ کس لیے رو رہے ہیں؟"-تیرا  رب پہلے ہی جانتا ہے- تو جبریل علیہ الصلاۃ و السلام نے آ کر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اور آپ نے جواب دیا، یہ جواب جبریل نے اللہ تعالی کو بتلایا -اللہ کو جواب کا پہلے ہی علم تھا-، پھر اللہ تعالی نے  جبریل سے فرمایا:  "جبریل! محمد  کے پاس جاؤ اور کہہ دو: ہم آپکو آپکی امت کے بارے میں راضی کر دینگے ، آپکو ناراض نہیں کرینگے" مسلم

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "یہ حدیث  اس امت کیلئے پر امید احادیث میں سے ایک ہے، یا اس سے بڑھ کر امید والی حدیث کوئی نہیں ہے"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام  کیساتھ انتہائی مشفق تھے، چنانچہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کیلئے اپنے چند صحابہ کے ہمراہ تشریف لے گئے، جب ان کے گھر میں داخل ہوئے تو  انہیں گھر والوں نے گھیر رکھا تھا، آپ نے پوچھا: (فوت ہوگئے؟!)  تو انہوں نے کہا: "نہیں اللہ کے رسول" تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے، اور آپکو دیکھ کر سب لوگ بھی رو پڑے۔ متفق علیہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچے کو لایا گیا،  بچہ اس وقت نزع کی حالت میں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر اشکبار ہوگئے، تو سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "اللہ کے رسول یہ کیا ؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ  اسی رحمدلی کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا فرمائی ہے) متفق علیہ

آپ نوجوانوں کیساتھ بھی نہایت مشفق تھے، چنانچہ مالک بن حویرث  رضی اللہ عنہ  سے  مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم سب کے سب قریب العمر نوجوان لڑکے تھے، ہم نے آپ کے پاس بیس راتیں قیام کیا، آپ کو محسوس ہو ا کہ ہم اہل خانہ  کو یاد کر رہے ہیں، تو آپ نے ہم سے  ہمارے اہل خانہ کے پاس موجود  افراد کے بارے میں پوچھا، تو ہم نے آپکو تفصیلات سے آگاہ کر دیا، آپ بہت مشفق، اور نرم دل تھے، آپ نے فرمایا: (تم اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلے جاؤ، اور انہیں بھی دین کی تعلیمات دو، انہیں  نماز کا حکم دو، اور ایسے نماز پڑھو جیسے تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے، چنانچہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو  ایک شخص اذان دے، اور عمر میں بڑا شخص  امامت کروائے) متفق علیہ

آپ خواتین کے بارے میں بھی نہایت  نرم دل تھے، بسا اوقات آپ نماز  صرف اس لیے مختصر پڑھاتے تھے کہ  ماں اور  بچے کو مشقت  کا سامنا نہ کرنا پڑے، آپ علیہ الصلاۃ و السلام   کا فرمان ہے: ( میں نماز شروع کرتے وقت  لمبی نماز کا ارادہ کرتا ہوں، لیکن  بچوں کے رونے کی وجہ سے  نماز مختصر کر لیتا ہوں، کیونکہ مجھے علم ہے کہ اس کی ماں بچے کے رونے  کی وجہ سے شدید پریشان ہوتی ہے) بخاری

آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کیساتھ بھی نہایت مہربان تھے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "میں نے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بچوں پر مہربان  نہیں پایا"

ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دے رہے تھے کہ  حسن و حسین  رضی اللہ عنہما آ گئے، آپ دونوں  کبھی چلتے تو کبھی لڑکھڑا جاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور ان دونوں کو اٹھا کر منبر پر تشریف لے گئے، اور پھر فرمایا: (اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے کہ: {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} بیشک تمہارے اموال و اولاد فتنہ ہی ہیں[التغابن : 15] ان دونوں کو گرتے پڑتے  دیکھنے کے بعد مجھ سے رہا نہیں گیا، اور میں نے اپنی گفتگو چھوڑ کر  انہیں اٹھا لیا) احمد

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "یہ سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں کیساتھ کمال شفقت، رحمت، انس ،  پیار و محبت کی وجہ سے تھا،  بلکہ اس میں امت کیلئے بچوں کیساتھ شفقت و رحمت  کا درس بھی ہے"

اس امت میں سب سے زیادہ رحم دل  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ہیں، اللہ تعالی نے انکی مدح سرائی  میں فرمایا: {أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ} وہ کفار پر سخت اور آپس میں نہایت مہربان ہیں [الفتح : 29]

صحابہ کرام میں سب سے زیادہ مشفق ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، اللہ تعالی نے انہیں وسیع علم اور شفقت سے نوازا تھا، ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "انسان کا علم جس قدر بڑھتا جائے گا، وہ اتنا ہی مشفق ہوگا"

نیک اور نرم دل علمائے کرام  لوگوں کی رہنمائی کیلئے تگ و دو کرتے ہیں، چنانچہ مخالفت کرنے والے پر ظلم نہیں کرتے، اور نہ اس پر دست درازی کرتے ہیں۔

مسلمانو!

شریعت  میں موجود رحمت و عدل دوست اور دشمن سب کیلئے ہے، چونکہ جیسا کرو گے ویسا ہی بھرو گے، اس  لیے جو اللہ کی رحمت  کا متلاشی ہے تو وہ بھی خلق الہی پر رحم کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (یقیناً اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے صرف  رحم کرنے والوں پر ہی رحم کرتا ہے) متفق علیہ

اور جس پر اللہ رحم کر دے تو  سعادت مندی اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اور دنیا و آخرت میں اپنے مقاصد پا لیتا ہے۔

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ}احسان کا بدلہ احسان ہی ہوتا ہے۔ [الرحمن : 60]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس ذکرِ حکیم سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کہ اُس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں جس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اسکی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، اللہ تعالی اُن پر ، آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!

تکبر اور لوگوں کی تحقیر اس وقت دل سے نکل جاتی ہے جب دل میں رحم پیدا ہو، چنانچہ رحمدلی نام ہی اس چیز کا ہے کہ انسان سنگدلی ،سخت مزاجی اور  لاغر پن کے درمیان رہے۔

رحمت، و شفقت  اللہ تعالی کو پسند ہیں، بشرطیکہ دین الہی  سے متصادم نہ ہوں، مثلاً: رحم کے نام پر نفاذِ حدود  ترک کرنے کی دعوت دینا ؛ رحمت و شفقت کے منافی ہیں۔

جس وقت انسان  شبہ و شہوت سے پاک ہو  تو اسے ہدایت و رحمت حاصل ہوتی ہے، اللہ تعالی نے اصحابِ کہف کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: {فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا} تو انہوں نے کہا: پروردگار! ہمیں اپنی طرف سے رحمت سے نواز، اور ہمارے معاملے میں ہماری رہنمائی فرما۔[الكهف : 10]

حصول رحمت کے اسباب میں :والدین کیساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، صدقہ، مصیبت زدہ  اور بیمار لوگوں  پر مہربانی، مردوں کی جانب سے قبرستان کی زیارت، کثرت کیساتھ تلاوت قرآن، اور ذکر الہی شامل ہے۔

یہ بات جان لو کہ ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور  فرمایا:]إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا[ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے  کرنے والے خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یااللہ !اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ساری دنیا میں  مسلمانوں کے حالات درست فرما، یا اللہ! مسلم علاقوں  کو امن و امن کا گہوارہ بنا، یا قوی!  یا عزیز!

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر بہت ظلم ڈھائے، اگر تو ہمیں معاف نہ کرے  تو ہم خسارہ پانے والوں میں ہو جائیں گے۔

یا اللہ! تو ہی معبودِ حقیقی ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو ہی غنی ہے، ہم فقیر ہیں، ہمیں بارش عطا فرما، اور ہمیں مایوس نہ فرما۔

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے، اور اس کے سارے اعمال اپنی رضا کیلئے چن لے،  اور تمام مسلم حکمرانوں کو نفاذ شریعت اور قرآن کو بالا دستی دینے کی توفیق دے۔

اللہ کے بندو!

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَاللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو۔ [النحل: 90]

تم اللہ کو یاد رکھو جو صاحبِ عظمت و جلالت ہے وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

ملاحظہ کیا گیا 5905 بار آخری تعدیل الثلاثاء, 24 آذار/مارس 2015 11:25

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم