بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 12 آذار/مارس 2015 13:06

میڈیا کی بے لگام افواہیں اور مسلمانوں کے لئے لائحہ عمل

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ . ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

دورِ حاضر کے فتنوں کا محور میڈیاکی پھیلائے جانے والی افواہیں اور اس کی زَد میں آنے والے

 مسلمانوں کے لئے اس فتنے سے بچاو کالائحہ عمل اور میڈیائی افراد کے لئے خوفِ الہی اور ذمہ داریوں سے آشنائی پر مشتمل انمول نصیحتیں

پہلا خطبہ:

یقینا تمام  تعریفیں اللہ عز وجل کیلئے ہیں، ہم اسکی کی تعریف بیان کرتے ہوئے اسی سے مدد کے طلبگار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں اور نفسانی و بُرے اعمال کے شرسے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنائت کردے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی راہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ برحق نہیں ، اور اسکا کوئی بھی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد  اللہ بندے اور اسکے رسول  ہیں۔

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}  اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں ہی آئے۔[آل عمران : 102]

{يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}  لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان  سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے (دنیا میں) بہت سے مرد  اور عورتیں پھیلا دیں ۔ نیز اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور قریبی  رشتوں کے معاملہ میں بھی اللہ سے ڈرتے رہو ۔ بلاشبہ اللہ تم پر ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہے [النساء : 1]

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سچی بات کیا کرو۔ اللہ تعالی تمہارے اعمال درست کردیگا، اور تمہارے گناہ بھی معاف کردیگا، اور جو اللہ واسکے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی کا مستحق ہے۔ [الأحزاب: 70، 71]

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو!

میڈیا کی بے لگام پھلتی پھولتی صورت حال ، اور عالمی منظر نامے میں  سماجی اور دیگر تبدیلیوں نے  پوری دنیا کو خطرناک سماجی صورتِ حال سے دوچار کردیا ہے، اور وہ ہے افواہیں پھیلانا،  جن کے ذریعے معاشرے میں انفرادی یا اجتماعی طور پر بغیر کسی ثبوت، دلیل، اور تصدیق کے بے بنیاد خبروں کو عام کیا جاتا ہے، مزید برآں کہ ان افواہوں کو شکوک و شبہات سے بھر پور حالات میں پھیلایا جاتا ہے،انہی افواہوں کی وجہ سے  قوم ، ملک اور معاشروں پر منفی اثرات  خوف، شور و غوغہ، اور بے چینی کی صورت میں رونما ہوتے ہیں۔

اس لئے افواہوں کے نتائج ہمیشہ برے اور غلط برآمد ہوئے ہیں، یہ کوئی تعجب والی بات نہیں ؛ کیونکہ افواہوں کی بنیاد ہی متعدد گھٹیا مقاصداور اہداف پر ہوتی ہے، جن میں خطرناک  ترین یہ ہے کہ افواہیں اسلام دشمن قوتوں کا مسلمانوں کے دین و دنیا ، امان و اقتصاد،خوشحالی و ترقی، اور حالتِ امن و جنگ کے خلاف انتہائی مؤثر ہتھیار ہے، ان افواہوں کو بالخصوص عصرِ حاضر میں گھٹیا اہداف پانے کیلئے مناسب حالات، اور ذرخیز مٹی  دیکھ کر  ہی بویا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ افواہیں دو رُخی ، اور ڈرپوک لوگوں کی طرف سے پھیلائی جاتی ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا [60] مَلْعُونِينَ }  اگر منافقین ، اور جن کے دلوں میں خرابی ہے اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اٹھا کھڑا کریں گے ، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے[60] ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی۔ [الأحزاب : 60-61]

کتنی ایسی افواہیں ہیں جن کی وجہ سے امت اسلامیہ کا جسم چھنّی ہوا،  اور دشمن مسلمانوں کو ضرر رسانی  جیسے گھٹیا اہداف پانے میں کامیاب رہے۔

اسی لئے شریعتِ اسلامیہ نے معاشرتی تحفظ کو دوام بخشنے کیلئے ہر نقصان دہ و ضرر رساں چیز کے بارے میں واضح تعلیمات دیں،کہ ان افواہوں اور جھوٹی خبروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کیلئے  قلمدان و زبان کی حفاظت کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا: {وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا} کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو، یقینا آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے [الإسراء : 36]

کتاب وسنت نے جھوٹ کی تمام اقسام کو سختی کیساتھ  ممنوع قرار دیا  ہے، مثلاً: خبر میں جھوٹ کے اندیشہ کے باوجود آگے پھیلانا، یا اندازوں اور تخمینوں  کو بنیاد بنا کر نشر کرنا ، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہمیشہ سچے لوگوں کیساتھ رہو[التوبة : 119]

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یقینا جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتے ہیں) متفق علیہ

مسلمان بھائیو!

بغیر تصدیق   خبروں کو آگے پھیلانا شرعی طور پر منع ہے، فطرت اور عرفِ عام دونوں کے اعتبار سے ناپسندیدہ بھی ہے، کتنی ہی ایسی خبریں ہیں جو بغیر کسی ثبوت و تصدیق کے پھیلائی گئی اور انکی وجہ سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، اسی لئے ہر مسلمان کو تصدیق کے بغیر  کوئی بھی خبر نشر کرنے سے یکسر منع کیا گیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:  {مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ} وہ منہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے[ق : 18]

ہمارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کسی آدمی کے جھوٹے ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے نشر کردے) مسلم

ایک روایت میں ہے : (انسان کے گناہگار ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے نشر کرے)

مسلمانو!

اپنے آپ کو ایسی خبروں کے پھیلانے سے بچاؤ  جن  کا کوئی ثبوت نہیں ، جن کے درست ہونے کے کوئی شواہد نہیں؛ کیونکہ یہ بھی جھوٹ بولنے اور نشر کرنے کی ایک قسم ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے متقی بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ} مؤمن لوگ جھوٹ  میں شریک نہیں ہوتے[الفرقان : 72]

اورایک صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کیا میں تمہیں اکبر الکبائر گناہ کے بارے میں نہ بتلاؤں)صحابہ نے کہا: کیوں نہیں ! اللہ کے رسول!آپ نے فرمایا: (اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا) آپ یہ بات کرتے ہوئے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، پھر آپ سیدھے ہوگئے، اور فرمانے لگے: (جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا بھی اسی میں شامل ہے)  آپ یہ بات بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کاش آپ خاموش ہو جاتے۔

چنانچہ غلط خبریں ، اور بے لگام باتیں نشر کرنا مسلمانوں کیساتھ دھوکہ اور فراڈ میں شامل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں) متفق علیہ

بے سر وپا خبریں نقل کرنا، اور پھیلانا، صحیح بخاری و مسلم  کی حدیث کے مطابق ہر حالت میں ممنوع قیل وقال میں سے ہیں، جیسے کہ مسلم  نے ابو ہریرہ سے مرفوعاً یہ بھی نقل کیا ہے کہ: (تمہارے لئے قیل وقال، کثرتِ سوال، اور ضیاعِ اموال منع کیا گیا ہے)

اے مسلم! اپنی زبان کی حفاظت کرو، اپنے قلم و قرطاس کو بے بنیاد خبریں نشر کرنے سے بچاؤ گے تو سلامتی پاؤ گے، وگرنہ واضح  گناہ، اور عظیم بہتان کے مرتکب قرار پاؤ گے، جنکا آپکو دنیا میں کوئی فائدہ ہوگا، بلکہ دینی تشخص پامال ہوگا۔

سنن ابو داود میں صحیح سند کیساتھ فرمانِ نبوی ہے: (بد ترین تکیہ کلام "لوگ یہ کہتے ہیں" ہے) جبکہ صحیح مسلم میں ہے: (جو شخص جان بوجھ کر کوئی مشکوک خبر بیان کرے، تو وہ بھی جھوٹے لوگوں میں شامل ہے)

اسلامی بھائیو!

ایک مسلمان کا افواہوں اور بے بنیاد خبروں کے بارے میں ٹھوس موقف اور فیصلہ  یہی ہے کہ منہج الہی و طریقہ نبوی  کو تھام لے، اور وہ اس آیات میں ذکر ہوا ہے: {وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ [14] إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ} جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی چلی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کی متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا ۔ تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی [14] کیوں نہ اسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ " ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا، سبحان اللہ! یہ تو ایک بہتان عظیم ہے!"[النور : 15-14]

اسی طرح  سورہ نساء میں فرمایا: {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا}اور جب کوئی امن کی یا خطرے کی خبر ان تک پہنچتی ہے تو اسے فوراً اڑا دیتے ہیں ۔ اور اگر وہ اسے رسول یا اپنے کسی ذمہ دار حاکم تک پہنچاتے تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجاتی جو اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں، اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو چند لوگوں کے علاوہ سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔ [النساء : 83]

اے مسلم! آپکا ٹھوس موقف  یہی ہے کہ آپ  تصدیق اور تحقیق  کا منہج اپناؤ، کہ آپ بے بنیاد، غیر موثوق ذرائع سے حاصل ہونے والی خبروں کو پھیلانے میں جلدی مت کریں، اسکا ذکر اللہ تعالی نے سورہ حجرات میں فرمایا:  {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ}اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانستہ کسی قوم کا نقصان کر بیٹھو پھر تمہیں اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔ [الحجرات : 6]

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جلد بازی کے بارے میں فرمایا: (متانت اللہ کی طرف سے ہے، اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے)

حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: "مسلمان معاملات واضح ہونے تک خاموش رہتا ہے"، چنانچہ ایک مسلمان کیلئے یہ بہت بڑی سعادت ہوگی کہ جھوٹی خبریں  اور افواہیں پھیلانے  سے بچ جائے۔

پھر مسلم معاشرے پر یہ بھی ایک ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے  مسلمان بھائیوں  کے متعلق اڑائی جانے والی بے سروپا  خبروں کو مت پھیلائیں، بالخصوص نامور اور مشہور لوگوں کے بارے میں اسکا اہتمام کریں  کہ قرآنی آداب اور تعلیمات کو ملحوظ خاطر رکھیں، جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے: {لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِينٌ} جب تم نے سنا تھا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے دل میں اچھی بات کیوں نہ سوچی! اور یوں کیوں نہ کہہ دیا! کہ ''یہ تو صریح بہتان ہے'' [النور : 12] اسی طرح چند آیات کے بعد فرمایا: {وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ} کیوں نہ اسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ "ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا، سبحان اللہ! یہ تو ایک بہتان عظیم ہے!" [النور : 16]

تمام مسلمان بری باتوں، اور بے آبروکرنے والی  خبروں کو نشر  مت کریں، اسوقت عموما ہر شخص کے پاس جدید موبائل وغیرہ موجود ہیں، جنکی وجہ سے شیطان انسان کو دین ودنیا کے نقصان میں ڈال سکتا ہے، اس لئے مسلمانوں اللہ سے ڈرو، تمہیں اللہ کی اطاعت کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔

اور اس وقت تک انسان گناہوں سے نہیں بچ سکتا جب تک اپنے پورے جسم پر تقوی الہی نافذ نہیں کرتا، اور اپنے ذہن میں یہ بات نہیں ڈالتا کہ  ایک چوکس نگران اسکی نگرانی کر رہا ہے، اس قسم کی نشر و اشاعت کے بارے میں فرمان باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کے لئے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ اور (اس کے نتائج کو) اللہ ہی بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔[النور : 19]

اہل علم کا کہنا ہے کہ: اس آیت میں فحاشی  کی تمام اقسام کو کسی بھی طریقے سے نشر کرنے کے بارے میں باقاعدہ ایک ضابطہ بیان کیا گیا ہے، تا کہ ہر آنکھ، کان، اور زبان فحاشی سے محفوظ رہے، حقیقت میں انہی تعلیمات پر عمل کرنے والا معاشرہ ہی ایسا مسلم معاشرہ ہے  جس کے بارے میں اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تمام مسلمان ایسے ہی بن جائیں۔

چنانچہ مسلمانو! اگر تم دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو اللہ سے ڈرو، اور اسلامی آداب ، طریقہ نبوی اپناؤ۔

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اور ہمیں اسکے معانی و مفاہیم  سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اسی پر اکتفاء کرتا ہوں، اور اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کیلئے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش  مانگو وہ بہت ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں وہی ہمیں کافی ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں  کہ دنیا ہو یا آخرت کہیں بھی اللہ علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُسکے بندے اور رسول ہیں، آپ ہی کے ذریعے اللہ تعالی نے پردوں میں پڑے دلوں ، نابینا آنکھوں ، اور بہرے کانوں کو کھولا ، اللہ تعالی اُن پر ، اُنکی آل، اور صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں، اور سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! اللہ سے ڈرو، جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالی اسے نیک بخت بنائے گا، اور وہ کبھی بھی بد بخت نہیں ہوگا۔

مسلمانو!

افواہیں پھیلانے کا رجحان معاشروں کیلئے ناسور بن چکا ہے، جو کہ  معاشروں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، بلکہ آجکل بسا اوقات  افواہوں کو سوچی سمجھی سازشوں کے تحت منظم طریقے سے خاص اہداف حاصل کرنے کیلئے  ایسے مواصلاتی ذرائع  کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے جو بھوسے میں آگ اور روشنی و آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی کیساتھ باتوں کو نشر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس لئے تمام مسلم اقوام  کو متحد ہوکر  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ تعلیمات کے مطابق افواہوں کا مقابلہ اور جڑ سے انکا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اور اسلامی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ اللہ سے ڈریں اور خبریں نشر کرتے وقت انکی تصدیق کیلئے بہترین معیار قائم کریں، میڈیا کے لوگ  پوری امت کے بارے میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہونگے،  یہی لوگ مسلمانوں کے افکارو نظریات ، اور امن و امان کے امین اور ذمہ دار ہیں، جو اس ذمہ داری کو صحیح طریقے سے نہیں نبھائے گا وہی نا مراد وناکام ہوگا، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ}اے ایمان والو! دیدہ دانستہ اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ ہی تم آپس کی امانتوں میں خیانت کرو [الأنفال : 27]

مسلمان بھائیو!

ہمیں اللہ تعالی نے ایک بہت بڑے عمل کا حکم دیا ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام :
یا اللہ! ہمارے پیارے نبی  ، ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور سربراہ محمد  پر رحمتیں ، برکتیں اور سلامتیں نازل فرما ، یا اللہ! خلفائے راشدین ابو بکر ، عمر، عثمان ، علی ، آپکی آل، تمام صحابہ کرام، اور قیامت تک انکے راستے پر چلنے والےافراد سے راضی ہوجا۔

یا اللہ! مسلمانوں کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! تمام مسلم معاشروں کو سنت نبوی کے عین مطابق بنا دے۔

یا اللہ! جو بھی مسلمانوں کے بارے میں غلط ارادے رکھے یا اللہ! اسے اپنی جانے کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! جو بھی مسلمانوں کے بارے میں غلط ارادے رکھے یا اللہ! اسے اپنی جان لے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! مسلمانوں کو امن وامان کی دولت سے مالا مال فرما! یا اللہ! مسلمانوں کو امن وامان کی دولت سے مالا مال فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو امن وامان کی دولت سے مالا مال فرما، یا رحیم! یا رحمن!

یا اللہ!مسلمانوں کو دنیا و آخرت میں فائدہ دینے ولاے کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! ان سب کو حق پر متحد فرما دے، یا اللہ! ان سب کو حق پر متحد فرما دے، یا اللہ! جو گمراہ ہوچکے ہیں انہیں کتاب وسنت کا پیرو کار بنادے، یا اللہ! جو گمراہ ہوچکے ہیں انہیں کتاب وسنت کا پیرو کار بنادے، یا اللہ! جو گمراہ ہوچکے ہیں انہیں کتاب وسنت کا پیرو کار بنادے، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! تمام مسلمان مرد وخواتین کو معاف فرما دے، جو زندہ ہیں انہیں بھی اور جو فوت ہوچکے ہیں انہیں بھی معاف فرما۔

یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران نصیب فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران نصیب فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران نصیب فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران   کواپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عنائت فرما، اور انکے دونوں نائب کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عنائت فرما،  یا اللہ! سب کواپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عنائت فرما ۔

یا اللہ! اس ملک کی حفاظت فرما، یا اللہ! اس ملک کی حفاظت فرما، یا اللہ! اس ملک کی اور دیگر تمام ممالک کی حفاظت فرما،یا اللہ! ہمارے اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو دشمنوں کی تخریب کاریوں سے محفوظ فرما، یا اللہ! تمام اسلامی ممالک کو دشمنوں کی تخریب کاریوں سے محفوظ فرما،یا اللہ! تمام اسلامی ممالک کو دشمنوں کی تخریب کاریوں سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! مسلمانوں کے مال، جان، اور عزت آبرو کی حفاظت فرما،  یا اللہ! ہم پر اپنا کرم کرتے ہوئے خونِ مسلم محفوظ بنا دے، یا اللہ! ہم پر اپنا کرم کرتے ہوئے مسلمانوں کے مال، جان، اور عزت آبرو محفوظ بنا دے، یا حیی ! یا قیوم! یا ذالجلال والاکرام!

یا اللہ! مسلمانوں کے کچھ علاقے شورش زدہ ہیں، یا اللہ! انہیں امن و امان والا بنا دے،  یا اللہ! تو انکے حالات کو ہم بہتر جانتا ہے، یا اللہ! انکی تکالیف رفع فرما دے، یا اللہ! انکی تکالیف رفع فرما دے، یا اللہ! انکی مصیبتوں کو ٹال دے، یا اللہ! انکی مصیبتوں کو ٹال دے، یا ذالجلال والاکرام! یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمارے ملک میں بارش نازل فرما، یا اللہ! بارش نازل فرما، یا اللہ! مسلم ممالک میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما،یا اللہ! رحمت والی بارش نازل فرما، یا اللہ! رحمت والی بارش نازل فرما، یا اللہ! رحمت والی بارش نازل فرما، یا ذالجلال والاکرام! یا حیی! یا قیوم!یا غنی! یا حمید!

اللہ کے بندو!

اللہ ذکر کثرت کے ساتھ کیا کرو اور صبح و شام اسی کی تسبیحات پڑھا کرو!

ملاحظہ کیا گیا 6317 بار آخری تعدیل الإثنين, 25 حزيران/يونيو 2018 08:42

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم