بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الثلاثاء, 10 آذار/مارس 2015 12:18

نوجوانوں کیلئے نصیحتیں اور در پیش مسائل کا حل

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبد الباری بن عواض الثبیتی  حفظہ اللہ   نے مسجد نبوی میں 15- جمادی اولی- 1436کا خطبہ جمعہ " نوجوانوں کیلئے نصیحتیں اور در پیش مسائل کا حل" کے موضوع پر ارشاد فرمایا  جس کے اہم نکات یہ تھے

  • جوانی کی اہمیت
  • قرآن و حدیث میں جوانوں کے تذکرے
  •  نوجوانوں کی معاشرے میں اہمیت
  •  اہداف کی ضرورت
  •  جدید آلات کے منفی اثرات
  • طریقہ نجات
  •  شادی  کی ضرورت
  •  عقل و جوش  میں توازن
  •  آنکھوں کی حفاظت
  •  تربیت کیلئے گھرانے کا کردار
  •    وعظ و نصیحت
  •  تلاش معاش کیلئے کوشش
  • سب افضل ذریعہ معاش
  •  ہنر مندی کی عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اہمیت
  •  سفر و حضر کیلئے تعلیمات
  •  شباب اور متانت
  •  مسلم نوجوان کا دل حب الہی سے سرشار
  • غلطی پر توبہ
  •  سیاہ دل
  •  توبہ کیلئے مہلت
  •  فراوانی اللہ کی طرف سے ڈھیل بھی ہوتی ہے۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، تمام تعریفیں میرے رب کیلئے ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں، اسی پر میں توکل کرتا ہوں، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور نعمتِ صحت و شباب پر اسی کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں،  اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کے حکم کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، وہ بہت تیزی کیساتھ حساب لینے والا ہے،  اور میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے  اور رسول  ہیں، آپ نے فسق اور گالی گلوچ سے منع فرمایا، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور  عقل و دانش رکھنے والے صحابہ کرام پر رحمتیں  نازل فرمائے  ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی کی نصیحت کرتا ہوں ، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، جیسے اختیار کرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔ [آل عمران : 102]

جوانی  زمانۂِ نشاط، عصر ِکار کردگی، اور عبادت سے لذت حاصل کرنے کا وقت ہے، تاریخ نے چند نوجوانوں کے  زندہ جاوید  رہنے والے  واقعات بھی محفوظ کیے ہیں، جنہوں نے معرفتِ الہی حاصل کی ، اور اپنے دین پر ڈٹ گئے، تو قرآن کریم نے انکا تذکرہ محفوظ کر  لیا، چنانچہ اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ} وہ کہنے لگے:" ہم نے ایک نوجوان کو ان بتوں کا ذکر کرتے سنا تھا جس کا نام ابراہیم ہے"[الأنبياء : 60]

اور اسی طرح  اصحاب الکہف کے بارے میں فرمایا: {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى [13] وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِهِ إِلَهًا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا} وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے اور ہم نے انھیں مزید رہنمائی بخشی[13]  اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت مضبوط کردیا جب انہوں نے کھڑے  ہو کر اعلان کیا کہ: "ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور الٰہ کو نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو یہ ایک بعید از عقل بات ہوگی" [الكهف :13-14]

نوجوان ہی  امت کا سرمایہ، اور مستقبل کے معمار ہیں، اسلام نے انہیں بہت اہمیت دی ہے، یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالی  اپنا سایہ نصیب فرمائے گا، جس دن اس کے سایے کے علاوہ کسی کا سایہ نہیں ہوگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ان میں ایسا نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھے بھی  شامل ہے۔

نوجوان  معاشرے پر بھر پور اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہی عزم و قوت  اور نشاط و  نو خیزی کا دوسرا نام ہیں،  ان صفات کا تقاضا ہے کہ نوجوان اپنی زندگی  کو  دانا شخص کی طرح چلائیں، اور ہر نوجوان اپنے نفس پر ضبط اور  نفسانی جولانیوں  کو تھامے،  نفس کو خیر و بھلائی کی طرف متوجہ رکھے، اور  نفس کیلئے امنگوں بھرے اہداف مقرر کرے، جن کے ذریعے   عظمتوں کے زینے چڑھتا جائے، انہی اہداف کو اپنی زندگی میں  بھر پور کردار  ادا کرنے دے، اور زمین والوں کو اپنا پیغام  پہنچائے۔

اور اگر نوجوانوں کی زندگی سے  ہدف مٹ جائے  تو زندگی رائیگاں ، اور دلچسپی  کے امور ناتمام رہتے ہیں، {وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ}یہ دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں ، اصل زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش! وہ لوگ یہ بات جانتے ہوتے۔ [العنكبوت : 64]

جوانی  میں وقت قیمتی ترین  چیز ہے،  اسی وقت میں ہر نوجوان اپنی امنگوں کے بیج بو کر اپنے اہداف حاصل کرتا ہے، جس کیلئے علم نافع، عملِ صالح، عبادت و اطاعت، اور  مفید ثقافتی چیزوں کو بروئے کار لاتا ہے، بار آور منصوبوں ،  بہترین کار کردگی پر عمل پیرا ہو کر  اپنی چال ڈھال، اور زندگی کو پروان چڑھاتا ہے، ایسا پیشہ  اپناتا ہے جو اسکی  مہارتوں کو چار چاند ،  اور روشن مستقبل کی بنیاد ڈالے۔

اور اگر کسی کی زندگی بلند  اہداف سے عاری ہو، تو اس کے ذہن میں  بیوقوفانہ باتیں آتی ہیں، اور فضول چیزوں میں مشغول ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے منحرف ہونے کے امکانات قوی ہو جاتے ہیں، کیونکہ فراغت گمراہ کن نظریات اور  برے خیالات کیلئے بڑی زر خیز زمین ثابت ہوتی ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر تم اپنے آپ کو حق  بات میں مشغول نہیں رکھو گے، تو یہ تمہیں باطل  میں مشغول کر دے گا"

خطرناک بات یہ بھی ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے صفحات  میں وقت ضائع کر دیا جائے،  جو کہ عقیدہ، سلوک ، اخلاقیات، اور خاندانی تعلقات پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، اور انسان کو  دوسروں سے کاٹ کر رکھ دیتے ہیں، اس کے منفی اثرات کسی سے مخفی نہیں ہیں۔

نوجوانوں کو دشمنانِ اسلام  کی طرف سے مکر و فریب کا سامنا ہے، اس کیلئے شہوت سے بھری حرام  چیزوں کو پیش کیا جا رہا ہے، انکے جنسی جذبات  سے کھیلتے ہوئے مسلم نوجوان کی شخصیت کو نابود ، مستقبل ضائع ، اور جوانی  تباہ کی جا رہی ہے، اسے ورطۂِ حیرت، پریشان کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، اسی طرح  بلند اہداف اور قوم و ملت کے امور سے موڑنے  کیلئے  بھر پور تگ و دو کی جا رہی ہے۔

اس صورت حال میں طریقۂِ نجات یہ ہے کہ : نفسیاتی تربیت قرآن کے ذریعے ہو، دل کو ایمانی غذا دی جائے، نیک لوگوں  کے ہم رکاب بنیں، اور نفسیاتی خواہشات کو  شرعی طریقوں کے ذریعے پورا کریں، اس سے خوشحالی و سعادت  ملے گی۔

شادی جوانوں کیلئے   فطری  ضرورت ہے، نفسیاتی راحت،  اور اخلاقی تحفظ کی ضامن ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جوانو! جو تم میں سے شادی کے خرچے کی طاقت رکھتا ہے، تو وہ شادی کر لے؛ کیونکہ شادی   شرمگاہ  کی حفاظت اور آنکھوں میں حیا پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، اور جو شادی کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ روزے رکھے، جو اس کی شہوت کمزور کر دینگے)

طاقت رکھنے کے باوجود شادی میں تاخیر کے اخلاقی، نفسیاتی، اور سماجی نقصانات ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کی دینی و اخلاقی حالت تمہیں پسند ہو تو اسے بیاہ دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین پر وسیع فتنہ و فساد بپا ہو جائے گا)

نوجوانوں کو اپنی زندگی میں عقل و جذبات کے درمیان توازن  قائم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ جوانی کی حالت میں  جذبات اور جوش کی بھر مار ہوتی ہے، اگر انہیں نورِ قرآن حکیم کے تابع نہ کیا جائے تو نوجوان کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں،  یہی وجہ ہے کہ لا واعی جو ش و جذبہ بسا اوقات  انسان کو افراط و تفریط یا انحراف و غلو میں مبتلا کر سکتے ہیں۔

جوانوں  کے پیار و محبت پر مشتمل احساسات کیساتھ تعامل کیلئے گھرانے کے اندر ہی  انس و محبت دیا جائے، انہیں  خوب لاڈ اور پیار دیا جائے، ساتھ میں  نفسیاتی تربیت کرتے ہوئے عفت، آنکھوں کی حفاظت، اور اللہ تعالی سے حیا کرنے  کی ترغیب دلائی جائے۔

چنانچہ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں استفسار کیا، تو آپ نے مجھے  نظر پھیر لینے کے حکم دیا"  ترمذی

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (علی! ایک نظر پڑ جانے کے بعد دوسری مت ڈالو، کیونکہ تمہارے لئے پہلی نظر تو ہے، لیکن دوسری نہیں ہے) ابو داود

نوجوانوں  کی مضبوط شخصی تعمیر  کیلئے  ٹھوس سبب یہ بھی ہے کہ اپنے گھر والوں کیساتھ  ان کا گہرا تعلق ہو؛ کیونکہ یہ گھرانہ اس کیلئے  ایک قلعہ اور جائے پناہ کی حیثیت رکھتا ہے، یہی وہ تربیت گاہ ہے جہاں پر نفسیاتی استحکام، سکون اور اطمینان ملتا ہے، اسی جگہ سے خیر خواہی و رہنمائی ، ایمانی غذا، اور شخصی عزت  ملتی ہے، اگر گھر والوں کے ساتھ تعلق کمزور ہو یا بالکل نہ ہو ، یا بیٹوں کیساتھ باپ کا رابطہ  بالکل کمزور ہو تو اس سے بچے  نا معلوم تربیت گاہوں کے اسیر بن جاتے ہیں، جو انکے دماغ کو  چت کر دیتے ہیں اور انہیں تباہی والی وادیوں میں گرا دیتے ہیں۔

وعظ و نصیحت نوجوانوں کی زندگی کیلئے روح ، اور دلی خوشحالی کی حیثیت رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ شخصی تعمیر کیلئے وعظ کی اہمیت کے پیش نظر قرآن نے  وعظ و نصیحت  کیلئے خوب تاکید کی ہے، چنانچہ لقمان حکیم کی اپنے بیٹے کیلئے کی ہوئی نصیحتوں  میں  ہے کہ: {وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ} جب کہ لقمان نے وعظ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا  ، بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے [لقمان : 13] اسی طرح فرمایا: {يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ  [  16]  يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ} پیارے بیٹے! اگر (تیرا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو وہ خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، اللہ اسے نکال لائے گا۔ اللہ یقینا باریک بین اور باخبر ہے [17]  پیارے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم کرو اور برے کام سے منع کرو اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کرو بلاشبہ یہ سب باتیں بڑی ہمت کے کام ہیں [لقمان : 16-17]

بطورِ ملازمت نوجوانوں کی طرف سے  زمین پر  جد و جہد اور تگ و دو، انکی شخصیت کیلئے باعث عزت، اور خاندان کیلئے باعث تکریم ہے، بلکہ    بہترین ذریعہ معاش ہے؛  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: "کونسا ذریعہ معاش اچھا ہے؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انسان کی اپنے ہاتھ کی کمائی  اور ہمہ قسم کے گناہوں سے پاک تجارت) بزار، حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

نیز نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑیاں جمع کر کے  بیچنے کو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر قرار دیا، چاہے لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔

عمر رضی اللہ عنہ  کہا کرتے تھے: "میں کڑیل جوان کو دیکھتا ہوں تو مجھے اچھا لگتا ہے، اور جب مجھے کہا جائے کہ اس کے پاس کوئی ہنر نہیں ہے! تو وہ میری نظروں سے گر جاتا ہے" اسی طرح آپ کہا کرتے تھے: "تلاش معاش  کیلئے کوئی یہ کہتے ہوئے سستی مت کرے: "یا اللہ! مجھے رزق عطا فرما" کیونکہ  تمہیں پتا ہے کہ آسمان سونا  یا چاندی نہیں برساتا"

مثبت ذہن والا نوجوان  بے روز گاری کو  پس پشت ڈال کر  کام کی نوعیت کیسی بھی ہو اس میں جُت جاتا ہے، اور کسی بھی  پیشے ، یا کام کو حقیر نہیں  سمجھتا۔

پورے معاشرے پر روز گار کے مناسب ذرائع  مہیا کرنے  ذمہ داری عائد ہوتی ہے، تا کہ نوجوان نسل کو  خود اپنے اور معاشرے کیلئے مفید فرد بنایا جا سکے۔

نوجوانوں کو سفر و حضر ، اقامت و رحلت  میں  اپنے دین پر فخر کرنا چاہیے، اپنی پہچان  قائم رکھے، اپنے عقیدے کو  بلند سمجھے، اور اپنے عقیدے  کے اظہار  سے شرم نہ کھائے، اس لئے احساسِ کمتری،  نقالی، اور غیروں  کے پیچھے چلنے سے احتراز کرے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: { وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ} اور عزت صرف اللہ، اسکے رسول، اور مؤمنوں کیلئے ہے۔[المنافقون : 8]

نوجوان کی شخصیت میں  ٹھہراؤ ایک اچھی خصلت ہے، جو کہ  ہر نوجوان کے بس کی بات ہے،  یہ صفت ایک ایسی طاقت ہے جو دانشمندی کی غمازی کرتی ہے، جبکہ  کسی کیساتھ تعامل کرتے ہوئے حدّت و جذبات  سے کام لینا،  اور سوچے سمجھے بغیر  انتقامی کاروائی کرنا  خطرناک  شیطانی عادات ہیں، ان کے نتائج نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، ان کی توانائی  کو ضائع کرتے ہیں، بلکہ بسا اوقات پورے معاشرے  کیلئے وبال بھی بن سکتی ہیں۔

نوجوانوں کیلئے  جوانی اور نشاط  کے مرحلے میں  اصول ِزندگی،  تبدیل ہوتے حالات، اور گزرتے ایام سے سبق حاصل کرنا چاہیے؛ چنانچہ  اپنی جوانی میں بڑھاپے کیلئے، اور صحت کے ایام میں بیماری کے دنوں کیلئے کچھ کر لینا چاہیے، انہیں  اپنی  حالیہ حالت سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کیونکہ  جوانی کے بعد  بڑھاپا، قوت کے بعد کمزوری، اور صحت کے بعد مرض کا خدشہ لاحق رہتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ} اللہ ہی ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں کمزور اور بوڑھا کر دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے [الروم : 54]

اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے  اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں  ، وہ بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، وہی بدلے کے دن کا مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، وہی گزشتہ و پیوستہ لوگوں کا معبود  حقیقی ہے،   اور میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے اور رسول ہیں، آپ متقی لوگوں کے ولی ہیں،  اللہ تعالی آپ پر، آپکی آل ، تمام صحابہ کرام پر رحمت نازل فرمائے ۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ}اور اللہ تعالی سے ڈور، تو اللہ تعالی تمہیں مزید تعلیم دے گا۔ [البقرة : 282]

مسلم نوجوان کا دل حب الہی  اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سر شار ہوتا ہے، چنانچہ اگر کوئی  گناہ کا کام کر بھی لے تو اسکا دل خوفِ الہی سے کانپنے لگتا ہے، اور اسے گناہ پر ندامت ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس وقت بندہ کوئی غلطی کرے، تو اس کے دل میں سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، اور اگر وہ گناہ سے ہاتھ کھینچ  کر توبہ استغفار کرے تو اس کا دل دوبارہ چمک اٹھتا ہے،  بصورتِ دیگر دوبارہ اسی گناہ کا ارتکاب کرے  تو  اسکی سیاہی مزید بڑھ جاتی ہے ، یہاں تک کہ پورا دل ہی سیاہ  بن جاتا ہے، یہی وہ "ران" ہے جس کا ذکر اللہ تعالی کے فرمان میں ہے: {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} ایسا ہرگز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کا زنگ چڑھ گیا ہے [المطففين : 14])

اور کچھ  نوجوان اپنی غلطی  کا ادراک ، اور گناہوں میں ملوّث ہونے کے باوجود توبہ نہیں کرتے، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ :"توبہ کر ہی لیں گے" یہ جملہ توبہ کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے، بلکہ یہ شیطانی عمل ہے۔

کچھ نوجوانوں کا گناہوں میں بڑھتے چلے جانا؛ انتہائی خطرناک  اور وسیع شر ہے، جبکہ عقل مند شخص اپنے آپ کو گناہوں کے چنگل سے بچا کر رکھتا ہے، اس لئے کہ گناہوں کی آگ ؛ راکھ تلے آگ کی طرح ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ بسا اوقات اللہ تعالی کی طرف سے سزا جلدی نہیں ملتی، تو کبھی موت پہلے آ جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (یقینا اللہ تعالی  ظالم کو مہلت دیتا ہے، اور جس وقت اسے پکڑے تو  پھر ایک لمحہ  کیلئے بھی نہیں چھوڑتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} اور جب بھی آپ کا پروردگار کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو اس کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے ، بلاشبہ اس کی گرفت دکھ دینے والی اور سخت  ہوتی ہے [هود : 102])

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (جب تم یہ دیکھو کہ  اللہ عز و جل  بندے کو دنیا میں  گناہوں کے باوجود اس کی من پسند چیزوں سے نوازتا ہے ، تو یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل ہے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ} پھر جب انہوں نے وہ نصیحت بھلا دی  جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے ان پر (خوشحالی کے) تمام دروازے کھول دیئے،  یہاں تک کہ جو کچھ ہم نے انہیں دیا تھا اس میں مگن ہوگئے تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا تو وہ (ہر خیر سے) مایوس ہوگئے [الأنعام : 44])

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود وسلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ اللہ اور اس کے فرشتے  نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود  و  سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

یا اللہ! محمد  پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر رحمت  و سلامتی بھیج، جیسے کہ تو نے ابراہیم کی آل پر رحمتیں بھیجیں، اور محمد  -صلی اللہ علیہ وسلم- پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر  برکتیں نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین  ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی  رضی اللہ عنہم سے راضی ہوجا،  انکے ساتھ  ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام  سے راضی ہوجا،  اور اپنے رحم و کرم، اور احسان کے صدقے  ہم سے بھی راضی ہوجا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، اور کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور سارے اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اور ہمیں ہر ایسے قول و فعل کی توفیق دے جو ہمیں جنت کے قریب کر دے، یا اللہ ہم جہنم کی آگ سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اور ہر ایسے قول و فعل سے بھی جو ہمیں جہنم کے قریب کرے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر آخر تک ، اول سے آخر تک ، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لئے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے انتہا تک ، اول سے آخر تک ، جلدی ملنے والی ہو  تاخیر سے ، ہمیں اسکا علم ہے یا نہیں ہے، ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں، اور ہم ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں، چاہے وہ شر جلدی ملنے والا ہے  یا دیر سے، ہمیں اس شر کے بارے میں علم ہے یا نہیں ہے،

یا اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت، اور  تونگری کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی  کو غلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت  آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا،  تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے، ہماری زبان کی حفاظت فرما،  اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں  ختم کر دے۔

یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال ، اور عافیت کے خاتمے سے تیری پناہ چاہتے ہیں،   اور تیری اچانک سزا  سے، تیری ہر قسم کی ناراضگی سے پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہم پر اپنی برکت، رحمت،  فضل، اور رزق کے دروازے کھول دے، یا اللہ!  ہماری عمر میں برکت فرما، ہماری بیویوں ، اولاد، کاروبار،  اور زندگی میں برکت فرما،  یا اللہ! ہم جہاں بھی رہیں ہمیں با برکت بنا،  یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے دین پر ثابت قدمی،  بھلائی پر استقامت،  ڈھیروں نیکیاں، تمام گناہوں سے تحفظ،  جنت میں داخلے، اور جہنم سے آزادی کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! غلبہ دین کیلئے کوشش کرنے والوں  کی مدد فرما، اور اسلام و مسلمانوں کو رسوا کرنے والوں کو ذلیل فرما دے۔

یا اللہ! اپنے دین، قرآن، سنت نبوی اور تیرے مؤمن بندوں کو  غلبہ عطا فرما،  یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کا حامی و ناصر بن ، یا رب العالمین! یا اللہ! ملک شام میں مسلمانوں کی مدد فرما،  یا اللہ! انکا حامی و ناصر، اور مدد گار بن  جا،  یا رب العالمین

یا اللہ! یا معبودِ  بر حق! یا اللہ! قرآن نازل کرنے والے! بادل چلانے والے! تمام اتحادی فوجوں کو  تباہ و برباد فرما دے،  اپنے اور دین  کے دشمنوں کو شکست فاش  دے،  اور ان پر مسلمانوں کو غالب فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! یا قوی! یا عزیز! پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا بول بالا فرما۔

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، بیماروں کو شفا یاب فرما، ہماری مشکل کشائی فرما،  قیدیوں کو رہائی نصیب فرما،  اور ہمارے معاملات کی باگ ڈور سنبھال، یا رب العالمین!

یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، اور تیری راہنمائی کے مطابق انہیں توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے یا رب العالمین!، یا اللہ ! انکے نائب کو بھی اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے ، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے!

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب نافذ العمل کرنے کی توفیق عطا فرما،  اور شریعت کے نفاذ  کی  توفیق دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ!  تیرے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، تو ہی غنی  ہے ہم سب تیرے در کے فقیر ہیں، ہمیں بارش عطا فرما، اور ہمیں مایوس مت فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ!  اپنے رحمت کے صدقے زحمت سے خالی رحمت والی بارش عطا فرما، جو تباہی، غرق، اور نقصانات کا باعث مت بنے۔

یا اللہ! ایسی بارش ہو جس سے زمین لہلہا اٹھے، اور لوگوں کیلئے پانی میسر آئے، اس سے شہر و دیہات والے سب مستفید ہوں،  یا ارحم الراحمین!

}رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ { ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف  نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] }رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ{ اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے,  اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] }رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ{ ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ { اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنائت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی چیز ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

ملاحظہ کیا گیا 7588 بار آخری تعدیل الثلاثاء, 10 آذار/مارس 2015 12:31

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم