بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الثلاثاء, 03 شباط/فبراير 2015 15:35

فضائل و حقوق سرکارِ دو عالم ﷺ

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن القاسم﷾

 

بسم الله الرحمن الرحيم

خطبہ جمعہ مسجد نبوی از ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن القاسم

موضوع: فضائل و حقوق سرکارِ دو عالم ﷺ

ترجمہ: شفقت الرحمن

03/ربيع الثانی/1436
23/جنوری/ 2015

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03-ربیع الثانی-1436 کا خطبہ جمعہ: "فضائل و حقوق سرکارِ دو عالم ﷺ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے نبی صلی اللہ  علیہ وسلم کی شان اور فضائل کیساتھ ساتھ حقوق کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کیے، اور پھر  گستاخِ رسول  کے بارے میں بتلایا کہ وہی بے نام و نشان رہے گا، دوسرے خطبہ میں شاہ عبد اللہ کے انتقال پر ملال کا ذکر کیا اور انکے لئے دعائے مغفرت فرمائی، پھر نئے خادم حرمین شریفین  کیلئے بھی دعائیں فرمائیں۔

پہلا خطبہ:

یقینا تمام  تعریفیں اللہ  کیلئے ہیں، ہم اسکی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلبگار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شرسے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنائت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ برحق نہیں ، وہ یکتا ہے اسکا کوئی بھی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اسکے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں، اور سلامتی فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے؛ کیونکہ نعمتیں ہدایت والے راستے میں ملیں گی، اور من مانی بد بختی کا باعث ہے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی کے احسانات بہت بڑے اور  عظیم ہیں،  اور اللہ تعالی کی بڑی نعمتوں میں یہ شامل ہے کہ اس نے رسولوں کو  معرفتِ الہی، اور وحدانیت کے داعی بنایا، انبیاء خالق و مخلوق کے درمیان اوامر و نواہی بیان کرنے کیلئے واسطہ  اور سفیر ہیں: {وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ} اور ہم نے یقیناً ہر قوم میں [یہ دعوت دیکر] رسول بھیجے کہ صرف اللہ کی عبادت کریں، اور طاغوت سے بچیں۔[النحل : 36]

سعادت و فلاح  ؛ دنیاوی ہو یا  اخروی  رسولوں  کے ذریعے ہی ممکن ہے، اچھے برے میں تفصیلی فرق  اُنہی سے ملتا ہے، حصولِ رضائے الہی صرف انہی کے راستے سے ممکن ہے، چنانچہ  شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  کہتے ہیں: "بندوں کیلئے پیغام رسالت انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں،  لوگوں کو پیغام رسالت  کی ہر چیز سے بڑھ کر ضرورت ہے؛ کیونکہ پیغام رسالت کائنات کیلئے روشنی، اور آب حیات  ہے،  اس لئے اُس دم تک کائنات قائم رہے گی جب تک رسولوں کے آثار باقی رہیں گے،  چنانچہ جس وقت رسولوں کے اثرات دنیا سے مکمل طور پر مٹ جائیں گے تو اللہ تعالی علوی اور سُفلی پوری کائنات کو تباہ کر کے قیامت قائم کر دے گا"

 اور سب سے افضل ترین نبی ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،  اس امت کی ترقی و شان و شوکت  آپ کی وجہ  سے حاصل ہوگی، ابن کثیر رحمہ اللہ  کہتے ہیں: "نیکیوں میں سب سے آگے نکلنے کا شرف اس امت کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی وجہ سے ہی حاصل ہوا ہے"

آپکی عظمت و شان  کی وجہ سے آپکے صحابہ تمام انبیاء کے صحابہ سے افضل تھے، آپکی صدی بہترین صدی ہے، اور اس صدی کو بھی آپ کی وجہ سے فضیلت ملی، اللہ کے فضل کی وجہ سے قیامت کے دن آپکے پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔

اس امت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذریعے شرف بخشا گیا، اللہ تعالی نے آپکو ساری مخلوق سے چنا، اور آپکو اولادِ آدم   کا سربراہ بنایا،  اللہ تعالی نے آپکو ساری مخلوقات پر فضیلت دی ، اور آپ نے سب سے افضل بن کر بھی دیکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (بیشک اللہ تعالی نے آلِ اسماعیل سے کنانہ کو چنا،  پھر کنانہ سے قریش کو، اور قریش سے بنی ہاشم کو چنا، آخر میں مجھے بنی ہاشم  سے چنا) مسلم

اللہ تعالی نے آپکو  شرف بخشتے ہوئے آپکی عمر کی قسم اٹھائی،  اللہ تعالی نے آپکا ذکر دیگر انبیاء کی طرح قرآن مجید میں  صرف نام لے کر نہیں کیا، بلکہ جب بھی ذکر کیا تو نبوت و رسالت  کے ساتھ متصف کر کے نام لیا، اللہ تعالی نے آپکی شرح صدر فرمائی، آپکی لغزشیں بھی معاف فرما دیں، اور آپکی شان بلند فرمائی۔

اللہ تعالی نے اپنے انبیاء سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لانے کا پختہ وعدہ لیا، اور فرمایا: {وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا} اور  جب اللہ تعالی نے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا کہ اگر میں تمہیں کتاب و حکمت عطا کروں پھر کوئی ایسا رسول آئے جو اس کتاب کی تصدیق کرتا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنا ہوگی، اللہ تعالی نے (یہ حکم دے کر نبیوں سے) پوچھا ؟ "کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو؟ اور میرے اس عہد کی ذمہ داری قبول کرتے ہو؟" نبیوں نے جواب دیا: "ہم اس کا اقرار کرتے ہیں" [آل عمران : 81]

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "آپ ہی امام اعظم ہیں کہ اگر کسی بھی زمانے میں آپ موجود ہونگے تو آپکی اطاعت دیگر تمام انبیاء کے مقابلے میں واجب ہوگی؛ یہی وجہ تھی کہ آپ نے بیت المقدس میں لیلۃ المعراج کو انبیاء کی امامت فرمائی"

اللہ تعالی  نے آپکے ذریعے  نبوت و رسالت کا اختتام فرمایا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ } محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں، لیکن  آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔[الأحزاب : 40]

اللہ تعالی نے آپکے ذریعے دین  مکمل فرمایا: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا } آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت مکمل کر دی، اور تمہارے لئے اسلام کو [بطورِ]دین  پسند کر لیا۔[المائدة : 3]

اللہ تعالی نے دینِ محمدی کی حفاظت  اور آیات کے ذریعے تائید فرماتے ہوئے آپ پر افضل ترین کتاب نازل فرمائی ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان، آپ سے محبت، آپکی تصدیق دین کا بنیادی اصول ہے، رسالتِ محمدی کا اقرار  وحدانیت الہی کے اقرار کیساتھ منسلک کیا گیا ، اللہ تعالی نے آپکو عرب و عجم، جن و انس  سب کیلئے مبعوث بنا کر ارسال فرمایا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا} آپ کہہ دیں: لوگو! بیشک میں  تم سب کیلئے اللہ کا رسول ہوں۔[الأعراف : 158]

اللہ تعالی نے آپ کو رحمۃً للعالمین بنا کر بھیجا، ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "یقیناً سارے جہانوں کو آپ کی رسالت کا فائدہ ہوا" جبکہ مؤمنین پر آپ خصوصی رحم کرتے تھے، اللہ تعالی نے فرمایا: { وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ}  اور تم میں سے ایمان لانے والوں کیلئے رحمت ہے۔[التوبۃ : 61]

آپ نے ہر قسم کے بھلائی والے کام کے بارے میں اپنی امت کو بتلا دیا، اور ہر قسم کے شر سے اپنی امت کو خبردار بھی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (میری پاس بھلائی کی کوئی بات تم  سے پوشیدہ نہیں ہے) متفق علیہ

جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان نہ لائے اور اتباع  نہ کرے تو اللہ تعالی نے اسے جہنم کی دھمکی دی اور فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا} جو اللہ اور اسکے رسول پر ایمان نہ لائے، تو ہم نے کافروں کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔[الفتح : 13]

اہل کتاب پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اتباع کرنا واجب ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں  محمد کی جان ہے! اس امت میں سے کوئی یہودی یا عیسائی  میرے بارے میں سنے، اور میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے بغیر مر جائے تو  وہ جہنمی ہوگا)

لوگوں کو  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لانے کی ہر مکان و زمان، لیل و نہار، سفر و حضر، خلوت و جلوت، اجتماعی و انفرادی ہر حالت میں ضرورت رہی ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "لوگوں کو کھانے پینے سے زیادہ انبیاء پر ایمان کی ضرورت ہے، بلکہ سانس لینے سے زیادہ  ایمان بالرسل اہم ہے؛ کیونکہ  انبیا پر عدم ایمان کی صورت میں  آگ ٹھکانہ ہوگی، یہی انجام رسولوں کی تکذیب اور اطاعت گزاری سے رو گردانی کرنے والوں کا  ہوگا۔

آپ ہی کے ذریعے ہمیں  اللہ تعالی نے پاکباز و پارسا بنایا، اور ہمیں وہ کچھ سیکھایا جو ہم نہیں جانتے تھے، فرمانِ باری تعالی ہے: {هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ} وہی تو ہے جس نے ان پڑھ  لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ،ان کی زندگی سنوارتا اور انہیں کتاب و حکمت  کی تعلیم دیتا ہے،  حالانکہ یقیناً وہ اس سے پہلے صریح  گمراہی میں پڑے تھے [الجمعہ: 2]

امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "ہمیں کوئی بھی نعمت ظاہری ہو یا باطنی  ملے، اور اس کی وجہ سے  ہمیں دینی فائدہ حاصل ہو یا کوئی دینی مصیبت  رفع ہو تو  اس  کا سبب محمد صلی اللہ علیہ وسلم  ہیں، وہی بھلائی  کیلئے رہبر اور اچھائی کیلئے رہنما  ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان  اتباعِ نبوی سے ہی ممکن ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ} جو رسول اللہ [ﷺ]  کی اطاعت کریگا اسی نے اللہ کی اطاعت کی۔[النساء : 80] اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت کا حکم قرآن مجید میں 30 سے زائد بار دیا ہے ، اور اطاعتِ نبوی کا اطاعت الہی کے ساتھ اور مخالفتِ نبوی کو مخالفتِ الہی  سے ملا کر ذکر فرمایا،  اور کامیابی  آپکی اطاعت میں ہی پنہاں ہے: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} اور جو شخص اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کریگا تو وہ عظیم کامیابی پائے گا۔[الأحزاب : 71]

تقوی کا سب سے بڑا ، بنیادی اور حقیقی  جز ایک اللہ کی  عبادت ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اتباع ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: { وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} تمہیں رسول جو کچھ دے اسے لے لو، اور جس چیز سے روکے اس سے رک جاؤ[الحشر : 7]

اطاعتِ نبوی میں ہی انسانی زندگی اور خوشحالی پنہاں ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جبکہ رسول تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائے جو تمہارے لیے زندگی  بخش ہو ۔[الأنفال : 24]

آزمائش آپکی مخالفت کی وجہ سے  ہوگی، اللہ تعالی کا فرمان ہے: { فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، انھیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہوجائیں یا انھیں کوئی دردناک عذاب پہنچ جائے۔ [النور : 63]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی مخالفت کرنے والے کو اللہ تعالی  ذلیل  کر دیتا ہے، اللہ تعالی  کا فرمان ہے: {إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ} جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یقینا یہی لوگ ذلیل ترین ہیں ۔[المجادلۃ : 20]

آپکی سنت سے بے رغبتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے اعلان براءت ہے، آپکا فرمان ہے: (جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں) متفق علیہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ  حق ہے کہ اللہ کی عبادت آپ کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق کی جائے، من مانے اور خود ساختہ طریقے سے عبادت نہ کی جائے،  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیث کے سامنے کسی کے موقف کی کوئی حیثیت نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں تھا تو وہ مرودو ہے) مسلم

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی محبت دین میں سب سے بڑا  واجب ہے ، لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کیلئے یہی کافی نہیں ہے کہ برائے نام محبت ہو، بلکہ  ساری مخلوق سمیت  اپنی جان سے زیادہ محبت ہونا لازمی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:  (تم میں سے اس وقت تک کوئی ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اسکی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں) متفق علیہ

اسی طریقے سے انسان ایمان کی مٹھاس حاصل کر سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (تین چیزیں جس میں پائی جائیں تو وہ حلاوتِ ایمان محسوس کرتا ہے: جس کے نزدیک اللہ اور اسکا رسول دیگر ہر چیز سے محبوب ترین ہوں، انسان کسی سے محبت کرے تو اللہ کیلئے ، اللہ تعالی کی طرف ہدایت ملنے کے بعد دوبارہ کفر میں جانا ایسے ہی ناپسند کرے جیسے آگ میں جانا ناپسند کرتا ہے) متفق علیہ

سچی محبت کا اظہار اتباع سے ہوتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} آپ کہہ دیں: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو پھر میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کریگا، اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا، اور اللہ تعالی بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔[آل عمران : 31]

آپ سے سچی محبت کرنے والا قیامت کے دن آپ ہی کے ساتھ ہوگا، چنانچہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے عرض کیا: "اللہ کے رسول! آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو  کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے، لیکن انہیں مل نہیں سکا ؟!" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (ہر انسان اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا) متفق علیہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت کا تقاضا ہے کہ آپ پر اور آپکی شریعت پر ایمان لا کر آپکی خیر خواہی کی جائے،  آپکے مقام و مرتبے کا مکمل احترام ، اطاعت نبوی پر کار بند رہنا، سنت نبوی کو اپنانا، علم حدیث کو عام کرنا، آپکے احکامات کی تعظیم کرنا، آپ کے چاہنے والوں سے محبت اور مخالفین سے دشمنی رکھنا ضروری ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (دین خیر خواہی کا نام ہے) [صحابہ کہتے ہیں]ہم نے پوچھا: کس کیلئے؟ تو آپ نے فرمایا: (اللہ کیلئے، کتاب اللہ، رسول اللہ،  مسلم حکمرانوں، اور عام مسلمانوں کیلئے) مسلم

آپکی تعظیم و توقیر دین کی بنیاد اور آپکی بعثت کا مقصد ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (8) لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا  } بیشک ہم  نے آپکو شاہد، مبشر، اور نذیر بنا  کر بھیجا[8] تا  کہ تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کی مدد  و توقیر کرو، پھر صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرو۔[الفتح : 8 - 9]

حلیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "نبوی حقوق  عظیم الشان، معظم و مکرّم اور ہمارے لئے فرض و واجب بھی ہیں، ان کی اہمیت آقا کے اپنے غلام، اور والدین کے اپنی اولاد پر حقوق سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں آپ کے ذریعے اخروی آگ سے بچایا، اور آپکی وجہ سے ہماری روح، بدن، عزت، مال، اہل  و عیال دنیا میں محفوظ ہوئے، اللہ تعالی نے ہمیں ہدایت دی، اور ہم نے آپکی اطاعت کی اس طرح ہم جنتوں کے حقدار بنے"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحیح ترین قدر آپکے صحابہ کرام نے کی، چنانچہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: " اللہ کی قسم ! میں بادشاہوں، قیصر و کسری، اور نجاشی کے دربار  میں بھی گیا ہوں! اللہ کی قسم !کسی بادشاہ کو اتنی تعظیم  اور توقیر نہیں ملتی جتنی محمد کے ساتھی محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ]کو دیتے ہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ [صلی اللہ علیہ وسلم] جب تھوکتے تو    وہ کسی صحابی کے ہاتھ پر گرتا، اور وہ اسے اپنے چہرے سمیت پورے جسم پر مل لیتا، اور جب  نبی  [صلی اللہ علیہ وسلم ] انہیں کسی کام کا حکم دیتے تو لپک کر اس کی تعمیل کرتے، جس وقت آپ وضو کرتے تو  وضو کا گرتا ہوا پانی   پانے کیلئے چھینا جھپٹی کرتے، جس وقت آپ گفتگو  کرتے تو سب اپنی آوازیں دھیمی کر لیتے، اور آپکی تعظیم کرتے ہوئے کوئی بھی آنکھ بھر کر آپکو نہ دیکھتا تھا" بخاری

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے شدید ترین محبت آپکے صحابہ نے کی، چنانچہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں تھا، میری نگاہوں میں آپ سے بڑھ کر کسی کی اتنی قدر نہیں تھی، آپکے مقام و مرتبے کا یہ عالم تھا کہ میرے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو آنکھ بھر کر دیکھنے کی سکت  نہیں تھی، اگر مجھے آپ کا حلیہ بیان کرنے کا کہا جائے تو میرے لئے یہ نا قابل بیان ہے؛ کیونکہ میں نے کبھی آپ کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھا" مسلم

جو آپکی سیرت اور سنت کو سمجھ لے، یا منصفانہ طور پر اسے سن  ہی لے ، تو اسکا دل  خود بخود آپکی تعظیم پر آمادہ  ہو جائے گا،آپکے بارے میں عیسائی  بادشاہوں نے سنا تو وہ بھی آپکی عظمت کے قائل ہوگئے،  اسی لئے ہرقل نے کہا تھا: "اگر میں آپ کے پاس ہوتا تو آپکے قدم دھوتا" متفق علیہ

ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث میں صرف قدموں کو دھونے  کا تذکرہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ  ہرقل  اگر صحیح سلامت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس پہنچ گیا تو  اسے  کسی منصب اور حکمرانی کی چاہت نہیں ہوگی،  بلکہ وہ حصولِ برکت  کا باعث بننے والے اعمال ہی کریگا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ ادب کی  اساس یہ ہے کہ  مسلمان اپنا سب کچھ  فرامین نبوی کے حوالے کرتے ہوئے مکمل اطاعت گزاری اپنائے،  آپکی [ثابت شدہ]احادیث کو  مانے اور انکی تصدیق کرے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ آداب  میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ کی بات کو عجیب و مشکل نہ سمجھیں ، بلکہ آپکی بات کی وجہ سے لوگوں کی آراء کو عجیب اور مشکل جانیں، فرمانِ نبوی کے مقابلے میں قیاس نہ لائیں، اور آپکی بات ماننے کیلئے کسی کی موافقت  کی شرط نہ لگائیں۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "وحی کے سامنے لوگوں کی آراء بالکل ایسے ہیں جیسے ایک بہت بڑے عالم کے سامنے  ایک عام  سادہ مقلد  آدمی ہو، بلکہ  لوگوں کی آراء وحی کے سامنے اس سے بھی کہیں زیادہ درجے ہیچ ہے"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ  آپکو عبدیت و رسالت کا وہی مقام و مرتبہ  دیا جائے جو اللہ تعالی نے آپکو دیا ہے،  چنانچہ غلو کرتے ہوئے آپکو ربوبیت کے درجے تک  پہنچانا اور آپ سے مانگنا بالکل غلط ہے،  اور آپ کی شان کمتر جانتے ہوئے آپکی اتباع  نہ کرنا بھی غلط ہے۔

اس کے بعد: مسلمانو!

ہمارے نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے سچے پیغمبر ہیں،  اللہ تعالی نے انہیں اپنا حبیب بنایا، اور ہمیں بھی اُن سے محبت کرنے کا حکم دیا،  انہیں  مبعوث فرما کر ہمیں آپکی تصدیق کا حکم دیا،  اللہ نے آپکی تائید فرمائی اور ہمیں آپکی سنت پر مضبوطی سے کاربند رہنے کا حکم دیا،  اللہ تعالی نے آپکو شرف و مقام سے نوازا اور ہمیں آپکا دفاع کرنے کا حکم دیا،  کوئی شخص بھی آپ پر ایمان اور آپکی اقتدا کیے بغیر  جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔

انسان جس قدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی اقتدا کرے اسکے درجات اتنے ہی بلند ہو جاتے ہیں،  اس کے برعکس اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ یا  سنت نبوی کیساتھ بغض رکھے تو اللہ تعالی اسے ذلیل و رسوا فرماتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ}بیشک آپ کا دشمن ہی  بے نام و نشان ہوگا۔ [الكوثر : 3]

ہر امت اپنے نبی اور نبی کے صحابہ پر فخر کرتی ہے، اور اس امت کیلئے عظیم شرف اپنے نبی کی تعظیم اور صحابہ کرام سے محبت ہے، اسی  کے باعث امت کو شان و شوکت، سعادت مندی، اور دیگر اقوام   پر ترقی  ملے گی۔

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے  ایک رسول آگیا ہے، تمہاری تنگی اس کیلئے بارِ گراں ہے، وہ تمہارا بہت خیال کرتا ہے، اور  مؤمنوں  کیلئے نہایت رؤف و رحیم ہے۔[التوبۃ : 128]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اِس ذکرِ حکیم سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کہ اُس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں جس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اسکی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، اللہ تعالی اُن پر ، آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی نے صرف اپنے لئے  دائمی و سرمدی بقا رکھی ہے،  اور اپنی مخلوقات کیلئے فنا کا حکم صادر فرمایا،  زمین و آسمان کی ہر چیز زوال کی جانب رواں دواں ہے، اس لئے صرف وہی باقی بچے گا جو ہمیشہ زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں آئے گی، اللہ تعالی کافر مان ہے: {كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (26) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ  } اس [زمین]پر موجود ہر چیز فنا ہو جائے گی، [26] اور تیرے رب ذو الجلال و الاکرام کی ذات باقی  رہے گی۔[الرحمن : 26 - 27]

"إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمَّى"[بیشک اللہ جو دے  اور جو لے سب کچھ اسی کا ہے، اور ہر چیز کا اسکے پاس ایک وقت مقرر ہے] آج عالم اسلام کو ایک بہت عظیم سانحہ  پیش آیا  کہ خادم  حرمین شریفین  شاہ عبد اللہ  رحمہ اللہ دنیا فانی سے کوچ کر گئے،  منفرد اور عظیم حکمران جس نے  اپنے تمام معاملات  کیلئے کتاب اللہ کو مشعل راہ بنایا،  بلادِ حرمین پر نفاذِ شریعت  جاری رکھا،  آپ اپنے دین  پر فخر کرتے تھے، آپ نے اسلامی شعائر کو  نمایاں کیا،  علَمِ توحید تھامے  شرک و بدعات و خرافات   سے نبرد آزما رہے،  اپنے کندھوں پر اسلام کی خدمت کا بوجھ اٹھایا،  اور بیت اللہ و مسجد نبوی کیلئے تاریخ میں سب سے بڑی  توسیع  کے احکامات صادر کیے،  قرآن مجید کے نسخے دنیا جہاں میں مفت تقسیم کیے جہاں لاکھوں افراد ان سے مستفید ہوتے ہیں،  مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کیلئے ہمہ قسم  کے طور طریقے اور انداز اپنائے، ارد گرد کے تمام ممالک میں  سنگین بحرانوں کی اندھیریاں چلیں، لیکن اللہ کی مدد و نصرت کے بعد  اپنے دانشمندانہ فیصلوں  کے ذریعے  ملک کو امن و امان اور خوشحالی و ترقی  کے راستے پر گامزن رکھا،  انہیں اپنی رعایا کیساتھ بہت ہی  محبت و پیار تھا،  اپنی فطرت کے مطابق  صاف دل، پاک خلوت، اور کینے سے پاک سینے   کیساتھ زندگی گزاری،  انہیں اپنی رعایا سے محبت تھی ؛ چنانچہ رعایا  بھی انہیں اپنا محبوب سمجھتی تھی،  یہی وجہ بنی کہ آپ بہت اچھے حکمران تھے،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (تمہارے اچھے حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرو، اور وہ تم سے محبت کریں،  اور وہ تمہارے لئے دعائیں کریں، اور تم ان کیلئے دعائیں کرو) مسلم

اس ملک پر فضلِ الہی  اور یہاں پر نفاذِ شریعت کی وجہ سے  اہل حل و عقد اور تمام رعایا شہزادہ  سلمان بن عبد العزیز کی اس ملک کے بادشاہ کے طور پر قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی بیعت کرتے ہیں،  اور بیعت کیساتھ محبت، انس اور دعا  بھی کرتے ہیں،  اسی طرح انکے بھائی مِقرَن بن عبد العزیز کی ولی عہد کے طور پر  بیعت کرتے ہیں، ان سے  شاہ سلمان بن عبد العزیز  کا بھر پور تعاون ، مدد،  اور تائید کی امید رکھتے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے کہ: (جو شخص ایسی حالت میں فوت ہوا کہ  اس کے گلے میں  بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا) مسلم

حکمران کا اپنی رعایا پر یہ حق ہے کہ نافرمانی کے کاموں سے ہٹ کر ہر کام میں انکی بات سنی جائے اور اس پر عمل کیا جائے،  انکی خیر خواہی دل میں رکھیں، اور ان کیلئے دعا کریں۔

یا اللہ! فقید امت پر رحم فرما، یا اللہ! انکے درجات علیین میں بلند فرما،  انہیں پہلے فوت شدہ مؤمنوں کیساتھ ملا دے،  اور اُنہیں انبیاء، صدیقین، شہداء، اور صالحین کیساتھ  جمع فرما،  یا اللہ! انکی قبر کو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنا،  یا اللہ! انکی قبر کو کشادہ و منور فرما،  یا اللہ! بڑی گھبراہٹ کے دن انہیں پر امن بنا دے، تیرے نبی کے حوض پر جانے والوں میں شامل فرما،  تیرے نبی کے ہاتھوں سے جام پینے والوں میں سے بنا،  اور انہیں بغیر حساب و  کتاب علیین میں  داخل فرما،  یا اللہ! سوگواران اور رعایا کو اچھا بدل  عطا فرما، جو اسلام اور مسلمانوں کیلئے خیر و برکت کا باعث بنے۔

یا اللہ!  ان پر رحم فرما، انکے درجات بلند فرما،  انکے گناہوں کو معاف فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! انہیں وسیع و عریض جنت میں جگہ نصیب فرما، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! انہیں انکی نیکیوں کا اچھا بدلہ عطا فرما،  یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کیلئے جو کچھ بھی کیا ہے سب پر بہترین بدلہ عطا فرما، اور انکے لئے ثواب بڑھا چڑھا کر اپنے پاس محفوظ فرما۔

یا اللہ! خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کو اسلام اور مسلمانوں کے غلبہ کیلئے کام کرنے کی توفیق عطا فرما،  یا اللہ! ان کے ذریعے اپنا دین  بلند و بالا فرما،  اپنا کلمہ اس کے ذریعے بلند فرما،  یا اللہ! انکے اقوال و افعال کو صحیح سمت عطا فرما،  یا اللہ! انہیں اسلام و مسلمانوں کیلئے باعث خیر بنا،  یا اللہ! انکے ولی عہد کو اسلام و مسلمانوں  کیلئے بھلائی کے کاموں کی  توفیق عطا فرما،  یا اللہ! ان کے ذریعے دین غالب فرما، اور کلمۂِ اسلام کو  بلند فرما،  اور دونوں کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمارے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنا، ایمان کا  گڑھ بنا،  خوشحال، مستحکم، اور ترقی والا بنا، یا اللہ! امن و امان اور خوشحالی تمام اسلامی ممالک میں پھیلا دے۔

 یا اللہ! ساری دنیا میں خونِ مسلم کی حفاظت فرما،  اور انکے حالات درست فرما دے، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! سب مسلمانوں کو اچھے انداز سے اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا دے۔

یا اللہ! اسلامی ممالک کو دشمن قوتوں کے شر سے محفوظ فرما، یا قوی! یا عزیز!

ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر بہت ظلم ڈھائے، اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

اللہ کے بندو!

الوصف: الوصف: الوصف: start-iconإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ الوصف: الوصف: end-iconاللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو۔ [النحل: 90]

تم صاحبِ عظمت و جلالت اللہ کو یاد رکھو ؛ وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  اور زیادہ دے گا ،یقینا اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

 
ملاحظہ کیا گیا 5403 بار آخری تعدیل الإثنين, 02 آذار/مارس 2015 13:15

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم